Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
آدھی رات کو درد کی شدت سے غازی کی آنکھ کھلی تو کمرے میں پھیلی نائٹ بلب کی ہلکی پیلی روشنی اسے خوابیدہ سی لگی. تھکاوٹ اور دوائیوں کے زیر اثر وہ بغیر کھائے پئیے جلد سو گیا تھا مگر اب بھوک ستانے لگی تھی.
غلطی کی جو ماجد کو گھر جانے کا بول دیا. اب مجھے اس وقت کون کھانا دے گا …..؟ ؟ غازی نے دل میں سوچتے ہوئے بیڈ کراؤن ساتھ ٹیک لگائی تو زریں پر نظر پڑتے ہی وہ چونک گیا.
یہ یہاں کیا کر رہی ہے اور کتنے مزے سے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے. یہاں میں بھوکا پیاسا تکلیف کا مارا تڑپ رہا ہوں. غازی نے دل میں سوچتے قریب پڑا کشن اٹھا کر زور سے زریں کی طرف پھینکا مگر امید کے برخلاف اسے زرا فرق نہ پڑا.
غازی تو بھی بہت معصوم انسان ہے. یہ گاؤں کے پینڈو لوگ کہاں کشن کے مارنے سے اٹھتے ہیں. ان کے سر پہ تو پورا ڈھول بجانا پڑتا ہے. غازی کو یاد آیا کہ ماسی پھلاں کافی شور مچانے کے بعد زری کو اٹھانے میں کامیاب ہوتی تھی.
ہائے اب میں کیا کروں …… ؟؟ میرا تو چائے پینے کو بھی بہت دل کر رہا ہے. غازی نے اپنی گردن دائیں بائیں ہلاتے ہوئے سوچا.
تبھی اس کی نظر قریب پڑے ٹائم پیس پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں امید کی چمک ابھری. زریں جو بہت مزے سے نرم گرم بستر میں لیٹی، خواب کے مزے لوٹ رہی تھی کہ اچانک بے ہنگم شور پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی.
زری بی بی!!! تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ تمہیں ماسی نے میری خدمت کے لیے ساتھ بھیجا ہے نہ کہ یوں پھیل کے سونے کے لیے _ نیند سے بیدار ہوتے ہی جو پہلی آواز اسے سنائی دی وہ غازی کی تھی. تم میرے بزرگ ہو، جو میں تمہاری خدمت کروں گی. زری نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے غازی کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں موجود سرخ ڈورے اس کے نیند کی گواہی دے رہے تھے کہ اس کی نیند خراب ہوئی ہے. تم ایک مکمل جاہل لڑکی ہو. جس میں بات کرنے اور سمجھنے کی تمیز نہیں ہے. سو جاؤ اگر نیند آرہی ہے تو مگر میرا دماغ خراب نہ کرو. غازی کو اس کی نیند خراب ہونے کا تھوڑا دکھ بھی ہوا. تم کیوں جاگ رہے ہو. تمہیں کیوں نیند نہیں آ رہی. یہ تو تمہارا اپنا گھر ہے. تمہیں تو اب بہت مزے کی نیند آنی چاہیے. اچھا یاد آیا تمہارے پاؤں پہ پلستر ہوا ہے. درد ہو رہی ہوگی. تم نے تو کچھ کھایا پیا بھی نہیں، دوائی لی تھی. ویسے ماسی کہتی ہے کہ دوائی ہمیشہ دودھ ساتھ لینی چاہیے. زری کی نظر غازی کے پاؤں پر پڑی تو اسے یاد آیا. بڑی مہربانی کہ آپ کو یہ احساس آدھی رات کو ہی صحیح مگر ہو گیا کہ میں نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے اور میں نے دوائی بھی لینی ہے. غازی کے جتلانے پر زریں اپنا ڈوپٹہ درست کرتی اٹھ کھڑی ہوئی. اچھا بتاؤ کیا کھاؤ گے میں تمہارے لیے کیا بناؤں …… ؟؟ زری نے اپنی جمائی روکتے ہوئے غازی سے پوچھا تو اس کا میٹر گھوم گیا. کیا مطلب کہ کیا بناؤں کیا کھاؤں گا. ماجد جو کھانا لایا تھا وہ کہاں ہے …..؟ ؟ غازی نے حیرت سے زریں کی طرف دیکھا وہ تو ہم نے کھا لیا ہے. زری کو تھوڑی سی شرمندگی ہوئی کہ اسے غازی کا خیال کیوں نہیں رہا…..؟؟ ہم نے غازی نے “ہم” پر زور دیتے ہوئے پوچھا
ہاں ہم نے یعنی میں نے اور وہ تمہارے دوست نے آخر وہ بھی مہمان تھا. اس نے بھی کھانا تھا .میں نے کھانا گرم کیا تو وہ بھی کھانے بیٹھ گیا. زریں کے بتانے پر غازی کا دل کیا کہ ابھی ماجد سامنے ہوتا تو وہ اس کی گردن مڑوڑ دیتا. الو کا پٹھا میں نے اس کے لیے کھانا نہیں منگوایا تھا. غازی نے غصے سے اپنا موبائل پکڑتے ہوئے ماجد کا نمبر ڈائل کیا
اگر کھانا منگوانے لگے ہو تو میرے لیے بھی منگوانا. مجھے بھی بھوک لگ گئی ہے. زریں کی بات پر غازی نے موبائل سے نگاہ اٹھاتے ہوئے اسے گھورا
فلحال تو میں ایس ایچ او ماجد کی کلاس لینے لگا ہوں. اس کے بعد سوچتا ہوں کہ کیا کرنا ہے. ویسے میری بھوک اب مر چکی ہے. غازی نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے ادا کیا تو زری کو برا لگا مگر وہ کچھ دیر غازی کو گھورنے کے بعد کمرے سے باہر نکل گئی.
بڑے بڑے کمینے لوگ دیکھے ہیں مگر تیرا لیول ہی الگ ہے. میں نے کھانا اپنے لیے منگوایا تھا مگر وہ آپ جناب اپنی ملازمت اور نیچر کے مطابق خود کھا گئے ہیں. اب اتنی رات کو میں کیا کھاؤں گا آپ یہ بتا سکتے ہیں …… ؟؟
غازی نے کال اٹینڈ ہوتے ہی ماجد سے پوچھا
لو جی اگر تمہیں اب بھی کھانا باہر سے آرڈر کرنے کی ضرورت ہے تو پھر ہم کنوارے ہی اچھے غازی کے برعکس ماجد کی چہکتی ہوئی آواز سپیکر سے ابھری تو غازی کو مزید غصہ آگیا.
ماجد بیٹے تھوڑا سا صبر کر، تیرے والی تو ویسے بھی بہت پٹاخہ ہے. اگر یہ پینڈو میرا یہ حال کر رہی ہے تو سوچ وہ تیرا کیا حال کرے گی …..؟ ؟ غازی کے سوال پر ماجد کی بولتی بند ہو گئی.
اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی کیونکہ وہ مجھے چھوڑ کر جا چکی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ بھاگ گئی ہے. ماجد کا جواب سچ مچ غازی کے لیے ایک جھٹکا تھا.
جھوٹ بلکل جھوٹ یہ کیسے ہو سکتا ہے. تُو تو اس کے بڑے صدقے واری جاتا تھا. بھلا وہ تجھے کیسے چھوڑ کر جا سکتی ہے. میں نہیں مانتا، تو یقیناً مذاق کر رہا ہے. غازی کو ماجد کے سنجیدہ لہجے پر شک ہوا.
کچھ لوگ ہمیں اسی لیے چھوڑ جاتے ہیں کہ ہم ان کے بہت صدقے واری جاتے ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں کچھ خاص ہے اور ہم کسی کام کے نہیں، ہم ان کے بغیر رہ نہیں سکتے. اب کی بار ماجد کے لہجے میں دکھ تھا.
مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے. تم دونوں کا تو ریلیشن شپ بہت پرانا ہے. میرا مطلب ہے کہ غازی کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہے اور کیا پوچھے. ریلیشن جتنا مرضی پرانا ہو مگر دولت میں بہت طاقت ہے. مرد ہو یا عورت اس کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں. ماجد کے جواب پر غازی نے سر ہلایا ویسے تیری بات میرے لیے ایک سرپرائز ہے. غازی نے بیڈ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اب کی بات نارمل آواز میں کہا اب تک کی ہر بات میرے لیے سرپرائز تھی مگر تیرے لیے بھی میرے پاس ایک سرپرائز ہے. ماجد نے کرسی پر ٹانگیں رکھتے ہوئے کہا تو غازی چونکا میرے لیے سرپرائز، میرے لیے تو یہی بہت بڑا سرپرائز ہے جو میرے گھر میں اس وقت موجود ہے. غازی نے ہنستے ہوئے بند دروازے کی طرف دیکھا ُٗتو نے پوچھا نہیں کہ میرے والی کس کے پاس گئی ……؟ ؟ ماجد نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کہا میری بلا سے، کسی کے بھی پاس گئی ہو. مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے. جس میں تھی وہ بیچارہ اداس بیٹھا ہے. غازی نے سر جھٹکا آپ کو ابھی بہت زیادہ دلچسپی ہو جائے گی. جب میں آپ کو بتاؤں گا کہ اس نے آپ کے لاڈلے، چہیتے، اکلوتے مسٹر میر سے شادی کر لی ہے. جیسے ہی ماجد کے منہ سے یہ الفاظ نکلے میر اٹھ کر بیٹھ گیا. ناممکن میر کی ایسی عادت نہیں ہے. وہ عورتوں کے پیچھے اپنا وقت اور پیسہ برباد نہیں کرتا. ویسے بھی وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے. وہ لڑکی تجھ سے جھوٹ بول رہی ہے. غازی نے ماجد کی بات کو رد کیا. کاش ایسا ہی ہوتا مگر ایسا کچھ نہیں ہے. وہ میر کے گھر میں موجود ہے. یہ کنفرم رپورٹ ہے اگر تُو چاہے تو تُو بھی تسلی کر لے. خیر چھوڑ دفعہ کر یہ بتا کہ تجھے کھانا آرڈر کر دوں یا خود آ کر دوں. آخر پنجاب پولیس کا کام ہی عوام کی خدمت کرنا ہے. ماجد پھیکا سا مسکرایا تو غازی کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا. بڑی عجیب بات ہے مگر میں نے میر کو ایسا نہیں پایا. پتہ نہیں کیا ہوا ہوگا یا اس لڑکی نے کیا کیا ہوگا…..؟؟ غازی بے یقین تھا. اچھا چھوڑ ان باتوں کو اور یہ بتا کہ کیا خدمت کروں …… ؟ ماجد نے بات بدلی خدمت تو مجھے تیری کرنی چاہیے. تو اتنا اپ سیٹ تھا اور تو نے مجھے بتایا بھی نہیں. کیسا دوست ہے تو …..؟ ؟ غازی نے افسوس کیا تو ماجد ہنس دیا. بس ایسا ویسا سا ہوں. گزارا کر جب تک ہوتا ہے. ماجد کک آواز افسردہ ہوئی. زیادہ مجنوں بننے کی ضرورت نہیں ہے. میں ٹھیک ہو جاؤں تو پھر دیکھتا ہوں کہ تجھے کیسے ٹھیک کرنا ہے….؟؟ تب تک تو شرافت سے اپنی ڈیوٹی کر غازی نے تسلی دیتے ہوئے کال بند کر دی.
بڑی ہی کوئی گھٹیا لڑکی تھی ماجد جیسے لڑکے کو چھوڑ دیا. وہ بھی میر کے لیے اور میرا دل نہیں مانتا کہ میر نے شادی کر لی میر ایسا نہیں ہے. کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہے جو ماجد کی نگاہ سے پوشیدہ ہے. خیر میر سے ملاقات پر سب پتہ لگ جائے گا. غازی ہاتھ میں موبائل پکڑے ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ دروازہ کھلتے زریں ٹرے تھامے اندر داخل ہوئی.
تمہارے کچن میں سوائے انڈوں کے اور کچھ نہیں تھا. اس لیے میں نے آملیٹ بنا دیا ہے. زری نے ٹرے غازی کے آگے رکھتے ہوئے کہا تو ایک زبردست سی خوشبو نے غازی کا استقبال کیا.
تم کدھر جا رہی ہو …..؟ ؟ زری کو پلٹتا دیکھ کر غازی نے اسے پکارا جب کہ کھانے کی خوشبو سے اس کی بھوک مزید چمک گئی تھی.
چائے اور پانی لینے کیونکہ تم نے دوائی بھی تو لینا ہوگی.
زریں کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی جب کہ اس وقت غازی کو وہ دنیا کی سب سے اچھی لڑکی لگی.
چلو اور کچھ نہیں تو کم از کم اس کے ہاتھ میں ذائقہ تو ہے. غازی نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے دل میں اقرار کیا.
یہ لیں چائے اور پانی زری نے چائے کے دونوں کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے پانی کا گلاس غازی کے آگے کیا. تو اس نے پکڑ لیا. تم نہیں کھاؤ گی، تمہیں بھی تو بھوک لگی تھی…..؟؟ غازی نے زری کو چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا نہیں بس چائے پیوں گی زری معذرت کرتی کپ اٹھاتی واپس مڑی مگر بد قسمتی سے وہ غازی کے پاؤں ساتھ ٹکرا گی اور چائے اس پر گر گئی. غازی جو مزے سے کھانا کھا رہا تھا اس ناگہانی آفت پر چیخ اٹھا.
ایک نمبر کی جاہل لڑکی ہو، تمہیں تمیز ہی نہیں ہے.
غازی کھانا چھوڑ کر اپنا پاؤں جھاڑنے لگا تو زری کو غصہ آ گیا.
تم بڑے تمیزدار ہو. یہ ٹانگیں پھیلا کے کھانا کھانے کا کون سا طریقہ ہے…… ؟؟ ایک تو آدھی رات کو میں نے تمہیں کھانا بنا کر دیا اوپر سے تم مجھے جاہل بول رہے ہو. زری نے نیچے سے چائے کا گرا کپ اٹھایا اور جاتے جاتے غازی کے پلستر پاؤں کو ہاتھ مار دیا تو اس کی چیخیں نکل گئیں.
اب پتہ چلا اسے کہتے ہیں جاہلیت _ زری جتلاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی تو غازی نے بیچارگی سے اپنے پاؤں کو دیکھا ایک بار میرا پلستر کھل جائے پھر دیکھنا میں تیری ایسی خدمت کروں گا کہ تو ساری زندگی یاد رکھے گی. غازی نے پیچھے سے آواز لگائی 🎭🎭🎭🎭 آپ کے لیے ایک اچھی خبر ہے. غلام علی نے گل کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا چلو شکر ہے کچھ تو اچھا سننے کو ملا ہے. ویسے یہ اچھی خبر کس کے متعلق ہے …..؟ ؟ گل نے خوش دلی سے غلام علی کی طرف دیکھا سردار بیگم کے بارے میں ہے. اس دفعہ بھی میر کا وکیل عدالت میں کوئی خاص گواہ پیش نہیں کر سکا تو امید ہے کہ اگلی پیشی پر سردار بیگم چھوٹ جائیں گی اور ہمیں کسی کا احسان بھی لینا نہیں پڑے گا. غلام علی کی بات پہ سچ مچ گل کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگی ہائے غلام علی میں تمہیں بتا نہیں سکتی کہ تم نے مجھے اس وقت کتنی خوشی دی ہے. مجھے اپنا آپ کچھ دنوں سے بہت تنہا محسوس ہو رہا تھا. سردار بیگم کے آنے سے یہ تنہائی ختم ہو جائے گی. گل نے تھکے سے لہجے میں کہا تو غلام علی کو سخت برا لگا اب آپ میرے ساتھ زیادتی کر رہی ہیں. میں نے آپ کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑا اور آپ غلام علی نے جملہ ادھورا چھوڑتے ہوئے باہر کی طرف دیکھا
غلام علی تم بھی نااااا چھوٹی چھوٹی بات پر منہ بنا لیتے ہو. میں نے کسی اور پیرائے میں کہا تھا اور تم اپنے اوپر لے گئے ہو. گل نے غلام علی کی طرف دیکھتے ہوئے وضاحت دی.
ویسے کتنا مزہ آئے اگر سردار بیگم اگلی پیشی پر چھوٹ کر میر ویلا میں آ جائے. میر کے تو ہوش ہی اڑ جائیں گے. گل نے خود سے کہتے ہوئے غلام علی کی طرف دیکھا
سردار بیگم کبھی بھی میر ویلا نہیں آئیں گی. وہ سیدھی حویلی جائیں گی اور انہیں جانا بھی وہاں ہی چاہیے اور ان کے آتے ہی میں بھی چلا جاؤں گا. غلام علی نے ناراضگی سے گل کی طرف دیکھا
تم کیوں جاؤ گے …..؟ ؟ گل کے پوچھنے پر غلام علی نے اپنا سر جھٹکا
یہاں رہنے کا کیا فائدہ یہاں کے لوگ بہت مطلبی اور احسان فراموش ہیں. میرے ہونے یا نہ ہونے سے آپ کو یا میر کو کوئی فرق نہیں پڑتا. غلام علی کا لہجہ ناراضگی بھرا تھا. اچھا تو تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو …..؟ ؟ گل نے بڑے مان سے غلام علی کی طرف دیکھا نہیں میں آپ سے ناراض نہیں ہو سکتا مگر مجھے آپ کی بات بہت بری لگی ہے. آپ کو میرے ہوتے ہوئے بھی تنہائی کا احساس ہوتا ہے تو پھر میرے وجود کا کیا فائدہ …..؟؟ غلام علی نے گل کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے شکوہ کیا غلام علی ہمیں اب یہ بچوں جیسی باتیں زیب نہیں دیتیں. میں نے کہا نا کہ میں نے کسی اور پیرائے میں سردار بیگم کا ذکر کیا ہے. خیر چھوڑو ان فضول باتوں کو اور یہ بتاؤ کہ اس وقت میر کہاں ہے …..؟ ؟ گل کے پوچھنے پر غلام علی ایک دم چونکا اوہ سوری میں تو بھول ہی گیا تھا آپ کو بتانا کہ غازی کا پتہ چل گیا ہے. وہ مل گیا ہے اور میر اس وقت فارم ہاؤس پر ہے. تو سوچ لیں کہ وہ یقیناً کسی خاص کام کی منصوبہ بندی کر رہا ہو گا. غلام علی کے جواب پر گل نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں …..؟ ؟ غلام علی نے کنفیوز ہوتے ہوئے پوچھا تو گل کے کھلکھلا کر ہنس دی. تم عمر کے اس حصے میں بھی بلش ہوتے ہو. کبھی تم نے خود پر غور کیا ہے ….؟؟ گل کے بتانے پر غلام علی مسکرا دیا. عمر کے اس حصے سے آپ کی کیا مراد ہے. میں تو ابھی جوان ہوں. غلام علی کی بات پر گل نے سرہاں میں ہلایا. یہ تو ہے خیر چھوڑو اور میری بات غور سے سنو. مجھے ابھی ابھی خیال آیا ہے کہ اگر کسی طرح ہم عابد صاحب کو یہ بتانے میں کامیاب ہو جائیں کہ اس کے اکلوتے بیٹے کا قتل غازی نے میر کے کہنے پر کیا ہے تو کیسا رہے گا …… ؟؟ سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی. میر جیل میں جائے گا تب بھی ہمارا فائدہ ہے. غازی کو سزائے موت ہوگی تب بھی ہمیں ہی فائدہ ہو گا. مجھے اس غازی اور حاشر سے شدید نفرت ہے. یہ میر کو ہارنے نہیں دیتے بلکہ ہر بار اس کی ہار کو جیت میں بدل دیتے ہیں. اگر یہ دونوں نہ رہے تو میر اکیلا کچھ نہیں کر سکتا. گل نے پر سوچ انداز میں غلام علی کی طرف دیکھا یہ تو سچ ہے کہ حاشر اور غازی دونوں میر کے بازو ہیں. مگر یہاں پر آپ غلط ہیں کہ اکیلا میر کچھ نہیں کر سکتا. میں تو کہتا ہوں کہ میر کچھ بھی کر سکتا ہے. غلام علی کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ گل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا چلو دیکھتے ہیں کہ حاشر اور غازی کے بغیر میر کیا کر سکتا ہے …..؟ ؟ تم بس ایک کام کرو کسی طرح مجھے عابد صاحب کا فون نمبر لا دو ……؟ ؟ گل کی فرمائش پر غلام علی کا رنگ فق ہو گیا. گل آپ کیا کرنا چاہ رہی ہیں. کچھ بھی الٹا سیدھا مت کیجئے گا. میں خود دیکھتا ہوں کہ کس طرح عابد صاحب کو اس کے بیٹے کی موت کی اصل وجہ بتائی جائے. کیونکہ وہ ابھی تک اپنے بیٹے کی موت کو ایک حادثہ سمجھ رہا ہے. بس ایک دفعہ اس کے دل میں شک بونے کی دیر ہے باقی کام وہ خود بخود کر لے گا. اس کے بھی انڈر ورڈ میں بہت تعلقات ہیں. آپ کو بیچ میں پڑنے کی ضرورت نہیں. غلام علی کے منع کرنے پر گل مسکرانے لگی تم نے مجھے اتنا بے وقوف سمجھ رکھا ہے کہ میں اس کام میں خود شامل ہوں گی …… ؟؟ گل نے غلام علی کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا تو پھر _ غلام علی کے پوچھنے پہ گل نے اپنی ویل چیئر کا رخ میر کے کمرے کی طرف موڑا. یہ جو میر کی لاڈلی بیگم اس گھر میں آئی ہے. آخر وہ کس دن کام آئے گی. گل کی بات پر پہلے غلام علی کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں اور پھر وہ مسکرانے لگا 🎭🎭🎭🎭 کیسے ہو …… ؟؟ کال اٹینڈ ہوتے ہی میر نے غازی سے پوچھا جی ٹھیک ہوں. بس پاؤں پر زیادہ چوٹ آئی تھی تو پلستر ہوا ہے لیکن امید ہے کہ جلد چلنے پھرنے لگوں گا. غازی کے جواب پر میر نے سر ہلایا آپ کہیں کہ آپ نے کیسے یاد کیا ……. ؟؟ غازی کے پوچھنے پر میر ہنسنے لگا غازی مجھے تمہاری یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ تم میرے کہے بغیر ہی ساری بات سمجھ جاتے ہو. تم سمجھ تو گئے ہو گے کہ مجھے اس وقت تم سے کیا کام ہے…. ؟؟ میر کے پوچھنے پر غازی نے سامنے لگی گھڑی پر وقت دیکھا جہاں شام کے 7 بج رہے تھے. کس کو مارنا ہے اور کب …. ؟؟ غازی کے جواب پر میر نے قہقہہ لگایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں تمہیں کیا کہنے والا ہوں …..؟ ؟ میر نے تجسس سے پوچھا آپ اس وقت فارم ہاؤس پر ہیں اور آپ فارم ہاؤس پر تبھی آتے ہیں جب کوئی خاص مسئلہ درپیش ہوتا ہے. دوسرا آپ نے انعام کا ذکر کیا تھا تو وہ ویسے تو نہیں ملتا نااااا غازی کا جواب میر کو متاثر کر گیا.
تم اسی لیے مجھے بہت اچھے لگتے ہو. تم میرے بہت وفادار ساتھی ہو. میرا دایاں بازو ہو. مجھے تمہارا ہمیشہ خیال رہتا ہے. میر نے ٹہلتے ہوئے غازی کی تعریف کی.
کام کی نوعیت بتائیں تاکہ میں دیکھ سکوں کہ میں وہ کام کر بھی سکتا ہوں یا نہیں …..؟ ؟ غازی نے اپنے پاؤں کو دیکھتے ہوئے پوچھا
غازی وہ کام تم ہی کرو گے کیونکہ تمہارے علاوہ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے. میر کے جواب پر غازی خاموش ہو گیا.
میں تمہیں ہسپتال داخل کرا دوں گا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ تم بیمار ہو اور چل پھر نہیں سکتے. پھر تم میرے بندے کے ساتھ جا کر میرا کام کر دینا کیونکہ تمہارا نشانہ زبردست ہے. میر کی بات غازی نے خاموشی سے سنی.
مارنا کسے ہے ….؟؟ غازی کے پوچھنے پر میر نے اپنے اردگرد دیکھا
غازی تمہاری غیر موجودگی میں مجھے دوسری شادی کرنا پڑی اور اس کے پیچھے بھی ایک خاص وجہ تھی جو میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا ابھی موقع نہیں. میر کی بات پر غازی کو ماجد کا خیال آیا.
لیکن فی الحال اتنا سمجھ لو کہ تم نے میری دوسری بیوی کا قتل کرنا ہے. جیسے ہی میر کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے غازی کو ماجد کے لیے شدید دکھ لگا
گستاخی معاف میں نے کبھی پوچھا تو نہیں لیکن کیا آپ بتائیں گے کہ کیوں ….؟؟ غازی کے پوچھنے پر میر کو شدید حیرت ہوئی.
کام ہونے کے بعد بتا دوں گا پہلے بتانا میرے اصول کے خلاف ہے. میر نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی جب کہ غازی شدید تذبذب کا شکار تھا.
🎭🎭🎭🎭
میر نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا عزین کو اپنا منتظر پایا. وہ اس کی موجودگی کو نظر انداز کرتا کوٹ اتارنے لگا
آپ کے علاوہ آپ کی چیزیں کون کون استعمال کر سکتا ہے …… ؟؟ میر اپنی ٹائی ڈھیلی کرتا کف لنک نکالنے لگا کہ عزین کی آواز پر رکا.
میرے علاوہ میری چیزیں کوئی بھی استعمال نہیں کر سکتا. میر نے جواب دیتے ہوئے کف فولڈ کیے.
آپ کو اس بات کا پورا یقین ہے. عزین سینے پہ ہاتھ باندھتی باقاعدہ تفتیشی انداز میں میر کے سامنے کھڑی تھی.
تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے کہاں سے اتنے عجیب و غریب سوال ڈھونڈ کر لاتی ہو ….؟؟ میر نے بیزاری سے جواب دیتے ہوئے اپنے شوز اتارے.
یہ فضول سوال آپ کے بہت کام آنے والے ہیں. خیر یہ بتائیں کہ اس کمرے کی فوٹیج دیکھے ہوئے آپ کو کتنے دن ہو گئے ہیں …..؟ ؟ عزین کا اگلا سوال میر کا میٹر گھما گیا.
دیکھو حاشر کی اسسٹنٹ!!! میں بہت تھکا ہوا ہوں اور اس وقت مکمل آرام کرنا چاہتا ہوں. تم ایسا کرو کچھ دیر کے لیے گل کے کمرے میں چلی جاؤ بلکہ آج رات اسی پاس سو جاؤ. تمہاری مہربانی ہوگی بلکہ مجھ پہ احسان ہو گا. میر نے ننگے پاؤں کارپٹ پر چلتے ہوئے کہا تو عزین مسکرا دی.
آپ مجھے ایک بار اس کمرے کی آج کی فوٹیج دکھا دیں پھر میں چلی جاؤں گی. عزین کے اس قدر پر اعتماد لہجے پر میر چونکا
اور اگر میں نہ دکھاؤں تو …… ؟؟ اب کی بار میر نے عزین کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
تو اپ اپنی بربادی کے خود ذمہ دار ہوں گے پھر گلہ مت کیجئے گا عزین کہتی ہوئی جانے لگی کہ میر نے اس کا بازو پکڑا ہر کسی کو میری بربادی کی فکر پڑی ہے اور اپنے آپ کی خبر نہیں میر نے ذومعنی انداز میں کہتے ہوئے پینٹ کی جیب سے اپنا موبائل نکالا
یہ لو دیکھو میر نے اپنے موبائل پر کیمرہ آن کرتے ہوئے عزین کی طرف کیا تو اس نے فورا موبائل پکڑ لیا. شام کی فوٹیج عزین نے بہت غور سے دیکھی. کمرے میں سوائے عزین کے کوئی موجود نہیں تھا. پھر گل کا کمرے میں آنا عزین سے باتیں کرنا اور چلی جانا. عزین کے ساتھ ساتھ میر نے بھی بہت غور سے فوٹیج دیکھی ارے واہ تم دونوں سوتنوں میں تو بہت پیار ہو گیا ہے. میں تو سوچ رہا تھا ایک دوسرے کا سر پھاڑ رہی ہوں گی. میر نے ہلکے پھلکے سے انداز میں طنز کرتے ہوئے موبائل عزین کے ہاتھوں سے لے لیا اب تم میری جان چھوڑ دو تاکہ میں سکون سے کچھ پل سوچ سکوں. میر بظاہر مسکراتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا حاشر کے باس!!! میں آج رات تو یہیں آپ کے ساتھ آپ کے بستر پر سوؤں گی مگر کل پکا گل کے کمرے میں سو جاؤں گی. امید ہے آپ کو میرا بستر پر لیٹنا برا نہیں لگے گا. عزین کہتے بیڈ کی طرف بڑھ گئی جبکہ میر اسے چپ چاپ کھڑا گھور رہا تھا. لائٹ بند کر دیں مجھے بہت نیند آ رہی ہے. میر کو گھورتا دیکھ کر عزین نے کہا اور اپنے اوپر لحاف اوڑھ لیا. اٹھو یہاں سے اور دوبارہ میرے بستر پر لیٹنے کی کوشش نہ کرنا. میر کا صبر جواب دے گیا تھا اس نے ایک ہی جست میں کمبل عزین کے اوپر سے کھینچا. مجھے صوفے پر ٹھیک سے نیند نہیں آتی اس لیے آج بستر پر سونے دیں. پلیز عزین نے مسکین سی شکل بناتے ہوئے میر کی طرف دیکھا تو اس کا غصہ پراسرار مسکراہٹ میں بدلہ
ٹھیک ہے پھر نتائج کی ذمہ دار تم خود ہوگی. میر نے کہتے ہوئے کمبل چھوڑ دیا
مجھے منظور ہے _ عزین نے جواب دیتے دوبارہ کمبل اپنے اوپر اوڑھ لیا تو میر کے ماتھے پر انگنت شکنیں نمودار ہوئیں.
آخر ماجرہ کیا ہے ….؟؟ میر نے ایک نظر اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل کو دیکھتے ہوئے سوچا
جبکہ کمبل میں لیٹی عزین نے اچھی طرح سوچ لیا تھا کہ آج رات اسے کیا کرنا ہے …..؟ ؟
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے
