Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
کہاں چلی گئی ہے …… ؟؟ میں نے بولا بھی تھا کہ یہیں رہنا. ماجد نے پورے ویٹنگ ایریے میں نظر گھماتے ہوئے خود کلامی کی.
کیا کروں، زی تو مجھے نہیں چھوڑے گا …… ؟؟ ماجد نے فکر مندی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا. چند لمحے خاموشی سے گزر گئے پھر اچانک ماجد کے ذہن میں جھماکا ہوا اور وہ چلڈرن وارڈ کی طرف چل دیا.
مجھے پوری امید تھی کہ تم یہاں ہی پائی جاؤ گی مگر میں تمہیں منع کر کے آیا تھا کہ وہاں سے مت اٹھنا. ماجد نے زریں کو دیکھتے ہوئے کہا جو کسی کے بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھی.
تم نہیں آئے تھے تو مجھے بوریت ہونے لگی سوچا ابھی _ زری نے اتنا ہی کہا تھا کہ ماجد نے اس کی بات بیچ میں سے اچک لی. سوچا کہ دوسروں کے بچے ہی گود لے لوں. ماجد نے مصنوعی مسکراہٹ ساتھ زری کی طرف دیکھا تو اس کے تاثرات بدل گئے. مجھے فضول کی بکواس نہیں پسند، بچے تو سب کو ہی اچھے لگتے ہیں. زریں نے کہتے ہوئے پاس بیٹھی آنٹی کو وہ بچہ دیا اور ماجد کے ساتھ چل دی. میرے خیال سے آپ کے شوہر نامدار کو یہ بچہ والی مخلوق کچھ خاص پسند نہیں. ویسے تو اسے عورت ذات بھی پسند نہیں تھی مگر اب کیا کہا جائے ….؟؟ ماجد نے کندھے اچکاتے ہوئے زریں کی طرف دیکھا تم اتنے سڑیل نہیں جتنا تمہارا دوست ہے. کیا یہ شروع سے ہی ایسا ہے اور تم دونوں کی دوستی کیسے ہوئی ……؟ ؟ زری کے سوال پر ماجد نے اسے آبرو اچکا کر دیکھا ایک منٹ، پہلے مجھے یہ کلئیر کرو کہ اتنے سڑیل سے کیا مراد ہے …… ؟؟ ماجد کے لہجے میں تھوڑی خفگی تھی تو زرعی مسکرائی. اتنے سڑیل سے مراد جو بھی ہے تم اسے رہنے دو اور یہ بتاؤ کہ تمہاری دوستی کیسے ہوئی …..؟؟ زریں نے اپنا سوال دہرایا. ہم دونوں ایک ہی یتیم خانے میں پلے بڑھے ہیں. بس وہاں سے ہماری دوستی ہو گئی. ماجد نے مختصر سا جواب دیا. یعنی تم دونوں کے والدین نہیں ہیں. زری نے افسوس سے کہا تو ماجد ہنس پڑا. وہ دونوں اس وقت پارکنگ کی طرف جا رہے تھے. بی بی ہمارے والدین تو یقیناً ہوں گے مگر ہمیں نہیں معلوم کیونکہ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ہمارے والدین نہ ہوں. ماجد کے جواب پہ زری تھوڑا سا شرمندہ ہوئی اب وہ دونوں گاڑی کے قریب پہنچ چکے تھے. تم دونوں میں احساس نام کی چیز نہیں ہے. میں یہاں تکلیف سے مر رہا ہوں. مجھے آرام کی ضرورت ہے اور تم دونوں کیسے ٹہل ٹہل کر تشریف لا رہے ہو. جیسے ہی ماجد نے بیک ڈور کھولا غازی اس پر برس پڑا. اور تمہیں تو میں گھر جا کر بتاؤں گا. غازی نے لال انگارہ آنکھوں سے زریں کی طرف دیکھا تو اسے پہلی بار ڈر لگا. گاڑی تیز چلاؤ اور راستے سے نیا موبائل خرید لینا. مجھے میر سے بات کرنی ہے. غازی نے آنکھیں بند کرتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو ماجد سر ہلانے لگا جبکہ زری ماجد کی فرمانبرداری پر دل میں اسے داد دینے لگی. 🎭🎭🎭🎭 کیا کہا تم نے ذرا دوبارہ کہنا. مجھے ٹھیک سے سنائی نہیں دیا. میر نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے عزین کی طرف قدم بڑھائے. میں نے کہا ہے کہ گل معذور نہیں ہے یعنی وہ چل پھر سکتی ہے. صرف معذوری کی ایکٹنگ کرتی ہے. اب کی بار پراعتماد لہجے میں عزین نے میر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا سیریسلی میر نے سنجیدہ چہرے ساتھ عزین سے پوچھا
ہنڈرڈ پرسنٹ عزین کے جواب پر میر ہنسنے لگا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا. میرا نہیں خیال کہ میں نے آپ کو کوئی لطیفہ سنایا ہے جو آپ یوں ری ایکٹ کر رہے ہیں. عزین کو برا لگا میرے لیے یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں ہے کیونکہ گل کی ٹانگوں میں گولیاں لگی تھیں. ڈاکٹرز کے مطابق اس کی ہڈی متاثر ہوئی جس کی وجہ سے وہ آج تک اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکی. جبکہ وہ ایک انتہائی زندہ دل لڑکی ہے. اسے کیا ضرورت ہے ایسی بےہودہ ایکٹنگ کرنے کی جس کا اسے کوئی فائدہ نہیں الٹا نقصان ہے. تم نے مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے کہ جو کہو گی اس پہ میں آنکھ بند کر کے ایمان لے لوں گا. آئندہ میرے ساتھ اس طرح کی فضول باتیں کرنے کی ضرورت نہیں. ورنہ نتائج کی ذمہ دار تم جود ہو گی.تم یہاں ایک ایگریمنٹ کی وجہ سے موجود ہو. اس گھر پہ قبضہ کرنے کے خواب نہ دیکھو. یہی تمہارے لیے بہتر ہے. میر کا لہجہ ایک دم سرد ہوا تو عزین نے اپنا سر جھٹکا بار بار مجھے یہ احساس دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں یہاں ایک ایگریمنٹ کی وجہ سے موجود ہوں. آپ نے مجھے جو ڈیوٹی دی تھی میں نے اس کے مطابق رپورٹ کی ہے. کہ آپ کی لاڈلی بیوی چل پھر سکتی ہے معذور نہیں لیکن اگر آپ کو جان بوجھ کے دھوکا کھانے کا شوق ہے تو پھر مجھ سے آئندہ ایسی کوئی امید مت رکھیے گا. مجھے صرف یہ بتائیں کہ میں نے کیا کرنا ہے …… ؟؟ عزین نے کھڑے ہوتے ہوئے بازو سینے پر باندھے تمہارا کام تو گل کی مخبری ہی کرنا ہے مگر ڈھنگ کی. میرا مطلب ہے ایسی مخبری جس سے مجھے پتہ چلے کہ وہ کیا سوچ رہی ہے اور وہ آئندہ کیا کرنا چاہتی ہے یا ماضی میں اس نے کیا کیا تھا اور کیوں ….؟؟ میر کو خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے عزین کو اپنی بات سمجھائے. آج تو آپ نے مجھ پر یہ الزام لگا دیا کہ میں آپ کے گھر پہ قبضہ کرنا چاہتی ہوں لیکن آئندہ اگر آپ نے ایسی بات کی تو میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے چلی جاؤں گی. کیونکہ میرے نزدیک سب سے زیادہ میری سیلف رسپیکٹ ہے. مسٹر میر آپ اس چیز کا خیال رکھیں. عزین کو اپنی بےعزتی کا بری طرح احساس ہوا. میرے خیال سے ایک لالچی لڑکی کی کوئی سیلف رسپیکٹ نہیں ہوتی. اگر ہوتی تو وہ اس وقت ایس ایچ او ماجد ساتھ پائی جاتی نہ کہ میرے ساتھ اس گھر کی چھت کے نیچے. میر کے لہجے میں طنز واضح تھا. معذرت کے ساتھ “بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی” میر کہتا ہوا واش روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ پیچھے عزین اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی. ہر کسی کو میں لالچی لگتی ہوں. میں لالچی نہیں ہوں اگر کوئی اپنے فیوچر کے لیے چند پیسے جمع کرنا چاہے تو کیا ہم اسے لالچی کہیں گے نہیں نااااا عزین نے اپنے آپ کو جیسے تسلی دی.
ابھی تک یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو. اٹھو ٹیبل پر کھانا لگواؤ. میر نے واش روم سے باہر آتے ہی عزین کی طرف دیکھ کر کہا
مجھے بھوک نہیں ہے. میں نے کھانا نہیں کھانا. عزین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ میر کو کچا چبا جائے.
دیکھو حاشر کی اسسٹنٹ!!! اس گھر میں کھانا صرف وقت پر ہی ملتا ہے اس کے علاوہ کوئی شخص کچھ بھی نہیں کھا سکتا. اگر تم نہیں کھانا چاہتی تو تمہاری مرضی ہے مگر پھر تمہیں رات تک انتظار کرنا پڑے گا.
دوسرا میں نے تمہیں کھانا لگوانے کا کہا ہے کھانے کا نہیں کیونکہ مجھے اور باقی گھر والوں کو تو بھوک لگی ہے. ہم نے تو کھانا کھانا ہے. میر نے جتلاتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا تو وہ پاؤں پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی.
کیا یہ لڑکی سچ بول رہی تھی مگر ایسے کیسے ہو سکتا ہے …… ؟؟
اس گھر کے ہر کونے میں کیمرے نصب ہیں اور ان کی فوٹیج میں روز دیکھتا ہوں. مگر آج تک میری نظر سے ایسی کوئی چیز نہیں گزری جس سے ظاہر ہو کہ گل چل پھر سکتی ہے. میر نے برش کرتے ہوئے مرر میں دیکھا
مجھے صرف ایک بات گل کے بارے میں پریشان کرتی ہے اور وہ یہ کہ شیر علی نے اس پر گولی کیوں چلائی دوسرا وہ سردار بیگم کا ساتھ دے رہی تھی یا نہیں …..؟ ؟
اگر وہ بے قصور ثابت ہوئی تو میں اسے اپنے ساتھ لے کر باہر چلا جاؤں گا لیکن اگر وہ _ اس سے آگے میں سوچنا نہیں چاہتا. میر نے ڈریسنگ ٹیبل پر برش پٹخا اور خود کو نارمل کرتا باہر نکل گیا 🎭🎭🎭🎭 زریں نے اپنی زندگی میں اتنا خوبصورت فلیٹ کبھی نہیں دیکھا تھا جیسا وہ اب دیکھ رہی تھی. وہ ایک ایک چیز کو ایسے چھو رہی تھی جیسے وہ ہاتھ لگانے سے غائب ہو جائے گی. زری یہ لولا لنگڑا تو سچ مچ کا امیر نکلا. اتنے خوبصورت گھر میں رہتا ہے. اس کے پاس تو بہت پیسہ ہے مگر شکل تو بالکل اس کی غریبوں جیسی تھی. میں نے تو اس پر خوب غصہ کیا اب میرا کیا حال ہو گا …..؟ ؟ زریں دل میں سوچتی صوفے پر بیٹھ گئی. یہ لے، میں نے اس میں سم ڈال کر ایکٹو کر دی ہے. ماجد نے موبائل فون غازی کی طرف بڑھایا. شکریہ کہنے کو دل تو نہیں کر رہا مگر پھر بھی تیرا شکریہ. ایسا کر کہ آج رات یہیں رک جا، مجھے تیری ضرورت پڑے گی. غازی نے اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ماجد مسکرا دیا حیرت ہے انتہائی خوبصورت اور تیز ترین بیوی کے ہوتے ہوئے بھی تجھے رات کو میری ضرورت پڑے گی …… ؟؟ ماجد کے ایسے پوچھنے پر غازی نے اسے ایک تگڑی گھوری سے نوازا جب کہ اس کے لب خود بخود مسکرا دیے. وہ میرے ذہن سے نکل گئی تھی. چل ٹھیک ہے پھر تو جا، آرام کر غازی نے کہتے ہوئے موبائل پر میر کا نمبر ڈائل کیا
ویسے وہ بھولنے والی چیز نہیں ہے اور تو ایک انتہائی بے مروت انسان ہے. ایک منٹ میں مجھے کہہ دیا چلا جا دوسرے لفظوں میں کہتے ہیں کہ “تو اب دفع ہو” . ماجد منہ بناتا اٹھ کھڑا ہوا.
مجھے سب سے اچھی تیری یہی بات لگتی ہے کہ تو میرے دل کا حال فوراً جان لیتا ہے. غازی نے تردید کی بجائے تصدیق کی تو ماجد نے قریب پڑا ہوا تکیہ اچھا کر غازی کی طرف اچھالا.
بے غیرت انسان!!! ابھی موبائل چھوٹ کے نیچے گرتا تو میں ٹچ کے ساتھ ساتھ تیری ہڈیاں بھی توڑ دیتا. غازی نے سائیڈ پر تکیہ رکھتے ہوئے کہا
اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے. تیری ڈارلنگ میرا مطلب ہے میر کال اٹینڈ نہیں کر رہا …..؟؟ ماجد کے پوچھنے پر میر نے موبائل-فون بیڈ پر پھینک دیا.
میر کبھی بھی unknown نمبر اٹینڈ نہیں کرتا. ابھی تھوڑی دیر میں اس کے کسی چمچے کا فون تصدیق کے لیے آ جائے گا تو بات ہو جائے گی. میں اس وجہ سے پریشان نہیں. غازی نے ماجد کی طرف دیکھ کر کہتے ہوئے بیڈ ساتھ ٹیک لگائی
تو پھر ……؟ ؟ ماجد کو تجسس ہوا.
تو پھر تیرا سر تو کیا عورتوں کی طرح میرا دماغ کھا رہا ہے. کچھ رات کے کھانے کا بندوبست کر دے اور اپنی شکل گم کر، مجھے آرام کرنا ہے. غازی کے چہرے پر تھکاوٹ عیاں تھی. جی بہتر اور کوئی حکم ماجد نے اٹھتے ہوئے فرمانبرداری سے پوچھا تو غازی نے سر نفی میں ہلا دیا. ماجد ابھی کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ غازی کا موبائل بچنے لگا
ہیلو جیسے ہی غازی نے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی.
غازی تم بات کر رہے ہو. تھوڑی دیر بعد میر کی آواز سپیکر سے ابھری تو غازی مسکرا دیا
جی سر میں ہی بات کر رہا ہوں. غازی کے لہجے میں خود بخود احترام اتر آیا تھا.
یار کہاں غائب ہو گئے تھے. میں نے تمہیں بہت مس کیا اور تلاش بھی تم جانتے ہو نا کہ میرے لیے تم کتنے خاص ہو …… ؟؟ میر کے پوچھنے پر غازی نے ہنکار بھری.
چلو پھر ملاقات کا بندوبست کرتے ہیں. آخر تمہارا انعام مجھ پر ادھار ہے. میر نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی تو یہ ایک خاص پیغام تھا جو صرف غازی سمجھ سکتا تھا.
ارے بھابھی!!! آپ ادھر کیوں بیٹھی ہیں. اندر جائیں اپنے مزاجی خدا کی خدمت کریں. میں آپ لوگوں کے لیے کچھ کھانے پینے کو لاتا ہوں. ماجد نے ٹی وی لاؤنچ میں چپ چاپ بیٹھی زری کی طرف دیکھ کر کہا
میرا نام زری ہے. اس لیے یہ بھابھی بھابھی کی رٹ لگانا بند کریں اور دوسرا میں نے جب جانا ہوگا تو چلی جاؤں گی. مجھے آپ کی اجازت نہیں چاہیے. زریں کے جواب پر ماجد منہ بناتا باہر نکل گیا تو اس نے کمرے کا رخ کیا.
سنو _ غازی جو آنکھیں بند کیے لیٹا تھا اچانک زری کے پکارنے پر چونکا یہ کون سا طریقہ ہے کسی کے کمرے میں داخل ہونے کا، تم دستک دے کر نہیں آ سکتی تھیں. اچھی خاصی نیند آ رہی تھی. بیڑا غرق کر دیا. غازی نے زریں کی طرف دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا مجھے بھی نیند ہی آ رہی ہے اور میں یہی پوچھنے آئی تھی کہ تمہارے شہر میں لوگ کھانا نہیں کھاتے. انہیں بھوک نہیں لگتی. مجھے سخت بھوک لگی ہے خالی پیٹ مجھے اتنی نہیں آتی. زریں کے کہنے پر غازی نے اس کی طرف غصے سے دیکھا رہی بات دستک دے کے آنے کی، تو تم ہمارے گھر دستک دے کے آتے جاتے تھے. ہر وقت چارپائی پہ پڑے آنے جانے والے کو گھورتے رہتے تھے. بھولو مت کہ میں نے تمہاری بہت خدمت کی ہے. زری نے گردن اکڑاتے ہوئے یاد دلایا. تم نے میری جتنی خدمت کی ہے وہ ساری کی ساری مجھے اچھی طرح یاد ہے. بس دعا کرو میں جلد ٹھیک ہو جاؤں سود سمیت میں تمہیں واپس کروں گا. غازی کا لہجہ گھمبیر ہوا. اب تم احسان فراموشی جیسی باتیں کر رہے ہو. خیر میں نے تم سے کھانے کا پوچھا تھا. زریں نے بات بدلی تبھی ڈور بل بجی. ماجد کھانا لایا ہے. جا کے کھا لو اور میری جان چھوڑو. غازی نے کہتے ہوئے دوبارہ آنکھیں موند لیں. تو زریں چپ چاپ کمرے سے باہر نکل آئی. 🎭🎭🎭🎭 حاشر صاحب!!! آپ کے دوست کیا الٹا پیدا ہوئے تھے. سیدھی بات کا بھی الٹا مطلب لیتے ہیں. کال اٹینڈ کرتے ہی حاشر کو عزین کی ناراض آواز سنائی دی. مس عزین میں کبھی بھی اور کسی بھی جنم میں گائنی وارڈ بوائے یا نرس نہیں رہا اور میر کے وقت میں خود بہت چھوٹا تھا. لہٰذا مجھے اس کے الٹے سیدھے کا کچھ پتہ نہیں. حاشر نے ڈرائیو کرتے ہوئے جواب دیا. سر آپ بھی میری بات کو سیریس نہیں لے رہے عزین رو دینے کو تھی.
اچھااااااااااااا زیادہ اداس مت ہو اور بتاؤ کے کیا ہوا ہے ……. ؟؟ حاشر نے فوراً سنجیدگی سے پوچھا تو عزین نے ساری بات گوش گزار کر دی.
عزین تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ناااااا _ گلبدین معزور ہے. وہ چل پھر نہیں سکتی. میں نے خود کئی بار میر کے کہنے پر اس کی رپورٹ ڈاکٹرز کو دکھائی ہیں. میر ٹھیک کہتا ہے. تمہیں یقیناً کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. حاشر نے میر کی سائیڈ لیتے ہوئے وضاحت دی. مجھے نہیں پتہ بس جو میں نے سنا وہ بتا دیا ہے. اب اگر آپ لوگ یقین نہیں کرنا چاہتے تو آپ کی مرضی عزین نے ٹیرس پر ٹہلتے ہوئے جواب دیا تبھی اسے اپنے عقب سے میر کے پرفیوم کی تیز خوشبو آئی.
او کے سر پھر بات کرتی ہوں. ( پتہ نہیں کب سے میری باتیں سن رہے ہیں.) عزین سوچتی فون بند کرنے لگی.
عزین تم ایک سمجھدار لڑکی اور ذہین وکیل ہو. اس لیے بےوقوفوں والی حرکتیں مت کیا کرو. میر بہت جہاندیدہ انسان ہے. اس کی بات چپ چاپ مان لیا کرو. اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے. حاشر کی باتوں پر عزین نے سر ہلاتے ہوئے فون بند کیا.
(عزین بیٹا گہرے گہرے سانس لو. ابھی تمہیں ایک لمبا اور چیپ لیکچر سننے کو ملے گا. اس لیے ریڈی ہو جاؤ.) عزین نے دل میں سوچتے ہوئے پلٹ کر دیکھا تو ٹیرس پر سوائے اس کے کوئی دوسرا نہ تھا.
یہ سر میر کدھر گئے …؟؟ عزین نے پورے ٹیرس پر نظر گھمائی.
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ جناب ٹیرس تک آئیں اور مجھے بےعزت کیے بنا ہی چلے جائیں. ناممکن یقیناً کمرے میں ہوں گے. عزین خود سے باتیں کرتیں کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں بھی کوئی نہیں تھا ہاں البتہ میر کے پرفیوم کی خوشبو پورے کمرے میں پھیلی تھی جیسے وہ ابھی یہاں سے گیا ہو.
عزین اسی شش و پنج میں کھڑی تھی کہ میر اتنی جلدی گھر کیسے آ گیا جبکہ ابھی تو صرف 5 بجے تھے. تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور گل اپنی چئیر ساتھ اندر داخل ہوئی. پہلی بار عزین کو گل سے ڈر لگا
تم نے آج کھانا نہیں کھایا. کیا میر سے لڑائی ہوئی ہے …..؟ ؟ گل کا لہجہ بہت دوستانہ تھا.
نہیں عزین مختصر جواب دیتی بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی.
اچھااااااااااااا تو پھر ہمارے ساتھ کھانا کیوں نہیں کھایا …… ؟؟ گل نے اپنی چئیر عزین کے قریب کرتے ہوئے پوچھا
دل نہیں کر رہا تھا. خیر چھوڑیں یہ بتائیں کہ ابھی میر اوپر کیا کرنے آئے تھے ….؟؟ عزین کے سوال پر گل نے اسے حیرت سے دیکھا
میر تو گھر پر نہیں ہے. وہ اس وقت اپنے فام ہاؤس ہوتا ہے. گل کا جواب عزین کے بدن میں کپکپی طاری کر گیا.
پھر ٹیرس پر کون تھا اور کمرے میں _ عزین نے بے خیالی میں دہرایا. تم نے مجھ سے کچھ کہا گل کے پوچھنے پر وہ ہوش میں آئی.
نہیں کچھ نہیں عزین زبردستی مسکرائی. تمہیں کھانے میں کیا پسند ہے. مجھے بتا دو. تاکہ میں باورچی سے کہہ کر بنوا دو. ابھی ڈنر میں بہت وقت ہے. تمہیں بھوک لگ جائے گی. گل کے پوچھنے پر عزین نے اس کی طرف دیکھا بھوک تو اڑ گئی ہے. عزین سوچتی سر نفی میں ہلانے لگی. چلو تمہاری مرضی ہے. میں نے سوچا تمہیں بھوک لگی ہو گی تو میر کے آنے سے پہلے کچھ بنوا دوں. وہ تو بےوقت کچھ کھانے نہیں دیتا. گل کہتی اپنی چئیر موڑنے لگی. ویل چئیر عزین نے غور سے ویل چئیر کو دیکھا تو اس کے لب مسکرا دئیے.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.
