Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139

Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Last updated: 3 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aib E Yaar

By Amna Mehmood

کہاں چلی گئی ہے ...... ؟؟ میں نے بولا بھی تھا کہ یہیں رہنا. ماجد نے پورے ویٹنگ ایریے میں نظر گھماتے ہوئے خود کلامی کی. کیا کروں، زی تو مجھے نہیں چھوڑے گا ...... ؟؟ ماجد نے فکر مندی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا. چند لمحے خاموشی سے گزر گئے پھر اچانک ماجد کے ذہن میں جھماکا ہوا اور وہ چلڈرن وارڈ کی طرف چل دیا. مجھے پوری امید تھی کہ تم یہاں ہی پائی جاؤ گی مگر میں تمہیں منع کر کے آیا تھا کہ وہاں سے مت اٹھنا. ماجد نے زریں کو دیکھتے ہوئے کہا جو کسی کے بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھی. تم نہیں آئے تھے تو مجھے بوریت ہونے لگی سوچا ابھی ____ زری نے اتنا ہی کہا تھا کہ ماجد نے اس کی بات بیچ میں سے اچک لی. سوچا کہ دوسروں کے بچے ہی گود لے لوں. ماجد نے مصنوعی مسکراہٹ ساتھ زری کی طرف دیکھا تو اس کے تاثرات بدل گئے. مجھے فضول کی بکواس نہیں پسند، بچے تو سب کو ہی اچھے لگتے ہیں. زریں نے کہتے ہوئے پاس بیٹھی آنٹی کو وہ بچہ دیا اور ماجد کے ساتھ چل دی. میرے خیال سے آپ کے شوہر نامدار کو یہ بچہ والی مخلوق کچھ خاص پسند نہیں. ویسے تو اسے عورت ذات بھی پسند نہیں تھی مگر اب کیا کہا جائے ....؟؟ ماجد نے کندھے اچکاتے ہوئے زریں کی طرف دیکھا تم اتنے سڑیل نہیں جتنا تمہارا دوست ہے. کیا یہ شروع سے ہی ایسا ہے اور تم دونوں کی دوستی کیسے ہوئی ......؟ ؟ زری کے سوال پر ماجد نے اسے آبرو اچکا کر دیکھا ایک منٹ، پہلے مجھے یہ کلئیر کرو کہ اتنے سڑیل سے کیا مراد ہے ...... ؟؟ ماجد کے لہجے میں تھوڑی خفگی تھی تو زرعی مسکرائی. اتنے سڑیل سے مراد جو بھی ہے تم اسے رہنے دو اور یہ بتاؤ کہ تمہاری دوستی کیسے ہوئی .....؟؟ زریں نے اپنا سوال دہرایا. ہم دونوں ایک ہی یتیم خانے میں پلے بڑھے ہیں. بس وہاں سے ہماری دوستی ہو گئی. ماجد نے مختصر سا جواب دیا. یعنی تم دونوں کے والدین نہیں ہیں. زری نے افسوس سے کہا تو ماجد ہنس پڑا. وہ دونوں اس وقت پارکنگ کی طرف جا رہے تھے. بی بی ہمارے والدین تو یقیناً ہوں گے مگر ہمیں نہیں معلوم کیونکہ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ہمارے والدین نہ ہوں. ماجد کے جواب پہ زری تھوڑا سا شرمندہ ہوئی اب وہ دونوں گاڑی کے قریب پہنچ چکے تھے. تم دونوں میں احساس نام کی چیز نہیں ہے. میں یہاں تکلیف سے مر رہا ہوں. مجھے آرام کی ضرورت ہے اور تم دونوں کیسے ٹہل ٹہل کر تشریف لا رہے ہو. جیسے ہی ماجد نے بیک ڈور کھولا غازی اس پر برس پڑا. اور تمہیں تو میں گھر جا کر بتاؤں گا. غازی نے لال انگارہ آنکھوں سے زریں کی طرف دیکھا تو اسے پہلی بار ڈر لگا. گاڑی تیز چلاؤ اور راستے سے نیا موبائل خرید لینا. مجھے میر سے بات کرنی ہے. غازی نے آنکھیں بند کرتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو ماجد سر ہلانے لگا جبکہ زری ماجد کی فرمانبرداری پر دل میں اسے داد دینے لگی. 🎭🎭🎭🎭 کیا کہا تم نے ذرا دوبارہ کہنا. مجھے ٹھیک سے سنائی نہیں دیا. میر نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے عزین کی طرف قدم بڑھائے. میں نے کہا ہے کہ گل معذور نہیں ہے یعنی وہ چل پھر سکتی ہے. صرف معذوری کی ایکٹنگ کرتی ہے. اب کی بار پراعتماد لہجے میں عزین نے میر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا سیریسلی ____ میر نے سنجیدہ چہرے ساتھ عزین سے پوچھا ہنڈرڈ پرسنٹ ____ عزین کے جواب پر میر ہنسنے لگا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا. میرا نہیں خیال کہ میں نے آپ کو کوئی لطیفہ سنایا ہے جو آپ یوں ری ایکٹ کر رہے ہیں. عزین کو برا لگا میرے لیے یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں ہے کیونکہ گل کی ٹانگوں میں گولیاں لگی تھیں. ڈاکٹرز کے مطابق اس کی ہڈی متاثر ہوئی جس کی وجہ سے وہ آج تک اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکی. جبکہ وہ ایک انتہائی زندہ دل لڑکی ہے. اسے کیا ضرورت ہے ایسی بےہودہ ایکٹنگ کرنے کی جس کا اسے کوئی فائدہ نہیں الٹا نقصان ہے. تم نے مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے کہ جو کہو گی اس پہ میں آنکھ بند کر کے ایمان لے لوں گا. آئندہ میرے ساتھ اس طرح کی فضول باتیں کرنے کی ضرورت نہیں. ورنہ نتائج کی ذمہ دار تم جود ہو گی.تم یہاں ایک ایگریمنٹ کی وجہ سے موجود ہو. اس گھر پہ قبضہ کرنے کے خواب نہ دیکھو. یہی تمہارے لیے بہتر ہے. میر کا لہجہ ایک دم سرد ہوا تو عزین نے اپنا سر جھٹکا بار بار مجھے یہ احساس دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں یہاں ایک ایگریمنٹ کی وجہ سے موجود ہوں. آپ نے مجھے جو ڈیوٹی دی تھی میں نے اس کے مطابق رپورٹ کی ہے. کہ آپ کی لاڈلی بیوی چل پھر سکتی ہے معذور نہیں لیکن اگر آپ کو جان بوجھ کے دھوکا کھانے کا شوق ہے تو پھر مجھ سے آئندہ ایسی کوئی امید مت رکھیے گا. مجھے صرف یہ بتائیں کہ میں نے کیا کرنا ہے ...... ؟؟ عزین نے کھڑے ہوتے ہوئے بازو سینے پر باندھے تمہارا کام تو گل کی مخبری ہی کرنا ہے مگر ڈھنگ کی. میرا مطلب ہے ایسی مخبری جس سے مجھے پتہ چلے کہ وہ کیا سوچ رہی ہے اور وہ آئندہ کیا کرنا چاہتی ہے یا ماضی میں اس نے کیا کیا تھا اور کیوں ....؟؟ میر کو خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے عزین کو اپنی بات سمجھائے. آج تو آپ نے مجھ پر یہ الزام لگا دیا کہ میں آپ کے گھر پہ قبضہ کرنا چاہتی ہوں لیکن آئندہ اگر آپ نے ایسی بات کی تو میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے چلی جاؤں گی. کیونکہ میرے نزدیک سب سے زیادہ میری سیلف رسپیکٹ ہے. مسٹر میر آپ اس چیز کا خیال رکھیں. عزین کو اپنی بےعزتی کا بری طرح احساس ہوا.