Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
اچھا تو تمہاری آپا سے بات ہو گئی ہے. چلو مبارک ہو تمہیں بڑی حسرت تھی کہ آپا تم سے بات نہیں کرتیں _ گل نے ہلکے پھلکے سے انداز میں غلام علی کو جواب دیا تو وہ حیران رہ گیا میں کچھ اور کہہ رہا ہوں اور آپ کچھ اور سن رہی ہیں. میں نے کہا ہے کہ آپا ہم سے ناراض ہیں اور آپ مجھے اس بات پہ مبارکباد دے رہی ہیں.آپ کو کیا ہو گیا ہے …… ؟؟ غلام علی نے ناراض سے لہجے میں گل کی طرف دیکھا تو وہ زخمی سا مسکرائی دیکھو غلام علی ہمارے لیے سب سے اہم آپا کو جیل سے باہر نکالنا ہے لیکن آپا اگر خود ہی جیل سے باہر نہ نکلنا چاہیں تو ہم کیا کریں …..؟؟ انہوں نے ایک ہی ضد لگا رکھی ہے کہ میر کو وہ جیل میں دیکھنا چاہتی ہیں. اب میر کوئی معصوم چھوٹا سا بچہ تو ہے نہیں جسے ہم کچھ بھی لولی پپ دے کر اندر کر دیں گے. میر ہم سب کا باپ ہے. جو بات ہم صرف سوچ رہے ہوتے ہیں وہ پہلے ہی اس کا حل ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے. اب یہ شادی گل نے سرد آہ بھری.
خیر اس کی شادی تو ہمارے لیے فائدے مند ہے کیونکہ مجھے کہیں سے بھی یہ شادی محبت کی نہیں لگ رہی. لہذا ہم اس لڑکی کو اپنے مقصد کے لیے آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں. بشرطیہ میر کو خبر نہ ہو. گل کے جواب پر غلام علی سر ہلانے لگا
میر کسی بھی صورت آپا کو جیل سے باہر نہیں آنے دے گا کیونکہ اس کو اپنے آغا جان کا شدید دکھ ہے.وہ سب کو معاف کر سکتا ہے مگر آپا کو کبھی معاف نہیں کرے گا. بھلا کبھی کسی نے سوتیلی ماں کا گناہ بھی معاف کیا ہے …..؟ ؟ گل نے اپنی انگلی میں پہنی اکلوتی انگوٹھی کو گھمایا.
ان دونوں کی ضد میں ہم دونوں کا کیا قصور ہے ……. ؟؟ جیسے ہی غلام علی کے منہ سے یہ جملہ نکلا گل نے جھٹکے سے بند دروازے کی طرف دیکھا
تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے. آج کل ہر وقت اول فول بکتے رہتے ہو. اگر ذرا بھی تمہاری اس بکواس کی بھنک میر کے کان میں پڑی تو وہ تمہارے ٹوٹے ٹوٹے کر دے گا اور میرے اتنے برس کی ریاضت ضائع جائے گی. شکر کرو اسے ابھی تک مجھ پہ شک نہیں ہوا ورنہ ہم دونوں اس وقت کہاں ہوتے تم مجھ سے بہتر جانتے ہو …… ؟؟ گل نے غصے سے غلام علی کو دیکھا
میں سچ مچ بہت تھکنے لگا ہوں. مجھے اب اس سب سے مایوسی ہونے لگی ہے. یہ بدلے لینا میرے بس کی بات نہیں ہے. میں تو شروع سے ہی ایک انتہائی پر امن انسان رہا ہوں. پتہ نہیں آپ نے اور آپا نے مجھے کن مسائل میں پھنسا دیا ہے …….. ؟؟ غلام علی کے چہرے سے سچ مچ مایوسی عیاں تھی
بس تھوڑا سا اور صبر کر لو سب ٹھیک ہو جائے گا. یہ تمام چیزیں میری تمہاری اور آپا کی ہوں گی. ہم مزے سے میر ویلاز میں رہیں گے. یہ جس دلہن کو ہمارے سر پہ لا کے اس نے بٹھایا ہے نااااا یہی اس کا سر قلم کرے گی. یہ اپنی موت خود مرے گا. تم میری بات لکھ لو. اب میر کے برے دن شروع ہونے والے ہیں. جب ایک خوبصورت امیر نوجوان کسی لڑکی کے چکر میں پڑتا ہے تو اس کی عقل فہم و فراست، سوجھ بوجھ سب گھاس چرنے چلی جاتی ہے. میر کو ختم کرنے کا ہمارے پاس یہ گولڈن ٹائم ہے. ایک تو جو کچھ بھی ہوگا سب کا سب ہم میر کی دلہن کے سر ڈال دیں گے اور دوسرا غازی کا بھی آج کل کچھ پتہ نہیں جو اس کا انتہائی وفادار اور خطرناک کتا تھا. ہم نے جو بھی کرنا ہے اسی ماہ کرنا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم ضرور کامیاب ہو جائیں گے. بس یہ دعا کرو کہ ہماری پلاننگ کامیاب ہونے تک غازی کا کچھ پتہ نہ چلے. گل کی بات پر غلام علی سر ہلاتا دروازے کی طرف بڑھنے لگا آپا کو میری طرف سے کہہ دینا کہ میں ان کی بےعزتی بھولی نہیں. جیسے میر نے انہیں ہتھکڑیاں لگوا کر حویلی سے جیل پہنچایا تھا. بالکل ویسے ہی میں اس کی دلہن کو ہتھکڑیاں لگوا کر میر ویلاز سے جیل پہنچا دوں گی. کل ہماری عزت نیلام ہوئی تھی اور آج میر کی ہوگی. میں کچھ بھی نہیں بھولی. مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح گل کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہیں تھیں
.
بس کریں گل کیوں بار بار اپنے آپ کو اذیت دیتی ہیں. مجھے اچھا نہیں لگتا. اپ کو میری پرواہ نہیں لیکن مجھے اپ کی پرواہ ہے غلام اچھا تو تمہاری آپا سے بات ہو گئی ہے. چلو مبارک ہو تمہیں بڑی حسرت تھی کہ آپا تم سے بات نہیں کرتیں گل نے ہلکے پھلکے سے انداز میں غلام علی کو جواب دیا تو وہ حیران رہ گیا میں کچھ اور کہہ رہا ہوں اور آپ کچھ اور سن رہی ہیں. میں نے کہا ہے کہ آپا ہم سے ناراض ہیں اور آپ مجھے اس بات پہ مبارکباد دے رہی ہیں.آپ کو کیا ہو گیا ہے …… ؟؟ غلام علی نے ناراض سے لہجے میں گل کی طرف دیکھا تو وہ زخمی سا مسکرائی دیکھو غلام علی ہمارے لیے سب سے اہم آپا کو جیل سے باہر نکالنا ہے لیکن آپا اگر خود ہی جیل سے باہر نہ نکلنا چاہیں تو ہم کیا کریں …..؟؟ انہوں نے ایک ہی ضد لگا رکھی ہے کہ میر کو وہ جیل میں دیکھنا چاہتی ہیں. اب میر کوئی معصوم چھوٹا سا بچہ تو ہے نہیں جسے ہم کچھ بھی لولی پپ دے کر اندر کر دیں گے. میر ہم سب کا باپ ہے. جو بات ہم صرف سوچ رہے ہوتے ہیں وہ پہلے ہی اس کا حل ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے. اب یہ شادی گل نے سرد آہ بھری.
خیر اس کی شادی تو ہمارے لیے فائدے مند ہے کیونکہ مجھے کہیں سے بھی یہ شادی محبت کی نہیں لگ رہی. لہذا ہم اس لڑکی کو اپنے مقصد کے لیے آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں. بشرطیہ میر کو خبر نہ ہو. گل کے جواب پر غلام علی سر ہلانے لگا
میر کسی بھی صورت آپا کو جیل سے باہر نہیں آنے دے گا کیونکہ اس کو اپنے آغا جان کا شدید دکھ ہے.وہ سب کو معاف کر سکتا ہے مگر آپا کو کبھی معاف نہیں کرے گا. بھلا کبھی کسی نے سوتیلی ماں کا گناہ بھی معاف کیا ہے …..؟ ؟ گل نے اپنی انگلی میں پہنی اکلوتی انگوٹھی کو گھمایا.
ان دونوں کی ضد میں ہم دونوں کا کیا قصور ہے ……. ؟؟ جیسے ہی غلام علی کے منہ سے یہ جملہ نکلا گل نے جھٹکے سے بند دروازے کی طرف دیکھا
تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے. آج کل ہر وقت اول فول بکتے رہتے ہو. اگر ذرا بھی تمہاری اس بکواس کی بھنک میر کے کان میں پڑی تو وہ تمہارے ٹوٹے ٹوٹے کر دے گا اور میرے اتنے برس کی ریاضت ضائع جائے گی. شکر کرو اسے ابھی تک مجھ پہ شک نہیں ہوا ورنہ ہم دونوں اس وقت کہاں ہوتے تم مجھ سے بہتر جانتے ہو …… ؟؟ گل نے غصے سے غلام علی کو دیکھا
میں سچ مچ بہت تھکنے لگا ہوں. مجھے اب اس سب سے مایوسی ہونے لگی ہے. یہ بدلے لینا میرے بس کی بات نہیں ہے. میں تو شروع سے ہی ایک انتہائی پر امن انسان رہا ہوں. پتہ نہیں آپ نے اور آپا نے مجھے کن مسائل میں پھنسا دیا ہے …….. ؟؟ غلام علی کے چہرے سے سچ مچ مایوسی عیاں تھی
بس تھوڑا سا اور صبر کر لو سب ٹھیک ہو جائے گا. یہ تمام چیزیں میری تمہاری اور آپا کی ہوں گی. ہم مزے سے میر ویلاز میں رہیں گے. یہ جس دلہن کو ہمارے سر پہ لا کے اس نے بٹھایا ہے نااااا یہی اس کا سر قلم کرے گی. یہ اپنی موت خود مرے گا. تم میری بات لکھ لو. اب میر کے برے دن شروع ہونے والے ہیں. جب ایک خوبصورت امیر نوجوان کسی لڑکی کے چکر میں پڑتا ہے تو اس کی عقل فہم و فراست، سوجھ بوجھ سب گھاس چرنے چلی جاتی ہے. میر کو ختم کرنے کا ہمارے پاس یہ گولڈن ٹائم ہے. ایک تو جو کچھ بھی ہوگا سب کا سب ہم میر کی دلہن کے سر ڈال دیں گے اور دوسرا غازی کا بھی آج کل کچھ پتہ نہیں جو اس کا انتہائی وفادار اور خطرناک کتا تھا. ہم نے جو بھی کرنا ہے اسی ماہ کرنا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم ضرور کامیاب ہو جائیں گے. بس یہ دعا کرو کہ ہماری پلاننگ کامیاب ہونے تک غازی کا کچھ پتہ نہ چلے. گل کی بات پر غلام علی سر ہلاتا دروازے کی طرف بڑھنے لگا آپا کو میری طرف سے کہہ دینا کہ میں ان کی بےعزتی بھولی نہیں. جیسے میر نے انہیں ہتھکڑیاں لگوا کر حویلی سے جیل پہنچایا تھا. بالکل ویسے ہی میں اس کی دلہن کو ہتھکڑیاں لگوا کر میر ویلاز سے جیل پہنچا دوں گی. کل ہماری عزت نیلام ہوئی تھی اور آج میر کی ہوگی. میں کچھ بھی نہیں بھولی. مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح گل کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہیں تھیں.
بس کریں گل کیوں بار بار اپنے آپ کو اذیت دیتی ہیں. آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی. آپ کو میری پرواہ نہیں لیکن مجھے آپ کی ہے. غلام علی کہتا تیزی سے باہر نکل گیا.
🎭🎭🎭🎭
🌹 ماضی ………
شیر علی میں نے تمہاری باتوں پر بہت غور کیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ تمہارا طریقہ تھوڑا سا غلط ہے مگر بات بالکل ٹھیک ہے. جیسے ہی سردار بیگم نے یہ الفاظ ادا کیے شیر علی کا چہرہ جگمگا اٹھا
دیکھا مجھے پورا یقین تھا کہ اگر آپ ٹھنڈے دل سے میری بات کو سوچیں گی تو آپ کو میری بات بالکل ٹھیک لگے گی. آپا ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے اور اگر آپ میرا ساتھ دیں تو یہ کام میرے لیے گھنٹوں کا نہیں بلکہ منٹوں کا ہے. شیر علی نے چٹکی بجائی.
آپا کیا ہو گیا ہے اپ کو، کیوں الٹے کاموں میں شیر علی کا ساتھ دے رہی ہیں. آپ جانتی بھی ہیں کہ اس حویلی میں آغا جان کے کتنے وفادار موجود ہیں. شیر جتنا بھی بوڑھا ہو جائے جنگل کا بادشاہ ہی رہتا ہے. گل نے سب کو ڈرانا چاہا
مجھے گل کی سب سے بری یہی بات لگتی ہے کہ یہ انتہائی ڈرپوک ہے. شیر علی نے نفرت سے گل کی طرف دیکھا تو اس نے سر نفی میں ہلایا جبکہ غلام علی ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی تھا
میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ ایسا کچھ نہ کریں. میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ میر کے ہوتے ہوئے مت کریں. آپ میر کو بہت ہلکا لے رہی ہیں. میں مانتی ہوں کہ اس نے ہمارے ملک میں زندگی نہیں گزاری مگر ہے تو وہ اسی خاندان کا، وہ یہ سب داؤو پیچ جانتا ہے.
آغا جان کی غیر طبعی موت اسے شک میں ڈال دے گی اور اگر اسے ایک دفعہ شک پڑ گیا تو وہ ہم میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا کیونکہ ہم سب کے سب اس کے سوتیلے رشتے دار ہیں. ہم میں سے ایک کا بھی اس سے خون کا رشتہ نہیں. گل کی بات پر سردار بیگم مسکرائیں.
گل تم کسی بہانے میر کو حویلی سے باہر لے جانا اور چند سیکنڈ کے اندر اندر شیر علی آغا جان کو طبعی موت دے دے گا. تو ہم سب کی ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے گی.
میں نے صرف میر کے باپ سے اس لیے شادی کی تھی کہ ٹھاٹ سے زندگی گزاروں گی ورنہ وہ میرے قابل نہیں تھا. سردار بیگم کے لہجے میں حقارت تھی.
میں نے اپنے خاوند کی موت کے بعد اس بوڑھے اور میر کی بہت غلامی کر لی. اب میں بھی شیر علی کی طرح خود بھی تھک گئی ہوں. سردار بیگم نے مصنوعی اداسی چہرے پر لاتے ہوئے گل کی طرف دیکھا
خیر آپا ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے. آغا جان نے آپ کو مکمل آزادی دے رکھی ہے. جہاں تک تعلق میر کا ہے تو وہ تو بمشکل ہی سال بعد ایک چکر لگاتا ہے. گل کے جواب پر شیر علی ایک بار پھر بھڑک اٹھا.
یہ ہمیشہ اس کا ساتھ دیتی ہے حالانکہ منگیتر میری ہے اور مجھ سے محبت کی دعوے دار بھی ہے مگر پھر بھی _ شیر علی نے غصے سے کرسی کو ٹانگ ماری تو وہ دور جا گری میں محبت کی دعویدار ضرور ہوں مگر بے وقوف نہیں. جان بوجھ کے آگ میں چھلانگ کون لگاتا ہے …..؟ ؟ گل کے انداز پر شیر علی نے اسے داد دی اچھا تم دونوں اپنا جھگڑا ختم کرو اور میں بتاتی ہوں کہ ہم میں سے کس نے کیا کرنا ہے …… ؟؟ سردار بیگم کی بات پر سب خاموشی سے انھیں دیکھنے لگے جن کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی. 🎭🎭🎭🎭 بڑے عرصے بعد پرسکون نیند نصیب ہوئی ہے. پتہ نہیں میں تھکا زیادہ تھا یا رات ہی کوئی سکون کی تھی. میر نے اٹھتے ہوئے سوچا گھڑی صبح کے 7 بجا رہی تھی. انگڑائی لیتے جیسے ہی میر نے بیڈ کراؤن ساتھ ٹیک لگائی تو صوفے پہ بغیر لحاف کے سوئی ہوئی عزین پر اس کی نظر پڑی. میر تمہارے لیے افسوس سے ڈوب مرنے کا مقام ہے. کم از کم اسے کوئی لحاف ہی دے دیتے. کیا سوچتی ہوگی دل میں کہ اتنا بڑا گھر اور ایک لحاف بھی میسر نہیں. میر اگر آج آغا جان زندہ ہوتے تو بیٹا تجھے بہت جوتے پڑنے تھے. ہم تو دشمن کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہیں کرتے بہت مہمان نواز ہیں. کاش آج آغا جان زندہ ہوتے. میر نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اداسی سے عزین کی طرف دیکھا اور لحاف پیچھے کرتے ہوئے بیڈ سے نیچے ٹانگیں لٹکا لیں اس لڑکی کو برداشت کرنے کے لیے حاشر جیسا جگر چاہیے. حاشر سے یاد آیا یہ کمینہ کل سے کدھر غائب ہے. پتہ نہیں آفس میں کیسی کیسی پھلجھڑیاں چھوڑ رہا ہو گا. میرسر نفی میں ہلاتا سلیپر پہننے لگا تو اس کا موبائل بجنے لگا. یار میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ انسان کی اچھی wishes تو پوری نہیں ہوتی مگر جیسے ہی کچھ برا سوچو وہ فوراً پورا ہو جاتا ہے. اس کی کیا وجہ ہے …….. ؟؟ میر نے کال اٹینڈ کرتے اپنے ازلی سنجیدہ لہجے میں پوچھا مطلب تو آج صبح بھی میرے بارے میں سوچ رہا تھا حیرت ہے. ابھی کل ہی تو تجھے ایک اچھی خاصی پری دی تھی. اس کے بارے میں کیا خیال ہے …..؟ ؟ حاشر نے میر کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے کہا زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے اور اتنی صبح کال کرنے کی کیا تکلیف تھی صرف وہ بتا دیں. میر نے چلتے ہوئے کھڑکی کا کرٹن ایک سائیڈ پر کیا تو عزین کے چہرے پر سورج کی ٹھنڈی اور مدھم روشنی پڑی جس پر وہ اپنی پوزیشن بدل گئی. آپ جناب سے صرف یہ دریافت کرنا تھا کہ آج آفس آئیں گے یا شادی کی خوشی میں چھٹی کریں گے …….. ؟؟ حاشر کے لہجے میں واضح طنزتھا. مسٹر حاشر جس طرح میں آپ کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا. بالکل ویسے ہی آپ کی اسسٹنٹ بھی اس قابل نہیں ہے کہ اس کے پاس کچھ دیر سے زیادہ رکا جا سکے لہذا میں آج آفس آؤں گا اور کافی دیر رکوں گا بھی کیونکہ وہ اب آفس میں نہیں ہوگی. میر نے دیوار ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے عزین کو دیکھا جو زرا سا ہلنے پرصوفے سے نیچے گر سکتی تھی. ویسے اس بارے میں تو کوئی فلسفی ہی سہی بتا سکتا ہے کہ آپ کی اس لوجک کے پیچھے کیا فلسفہ ہے کہ بندہ اپنے ناپسندیدہ ورکر کو آفس سے ہٹانے کے لیے اس سے شادی کر لے. لیکن بظاہر تو یہ طریقہ کافی واحیات ہی ہے. حاشر کےجواب پر میر کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی. حاشر میرے آنے تک آج کے دن کی تمام میٹنگز کی ڈیٹیل میرے ٹیبل پر پہنچ جانی چاہیے. میں آٹھ بجے تک آفس پہنچ جاؤں گا. میر نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے بات ختم کی. میر کل عدالت میں سردار بیگم کی پیشی بھی ہے. اس کے بارے میں اب کیا کرنا ہے ……. ؟؟ تمہارے کہنے کے مطابق میں اس کیس کو جتنا لٹکا سکتا تھا میں نے لٹکایا ہے مگر اب مجھے اس میں مزید گنجائش دکھائی نہیں دے رہی. حاشر کے پوچھنے پر میر جو عزین کے گرنے کے انتظار میں مزے سے مسکرا رہا تھا ایک دم سنجیدہ ہوا. بس کسی طرح کل کی پیشی کو بھی ضائع کر دو. مجھے پوری امید ہے اس کے بعد ہمیں ضرورت ہی نہیں پڑے گی. میر نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی. اس کے ہاتھ کی رگیں ضبط سے ابھرنے لگی تھی عادت کے برخلاف آج اس نے مکا شیشہ پر مار کر اپنا غصہ نہیں اتارا تھا بلکہ واش روم جاتے ہوئے عزین کے پاؤں پر ہاتھ مار گیا اور توقع کے عین مطابق وہ چند سیکنڈ کے اندر اندر صوفے سے کارپٹ پر آ گری. میرے گھر میں سات بجے کے بعد سونے کی اجازت نہیں ہے. لہذا جلدی سے تیار ہو کر میرے ساتھ نیچے ناشتے کے میز پر چلو اور کل سے تم چھ بجے اٹھ کر ناشتہ میز پر خود لگاؤں گی. میر نے واش روم کے دروازے میں رک کر مڑتے ہوئے عزین سے کہا جو اپنی سوئی سوئی لال آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی. آج آپ آفس میں اگر زیادہ مصروف نہ ہوئے تو براہ مہربانی مجھے حاشر صاحب سے ایک لسٹ بنوا دیجیے گا. جس میں یہ لکھا ہو کہ کون کون سے کام اس گھر میں کرنا جائز ہیں اور کون کون سے ممنوع عزین نے واپس صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
حاشر کی اسسٹنٹ!!! تم یہ بات بھول رہی ہو کہ تمہاری صرف نوکری کی نوعیت بدلی ہے باقی اور کچھ نہیں. میں کل بھی تمہارا باس تھا اور آج بھی وہی ہوں. اس لیے احتیاط میر کہتا واش روم چلا گیا جبکہ عزین نے اپنا غصہ پاس پڑے کشن پر اتارا. 🎭🎭🎭🎭 یا رجو تو کچھ کر نااااااا پتہ نہیں ماسی پھلا کو کیا ہو گیا ہے ……. ؟؟ خواہ مخواہ کی ضد لگا لی ہے کہ نکاح کر کے مجھے اس کے ساتھ بھیجے گی. اول تو میں نے اس سے شادی نہیں کرنی دوسری ایسی روکھی پھیکی شادی تو میں نے بالکل بھی نہیں کرنی. زریں نے روہانسی ہوتے ہوئے رجو کی طرف دیکھا زری میرا تو دماغ کام نہیں کر رہا. تو ہی بتا کے اب میں کیا کروں …… ؟؟ جیسا تو کہے گی میں ویسا ہی کروں گی. رجو نے مسکین سی شکل بنائی بڑی ہی کمینی ہے توُ، اس وقت تو بڑی سپرمین بند رہی تھی. میں یہ کر دوں گی میں وہ کر دوں گی. یہ ساری مصیبت تیرے اس آئیڈیا کی وجہ سے ہی آئی ہے. زری نے زور دار مکا رجو کی کمر میں رسید کیا زری مجھے کیا پتہ تھا کہ ماسی اسے سچ مچ اپنا بیٹا مان لے گی اور وہ کمینہ بھی کیسے مزے سے راضی ہو گیا ہے. رجو کو غازی پہ غصہ آیا. ہاں اسی بات کی تو مجھے بھی حیرت ہے. پہلے تو بڑی باتیں سناتا تھا. مجھے گاؤں پسند نہیں، مجھے یہاں کے لوگ برے لگتے ہیں اور کل اتنا چالاک ہے مسکرا کے کہتا “جیسا آپ کہیں گی میں ویسا ہی کروں گا”. زری نے غازی کی نقل اتاری زری میرے خیال سے اگر اس کے دوست ساتھ بات کی جائے تو شاید مسئلہ حل ہو جائے. مجھے وہ کچھ سمجھدار لگتا ہے. رجو کو اچانک ماجد کا خیال آیا. دونوں ہی ایک جیسے ہیں. اس کا دوست خاک سمجھدار ہے تجھے پتہ ہے میں چارہ لے کر آ رہی تھی تو مجھے اس نے چھیڑا تھا. زریں کے بتانے پر رجو کا پورا منہ کھل گیا. ماسی ابھی تو یہ ٹھیک نہیں ہے. میں اسے شہر لے کر جا رہا ہوں. جب یہ ٹھیک ہو جائے گا تب واپس آئے گا پھر آپ اس کی شادی دھوم دھام سے کر لیجیے گا. ماجد کی بات پر ماسی پھلاں نے اداسی سے غازی کی طرف دیکھا جو وہاں سے جانے کی خوشی میں بہت خوش دکھائی دے رہا تھا. پتر میں جانتی ہوں. تو مجھے چھوڑ کر جائے گا تو پھر کبھی مڑ کر پیچھے نہیں دیکھے گا. تو مجھے چھوڑ کر نہ جانا. ماسی پھلاں کی آواز میں اتنا درد اور مان تھا کہ غازی زندگی میں پہلی بار لاجواب ہوا. نہیں ماسی ایسی کوئی بات نہیں ہے. جیسے ہی یہ اچھا ہو جائے گا. میں اسے خود لے کر آؤں گا. ماجد نے تسلی دینا چاہی اچھا ٹھیک ہے جیسا آپ کہتی ہیں ویسا ہی کر لیتے ہیں. آپ مولوی صاحب کو بلائیں اور اپنی تسلی کر لیں. غازی کی سنجیدگی پر ماجد نے اسے حیرت سے دیکھا جبکہ ماسی کی خوشی دیدنی تھی. جیتا رہا، اللہ تجھے خوش رکھے. مجھے امید تھی کہ تو مجھ بوڑھی ماں کا مان نہیں توڑے گا. میں ابھی مولوی صاحب اور گاؤں والوں کو بلوا کر لاتی ہوں. ماسی غازی کے صدقے واری ہوتی کمرے سے باہر نکل گئی. یار یہ سب کیا ہے …..؟ ؟ کل تک تو تُو رو پیٹ رہا تھا کہ تجھے یہاں سے نکلنا ہے اور اُس جیسی جاہل پینڈو لڑکی سے شادی نہیں کرنی اور آج تُو ماجد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
ماجد مجھے خود بھی پتہ نہیں مگر جب یہ بوڑھی عورت منت کرتی ہے تو مجھ سے نہ نہیں کہا جاتا. غازی نے اپنی بڑھی ہوئی شیو پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا
تیرے سینے میں کب سے دل دھڑکنے لگا اور تجھے کب سے اس عورت ذات پر ترس آنے لگا ہے …….. ؟؟ غازی کچھ نہ کچھ تو گڑ بڑ ہے. ماجد کی حیرانگی قابل دید تھی.
کوئی گڑ بڑ نہیں ہے. بس یہاں سے نکلنا ہے مگر اس عورت کا دل دکھائے بغیر _ غازی نے پرسوچ انداز میں جواب دیا تو ماجد کندھے اچکا گیا.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.
