Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
ہاں تو جناب حاشر صاحب!!! اب آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں …..؟ ؟ میر کی آنکھیں اور اس کا لب و لہجہ سوالیہ تھا.
میں کیا کہہ سکتا ہوں اس بارے میں، ہر شخص اپنی مرضی کا مالک ہے اور وہ کوئی ریموٹ تو ہے نہیں کہ میرے حکم پر چلے. صرف میری اسسٹنٹ ہے. حاشر نے کندھے اچکائے جس پر میر مبہم سا مسکرا دیا.
میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ یہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں انتہائی لالچی ہوتی ہیں. گو کہ مجھے تھوڑا سا ڈاؤٹ تھا کہ شاید یہ لڑکی ویسی نہ ہو مگر _ میر نے نفرت سے سر نفی میں ہلایا. کیا مجھے صرف اس لیے بلایا تھا ……؟ ؟ حاشر نے بیزاری سے پوچھا نہیں تمہیں اس لیے بلایا تھا کہ تم اپنی اسسٹنٹ کی شادی کا انتظام کر لو. آخر کو تم دونوں طرف کے میزبان بھی ہو اور مہمان بھی _ میر نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے بتایا انداز تپانے والا تھا. یہ طنز ہے یا مذاق ……. ؟؟ حاشر کو برا لگا نہ طنز ہے نہ مذاق بلکہ ذمہ داری ہے. میں چاہتا ہوں کہ اس جمعہ کو میرا اور تمہاری اسسٹنٹ کا نکاح ہو جائے تاکہ کھیل شروع ہو. آگے ہی بہت وقت ضائع ہو گیا ہے. میر اب کی بار بہت سنجیدہ تھا. میرے خیال سے تمہیں اس کے گھر والوں سے ایک بار ضرور مل لینا چاہیے کہ اس کے گھر میں کتنے افراد ہیں اور وہ کیا کرتے ہیں ……. ؟؟ حاشر نے کھڑے ہوتے ہوئے مشورہ دیا. اس کے گھر میں کتنے لوگ ہیں مجھے اس سے کیا لگے اور وہ کیا کرتے ہیں یقیناً یہ بھی میرے مقصد کی بات نہیں. ہاں مگر مجھے یہ ضرور پتہ ہے کہ اس کے گھر والا کیا کرتا ہے …..؟ ؟ میر کے بولنے پر حاشر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیا مطلب ہے تمہاری بات کا حاشر دوبارہ بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا
حاشر میرے پاس اتنا فالتو ٹائم نہیں کہ میں تمہیں اپنی ایک ایک بات کی وضاحت دوں. اسی سے پوچھ لو جو بہت ذہین اور قابل ہے. بس نکاح جمعے کو اسی آفس میں ہوگا. میر نے بات ختم کرتے ہوئے اپنا موبائل آن کیا.
گل کو بتاؤ گے اس بارے میں ….؟؟ حاشر نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا
پہلی بات تو یہ کہ میں اس کا خاوند ہوں وہ میرا خاوند نہیں اور دوسرا ہر بندے کا ہر بات جاننا اور بتانا ضروری نہیں ہوتا. میر کا انداز انتہائی مصروفیت والا تھا جیسے اس نے ابھی کوئی بہت ضروری کام کرنا ہو اور وہ حاشر کے سوالوں سے تنگ پڑ رہا ہو.
میر جو بھی کرنا سوچ سمجھ کر کرنا. وہ تو بے وقوف ہے مگر تم سمجھدار ہو. حاشر کو پتہ نہیں کیوں مگر عزین سے ہمدردی ہو رہی تھی.
پتہ نہیں تمہیں کیوں اس لالچی لڑکی سے اتنی ہمدردی ہے جبکہ میرا اصول ہے اگر کوئی کنویں میں گرنا چاہے تو اسے روکو نہیں بلکہ دھکا دے دو تاکہ کام جلدی ختم ہو. میر نے جواب دیتے ہوئے موبائل جیب میں رکھا اور اطمینان سے حاشر کو دیکھنے لگا
چلو ٹھیک ہے. جیسا تمہیں ٹھیک لگتا ہے ویسا کرو. حاشر سمائل کرتا چل دیا.
اگر وہ میرا کام پوری ایمانداری سے کرے گی تو میرا تم سے وعدہ ہے میں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا. حاشر کو اپنے عقب میں میر کی آواز سنائی دی مگر وہ پلٹا نہیں.
اسے بھی یہ بات اچھی طرح سمجھا دینا کہ میں کسی کو معاف نہیں کرتا. لہذا غلطی کرنے سے پرہیز کریں. میر کی آواز پر حاشر سر ہلاتا آفس سے باہر آ گیا.
ہاں غازی کا کچھ پتہ چلا. اس کا پتہ لگاؤ کہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے کہیں جان بوجھ کے چھپ تو نہیں گیا ……؟ ؟ حاشر کے جاتے ہی میر نے موبائل پر کسی کے نام وائس نوٹ چھوڑا.
گل بی بی کھیل اب شروع ہوا ہے. اب مزہ آئے گا. دیکھو کون جیتتا ہے. تم یا میں میرخود کلامی کرنے کے انداز میں بولتا ہوا صوفے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا 🎭🎭🎭🎭 عزین تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے. تم مجھ سے یہ کیا بات کر رہی ہو ……. ؟؟ ماجد کا غصہ سوا نیزے پر تھا. ماجد زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے. وہ مجھے اس سب کے بدلے میں بہت روپیہ پیسہ دے گا. ہم ساری زندگی عیاشی سے گزاریں گے. عزین نے سمجھانا چاہا تمہارا مطلب ہے کہ بے غیرتوں کی طرح میں اپنی منگیتر کو کسی دوسرے کی بیوی بنتا دیکھوں اور چند روپوں کی خاطر خاموش رہوں. ماجد نے حقارت سے عزین کی طرف دیکھا ایک تو میں تم مردوں کی اس نام نہاد غیرتوں سے بہت تنگ ہوں. جب تم مرد دوسروں کی بہنوں ساتھ پیچے لڑا رہے ہوتے ہو تب تمہاری غیرت ڈرائنگ روم میں سو رہی ہوتی ہے اور جب ہماری باری آتی ہے تو یہ جاگ جاتی ہے. ارے واہ! ایسی غیرت کے صدقے عزین نے ہاتھ کے اشارے سے ماجد کی نظر اتاری.
عزین بات بدلنے کی کوشش مت کرو. تم میر کو نہیں جانتی. ماجد کچھ نرم پڑا.
تم میر کو جانتے ہو تو بتا دو. وہ کیسا ہے کیونکہ میں اسے تم سے بہتر جانتی ہوں. عزین کا لہجہ چیلنجنگ تھا.
اس نے اپنی بیوی کو خود معذور کرایا تھا اور اس کی ماں جیل میں سڑ رہی ہے. جو اپنوں کا نہیں بنا وہ کسی کا کیا خاک بنے گا …..؟ ؟
ڈبل قتل کیس میں سزا بھی کاٹ چکا ہے. مگر اپنے ذاتی تعلقات کی وجہ سے باہر آ گیا. کیا تم اپنی زندگی ایک قاتل ساتھ گزارنا چاہتی ہو …… ؟؟
میر ساتھ رہنے کے بعد مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا. ماجد کا لہجہ بے لچک تھا.
ماجد مجھے ان تمام باتوں کا پہلے سے علم ہے. مگر یہ ایک ڈیل ہے. میں اس کی بیوی نہیں بلکہ بزنس پارٹنر ہوں. عزین نے ماجد کا ہاتھ پکڑنا چاہا جسے اس نے جھٹک دیا.
ماجد پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کرو. ہم تھوڑے سے ٹائم میں بہت امیر ہو جائیں گے. عزین کا لہجہ منت بھرا تھا.
اگر تمہیں سونے کے پنجرے میں قید ہونے کا اتنا شوق ہے. تو تمہیں تمہاری قید مبارک ہو. ماجد نے کہتے ہوئے اپنی انگلی میں پہنی سلور رنگ اتار کر ٹیبل پر رکھ دی.
ماجد یہ کیا بدتمیزی ہے …… ؟؟ میں نے کہا نا کہ یہ پیپر میرج ہے. اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور آج کل پیپر میرج کا کتنا فیشن ہے. لوگوں کو اس سے فائدہ ہو رہا ہے.
عزین بی بی!!! اپنے یہ بھونڈے دلائل عدالت میں دینا. میں ان سے مطمئن نہیں ہو سکتا. آج سے میری اور تمہاری راہیں جدا ہے. ماجد نے بینچ سے کھڑے ہوتے ہوئے کالے گلاسس آنکھوں پر لگائے تاکہ عزین اس کے آنسو نہ دیکھ سکے.
ہم ایک بہت اچھے دوست بھی تو ہیں. میں نے تو دوستی کے ناطے تم سے تمام باتیں شیئر کی اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم اتنے پوزیسو ہو تو میں تم سے یہ سب کچھ چھپا لیتی.
زندگی میں پہلی بار سچ بولنے پر نقصان ہوا ہے. کاش جھوٹ کا سہارا لیتی ہے. عزین نے دکھ سے ماجد کی طرف دیکھا جو پارک میں موجود بچوں کو کھیلتا دیکھ رہا تھا.
تم لالچی ہو مگر اتنی زیادہ اس بات کا مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اپنی لالچ کے بھیڑ ہمارے اس رشتے کو بھی چڑھا دو گے. مجھے تم جیسی لالچی دوست کی ضرورت نہیں.
ہو سکے تو کوشش کرنا کہ زندگی میں کبھی دوبارہ تمہارا مجھ سے سامنا نہ ہو. جو وقت گزرا اچھا گزرا اور اللہ کرے کہ تمہارا آنے والا وقت بھی اچھا ہو. جس کی مجھے ایک پرسنٹ بھی امید نہیں ہے.
“Anyway best of luck 4 your future”
ماجد کہتا ہوا رکا نہیں بلکہ سیدھا ایگزٹ ڈور کی طرف چل دیا.
عزین بی بی!!! یہ بے وقوف لوگ کبھی بھی دولت کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکتے. دولت ہی سب کچھ ہے. خیر میں اسے بعد میں سمجھا لوں گی. ابھی غصے میں ہے مان جائے گا.
فلحال تو مجھے یہ سوچنا ہے کہ اس میر ویلاز میں ایسا کیا ہے …… ؟؟ جو لوگوں سے چھپا ہے. عزین کا تجسس بڑھ رہا تھا یہ جان بغیر کہ وہ پھنسنے لگی ہے
🎭🎭🎭🎭
میں تمہارا ساتھ دینے کو تیار ہوں مگر بدلے میں مجھے صرف ایک موبائل فون چاہیے. غازی کی فرمائش پر زریں نے اسے حیرت سے دیکھا
تم موبائل فون کا کیا کرو گے ……. ؟؟ زریں نے آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا
مجھے اپنے گھر والوں کو اپنی خیریت کی طلاع دینی ہے. وہ پریشان ہو رہے ہوں گے. غازی نے چہرے پر مصنوعی پریشانی کی تاثرات لاتے ہوئے جواب دیا
تم نے تو کہا تھا کہ تمہارے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اور نہ ہی تم شادی شدہ ہو تو اطلاع کس کو دو گے کیا محلے والوں کو بتانا ہے جو تمہارے نہ ہونے پر خوش ہوں گے…..؟ ؟ زریں کا جواب غازی کو غصہ دلا دیا
تمہارے اندر سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ تم بکواس بہت کرتی ہو. اگر تم میرے گھر والوں سے میری بات نہیں کراؤ گی تو میں ماسی کو بتا دوں گا کہ میں اس کا بیٹا نہیں ہوں. پہلی بار غازی کا تیر نشانے پر لگا اور زریں کے تاثرات تبدیل ہوئے.
اچھا میں دیکھتی ہوں کہ کس کے پاس موبائل ہے کیونکہ ہمارے گاؤں میں بہت کم لوگوں کے پاس یہ چیز ہے.
زری کے جواب پر غازی کو بہت حیرت ہوئی.
(یہ لوگ کس دنیا میں رہ رہیں ہیں کہ موبائل جیسی نعمت سے ناآشنا ہیں. غازی نے دل میں سوچا)
زرین کہتی دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی تو غازی اسے لاشعوری طور پر دیکھنے لگا. اچھی خاصی پیاری لڑکی تھی. کچھ دیر اسے کام کرتا دیکھتے ہوئے گزری کہ غازی کے ذہن میں ایک سوال ابھرا.
تم شادی کیوں کرنا چاہتی ہو…… ؟؟ میرا مطلب ہے کہ تمہارا گھر ہے. ماسی تم سے اتنا پیار کرتی ہے. یہ سب کچھ ہے. تو تمہیں شادی کا کیا فائدہ ہے. یہاں رہو مزے سے اور عیش کرو. زریں جو اپنے کام میں مشغول تھی غازی کے سوال پر پلٹی اور آہستہ آہستہ اس کے قریب آ کھڑی ہوئی.
تمہارے ہاتھ اور پاؤں کے علاوہ کہیں اور بھی چوٹ لگی تھی میرا مطلب ہے سر وغیرہ پر زری سینے پر بازو باندھے انتہائی سنجیدگی سے غازی کو دیکھ رہی تھی میرے سر پر کوئی چوٹ نہیں لگی. غازی نے زری کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے فورا انکار کیا اچھا تو تم نارمل روٹین میں اتنا گھٹیا سوچ لیتے ہو. زریں کی نظروں میں ستائش تھی. مجھے لڑکیوں کا فری ہونا بالکل پسند نہیں ہے اگر تم نے میری بات کا جواب نہیں دینا تو تم یہاں سے جا سکتی ہو. غازی کا لہجہ ایک دم سخت ہوا. آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آپ یہاں سے جا سکتے ہیں. یہ میرا گھر ہے میں کہیں بھی کھڑی ہو سکتی ہوں. زریں کے جتلانے پر غازی کا دل کیا کہ اس کا منہ توڑ دے مگر فی الحال وہ بے بس تھا. فون کب تک لا دو گی …… ؟؟ غازی فورا اپنے مطلب پر آیا. تم آج ماسی کو بتا دو کہ تم شادی شدہ ہو اور یہ کہ تم نے اس دن ماسی سے جھوٹ بولا تھا. تو میں تمہیں آج ہی موبائل لا دوں گی. زری بی بی جتنا تم مجھے ستا رہی ہو. اس کا تمہیں حساب دینا پڑے گا. ماسی کو تو میں کبھی نہیں بتاؤں گا کہ میں شادی شدہ ہوں. غازی نے زری کو دیکھتے ہوئے سر ہلایا. تو وہ خوش ہوتی گھر سے باہر کی طرف چل دی 🎭🎭🎭🎭 سارا دن کہاں رہتے ہو …… ؟؟ رات کی تاریکی میں گھر میں قدم رکھتے ہو بھلا یہ کیا طریقہ ہے ….؟؟ میر نے جیسے ہی ٹیرس پر قدم رکھا ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ساتھ گل کی آواز میں اس کا استقبال کیا میرا نہیں خیال کہ آپ کا یہ سوال کرنا بنتا ہے. میر چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا گل کے قریب آ کھڑا ہوا. کیوں میرا کیوں یہ سوال کرنا نہیں بنتا ……. ؟؟ گل جراح پر اتری. ایسے سوال صرف اچھی بیویاں پوچھتی ہیں. کیا آپ ایک اچھی بیوی ہیں …… ؟؟ میر نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے جھک کر گل کی آنکھوں میں دیکھا میر مجھے فضول باتیں کبھی بھی پسند نہیں رہیں اور اب تو بالکل بھی پسند نہیں ہیں. گل کے جواب پر میر کندھے اچکاتا ہوا سیدھا کھڑا ہو گیا. یہاں کیوں بیٹھی ہیں. بہت سردی ہے. بیمار ہونے کا ارادہ ہے …… ؟؟ ناچاہتے ہوئے بھی میر کا لہجہ گل سے نرم ہی رہتا تھا میں کیوں جان بوجھ کر بیمار ہوں گی. کیا بیمار ہونے کی صورت میں تم گھر پر رہ کر میری تیماداری کرو گے…… ؟ گل کے سوال پر میر ریلنگ ساتھ ٹیک لگاتا مسکرانے لگا میں سوچ رہا ہوں کہ آپ کو ایک عدد سہیلی دے دی جائے. جو آپ کا دل بہلائے. ہر وقت آپ کے پاس رہے تاکہ آپ کے ذہن میں برے خیالات نہ آئیں اور آپ کو میری کمی بھی محسوس نہ ہو. میر نے ٹھہر ٹھہر کر جملے ادا کیے. تم شادی کر رہے ہو گل کے جواب پر میر کا قہقہہ بےساختہ تھا.
اگر اس دنیا میں کوئی میر کو جانتا ہے تو وہ صرف گلبدین ہے کوئی اور نہیں میر کہتا ہوا گل کی ویل چیئر کو پکڑنے لگا
کون ہے …… ؟؟ گل نے بغیر میر کی طرف دیکھے پوچھا
لڑکی _ میر نے ویل چیئر کو روم کی طرف دھکیلتے ہوئے جواب دیا. کیسی ہے ……. ؟؟ اگلا سوال آیا آپ جیسی نہیں ہے. میر جواب دیتے گل کو بیڈ پر بیٹھانے لگا میر میری ذاتی خواہش ہے کہ تم زندگی میں آگے بڑھو. ایسا کرنا کہ اس ساتھ لندن چلے جانا اور اپنی نئی زندگی شروع کرنا. گل نے میر کے ہاتھ سے کمبل اوڑھتے ہوئے جواب دیا لندن میں زندگی جس کے ساتھ شروع کرنا تھی وہ اب نہیں ہے میر کا لہجہ تبدیل ہوا.
سب بھول جاؤ اور آگے بڑھو. گل کے مشورے پر میر سر ہلاتا بیڈ کی دوسری طرف آ گیا.
بھول جاؤ گا بس زرا حساب برابر کر لوں. میر کہتا تکیے ساتھ نیم دراز ہوا. تو گل نے آنکھیں چرائیں.
( گلبدین بس چند دن اور اور کھیل ختم. میر نے سوچتے ہوئے آنکھیں موند لیں)
