Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
شکر ہے کہ تو آگیا، ورنہ پتہ نہیں یہ لوگ میرا کیا حشر کرتے ……. ؟؟ غازی نے ماجد کو گلے ملتے ہوئے سرگوشی کی.
بیٹے تو اِدھر کُھرے میں ہاتھ منہ دھو لے. پھر میں تم دونوں کو کھانا دیتی ہوں. ماسی پھلاں کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا. اس کے بیٹے کا دوست آیا تھا.
کیا واقعی ہی یہ شخص تیرا دوست ہے …… ؟؟ ماسی پھلاں سے آنکھ بچاتے زری نے انتہائی حیرت سے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں ہے _ غازی کے لہجے میں عجیب طرح کا ایک غرور تھا جبکہ اس ساری کاروائی میں ابھی تک ماجد خاموشی ہی سے ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا. حیرت ہے تیرا دوست تو دیکھنے میں کافی انسان لگتا ہے. میرے خیال تھا کہ تیرے سارے جاننے والے بالکل تیری طرح ہوں گے. زری نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا. مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں نے یہ جگہ پہلے بھی کبھی دیکھی ہے. ماجد نے کھوئے سے لہجے میں کہا تو زریں ہنس دی. ہمارا گھر میں کسی فلم اور ڈرامے کی شوٹنگ نہیں ہوئی اس لیے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے. زری نے دونوں کے آگے کھانا رکھتے ہوئے جواب دیا. تو ماجد اٹھ کر ایک سمت چل دیا. تیری تو ٹانگوں پر چوٹ لگی تھی. تیرے دوست کو کیا سر پر لگی ہے. کس طرح پورے گھر میں پھر رہا ہے. زری نے شکل بناتے ہوئے ماجد پر تبصرہ کیا تو غازی کو بھی ماجد کے رویے پر حیرت ہوئی عام حالات میں تو یہ ایسا کچھ نہیں کرتا مگر تمہارے گھر میں یہ خوبی ہے کہ ہر بندہ جو کام عام حالات میں نہیں کرتا وہ کرنے لگ جاتا ہے. جیسے تم مجھے دیکھ لو میرا نرمی سے بات کرنا، تمہاری اس ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر لیٹنا، گندے مندے برتنوں میں کھانا کھانا وغیرہ غازی نے کافی دنوں کا ادھار چکاتے ہوئے جواب دیا. ماجد نے پورے گھر کا ایک چکر لگایا اور دوبارہ غازی کے برابر آ بیٹھا جس پر ماسی پھلاں اسے غور سے دیکھنے لگی. پتر تو پہلے آرام سے کھانا کھا لے پھر گھر اور کھیت دیکھ لینا. اس طرح کیوں پورے گھر میں پھر رہا ہے. کیا کوئی پریشانی ہے یا ہمارے گھر کی کسی نے شکایت لگائی ہے …… ؟؟ ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے. بس ویسے ہی مجھے گاؤں کے گھر دیکھنے کا بہت شوق تھا تو میں نے سوچا دیکھ لوں. جیسے ہی ماجد نے ماسی پھلوں کو یہ جواب دیا غازی نے کھانسی شروع کر دیا. میں نے تو اتنے برسوں میں تیرے منہ سے کبھی اس خواہش کا اظہار نہیں سنا، اس کا مطلب ہے تو مجھ سے بھی باتیں چھپتا ہے. غازی کے لہجے میں واضح طنز تھا لیکن ماجد بالکل سنجیدگی سے ماسی پھلاں کو دیکھ رہا تھا. کیا تجھے بیسن کی روٹی پسند نہیں ……. ؟؟ میں تجھے سادی روٹی بنا دیتی ہوں. پہلے میرا بیٹا بھی بیسن کی روٹی نہیں کھاتا تھا لیکن اب دیکھ بڑا ہو کے کھانے لگا ہے. ماسی نے محبت سے غازی کی طرف دیکھا جو مزے سے کھانا کھا رہا تھا. (اس لیے کہ یہ آپ کا بیٹا نہیں ہے. زری نے دل میں جواب دیا مگر منہ سے کچھ نہ کہا) اچھا اب ہم چلتے ہیں. کھانے سے فارغ ہوتے ہی ماجد نے جیب سے موبائل نکال کر اپنی ڈرائیور کو کال کی تو ماسی پھلاں پریشان ہو گئی. بیٹا تیرا جتنا دل کرتا ہے تو یہاں رہ مگر میں اپنے سانول کو یہاں سے جانے نہیں دوں گی. ماسی کے لہجے میں سختی تھی ماجد نے مڑ کر ان کے بوڑھے چہرے کی طرف دیکھا اماں اسے بہت چوٹ لگی ہے. اس طرح اس کا پاؤں خراب ہو جائے گا. میں اسے شہر ہسپتال میں داخل کراؤں گا. جب یہ ٹھیک ہو گیا تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں اسے خود واپس لے کر آؤں گ. ا ماجد نے ماسی پھلاں کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں تسلی دی نہ پتر اس طرح تو میں اسے جانے نہیں دوں گی. کم از کم اور کچھ نہیں تو یہ زری سے نکاح کر کے اسے بھی ساتھ لے کر جائے گا تاکہ میری پریشانی دور ہو. جیسے ہی ماسی پھلاں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تینوں کے منہ کھل گئے ماسی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں …..؟ ؟ سب سے پہلے زری نے احتجاج کیا تو اس کی قابل رحم حالت دیکھتے ہوئے غازی نے خاموشی بہتر سمجھی جبکہ ماجد دونوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں. تو ایک دن ہمارے پاس ٹھہر جا، میں سب گاؤں والوں کو اطلاع کر دوں. کل صبح نماز کے بعد ان دونوں کا نکاح کر دیں گے. اس طرح میرا دل مطمئن رہے گا. میری ذمہ داری بھی اتر جائے گی اور زری اس کا شہر میں اچھی طرح خیال بھی رکھ لے گی. ماسی پھلاں نے انتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کیا جس پر زری نے اپنا ماتھا پیٹ لیا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے. اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے غازی نے فوراً سر ہاں میں ہلایا تو ماجد کی آنکھیں پھیل گئیں.
غازی اور وہ بھی شادی کے لیے خوشی سے مان جائے ناممکن ماجد نے آہستہ آواز میں غازی کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا اس لڑکی کی طرف میرا بہت حساب نکلتا ہے. غازی نے بظاہر مسکراتے ہوئے جواب دیا تو ماجد خاموش ہو گیا. 🎭🎭🎭🎭 کھانے کی میز پر مکمل خاموشی تھی. صرف میر اور عزین کھانے میں مشغول تھے جبکہ غلام علی اور گل ایک دوسرے اور کبھی ان دونوں کو دیکھتے. آج تو آپ نے کھانا بھی میری پسند کا بنوایا ہے. وہ بھی اتنا ذائقے دار، بہت عرصے بعد میں نے گھر پر تسلی سے کھانا کھایا ہے. کھانے کے آخر میں میر نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے گل کی طرف تعریفی انداز میں دیکھا تم نے تسلی سے کھانا کھایا، میرے لیے اتنا ہی کافی ہے. گل نے ہمیشہ کی طرح محبت بھرے لہجے میں جواب دیا. (توبہ ہے دونوں ہی کتنے بڑے منافق ہیں. کس طرح منہ پر ایک دوسرے کے میاں مٹھو بنے ہوتے ہیں اور پیچھے آج مجھے یہ کہاوت سمجھ آئی ہے “بغل میں چھری اور منہ پہ رام رام” ع نے بھی ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے اپنے دل کی بات دل میں ہی کہی) عزین تم نے گل سے کچھ کہنا تھا اب کہہ بھی دو کھانے سے فارخ ہوتے ہی میر نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے عزین کو پکارا تو وہ اپنے خیالات سے چونکی
میں نے کہنا تھا ……؟ ؟ مگر اب میں چاہتی ہوں میری جگہ آپ ہی کہہ دیں. عزین نے پہلے ناسمجھی سے اپنے سینے پر انگلی رکھی مگر پھر میر کی آنکھوں میں وارننگ دیکھ کر فوراً بات بدلی.
چلو کوئی بات نہیں، میں ہی کہہ دیتا ہوں. ویسے بھی تمہارا کہنا اور میرا کہنا ایک ہی بات ہے. میر نے سخت نظروں سے عزین کو گھورتے ہوئے گل کی طرف دیکھا
اصل میں عزین چاہتی ہے کہ اب آپ ارام کریں اور وہ سب کام کرے گی اور میری بھی یہی خواہش ہے کہ اب آپ بس حکم دیا کریں. یہ بجا لائے گی. میر کی بات پر گل کی ہوائیاں اڑنے لگیں
ارے یہ کیسے اس گھر کا انتظام سنبھال سکتی ہے …… ؟؟ یہ تو ابھی بالکل نئی ہے. ہماری روایات سے واقف نہیں، ویسے بھی اسے کیا پتہ کہ کیا کرنا ہے ابھی بہت چھوٹی ہے.
میرا مطلب ہے کہ یہ ابھی نئی نئی ہے.گل کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا بول رہی ہے اور اس کی یہ بوکھلاہٹ میر کو مزہ دے رہی تھی.
(یہ دونوں پتہ نہیں کون سا بلی چوہے کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں مگر مجھے تو سخت نیند آ رہی ہے. ہائے عزین پتہ نہیں کب تک سونا نصیب ہو گا …… ؟؟ عزین نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سرد آہ بھری)
گل میں چاہتا ہوں کہ اپ اپنی دوائیاں ٹائم پر لیں اور خوب آرام کریں تاکہ آپ جلد جلد صحت یاب ہو کر زندگی کی طرف لوٹیں. اس لیے اب آپ مزید کوئی دلائل نہیں دیں گی. جہاں عزین غلطی کرے گی وہاں اصلاح کر دیجئے گا مگر یہ ہی کل سے گھر کا انتظام سنبھال لے گی. میر حتمی بات کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
شکر ہے جان چُھوٹی میر کے کھڑے ہوتے ہی عزین بھی اپنی کرسی چھوڑ کر کھڑی ہو گئی مگر اب مشکل یہ تھی کہ اس نے کہاں جانا تھا ……؟ ؟ چند قدم آگے کی طرف بڑھاتے ہوئے پلٹ کر میر نے عزین کی طرف دیکھا جو بڑی کنفیوز سی کھڑی تھی. میرے خیال سے تمہیں “ساتھ چلنے کا” کہنے کی مجھے اب ضرورت نہیں. میر کے جملے پر عظیم تیزی سے اس کے پیچھے چل دی جب کہ غلام علی اور گل ایک دوسرے کو دیکھنے لگے غلام علی یہ ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہے بلکہ بالکل اچھا نہیں ہے. اس لڑکی کا گھر کا انتظام سنبھالنا ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے. تم سمجھ رہے ہو نا کہ میں تمہیں کیا کہہ رہی ہوں ……. ؟؟ گل کی بات پر غلام علی سر ہلانے لگا گل مجھے ایسے لگتا ہے کہ میر کو ہمارے ارادوں کی خبر لگ گئی ہے. ورنہ وہ کبھی بھی ایسا قدم نہ اٹھاتا کیونکہ مجھے ان دونوں میں کہیں بھی “محبت” نظر نہیں آرہی ہاں “سازش” صاف دکھائی دے رہی ہے. پہلی دفعہ غلام علی کی بات پر گل نے چونک کے اسے دیکھا مجھے تم سے اتنی ذہانت کی امید نہیں تھی مگر تم درست کہہ رہے ہو. گل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو غلام علی نے خشگمین نظروں سے انھیں گھورا میر کو اب راستے سے ہٹانا بہت مشکل ہو گیا ہے مگر ناممکن نہیں. یہی اس کی لاڈلی ہمارے کام آئے گی. خاصی بےوقوف لگ رہی ہے. گل جواب دیتی اپنی ویل چئیر چلانے لگی. مگر مجھے ایسے نہیں لگتا غلام علی نے گل کی چیئر کو پکڑتے ہوئے کمرے کی طرف موڑا
🎭🎭🎭🎭
بیٹھو کمرے میں داخل ہوتے ہی میر نے عزین کو بیٹھنے کا کہا اور خود دروازہ بند کرتے ہوئے پلٹا
ماجد تمہارا کیا لگتا ہے …..؟ ؟ میر کا سوال عزین کے ہوش اڑا گیا.
آپ ماجد کو کیسے جانتے ہیں …..؟ ؟ عزین کے پوچھنے پر میر مسکراتا ہوا بیڈ پر بیٹھ گیا
پہلے تم اپنے سوال کو درست کرو. میرے خیال سے تم یہ پوچھنا چاہتی ہو کہ میں تمہارے اور ماجد کے بارے میں کیسے جانتا ہوں ……. ؟؟ میر نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے کہا تو عزین نے سر ہاں میں ہلایا
دیکھو عزین بی بی!!! میں جب کتا بھی اپنے ویلا میں لاتا ہوں. تو سب سے پہلے اس کے حسب نسب کا پتہ کرتا ہوں کہ وہ وفادار ہے یا نہیں. تو تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں تمہیں اپنے گھر لاؤں گا وہ بھی تمہاری تحقیق کیے بغیر میر نے سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کی ڈبیا اٹھاتے ہوئے جواب دیا
مگر میں تو وفادار نہیں پھر آپ نے میرا انتخاب کیوں کیا ……؟ ؟ عزین کے پوچھنے پر میر نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑا.
تم وفادار تو نہیں مگر تم میں وہ تمام خوبیاں پائی جا رہی تھیں جو مجھے اپنے منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک لڑکی میں چاہیے تھی. میر کے جواب پر عزین ہنس دی
اچھا پھر تو آپ میرے بارے میں اور بھی بہت کچھ جانتے ہوں گے جیسے کہ میں اب عزین کا اعتماد بحال ہو چکا تھا
جیسے کے تم ایک بہت اچھی دھوکے باز لڑکی ہو. تم نے انتہائی صفائی سے حاشر کو تو بے وقوف بنا لیا مگر مجھے نہیں کیونکہ میں اچھے سے جانتا ہوں تم وکیل نہیں ہو گو کہ تم نے وکالت پڑھی ہے. میر کی بات پر اب عزین حیران نہیں ہوئی.
اگر آپ میرے بارے میں اتنا سب کچھ جانتے ہیں تو پھر آپ نے مجھے کیوں سلیکٹ کیا ……؟ ؟ عزین نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا
میں تمہارے سوال کا جواب پہلے ہی دے چکا ہوں مگر پھر بھی مزید تفصیل سے بتا دیتا ہوں کیونکہ ماجد تمہارا منگیتر ہے تو وہ جیل میں تمہاری مدد کرے گا.
یہ محبت بڑی عجیب چیز ہوتی ہے. چاہے محبوب بے وفائی ہی کیوں نہ کرے مگر انسان اسے دکھ اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا.
دوسرا تم وکیل تو نہیں ہو مگر تم وکالت پڑھنے کی وجہ سے قانونی داؤ پیچ اچھے سے جانتی ہو اور یہ بھی کہ کس وقت کون سا کھیلنا ہے …… ؟؟ تم ایک شاطر لڑکی ہو.
اور سب سے خاص بات یہ کہ تم مجھے انتہائی ناپسند ہو. اس لیے مجھے تم سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے تم سے محبت ہو جائے گی اور میں کسی جذباتی مسئلے کا شکار ہوں گا. میر نے کہا تو عزین نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے
اگر آپ نے مزید بھی کوئی سانپ نکالنا ہے تو اپنی پٹاری میں سے نکال لیں ورنہ مجھے سونے دیں کیونکہ میں اتنی دیر تک جاگنے کی عادی نہیں. اب کی بار عزین نے اپنی جمائی روکتے ہوئے کہا تو میر مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا
سو جاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر سونے سے پہلے اپنی منہ دکھائی تو لے لو. تمہیں بہت شوق ہے منہ دکھائی لینے کا ہوتا ہے جب بندے کی پہلی پہلی شادی ہو تو میر طنز کرتا ہوا اپنی الماری کی طرف بڑھ گیا یہ لو میرے خیال سے یہ تمہارے بہت کام آئے گی اور یہ انتہائی نایاب تحفہ ہے کسی بھی دلہن کے لیے میر نے کہتے ہوئے ایک فائل عزین کی گود میں رکھی
یہ کیا ہے …… ؟؟ عزین نے کھولے بغیر میر کی طرف دیکھا
ویسے تو تم پڑھی لکھی ہو. پر چلو تمہاری آسانی کے لیے بتا دیتا ہوں. تمہاری وکالت کی ڈگری ہے. اب تم حکومت پاکستان کے کاغذوں میں ایک وکیل ہو. سوچا تمہاری خواہش ہی پوری کر دوں. آخر تمہارے بچپن کی خواہش تھی کہ تم بلیک کوٹ پہنو. میر کی بات پر عزین کا سر چکرانے لگا
بظاہر یہ ایک کھڑوس سا انسان ہے مگر حقیقت میں اس نے میرے بارے میں کتنی تحقیق کی ہے. مجھے اب اس سے ڈر لگ رہا ہے. عزین نے دل میں سوچتے ہوئے نگاہیں جھکا لیں.
شرمندہ مت ہو. ہم میں سے سب میں عیب موجود ہے مگر تمہاری قابلیت تمہارے عیبوں پر حاوی ہے. اسی لیے میں نے تمہارا انتخاب کیا. گڈ نائٹ
میر نے کہتے ہوئے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو کمرے میں نائٹ بلب کی ہلکی ہلکی سی روشنی میں سب کچھ واضح ہونے لگا جبکہ اب عزین کی نیند اڑ چکی تھی.
🎭🎭🎭🎭
سردار بی بی!!! آپ کی ملاقات آئی ہے. جیسے ہی جیلر نے آواز لگائی. جیل میں بیٹھی ایک معتبر خاتون جو ابھی بھی کسی ریاست کی ملکہ لگ رہی تھی. نے نظر اٹھا کر اوپر دیکھا.
اس سے جا کر بول دو کہ میرا فی الحال ملنے کو دل نہیں کر رہا. لہجے میں ٹھہراؤ اور تمیز واضح تھی.
بی بی میں نے پہلے ہی آپ کے حکم کے مطابق اس سے بول دیا تھا مگر وہ باضد ہے کہ اس نے بہت ضروری بات کرنی ہے. میری مانے نے تو اج آپ ملاقات کر ہی لیں. جیلر نے غلام علی کے دیے پیسوں کی طاقت پر انہیں قائل کرنے کی کوشش کی
پانچ منٹ سے زیادہ بات نہیں سنوں گی اور اگر پانچ منٹ سے ایک منٹ بھی اوپر ہوا تو سمجھو تمہاری خیر نہیں. سردار بیگم کے کھڑے ہوتے ہی ان کے آس پاس موجود دوسری کم عمر قیدی لڑکیاں جو انھیں دبا رہیں تھیں کھڑی ہو گئیں.
ملاقات کے کمرے میں اس وقت مکمل خاموشی کا راج تھا دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے تھے مگر بات میں پہل کرنے کی کسی میں ہمت نہ تھی.
اگر تم نے مجھے اپنا یہی مایوس چہرہ دکھانا تھا تو بہتر تھا کہ نہ آتے ور گل کو میرا پیغام دے دینا کہ میں اس سے سخت ناراض ہوں. مجھے تم سے تو نہیں مگر اس سے بہت امیدیں وابستہ تھیں. سردار بیگم کے لہجے میں بہت دکھ تھا وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں.
آپ کو بہت مبارک ہو _ اس سے پہلے کہ سردار بیگم کمرہ ملاقات سے باہر نکلتی غلام علی کے جملے پر پلٹی کیا میر مر گیا ہے یا تم نے مار دیا ہے ……. ؟؟ تم میں تو اتنی ہمت نہیں یقیناً اپنی موت خود ہی مرا ہوگا. سردار بیگم نے پلٹتے ہوئے پوچھا نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ اس نے شادی کر لی ہے. وہ بھی اپنی پسند کی لڑکی سے غلام علی نے کھڑے ہوتے ہوئے با ادب جواب دیا تو سردار بیگم نے اسے دیکھ کر ہنسنا شروع کر دیا
جیل میں تو میں رہتی ہوں مگر لگتا ہے دماغ تمہارا خراب ہو گیا ہے. میر اور شادی میں نہیں مانتی. سردار بیگم ہنستے ہوئے دوبارہ بیٹھ گئیں.
سردار بیگم میں سچ کہہ رہا ہوں. میر نے کل رات شادی کر لی ہے اور اس بات کا علم آخری دم تک مجھے اور گل کو نہیں تھا ورنہ ہم ضرور کچھ کرتے. اب آپ بتائیں کہ ہم کیا کریں ……. ؟؟ غلام علی نے پریشانی سے سردار بیگم کی طرف دیکھا تو ان کی ہنسی کو بریک لگی
اگر یہ سچ ہے تو تم دونوں کو ڈوب مرنا چاہیے. تم دونوں اتنے سالوں سے ایک میر کو قابو نہیں کر پائے اور میں یہاں جیل کے پیچھے بے گناہ سزا بھگت رہی ہوں.
آئیڈیا تو ہم سب کا تھا لیکن سزا صرف میں نے بھگتی ہے. اس بنا پہ کہ تم دونوں آزاد ہو گے تو میرے لیے کچھ کر سکو گے مگر سردار بیگم نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا اب میرے پاس کیا لینے آئے ہو ……… ؟؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے _ دوبارہ مجھے اپنی یہ مایوس شکل مت دکھانا کیونکہ تمہاری اس مایوسی میں مجھے اپنی موت دکھائی دیتی ہے. سردار بیگم کہتی ہوئی تیزی سے کمرہ ملاقات سے نکل گئیں جب کہ غلام علی انہیں آوازیں ہی دیتا رہ گیا.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.
پیارے ریڈرز بہت سارے لوگوں کو مجھ سے یہ شکایت ہے کہ ناول کا کوئی منہ پاؤں نہیں ہے یعنی انہیں ناول کی کچھ سمجھ ہی نہیں لگ رہی.
میں نے آگے بھی آپ لوگوں سے پوچھا تھا کہ اگر نہیں پسند آرہا تو روک دیتی ہوں لیکن میرا اس دفعہ سسپنس لکھنے کو دل کیا ہے تو تھوڑا سا رائٹنگ سٹائل تبدیل کیا ہے.
جب میں اپنے پرانے اور اچھے ریڈرز کے کمنٹس پڑھتی ہوں کہ انہیں بھی کہانی کی سمجھ نہیں لگ رہی تو مجھے بہت دکھ لگتا ہے. یار تھوڑی سی تعریف کر دیا کرو دل خوش ہو جاتا ہے
