Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
رنگ برنگی مدہم اور تیز روشنیوں ساتھ بے ہنگم میوزک طبیعت میں سخت بیزاری پیدا کر رہا تھا مگر غازی یوں بیٹھا ارد گرد کے سے لطف اندوز ہو رہا تھا جیسے وہ کسی کلب میں نہیں بلکہ صحت افزا مقام پر بیٹھا ہو.
زی چل ناااااا بہت رات ہو گئی ہے گھر والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے ویسے بھی مجھے اس ماحول سے کراہت محسوس ہو رہی ہے. ماجد نے اپنی جمائی روکتے ہوئے کوئی تیسری بار غازی سے کہا
حیرت ہے تم پولیس والوں کو بھی کسی چیز سے کراہت محسوس ہوتی ہے …….. ؟ غازی نے کاؤنٹر پہ کھڑی لڑکی کو گھورتے ہوئے جواب دیا.
اب اس میں کیا خاص بات ہے ……… ؟ غازی کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے ماجد نے پوچھا
اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ ہر ہفتے اپنا بوائے فرینڈ بدلتی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب اس کے بارے میں جاننے کے باوجود بھی خوشی خوشی اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں. غازی نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے حقارت سے اس کی طرف دیکھا
پھر تُو اب تک کیسے بچا ہوا ہے ………. ؟؟ ماجد کے لہجے میں طنز تھا
کیونکہ میں عورت ذات میں ذرا برابر بھی دلچسپی نہیں رکھتا. میرے خیال سے اس زمین پر جتنے بھی فساد برپا ہوتے ہیں اس کی وجہ یہی مخلوق ہے. غازی سگریٹ پھینکتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں. ماجد نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا.
ہاں تو یہ بات کہہ سکتا ہے کیونکہ تو خود اس مخلوق کی قید میں ہے. غازی کہتا ہوا ایگزیٹ ڈور کی طرف چل دیا تو ماجد بھی شکر کا کلمہ پڑھتا اس کے پیچھے ہو لیا.
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ اس ماحول میں تیرا سر نہیں چکراتا. میرے تو سر میں درد شروع ہو گیا ہے. ماجد نے باہر نکلتے ہی اپنا سر دبایا.
یہ جگہ اور یہ ماحول تو پولیس والوں کو بہت راس آتا ہے پتہ نہیں کیوں تجھے اچھا نہیں لگتا…..؟ غازی کندھے اچکاتا گاڑی انلاک کرنے لگا
میں ڈرائیو کروں گا تُو اپنے ہوش میں نہیں ہے. بہت سموکنگ کی ہے. ماجد نے فورا ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے کہا تو غازی مسکراتا دوسری طرف چل دیا.
بہت رات ہو گئی ہے. ماجد نے گاڑی چلاتے ہوئے اپنی گھڑی پر نظر دوڑائی.
بس کر دیں ایس ایچ او ماجد صاحب!!! ابھی تو بہت رات پڑی ہے ویسے بھی میں سوچ رہا ہوں اگر اس سنسان سڑک پر اچانک کوئی چیز نمودار ہو جائے تو تجھے لازمی ہارٹ اٹیک آ جائے گا. غازی نے قہقہہ لگایا جبکہ ماجد نے تیزی سے بریک پر پاؤں رکھا بریک اتنے زور سے لگی کہ ٹائروں سے چنگاریاں نکل آئیں.
غازی نے پہلے حیرت سے ماجد کی طرف دیکھا جو سامنے دیکھ رہا تھا پھر سڑک پر نگاہ پڑتے ہی اس کا ہاتھ غیر ارادی طور پر اپنی پسٹل کی طرف گیا.
زی نہیں _ غازی نہیں. پلیززز، ماجد چیختا رہ گیا مگر ایک منٹ کے ہزارویں حصے میں غازی نے سامنے بائیک پر موجود دونوں شخص کو اپنے گولیوں سے بھون ڈالا. میں اسی لیے تیرے ساتھ کہیں باہر نہیں جاتا. تُو ہر بار میرے لیے مشکل کھڑی کر دیتا ہے. ان کی بات سننے تو دیتا، ہو سکتا ہے وہ صلح کے لیے آئے ہوں ……؟ ؟ ماجد نے تیزی سے گاڑی کو مخالف سمت میں ڈالتے ہوئے زی سے کہا جو ریلیکس انداز میں بیٹھا مسکرا رہا تھا میری جان اتنی رات کو کوئی صلح کے لیے کوئی نہیں آتا. اگر میں ان کو نہ مارتا تو ہم دونوں اب تک مقتول بن چکے ہوتے. غازی کے جواب پر لاچاری سے ماجد نے اسے دیکھا تُو کیوں قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے. مجھے تیری یہ عادت بہت بری لگتی ہے. ہزار دفعہ سمجھایا ہے مگر تجھے سمجھ نہیں آتی. چند پیسوں کے عوض تو اپنی جان داؤ پر لگا دیتا ہے وہ جو تیرا سیٹھ ہے نااااا کیا نام ہے اس کا ……. ؟؟ ماجد نے اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے زی کی طرف دیکھا
میر، “میر طلال ” نام ہے اس کا زی نے احسان کرنے والے انداز میں ماجد کو جواب دیا
وہ تیرا ہمدرد نہیں ہے وہ اپنے مطلب کے لیے تجھے ایک دن کال کوٹری میں پہنچا کے چھوڑے گا. ماجد نے تیزی سے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا
پتہ ہے ایس ایچ او ماجد صاحب!!! آپ بھی میری زیادہ فکر نہ کیا کریں. مجھے اس زندگی کی ضرورت بھی نہیں ہے میں خود “خود” سے تنگ ہوں. سمجھے
زی کے جواب پر ماجد نے غصے سے گاڑی کی سپیڈ اور بڑھا دی
مانا کہ میرے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے مگر تیرے تو ہے نااااااا زی نے میٹر کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا.
پسٹل تو تیری کنٹرول میں نہیں رہتی کم از کم زبان ہی کنٹرول میں کر لیا کر ماجد نے گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے جواب دیا تو غازی قہقہہ لگانے لگا
🎭🎭🎭🎭
میر صاحب ناشتہ تیار ہے. غلام علی نے مودبانہ لہجے میں عرض کی.
آ رہا ہوں میر نے ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم کی بوتل اٹھاتے ہوئے جواب دیا.
جو حکم سرکار
غلام علی جن قدموں سے اندر داخل ہوا تھا انہی پر واپس لوٹ گیا
جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ میر صاحب آ رہے ہیں. غلام علی کی بات پر سب کے سب اپنے اپنے کاموں میں لگ کے جو ابھی تک ٹیبل کے پاس کھڑے غلام علی کے حکم کا انتظار کر رہے تھے.
مالی نے جلدی سے تازہ گلابوں کا گلدستہ میز پر پڑے انتہائی قیمتی گلدان میں لگایا جس سے اس کی خوبصورتی میں مزید چار چاند لگ گئے جبکہ خانساماں میز پر ناشتے کے لوازمات لگانے لگا.
میر ابھی تک نہیں آیا …..؟؟ گلبدین نے اپنی ویل چیئر گھسیٹتے ہوئے تعجب سے پوچھا
گل بی بی ابھی صاحب ہی کی طرف سے آ رہا ہوں. وہ تیار ہو رہے تھے. غلام علی کے جواب پر گلبدین سر ہلاتی اپنی جگہ پر آ رکیں.
اتنا بڑا گھر ہے بلکہ مکان، ہر طرح کی آسائش سے بھرا ہوا، ہر چیز موجود ہے اور جو نہیں ہے وہ میر کے ایک حکم پر حاضر ہو جاتی ہے مگر گلبدین نے رنگ برنگے کھانوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو غلام علی بھی افسردہ ہو گیا.
گل بی بی کیوں صبح صبح اپنا دل جلاتی ہیں میر صاحب نے سنا تو غصہ کریں گے.
میں کیوں غصہ کروں گا. کیا میں نے آپ پر کبھی غصہ کیا ہے ……. ؟؟ میر نے اپنی مخصوص نشست پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا تو غلام علی شرمندہ سا ہاتھ باندھے پیچھے کھڑا ہو گیا
میر مجھے اتنے بڑے مکان میں وحشت ہوتی ہے. میں ایک دن تنہائی سے مر جاؤں گی. گل بی بی کی بات پر میر کا بریڈ کی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا.
یہ جو نوکروں کی اتنی بڑی فوج میں نے اپ کے لیے اس میں بھرتی کر رکھی ہے کیا اس کے ہوتے ہوئے بھی آپ کو تنہائی کا احساس ہوتا ہے …… ؟؟
آپ کا دل بہلانے کے لیے میں نے آپ کی پسند کے پودے لگائے ہیں حالانکہ مجھے سبزے سے الرجی ہے. آپ کی پسند کی پینٹنگ جگہ جگہ لگی ہیں. اتنے خدمت گار اس ویلاز میں موجود ہے جتنے ایک دن میں گھنٹے نہیں ہوتے. پھر بھی آپ کو تنہائی کا احساس ہوتا ہے کمال ہے …؟؟ میر نے تمسخرانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے دوبارہ بریڈ سلائس کی طرف ہاتھ بڑھایا جبکہ باقی سب خاموش تماشائی تھے.
یہ سب بے جان چیزیں اور غیر لوگ
کیا کبھی اپنوں کی جگہ لے سکتے ہیں ……؟؟ گل بی بی کی آواز میں انتہائی درد تھا. سلائس پر جیم لگاتے ہوئے میر کا ہاتھ رکا.
آج پھر اپنوں کی یاد کا دورہ پڑا ہے. غلام علی انہیں قبرستان لے جائیے گا. میر کہتا ہوا اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا. آج پھر ناشتے سے بھرا ہوا میز ویسے کا ویسا ہی رہ گیا تھا. کئی بار ایسا ہوتا تھا کہ میر بہت شوق سے کھانا بنواتا مگر ایک لقمہ بھی آرام سے نہیں کھا سکتا شاید کسی کی بددعا لگی تھی.
اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں. ان کی ناشکری نہیں کی جاتی. روز اتنا کچھ بنواتے ہو اور کھاتے کچھ بھی نہیں. گلبدین نے میر کو ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے دیکھ کر کہا
اپنی کمائی سے سب کچھ بنواتا ہوں. مجھے آپ کے اپنے نہیں دے کر جاتے. میر کے لہجے میں چھپی چبھن گلبدین اور غلام علی کے علاوہ کوئی بھی محسوس نہیں کر سکتا تھا.
میر جیسے ہی لان سے باہر نکلا تین بلیک کلر کی چمچماتی گاڑیاں لائن میں اس کے آگے ا کھڑی ہوئیں. پہلی اور آخری گاڑی گارڈز کی تھی جبکہ درمیان میں میر کی اپنی کار موجود تھی.
میر کی گاڑیاں آگے پیچھے ویلاز سے نکلیں تو گلبدین نے آہستہ آواز میں آیت الکرسی پڑھ کر ان پر پھونک ماری.
میر تم دن رات خون کی ہولی کھیلتے ہو. مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں تمہیں اپنی زندگی میں کم از کم خون میں لت پت نہ دیکھوں. گلاس ڈور سے گیٹ کو دیکھتے ہوئے گلبدین سے سوچا
گل بی بی آپ ناشتہ کر لیں تو پھر قبرستان چلتے ہیں. غلام علی کی آواز پر گلبدین دوبارہ اپنے حواسوں میں لوٹی اور سر ہلاتے ہوئے ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئیں.
🎭🎭🎭🎭
عزین آج تو تیری خیر نہیں، فائل پتہ نہیں کہاں رکھ دی ہے …… ؟؟ کوئی تیسری بار فائلوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے عزین نے انہیں سے پوچھا
یہ بے زبان تمہیں کیا جواب دیں گی. ان پر اتنا غصہ کیوں نکال رہی ہو ……. ؟؟ آفس میں داخل ہوتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں حاشر نے طنز کیا.
آپ آ گئے ہیں …… ؟؟ عزین نے حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات ساتھ ایڈوکیٹ حاشر کی طرف دیکھا جو اب اپنی کرسی کی طرف بڑھ رہے تھے
میں اکیلا نہیں آیا بلکہ میر صاحب بھی میرے ساتھ آئے ہیں اور حسب عادت تم نے انہیں آج بھی کھڑے ہو کر سلام نہیں کیا. مجھے لگتا ہے کہ میر بالکل ٹھیک کہتا ہے تم جان بوجھ کر اسے اگنور کرتی ہو. اپنی کرسی پر جھولتے ہوئے حاشر نے مزے سے کہا جیسے اسے عزین کے تاثرات اور جواب کا پہلے سے پتہ ہو.
اس کا مطلب ہے کہ آج پھر کلاس ہوگی اور تمیز کا درس دیا جائے گا اور یہ بتایا جائے گا کہ میں ان کی ملازم ہوں وہ میرے ملازم نہیں. عزین نے دکھی سی صورت بناتے ہوئے حاشر کی طرف دیکھا.
تمہاری کلاس کا تو پتہ نہیں لیکن میری ضرور ہوگی. ابھی حاشر نے اتنا ہی کہا تھا کہ اس کا انٹر کام بجنے لگا جبکہ عزین سب چھوڑ چھاڑ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی
جی میں ابھی آپ کی طرف ہی آ رہا ہوں. خواہ مخواہ آپ نے زحمت کی. حاشر نے مسکراتے ہوئے دوسری طرف کی بات سنے بغیر ہی انٹر کام رکھ دیا.
سر آپ کو کیسے پتہ کہ وہ کیا کہنے والے ہیں. ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کوئی اور بات کرنا ہو …… ؟؟ عزین نے حاشر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو اب اپنا موبائل میز سے اٹھا رہا تھا
عزین بی بی میری اوپر کی منزل آپ کی طرح خالی نہیں ہے. میں اس میں دماغ رکھتا ہوں. حاشر نے پاس سے گزرتے ہوئے اپنا موبائل عزین کے سر پر مارا تو وہ خاموشی سے انہیں دیکھنے لگی
میر صاحب ایک خود پسند شخص ہیں اور وہ اس بات کو اپنی بےعزتی سمجھتے ہیں کہ ان کا کوئی ملازم ان کی آمد پر انہیں اٹھ کر سلام نہ کرے اور تم اس کی ایک معمولی ملازمہ ہونے کے باوجود ہمیشہ ان کے آنے پر کھڑی نہیں ہوتی. حاشر نے جتلاتے ہوئے گلاس دوڑ دھکیلا اور آفس سے باہر نکل گیا
اففففف یہ میر کیا چیز ہے ….؟؟ کاش کسی طرح میں بھی امیر ہو جاؤں. کسی بھی طرح پیارے اللہ جی پلیز میری دعا سن لیں.
(عزین دعا مانگتے ہوئے بھول گئی تھی کہ نا مکمل دعائیں جب قبول ہوتی ہیں تو وہ اپنے ساتھ بہت سی مصیبتیں بھی لے آتی ہیں.)
تم اسے کب نکال رہے ہو ……. ؟؟ حاشر نے ابھی آفس میں پاؤں رکھا ہی تھا کہ میر کی انتہائی غصیلی آواز اسے سننے کو ملی
یار بندہ کم از کم بیٹھنے کا موقع تو دیتا ہے پھر باز پرس بھی کرتا ہے مگر آپ تو آپ ہیں
حاشر نے قیمتی قالین پر چلتے ہوئے جواب دیا
مجھے اس کی شکل نہیں دیکھنی میر نے اپنے میز پر پڑا ایک چھوٹا سا ڈیکوریشن پیس اچھال کر حاشر کی طرف پھینکا جسے وہ کیچ کرتا آرام سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا
میر تمہیں اس سے کیا مسئلہ ہے …… ؟؟ نہ وہ تمہارے پاس آتی ہے. نہ تمہیں اس سے کوئی کام ہے وہ میری اسسٹنٹ ہے اور یقین مانو وہ میرے سے زیادہ کامیاب وکیل ثابت ہوگی. مستقبل میں تمہارے کام آئے گی. حاشر نے حسب روایت عزین کی طرف داری کی.
پہلی بات تو یہ کہ مجھے اس جیسی گھٹیا وکیل کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی. دوسرا تمہیں کس نے کہا کہ تم ایک قابل وکیل ہو. وہ تو تمہارے ابا کا ہم پر احسان تھا سوچا تمہیں ملازم رکھ کر اتار دیا جائے. میر نے حاشر پر طنزیہ مسکراہٹ اچھالتے ہوئے جواب دیا.
تم سے بحث فضول ہے. اس لیے جو بھی تم کہہ رہے ہو ٹھیک ہی کہہ رہے ہو. حاشر نے ڈیکوریشن پیس دوبارہ میز پر رکھتے ہوئے ہار مانی
مجھے اس کی شکل نہیں دیکھنی. تم نے کہا تھا وہ صرف ٹریننگ کے لیے آئی ہے. مگر مجھے تو کوئی اور ہی معاملہ لگ رہا ہے. کیونکہ ٹریننگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی. میر کے دوبارہ کہنے پر حاشر نے بحث کی بجائے سر ہلا دیا
منہ میں زبان ہے تو اس کا استعمال کرو. تم وکیلوں کی ویسے بھی زبان کافی لمبی ہوتی ہے. میر نے اب کی بار کھڑے ہوتے ہوئے غصے سے کہا
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں. حاشر نے دوبارہ وہی جملہ دہرایا جو پہلی بات کہ جواب میں دہرایا تھا.
کیا ٹھیک ٹھیک کی رٹ لگا رکھی ہے …… ؟؟ میر نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے گھورا
عزین کہتی ہے جب کوئی آپ کی بات سمجھنے کی کوشش نہ کر رہا ہو تو اسے یہی کہنا چاہیے. جیسے ہی حاشر کے منہ سے یہ الفاظ نکلے میر نے اپنے سامنے پڑے پیپر ویٹ کو جلدی سے اٹھایا اس اے پہلے وہ حاشر کا نشانہ لیتا وہ تیزی سے اٹھا اور میر کے پیچھے جا کھڑا ہوا.
میر پلیز یار یہ بہت زور سے لگتا ہے. حاشر نے میر کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے دہائی دی
حاشر چھوڑ مجھے، آج میں تیرا سر پھاڑ دوں گا اور یہ بھول جاؤں گا کہ تو ذلیل، کمینہ میرا اکلوتا دوست بھی ہے. میر نے سرسری سا اپنا بازو چھڑاتے ہوئے کہا تو حاشر ہنستا ہوا پیچھے ہٹ گیا
کتنی بار کہا ہے اس کا ذکر میرے سامنے نہ کیا کر میر نے اپنے کوٹ کو جھاڑتے ہوئے نا گواری سے حاشر کی طرف دیکھا
یار قسم سے وہ بہت اچھی وکیل ہے. آج کل سارا کام وہی کر رہی ہے میں تو صرف اسے کہتا ہوں خود کچھ نہیں کرتا. حاشر نے قریب پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا
بس مجھے اس کی شکل نظر نہیں آنی چاہیے. مجھے وہ کالی بلی سے بھی زیادہ منحوس نظر آتی ہے. میر نے اپنے کف درست کرتے ہوئے جواب دیا.
اس کی رائے بھی آپ جناب کے بارے میں کچھ ایسی ہی ہے. یعنی آج مجھے میتھ کا یہ اصول سمجھ آیا ہے کہ
R. H. S is equal to L. H. S.
حاشر کہتا ہوا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا.
مجھے عابد بلڈرز کی فائل چاہیے ابھی اور اسی وقت میر کی بات پرحاشر کی ہسی کو بریک لگی.
(وہی فائل تو عزین ڈھونڈ رہی تھی اور تاریخ گواہ ہے کہ آج تک عزین نے جس کو بھی ڈھونڈا ہے وہ نہیں ملا)
اچھااااااااااااا
بھجواتا ہوں. حاشر نے ڈور کے ہنڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا.
جلدی میر کی آواز پر حاشر بغیر کچھ کہے باہر نکل آیا
صاحب فرما رہے ہیں کہ “جلدی” مجھے تو وہ فائل “دیر” سے بھی ملتی ہوئی نظر نہیں آرہی. حاشر نے بند دروازے کی طرف پر سوچ انداز میں دیکھا اور اپنے آفس کی طرف چل دیا
🎭🎭🎭🎭
اماں تیری بھینس بہت چارہ کھاتی ہے. میں اکیلی اس کا چارہ کاٹتے کاٹتے تھک جاتی ہوں زری نے ٹوکے سے چارہ کاٹتے ہوئے گلہ کیا
اچھا دودھ پیتے ہوئے تو تو نہیں تھکتی. نہ ہی ملائی اور دہیں کھاتے ہوئے تجھے احساس ہوتا ہے کہ تو اکیلی ہے. وہ سب چیزیں بھی اس معصوم کی وجہ سے ہیں. ماسی پھلاں نے گندم صاف کرتے ہوئے جواب دیا
واہ اماں کیا کہنے تیرے جیسے سارا تو میں ہی کھا پی جاتی ہوں اور جو میں بدلے میں تیرے کام کرتی ہوں اس کا کیا ……. ؟؟ زریں نے مشین چھوڑتے ہوئے ناراضگی سے دیکھا
اگر آج میرا سانول ہوتا تو وہ یہ سارے کام کرتا مگر اب کیا کیا جائے تجھے ہی یہ سب کام کرنے پڑتے ہیں اندر کے بھی اور باہر کے بھی
ماسی پھولاں دکھی ہوتے ہوئے دوبارہ گندم صاف کرنے لگی
اماں ایک بات تو بتا اگر سانول واپس آگیا تو تو اسے کیسے پہچانے گی …….. ؟؟ زریں نے تجسس سے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا
لو بلا کیوں نہیں پہچانوں گی وہ میرا پتر ہے اور میں اس کی اماں ہوں. اور اگر میں اسے نہ بھی پہچان سکی کیونکہ وہ تو اب گبرو جوان بن گیا ہو گا تو وہ مجھے ضرور پہچان لے گا کیونکہ میں تو ویسی کی ویسی ہوں. ماسی پھلاں نے پہلے اداسی سے اور پھر خوش ہوتے ہوئے کہا
ماسی وہ آخر کب آئے گا …… ؟؟ زری نے مایوسی سے کہا اور دوبارہ اٹھ کر چارہ کاٹنے لگی
کیا پتہ مگر تو کیوں اتنی اداس ہو رہی ہے …..؟ ؟ ماسی کو اچانک زریں کی اداس شکل دکھائی دی
ماسی میرے ساتھ کی تمام لڑکیوں کی گاؤں میں شادیاں ہو رہی ہیں اور میں ابھی تک اس گمشدہ سانول کے انتظار میں بیٹھی ہوں. میرا بھی دل کرتا ہے شادی کرنے کو وہ رجو کے سسرال والے کتنی پیاری پیاری چیزیں لائے تھے. زری نے حسرت بھری نظروں سے پھلاں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
شرم تو تجھے آتی ہی نہیں ہے. یاد رکھ میرا سانول ضرور واپس آئے گا اور میں تیری شادی اپنے سانول کے علاوہ کسی سے نہیں کروں گی. آخر تو اس کے بچپن کی منگ ہے اور وہ مجھ سے ناراض ہوگا اگر میں نے تیری شادی کسی اور سے کر دی تو __
ماسی پھلاں نے ناراضگی سے زریں کی طرف دیکھا
اور وہ تب آئے گا جب میں بوڑھی ہو جاؤں گی. زریں غصے سے دوبارہ چارہ کاٹنے لگی
نہ میری دھی ایسا نہیں بولتے. مایوسی کفر ہے. میں ہر جمعرات کو بابا سرکار کے دربار پر چراغ جلاتی ہوں.وہ ایک نہ ایک دن ضرور واپس آئے گا. ماسی پھلاں کی امید بھری نظروں کو دیکھتے ہوئے زریں نے خاموشی مناسب سمجھی.
ورنہ گاؤں کا ایک ایک فرد یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ سیلاب میں بہنے والا ماسی پھلاں کا سات آٹھ سالہ لڑکا کہاں زندہ ہوگا …….. ؟ مگر ماسی اس بات کو ماننے سے انکاری تھی
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.