Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

تیسرا شخص _ کون ہو سکتا ہے تیسرا شخص …… ؟؟ میر نے کہتے ہوئے تیزی سے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھائے. رکو میری بات سنو. اس سے پہلے کہ عزین کمرے سے باہر نکلتی میر کی آواز پر رکی. تم ایسے آدھی ادھوری بات چھوڑ کر نہیں جا سکتی. مجھے بتاؤ کہ تیسرا شخص کون ہے اور اُس سٹور میں کون رہتا ہے ……. ؟؟ میر نے عزین کے مقابل کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا وہ تیسرا شخص کوئی اور نہیں بلکہ آپ خود ہیں. عزین نے مسکراتے ہوئے اپنی انگلی سے میر کی طرف اشارہ کیا یہ کیا بکواس ہے. میں اس طرح کا مذاق پسند نہیں کرتا. میر نے غصے سے پلٹتے ہوئے کہا میں سچ کہہ رہی ہوں. وہ تیسرا شخص کوئی اور نہیں بلکہ “آپ ” خود ہیں. آپ “سپلٹ” پرسنلٹی رکھتے ہیں. یہ ایک نفسیاتی بیماری ہوتی ہے.جس میں آپ مبتلا ہیں. آپ اپنے آپ کو “ہیرو” سمجھتے ہیں مگر اصل میں اس کہانی کے “ولن” آپ خود ہیں. گل یا کسی اور میں کوئی خرابی نہیں اگر خرابی ہے تو وہ آپ کی اپنی ذات میں ہے. عزین نے کافی کپ صوفے پر رکھتے ہوئے اپنے سینے پر بازو باندھے تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمہاری اس بکواس میں آ جاؤں گا. نہ تو مجھے کوئی بیماری ہے اور نہ ہی میں کوئی ایسی پرسنلٹی رکھتا ہوں. لہذا اپنی یہ فضول باتیں بند کرو اور میرے کمرے سے نکل جاؤ. میر کی برداشت اب جواب دے گئی تھی. اچھا اگر ایسا ہے تو اس مرر کو کیا ہوا …….. ؟؟ عزین نے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا جہاں کارپٹ پر کانچ کے چھوٹے چھوٹے انگنت ٹکڑے بکھرے پڑے تھے ٹوٹ گیا ہے اور شیشے کا ٹوٹنا کوئی بڑی بات نہیں. نازک ہوتا ہے زرا سی چیز لگنے پر ٹوٹ جاتا ہے. میر نے جوتے کی نوک سے بکھرے ٹکروں کو سائیڈ پر کرنا شروع کیا. یہ نارمل نہیں ہے اور نہ ہی یہ شیشہ خود بخود ٹوٹ جاتا ہے اگر ایسا ہو تو مہینے میں دو تین بار یہ شیشہ نہ ٹوٹے. میں آپ کو بتاتی ہوں کہ شیشہ کیسے ٹوٹتا ہے …..؟ ؟ کیسے …..؟؟ میر نے عزین کی طرف مڑتے ہوئے طنزاً پوچھا آپ کو شیشے میں اپنا عکس بولتا ہوا دکھائی دیتا ہے. جس پر آپ کو غصہ آ جاتا ہے اور آپ شیشے کے ٹکڑے کر دیتے ہیں. ایسا ہی ہے نااااا _ عزین کی بات پر میر کے چہرے پر ایک سایہ لہرا گیا. نارمل انسان کو اپنا عکس بولتا ہوا دکھائی نہیں دیتا بلکہ وہ صرف اپنے عکس کو دیکھ کر مڑ جاتا ہے. جبکہ آپ کے اندر پائے جانے والی دوسری شخصیت آپ کو شیشے میں واضح دکھائی دیتی ہے. وہ آپ سے باتیں کرتی ہے اور آپ ایگریسو ہو جاتے ہیں اور اس اگریسو پن میں آپ کیا کچھ کر گزرتے ہیں آپ کو خود بھی پتہ نہیں چلتا. عزین کی باتوں پر میر نے ہلکا سا سر ہلایا اور اس کی طرف قدم بڑھانے لگا ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ سٹور چلو. میر نے عزین کا بازو پکڑتے تقریباً اسے اپنے ساتھ گھسیٹا باہر بہت سردی ہے. دن میں دیکھ لیجئے گا. وہ سٹور کہیں نہیں جائے گا اور وہاں آپ کے علاوہ کوئی جاتا بھی نہیں ہے. اس لیے بے فکر رہیں. عزین نے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے احتجاج کیا منہ بند کرو. تم نے آگے ہی دماغ خراب کر دیا ہے. میں ایسا نہیں ہوں جیسا تم نے ابھی جال ُبنا ہے. تم انتہائی شاطر لڑکی ہو. میری سوچ سے بھی زیادہ، اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم میری میڈیکل رپورٹ بنوا کر یہ ساری جائیداد اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گی تو تم انتہائی بے وقوف ہو. تم جیسی لالچی لڑکی دولت حاصل کرنے کے لیے ایسا بھی کر سکتی ہے میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا. تم جتنا مرضی زور لگا لو مگر تم مجھے بیمار ثابت نہیں کر سکتی. سمجھی!!! میر نے اسے اپنے ساتھ گھستے ہوئے سٹور کے دروازہ پہ لا کھڑا کیا. مجھے ایک ذہنی بیمار انسان سے اس سے زیادہ کی امید بھی نہیں تھی. عزین نے اپنا بازو میر سے چھڑاتے ہوئے اسے سہلایا جب کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا. کھولو اسے میر نے دروازے پر لگے تالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتہائی سرد لہجہ میں کہا
حاشر کے باس!!! اس تالے کی چابی آپ کے پاس ہے. اگر یقین نہیں آتا تو آپ ابھی اپنے گارڈ کو فون کریں اور اسے کہیں کہ آپ کی چابیوں والا گھچھا لائے. اسی میں اس سٹور کی چابی بھی موجود ہے. عزین کی بات پر میر نے سیٹی بجاتے ہوئے دور کھڑے گارڈ کو قریب آنے کا اشارہ کیا.
حاشر کی اسسٹنٹ!!! یاد رکھنا اگر یہ بات جھوٹ ثابت ہوئی تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم یاد رکھوں گی.
میری دشمنی بہت مشہور ہے. گارڈ کے قریب آنے پر میر نے اسے چابیوں کا گچھا لانے کا کہا جس پر وہ اپنے قدموں پہ مڑ گیا.
تمہیں کیسے پتہ کہ چابی میرے پاس ہے …..؟ ؟ میر کے پوچھنے پر عزین مسکرا دی جب گارڈ چابیوں کا گھچا لیے ان کی طرف بڑھا
حاشر کے باس!!! میرے اوپر کی منزل خالی نہیں ہے. عزین نے کہتے ہوئے گارڈ سے چابیاں لی اور دروازہ کھولنے لگی.
جیسے ہی میر نے کمرے میں قدم رکھا. اس کے اپنے پرفیوم کی تیز خوشبو نے اُس کا استقبال کیا. عزین نے بورڈ پہ ہاتھ مارتے ہوئے لائٹ آن کی تو پورا کمرہ جگمگانے لگا
یہ تو سٹور نہیں ہے. میر نے پورے کمرے میں نگاہ گھماتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا جو دروازے ساتھ ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہی تھی.
جی بالکل یہ سٹور نہیں بلکہ میر طلال کا خفیہ کمرہ ہے. یہاں کی ہر چیز میر طلال کی گواہی دے رہی ہے. بیڈ شیٹ سے لے کر آپ کے سلیپنگ ڈریس تک، پرفیوم، برش، جیکٹ، سلیپر، تولیا، گھڑی عزین انگلی سے اشارہ کرتی ایک ایک چیز گنوا رہی تھی. آپ کو یاد ہوگا ایک دفعہ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ “کیا آپ کی چیزیں کوئی اور بھی استعمال کرتا ہے.” تو جو جواب آپ نے مجھے دیا تھا وہ تو معلوم ہے نااااا عزین کی بات پر میر کمرے میں ٹہلتا چیزیں دیکھنے لگا
چیزیں تو میری ہی ہیں مگر یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو میں نے ردی کر دی تھی. میں ان کو استعمال نہیں کرتا. میر نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا.
آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ آپ ایک بیمار انسان ہیں اور آپ کو علاج کی ضرورت ہے اور تیسرا شخص کوئی اور نہیں بلکہ آپ ہی ہیں. یہ کمرہ آپ کے استعمال میں ہے ورنہ کبھی بھی اتنا صاف ستھرا نہ ہوتا. عزین کی باتوں پر میر مسکراتا ہوا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا اور قدم قدم چلتا عزین کے قریب آ رکا.
اچھی کہانیاں بنا لیتی ہو اور جال بھی اچھا بُنتی ہو. یقیناً تم شطرنج کی بہترین کھلاڑی ہوگی مگر میرا نام میر طلال ہے صبح ملتے ہیں. میر نے عزین کا گال تھپکتے ہوئے کمرے سے باہر قدم رکھا.
بہت مشکل ہے کسی ذہنی بیمار کو اس بات کا یقین دلانا کہ وہ بیمار ہے. خاص طور پہ تب جب وہ اپنی طرف سے بہت قابل ہو. شب بخیر
میر نے جیسے ہی کمرے سے باہر قدم رکھے عزین کی آواز اس کے کانوں میں پڑی جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پلٹا.
بہت مشکل ہے ایک لالچی لڑکی کو اس بات کا احساس دلانا کہ اس کی چھوٹی سی لالچ دوسروں کی زندگی برباد کر سکتی ہے. شب بخیر
میر کہتا ہوا پلٹ گیا تو عزین نے ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا اور لائٹ آف کرتے کمرے کو لاک لگا دیا.
🎭🎭🎭🎭
غازی نے جیسے ہی فلیٹ میں قدم رکھا . اسے اس بات کا فوراً احساس ہوا کہ ٹی وی لاؤنچ میں کوئی موجود نہیں ہے. جس پر وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے آگے بڑھا
یہ کہاں گئی. یہیں تو چھوڑ کر گیا تھا…..؟؟ غازی نے صوفے کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے ارد گرد کا جائزہ لیا جہاں زریں کے ساتھ ساتھ رسی کا بھی کوئی نام و نشان نہیں تھا.
تمہیں کیا لگا تھا کہ میں کمزور لڑکیوں کی طرح یہاں بیٹھ کر سردی میں ٹھٹھروں گی، روؤں گی اور تمہارے آنے کا بے صبری سے انتظار کروں گی …..؟ ؟
پھر تمہارے آنے پر میں اپنے گناہوں کی تم سے معافی مانگوں گی کہ میں آئندہ تمہیں تنگ نہیں کرتی. تم جو کہو گے میں بالکل ویسا ہی کروں گی…… ؟؟
اپنی پشت پہ زریں کی موجودگی کو محسوس کرتے غازی پلٹا.
نہیں مجھے تم سے کبھی بھی بھلے کی امید نہیں رہی اور میں اچھے سے جانتا تھا کہ تم اس رسی کو کاٹ کر پورے گھر میں آرام سے گھومو پھرو گی جیسے قبرستان میں بدروحیں پھرتی ہیں. اسی لیے زنجیر اتار کر رسی لگا دی تھی.
غازی نے صوفے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے زری کی طرف دیکھا جو اسے انتہائی غصیلی نگاہوں سے گھور رہی تھی.
تم ایک بے حس انسان ہو. یہ جانتے بوجھتے کہ سردی کتنی زیادہ ہے. تم مجھے یوں لاؤنچ میں باندھ کر چلے گئے. تمہیں ذرا برابر بھی شرم نہیں آئی. زری نے غازی کے قریب ہوتے ہوئے انگلی اٹھائی تو غازی نے اس کا ہاتھ پکڑتے اپنی طرف کھینچا
مجھے بالکل شرم نہیں آئی کیونکہ جانوروں کو کھونٹے ساتھ ہی باندھا جاتا ہے. غازی نے کہتے ہوئے زری کو پیچھے کیا اور خود اپنے کمرے کی طرف چل دیا
اچھا تو میں تمہاری نظر میں جانور ہوں. پھر اپنے بارے میں کیا خیال ہے. کیا تم انسان دکھائی دیتے ہو…..؟ ؟ زری نے اس کے پیچھے جاتے ہوئے پوچھا
دیکھنے میں تو انسان ہی لگتا ہوں مگر
غازی نے اپنی ایک آبرو اچکاتے ہوئے زریں کی طرف دیکھا جو کمرے کے بیچوں بیچ کھڑی اس سے سوال کر رہی تھی.
زیادہ اگر مگر کرنے اور گھورنے کی ضرورت نہیں ہے. میں کسی سے نہیں ڈرتی. زری نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے اعتماد سے جواب دیا.
پھر اب سے ڈرنا شروع کر دو کیونکہ میں ذہنی مریض ہوں. کچھ دن کسی انسان کا قتل نہ کروں تو مجھے دورے پڑنے لگتے ہیں. غازی نے ایک سیکنڈ کے اندر تیزی سے اٹھتے ہوئے گن زری کے ماتھے ساتھ لگا دی تو وہ لرز گئی.
یہ کیا کر رہے ہو. تم تو سچ مچ کے پاگل ہو. اسے پیچھے کرو. یہ چل جائے گی …..؟ ؟ غازی کے جارحانہ عزائم پر زری چیخی
یہ خود بخود نہیں چلتی اسے میں چلاتا ہوں. اب اگر تم نے ذرا بھی مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو میں اس میں موجود ساری گولیاں تمہاری کھوپڑی اتار دوں گا. غازی نے گن زری کے چہرے پر پھیرتے ہوئے سر ترین لہجے میں کہا
میں تمہیں تنگ نہیں کرتی بلکہ تم مجھے تنگ کرتے ہو. اس لیے تم خودکشی کر لو. زری نے غازی کا گن والا ہاتھ پکڑتے اس کی کنپٹی پر رکھا
خود کشی حرام ہے اس لیے میں نہیں کروں گا. غازی کندھے اچکاتے ہوئے دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا
بیوی کو ڈرانا حلال ہے کیا ……. ؟؟ زری نے ناراض نظروں سے غازی کی طرف دیکھا
وہ کیا ہے ناااااا کہ مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ میں ایک شادی شدہ مرد ہوں اور تم جیسی بدتمیز، گوار اور پینڈو لڑکی میری بیوی ہے.
جس دن مجھے اس تلخ حقیقت کا یقین آ جائے گا. اس دن میں تم سے اچھا سلوک کروں گا لیکن فی الحال تم اپنی یہ شکل میرے کمرے سے گم کرو. مجھے آرام کرنا ہے. غازی کے لہجے میں خاصی بیزاری تھی
مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں تمہیں بہت اچھی لگنے لگی ہوں اور تم ڈرتے ہو کہ کہیں تمہیں مجھ سے “عشق” نہ ہو جائے. اس لیے تم مجھے اپنے سے ذرا دور دور دور رکھتے ہو. خیر میں ہوں بھی تو بہت پیاری، اس میں تمہاری غلطی نہیں ہے. زری کا انداز خاصہ تپا دینے والا تھا اور اس کی امید کے عین مطابق غازی تپ بھی گیا.
او ہیلو اپنی طرف سے مس ورڈ!!! تم میں ہے ہی کیا کہ غازی تمہارے عشق میں گرفتار ہوگا. “نہ منہ نہ متھا جن پہاڑوں لتھا”. غازی طنزاً مسکرایا
اچھا اگر ایسا نہیں ہے تو پھر تم مجھے ابھی اسی وقت باہر سے برگر کھلا کر لاؤ تاکہ مجھے یقین ہو جائے کہ تم سچے ہو. مجھے برگر کھانے کا بہت شوق ہے. سنا ہے شہر میں بہت اچھے برگر ملتے ہیں. زری اصل مدعے کی طرف آئی کیونکہ اسے شہر دیکھنا تھا
میں کوئی تمہارا نوکر نہیں. اور نہ ہی تمہارا محتاج ہوں کہ تمہیں اس بات کا ثبوت دوں کہ تم مجھے زہر لگتی ہو. غازی نے بستر پر چت لیٹتے ہوئے غصے سے جواب دیا
دیکھا مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ تمہیں مجھ سے بہت محبت ہے. اگر میں تمہیں اتنی بری لگتی تو تم فوراً میری بات مان لیتے خیر زیادہ شرمانے کی ضرورت نہیں ہے. میں باہر چلی جاتی ہوں. تم آرام کرو. زری نے غازی کی بند آنکھوں کی طرف دیکھا
جب کسی خاندان کا پہلا شخص شہر آتا ہے. تو اس کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ پورا شہر گھومے تاکہ واپس جا کر وہ لمبی لمبی چھوڑ سکے. چلو میں تمہاری خواہش پوری کیے دیتا ہوں.
رہی بات “عشق” کی تو غازی کسی کے عشق میں گرفتار ہو جائے یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا تمہارا انسان بننا. غازی کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تو زری نے دل میں شکر ادا کیا
شہر میں تو رات دن سے بھی زیادہ خوبصورت ہوتی ہے. کتنی پیاری روشنیاں جل بجھ رہی ہیں. زری نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے خوشی سے کہا تو غازی نے سر نفی میں ہلایا
تم اپنی یہ بچکانہ سوچ اپنے تک ہی محدود رکھو. انہیں ہونٹوں پر لانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں تمہیں بڑی مشکل سے برداشت کر رہا ہوں اور تمہاری گفتگو میرے لیے برداشت کرنا ناممکن ہے. غازی نے کہتے ہوئے ایک فاسٹ فوڈ کیے آگے گاڑی لگائی
اترو نیچے _ غازی گھوم کے دوسری طرف آیا اور زری کی طرف کا دروازہ کھولا مجھے نہیں اترنا. بس تم مجھے گاڑی میں ہی برگر لا دو. زری نے ڈرتے ہوئے خود کو سیٹ ساتھ چپکایا. زری کا عمل دیکھتے ہوئے غازی نے پوری قوت سے دروازہ بند کیا اور خود اندر چلا گیا شاباش زری کم از کم تو اپنی عقلمندی سے برگر کھانے میں تو کامیاب ہو ہی جائے گی. ورنہ اس جیسے سڑے شخص سے کوئی امید نہ تھی کہ یہ تجھے شہر دکھاتا یا کچھ کھلاتا. زری اپنی سوچ پر خود ہی مسکرا رہی تھی کہ اسے غازی آتا دکھائی دیا یہ لو غازی نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ایک باکس زری کی گود میں رکھا اور خود گاڑی سٹارٹ کرنے لگا
ہائے اللہ اتنا بڑا برگر، ہمارے گاؤں میں تو بہت چھوٹا ہوتا تھا. زری نے باکس کھولتے ہوئے حیرت سے کہا
کیونکہ تمہارا گاؤں بھی بہت چھوٹا ہے _ غازی کے جواب پر ابھی زری نے کوئی رد عمل دیا ہی نہیں تھا کہ اچانک گاڑی کو شدید بریک لگی جس کی وجہ سے زری کے ہاتھ سے برگر چھوٹتے چھوٹتے بچا کیا ہے دیکھ کے گاڑی نہیں چلا سکتے ….. ؟؟ زری نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے چیخ کر پوچھا جو سامنے سڑک پر دیکھ رہا تھا سالے غازی نے سامنے کھڑی دو بائیک سواروں کو دیکھتے ہوئے زیر لب کہا تو زری بگڑ گئی
پہلی بات تو یہ کہ میرا کوئی بھائی نہیں ہے. دوسرا یہ اتنی گندی شکلوں والے میرے بھائی نہیں ہو سکتے. اس لیے تم انہیں سالے مت کہو. زری کے احتجاج کو غازی نے ذرا بھی خاطر میں نہ لایا اور گاڑی کو ریس دینے لگا جبکہ بائیک سواروں میں سے ایک غازی کی گاڑی کا نشانہ لے رہا تھا
لو جی ابھی پاؤں ٹھیک سے صحیح نہیں ہوا اور یہ پہن بھی چ گئے مزید تمہیں ہلانے زری نے انہیں نشانہ لیتے دیکھ کر بڑبڑایا یہ کسی فلم کی شوٹنگ نہیں ہو رہی بلکہ حقیقی زندگی ہے. غازی نے کہتے ہوئے گاڑی تیزی سے ریورس کی. تم تو کہتے تھے کہ تم کسی سے نہیں ڈرتے مگر اب تم بھاگ رہے ہو. ان کے اوپر گاڑی کیوں نہیں چڑھا دیتے تاکہ ان کی دوبارہ ہمت نہ ہو تمہارا راستہ روکنے کی. زری اتنی ٹینشن میں بھی برگر کھا رہی تھی میں نہیں ڈرتا مگر تمہاری وجہ سے ریورس کی ہے. غازی نے جتلاتی نظروں سے زری کی طرف دیکھا اچھا تاکہ میں آرام سے برگر کھا سکوں. زریں کے لہجے میں طنز تھا جس پر غازی نے زور سے مکا سٹیرنگ پر مارا میرا دماغ مت خراب کرو اور چپ چاپ اپنا کام جاری رکھو. غازی نے سائیڈ مرر میں موٹر سائیکل سواروں کو دیکھا جو اسے کے پیچھے آ رہے تھے. ان میں سے ایک نے گاڑی کے ٹائر کا نشانہ لیا تو گاڑی کا ٹائر پنچر ہوتے ہی وہ اپنا توازن کھو بیٹھی. او شٹ
غازی نے گاڑی قابو کرتے ہوئے کہا
اب تم آرام سے برگر کھاؤ اور پھر آخری دفعہ رنگ برنگی روشنیاں دیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں لگتا تم دوبارہ یہ سب دیکھنے اور کھانے کے قابل بچو گی. غازی نے گاڑی سائیڈ پر لگاتے ہوئے اپنی گن لوڈ کی.
ہائے تم انہیں قتل کرنے لگے ہو. مجھے کتنا شوق تھا. یہ سب دیکھنے کا، شکر ہے اللہ نے میری سن لی. زری کے اس قدر شکر ادا کرنے پر غازی نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا جیسے اس کا ذہنی توازن خراب ہو.
ٹھاہ _ اس سے پہلے کہ غازی ان پر حملہ کرتا ایک گولی سنسناتی ہوئی گاڑی کے شیشے پر لگی تو زری کی چیخوں پر غازی نے اس کی طرف دیکھا 🎭🎭🎭🎭 گل تم نے سنا کہ میر کی بیوی نے کیا شوشہ چھوڑا ہے …..؟ ؟ غلام علی نے گل کی طرف دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا ہاں مجھے معلوم ہے. گل کا انداز بہت عام سا تھا جس پر غلام علی کو حیرت ہوئی کس نے بتایا …..؟ ؟ غلام علی نے کرسی گھسیٹتے ہوئے گل کے قریب کی. میر نے اور کس نے بتانا تھا گل نے مسکراتے ہوئے غلام علی کی طرف دیکھا
تم اچھے سے جانتے ہو کہ میر مجھ سے کچھ بھی نہیں چھپاتا اور یہ بہت بڑی بات تھی. جس کی وجہ سے وہ ساری رات سو نہیں سکا. صبح سب سے پہلے اس نے مجھے یہی بتایا ہے کہ عزین نے اس پر الزام لگایا ہے. گل کے جواب پر غلام علی مایوس سا کرسی پر بیٹھا
کیا ہوا تم کیوں اتنے اداس اور مایوس دکھائی دے رہے ہو……؟؟ گل نے غلام علی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
اس کی بیوی نے سارا کھیل ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے
ہم کچھ اور سوچتے ہیں اور ہو کچھ اور جاتا ہے
سردار بیگم الگ ناراض ہے. اب تو وہ ہم سے بات بھی نہیں کریں گی. غلام علی کے جواب پر گل مسکرانے لگی
غلام علی تم سچ میں بہت بھولے ہو. بے وقوف انسان اس کی بیوی کا یہ الزام ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اگر ہم تھوڑا سی سمجھداری سے کام لیں تو _ گل کی بات پہ غلام علی نے اس کی طرف دیکھا
میں سچ کہہ رہی ہوں اگر کسی طرح میر میڈیکلی رپورٹ میں ثابت ہو جائے کہ ذہنی مریض ہے یا وہ سپلٹ پرسنلٹی رکھتا ہے. تو ہمارے لیے سب کچھ آسان ہو جائے گا.
یہ جائیداد، گھر، بینک، بیلنس خود بخود ہماری جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح گریں گے. سردار بیگم باہر آ جائیں گی اور ہمیں کچھ کرنا بھی نہیں پڑے گا.
میں نے تو سوچ لیا ہے میں ہر صورت عزین کا ساتھ دوں گی کیونکہ اب بندوق میں اس کے کندھے پہ رکھ کر چلاؤں گی. گل کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی
اگر آپ عزین کا ساتھ دیں گی تو میر کو بہت برا لگے گا. غلام علی کی بات پر گل نے باقاعدہ قہقہہ لگایا اور ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ وہ کھل کر ہنستی تھی
میر کے منہ پر میں میر کی ہوں اور عزین کے سامنے اس کا ساتھ دوں گی یعنی میں مصیبت میں گدھے کو “باپ” اوہ سوری میرا مطلب ہے “شوہر” بنانے لگی ہوں. گل کی وضاحت پر غلام علی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا.
ویسے غلام علی تمہارے خیال سے سٹور میں وہ تمام چیزیں کس نے رکھی ہوں گی. کیا واقعی ہی میر نے خود سب کچھ وہاں رکھا ہے تاکہ باقی کنفیوز ہو سکیں یا کوئی اور بھی ہے…..؟ ؟ گل کہ پوچھنے پر غلام علی صاف انکار کر گیا.
باقی سب باتیں تو اپنی جگہ ٹھیک ہیں مگر سٹور میں میر کی چیزوں کا موجود ہونا مجھے کافی کنفیوز کر رہا ہے. گل نے غلام علی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
مجھے خود بھی اس بات کی سمجھ نہیں آرہی. دراصل وہ سٹور کافی ٹائم سے بند ہے. میں اس طرف گیا ہی نہیں اور نہ کبھی مجھے یہ خیال آیا. غلام علی کے جواب پر گل سر ہلانے لگی
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.