Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

آپ کو کیا لگا تھا کہ میں آپ کی حقیقت جاننے کے بعد آپ کو چھوڑ دوں گا یا میں آپ کو شرمندہ کر سکتا ہوں. مجھے آپ کی سوچ پر حیرت ہے. میر نے گل کے بیڈ کی پائنتی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
کچھ تو تکلیف تھی اور کچھ شرمندگی، گل اپنے آپ میں اتنی طاقت نہیں پا رہی تھی کہ وہ میر کی طرف دیکھتی. اس لیے چپ چاپ آنکھیں بند کیے لیٹی رہی. ڈرپ سے نکلتا قطرہ قطرہ گلوکوز اس کے جسم کو ٹھنڈا کر رہا تھا.
میں یہ بات اب سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے جانتا ہوں کہ آپ چل پھر سکتی ہیں. مجھے غصہ بھی اسی بات کا تھا کہ آپ مجھ سے یہ بات کیوں چھپا رہی ہیں اور آج مجھے آپ میرے اس سوال کا جواب دیں گی …… ؟؟
یہ بات بھی بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ آپ مجھے بہت پسند کرتی ہیں. اگر آپ مجھے پسند نہ کرتیں تو کبھی بھی میرے لیے شیر علی سے نہ لڑتیں. سردار بیگم کے خلاف نہ جاتیں. بہت معذرت لیکن میں نے آپ کی باتیں سنی تھی. میر کے اس انکشاف پر گل کو اپنے گال دہکتے ہوئے محسوس ہوئے.
میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ محض شیر علی کو روکنے کے لیے میرے آگے آئیں تھیں. آپ کے لاشعور میں یہ بات کہیں نہیں تھی کہ آپ میری خاطر گولی کھائیں گی.
مگر کیونکہ شیر علی کے سر پہ خون سوار تھا. تو اس نے آپ کو بھی خاطر میں نہیں لایا اور گولی چلا دی. اس لیے آپ یہ نہیں کہہ سکتی کہ آپ نے میرے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں. جس میں سے سب سے بڑی قربانی آپ کی یہ معذوری ہے.
جہاں تک میرا اندازہ ہے تو آپ نے اسی لیے اپنی تندرستی کو چھپایا کہ آپ اس معذوری کے سر پر مجھ پر اپنا احسان جتلانا چاہتی تھی اور مجھے اپنے احسان کے نیچے دبا کے رکھنا چاہتی تھی تاکہ اپ سر اٹھا کے جی سکیں اور میں آپ کے آگے سر نہ اٹھا سکوں.
میں اچھے سے جانتا ہوں کہ اپ سو نہیں رہیں. اس لیے اپ یہ ناٹک نہ کریں اور مجھے میرے سوال کا جواب دیں کہ جب آپ مجھے پسند کرتی تھی تو پھر آپ نے دوسروں کا ساتھ کیوں دیا. آپ مجھے آغا جان کے خلاف ہونے والی سازش سے آگاہ تو کر سکتی تھی نااااا _ اگر آپ مجھے وقت پر بتا دیتی تو شاید آغا جان آج ہم میں موجود ہوتے. میر کے لہجے میں گلہ تھا. گل میں آپ سے بات کر رہا ہوں. میر نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے قدرے تیز لہجے میں پوچھا تو وہ کانپ اٹھی. تم یہ سب کچھ پہلے سے جانتے تھے. تو تم مجھے بتا سکتے تھے. گل نے آنکھوں سے بازو اٹھاتے ہوئے نظریں چرائیں. فلحال آپ مجھ سے سوال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں. لہٰذا آپ مجھے صرف میرے سوال کا جواب دیں. میر نے گل پر جھکتے ہوئے پوچھا سردار بیگم میری آپا ہیں اور تم نے میری آپا ساتھ ہمیشہ برا سلوک کیا ہے. جیسی بھی ہیں وہ تمہاری سوتیلی ماں ہیں. ان کا احترام تم پہ فرض ہے مگر تم نے کبھی انہیں ان کی جگہ اور رتبہ نہیں دیا. حالانکہ میں نے تمہیں ہمیشہ اہمیت دی اور سب کے دلوں میں تمہارے لیے جگہ بنانے کی کوشش بھی کی مگر تم نے بدلے میں کیا کیا میری آپا کو ہی جیل بھیج دیا. اب کی بار گل نے برائے راست میر کی آنکھوں میں جھانکا اچھا تو آپ کے خیال سے قاتل کو جیل نہیں بلکہ سر آنکھوں پہ بیٹھانا چاہیے تھا. آپ جانتی ہیں کہ آغا جان کی میری زندگی میں کیا اہمیت تھی. پھر بھی ایسا بول رہی ہیں. مجھے آپ کی سوچ پر افسوس ہے. میر کہتا ہوا جھٹکے سے پیچھے ہٹا. سردار بیگم نے صرف ایسا سوچا تھا مگر کچھ ایسا ویسا نہیں کیا تھا جس کی بنا پر انہیں سزا دی جاتی. شیر علی نے جو گناہ کیا تھا اسے اس کی سزا مل گئی تھی. لیکن پھر بھی تم نے کسی کی ایک نہ سنی اور انہیں جیل بھیج دیا. تم خود سوچو کہ ایک عورت کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے. وہ بھی ایسی عورت جو اتنے لوگوں پر راج کرتی ہو اور اسے جیل میں بھیج دیا جائے. تو اس کی انا کتنی ہرٹ ہوگی. اگر تمہاری اپنی ماں ہوتی تو کیا تم اس کے ساتھ ایسا سلوک ہی کرتے. تم نے ساری زندگی سردار بیگم کو اپنی ماں تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ ان کی انا کو ہرٹ کیا. میر تم مانو یا نہ مانو مگر ان کے رویے کے ذمہ دار تم خود ہو. اگر تم انہیں اپنی ماں سمجھتے تو وہ بھی تمہیں اپنا بیٹا تسلیم کرتیں. وہ ایک بے اولاد عورت ہیں اگر تم انہیں محبت دیتے تو بدلے میں وہ بھی تم پر اپنی ممتا نچھاور کرتیں مگر نہیں. میر غلطی ہمیشہ دوسرے کی نظر آتی ہے اپنی نہیں. گل کی باتوں پر میر طنزاً مسکرایا تم خود تو باہر آ گئے مگر سردار بیگم کو تم نے باہر نہیں آنے دیا. میں جتنی بھی کوشش کرتی رہی تم نے میری ہر کوشش کو اپنے پیسے اور چال سے ناکام بنا دیا. ایسے میں تم مجھ سے وفا کی امید کیسے رکھ سکتے ہو …..؟ ؟گل کا انداز سوالیہ تھا. یعنی آپ کو بھی مجھ سے نہیں بلکہ اپنوں سے ہمدردی ہے اور میں خواہ مخواہ اس عزم میں رہا کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے. میر کے لہجے میں واضح دکھ تھا. میں نے تم سے کبھی محبت کے دعوے نہیں کیے. گل نے جیسے یاد دہانی کرائی. بہت بہتر _ پھر میں بھی آج آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں گلبدین طلال میر!!! کے آغا جان کی جان شیر علی نے نہیں بلکہ سردار بیگم نے لی تھی اور اس چیز کا اقرار غلام علی نے کیا ہے اسی ایک اقرار کی وجہ سے ابھی تک سردار بیگم جیل میں ہے کیونکہ مجھے آغا جان کی موت کی حقیقت جاننی تھی کہ اصل مجرم کون ہے ….. ؟؟ دوسرا جھٹکا آپ کے لیے یہ ہے کہ عزین کو گولی غلام علی نے نہیں بلکہ میرے قریبی ساتھی غازی نے ماری ہے. لہذا غلام علی بے گناہ ہے مگر صرف میری نظر میں بالکل ویسے ہی جیسے سردار بیگم بے گناہ ہیں آپ کی نظر میں میر کے چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ تھی. گل آپ کے پاس میرے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہے کیونکہ میں غلام علی کو بھی وہیں بھیج دوں گا جہاں سردار بیگم ہے اور اگر آپ چاہتی ہیں کہ ان دونوں کو رہائی ملے اور وہ باعزت زندگی گزاریں. تو اس کے لیے آپ کو میرا ایک کام کرنا ہوگا. اب کی بار میر نے مطمئن سے انداز میں مسکراتے ہوئے گل کی طرف دیکھا کیسا کام …..؟؟ گل نے فوراً پوچھا تو گل کی جلد بازی پر میر نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اتنی بھی کیا جلدی ہے. پہلے آپ ٹھیک ہو جائیں. دوسرا غلام علی کو ذرا تھانے کی ہوا کھانے دیں. اس کی طرف بھی میرے بہت حساب نکلتے ہیں. میر کے جواب پر گل نے اپنی آنکھیں موند لیں. 🎭🎭🎭🎭 ہائے میری زریں اتنی بڑی گاڑی میں آئی ہے. جیسے ہی زری گاڑی سے اتری ماسی پھلاں نے اسے دیکھ کر خوشی سے کہا ماسی کیسی ہے تو، دیکھ میں تیرے لیے شہر سے کتنی ساری چیزیں لائی ہوں …… ؟؟ زری نے ماسی پھلاں سے گلے ملتے ہوئے محبت سے کہا آئے ہائے کتنی بار منع کیا ہے یوں مذاق نہیں کرتے، وہ تیرے سر کا سائیں ہے سامان نہیں ماسی نے زریں کے پیچھے غازی کو دیکھتے ہوئے اسے ٹکا تو زریں نے حیرت سے اپنے پیچھے دیکھا
ماسی میں اس کی نہیں اس سامان کی بات کر رہی ہوں. جو گاڑی میں رکھا ہوا ہے. اب کی بار زری نے قدر ناراض لہجے میں جواب دیا تو ماسی اپنا سر نفی میں ہلانے لگی
زری تجھ میں ذرا فرق نہیں پڑا. وہی تیری حرکتیں ہیں جو پہلے تھیں. کتنی بار کہا ہے یوں بات نہیں کرتے. ابھی ماسی ابھی اسے سمجھا ہی رہی تھی کہ غازی نے آگے بڑھتے ہوئے سلام کیا.
واہ ماشاءاللہ میرا بیٹا تو بالکل ٹھیک ہو گیا ہے. مجھے یقین تھا کہ تو ہی مجھ سے ملنے آئے گ. ا زری تو شہر جا کر مجھے بھول ہی گئی تھی. ماسی نے فوراً روتے ہوئے غازی کو اپنے گلے لگایا
ماسی ایک تو میں تیرے بے وجہ کے رونے سے بہت تنگ ہوں. تو خوشی میں بھی رونے لگتی ہے اور دکھ میں تو تیرا کوئی مقابلہ ہی نہیں. زری کہتی ہوئی قریب پڑی چارپائی پر بیٹھ گئی.
ماسی یہ تو خیر واقعی ہی آپ سے ملنے آئی ہے مگر آج میں آپ سے ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں. غازی نے ماسی سے جدا ہوتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو ماسی نے زری کی طرف دیکھا.
دھوکہ دینا میری فطرت نہیں ہے. میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں آپ کا سانول نہیں یعنی میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں. آپ کسی غلط فہمی میں مت رہیں. غازی کے منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی ماسی نے اپنی نم آنکھیں اپنی چادر سے صاف کیں.
میں جانتی ہوں کہ تو میرا سانول نہیں ہے. تو میرا سانول کیسے ہو سکتا ہے. اسے تو میں نے اپنے ہاتھوں سے بیچ دیا تھا. ماسی کے اا اقرار پر زریں ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ غازی کی آنکھوں میں بھی حیرت تھی.
ماسی تو ساری زندگی مجھ سے جھوٹ بولتی رہی اور گاؤں والوں کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکتی رہی ہے. مگر کیوں ….؟؟ زری نے ماسی کو جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا تو غازی نے زریں کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے روکا
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے. جب اس گاؤں میں سیلاب کی وجہ سے سخت قحط پڑ گیا تھا. میرا سانول بھوک پیاس کی شدت سے دن رات روتا تھا. مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا تھا.
مجھے کسی نے بتایا کہ فلاں جگہ پر ایک جوڑا شہر سے آیا ہے. جس کی اولاد نہیں ہے. وہ والدین کی باہمی رضامندی سے ایک بچہ گود لینا چاہتے ہیں اور بدلے میں پیسہ بھی دیں گے. تو میں اپنے سانول کو اچھی زندگی کی خاطر ان کے ہاں بیچنے چلی گئی.
گاؤں والوں کو میں نے یہی بتایا کہ میرا پاؤں سلپ ہو گیا تھا اور سانول میرے ہاتھوں سے چھوٹ کر پانی میں گر گیا. سات سالہ بچہ کیا خود کا بچاؤ کرتا….؟؟ گاؤں والے اسے مردہ سمجھنے لگے
مگر جیسے جیسے دن گزرتے گئے میرے دل میں ایک گرہ سی پڑ گئی کہ میں نے غلط کیا ہے. میں دن رات اس کی یاد میں روتی اور خود کو ملامت کرتی رہی. مگر پتہ نہیں کیوں مجھے یقین ہے وہ ایک دن بڑا آدمی بن کر ضرور واپس آئے گا.ماسی نے کہتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیے.
ماسی تجھے یہ سچ کم از کم مجھ سے تو چھپانا نہیں چاہیے تھا. زری نے ناراض نظروں سے ماسی کی طرف دیکھا تو ماسی پھلاں نے اسے زبردستی اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پیار کیا
ماسی جن لوگوں کو آپ نے اپنا بیٹا بیچا تھا کیا انہوں نے پیسے کے علاوہ آپ کو کوئی رسید یا کوئی نشانی دی تھی …..؟؟ غازی کے پوچھنے پر ماسی اور زری نے اس کی طرف دیکھا
ہاں انہوں نے مجھے ایک چھوٹا سا کاغذ کا گتا دیا تھا
میں نے وہ سنبھال کے رکھا ہوا ہے. ماسی کے جواب پر غازی کے چہرے پر ایک اطمینان بھری لہر دوڑ گئی
کیا آپ وہ گتا مجھے دکھا سکتی ہیں ….؟؟ غازی کے کہنے پہ ماسی زری کو چھوڑ کر اندر کی طرف بڑھ گئی.
اس گتے سے ماسی کے بیٹے کا کیسے پتہ چلے گا…..؟ ؟ زری نے حیرت سے غازی سے پوچھا تو وہ مسکرانے لگا
وہ گتا اصل میں وزٹنگ کارڈ ہے جس پر ان کا ایڈریس لکھا ہوگا. پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے….؟؟ غازی نے کمرے سے باہر آتی ماسی پھلاں کی طرف دیکھتے ہوئے زری کو جواب دیا
لے پتر یہ گتا انہوں نے مجھے دیا تھا. دیکھ اس سے میرے بیٹے کا اگر پتہ چل جائے. میں صرف ایک بار اسے دیکھنا چاہتی ہوں ماسی کی آواز نم ہو گئی. جب کہ غازی نے ماسی کے ہاتھ سے کارڈ لیا.
ناقابل یقین ( unbelievable ) کارڈ پر لکھی تحریر کو پڑھتے ہی غازی کے منہ سے یہ لفظ نکلا اس بات کا کیا مطلب ہوا …..؟؟ ماسی اور زری نے ایک ساتھ غازی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اس بات کا یہ مطلب ہے کہ ماسی اگر آپ اپنے بیٹے سے ملنا چاہتی ہیں تو آپ کو ہمارے ساتھ شہر جانا ہوگا کیونکہ وہ یہاں نہیں آئے گا. اس بیچارے کو کیا پتہ کہ اس گاؤں میں اس کی ایک بوڑھی ماں ہے جو اس کے انتظار میں بیٹھی ہے. غازی کے بتانے پر ماسی نے جلدی جلدی اپنی چادر سر پر لی. ( جیسے کہہ رہی ہو کہ چلیں ) ماسی میں ابھی اتنا سفر کر کے آئی ہوں. میں واپس نہیں جاؤں گی. میں آپ کے ہاتھ کی بنی بیسن کی روٹی اور ساگ کھاؤں گی. اپنے گاؤں میں گھوموں پھروں گی. کھیت دیکھوں گی. اپنی سہیلیوں سے ملوں گی. اس کے بعد ہم کل واپس چلیں گے. زری نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے ماسی سے کہا تو غازی نے اسے گھورا تم نے کہا تھا کہ تم صرف ماسی سے ملنا چاہتی ہو. مگر اب تم پھیل رہی ہو. میرے پاس اتنا وقت نہیں. بس گھنٹہ ایک میں رکوں گا. اس کے بعد واپس لوٹ جاؤں گا. تم نے اگر میرے ساتھ چلنا ہوا تو ٹھیک ورنہ میں ماسی کو لے جاؤں گا. غازی کی وارننگ پر زری منہ بناتے ہوئے ماسی کو دیکھنے لگی جبکہ وہ ان دونوں کی نوک جوک پہ ہنس پڑی. 🎭🎭🎭🎭 عزین میں تم سے بہت شرمندہ ہوں. میں تمہیں تکلیف نہیں پہنچاتا چاہتا تھا مگر غلطی سے تمہیں تکلیف پہنچ گئی. میر نے عزین کے پاس بیٹھتے ہوئے اپنے ازلی سرد لہجے میں کہا تو وہ تکلیف کے باوجود مسکرا دی سر آپ کے منہ سے ایسے جملے اچھے نہیں بلکہ مزاحیہ خیز لگتے ہیں. لہٰذا اپ معذرت رہنے دیں اور یہ بتائیں کہ آپ کا کام ہو گیا یا نہیں کیونکہ میرا تو کام ہو گیا ہے …..؟ ؟ عزین کے اس طرح پوچھنے پر ہلکی سی مسکراہٹ میر کے لبوں کو چھو گئی بس یوں سمجھو کہ آدھا کام ہو گیا ہے اور آدھا رہ گیا ہے. میر کے جواب پر عزین کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں. سر اگر اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود بھی صرف آدھا کام ہوا ہے تو پورا کام میری فاتحہ پر ختم ہو گا. عزین نے سنجیدگی سے میر کی طرف دیکھا تم بےفکر رہو. جتنا کام تم نے کرنا تھا وہ تم نے کر دیا ہے. اب تم میری طرف سے فارغ ہو اور معاہدے کے مطابق میں تمہیں وہ تمام چیزیں دوں گا جس کا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا. میں نے حاشر کو ان تمام چیزوں کے لیے بول دیا ہے. پیپرز بن جائیں تو میں ان پر سائن کر دوں گا. میر کہتا ہوا کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کوٹ کے بٹن بند کرنے لگا اور ہاں تم ایک بہت اچھی اور وفادار لڑکی ہو. میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی زندگی بغیر لالچ کے کفایت شعاری ساتھ گزارو. یقین مانو اس میں بڑا سکون ہے. آگے تمہاری مرضی میر مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا.
میر صاحب آپ درست کہتے ہیں کہ کفایت شعاری میں بڑا سکون ہے مگر میں کیا کروں. مجھے اس میں سکون نہیں ملتا. میں اپنی زندگی اپنی پسند سے گزارنا چاہتی ہوں اور زندگی اپنی پسند سے گزارنے کے لیے بہت سے مال و دولت کی ضرورت ہوتی ہے.
اب جب کہ میں نے بہت سی مال و دولت حاصل کر لی ہے. تو میں ماجد ساتھ ایک اچھی زندگی گزار سکتی ہوں. بشرطیہ اگر وہ چاہے تو …..؟ ؟ عزین نے خود کلامی کی.
ٹرن ٹرن
میر ہسپتال کے کوریڈور سے گزر رہا تھا جب اس کے موبائل پر غازی کی کال آئی.
ہاں غازی بولو _ میر نے بلیو ٹوٹھ کو ہاتھ لگاتے ہوئے پوچھا جب کہ نظر قریب سے گزرتے ہوئے ماجد پر تھی جو ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لیے ہوئے تھا. ٹھیک ہے تم حاشر سے مل لو وہ تمہارا کام کر دے گا. میں اسے بول دیتا ہوں. میر نے کہتے ہوئے قدم پارکنگ کی طرف بڑھائے جہاں گل گاڑی میں اس کا انتظار کر رہی تھی. مس عزین!!! میں آپ کو آپ کے اس عظیم کارنامے پر بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں. ماجد نے اپنے لہجے میں طنز سموتے ہوئے پھولوں کا گلدستہ اس کے پاس رکھا. کاش تم بھی کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دیتے تو میں تمہیں گلدستے کے ساتھ بہت سی چوکلیٹ بھی دیتی. عزین نے گلدستے کو اٹھاتے ہوئے سونگھا شرم تو نہیں آتی تمہاری جان دی جا سکتی تھی. ماجد نے افسوس بھری نظر عزین پر ڈالتے ہوئے کرسی اپنی طرف کھینچی.
آتی ہے اگر تم کچھ رومینٹک ڈائیلاگز بولو تو میں تمہیں شرما کے دکھا سکتی ہوں مگر تم ہر وقت ڈانٹتے رہتے ہو تو ڈانٹنے پہ تو کسی کو شرم نہیں آتی. عزین نے کندھے اچکائے تو ماجد نے اس پر افسوس بھری نظر ڈالی
یہ جو تم مجھے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہو اگر اس کی بجائے تم مجھے محبت سے دیکھو تو مزہ آ جائے. اتنی تکلیف کے باوجود بھی عزین کے چہرے پر مسکراہٹ تھی.
میں اس وقت ڈیوٹی پر ہوں اور تمہارا بیان ریکارڈ کرنے آیا ہوں. لہذا مجھ سے تو تم ہسپتال کے اس کمرے میں کوئی ایسی امید نہ رکھو. ماجد نے کہتے ہوئے ریسٹ واچ پر نظر ڈالی.
پھر کس کمرے میں امید رکھی جا سکتی ہے….؟؟ عزین کی آنکھوں اور لہجے سے شرارت تھی.
عزین _ ماجد کے پکارنے پر عزین نے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھے. 🎭🎭🎭🎭 🌹ایک ماہ بعد….. پھر آپ نے کیا سوچا ہے …..؟ ؟ میر نے گل کے آگے کافی کا کپ رکھتے ہوئے پوچھا تمہارے سوال کا جواب دینے سے پہلے مجھے اپنے ایک سوال کا جواب چاہیے. گل نے کپ اٹھاتے ہوئے اترا کر کہا پوچھیں یک لفظی جواب آیا.
مجھے اتنی تو سمجھ آگئی ہے کہ تم نے عزین سے شادی کیوں کی تھی مگر تم نے اسے کیوں چھوڑا یہ سمجھ نہیں آ رہی …..؟؟ گل کے سوال پر میر مبہم سا مسکرایا.
کیا میں اسے پروفیشنل جیلسی سمجھوں …..؟ ؟ میر نے ایک ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا
کہہ سکتے ہو
گل نے گھونٹ بھرتے ہوئے کپ کی حرارت اپنے ہاتھوں میں منتقل کی. عزین کا تعلق ہمارے معاشرے کے ایک ایسے طبقے سے ہے جس کا نام لینا بھی شرفا میں معیوب سمجھا جاتا ہے. لیکن کیونکہ یہ لڑکی خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ذہین بھی ہے. تو اس نے تعلیم حاصل کر کے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیا ہے کہ وہ شرفا میں بیٹھ سکے. میں نے اس لڑکی کا انتخاب اسی لیے کیا تھا کیونکہ کوئی شریف لڑکی کبھی بھی کسی بھی صورت میری عارضی یا مصنوعی بیوی نہ بنتی. میں نے اس کی اچھی طرح تحقیق کرنے کے بعد اس کا انتخاب کیا تھا اور میں جانتا تھا کہ یہ کبھی بھی میرے لیے کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کر سکتی. کیا آپ جاننا چاہتی ہیں کہ عزین کا تعلق ہمارے معاشرے کے کس طبقے سے ہے …. ؟؟ میر نے گل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اگر میں غلط نہیں ہوں تو عزین کا تعلق بازار حسن سے ہے. گل کے جواب پر میر نے اسے داد دیتی نظروں سے دیکھا آپ کی یہی باتیں مجھے آپ کا گرویدہ بناتی ہیں. کیا ایسی لڑکی میری بیوی بننے کے قابل ہے …..؟ ؟ میں اس سے ہمدردی تو کر سکتا ہوں مگر محبت نہیں اور بیوی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. میر کے جواب پر گل نے کافی کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کرسی سا ٹیک لگائی جیسے اسے اس جواب سے ایک سکون ملا ہو. مگر تم نے کہا تھا کہ اس کا ایک عدد منگیتر بھی ہے. کچھ یاد آنے پر گل نے چونکتے ہوئے میر سے پوچھا ہاں بالکل ہے. عزین کا تعلق ریل گاڑی کے پھاٹک کے قریب واقع بازار حسن سے ہے جبکہ اس کا منگیتر پھاٹک کے قریب ہی پائے جانے والے یتیم خانے سے تعلق رکھتا ہے. اس طرح ان دونوں کا بچپن ریل گاڑی کی پٹری پر کھیلتے ہوئے ساتھ گزرا ہے. کیونکہ اس لڑکے کے آگے پیچھے بھی کوئی نہیں ہے.یہ لڑکی ہی اس کی واحد “اپنی” ہے. پھر محبت تو اندھی ہوتی ہے. ویسے یہ لڑکی بھی اتنی بری نہیں. اس جیسے لڑکے کے لیے ٹھیک ہے بلکہ پرفیکٹ _ میر نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے تبصرہ کیا. ہممممم گل نے ایک گہرا سانس خارج کیا.
چلیں اب آپ میرے سوال کا جواب دیں کہ آپ میرے ساتھ لندن جانے کو تیار ہیں اور ہم وہاں ایک پریکٹیکل میاں بیوی کی طرح زندگی گزاریں گے. میر کے دوبارہ پوچھنے پر گل نے اس کیطرف پرسوچ نظروں سے دیکھا
اگر آپ ہاں کہیں گی تو میں صرف آپ کی وجہ سے
غلام علی اور سردار بیگم کو معاف کر دوں گا. نہ صرف معاف کروں گا بلکہ آغا جان کی حویلی بھی انہیں دے دوں گا. بولیں منظور ہے مگر اس سے زیادہ کی مجھ سے امید مت رکھیے گا. میر کے جواب پر گل نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا
پھر میں سیٹ کنفرم کروا لوں. میر نے یقین دہانی کے لیے گل کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دی.
🎭🎭🎭🎭
پتر تقریبا مہینہ ہونے کو آیا ہے مگر ابھی تک تو مجھے میرے بیٹے سے ملوانے کے لیے نہیں لے کر گیا. نہ وہ مجھے ملنے آیا ہے. تو ایسا کر مجھے واپس گاؤں چھوڑ آ
ماسی پھلاں نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے مایوسی سے کہا ماسی اب آپ کو گاؤں جانے کی ضرورت نہیں ہے. آپ کا بیٹا اور بیٹی شہر میں ہیں تو آپ بھی یہاں ان کے پاس رہیں اور ان کے بچوں کو اپنی گود میں کھلائیں. غازی نے اپنے جوگر پہنتے ہوئے جواب دیا تو زری نے اسے گھور کر دیکھا یہ بات تو مجھے پچھلے ایک مہینے سے بول رہا ہے مگر میرا بیٹا کہاں ہے. میں اسے ملنے کے لیے گاؤں سے یہاں آئی تھی. ماسی نے ناراض ہوتے ہوئے پوچھا ماسی صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے. آپ نے یہ کہاوت تو سنی ہو گی …..؟ ؟ غازی نے اپنی جیکٹ پہنتے ہوئے ماسی سے پوچھا تو وہ اپنا رخ موڑ گئیں. مجھے تم شہری لوگوں کی باتیں سمجھ نہیں آتیں. جو بھی کہنا ہے سیدھا سیدھا کہہ ماسی نے غازی کی طرف دیکھے بغیر کہا تو غازی مسکرا دیا. (اس عمر میں بھی بڑا ایٹیٹیوڈ ہے).
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ بہو مفت ملے گی. غازی کے جواب پر ماسی پھلاں نے چونک کے اس کی طرف دیکھا
اصل میں آپ کی بہو کچھ بیمار تھی. تو میں اس کے ٹھیک ہونے کا انتظار کر رہا تھا. اب وہ بالکل ٹھیک ہے. گھر شفٹ ہو گئی ہے. تو ہم آج شام اس سے ملنے جائیں گے. آپ اور زری تیار رہنا. غازی کہتا ہوا فلیٹ سے باہر چلا گیا جب کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگی
تیرا بندہ جھوٹ تو نہیں بول رہا …..؟؟ ماسی نے غازی کے جاتے ہی سرگوشی نما آواز میں زری سے پوچھا
میں نے اسے کبھی سچ بولتے نہیں دیکھا _ زری کے جواب پر دونوں ہنسنے لگیں. 🎭🎭🎭🎭 سرسوں کے کھیت میں کھلے پیلے پھول اور ٹھنڈی دھوپ عزین کو بہت پیاری لگ رہی تھی. دیکھو یہ منظر کتنا خوبصورت ہے. زری نے اپنے پاس کھڑے ماجد کو مخاطب کیا ہاں ہے مگر تم سے زیادہ نہیں ماجد کے لہجے اور آنکھوں میں عزین کی محبت چمک رہی تھی.
اتنے سستے ڈائیلاگز مت بولا کرو. سارے موڈ کا ستیا ناس ہو جاتا ہے. عزین نے ناراضگی سے ماجد کی طرف دیکھا تو وہ ہنسنے لگا
ٹھیک ہے پھر تو مجھے میرے ڈائیلاگز کی پیمنٹ کر دیا کرو تو یہ مہنگے ہو جائیں گے. ماجد نے حل بتایا.
زیادہ فضول بولنے کی ضرورت نہیں ہے. میں تمہیں یہ کہہ رہی تھی کہ دیکھو یہ منظر کتنا خوبصورت ہے. میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یہ سب دیکھنے کو ملے گا. عزین کی آنکھوں میں ایک حسرت تھی جسے ماجد پڑھ سکتا تھا
اسی لیے کہتا ہوں کہ دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی. دیکھو یہ منظر ہم مفت میں دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اس سے خوشی بھی مل رہی ہے. ماجد نے سمجھانا چاہا جس پر عزین ناراض ہو گئی.
ایک تو مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی. پل میں تولہ پل میں ماشہ
اب میں نے ایسا کیا کہہ دیا کہ تم ناراض ہو گئی ہو…..؟ ؟ ماجد نے اس کا اداس چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا ایس ایچ او ماجد!!! اگر کبھی فرصت ملے تو لٹریچر بھی پڑھیے گا عورت سمجھنے کے لیے نہیں محبت کرنے کے لیے بنائی گئی ہے. جی بہتر اور کوئی حکم ماجد نے عزین کے جواب پر فورا سر کو خم دیتے ہوئے جھکایا تو دور بیٹھی ساگ کاٹتی ماسی پھلاں نے اسے آواز دی.
چلو اماں بلا رہی ہیں. باقی باتیں پھر صحیح _
ماجد نے محبت سے اپنی بازو عزین کے گرد پھیلاتے ہوئے کہا تو وہ دونوں ماسی پھلاں کی طرف چل دیے.
“تم میری زندگی کا خوبصورت آثاثہ ہو۔ اللہ تمہیں میرے علاوہ ہر بلا سے محفوظ رکھے۔” ماجد نے کن انکھیوں سے عزین کو دیکھتے ہوئے سوچا
🎭🎭🎭🎭
ختم شد