Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

🌹ماضی……
آغا جان پلیز آپ مجھے ایسا کچھ بھی کرنے پر مجبور نہ کریں جو میں نہیں کرنا چاہتا میر نے محبت سے آغا جان کا ہاتھ اپنی ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا میر تم اس ظالم دنیا سے واقف نہیں ہو. تم اکیلے ہو. یہ لوگ تمہیں کھا جائیں گے. لیکن اگر شیر علی اور غلام علی جیسے تمہارے بھائی ہوئے تو یہ تم سے ڈریں گے. بات سمجھنے کی کوشش کرو. آخر تمہیں پاکستان میں ہی رہنا ہے یہ لندن نہیں ہے. آغا جان نے آہستہ آواز میں کہتے ہوئے داخلی دروازے کی طرف دیکھا جیسے آپ کو تو بہت طاقت ملی تھی اس گندے خاندان کو اپنے ساتھ لگانے پر، میں اچھی طرح جانتا ہوں سردار بیگم اور اس کے ان بھتیجے بھانجوں کو سوائے گل کے مجھے ان میں ایک بھی انسان نظر نہیں آتا. میر نے آغا جان کی نگاہوں کا تعاقب کرتے ہوئے حقارت سے کہا میر جو ماضی میں ہو گیا اسے دہرانے کا فائدہ نہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم سارہ سے نکاح کر لو تاکہ آغا ا جان نے بھی اتنا ہی کہا تھا کہ میر نے ان کا جملہ اچک لیا
تاکہ میں بھی آپ کی طرح ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مروں میر کے لہجے میں دبا دبا سے غصہ تھا میر اپنوں سے اتنی نفرت اچھی نہیں ہوتی. سردار بیگم جیسی بھی ہیں تمہاری ماں ہے. تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو اور ان کی ذاتی خواہش ہے کہ تم سارہ سے شادی کر لو تاکہ وہ تمہاری اور شیر علی کی شادی کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہو سکیں. آغا ا جان نے بڑے مان سے میر کی طرف دیکھا اچھا “فرضوں” کی انہیں اتنی فکر ہے تو وہ جو ایک “سنت” رہ جائے گی اس کے بارے میں کچھ نہیں سوچا انہوں نے
یہ غلام علی کا کیا کرنا ہے مجھے تو یہ ہر وقت کھٹکتا رہتا ہے. سمجھ نہیں آتی گل شیر علی کی منگیتر ہے اور غلام علی گل کا _ عجیب بکواس بنائی ہوئی ہے ان تینوں نے، میرا خون کھولتا ہے. میر کرسی سے اٹھنے لگا تو آغا جان نے اسے روکا. آغا جان میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں عینی سے شادی کروں گا. مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہے. بہت ہی ڈیسنٹ لڑکی ہے. یقین مانیں آپ اس سے ملیں گے تو آپ کو خوشی ہوگی بلکہ میں ایسا کرتا ہوں کہ واپسی پر آپ کو اپنے ساتھ ہی لے جاتا ہوں. میری طرف سے جہنم میں گئی یہ جائیداد بھی اور آپ کے یہ دونوں نمبر رشتے دار بھی میر نے اپنی طرف سے حل نکالا
میر یہ لوگ تو یہی چاہتے ہیں جو تم ابھی کہہ رہے ہو مگر میں یہ نہیں چاہتا. یہ ہمارے باپ دادا کا ورثہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اسے تم سنبھالو. یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ہماری خاندانی روایات کے امین بنے اور میری جائیداد کے وارث
آغا جان نے اپنی بات جاری رکھی.
میر مجھے نہیں لگتا کہ میں اب زیادہ جی پاؤں گا. میری بات غور سے سنو. تمہیں ان لوگوں کے ساتھ رہنے کے لیے تھوڑی سیاست کرنی پڑے گی. تمہیں اپنا حق لینے اور اپنی حیثیت منوانے کے لیے سارہ سے شادی کرنا پڑے گی. بیٹے میں نے ان لوگوں کی آنکھوں میں لالچ پڑھ لی ہے. یہ میرے مرنے کے بعد تمہیں نہیں چھوڑیں گے.
میر مجھے تمہاری بہت فکر ہے. تم میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو. تم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو. یہ تمہاری سوچ سے بھی زیادہ چالاک لوگ ہیں. لیکن اگر تم سارہ سے شادی کر لو گے. تو ان کی ایک کمزوری تیرے ہاتھ لگ جائے گی. میری بات سمجھ ائی یا تو تمہارے اوپر سے گئی. اپنی بات کے اخر میں آغا جان نے میر کی طرف دیکھا جو انتہائی بیزار سا بیٹھا ہوا تھا
جب مجھے اس سب سے کچھ لینا دینا ہی نہیں ہے. تو میں سارہ سے کیوں شادی کروں ….؟؟ میں صرف آپ کے بلوانے پر آیا ہوں اور صرف آپ کے لیے ہی پاکستان آتا تھ. ا اللہ نہ کرے آپ کو کچھ ہو لیکن جب آپ نہیں رہیں گے تو میں پاکستان آ کر کیا کروں گا. آپ کو یہ بات کیوں نہیں سمجھ آرہی. آپ میری بات بھی تو سمجھنے کی کوشش کریں ……. ؟؟ اس سے پہلے کہ آغا جان میر کو جواب دیتے دروازہ کھلا اور سردار بیگم کے ساتھ شیر علی اندر داخل ہوا اور شیر علی کو دیکھتے ہی میر کے ماتھے پر بل پڑ گئے
کیا بات سمجھانے کی کوشش کر رہے ہو مجھے بتاؤ میں سمجھا دیتی ہوں…… ؟؟ سردار بیگم نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ میر کی طرف دیکھا تو وہ سر جھٹک گیا مگر پھر کچھ خیال آنے پر شریر مسکراہٹ کے ساتھ شیر علی کی طرف دیکھا
آغا جان مجھے فورس کر رہے ہیں کہ میں سارہ سے شادی کروں لیکن میں سارہ کی بجائے گل سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ مجھے اچھا خاصا سمجھتی ہے. گل کا نام جیسے ہی میر نے لیا شیر علی نے انتہاائی غصب ناک انداز سے میر کی طرف دیکھا
خبردار جو تم نے گل کا نام لیا تو وہ میری بچپن کی منگیتر ہے. اگر اب تو نے اس کا دوبارہ نام اپنی اس گندی زبان سے لیا تو میں تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا. شیر علی کے یوں للکارنے پر جہاں آغا جان اور سردار بیگم کے رنگ اڑے وہیں میر کے چہرے پر کئی رنگ بکھر گئے.
اچھا میں نے نام لیا تو تمہیں برا لگا اور وہ جو سارا دن کتے کی دم کی طرح غلام علی گل کے پیچھے پھرتا ہے اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے.اس وقت تیری غیرت کہاں ہوتی ہے. ….. ؟؟ میر نے جو آگ لگائی وہ تیزی سے پھیلنے لگی شیر علی نے اپنی کمر سے پسٹل نکالتے ہوئے اس پر تانا
شیر علی تم یہ کیا کر رہے ہو …… ؟؟ تم چلو باہر میں خود دیکھتی ہوں. سردار بیگم نے بمشکل شیر علی کو پکڑتے ہوئے پیچھے کیا جب کہ وہ مسلسل گالیاں نکال رہا تھا اور میر اس کی بے بسی پہ مسکرا رہا تھا.
میر تم نے یہ اچھا نہیں کیا ……؟ ؟ آغا جان نے افسوس سے میر کی طرف دیکھا
آغا جان آپ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اگر یہ لوگ گیم کھیلنا جانتے ہیں تو گیم کھیلنے کا مجھے بھی بہت شوق ہے. آپ بے فکر رہیں. جو آگ میں نے لگائی ہے اس میں یہ سب خود ہی جل کر مریں گے.
ابھی تو میں نے گل کو شیر علی کے مقابلے میں لا کر کھڑا کرنا ہے بالکل ویسے ہی جیسے شیر علی نے سردار بیگم کو میری ماں کے برابر لا کر کھڑا کیا تھا. میں کچھ بھی بھولا نہیں بس میں یہ کھیل کھیلنا نہیں چاہتا تھا.
میر اس سب سے تو بہتر ہے کہ تم واپس چلے جاؤ. مجھ سے یہ آگ اور خون کی ہولی نہیں دیکھی جاتی میرے بڑھاپے پہ رحم کھاؤ. آغا جان نے ناراضگی سے میر کی طرف دیکھا
میرے پیارے آغا جان آپ فکر نہیں کریں. میں کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں کروں گا جو بھی کریں گے یہ خود کریں گے اور میں کچھ دنوں تک آپ ساتھ واپس لندن لوٹ جاؤں گا. میر نے مسکراتے ہوئے آغا جان کی طرف فلائنگ کس سینڈ کی اور خود کمرے سے باہر نکل گیا اس کے قدم اب گل کے کمرے کی تلاش میں تھے
🎭🎭🎭🎭
اچھا تو آپ کے دوست نے آپ کو مجھے لینے بھیجا ہے. ویسے بڑے افسوس کی بات ہے. اچھے خاصے پیسے والا انسان تھا. کیا تھا میری بھی ایک خواہش پوری کر دیتا. مجھے بڑا شوق تھا پھولوں سے سجی گاڑی میں بیٹھ کے سسرال جانے کا عزین نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حاشر کی طرف دیکھتے ہوئے حسرت کا اظہار کیا تو وہ سر نفی میں ہلانے لگا عزین تمہیں یہ سب فینٹسی لگ رہی ہے مگر میرا دل بہت پریشان ہے. پتہ نہیں اس سب کا کیا انجام نکلے گا …… ؟؟ حاشر کے لہجے میں فکر تھی. سر ایک تو آپ چھوٹی چھوٹی بات پر پریشان ہو جاتے ہیں. جب میں پریشان نہیں ہوں تو آپ کیوں ہیں …… ؟؟ دوسرا اصل مسئلہ پھولوں والی گاڑی کا نہ ہونا ہے آپ اس کے بارے میں مجھ سے افسوس کریں. باقی چھوڑیں. عزین نے سامنے دیکھتے ہوئے دکھی ہونے کی ایکٹنگ کی. تمہیں زیادہ دکھی ہونے کی ضرورت نہیں ہے. ابھی میں تمہیں سیدھا پالر لے کے جاؤں گا. جہاں سے بیوٹیشن تمہیں ایک خوبصورت سی دلہن کا روپ دے گی پھر پھولوں سے سجی ہوئی گاڑی میں میر تمہیں وہاں سے خود پک کر لے گا. حاشر کے بتانے پر عزین خوشی سے اچھل پڑی. سر آپ کو قسم ہے. سچ بول رہے ہیں یا مذاق کر رہے ہیں …… ؟؟ عزین نے حاشر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اپنے سر پہ رکھا تو وہ چیخ پڑا لڑکی پاگل ہو گئی ہو. ابھی ایکسیڈنٹ ہونے لگا تھا. چھوڑو میرا ہاتھ میں کیوں تم سے جھوٹ بولوں گا …..؟ ؟ مجھے میر نے یہی سب کرنے کا بولا ہے. حاشر نے ناراض نظر ڈالتے ہوئے جواب دیا سر آپ مجھ سے یوں ناراض نہیں ہو سکتے. اب میں آپ کی صرف اسسٹنٹ نہیں بلکہ بھابھی بھی ہوں. وہ بھی انتہائی خوفناک دوست کی بیوی عزین نے نقل اتارتے ہوئے آخر میں قہقہہ لگایا تو حاشر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ گئی
عزین مجھے تمہاری فکر ہے. اپنا خیال رکھنا. حاشر نے پارلر کے باہر گاڑی روکتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو وہ ہنس دی.
سر آپ تو مجھ سے ایسے ہمدردی کر رہے ہیں جیسے آپ کے دوست اپنی بیوی کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں. عزین کہتی ہوئی گاڑی سے باہر نکل آئی.
کچھ ایسا ہی ہے حاشر جواب دیتا گاڑی موڑنے لگا سر یہ کیا بات ہوئی. آپ اس طرح ادھوری بات چھوڑ کے نہیں جا سکتے. عزین نے حاشر کی گاڑی کے آگے کھڑے ہوتے ہوئے کہا عزین تمہارے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے. میر ابھی آتا ہی ہوگا اور اسے انتظار کرنے کی عادت نہیں ہے. چلو شاباش اندر جاؤ. باقی کی باتیں بعد میں حاشر کو اپنے بولنے پر خود ہی افسوس ہوا.
🎭🎭🎭🎭
بلیک تھری پیس سوٹ پہنیں وہ بالوں کو نفاست سے سیٹ کرنے میں مست تھا اور حیرت کی یہ بات تھی کہ بڑے عرصے بعد آج وہ گنگنا بھی رہا تھا. گل اسے بہت خاموشی سے نوٹ کر رہی تھی.
کیسا لگ رہا ہوں …… ؟؟ اپنے اوپر پرفیوم کی بوتل چھڑکتے ہوئے میر نے گل سے پوچھا
میرا نہیں خیال میر کہ تمہیں اس سوال کی ضرورت ہے. تم اچھے سے جانتے ہو کہ تم کیسے لگ رہے ہو …..؟ ؟ گل کے جواب پر میر مسکراتا ہوا اپنی واچ پہننے لگا
آپ کبھی میری تعریف نہیں کرتیں مگر مجھے یقین ہے کہ جلد ہی وہ دن آنے والا ہے جب آپ نہ صرف میری تعریف کریں گی جبکہ مجھے اتنا کہہ کر میر گل کو دیکھنے لگا
لگتا ہے آج بہت خاص دن ہے. تبھی تم آغا جان کی واچ پہن کر جا رہے ہو. گل کی نظر جیسے ہی واچ پر پڑی وہ پوچھ بیٹھی.
آپ خود ہی تو ہر وقت کہتی رہتی تھی کہ آپ کو اس گھر میں رونق چاہیے. تو یقین مانیں کہ ایک انتہائی رونق لگانے والا پیس لینے جا رہا ہوں. میر کا لہجہ نرم تھا جس پر گل چونکی
میں سمجھی نہیں ……. ؟؟ گل نے نا سمجھی سے میر کی طرف دیکھا
گل آپ اچھے سے سمجھ گئی ہیں صرف ناسمجھی کی ایکٹنگ کر رہی ہیں. میر نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا
میر میں واقع ہی نہیں سمجھی تم کہاں جا رہے ہو اور کس رونق کی بات کر رہے ہو ……. ؟؟ اب کی بار قدرے اونچی آواز میں گل نے میر سے پوچھا تو وہ ہلکا سا مسکرا دیا
میں اپنی دلہن لینے جا رہا ہوں. دوسرے الفاظ میں آپ کی سوتن آ رہی ہے. اگر آپ نے اس کمرے کی ڈیکوریشن پر نظر دوڑائی ہوتی. تو آپ کو یہ سوال پوچھنے کی ضرورت نہ پڑتی. میر نے گلاب اور موتیے کےپھولوں سے بیڈ کی ڈیکوریشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا تو گل دنگ رہ گئی.
کون لڑکی ہے
کیسی ہے کیا کرتی ہے تم نے مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا …… ؟؟ میر، گل بے یقینی کی کیفیت میں تھی.
میرے آفس میں کام کرتی ہے
پیشے کے اعتبار سے وکیل ہے _ جھوٹ بولنا اس کی عادت ہے میری طرح اس کا کوئی آگے پیچھے نہیں ہے ہاں اپ کی طرح ایک عدد منگیتر ضرور رکھتی ہے اور کچھ…..؟ ؟ میر نے گل کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے وضاحت دی تو وہ نگاہ چرا گئیں. تم مجھے بتا دیتے تاکہ میں اپنا سامان اپنے روم میں شفٹ کر لیتی. چلو کوئی بات نہیں تمہارے آنے تک روم خالی کر دیتی ہوں. گل نے فورا بات بدلی میرے خیال سے یہ روم اتنا بڑا ہے کہ تین لوگ آرام سے اس میں رہ سکتے ہیں اور اگر تین نہیں رہ سکتے تو دو کے لیے تو بالکل مناسب ہے. ویسے بھی اسے میں آپ کے لیے لا رہا ہوں. اپنے لیے نہیں لہذا آپ کی جو چیز جہاں پڑی ہے. اسے وہاں ہی رہنے دیں کیونکہ آپ اس کمرے سے کہیں نہیں جا رہیں. میر کہتا ہوا جھکا اور گل کے ماتھے پر بوسہ دیتا باہر نکل گیا جبکہ گل شاکڈ تھی. 🎭🎭🎭🎭 ماجد جیسے ہی گاؤں میں داخل ہوا. اسے ایسے لگا کہ وہ اس جگہ پر پہلے بھی آ چکا ہے یا اس نے ایسی جگہ پہلے بھی کہیں دیکھی ہے. عجیب انسیت سی محسوس ہوئی اسے ان کھیتوں اور گلیوں سے لوکیشن کو فالو کرتا وہ آگے بڑھ رہا تھا.
بڑی ہی عجیب بات ہے. آج تک میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا. میں جس راستے پہ قدم رکھتا ہوں. اس راستوں کا مجھے پہلے سے علم ہوتا ہے. میرے اندازے کے مطابق یہاں کچھ دور فاصلے پر ایک بیری کا درخت ہونا چاہیے. ماجد نے اپنے آپ سے کلام کرتے ہوئے قدم بڑھائے. کچھ دور چلنے پر اسے کوئی بیری کا درخت نظر نہ آیا. تو اس کے دل میں سکون اترا.
شکر ہے ورنہ میں تو ڈر ہی گیا تھا مگر یہاں سے کچھ فاصلے پر دکانیں بھی ہونی چاہیے. ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اسے اپنے الٹے ہاتھ چند دکانیں دکھائی دی. تو ساتھ ہی جیسے ماضی کے جھروکے سے کچھ آوازیں بھی آنے لگیں.
ماجد مجھے ایسے لگتا ہے جیسے اس جگہ پر کسی چیز کا سایہ ہے. میرے ساتھ کبھی پہلے ایسے نہیں ہوا. ماجد نے رک کر کھڑے ہوتے ہوئے اپنے سر کو دبایا.
پتر کیا مسئلہ ہے. کس سے ملنا ہے. لگتا ہے شہر سے آئے ہو …… ؟؟ ادھر آؤ، کچھ ٹھنڈا پی لو. ایک دوکان پر بیٹھے ضعیف سے بزرگ نے اسے آواز دی تو وہ ان کی سمت دیکھنے لگا شکل اور آواز دونوں ہی جانب پہچانے تھے.
بیٹھو بیٹا بیٹھو. سفر کی وجہ سے لگتا ہے تھکاوٹ ہو گئی ہے. کس کے مہمان ہو میرا مطلب کہاں جانا ہے …… ؟؟ بزرگ نے محبت سے کہتے ہوئے جوس کھول کر ماجد کے آگے کیا
بابا جی چند دنوں پہلے یہاں پر ایک بندہ آیا تھا. مجھے اس سے ملنا ہے. ماجد نے گلا صاف کرتے ہوئے غازی کا پوچھا
اچھا اچھا وہ جو ماسی پھلاں کا بیٹا ملا ہے. سارے لوگ ہی اس سے ملنے جا رہے ہیں. بھئی یہ تو معجزہ ہی ہو گیا. ہم لوگ تو سمجھے تھے سیلاب کے پانی میں ڈوب کے مر گیا ہے. مگر جسے اللہ رکھے _
بزرگ اپنی ہی ٹون میں بولتے جا رہے تھے جبکہ ماجد بہت غور سے ارد گرد کی چیزوں کو دیکھ رہا تھا
بابا جی یہاں کچھ عرصہ پہلے ایک بیری کا درخت نہیں ہوتا تھا. جس کے نیچے عموماً بچے سکول سے چھٹی کے بعد بیٹھ کے بنٹے کھیلتے تھے. اچانک ماجد کو پتہ نہیں کیا سوجی کے وہ بزرگ بابا سے پوچھ بیٹھا جبکہ بزرگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے
پتر تو کون ہے ….. ؟؟ یہ بات تو بہت پرانی ہے. بزرگ بابا نے اپنی عینک ٹھیک کرتے ہوئے بہت غور سے ماجد کے خد و خال دیکھے
بڑی ہی عجیب سی بات ہے. جب سے اس گاؤں میں آیا ہوں. مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں یہاں پہلے بھی آیا ہوں حالانکہ میں کبھی زندگی میں کسی گاؤں نہیں گیا
ماجد نے عجیب گھبراہٹ کے عالم میں جوس رکھتے ہوئے بابا کو جواب دیا اور اٹھ کر ایک سمت کو چل پڑا.
کیسے کیسے نوٹنکی باز آ جاتے ہیں. جوس کے پیسے نہ دینے پڑیں تو ڈرامے کر رہا ہے. بزرگ نے ماجد کی پشت کو دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا.