Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

بارش کی ننھی منی بوندیں گاڑی کے شیشوں ساتھ ٹکراتی عجب میوزک پیدا کر رہی تھیں. گاڑی جیسے ہی پورچ میں رکی میر نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور لان کی طرف چل دیا
سر بارش میں گیلے ہو جائیں گے. پیچھے سے غلام علی نے آواز لگائی مگر میر چپ چاپ گیلی گھاس پر چلنے لگا
کتنا اچھا لگتا تھا لندن کی سڑکوں پر یوں بارش میں بھینگنا. میر کو اپنا یونی کا دور یاد آیا تو چہرے پر مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا اور پھر وہ بھلی سی صورت جس کا محبت سے پوچھنا
“میر کب واپس آؤ گے ….؟؟” اور وہ اسے چڑانے کی غرض سے کہتا “کبھی نہیں” اپنی ہی باتوں کو یاد کرتے ہوئے میر دکھی ہوا
کاش میں نے کہا ہوتا “بس چند دن” _ اب تو اس کے بچے بھی ہوں گے اور پتہ نہیں کتنے ہوں گے …….. ؟؟ اپنی سوچ پر وہ خود ہی ہنسا برستی بارش میں وہ سارا بھیگ چکا تھا. اس کے جوتوں میں بھی پانی بھرنے لگا تھا. سر جھٹکتا اب وہ اندر کی جانب چل دیا. لاؤنچ کی سیڑھیوں میں ملازم تولیہ لیے کھڑا تھا سب سے پہلے میر نے اپنے جوتے اتار کر سلیپر پہنے پھر اپنا کوٹ اتار کے ارد گرد کھڑے ملازموں کو پکڑایا اور تولیے سے بال صاف کرتا اندر کی جانب چل دیا. لاؤنج میں گہری خاموشی تھی مطلب گلبدین سو چکی ہے. اپنے کمرے کی طرف جاتے جاتے میر کے قدم خود با خود گلبدین کے کمرے کی طرف چل دیے. جیسے ہی ہنڈل پر ہاتھ رکھتے میر نے آہستہ سا اسے گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا. میر تم اس سے پہلے میر کچھ کہتا گلبدین جو رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی یوں اچانک اسے دیکھ کر چونک گئی.
ہاں میں تھکے تھکے سے قدم لیتا وہ رائٹنگ ٹیبل پاس آ کھڑا ہوا. ماتھے پر بکھرے گیلے بال، کندھوں پر تولیا لیے، پینٹ تخنوں تک فولڈ اور پاؤں میں سلیپر، وہ اس وقت گلبدین کو بہت پیارا لگا
بارش میں نہا کر آئے ہو …… ؟؟ گلبدین کے پوچھنے پر اس نے ہلکا سا سر کو خم دیا جبکہ پوزیشن ہنوز قائم تھی.
میرا بھی دل کرتا ہے مگر گلبدین نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں سے گرتی بارش صاف نظر آرہی تھی.
آپ ملازمہ سے کہتیں وہ آپ کو لے جاتیں. پر کوئی بات نہیں ابھی کونسی بارش رکی ہے. چلیں میں لے جاتا ہوں. میر نے فوراً سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے آفر ماری.
نہیں تم تو آگے ہی بہت گیلے ہوئے ہو اور تمہیں سردی بھی جلدی لگ جاتی ہے. دیکھنا ابھی چھینکیں آنے لگیں گی. جاؤ کپڑے بدلو اور کچھ گرم پیو. گلبدین کی بات پر میر مسکراتا دوبارہ ٹیبل ساتھ ٹیک لگا گیا
آج جلدی آگے ہو. گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے گلبدین نے پوچھا
ہاں بس آج کام کرنے کو دل نہیں کر رہا تھا. میر نے رائٹنگ ٹیبل سے پیڈ اٹھاتے ہوئے جواب دیا.
میر یہ
گلبدین نے پیڈ پکڑنا چاہا.
اداس ہیں ……. ؟؟ ورق پلٹتے محبت سے پوچھا
نہیں گلبدین نے نظریں پھیر لیں. شرمندگی نے گھیرا. میر کے بارے میں ہی تو سب گلے لکھے تھے.
اچھا تو مجھے ظالم لکھا جا رہا ہے…….. ؟؟ میر نے پیڈ ٹیبل پر پھینکتے ہوئے پوچھا
اس معاشرے کی ہر عورت کو لگتا ہے کہ وہ مظلوم ہے اور مرد ظالم میر پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے سیدھا کھڑا ہوا.
اس مہینے تو بہت مصروف ہوں. کچھ کام ضروری ہیں. جنہیں میں چھوڑ نہیں سکتا. مگر اگلے مہینے میں آپ کو لے کر کہیں چلوں گا. میں بھی کچھ دن آرام کرنا چاہتا ہوں. تب تک آپ سوچیں کہ ہم نے کہاں جانا ہے ……. ؟؟ میر نے مسکراتے ہوئے کہا تو گلبدین نے حیرت سے اس کی طرف گردن موڑی.
ایم سوری میر جانے کے لیے پلٹا تو گلبدین کی آواز اس کے کانوں میں پڑی وہ شاید شرمندہ تھی.
مجھے بالکل برا نہیں لگا لیکن اگر آپ لکھنے کی بجائے مجھے خود کہہ دیتیں تو بہت اچھا لگتا. میر نے مڑتے ہوئے گلبدین کے سر پہ بوسہ دیا اور محبت سے کندھا تھپکتے باہر چلا گیا جب کہ گلبدین اس کے رویے سے پریشان ہو گئی.
لگتا ہے میر کی طبیعت ٹھیک نہیں. نہ غصہ کیا، نہ کوئی جھگڑا اور نہ ہی طعنہ ناراضگی
خود سے کہتی گلبدین ٹیبل لیمپ بند کر گئی.
اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی میر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑا ہوا اور خود کو دیکھنے لگا جو اس کا محبوب مشغلہ تھا.
میر طلال ہار جاتے ہو اس عورت کے آگے _ شیشے میں موجود اس کا عکس اس پر ہنسنے لگا کیا کروں قربانی بھی تو اس کی بڑی ہے جو اس نے میرے لیے دی. میر سرگوشی نما آواز میں مخاطب ہوا. نیت اپنی خراب ہے اور کہتے قربانی اس کی بڑی ہے
میر کو اپنا عکس اپنا ہی مذاق اڑاتا نظر آیا تو ہمیشہ کی طرح شیشہ چند سیکنڈ کے اندر اندر چکنا چور ہو گیا. جب بھی میر کو ڈپریشن ہوتا غصہ شیشے پر ہی نکلتا تھا
🎭🎭🎭🎭
یا رجو تو بھی شادی کر کے دوسرے گاؤں چلی جائے گی تو میرا کیا بنے گا ……. ؟؟ ٹیوب ویل کی دیوار پر بیٹھی زری نے پانی میں پتہ پھینکا
میں نے تو جانا ہی ہے. رجو نے شرماتے ہوئے جواب دیا.
ویسے تیرے سسرال والے ہیں ٹھیک ٹھاک لوگ _ زری نے بے خیالی میں تبصرہ کیا زری ایک بات کہوں اگر تو ماسی پھلاں سے نہ کرے تو ……. ؟؟ رجو نے ڈرتے ڈرتے زری کی طرف دیکھا جو مزے سے پانی میں مسلسل پتے توڑ کر پھینک رہی تھی نہیں بتاتی. اب میں اتنی بھی بے وقوف نہیں کہ ساری باتیں ہی ماسی کو بتا دوں اور پھینٹی کھاؤں. زری کے جواب پہ رجو نے سکھ کا سانس لیا زری وہ میرا دیور ہے ناااااااا اس نے تجھے میری منگنی پر دیکھا تھا. کہتا تیرے ساتھ ہی شادی کرے گا. رجو کی بات پر زری کا پتہ پھینکتا ہاتھ رکا رجو کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتی ہے ماسی مجھے جان سے مار دے گی مگر میری شادی کسی سے نہیں کرے گی. زری نے مایوسی سے رجو کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا سارے گاؤں کو معلوم ہے کہ سانول مر چکا ہے مگر ماسی فضول ضد لگائے بیٹھی ہے. یہ تو تیرے ساتھ سراسر ظلم ہے. رجو نے انتہائی دکھ سے کہا جو بھی ہے مگر میں ماسی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی. جب میرے والدین سیلاب میں ڈوب کر مر گئے تھے تب ماسی نے ہی مجھے آسرا دیا تھا. زری کے جواب پہ رجو خاموش ہو گئی. پھر بھی زری ذرا سوچ کیا تو ایسے ہی بیٹھی رہے گی …… ؟؟ رجو کے سوال پر زری نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے اور دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی اچھا سن میرے دماغ میں ایک ائیڈیا ایا ہے. اگر ہم ایسا کریں کہ کسی “لڑکے” کو ماسی کا سانول بنا کر پیش کر دیں. تو ……. ؟؟ رجو کی بات پر زریں نے اسے گھورتے ہوئے اپنے ہاتھ جھاڑے اور نیچے اتر آئی. رجو تو جاسوسی ناول کم پڑھا کر، ماسی کو اپنے بیٹے کی پہچان ہے وہ اس سے کچھ سوال پوچھیں گی تو ہم پکڑے جائیں گے. دوسرا کوئی لڑکا کیوں ماسی کا بیٹا بنے گا …… ؟؟ زری کے جواب پر رجو منہ بناتی اسے دیکھنے لگی بے وقوف زری میں اپنے دیور سے کہوں گی کہ کسی لڑکے کو ماسی کا بیٹا بنا کر لے آئے جو کہ شادی شدہ بھی ہو. پھر تو ماسی تیری شادی میرے دیور سے کر دے گی نااااااا اس طرح ہم دونوں ایک ہی گھر میں رہیں گے. رجو نے خوشی سے اس کے گلے میں اپنی باہیں ڈالیں. ہممممم
آئیڈیا ا تو اچھا ہے مگر. …..؟ ؟ زری نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
اگر مگر کچھ نہیں بس میں نے سوچ لیا ہے کہ میں تیرے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کروں گی. آخر تو میری سب سے اچھی اور پیاری دوست ہے. رجو کہتی ہوئی اس کے ساتھ چل دی.
🎭🎭🎭🎭
میں نے کل تمہاری اسسٹنٹ کو لفٹ دی تھی. میر کے منہ سے جیسے ہی یہ الفاظ نکلے سامنے بیٹھے ایڈوکیٹ حاشر کو شدید کھانسی کا دورہ پڑا
زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے. میں یہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ وہ بددماغ اور بد لحاظ لڑکی کس علاقے سے تعلق رکھتی ہے
مگر مجھے بے حد افسوس ہوا کہ وہ ایک انتہائی نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہے. بہت ہی گندی جگہ پر اس کا گھر ہے. جس کے ایک طرف کچرہ کنڈی اور دوسری طرف نشئیوں کا اڈا ہے
ایک ایسی لڑکی جو اُس ماحول میں پروان چڑھی ہو. اسے تم قابل ذہین اور پتہ نہیں کیا کیا القابات دیتے ہو. میر کی بات پر حاشر نے پانی والا گلاس اپنے منہ ساتھ لگایا
اس کے بارے میں جو باتیں آپ نے ابھی مجھے ابھی بتائی ہیں.وہ مجھے معلوم نہ تھی کیونکہ میں نے کبھی اس کا پیچھا نہیں کیا. حاشر کا جواب میر کو تپا گیا.
میر مجھے ایسے نہ دیکھا کر، میری جان نکل جاتی ہے. حاشر نے مسکین شکل بنائی
یہ انفارمیشن تمہیں دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم نے میرے آفس میں کیسا کیسا گند رکھا ہوا ہے. تمہارا کوئی سٹینڈرڈ نہیں اور تم نے میرا سٹینڈرڈ بھی خراب کر دیا ہے. میر کے لہجے میں حقارت تھی.
میر مجھے تیری یہ بات پسند نہیں. تجھ میں غرور بہت ہے. غریب بستیوں میں بھی انسان ہی رہتے ہیں اور قابلیت کسی کی میراث نہیں. عزین بے شک ایک قابل لڑکی ہے اور وہ بہت ترقی کرے گی. پتہ نہیں کیوں مجھے ایسے لگتا ہے کہ وہ تمہارے بزنس کے لیے پرفیکٹ ہے. حاشر کے جواب پر میر نے ہنستے ہوئے اپنی چیئر ساتھ ٹیک لگا لی.
یہ غریب لوگ کسی کے کام نہیں آتے. انتہائی لالچی ہوتے ہیں. وفاداری کی ان سے امید رکھنا بھی بے وقوفی ہے. میر کے جواب پر حاشر اسے خاموش نظروں سے دیکھنے لگا
لاجواب ہو گئے نااااااا _ میر نے دوبارہ اپنی کہنیوں کو میز پر رکھتے ہوئے پوچھا میر تم تو ایسے نہ تھے. اچھا خاصا محبت والا دل رکھتے تھے. حاشر نے کھوئے سے لہجے میں یاد دلایا ہاں اور اس معاشرے نے جو اُس محبت والے دل ساتھ سلوک کیا وہ بھی تمہارے سامنے ہے. حاشر تم میری تکلیف کا اندازہ نہیں کر سکتے. مجھے آج بھی سکون کی نیند نہیں آتی. جو کچھ میں نے جیل کی پانچ سالہ زندگی میں برداشت کیا ہے. تم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے. میر نے حاشر کی طرف جھکتے ہوئے کہا اچھا ٹھیک ہے تم یہ فائل دیکھو، کیسی زبردست تیار کی ہے. عابد بلڈرز اب بچ کر دکھائیں …..؟ ؟ حاشر نے فائل میر کے آگے رکھی یہ بھی یقیناً تمہاری اس اسسٹنٹ نے تیار کی ہوگی ….. ؟؟ میر نے اپنے آگے کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں پوچھا ہاں اس نے ہی کی ہے. حاشر نے اقرار کرنا مناسب سمجھا میں سوچ رہا تھا کہ تمہاری اس اسسٹنٹ کو جیل کی ہوا لگائی جائے میر کی بات پر حاشر کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی
میر حاشر نے آہستہ سا پکارا ہاں تم بالکل ٹھیک سمجھے ہو. اگر عزین کو دو سال سزا ہو جائے اور وہ بھی اسی جیل میں رہے جہاں “وہ” ہے تو ہماری مشکل آسان ہو جائے گی. بقول تمہارے وہ بہت قابل ہے، ذہین ہے تو اِس کے لیے “اُس” کا منہ کھولنا زیادہ مشکل نہ ہوگا. میر کی آنکھوں میں انتقام چمک رہا تھا مگر اس کا کیریئر تباہ ہو جائے گا. وہ ایک لڑکی ہے. حاشر افسردہ ہوا میرا بھی کیریئر تباہ ہوا تھا. میں بھی ایک لڑکا تھا میر نے دو بدو جواب دیا وہ اس سب کے لیے کبھی نہیں مانے گی. حاشر نے اچانک کہتے ہوئے خود کو ریلیکس کیا اول تو وہ مان جائے گی کیونکہ میں نے اس کی آنکھوں میں لالچ دیکھی ہے دوسرا اگر وہ نہ مانی تو مجھے منانا آتا ہے. میر نے فائل پر ہاتھ پھیرتے جواب دیا تم” اُسے” بھول نہیں سکتے …… ؟؟ حاشر نے بے چارگی سے کہا نہیں، کبھی نہیں میر بدلہ ضرور لیتا ہے. میر نے فائل پر مکا مارا
مجھے عزین کے لیے برا لگ رہا ہے. حاشر کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا
مگر مجھے اب وہ اچھی لگ رہی ہے. میر نے شرارت سے حاشر کی طرف دیکھا
تم اپنے مقصد کے لیے کوئی اور لڑکی دیکھ لو. میری اسسٹنٹ کو معاف کر دو. حاشر نے میز سے فائل اٹھاتے جواب دیا
چلو مرضی ہے مگر یہ اس کے لیے گولڈن چانس ہے. میر اپنی بات پر قائم تھا.
🎭🎭🎭🎭
جی سر آپ ے بلوایا تھا. غازی نے فارم ہاؤس کے لان میں داخل ہوتے ہوئے اونچی آواز میں پوچھا
آؤ _ میر نے سر ہلاتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا جبکہ فارم ہاؤس کے چاروں طرف اس کے بندے موجود تھے. غازی مجھے عابد بلڈرز کے اکلوتے بیٹے کی ناگہانی موت کا بہت افسوس ہے
میر کے جملے کو سمجھتے ہوئے غازی مسکرا دیا.
سر اس کا ایک ہی بیٹا ہے جو ابھی زندہ ہے. باڈی گارڈ نے اپنے طور پر دونوں کی معلومات میں اضافہ کیا مگر غلام علی کے ماتھے پر کچھ شکنیں نمودار ہو گئیں.
مگر اب زندہ نہیں رہے گا. غازی کے جواب پر میر نے اطمینان سے غلام علی کو دیکھا جو سخت اضطراب کا شکار تھا
اس لفافے میں اس کی تمام معلومات موجود ہے. اس کی تصویر اور یہ کہ وہ کب ایئرپورٹ پر اترے گا. میر نے میز پر پڑے سفید لفافے کی طرف اشارہ کیا
جو حکم _ غازی نے لفافہ پکڑتے ہوئے اپنی جیکٹ کے اندر رکھا غازی میں نے تمہارا دبئی کا ویزہ لگوا دیا ہے. میرے خیال سے تمہیں اس کام کے بعد کچھ وقت دوبئی میں گزارنا چاہیے. جب مجھے حالات ٹھیک لگیں گے میں تمہیں واپس بلوا لوں گا. میر کا اطمینان قابل دید تھا جیسے وہ کسی پلاٹ کی خرید و فروخت کا ذکر کر رہا ہو. میں اب چلتا ہوں غازی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا.
ٹھیک ہے تمہاری جو بھی پلاننگ ہو مجھے بتا دینا. میں اسی مناسبت سے تمہاری سیٹ بک کروا دوں گا. میر نے مسکراتے ہوئے غازی کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ اپنے قدموں پہ لوٹ گیا
میر آپ ٹھیک نہیں کر رہے. غلام علی سے رہا نہ گیا تو بول پڑا.
تم نے ٹھیک کیا ہے میرے ساتھ _ میر نے دیکھے بغیر پوچھا کیا مطلب ……… ؟؟ غلام علی نے نا سمجھی سے کہتے ہوئے میر کی طرف دیکھا جو سامنے پودوں کو دیکھ رہا تھا. یہ جو گلبدین کا دماغ خراب ہوا ہے. اس میں سوائے تمہارے کسی کا ہاتھ نہیں ہو سکتا. میں نے کل اس کی ڈائری پڑھی ہے. اپنے مشورے اپنے پاس رکھا کرو ورنہ تم سے زیادہ مجھے کوئی نہیں جانتا انتہائی سفاک شخص ہوں میں
میر کہتا ہوں اٹھ کھڑا ہوا
میں نے گل بی بی کو کچھ نہیں کہا غلام علی نے اپنی صفائی دی.
غلام علی میرا نام “میر طلال” ہے اور میں بندے کی آنکھیں پڑھ لیتا ہوں. میر نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے جواب دیا
غلام علی قبرستان کم جایا کرو کیونکہ وہاں سے آنے کے بعد تمہاری آنکھوں میں بغاوت بولتی ہے. اپنے بھائی کی قبر پر کم جایا کرو ورنہ تمہارے بعد اس کی قبر پر کون جائے گا …….. ؟؟ میر نے کہتے ہوئے غلام علی کے کندھے پر تھپکی دی
جی _ غلام علی صرف اتنا ہی کہہ سکا آگے پیچھے تینوں گاڑیاں فارم ہاؤس سے نکلیں. غیر ارادی طور پر میر کی نگاہیں سڑک کنارے عزین کو ڈھونڈ رہیں تھیں. ابھی وہ آتے جاتے لوگوں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ گلبدین کی پرسنل آیا کی کال آنے لگی جو کہ یقیناً خطرے کی علامت تھی. ہاں بولو گل بیوی ٹھیک ہیں …… ؟؟ آیا کے بولنے سے پہلے ہی میر نے پوچھا اسے کسی انہونی کا احساس ہو رہا تھا. نہیں صاحب انہوں نے اپنی نبض کاٹ لی ہے. بہت خون نکل رہا ہے. آیا کے الفاظ بمشکل اس کے حلق سے نکلے. جانتے تھے اب جو میر ان کا حال کرے گا. او شیٹ بس میں آ رہا ہوں. ڈاکٹر کو کال کروں. میر نے فون بند کرتے ہی ڈرائیور کی طرف دیکھا. میر صاحب گھر کی طرف ہی جا رہے ہیں. ساتھ بیٹھے باڈی گارڈ نے بتایا
جلدی میر نے تقریبا چیختے ہوئے کہا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر پہنچ جائے. کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑوں گا. جب کہا تھا کہ گل بی بی کو اکیلا نہیں چھوڑنا تو وہ سب کمبخت کہاں تھے. اتنی بڑی فوج ہے نوکروں کی، مگر سب کے سب نمک حرام _
میر نے بڑبڑاتے ہوئے اپنا موبائل آن کیا.
عزین آج پھر سٹاپ پر کھڑی تھی جب میر کی گاڑیوں کا قافلہ تیزی سے اس کے سامنے سے گزرا.
چل عزین بی بی آج تجھے کسی نے لفٹ نہیں کرائی. میں نے تو سوچا تھا کہ ڈراموں کی طرح روز لفٹ مل جائے گی مگر کہاں ….؟؟
ویسے تو بڑا جتلا رہے تھے تم میں اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں اور اپنی دفعہ یوں گزرے ہیں جیسے میں یہاں ہوں ہی نہیں. عزین نے دھول کو دیکھتے ہوئے سوچا جو گاڑیاں اپنی پیچھے چھوڑ گئیں تھیں
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.