Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

تم نے ابھی تک کوئی ڈھنگ کے کپڑے نہیں پہنے. جب کہ میں واش روم جانے سے پہلے تمہیں کہہ کر گیا تھا
میر نے باہر نکلتے ہوئے ایک اچٹکی نظر عزین پر ڈالتے ہوئے کہا
وہ بات دراصل کچھ یہ ہے “حاشر کے باس” کہ میں اتنی دیر سے وہ “ڈھنگ کے کپڑے” ہی تلاش کر رہی ہوں جو میں نے پہننے ہیں مگر وہ مجھے نظر ہی نہیں آ رہے. عزین کے جواب پر میر کو اپنے بالوں میں برش کر رہا تھا اسے گھورنے لگا
میں نے حاشر سے کہا تھا بلکہ تم سے بھی کہ جو ضروری سامان ساتھ لانا ہے وہ لے کر آنا. اب یہ تو کامن سینس ہے کہ ضروری سامان میں کپڑے بھی آتے ہیں. تو تمہارے کپڑے کہاں ہیں…… ؟؟ میر نے پرفیوم کی بوتل پکڑے ہوئے پوچھا
پہلی بات تو یہ کہ غریب کے پاس کوئی کامن سینس نہیں ہوتی بلکہ میرے خیال سے وہ انتہائی نان سینس ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ میں سمجھی کہ ڈھنگ کے کپڑے مجھے آپ دیں گے. اب کی بار عزین کے چہرے پر شرارت واضح تھی.
اگر تمہارے پاس کپڑے بھی نہیں ہیں تو تم اپنے ساتھ کیا لائی ہو ……. ؟؟ میر نے غصے سے برش ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
نہیں میرے پاس کپڑے تو ہیں تبھی رات تبدیل کیے تھے. (عزین نے اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا) مگر ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں.
آپ نے ابھی بولا ناااااا کہ ڈھنگ کے کپڑے پہنو اور میرے ساتھ نیچے چلو. عزین نے میر کی نقل اتاری تو نہ چاہتے ہوئے بھی میر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ رینگ گئی.
میرے سامنے زیادہ زبان نہ چلایا کرو. میں ڈرائیور سے کہہ دوں گا تم اس کے ساتھ جا کے کچھ ڈھنگ کے کپڑے خرید لینا مگر اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ میرا سٹیٹس کیا ہے.
بہرحال اب جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے. اس میں سے کچھ تو ڈھنگ کا ہوگا وہ پہن کر اور اپنا یہ منہ دھو کر میرے ساتھ نیچے چلو کیونکہ ناشتے کی میز پر گل بھی ہوں گی.میر کے کہنے پر عزین آہستہ سا صوفے سے اٹھی.
کل رات تک تو تم بالکل ٹھیک ٹھاک تھی مگر اب ایسے لگ رہا ہے جیسے تمہارے پورے جسم میں درد ہو. اٹھ کیوں نہیں رہی …..؟؟ میر کو عزین کی سستی پر شدید غصہ آ رہا تھا.
وہ میرا سوٹ کیس تو آپ کی گاڑی میں ہی ہے. کسی نے مجھے کمرے میں لا کر ہی نہیں دیا. آپ منگوا دیں تاکہ میں اس میں سے ڈھنگ کے کپڑے نکال لوں
عزین نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہا جبکہ اس کی ہنسی چھوٹنے کو تیار تھی.
او کے _ میر نے ایک گہرا سانس خارج کرتے ہوئے اپنے موبائل سے کسی کو میسج کیا. تم دوبارہ یہاں بیٹھ گئی ہو. واش روم میں کیوں نہیں جاتی. مجھے پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے. عزین کو دوبارہ صوفے پہ بیٹھتا دیکھ کر میر پھٹ پڑا ابھی میرے کپڑے نہیں آئے. اب واش روم کے اندر سے میں آپ کو آوازیں دیتی خاصی عجیب سی لگوں گی. عزین کے جواب پر میر سر نفی میں ہلانے لگا تمہارے پاس تیار ہونے کے لیے صرف پانچ منٹ ہے اگر تم نے ایک منٹ بھی اوپر لگایا تو میں تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا. جیسے ہی دروازے پر دستک ہوئی میر نے اندر آنے کی اجازت دیتے ہی عزین سے کہا وہ جو کوئی بھی تھا بیگ دیتا دروازے سے ہی پلٹ گیا. عزین نے جلدی سے ایک سبز رنگ کا سوٹ نکالا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی. رکو اتنا گندہ رنگ پہنو گی کچھ اور اس سے بہتر نہیں ہے. میر نے عزین کے ہاتھ میں پکڑا سوٹ دیکھ کر کہا تو عزین پلٹی اور ایک اورنج رنگ کا سوٹ نکالنے لگی.
مجھے یہ رنگ بہت برا لگتا ہے. مندروں کی داسی جیسا _ عزین کے پلٹتے ہی میر نے پھر تبصرہ کیا آپ ہی بتا دیں کس رنگ کا سوٹ پہنوں …… ؟؟ میر کے سخت تیور دیکھتے ہوئے عزین نے اب کی بار شرافت سے پوچھا تمہارے پاس کچھ بلیک رنگ میں نہیں ہے …..؟ ؟ میر نے اپنے بھی تھری پیس سوٹ پہ نظر مارتے ہوئے پوچھا تو عزین کی ہنسی نکل گئی مگر اس نے منہ نیچے کر لیا. نائٹی ہے جواب دیتے ہی عزین نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا جبکہ ہنسی روکتے روکتے وہ سرخ ہوگئی تھی.
جسٹ شیٹ اپ میر دھاڑا جو مرضی پہنو، جس مرضی رنگ کا پہنو مگر تین منٹ ہے تمہارے پاس فورا باہر آؤ
میر نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا تو عزین پھر وہی سبز رنگ کا سوٹ لیے واش روم بھاگی کیوں کہ وہی سب میں بہتر تھا.
امید کے پر خلاف عزین واقعی ہی تین منٹ کے اندر اندر واش روم سے برآمد ہوگی. مگر اسے دیکھتے ہی میر کے ماتھے پر بل پڑے.
یہ کیا صرف کپڑے تبدیل کیے ہیں. اپنے بال بناؤ کچھ تھوڑا سا منہ پہ مل لو جو بھی لڑکیاں لگاتی ہے ….؟ میر نے اس کے رف حلیے پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا
اسے “میک اپ” کہتے ہیں اور آپ کے اس کمرے میں میک اپ نام کی کوئی چیز نہیں ہے. تو میں کس چیز سے میک اپ کروں ……. ؟؟
شیونگ کریم سے، باڈی سپرے سے، پاؤڈر سے، برش سے کس سے …..؟ ؟ عزین نے بالوں کی پونی بناتے ہوئے پوچھا
کیا تمہارے پرس میں ایک لپسٹک بھی نہیں ہے …… ؟؟ میر کے پوچھنے پر عزین نے سر نفی میں ہلایا
اب مجھے گلبدین کے سامنے کتنی شرمندگی ہو گئی. کچھ تو کرو اپنے اس منہ پر کہ تم پہلے دن کی دلہن لگو.تم نے میری صبح خراب کر دی ہے. میر نے غصے سے مکا بنایا مگر مارنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہ ملی عزین شیشے کے آگے کھڑی تھی.
آپ نے بھی تو میری رات خراب کی تھی. عزین بڑبڑائی جسے سنتے ہی میر کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ چھا گئی.
میں نے تو ایس ایچ او ماجد کا ذکر اس لیے کیا تھا کہ تم اس کے خواب دیکھتی اچھی نیند سو سکوں. میر کہتا ہوا دروازے کی طرف بڑھ گیا یہ جانے بغیر کہ عزین کے دل پر اس جملے سے کیا گزری ہو گی …… ؟؟
🎭🎭🎭🎭
🌹ماضی ……….
کل تم اس عجیب سی حویلی میں رہتے ہوئے بھی اتنی ہشاش بشاش اور زبردست قسم کا ذوق رکھتی ہو. مجھے حیرت ہے. میر نے درخت ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے گل کی طرح دیکھا تو وہ مسکرا دی
اچھا تو تمہارے خیال سے مجھے کہاں ہونا چاہیے ……؟؟ گل نے دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے پوچھا وہ دونوں اس وقت حویلی کے پچھلے لان میں تھے.
تم ایسا کرو کہ میرے ساتھ چلو یقین مانو میرے ساتھ تمہاری زندگی بہت مزے کی گزرے گی. تم کیا یہ جنگلی جانوروں میرا مطلب ہے شیر علی کے جال میں پھنسی ہوئی ہو. میر نے طنز کیا وہ اس وقت جینز کی پینٹ اور وائٹ شرٹ پہنے ہوا تھا.
مجھے تم اس ڈریس میں بہت اچھے لگتے ہو بلکہ یہ رنگ تم پر بہت اچھا لگتا ہے. تمہیں کبھی کسی “گوری میم” نے نہیں بتایا. گل کے پوچھنے پر میر ہنسنے لگا
وہاں کی گوریاں تو مجھ پر مرتی ہیں مگر میں کیا کروں مجھے ایک جنگلی جانور کی منگیتر پسند آگئی ہے …… ؟؟ میر نے گھما پھرا کے بات پھر وہیں لا کھڑی کی
میر تم سیدھا سیدھا اس وقت فلرٹ کر رہے ہو اور اگر شیر علی نے سن لیا تو وہ تمہارا بہت برا حشر کرے گا. گل نے وارنگ دی.
میں چاہتا ہوں کہ وہ سن لے تاکہ میں بھی دیکھوں کہ اس میں کتنا دم ہے …… ؟؟ میر اس وقت بالکل سنجیدہ تھا جس پر گل کو عجیب سا احساس ہوا
میر آخر تم اس سے لڑنا کیوں چاہتے ہو جبکہ میری دلی خواہش ہے کہ تم لڑائی جھگڑے سے دور رہو. تم اُن جیسے مت بنو پلیززززز. گل کے لہجے میں فکر تھی.
تمہیں سچ میں میری فکر ہو رہی ہے یا شیر علی کی
میر نے گل کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی نما آواز میں پوچھا دیکھو میر!!! تمہارا فیوچر برائٹ ہے. تم لندن میں اپنی پسند کی زندگی اپنی پسند کے شخص (اشارہ عینی کی طرف تھاا) ساتھ گزار رہے ہو. پھر کیوں خواہ مخواہ اس خون خرابے میں پڑتے ہو. میں چاہتی ہوں کہ تم وہیں رہو اور خوش رہو. گل کی باتوں پر میر نے اسے سنجیدگی سے دیکھا گل سچ تو یہ ہے کہ میرا بھی یہاں رہنے اور آنے کو دل نہیں کرتا. تم جانتی ہو کہ ماما کی ڈیتھ کے بعد مجھے کبھی بھی سردار بیگم سے انسیت محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی انہوں نے ایسی کوئی کوشش کی. بابا کو سردار بیگم پسند تھی انہوں نے شادی کر لی. مگر میرا دل کہتا ہے کہ بابا کو ہارٹ اٹیک نہیں آیا تھا بلکہ سردار بیگم نے انہیں جائیداد کے لیے قتل کیا ہے. جیسے ہی میر نے یہ جملے ادا کیے گل کے چہرے کا رنگ بدل گیا میر تم آپا کے بارے میں ہمیشہ منفی سوچتے ہو. وہ ایسی نہیں ہے. تمہارے بابا کی قدرتی موت تھی. دیکھو میں بھی تو انہی کی بہن ہوں. اس کا مطلب ہے تم میرے بارے میں بھی ایسا ہی سوچتے ہو گے….؟ گل نے بظاہر مسکراتے ہوئے پوچھا تو میر سر نفی میں ہلانے لگا نہیں تم سب سے جدا ہو. نہ تم اپنی آپا جیسی ہو اور نہ ہی اپنے کزنز جیسی تم بہت مختلف ہو. گل تم مجھے اچھی لگتی ہو. میر نے محبت سے گل کے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا تو وہ کندھے اچکا گئی.
مجھے اس حویلی سے وحشت ہوتی ہے کیونکہ میری ماما کی ڈیتھ کے بعد میرے ساتھ اس حویلی میں کچھ بھی اچھا نہیں ہوا. وہ تو شکر ہے کہ آغا جان نے مجھے لندن بھیج دیا تھا. ورنہ میں اب تک پاگل ہو چکا ہوتا. میر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا
اچھا زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے. تم اب بڑے ہو گئے ہو. گل نے میر کو پریشان دیکھتے ہوئے تسلی دی تبھی حویلی میں ایک شور کا طوفان اٹھا تو دونوں چونک پڑے
یہ کیسا شور ہے …… ؟؟ میر نے ایک دم اندر کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا تو گل کا رنگ فق ہو گیا.
میر ٹھہرو، میری بات سنو ہم دونوں اکٹھے اندر چلتے ہیں. رکو تو سہی
میر کو اندر کی طرف بھاگتا دیکھ کر گل نے پیچھے سے آوازیں لگائیں. آپا کو منع بھی کیا تھا کہ جلد بازی نہیں کرنا. اب پتہ نہیں کتنا ہنگامہ ہوگا. ابھی تو میر اور آغا ا جان کے وفادار نوکر بھی حویلی میں ہی موجود ہیں. گل نے دل میں سوچتے ہوئے مرے مرے قدم اٹھانا شروع کیے 🎭🎭🎭🎭 زریں کے لاکھ چیخنے چلانے اور بہانہ بنانے کے باوجود بھی ماسی پھلاں نے زبردستی اس کا نکاح غازی سے کر دیا. جس پر وہ شدید غصے میں تھی. اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی کا سر توڑ دے. دیکھ بیٹے یہ بن ماں باپ کے بچی ہے اور میں نے اسے بہت محبت اور پیار سے پالا ہے. تو اس کا بہت خیال رکھنا. ویسے تو میں اس پر ظاہر نہیں کرتی مگر مجھے اس کی بھی بڑی فکر تھی. شکر ہے آج میں نے اپنا فرض ادا کر دیا. ماسی پھلاں نے غازی کے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ سر ہلانے لگا جب کہ ماجد بہت غور سے ماسی پھلاں کو دیکھ رہا تھا جیسے کچھ یاد کرنا چاہ رہا ہو مگر یاد نہ آ رہا ہو. اب تم لوگ بے شک جاؤ مگر جیسے ہی طبیعت ٹھیک ہو تو فوراً مجھ سے ملنے آنا. ماسی پھلاں نے خوشی خوشی جانے کی اجازت دی تو غازی نے سکھ کا سانس لیا. ماجد جلدی فون کر مجھے یہاں سے نکلنا ہے ابھی اور اسی وقت مجھے اپنا فلیٹ یاد آ رہا ہے. ماسی جیسے ہی اندر کی طرف گئی غازی نے فورا ماجد کے کان میں سرگوشی کی.
غازی صبر کر، تو ہمیشہ میرے لیے مشکل کھڑی کر دیتا ہے. اب مجھے کچھ بندوبست تو کرنے دے. ہم اب دو نہیں ہیں ہمارے ساتھ ایک لڑکی بھی ہے سوری میرا مطلب ہے کہ بھابھی ماجد نے کہتے ہوئے مسکرا کے غازی کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر بھی پر اسرار مسکراہٹ چھا گئی. اس لڑکی کا تو میں وہ حشر کروں گا کہ یہ یاد رکھے گی. اس نے مجھے اتنا ستایا ہے کہ تیری سوچ ہے. غازی نے ماجد کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچا چلو لڑکیوں!!! جلدی سے زری کو تیار کر دو. ان لوگوں نے گاڑی والے کو فون کر دیا ہے. ماسی پھلاں نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے خوشی سے کہا ماسی میں نے تیرے کہنے پر نکاح تو کر لیا ہے مگر میں یہاں سے جانے والی نہیں. تیرا کیا خیال ہے میں اتنے سستے میں چلی جاؤں گی …… ؟؟ زری نے غصے سے ماسی کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو تمام لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ماسی نے بھی اسے حیرت سے دیکھا پاگل ہو گئی ہے. شادی کے بعد لڑکیاں اپنے دولہے کے ساتھ ہی جاتی ہیں. اتنا پیارا لڑکا لے کر دیا ہے میں نے تجھے کیا یاد رکھے گی …..؟ ؟ ماسی پھلاں نے اپنی گردن اکڑاتے ہوئے کہا
ماسی یاد تو تُو مجھے بھی رکھے گی. میں ایسے نہیں جانے والی _ تُو مجھے پہلے میرا سارا جہیز دے. لڑکے والوں سے رنگ برنگے کپڑے، زیور، اس کے بعد پھولوں والی گاڑی منگوا پھر میں جاؤں گی. ورنہ میں اس لولے لنگڑے ساتھ جانے والی نہیں بلکہ اس کی دوسری ٹانگ میں توڑ دوں گی. وہ تو نہیں جانتا مگر تو مجھے اچھے سے جانتی ہے. زریں کی دھمکی پر ماسی پھلاں کا چمکتا چہرہ پریشان ہو گیا. ہائے زریں کیسی باتیں کر رہی ہے …..؟ ؟ باہر وہ لوگ بیٹھے ہیں اور تو اندر اس طرح بول رہی ہے. وہ بیچارہ کہاں سے ان تمام چیزوں کا بندوبست کرے گا …… ؟؟ وہ تو خود بیمار ہے. اب کی بار ماسی پھلاں نے زری کے قریب آتے ہوئے پریشانی سے کہا تو زریں نے منہ بنا لیا. یہ میرا مسئلہ نہیں ہے. تُو انہیں جا کر بول کے وہ ابھی اور اسی وقت تمام چیزوں کا بندوبست کریں. ورنہ میں ان کے ساتھ نہیں جاؤں گی اور انہیں جانے بھی نہیں دوں گی. یہ جو شہری مرغا اسے لینے آیا ہے نااااا ا اسے پکڑ کے اس کی شادی رجو سے کرا دوں گی. خود تو میں ڈوبی ہوں باقیوں کو بھی لے کر ڈوبوں گی. زری کے اس قدر سخت رویے پر ماسی مایوس ہوتی کمرے سے باہر نکل گئی جب کہ رجو نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا مر مت، میں نے صرف ماسی کو دھمکی دی ہے. ماسی کے جاتے ہی زری نے رجو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے سکھ کا سانس لیا ورنہ زری سے کچھ بعید نہیں تھی کہ وہ اب کیا کرے گی …… ؟؟ پتر بات دراصل کچھ یوں ہے کہ زریں کی بھی ہر لڑکی کی طرح کچھ خواہشیں ہیں. وہ چاہتی ہیں کہ تم وہ پوری کر دو تاکہ میں اسے تمہارے ساتھ رخصت کروں. ماسی نے اپنا گلا صاف کرتے اب کی بار بڑی مسکینیت سے غازی کی طرف دیکھا تو اس کا ماتھا ٹھنکا کیسی خواہشات ہیں اپ کی اس معصوم بیٹی کی …. ؟؟ غازی کو تجسس ہوا کہ اچھا بھلا نکاح خاموشی سے ہو گیا ہے تو اب کیا ہوا …..؟؟ وہ چاہتی ہے کہ اس کی شادی صحیح دھوم دھام شور شرابے سے ہو. تم لوگ پھولوں والی گاڑی بینڈ باجے کے ساتھ لاؤ اور اس کے بہت سارے کپڑے، میک اپ کا سامان، زیور جیسا کہ لڑکے والے لاتے ہیں. ماسی نے بتانا شروع کیا تو غازی کے چہرے کے زاویے بدلے جب کہ ماجد بڑے مزے سے سن رہا تھا یہ تو سراسر ہمارے ساتھ دھوکہ ہے! پہلے آپ نے زبردستی اپنی بچی کی شادی میرے ساتھ کی اور اب آپ فرمائشیں کر رہی ہیں. غازی کی آواز بلند ہوئی. زری مجھے لگتا ہے کہ وہ ماسی پھلاں ساتھ بدتمیزی کر رہا ہے. رجو نے غازی کی بات سنتے ہوئے زری کی طرف دیکھا ایسی کی تیسی میرے ہوتے ہوئے کوئی ماسی کو کچھ کہہ کے تو دیکھے. زری نے فورا چارپائی سے اٹھتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھائے جب کہ لڑکیاں اسے آوازیں دیتی رہ گئیں. اوئے نیم شہری بابو!!! میری بات کان کھول کے سن زیادہ اونچا بولنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ میں گلا دبا دوں گی اور ماسی تو اندر چل میں خود ہی بات کر لیتی ہوں چل شاباش اندر زری نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے ماسی کو ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا تو ماجد کی آنکھیں پھیل گئیں.
تو یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ تو ماسی کا بیٹا نہیں ہے. ایک ٹانگ تیری ویسے ہی ٹوٹی ہوئی ہے دوسری میں توڑ دوں گی. تو تُو یہاں سے کہیں جانے کے قابل نہیں رہے گا اور یہ جو تو نے شہر سے اپنا شہری مرغا بلوایا ہے نا اس کا بھی بندوبست مجھے کرنا آتا ہے. میں نے تجھے بتایا تھا کہ میں بیل ذبح کر لیتی ہوں وہ بھی بالکل اکیلے
زریں کی باتوں پر غازی نے اسے ناگواری سے دیکھا
دیکھو فلحال ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے اس لیے ہم تمہاری کوئی ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکتے. ہاں میں یہاں سے چلا جاؤں پھر دیکھتا ہوں. غازی نے قدرے تحمل سے جواب دیا جو کہ اس کی طبعیت کا خاصا نہ تھا.
مجھے ابھی اور اسی وقت یہ تمام چیزیں چاہیے ورنہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی اور تمہیں جانے بھی نہیں دوں گی. غریب انسان _ زریں کا لہجہ ضدی تھا. خبردار جو مجھے غریب انسان بولا تُو میرے پاس اتنا کچھ ہے کہ تمہاری سوچ ہے. تم نے وہ چیزیں کبھی دیکھی بھی نہیں ہوں گی جنہیں میں استعمال کرتا ہوں. غازی ایک دم بھڑک اٹھا تو ماجد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
اچھا تو پھر اپنی اس عمر و عیار کی زنبیل میں سے میری بھی خواہشات پوری کر دو. زری کا لہجہ تمسخرانہ تھا.
ماجد فون کر ابھی کے ابھی تمام چیزیں منگوا. مجھے نہیں پتہ میری عزت کا سوال ہے. غازی کی بات پر ماجد سر ہلانے لگا
وہ بیچارہ کسے فون کرے گا …… ؟؟ اس کے پاس تو ایک بوتل کے پیسے تک نہیں ہے. شابو بابا کی دکان سے مفت میں بوتل پی کر آ رہا تھا کہ مجھ سے ٹکرا گیا. یہ سمجھتا ہے کہ ہمیں اس کے کارنامے نہیں پتا. جیسا تو بھوکا ویسا یہ بھوکا _ ہنہ زریں نے حقارت سے گردن ہلائی. مجھے سمجھ نہیں آتی ماجد، جب پولیس کی موبائل وین گاؤں سے باہر موجود ہے تو تُو اسے بلواتا کیوں نہیں…. ؟؟ غازی زچ ہوا یار بات سمجھنے کی کوشش کر میں نہیں چاہتا کہ تو میڈیا کے سامنے آئے اور بات پھیلی _ ماجد کے جواب پر غازی نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا.
بھابھی آپ اندر جائیں. ہم بندوبست کر کے آپ کو بتاتے ہیں. ماجد نے انتہائی تمیز سے زری کو مخاطب کیا کیونکہ اسے اپنی عزت پیاری تھی.
مجھے یہ بھابھی والا لولی پوپ نہ دو. جو میں نے کہا ہے وہ کرو کیونکہ مجھے شادی کا بہت شوق ہے اور میں ایسی روکھی پھیکی شادی بالکل پسند نہیں کرتی. زری کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی تو ماجد نے سکھ کا سانس لیا
اب سے کچھ دیر پہلے تک مجھے اس لڑکی سے ہمدردی ہو رہی تھی مگر اب تجھ سے ہے. ماجد نے ہنستے ہوئے غازی کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے جھڑک دیا
یہ جانتی نہیں غازی کو ابھی، کسی بھول میں ہے. مجھے ٹھیک ہو لینے دے پھر دیکھ کے میں اس کا کیا حشر کرتا ہوں…..؟ ؟ غازی کے بیان پر ماجد نے سر نفی میں ہلایا
غازی تو جو مرضی کہہ لے مگر لڑکی تیری ٹکر کی ہے اور تجھے سوٹ بھی کرتی ہے. ماجد نے زریں کو داد دی.
🎭🎭🎭🎭