Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
کیا میں اندر آ سکتا ہوں ……. ؟؟ حاشر نے آفس میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا تو میر نے اسے نظر اٹھا کر دیکھا
میرے خیال سے تم اندر آ چکے ہو. اس لیے اب یہ پوچھو کہ کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں …… ؟؟ میر نے پن ہاتھ میں گھماتے ہوئے حاشر کی طرف دیکھا تو وہ مسکراتے ہوئے چیئر پر بیٹھ گیا.
بہت شکریہ _ حاشر نے ٹائی سیٹ کرتے ہوئے میر کو دیکھا جو اسے گھور رہا تھا. کیا بات ہے آج کل تم نے دیکھنا کم اور گھورنا زیادہ شروع کیا ہوا ہے. گھر میں سب خیریت ہے نااااا حاشر نے ٹیبل پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے فرینڈلی انداز میں پوچھا تو میر نے صرف سر ہلایا
اس کا مطلب میں یہ سمجھوں کہ گھر میں خیریت نہیں ہے. رائٹ _ حاشر نے میر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو میر نے مسکراتے ہوئے پین ٹیبل پر پھینک دیا اور خود چیئر ساتھ ٹیک لگا کر جھولنے لگا یار تیری اسسٹنٹ بڑی عجیب چیز ہے. مجھے اس کی سمجھ تو نہیں آئی مگر اس کی باتیں سمجھ آنے لگی ہیں. میر کی بات پر حاشر نے مسکراتے ہوئے ٹیبل سے پن اٹھایا میں نے تجھے کہا تھا نا کہ یہ تیرے بہت کام آئے گی. اس کے دماغ میں بہت کچھ چلتا رہتا ہے وہ بھی ایک ساتھ حاشر نے سامنے پڑے پیپرز پر دائرے بنانا شروع کیے.
میں تقریبا روز ہی کیمروں کی فوٹیج دیکھتا ہوں. خاص طور پر اپنے کے کیمرے کی لیکن اتنی عجیب بات ہے کہ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ میرے کیمرے کی فوٹیج کو فکس کیا گیا ہے وہ مخصوص ویڈیو بار بار دکھا رہا ہے.
میں سمجھا کہ شاید میرے کمرے میں کوئی نہیں ہوتا تو یہی آج کی ویڈیو ہے مگر کل رات عزین نے مجھے ہلا کر رکھ دیا جب اس نے کہا کہ اپنے کمرے کی فوٹیج چیک کریں.
تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہفتے بعد میرے کمرے کی فوٹیج تبدیل ہوتی ہے. پوچھنے پہ پتہ چلا کہ گل نے فوٹیج کو فکس کروایا ہے.
جو وجہ اس نے بتائی مجھے اس پر بالکل بھی یقین نہیں. میرے کمرے کی فوٹیج کو فکس کرنے کی یقیناً کوئی بہت بڑی اور خاص وجہ ہے. اب مجھے یقین ہوتا جا رہا ہے کہ گل بھی ان لوگوں ساتھ ملی ہوئی ہے حالانکہ میرا دل نہیں مانتا.
اپنی بات کے آخر میں میر نے جھٹکے سے کرسی چھوڑی اور ونڈو پاس کھڑا ہو گیا. جیسے اسے سانس لینے میں دشواری ہو یا یہ بات کہتے ہوئے اس کے دل کو بہت بری لگی ہو.
تو اب مسئلہ کیا ہے …..؟ ؟ حاشر کو اس سارے قصے میں سمجھ نہیں آئی کہ کس بات نے میر کو اتنا ڈسٹرب کیا ہے اور کیوں …..؟ ؟
یار جو فوٹیج کل کی میں نے دیکھی ہے. اس میں عزین اپنے کمرے میں یعنی میرے کمرے میں بیٹھی تھی. کچھ دیر بعد گل آئی دونوں نے کچھ باتیں کی اور وہ چلی گئی. میر نے کہتے ہوئے ونڈو کی بلائنڈ سائیڈ پر کی تو سورج کی روشنی آفس میں داخل ہوئی.
تو اس میں کیا خاص ہے …… ؟؟ حاشر کے پوچھنے پر میر نے اسے مڑ کر حیرت سے دیکھا
تم نے میری بات پر شاید غور نہیں کیا کہ میں نے کیا کہا ہے …… ؟؟ میر نے واپس اپنی کرسی کی طرف مڑتے ہوئے کہا
میں نے تمہاری بات بہت غور سے سنی ہے. تم نے یہی بولا ناااااا کہ عزین بیڈ پر بیٹھی تھی. گل کمرے کے اندر آئی. دونوں نے کچھ باتیں کی اور پھر گل چلی گئی. اس ساری کہانی میں مجھے بتاؤ کہ عجیب کیا ہے …..؟ ؟ حاشر نے پن میر کی طرف پھینکتے ہوئے پوچھا تو میر مسکرا دیا.
پتہ نہیں کس الو کے پٹھے نے تجھے وکالت کی ڈگری دی ہے اور تو کیسے اتنا اچھا وکیل بن گیا ہے. جب تجھے میری بات ہی سمجھ نہیں آرہی. میں نے کہا ہے کہ گل کمرے میں آئی اور پھر چلی گئی. اس ساری کہانی میں “گل” ہی عجیب ہے. میر نے سر نفی میں ہلاتے آفس کی دیوار ساتھ لگی ایل ای ڈی ان کی.
اس فوٹیج کو ذرا غور سے دیکھ میر کے کہنے پر حاشر نے مڑتے ہوئے ایل ای ڈی کی طرف دیکھا. جہاں عزین اور گل کی فوٹیج چل رہی تھی. اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آئی. حاشر نے فوٹیج کے ختم ہونے پر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بے بسی سے میر کی طرف دیکھا تو میر نے فوٹیج بند کر دی. تیرے سے کئی گناہ زیادہ تیز تیری وہ اسسٹنٹ ہے. جس کی وجہ سے میں کل رات سو نہیں سکا. میر نے اپنی کرسی پہ جھولتے ہوئے کہا سو تو تُو کسی اور وجہ سے نہیں سکا ہوگا اور الزام مجھے دے رہا ہے. سیدھی طرح بتا دے کہ اس فوٹیج میں کیا ہے …..؟ ؟ حاشر نے جان چھڑانے والے انداز میں پوچھا پتہ نہیں تو اتنی فضول باتیں کیسے کر لیتا ہے. میری یہاں نیند حرام ہے اور تجھے مذاق سوجھ رہا ہے. اگر تو اس فوٹیج کو غور سے دیکھتا تو تجھے پتہ چل جاتا کہ خاص کیا ہے …..؟ ؟ بہرحال کیونکہ اب تیرا دماغ کام نہیں کر رہا تو میں بتا دیتا ہوں کہ اس فوٹیج میں خاص بات گل کی ویل چیئر تھی.میں نے گل کے لیے یہ چیئر باہر سے منگوائی تھی اور یہ بیٹری پر چلتی ہے مگر جس وقت گل کمرے میں داخل ہوئی اس کی بیٹری چیئر ساتھ نہیں تھی. مطلب صاف ظاہر ہے کہ گل کو اس چیئر کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تبھی اس نے بیٹری چارج نہیں کی. وہ خود چل کر کمرے تک آئی ہوگی اور کمرے کے قریب وہ چئیر پر بیٹھ گئی ہوگی. یہ میں نے اندازہ لگایا ہے کیونکہ مجھے کیمروں کی ساری فوٹیج نہیں ملی اسی لیے میں نے کہا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کی فوٹیج مجھے دی جائے. جو بات مجھے پچھلے ایک سال سے معلوم نہیں ہو سکی. وہ ایک دن میں تیری اسسٹنٹ نے مجھے بتا دی حالانکہ میں نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا تھا اور اس نے جو دوسری بات کی وہ پہلی بات سے بھی زیادہ عجیب ہے. میر کے بتانے پر حاشر نے حیرت سے میر کی طرف دیکھا جیسے اسے ان باتوں پر یقین نہیں آ رہا ہو. مجھے اکثر شک پڑتا تھا کہ میں جس طرح اپنی چیزوں کو کمرے میں چھوڑ کر جاتا ہوں واپس آنے پر وہ وہاں نہیں ہوتی لیکن کیونکہ فوٹیج میں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا اور میرا اپنا بھی یہی ایمان تھا کہ میرے کمرے میں کوئی نہیں آتا. تو میں مطمن ہو جاتا تھا کہ شاید میں ہی بھول گیا ہوں مگر عزین کا کہنا یہ ہے کہ میری چیزوں کو میرے علاوہ بھی کوئی استعمال کرتا ہے. مثلا تیری ایسی کون سی چیز ہے. جو گل کے کام آ سکتی ہے یا تیرے کسی بھی دشمن کے کام آ سکتی ہیں جبکہ کمرے میں تو اپنی کوئی خاص چیز نہیں رکھتا. حاشر کے کہنے پر میر مسکرایا یہی تو عجیب ہے اس کا کہنا یہ ہے کہ کوئی میرا “پرفیوم” استعمال کر کے پورے گھر میں گھومتا ہے. اب سوچنے والی یہ بات ہے کہ میرا پرفیوم کوئی کیوں استعمال کرے گا اور کس مقصد کے لیے میر نے حاشر کے آگے اپنا مسئلہ رکھا.
میرے دماغ کی دہی مت بنا اور عزین سے ہی پوچھ لے. وہ تجھے مجھ سے بہتر جواب دے گی. ویسے برا مت منانا مگر میرے خیال سے تیرے پیچھے ان دونوں کے
علاوہ ایک تیسرا شخص بھی موجود ہے. یہ کام دو لوگوں کا نہیں ہو سکتا. حاشر کے کہنے پر میر نے اس کی طرف دیکھا
یار ایسے تو مت دیکھ، مجھے عجیب سا لگتا ہے. حاشر نے میر کے دیکھنے پر اسے ٹوکا
تجھے مجھ سے یقیناً شرم آتی ہو گی میر نے ایک آنکھ ونک کرتے ہوئے پوچھا شرم نہیں آتی، مجھے تجھ سے ڈر لگنے لگتا ہے. پتہ میر جب تو اس طرح کسی چیز کو گھور کر دیکھتا ہے تو لگتا ہے اس چیز کو آگ لگ جائے گی. حاشر کے جواب پر میر ایک دم سنجیدہ ہوا. حاشر میں نے سوچا ہے کہ میں اب اپنی پالیسی بدل دوں. میں اب عزین کو جیل نہیں بھیجوں گا بلکہ سردار بیگم کو اپنے پاس بلا لوں گا. کیا تیرا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا …. ؟؟ حاشر کو میر کی بات سخت بری لگی محبت اور دشمنی میں سب جائز ہے. تُو فکر نہ کر سب ٹھیک ہو جائے گا. ویسے ایک گڈ نیوز بھی ہے. اب کی بار میر کے چہرے پر حقیقی خوشی تھی. تو باپ بننے والا ہے حاشر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں جبکہ میر نے پیپر ویٹ پورے غصے سے حاشر کی طرف پھینکا جسے اس نے کیچ کر لیا
غازی مل گیا ہے اور تو جانتا ہے کہ میری زندگی میں اُس کی کیا اہمیت ہے. میر کے بتانے پر حاشر نے سکھ کا سانس لیا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا.
ایک بات کہوں اگر تو ناراض نہ ہو تو حاشر نے پیپر ویٹ دوبارہ ٹیبل پر رکھتے ہوئے فرمانبرداری سے پوچھا نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں تو اس وقت بکواس کرنے کے موڈ میں ہیں لیکن میں سننے کے موڈ میں نہیں ہوں. مجھے بہت کام کرنا ہے. میر نے اپنے آپ کو مصروف ظاہر کرتے ہوئے کہا تو حاشر منہ بناتا چل دیا. 🎭🎭🎭🎭 کون ہوگا اس وقت گھنٹی کی آواز سنتے ہی زری نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
میری فلیٹ پر سوائے ماجد کے کوئی بھی نہیں آتا. اس لیے تم بے فکر ہو کر دروازہ کھول دو. غازی نے پکوڑوں سے انصاف کرتے ہوئے کہا تو زریں دروازہ کھولنے چل دی. جب کہ گھنٹی مسلسل بج رہی تھی شاید جناب گھنٹی سے انگلی اٹھانا بھول گئے تھے.
یہ تمہارا “میکہ” ہے جو جب دل کیا منہ اٹھا کر آگے. یوں صبح صبح کسی کے گھر جانا ٹھیک لگتا ہے. زری نے دروازہ کھولتے ہی بڑے پیار سے پوچھا تو وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا
شکر کرو کہ یہ گھنٹی بیچاری بے جان ہے. ورنہ جس طرح تم نے اس کو دبا رکھا ہے اب تک وہ جہاں فانی سے کوچ کر چکی ہوتی. اس کی جان چھوڑ دو تاکہ ہمارے کانوں کو بھی سکون ملے. زری نے ماجد کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا تو ماجد نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کیا.
ماجد کچھ شرمندہ شرمندہ سا اندر داخل ہوا تو زریں نے دروازہ بند کیا. ماجد کی طرف دیکھتے ہی غازی کو ہنسی آگئی مگر وہ خاموشی سے پکوڑوں ساتھ انصاف کرتا رہا.
تاریخ گواہ ہے کہ اس فلیٹ پر کبھی مجھے عزت نہیں ملی. ماجد منہ بناتا غازی کے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گیا.
نصیب اپنے اپنے _ غازی نے پلیٹ ماجد کے آگے کی. نصیب کا تو پتہ نہیں مگر پکوڑے اپنے اپنے ماجد نے کہتے ہوئے پلیٹ سے پکوڑا اٹھایا
یہ ہوتا ہے شادی کا فائدہ کم از کم بندے کو موسم کی مناسب سے کھانے تو مزے مزے کے ملتے ہیں. آج جب میں نے تیرے فلیٹ پر پہنچا تو خوشبو باہر تک آ رہی تھی. ماجد نے پکوڑا کھاتے ہوئے تعریف کی تبھی زریں ٹرے میں دو کپ چائے لے آئی.
شکریہ بھابھی زری کی طرف دیکھتے ہوئے ماجد نے کہا تو زری کے ایک دم تیور بگڑ گئے. میں نے کتنی بار منع کیا ہے کہ یہ بھابی شابی مجھے مت کہا کرو. میرا نام زری ہے اور مجھے اپنا نام بہت پسند ہے. زری نے گردن اکڑاتے ہوئے ماجد کی طرف دیکھا تو وہ خاموش ہو گیا. پارٹ ٹائم بھیک بھی مانگتے ہو حالانکہ تم پولیس میں ہو. تم لوگوں کو تو بھیک مانگنے کی خاصی ٹرینگ ہوتی ہے. سارا دن تم لوگوں کا یہی کام ہوتا ہے. پھر الگ سے اپنا بزنس کرنے کا مقصد زری نے ماجد کے ہاتھ میں سٹک دیکھتے ہوئے پوچھا تو اسے پھندا لگا
بھلا میں کیوں بھیک مانگوں گا. یہ تو آپ کے شوہر نامدار نے منگوائی ہے. ماجد نے سٹک غازی کی طرف رکھتے ہوئے جواب دیا
تمہیں اس کی کیا ضرورت ہے. اس ٹوٹے پاؤں ساتھ بھی تم دن میں کتنے چکر کچن کے لگا چکے ہو.
ارام
آرام تو تمہاری جان کو ہے نہیں، اوپر سے سٹک بھی منگوا لی ہے. اب ٹک ٹک کی آواز سے میرا دماغ خراب کرو گے. زریں کہتی وہاں سے کمرے کی طرف چل دی.
تمہاری بیوی کو میرا آنا اور یہ سٹک لانا دونوں ہی بہت برے لگے ہیں. ماجد نے بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
بے فکر رہو اسے میں بھی بہت برا لگتا ہوں. اس لیے اس کی باتوں کو سیریس لینے کی ضرورت نہیں ہے. کھاؤ پیو اور عیش کرو باقی تمہارے بارے میں جو بھی سوچتا ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دو. غازی نے کپ پکڑے تسلی دی.
ایک تیرا فلیٹ تھا جہاں میں دھڑلے سے جب دل کیا آ جاتا تھا مگر اب لگتا ہے کہ سوچ کے آنا پڑا کرے گا.
ماجد کی بات پر غازی نے کندھے چکائے
مرضی ہے تیری، میں نے تیرے آنے پہ کوئی پابندی نہیں لگائی. بس یہ بات یاد رکھنا. غازی کی بات پر ماجد نے سر ہلایا پھر دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی
تیری اس سے بات ہوئی کیا کہتی ہے …..؟ ؟ غازی نے اپنے اور اس کے درمیان چھائی خاموشی کو توڑا
وہی کہتی ہے جو تو کہتا ہے. تم دونوں پر میر کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے. اب ایسے میں میں کیا کروں …… ؟؟ تم دونوں کے بغیر میرا گزارا بھی نہیں اور میں تم دونوں ساتھ گزارا کر بھی نہیں سکتا. ماجد نے بچارگی سے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے چائے کا کپ پکڑا
خیر چھوڑ یہ بتا کہ میر نے تجھے اس حالت میں فارم ہاؤس پر کیوں بلایا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ تجھے چوٹ لگی ہے.
ماجد نے اپنا کپ پکڑتے ہوئے غازی کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیا
اپنی نئی نویلی دلہن کو قتل کرانے کے لیے _ جیسے ہی غازی کے منہ سے یہ جملہ نکلا ماجد کے منہ سے چائے پھوار کی صورت باہر نکلی. 🎭🎭🎭🎭 کبھی کبھی انسان کا اپنی ہی گھر جانے کو دل نہیں کرتا. گھر تو وہ جگہ ہوتی ہے جہاں انسان کو سکون نصیب ہوتا ہے. وہ اس کی پناہ گاہ ہوتی ہے مگر جب اپنا ہی گھر اپنے لیے مقتل بن جائے تو وہاں جانے کو کس کا دل کرے گا …… ؟؟ گاڑی میر ویلا کی طرف رواں دواں تھی مگر آج میر کا دل بہت اداس تھا. گل تو ایسی نہیں تھی. وہ تو بہت محبت کرنے والی، خیال رکھنے والی، دوسروں کو سمجھنے والی اور ان کی پریشانی محسوس کرنے والی تھی. پھر گل کو آخر کیا ہوا ….. ؟؟ میں تو اپنی ساری باتیں اس سے کر لیتا تھا. اسے یقیناً کسی نے میرے خلاف بھڑکایا ہوگا اور یہ کام غلام علی تو کر نہیں سکتا. اس کا اتنا دماغ نہیں ہے. حاشر ٹھیک کہتا ہے ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا بھی ہے مگر وہ تیسرا کون ہے …… ؟؟ میں جتنی جلدی اس کیس سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہوں اتنا ہی میں اس میں الجھتا جا رہا ہوں. یہ کیس نہیں ہے بلکہ دلدل ہے. سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا ہو رہا ہے…… ؟؟ میں تو گل کو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ جب آپ کے پیارے آپ سے جدا ہو جائیں یا کوئی جدا کر دے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے مگر میں نے یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ گل میرے ساتھ بے وفائی کرے گی. اگر وہ مجھے مارنا چاہتی ہے تو وہ پھر میرے آگے آئی کیوں. اس نے شیر علی کی گولیاں مجھے لگنے کیوں نہیں دی اور وہ ساری تسلیاں دینا، میرا خیال رکھنا کیا وہ سب ایک ڈرامہ تھا…..؟؟ میر نے اپنی کنپٹی دباتے ہوئے سوچا تبھی گاڑی میر ویلاز میں داخل ہوئی. اللہ کرے آج گل سے سامنا نہ ہو. میں فی الحال اسے دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ بہت بدظن ہوں کہیں بدتمیزی نہ کر بیٹھوں. میر نے دل میں سوچتے ہوئے لاؤنچ میں قدم رکھا تو سامنے ہی گل کو عزین سے باتیں کرتے ہوئے پایا. کیسی ہیں …… ؟؟ زبردستی کی مسکراہٹ منہ پر سجائے میر نے گل سے پوچھا کیوں کہ یہ اس کی روٹین تھی. میں تو ٹھیک ہوں مگر آج تم بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو. خیریت ہے. پریشان ہو، کیا پریشانی ہے …..؟ ؟ گل کے پوچھنے پر میر اس سے یک ٹک دیکھے گیا یہ عورت مجھے کتنے اچھے سے جانتی ہے. میرے چہرے سے پہچان لیتی ہے کہ میں آج پریشان ہوں جبکہ میں نے ایسا کچھ کیا نہ کہا. میر دل میں سوچتے ہوئے سر نفی میں ہلانے لگا تم چینج کر لو میں کافی بھجواتی ہوں. گل نے کہتے ہوئے مسکرا کر میر کی طرف دیکھا جبکہ عزین دونوں لو برڈز کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی. منافقت ان دونوں پر ختم ہوتی ہے بلکہ “خود کشی” کر لیتی ہے. عزین نے دل میں سوچا آپ کافی خود بنا کر بھیجے گا. میرا کسی کے ہاتھ کی پینے کو دل نہیں کر رہا. میر کہتا ہوا عزین کی طرف مڑا. تم میرے ساتھ کمرے میں آؤ. مجھے تم سے کچھ کام ہے. جیسے ہی میر نے عزین کو مخاطب کیا گل کے ماتھے پر کئی بل نمودار ہوئے. بیٹھو کمرے میں داخل ہوتے ہی میر نے عزین کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود دروازہ بند کرنے لگا
لگتا ہے عزین ضرور کوئی بڑی گڑبڑ ہے ورنہ یہ شخص اتنا رومینٹک نہیں کہ اسے رومنس کرنے کے لیے دروازہ بند کرنا پڑے. میرے خیال سے پٹائی کا وقت ہوا چاہتا ہے. عزین نے دل میں سوچتے ہوئے میر کی طرف دیکھا جو اب مڑ رہا تھا.
دیکھو حاشر کی اسسٹنٹ!!! مجھے حاشر نے کہا ہے کہ میرے پیچھے ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرا شخص بھی موجود ہے. تم مجھے بتاؤ تمہارے خیال سے وہ تیسرا شخص کون ہے …… ؟؟ میر نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
آپ صرف یہ پوچھنے کے لیے آفس اتنی صبح صبح تیار ہو کر گئے تھے کہ آپ کے پیچھے ایک تیسرا شخص بھی ہے. یہ بات تو آپ مجھ سے بھی پوچھ سکتے تھے میں اپ کو بستر پر ہی بتا دیتی. عزین کی بات پر میر نے اسے ایک آبرو اچکا کر دیکھا جب کہ لبوں پر مسکراہٹ تھی.
میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ مجھ سے پوچھ لیتے اتنی بات تو مجھے بھی سمجھ آرہی ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا بھی ہے. عزین کو اپنے جملے کی نزاکت کا احساس ہوا تو فورا وضاحت دی
اور وہ تیسرا کون ہے …… ؟؟ اب کی بار میر نے سنجیدگی سے عزین کی طرف دیکھا
یہ تو آپ بہتر جانتے ہیں. ایسا کون سا آپ کی کہانی کا کردار ہے جو اچانک غائب ہو گیا ہو مگر اس کی آپ سے نہ بنتی ہے ہو. عزین کے کہنے پر میر نے پر سوچ انداز میں اسے دیکھا
ایسا کردار تو صرف ایک تھا اور وہ مر چکا ہے. میر نے خود کلامی کرنے والے انداز میں جواب دیا
کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ واقعی ہی مر گیا ہے. ہو سکتا ہے کسی نے آپ سے جھوٹ بولا ہو اور وہ زندہ ہو. عزین کے سوال پر چونک کر میر نے اس کی طرف دیکھا
ناممکن ایسا ہو ہی نہیں سکتا. وہ کردار شیر علی کا تھا. میں نے اسے خود گولیاں ماری تھیں. اس کے قتل کے الزام میں ہی تو میں جیل گیا تھا. وہ زندہ ہو ہی نہیں سکتا.
میر نے تقریباً چیختے ہوئے کہا
ریلیکس اتنا ہائپر ہونے کی ضرورت نہیں ہے. ہو سکتا ہے اس کردار کے علاوہ بھی کوئی ہو جو فی الحال آپ کی نظر سے پوشیدہ ہے مگر ہو وہ آپ کا دشمن عزین کی بات پر میر اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا جیسے خود کو نارمل کر رہا ہو. تبھی دروازے پر دستک ہوئی. میرے خیال سے آپ کی کافی آ گئی ہے. جسے پینے سے آپ کی طبیعت کافی بہتر ہو جائے گی اگر بہتر نہ بھی ہوئی تو سکون کی نیند ضرور آئے گی. اگر آپ اجازت دیں تو میں دروازہ کھول دوں. عزین نے کہتے ہوئے دروازے کی طرف قدم بڑھائے کیوں کہ میر سر ہلا رہا تھا. نوکر کے ہاتھ سے کافی پکڑتے عزین نے دوبارہ دروازہ بند کر دیا اور کافی میر کے آگے رکھ دی. ایک اور بات بتاؤں اگر آپ کے سر میں زیادہ درد نہ ہو تو…… ؟؟ عزین نے ہچکچاتے ہوئے میر سے کہا جو کافی کا کپ پکڑے اسے غور سے دیکھ رہا تھا ہممممم میر نے گھونٹ بھرتے ہنکار بھری.
آپ کے کمرے کا کیمرہ گل کے موبائل ساتھ کنیکٹڈ ہے. عزین کی بات پر میر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں.
مجھے لگتا ہے کہ میں ہاٹ ٹیک سے مروں گا اور یہ اٹیک مجھے صرف تمہاری باتوں کی وجہ سے آئے گا. میر نے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ رکھی. جبکہ عزین نے کندھے اچکا دئیے.
میرا نہیں خیال کہ میر طلال کا دل اتنا کمزور ہے کہ میری باتوں سے فیل ہو جائے. عزین کے جواب پر میر مسکراتا اٹھ کھڑا ہوا.
ذہین ہو مگر افسوس کے لالچی ہو. میر داد دیتا واش روم کی طرف بڑھنے لگا کہ عزین کی آواز پر پلٹا
میں اسے تعریف ہی سمجھو گی ___ عزین کا چہرہ شرارت سے چمک رہا تھا.
میں نے بھی تعریف ہی کی ہے. میر آنکھ مارتا پلٹا
“حسن یہ ہے کہ دل ربا ہو تم
عیب یہ ہے کہ بے وفا ہو تم”
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.
