Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

میری نیند اڑا کر خود کتنے مزے سے سو رہی ہے. آخر کیا تھا اس فوٹیج میں …..؟ ؟ میر نے پہلو میں لیٹی عزین کو دیکھتے ہوئے سوچا
یہ سوتی ہوئی تو خاصی پیاری لگتی ہے. کمرے میں ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے حرارت تھی تو اس کے گالوں پر بھی سرخی چمک رہی تھی. جسے دیکھتے ہوئے غیر لاشعوری طور پر میر کا ہاتھ اسے چھونے کو بڑھا
لاحول ولا قوۃ الا باللہ _ میر نے خود کو ڈانٹتے ہوئے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور عزین پر احتیاط سے کمبل دیتا بستر سے باہر نکلا عورت ذات اگر چپ ہو تو اچھے خاصے مرد کا ایمان خراب کر سکتی ہے اور بولتے ہوئے دماغ واہ میر کیا تحقیق کی ہے. میر نے خود کو داد دیتے اپنی چادر صوفے سے اٹھائی اور باہرنکل گیا.
نیچے لاؤنج میں مکمل سناٹا اور خاموشی تھی. جو اس بات کو ظاہر کرتی تھی کہ سب اپنے اپنے کمروں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں.
میر دبے پاؤں چلتا ہوا باہر لان کی طرف نکل آیا. شدید سردی اور دھند کے باعث وہ زیادہ دیر لان میں ٹہل نہیں سکا تو گارڈز کے کمروں کی طرف چل دیا.
اویس کو بلاؤ گارڈز میر کو دیکھتے ہی اپنی کرسیوں سے کھڑے ہوئے تو میر نے آرڈر دیتے اندر قدم رکھا. میر صاحب خیریت ہے آپ اس وقت کنٹرول روم میں …..؟ ؟ اویس نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو فوراً پریشانی سے پوچھ بیٹھا سوچو اگر خیریت ہوتی تو میں اس وقت یہاں ہوتا. مجھے اپنا کمرہ کاٹتا نہیں ہے میں وہاں آرام سے سو رہا ہوتا. جیسے ہی میر نے سرد لہجے میں یہ جملہ ادا کیا اویس کے رنگ اڑے. اویس میرے اس ویلا میں ٹوٹل کتنے کیمرے لگے ہیں ……. ؟؟ میر نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے پوچھا تو اویس اس اچانک سوال کے لیے تیار نہیں تھا حیرت سے میر کو دیکھنے لگا میں نے تمہاری بہن کا رشتہ نہیں مانگا اس لیے اتنے پریشان مت ہو اور مجھے کیمروں کی ٹوٹل تعداد بتاؤ ….؟؟ اب کی بار میر کی آواز اونچی ہوئی تو اویس کی نظر نیچی. سر میرے خیال سے ٹوٹل 32 کیمرے ہیں. بالآخر اویس نے سوچتے ہوئے جواب دیا جس پر میر سر بھی ہلا نہ سکا. اچھا تو سکرین پہ سارے کیوں نہیں شو ہو رہے ……؟ ؟ میر نے دیوار کے ساتھ لگی بڑی ایل ای ڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا سرکار دو کیمرے خراب ہو گئے تھے اور دو کو غلام علی کے حکم پر اتار دیا گیا تھا. اویس کے بتانے پر میر نے اسے ایسے دیکھا جیسے کھا جائے گا. اویس تم کس کے نوکر ہو. تمہیں تنخواہ کون دیتا ہے……. ؟؟ میر چلتا ہوا اویس کے قریب آیا سرکار آپ کا نوکر ہوں. آپ ہی کے ٹکڑوں پر میرے پورا خاندان پل رہا ہے. اویس نے ہاتھ جوڑتے عاجزی سے جواب دیا ہمممم
مجھے کل پچھلے ایک ہفتے کی ساری ریکارڈنگ چاہیے. میر اویس کا کندھا تھپکتا باہر نکل آیا. مگر جاتے جاتے ایک آخری نظر ایل ای ڈی پر ضرور ڈالی کیوں کہ وہاں کچھ ایسا تھا جو اسے چونکنے پر مجبور کر رہا تھا جسے وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھا.
اچھا تو اب یہ لوگ میر کا کھا کر، میر کے ٹکڑوں پر پل کر، میر کے گھر میں رہ کر، میر کے ساتھ ہی غداری کریں گے. بہت سمارٹ ہو گئے ہیں. میر نے لاؤنچ میں قدم رکھتے ہوئے سوچا
کچھ دیر وہ پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے گل کے کمرے کو گھورتا رہا پھر سر جھٹک کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.
حاشر نے ٹھیک کہا تھا. لڑکی کافی سمجھدار ہے اور میرے کام بھی آئے گی. مجھے یہ بات مان لینی چاہیے. میر نے بستر میں لیٹتے ہوئے ایک دفعہ پھر پہلو میں لیٹی عزین کو دیکھا. وہ ابھی ٹھیک سے لیٹا بھی نہ تھا کہ عزین کے وجود میں ہوتی ہلچل اسے اپنی طرف متوجہ کرنے لگی.
لو جی ادھر نیند آنے کو تیار نہیں اور اُدھر وہ سو کر اٹھنے بھی لگی ہے. عزین کو بیدار ہوتا دیکھ کر میر نے اپنی آنکھوں پر بازو رکھا جیسے سو رہا ہو.
اف عزین کی بچی!!! اتنی دیر سوتی رہی ہے. رات گزرتی جا رہی ہے. تو اپنا کام کب کرے گی. عزین نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا جو رات کے دو بجا رہی تھی.
چل اٹھ جلدی کر اس سے پہلے میر جاگ جائے اور تجھے اس کی فضول باتو کا جواب دینا پڑے. عزین نے پہلو میں لیٹے میر کی طرف دیکھتے ہوئے پاؤں بستر سے باہر نکالے.
دبے پاؤں سلیپر پہنتی وہ آرام سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی. دروازہ بند ہونے کی آواز پر میر نے فوراً آنکھوں سے اپنا بازو ہٹایا اور عزین کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے وہ بھی اس کے پیچھے چل دیا.
عزین نے دبے پاؤں سیڑھیوں کو کراس کیا اور خاموشی سے گل کے کمرے کی طرف چل دی اس بات سے بے خبر کہ میر اسے فالو کر رہا ہے.
اللہ جی پلیز بچا لینا میں ان فراڈ لوگوں میں پھنس گئی ہوں. اوپر کی طرف منہ کرتے عزین نے دعا مانگی اور آہستہ سے گل کے کمرے کے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا.
واہ جی گل بی بی تو بہت بہادر ہیں. کوئی سکیورٹی کا چکر ہی نہیں ہے. عزین نے گل کو سراہتے ہوئے کمرے کا دروازہ آہستہ سا بند کیا اور اس کی ویل چیئر کی طرف بڑھ گئی.
کچھ دیر وہ خاموشی سے ویل چیئر کا جائزہ لیتی رہی. پھر سوئی ہوئی گل پر ایک نظر ڈالی وہ نیچے بیٹھ گئی. اب وہ کیا کر رہی تھی کھڑکی سے میر کو یہ دیکھنے میں مشکل تھی.
اب پتہ چلے گا کہ گل بی بی کی اصلیت کیا ہے. صرف مجھے نہیں بلکہ ان کے لاڈلے، چہیتے اور اکلوتے شوہر نامدار کو بھی _ عزین دل میں اپنے آپ کو داد دیتی اٹھ کھڑی ہوئی. شاباش عزین تُو نے تو کمال کر دیا ہے. ویل چیئر کا جائزہ لیتی عزین پلٹی مگر پھر کچھ خیال آنے پر اپنے ہی پاؤں پر گھوم گئی. واپس گل کے بستر تک آئی اور گل کو گھورنے لگی. گل بہت گہری نیند میں تھی. اتنی گہری کہ اس کی بھاری سانسوں کی آواز عزین آرام سے سن سکتی تھی. Goodnight have a sweet dreams. ویسے پیاری سوتن جی اب آپ کو خواب تو میرے ہی آتے ہو‌ں گے. عزین گل کی طرف دیکھتی ہوئی مسکرائی اور دروازے کی طرف پلٹی. جیسے ہی روم کا دروازہ بند ہوا گل کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ مسکراتے ہوئے بند دروازے کو دیکھنے لگی. کمرے میں واپس آتے عزین نے شکر کا کلمہ پڑھا اور خاموشی سے بستر پر آگئی جہاں اب میر کروٹ لیے سو رہا تھا. اس کے سلکی بال اسکے ماتھے پر بےترتیب بکھرے تھے. سوتے میں بھی ماتھے پر شکنیں تھیں. یہ بندے سوتا بھی سکون سے نہیں ہے. کیا پتہ خواب میں کس کی کلاس لے رہا ہے …؟؟ عزین میر کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی اور پھر اس کی طرف کروٹ لیتی لیٹ گئی “میں تم کو دیکھ کے قائل ہوئی کہ لازم ہے تمہارے واسطے خیرات ہو، وظیفے ہوں” عزین میر کو دیکھتے دیکھتے ہی نیند کی وادی میں اتر گئی. اس بات سے بےخبر کہ آنے والی صبح اس کے لیے کیا سرپرائز لانے والی ہے …..؟ ؟ 🎭🎭🎭🎭 غازی کا موبائل کب سے بج رہا تھا. کچھ دیر تو زریں سوئے ہوئے غازی کی طرف دیکھتی رہی. جب اس کی آنکھ نہ کھلی تو زریں نے اس کا فون اٹھا لیا. مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ کال کہاں سے اٹینڈ کی جائے کیونکہ زری نے اس سے پہلے سمارٹ فون کبھی استعمال نہیں کیا تھا. وہ اسی شش و پنج میں مبتلا تھی کہ موبائل بچنا بند ہو گیا. تو اس نے فون دوبارہ غازی کے سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا. اس سے پہلے کہ وہ مڑتی موبائل دوبارہ بجنے لگا کیا مصیبت ہے. کہاں سے کال اٹینڈ ہوگی ……؟ ؟ زری نے غصے سے موبائل اٹھاتے ہوئے خود کلامی کی. بیل کی آواز کے ساتھ ساتھ جب زری کی آواز نے بھی کمرے کے سکون میں ارتعاش پیدا کیا تو غازی نے کروٹ لیتے ہوئے آنکھ کھولی. تمہاری جان کو سکون نہیں ہے. صبح صبح میرے سر پر سوار ہو گئی ہو. غازی نے بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے زری کی طرف دیکھا ماسی کہتی ہے جو صبح صبح میرا چہرہ دیکھ لے اس کا سارا دن بہت اچھا گزرتا ہے. تمہیں میرا شکرگزار ہونا چاہیے. زری نے غازی کو جواب دیتے ہوئے اترا کر کہا بیچارے سادہ لوگ انہیں کیا پتہ کہ تمہیں دیکھنے سے انسان کا دن کیسا گزرتا ہے ……. ؟؟ خیر میرا موبائل ادھر دو. غازی نے زری کے ہاتھ میں پکڑے اپنے موبائل کو دیکھتے ہوئے کہا تمہارے اس موبائل کی وجہ سے میری صبح خراب ہو گئی ہے. کب سے بج رہا ہے …… ؟؟ زری نے غازی کی طرف موبائل اچھالا جو اس کے سینے پر جا لگا جنگلی بلی ہو تم غازی نے موبائل پکڑتے چیخ کر کہا اور مسڈ کال دیکھی.
تمہارے پاس آتے ہی یہ کیسے خاموش ہو گیا ہے. ورنہ پہلے بہت شور مچا رہا تھا. زری کے جملے پر غازی نے چونک کے پہلے زری اور پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھا
اس کے بارے میں کہہ رہی ہو …..؟ ؟ غازی نے حیرت سے پوچھا تو زری نے سر ہلا دیا.
قسم سے حد ہے
غازی ہلکا سا مسکرایا کیا مطلب حد ہے. مجھے بھی بتاؤ اس فون پر کال کیسے اٹینڈ کرتے ہیں. مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی…..؟؟ زری کو سنجیدہ دیکھ کر غازی نے اسے اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا تو وہ دھڑلے سے اس کے قریب آ بیٹھی. تمہیں میرے پاس آتے ہوئے ڈر نہیں لگتا …..؟ ؟ زری کے اس قدر اطمینان پر غازی کو تعجب ہوا. کیوں تم بندے کھاتے ہو یا تمہارے منہ سے آگ نکلتی ہے. ٹھیک سے تو چل نہیں سکتے اور مجھے ڈرانے چلے ہو. زریں نے مسکراتے ہوئے غازی کی آنکھوں میں دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا. اس بات کا فیصلہ وقت کرے گا کہ کون کس سے ڈرتا ہے. لیکن ابھی تم یہ سمجھ لو کہ کال کیسے اٹینڈ کرتے ہیں …… ؟؟ غازی نے زریں کے سامنے موبائل کرتے ہوئے ماجد کو کال کی کیوں کہ اسی کی کالز پہلے آرہی تھی. ہاں ماجد بولو کیا بات ہے …..؟ ؟ کال اٹینڈ ہوتے ہی غازی نے پوچھا کیونکہ موبائل کا سپیکر آن تھا تو زری نے بھی بہت دلچسپی سے موبائل کی سکرین کو دیکھا جہاں ماجد کی تصویر بھی جگمگا رہی تھی. کیا میری تصویر بھی تمہارے موبائل پر نظر آتی ہے …… ؟؟ زری نے بڑی حسرت سے پوچھا نہیں موبائل کمپنی نے تمہاری تصویر بین کر رکھی ہے تاکہ بچے ڈر نہ جائیں. موبائل پر صرف خوبصورت لوگوں کی تصویریں آتیں ہیں. غازی نے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے زری کو جواب دیا تو اس کے تیور بگڑ گئے. جھوٹ تم جھوٹ بول رہے ہو اگر صرف خوبصورت تصویریں آتیں ہیں. تو تمہارے اس دوست کی تصویر کیسے آ رہی ہے …… ؟؟ زری کے جواب پر غازی نے قہقہہ لگایا جبکہ دوسری طرف ماجد کا موڈ خراب ہو گیا. تم دونوں اپنی لڑائی میں مجھے رگڑا مت لگاؤ. ماجد کی ناراض آواز سپیکر سے ابھری تو زریں جو جانے کے لیے کھڑی ہوئی تھی رک گئی. کیوں رگڑا لگانا صرف پولیس والوں کا کام ہوتا ہے. میرا تو دل کرتا ہے تم دونوں دوستوں کو خوب رگڑا لگے. زری غصے اور ناراضگی کے ملے جلے تاثرات سے کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی. میں نے ایک بات نوٹ کی ہے. جب سے یہ لڑکی تیری زندگی میں آئی ہے. تو نے بلاوجہ ہنسنا شروع کر دیا ہے. ماجد نے غازی کی مسکراتی اواز سنتے ہوئے کمنٹس پاس کیے. کیونکہ میں اس کی وجہ سے پاگل ہو رہا ہوں. ہر وقت کا ہنسنا نارمل نہیں ہوتا. یہ لڑکی میرا دماغ خراب کرتی رہتی ہے. اب کی بار غازی کی آواز میں مکمل سنجیدگی تھی. کیا ناااااا ایک دم ناراض ہو جاتا ہے. میں تو مذاق کر رہا تھا. ماجد کو غازی کا سنجیدہ ہونا اچھا نہیں لگا یار میں آج سچ مچ بہت پریشان ہوں. اپنی وجہ سے نہیں پہلی بار تو نے مجھے واقع ہی پریشان کیا ہے. کچھ دیر کے وقفے سے غازی نے کہا تو ماجد چونکا میری وجہ سے مگر کیوں ……. ؟؟ ماجد کے پوچھنے پر غازی نے ایک گہرا سانس خارج کرتے سامنے لگی گھڑی کو دیکھا چھوڑ یہ بتا تیری دوبارہ اپنی منگیتر سے بات نہیں ہوئی. تجھے اس سے بات کرنی چاہیے تھی. شاید وہ کسی مشکل میں ہو. غازی نے بات بدلی. اس نے مجھے اپنی شادی کی تصویر بھیجی تھی مگر میرا دل ہی نہیں کیا اس سے کسی قسم کا کوئی سوال کرنے کو، وجہ واضح ظاہر ہے کہ وہ خوش ہے. ماجد نے سرسری سا جواب دیا. مسجد میری مان تو ایک دفعہ اس سے بات کر لے. غازی کے دوبارہ کہنے پر ماجد چونکا کیا بات ہے. تو مجھے بار بار زور کیوں دے رہا ہے …..؟ ؟ ماجد کو تشویش ہوئی. دیکھ ماجد میں میر صاحب کا نوکر ہوں. وہ جو حکم دیتے ہیں میں بجا لاتا ہوں کیونکہ یہ میری نوکری ہے. میں اسی چیز کے ان سے پیسے لیتا ہوں. اس لیے کل تو مجھ سے کوئی گلہ مت کرنا. غازی نے کہتے ہوئے اپنی ٹانگیں بیڈ سے نیچے اتاریں. عظیم ٹھیک تو ہے نا تیری بات کا میں کیا مطلب اخذ کروں …… ؟؟ ماجد الجھا میری بات کا کوئی مطلب نہیں ہے. میں نے ویسے ہی کہا تھا کہ بندہ اپنے محبوب کی خبر لیتا رہے تو اچھا ہوتا ہے. خیر آج جب تو چکر لگائے گا تو ایک سٹک لیتے آنا میں بیڈ پر لیٹ لیٹ کر بور ہو گیا ہوں. غازی نے سہارے سے کھڑے ہونے کی کوشش کی. تجھے کیسے پتہ کہ میں آج تیری طرف چکر لگاؤں گا …..؟؟ دوسرا تُو زری کے ہوتے ہوئے بور نہیں ہو سکتا. لہٰذا جھوٹ مت بول. ماجد کی ساری توجہ اب عزین کی طرف تھی. اس لیے کہ میرے گھر کا چکر لگائے بغیر تجھے روٹی ہضم نہیں ہوتی. تو نے آنا تو ہے ہی ایک لاٹھی بھی لیتے آنا تاکہ مجھے چلنے میں آسانی رہے. غازی نے دیوار کے سہارے کمرے میں چلنا شروع کیا. تو نے اس حالت میں کہاں جانا ہے …..؟ ؟ ابھی ایک ہفتے تک تیرا پلستر کھل جائے گا تو پھر جہاں دل کرے گا وہاں چلے جانا. میری مان تو آرام کر ماجد کے مشورے پر غازی نے سر ہلاتے ہوئے کمرے سے باہر قدم رکھا.
میں نے میر صاحب کے فارم ہاؤس پر جانا ہے. انہوں نے مجھے بلوایا ہے. تو یقیناً کوئی ضروری کام ہوگا. غازی نے جواب دیتے کچن میں دیکھا جہاں زری کچھ پکانے میں مصروف تھی اور ایک زبردست خوشبو پورے فلیٹ میں پھیلی ہوئی تھی.
غازی میں نے تجھے آگے بھی کئی دفعہ کہا ہے. آج پھر کہہ رہا ہوں. اس میر کو چھوڑ دے. یہ تیرا بیڑا غرق کر کے چھوڑے گا. ماجد نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا
فی الحال تو بیٹا وہ تیرا بیڑا غرق کرنے پر تلا ہوا ہے. غازی کا اشارہ عزین کی طرف تھا.
ویسے تمہارے ہاتھ میں ذائقہ ہے. کل رات کے لیے شکریہ
غازی نے اوپن کچن کی دیوار ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے زری سے کہا
ابھی تم نے میرے ہاتھ کا ذائقہ چکھا ہی کہاں ہے …… ؟؟ زری کے چہرے پر شرارت تھی.
اگر تم انسانوں کی طرح رہو تو میرے فلیٹ میں رہ سکتی ہو. دوسری صورت میں، میں ٹھیک ہوتے ہی تمہیں واپس گاؤں چھوڑ آؤں گا.
میں اسے دھمکی سمجھوں …… ؟؟ زری نے مڑتے ہوئے غازی کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا.
میں دھمکی دینے والوں میں سے نہیں ہوں. غازی نے کہتے ہوئے چولھے کی طرف اشارہ کیا تو زری نے جلدی سے آنچ ہلکی کرتے ہوئے پکوڑے پلیٹ میں نکالے.
تم یہاں کھڑے کھڑے تھک جاؤ گے. آرام سے وہاں صوفے پر بیٹھو. میں تمہارے لیے پکوڑے لاتی ہوں. زری نے پلیٹ میں پکوڑے نکالتے ہوئے غازی سے کہا تو وہ سر ہلانے لگا
اچھا تو تم کہہ رہے تھے کہ تم کسی کو دھمکی نہیں دیتے تو پھر تم کیا کرتے ہو…..؟ ؟ زری نے غازی کے آگے پکوڑوں کی پلیٹ اور کیچپ رکھتے ہوئے اطمینان سے پوچھا
میں بندے کو مار دیتا ہوں. غازی کے لہجے اور آنکھوں میں ایسی پراسراریت تھی کہ زریں کو اس سے خوف محسوس ہوا. جب کہ وہ زری کی حالت پر مسکراتے ہوئے پکوڑے کھانے لگا
🎭🎭🎭🎭
مجھے غازی نے بار بار عزین سے بات کرنے کے لیے کیوں زور دیا ہے. وہ ٹھیک تو وہ ہے. آخر ایسا کیا ہے جو وہ مجھے بار بار اس سے بات کرنے کو کہہ رہا تھا کیونکہ غازی بلا وجہ کچھ نہیں کہتا. ماجد مسلسل اپنے پاؤں ہلاتے ہوئے غازی کی باتیں سوچ رہا تھا.
میں اسے فون نہیں کروں گا. میں اسے کیوں فون کروں اور کس رشتے سے فون کروں. وہ اپنی زندگی میں خوش ہے. مست ہے. ماجد نے موبائل پر عزین کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے خود کلامی کی.
لیکن غازی کہہ رہا تھا کہ ایک بار اس سے بات کر لے. کہیں میر نے اسے نہیں نہیں میں کیسی فضول باتیں سوچ رہا ہوں. ماجد نے اپنی سوچ پر خود ہی جھرجھری لی اور موبائل بند کرتے ہوئے ٹیبل پر رکھ دیا. دل بے قرار ہو گیا ہے. جو شخص ہمیں اتنی تکلیف دے کہ ہمیں کسی دوسرے کے لیے چھوڑ جائے. یہ دل اتنا کمینہ ہے کہ پھر بھی اس کے لیے پریشان ہوتا ہے. ماجد نے خود کو کوسا. مگر اب چین کسے تھے ….؟؟ عزین کی آنکھ اپنے موبائل کے شور سے کھلی جو مسلسل شور مچا رہا تھا. بیڈ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اس نے پورے کمرے کا جائزہ لیا تو میر کا دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا. ہاں البتہ اس کے پرفیوم کی خوشبو رچی بسی تھی مطلب وہ تیار ہو کر جا چکا تھا. تم تم کہاں تھے اتنے دنوں سے، تم نے میرے کسی میسج کا کوئی جواب نہیں دیا. عزین نے موبائل پر ماجد کا نمبر جگمگاتا دیکھ کر خوشی سے کال اٹینڈ کی. کیسی ہیں مسز طلال میر مجھے لگا آپ مجھے بھول گئی ہوں گی …..؟ ؟ عزین کی چہکتی آواز سنتے ہی ماجد کے دل میں ایک ٹیس اٹھی.
تم صبح صبح اتنا فضول کیوں بول رہے ہو …..؟ ؟ میں نے تمہیں ساری بات بتائی تھی کہ یہ ایک ایگریمنٹ ہے. میں میر کا کام کروں گی اور وہ بدلے میں مجھے اچھی خاصی موٹی رقم دے گا جس سے ہم دونوں اپنی زندگی ہنسی خوشی گزاریں گے. عزین کے جواب پر ماجد سر نفی میں ہلانے لگا
ایک تو اس میر کا بیڑا غرق ہو. نہ میرے دوست کو میرے لیے چھوڑا ہے اور نہ ہی میری آگے ماجد بول نہ سکا ماجد میر برا نہیں ہے مگر اس کے ساتھ بہت برا ہوتا ہے. تمہیں میں کیا بتاؤں تم حیران رہ جاؤ گے کہ میر کے گھر میں کیا کچھ ہوتا ہے. اچھی خاصی ہالی وڈ کی ہارر مووی چلتی ہے یہاں عزین اچانک پرجوش ہوئی.
مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ میر کے ساتھ کوئی کیا کرتا ہے اور کیا نہیں اور میر کے گھر میں کیا ہوتا ہے. میں نے تو بس ویسے ہی فون کر لیا تھا کہ تم خوش ہو …..؟ ؟ ماجد کے پوچھنے پر عزین مسکرا دی.
میں ٹھیک ہوں. خوش تو میں تمہارے ساتھ ہوں گی اور ہم دونوں بہت جلد ایک ساتھ ہوں گے. دیکھو ماجد میری بات سنو میں نے تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں. عزین کے جواب پر ماجد پھیکا سا مسکرایا
عظیم بی بی تم اپنے آپ کو تو دھوکہ دے سکتی ہو مگر مجھے نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں جو ایک بار میر کے سحر میں آگیا وہ اس سے باہر نہیں نکل سکتا کیونکہ میر کا سحر کالے جادو جیسا ہے جس کا توڑ نہیں. لہذا مجھے جھوٹی تسلیاں مت دو. ماجد تلخ ہوا.
آئی ایم سوری ماجد میں تمہیں دکھی نہیں کرنا چاہتی تھی. کیا تمہارے پاس میرے لیے وقت ہے. تم میری کچھ باتیں سن سکتے ہو. مجھے تم سے مشورہ چاہیے. اب کی بار عزین نے بہت سنجیدگی سے کہا تو ماجد چونکا
یہ وقت بھی کتنی ظالم چیز ہے. کل تک میں تم سے بات کرنے کو ترستا تھا. تم سے پوچھتا تھا تم فارغ ہو اور آج تم مجھ سے پوچھ رہی ہو. کتنی مزاحیہ بات ہے نااااا
ماجد کی آنکھوں میں نمی اتری. ماجد پلیز _ عزین نے بے چارگی سے اسے پکارا تو ماجد نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا. اچھا بتاؤ کیا بتانا چاہتی ہو …..؟ ؟ ماجد کے کہنے پر عزین نے بولنا شروع کیا. وہ جیسے جیسے بولتی جا رہی تھی ماجد کے تاثررات بدلتے جا رہے تھے. 🎭🎭🎭🎭 کل رات آپ کنٹرول روم گئے تھے ……؟ ؟ ناشتے کی ٹیبل پر میر سے غلام علی نے پوچھا تو میر نے بغیر کوئی ری ایکشن ظاہر کیے کپ میں چائے انڈیلی. کوئی مسئلہ ….؟؟ میر نے ازلی سرد لہجے میں پوچھا نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے. میرا مطلب تو تھا کہ آپ مجھے بلوا لیتے اگر آپ کو کوئی معلومات چاہیے تھی ……؟ ؟ غلام علی نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا تو گل مسکرا دیں. میرے کمرے کا کیمرہ کام نہیں کر رہا بس یہی چیک کرنے گیا تھا. میر نے چائے کا سیپ لیتے ہوئے گل کی طرف دیکھا وہ میں نے بند کروایا تھا. جب میں تمہارے کمرے میں شفٹ ہوئی تھی کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ ہماری کوئی فوٹیج بنے. غلام علی کی جگہ گل نے جواب دیا تو میر مسکرا دیا گل آپ یہ بات مجھے بتا سکتی تھیں. میں خواہ مخواہ رات بھر اتنا پریشان رہا. اب کی بار میر کا لہجہ بہت نرمی لیے ہوئے تھا. میرے خیال سے میر تمہارے کمرے کی فوٹیج نہیں بننی چاہیے. اب تو بالکل بھی نہیں اور میں نے اپنے کمرے کا کیمرہ بھی بند کروایا ہوا ہے. اپ کو کوئی اعتراض تو نہیں. گل کے پوچھنے پر میر نے خالی کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے گل کی ویل چیئر اپنی طرف کی. کیا آج تک میں نے آپ پر کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض کیا ہے. آپ خود مختار ہیں. اس گھر کی مالکن ہیں. آپ جو چاہیں وہ کر سکتی ہیں. لیکن مجھے بتا دیا کریں تاکہ میں پریشان نہ ہوا کروں. میر نے محبت سے گل کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دیں. سوری آئندہ خیال رکھوں گی. گل نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ میر کے ہاتھوں سے نکالا تو وہ مسکراتا ہوا اپنا موبائل اور وائلٹ میں سے اٹھانے لگا
کیا کل رات عزین میرے کمرے میں آئی تھی …..؟؟
گل کے سوال پر میر کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکا مگر پھر وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا.
نہیں بھلا اس کا آپ کے کمرے میں کیا کام ہے
وہ تو کل بہت جلدی سو گئی تھی. پھر بھی آپ اس سے پوچھ لینا شاید آئی ہو مگر مجھے نہیں لگتا. حسب عارت میر نے گل کے ماتھے پر بوسہ دیا اور آفس کے لیے نکل گیا.
گل مجھے میر کے رویے سے ڈر لگنے لگا ہے. بہت بڑی گڑبڑ ہے. میر کے جاتے ہی غلام علی نے گل کی طرف مڑتے ہوئے کہا
گڑبڑ تو واقع ہی بہت بڑی ہے. تمہیں معلوم ہے کل رات عزین میرے کمرے میں آئی تھی مگر میں سو رہی تھی. گل کے جواب پر غلام علی چونکا
کہیں وہ آپ کو کوئی نقصان تو پہنچانے نہیں آئی تھی. آپ کو شور مچانا چاہیے تھا. غلام علی ایک دم پریشان ہوا.
نہ وہ اتنی بے وقوف ہے اور نہ ہی میں __

مجھے بس میر کا انتظار ہے کہ وہ اس لڑکی کو کس مقصد کے لیے یہاں لایا ہے. تم آج سردار بیگم سے ملنے جاتے ہوئے میرا خط لیتے جانا. گل کہتی ہوئی اپنی ویل چیئر موڑنے لگی.
خط تو میں لے جاؤں گا مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اپ جان بوجھ کر کیوں بے وقوف بن رہی ہیں …..؟ ؟ وہ اس لڑکی کو کسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے لایا ہے. غلام علی دبا دبا سا چلایا
میر اکیلا ناشتہ کر کے آفس گیا ہے اور وہ اوپر سو رہی ہے. تمہیں ان دونوں میں کہاں سے محبت دکھائی دیتی ہے …… ؟؟
میرے حساب میں تو یہ ایک دوسرے سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتے تو پھر وہ “اپنے” لیے نہیں بلکہ اسے “ہمارے” لیے لایا ہے. بے وقوف میں نہیں تم بن رہے ہو. گل غلام علی کو ہکا بکا چھوڑتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.