Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
زی ایسا مت کر، یہ تو سراسر خودکشی کرنے والی بات ہے. اس لڑکے کی بہت ہائی سکیورٹی ہے. وہ عابد بلڈرز کا اکلوتا چشم و چراغ ہے.
ان لوگوں نے پولیس سے بھی مدد لے رکھی ہے. ان کے اپنے باڈی گارڈز ہیں جو ہر وقت جدید اسلحے سے لیس ہوتے ہے. ماجد نے فکر مندی سے غازی کی طرف دیکھا جو مزے سے سگریٹ پی رہا تھا. وہ دونوں اس وقت ایک اوپن ایئر کیفٹیریے میں بیٹھے تھے
بس یا اور کچھ ………. ؟؟ غازی نے ایش ٹرے میں سگریٹ جھاڑتے ہوئے پوچھا
زی یہ زندگی مذاق نہیں ہے. صرف ایک بار ہی ملتی ہے. اسے دوسروں کی خاطر برباد نہیں کرنا چاہیے. ماجد کی بات پر غازی طنزیہ ہنسا
مجھے نہ تو زندگی کی ضرورت ہے اور نہ اس کے برباد ہونے کا ڈر _ غازی سگرٹ پھینکا اور ہوا میں دھواں نکالنے لگا دیکھ تو ایک 25 سال کا خوبصورت اور صحت مند نوجوان ہے. اگر جیل ہو گئی تو ساری زندگی وہاں پڑا سڑتا رہے گا. میرے اوپر نہیں تو کم از کم اپنی اس خوبصورت جوانی پر رحم کھا. ماجد کے ڈرانے پر غازی نے ہلکا سا قہقہہ لگای ا مجھے تیری اس ساری بکواس میں صرف یہ ایک جملہ اچھا لگا ہے کہ میں “25 سال کا ایک صحت مند اور خوبصورت نوجوان ہوں”. رہی بات جیل میں سڑنے کی تو میری جان میں گرفتاری سے بہتر خود کو مارنا پسند کروں گا. تو اچھی طرح جانتا ہے کہ میرا نشانہ کتنا اچھا ہے. مجھے پورا یقین ہے کہ وہ میری گولی کو نہیں روک پائے گا. غازی نے اپنی دو انگلیوں سے سامنے بیٹھے ماجد کا نشانہ لیا جس پر ماجد سر نفی میں ہلاتا ادھر ادھر دیکھنے لگا تب ہی غازی کی نظر کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی پر پڑی تو ماجد نے بھی گردن گھماتے ہوئے اس کی نگاہوں تعاقب کیا. ویسے تو تجھے اس مخلوق سے بہت چڑ ہے مگر جب دیکھو اسے گھور رہا ہوتا ہے. اب اس لڑکی میں کیا خاص ہے …….. ؟؟ ماجد نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا یہ لڑکی میر کے آفس میں ہوتی ہے. میں نے اسے وہاں دیکھا ہے. غازی کے بتانے پر ماجد کرسی پر گھومتے ہوئے دوبارہ اس سمت دیکھنے لگا کیا اب میر نے ایسی لڑکیاں آفس میں رکھنا شروع کر دی ہیں اور یہ آفس میں کرتی کیا ہے ……. ؟؟ اب دونوں کی توجہ کا مرکز وہ کاؤنٹر گرل تھی. میرے خیال سے یہ لڑکی “وکیل” ہے جیسے ہی غازی کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ماجد کی پوری آنکھیں باہر نکل آئیں. غازی مجھے لگتا ہے تم نے آج زیادہ سگریٹ پی لیے ہیں. یہ ایک سیل گرل ہے اگر یہ وکیل ہوتی تو اسے یوں یہاں کام نہ کرنا پڑتا. ماجد کی وضاحت پر غازی خاموش ہو گیا مگر دیہان سارا اسی طرف تھا چل ٹھیک ہے جو کہا ہے اس پر عمل کرنا اور میری فکر نہ کرنا کیونکہ مجھے اپنی فکر کرنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے. میں اپنی فکر خود کرنا جانتا ہوں. غازی نے کہتے ہوئے دوبارہ سگریٹ سلگایا اچھا ٹھیک ہے. میں اب چلتا ہوں. ماجد نے اٹھتے ہوئے کہا مرضی ہے میں روک نہیں رہا غازی نے کندھے اچکائے
اپنے فیصلے پر ایک بار نظر ثانی کر لینا. شاید میری بات تیری سمجھ میں آ جائے. ماجد نے نہ چاہتے ہوئے بھی دوبارہ دہرایا اور اپنی ٹوپی اٹھاتا وہاں سے نکل گیا. غازی کی نظریں سگریٹ پیتے مسلسل کاؤنٹر گرل پر تھی. جیسے ہی قریب سے ایک ویٹر گزرا غازی نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا
مجھے ایک بلیک کافی چاہیے مگر اس لڑکی کے ہاتھوں سے غازی نے ویٹر کو روکتے ہوئے کاؤنٹر کی طرف اشارہ کیا تو وہ غازی کو دیکھنے لگا
سر وہ لڑکی ہماری انچارج ہے ویٹرس نہیں ویٹر کے تاثرات کافی خراب لگ رہے تھے مگر لہجہ اس نے کافی حد تک نارمل رکھا
اچھا پھر میں نے آپ کی انچارج سے بات کرنی ہے. غازی بضد ہوا. جس پر ویٹر سر ہلاتا کاؤنٹر کی طرف چل دیا کچھ دیر میں وہ کاؤنٹر گرل غازی کو اپنے قریب آتی دکھائی دی.
جی سر میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں ……. ؟؟ لڑکی نے انتہائی مہذب زبان میں پوچھا
آپ میر صاحب کہ آفس میں ہوتی ہے نااااا اور اگر میں غلط نہیں تو آپ ایک وکیل ہے. غازی کی بات پر عزین مسکرا دی
جی سر آپ نے بالکل درست پہچانا ہے. اب بتائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں ………. ؟؟
مجھے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کروانی ہے. غازی نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے کہا
اس وقت تو میں آپ کی مدد نہیں کر سکتی مگر صبح آپ میرے افس آ جائیں. عزین کے غازی ہنستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
کیا ہمارے ملک کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ ایک قابل وکیل کو یوں پارٹ ٹائم جاب کے لیے سڑک پر آنا پڑ رہا ہے. غازی کی بات پر عزین نے سنجیدگی سے اسے دیکھا
ایسی کوئی بات نہیں اور مسٹر اگر وکیل سڑک پر آ جائیں تو حکومتیں ہل جاتیں ہیں خیر یہ میرا کارڈ ہے رکھ لیں کام آئے گا.
عزین اپنا کارڈ دیتی واپس پلٹ گئی. غازی نے اپنی دونوں انگلیوں کے درمیان اس کارڈ کو پکڑا جس پہ واضح عزین لکھا تھا. لڑکی دلچسپ ہے اور ذہین بھی _ تبھی میر کے آفس میں پائی جاتی ہے کیونکہ میر نکمی چیزیں نہیں رکھتا. غازی کارڈ دیکھتا سوچ میں پڑ گیا. 🎭🎭🎭🎭 آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا. میں آپ کے لیے کیا نہیں کرتا مگر آپ میر نے گلبدین کے قریب بیٹھتے ہوئے ناراضگی سے کہا جس کے ایک ہاتھ پر ڈرپ جب کہ دوسرے پر پٹی بندھی تھی
آپ اپنا دل لگانے کی کوشش کریں. جب تک ماضی کو نہیں بھولیں گی اسی طرح پریشان رہیں گی. میر نے اب کی بار پٹی والا ہاتھ آرام سے اپنے ہاتھوں میں لیا تو گلبدین نے تکلیف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں
اب بولتی کیوں نہیں ……. ؟؟ میر نے نرمی سے گلبدین کا چہرہ اپنی طرف کیا جو خفا خفا سا تھا.
میں تم پر اور اپنے اپ پر ایک بوجھ ہوں. مجھے اپنی زندگی بری لگتی ہے. میں دوسروں کے سارے چل رہی ہوں. خود سے کچھ بھی نہیں کر سکتی. گلبدین کی آنکھیں پانی سے بھرنے لگی تھیں.
اچھا اگر کچھ بھی نہیں کر سکتی تو یہ کس نے کیا ہے ……. ؟؟ میر نے پٹی والے ہاتھ کی طرف مسکراتے ہوئے اشارہ کیا
میر میں بہت سنجیدہ ہوں. گلبدین نے میر سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا
میں بھی آپ کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہوں. میر کی مسکراہٹ سمٹی.
میر تم شادی کر لو. زندگی میں آگے بڑھو. تمہارے گھر میں بچوں کی رونق لگ جائے گی. گلبدین کی بات پر میر نے اسے ابرو اچکا کر دیکھا
تو پھر آپ اس سب کے لیے تیار ہیں ……. ؟؟ انداز سوالیہ اور شرارتی تھا.
میر میں بالکل بے کار ہوں ذہنی طور پر بھی اور جسمانی بھی تمہیں یہ بات کب سمجھ آئے گی …؟؟ تم ایک اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہو. گلبدین کی بات پر میر سر ہلانے لگا جیسے بات سمجھ آگئی ہو
میرے نزدیک اچھی لڑکی سے زیادہ وفادار لڑکی اہمیت رکھتی ہے. جو کہ آپ ہے.آپ میرے لیے جان دے بھی سکتی ہے اور اپنے محبوب کی جان میرے لیے لے بھی سکتی ہے. میر کے منہ سے جیسے ہی یہ جملہ نکلا گلبدین کے تاثرات فورا تبدیل ہو گے
میں نے جان بوجھ کر شیر علی کی جان نہیں لی تھی. گلبدین نے احتجاج کیا
معلوم ہے. میر نے گلبدین کی ہاتھ کی پشت کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے جواب دیا
میر تم سمجھتے کیوں نہیں ہو. میں خود سے تنگ ہوں. گلبدین نے بے بسی سے میر کو دیکھا
آپ مجھے تنگ کیا کریں. خود نہ تنگ ہوا کریں مگر ایسے جیسے اچھی بیویاں کرتی ہیں. مختلف فرمائشیں کر کے، نہ کہ یوں میر نے پٹی والے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے کہا
میر آج ایک بات تو بتاؤ. جب تمہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ میں اب کبھی چل نہیں سکتی تو تم نے مجھ سے نکاح کیوں کیا ……… ؟؟ گلبدین کے سوال پر میر نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا
یہ آج کل آپ کس سے مل رہی ہیں. مجھے سمجھ نہیں آرہی کون آپ میں یہ باتیں بھر رہا ہے ……. ؟؟ میر نے جانچنی نظروں سے گلبدین کی طرف دیکھا
سارے ملازم تو تمہارے ہیں. میرا تو یہاں کوئی بھی نہیں. گلبدین کا جواب میر کی تسلی نہ کر سکا
میرے خیال سے اب آپ کو میرے کمرے میں شفٹ ہو جانا چاہیے. اکیلے میں آپ پتہ نہیں کیا کیا فضولیات سوچتی رہتی ہیں. ایک تو آپ کی تنہائی ختم ہو جائے گی دوسرا آپ کے بقول میرے گھر میں بچوں کی رونق بھی لگ جائے گی. میر کا انداز چھیڑنے والا تھا
نہیں میر میں تمہاری احسان مند ہوں کہ تم نے مجھے رُلنے نہیں دیا. اپنے نام کے ساتھ ساتھ یہ پر آسائش زندگی بھی دی مگر سچ یہ ہے کہ میں تمہارے قابل نہیں. تمہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ میں ایک ایسی ہڈی ہوں جو تمہارے گلے میں پھنس گئی ہوں. گلبدین کی باتوں پر میر نے اپنی کنپٹی دو انگلیوں سے دبائی
گل میرے سر میں بہت درد ہے. آپ پلیززز فضول باتیں کرنا بند کریں. آپ جو بھی ہیں اور جیسی بھی ہیں مجھے منظور ہیں. جب مجھے کوئی مسئلہ نہیں تو اپ کو کیوں ہے …….. ؟؟ میر نے ایک بار پھر گل کا رخ اپنی طرف کیا جو دوسری طرف منہ کیے رو رہی تھی
خواہ مخواہ اپنی انکھیں سوجھا لی ہیں. بری بات اور آئندہ خودکشی کا سوچنا بھی مت ورنہ میں اپنے اپ کو گولی مار لوں گا اور آپ جانتی ہیں میں یہ کر سکتا ہوں. میر نے سرد ترین لہجے میں تنبیہ کی
اللہ نہ کرے میر تم بہت خوفناک باتیں کرتے ہو. گلبدین نے فوراً میر کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھا
بس تو پھر یہ طے ہے کہ آپ میرے کمرے میں شفٹ ہو رہی ہیں. میر نے گلبدین کا ہاتھ چومتے ہوئے پیچھے کیا جس پر وہ خاموش ہو گئی
تم کون سا گھر ہوتے ہو. سارا دن تمہارا کمرہ بھی ویران پڑا رہتا ہے. گل نے جیسے جتلایا
میں جہاں بھی جاؤں رات کو لوٹ آتا ہوں. مجھے اپنے کمرے اور بستر کے بغیر نیند نہیں آتی. میر نے گل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا
آپ کے آنے کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ پھر مجھے سونے کے لیے نیند کی گولیاں نہیں کھانا پڑیں گی. میر نے ایک انکھ ونگ کرتے کہا تو گلبدین نے نفی میں سر ہلایا
بات مت بدلو _ گل نے میر کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ الگ کیا آرام سے میری بات مان لیں. ورنہ آپ مجھے جانتی ہیں میں کسی سے درخواست نہیں کرتا. میر نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا تو گلبدین نے بھی بیڈ ساتھ ٹیک لگا لی گڈ ویری گڈ اب آپ آرام کریں. میں ذرا ان نمک حرام ملازموں کی خبر لے لوں. میر نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے کوٹ کا بٹن بند کیا میر کسی کو کچھ مت کہنا گلبدین ایک دم اٹھنے لگییں.
آپ لیٹی رہیں اور پریشان نہ ہوں. کسی کی سفارش بھی نہ کریں کیونکہ میں معاف نہیں کرتا. جب میں نے ان کو آپ کی حفاظت کے لیے رکھا ہے اور وہ پیسے بھی اسی چیز کے مجھ سے لیتے ہیں. تو پھر آپ کو چوٹ کیسے آئی اور کیوں ……؟ ؟ میر کہتا ہوا پلٹ گیا جبکہ گلبدین خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگی.
دوسرا مجھے لگتا ہے کہ اس غلام علی کا بھی بندوبست کرنا پڑے گا. وہی آپ کا دماغ خراب کر رہا ہے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا. میر بربڑاتا ہوا دروازہ کراس کر گیا
🎭🎭🎭🎭
اب بتاؤ تم اس بارے میں کیا کہتی ہو ……. ؟؟ حاشر نے عزین کی طرف دیکھا جو بڑے غور سے ان کی بات سن رہی تھی.
سر آپ کو میں کیسی لگتی ہوں. میرا مطلب ہے اپ کی میرے بارے میں کیا رائے ہے …….. ؟؟ عظیم نے جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا
میری تمہارے بارے میں بہت رائے ہے. تم ایک لائق اور قابل لڑکی ہو. حاشر نے دل سے اس کی تعریف کی.
پھر آپ کو کیسے لگا کہ میں آپ کے اس سڑیل باس کی بات مان لوں گی ……. ؟؟ عزین کے سوال پر حاشر کو اپنے اندر اطمینان اترتا محسوس ہوا.
اصل میں وہ میر کہہ رہا تھا کہ تم ایک لالچی لڑکی ہو اور دولت کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہو تو میں نے سوچا پہلے میں خود چیک کر لوں. پر شکر ہے کہ تم ایسی نہیں ہو حالانکہ زیادہ تر میر کا اندازہ بالکل ٹھیک نکلتا ہے. حاشر کی وضاحت پر عزین نے اسے بہت گہری نظروں سے دیکھا.
“یہ میر میرے بارے میں اتنا درست اندازہ کیسے لگا سکتا ہے …..؟ ؟” بظاہر حاشر کو دیکھتے ہوئے عزین خود سے مخاطب تھی. تبھی حاشر نے اس کے آگے چٹکی بجائی.
سر میں آپ کی بات سن رہی ہوں. عزین نے فوراً اپنا سر جھٹکتے آس پاس دیکھا.
تم سے میر ملنا چاہتا ہے اور وجہ میں نے تمہیں بتا دی ہے. حاشر نے اپنے آگے کافی کا کپ صرف سرکایا
آپ بس یہ بتائیں کہ جیل میں کون ہے. جس سے میر بدلہ لینا چاہتا ہے …..؟ ؟ عزین کا سوال حاشر کو پریشان کر گیا
مجھے نہیں معلوم، یہ سوال تم میر سے ہی پوچھ لینا. حاشر نے جان چھڑائی.
سر آپ ان کے کافی پرانے دوست ہیں اتنا تو معلوم ہوگا کہ کون اندر ہے اور کیوں …….. ؟؟ عزین نے کافی پر زور دیتے ہوئے پوچھا
عزین تم میر سے مل لو. جو تسلی میں نے کرنی تھی وہ کر لی ہے. باقی تم جانو اور وہ _ میرا کچھ لینا دینا نہیں. حاشر نے کب خالی کرتے میز پر رکھا چلیں آپ کے اس دوست نما باس سے بھی مل کر دیکھتے ہیں. عزین نے بھی اپنا کپ خالی کیا عزین اپنا کیریئر تباہ نہ کرنا بس اتنا ہی کہوں گا. حاشر نے بل دیتے نصیحت کی آپ کو میری فکر ہوتی ہے تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے مگر جب آپ مجھ سے باتیں چھپاتے ہیں تو مجھے برا بھی بہت لگتا ہے. میں جانتی ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ جیل میں کون ہے مگر عزین نے اپنی بات جان بوجھ کر ادھوری چھوڑتے حاشر کی طرف دیکھا جو اس کے برابر چلتا ہوا ہوٹل سے نکل رہا تھا
عزین تمہارے ذہن میں جتنے بھی سوال ہیں. ان کے جواب صرف اور صرف میر پاس ہیں. لہذا اس سے ہی پوچھنا. حاشر نے بظاہر مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا تو عزین چپ چاپ اندر بیٹھ گئی
مجھے چند دن پہلے آپ کے اس دوست نما باس نے لفٹ دی تھی. عزین کے بتانے پر حاشر سر ہلاتا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا
وہ بہت ہی بے مروت اور بدلحاظ ہیں. اخلاق نام کی کوئی چیز ان میں نہیں. عزین ابھی اور بھی میر کی تعریفیں کرتی مگر حاشر کا موبائل بجتا دیکھ کر خاموش ہو گئی
ہاں میر بول _ اچھا اب کیسی ہے. طبیعت …….. ؟؟ چلو میں آتا ہوں. حاشر نے فوراً فون بند کر دیا. کیا ہوا ……؟ ؟ عزین کو تجسس ہوا. میر کی بیوی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے. حاشر نے بتاتے ہوئے گاڑی کی سپیڈ تیز کر دی میر صاحب شادی شدہ ہیں مگر میں نے کبھی ان کی بیوی ان کے ساتھ نہیں دیکھی. عزین شدید حیران ہوئی ہاں وہ کزن ہے میر کی مگر ٹانگوں سے معذور ہے. تو کہیں آتی جاتی نہیں. حاشر بالکل سنجیدہ تھا مگر عزین جتنا حیران ہوتی اتنا کم تھا. اتنے نخرے والے شخص کی بیوی معذور عزین صرف اتنا ہی کہہ سکی.
میر کو جتنا جانو گی تمہیں اس سے اتنی ہی ہمدردی ہوگی اور حیرت بھی وہ ایک مسٹری ہے مگر ہے دلچسپ _ حاشر کے جواب پر عزین مزید الجھ گئی 🎭🎭🎭🎭 غازی کب سے اپنی ہیوی بائیک پر بیٹھا گاڑیوں کا انتظار کر رہا تھا. جس راستے سے عابد بلڈرز کی گاڑیوں نے گزرنا تھا وہاں پر ماجد کے ذریعے غازی نے ناکہ لگوا دیا تھا. اب ان کے پاس اس راستے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا. بلیک جیکٹ اور بلیک پینٹ کے اوپر بلیک ہیلمٹ پہنے، بلیک ہیوی بائیک پر بیٹھا وہ کسی کو بھی اپنی نشانی نہیں دے رہا تھا. ہاں البتہ وہ خود نشان کی تلاش میں تھا. ماجد ان کی گاڑیوں نے اپنا راستہ تبدیل کیا ہے یا نہیں مجھے فورا انفارم کرو. غازی نے بائیک پر بیٹھے بیٹھے میسج ٹائپ کیا انہوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے لیکن میں پھر بھی تجھے وہی کہوں گا جو آگے کہا تھا. الٹے کام نہیں کرتے. ماجد کا میسج پڑھتے ہوئے غازی مسکرا دیا ویسے تو تُو میرا دوست بنا پھرتا ہے مگر کبھی بھی میری کامیابی کے لیے دعا نہیں دیتا. کبھی بھی میرے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا. ہمیشہ مجھے مایوس ہی کرتا ہے. جان بوجھ کے یہ میسج ٹائپ کرتے غازی نے موبائل اپنی جیب میں رکھا اور بائیک کو ریس دینے لگا چند سیکنڈ کا یہ کھیل تھا. نشانہ چوک جانے یا ان کے نشانے پر آنے دونوں ہی صورتحال میں غازی کی جان کو شدید خطرہ تھا. وہ اپنے آپ کو بھی بچانا چاہتا تھا اور مشن بھی مکمل کرنا اس کی ذمہ داری تھی.
وہ ڈرتا نہیں تھا. شروع سے ہی خطروں سے کھیلتا آیا تھا مگر نہ جانے آج کیا بات تھی اس کا دل مختلف طرح دھڑک رہا تھا. جیسے کچھ عجیب ہونے والا ہو. دور سے گاڑیوں کو دیکھتے غازی نے بائیک کی ریس تیز کی اور آگے کی طرف بڑھ دیا.
بیک مرر میں اسے اپنے پیچھے گاڑیوں کا قافلہ آتا دکھائی دے رہا تھا. پلین کے عین مطابق اس نے پل سے پہلے نشانہ لے کر مڑ جانا تھا مگر اسے غازی کی خوش قسمتی کہیے یا بد نصیبی کہ وہ خود ہی پل کے اوپر آن پہنچا.
بائیک سے نیچے اترتے وہ اس کا ٹائر چیک کرنے لگا جب قافلہ اس کے بالکل قریب ان پہنچا. جس گاڑی میں شکار سوار تھا غازی نے کھڑے ہوتے ہوئے اس پر ہینڈ کرنے پھینکا اور خود پل سے نیچے چھلانگ لگا دی جہاں درمیانے درجے کا پانی بہہ رہا تھا
ارادہ تو اس کا فائر کرنے کا تھا مگر اتنے قریب سے گاڑیوں پہ فائر کرنا سراسر بے وقوفی تھی کیونکہ گاڑیاں بلٹ پروف تھیں. اگر وہ فائر کرتا تو ان کا کچھ نہ جاتا مگر جوابی فائر میں غازی بھونا جاتا
غازی کو ایک ہی کام تھا جو نہیں آتا تھا اور وہ تھا ” تیرنا ” __ گرنیڈ کے پھٹنے سے تباہی تو بہت مچی تھی. گاڑیاں تباہ ہو گئی تھیں. پل ٹوٹ گیا تھا. غازی اس تباہی کا شکار تو نہیں ہوا تھا مگر اسے پانی نے نگل لیا تھا. پانی اب بالکل پرسکون تھا جیسے اس میں کوئی گرا ہی نہ ہو.
چند منٹوں کے اندر اندر یہ خبر ٹی وی کی زینت بن چکی تھی. پولیس،سیکورٹی اور اخباروں کے نمائندوں کی گاڑیوں کا وہاں ڈھیر لگ گیا تھا. سب عابد صاحب سے اس کے بیٹے کا افسوس کر رہے تھے جو دیوانہ وار اس ملبے کو دیکھ رہا تھا.
مگر ماجد کی آنکھ صرف غازی کی تلاش میں تھی. وہ واحد آنکھ تھی جو غازی کے لیے بے قرار دکھائی دے رہی تھی. دماغ اس بات کو تسلیم کر رہا تھا کہ غازی نہیں رہا مگر اس کی آنکھ اور دل اس بات سے انکاری تھا
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.
