Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
بہت ہنسی آرہی ہے …..؟ ؟ میر نے حاشر کو ہنستا ہوا دیکھ کر گھورا
مجھے اج اس بات پر کامل یقین ہو گیا ہے کہ بیوی سے بہتر شوہر کو کوئی نہیں جانتا یعنی کمال ہو گیا ہے. اتنے عرصے سے ہمیں نہیں پتہ چل سکا اور اسے دو دن میں پتہ چل گیا کہ میر تم سپلٹ پرسنلٹی رکھتے ہو. حاشر داد دی.
یہ جو تمہاری بتیسی نکل رہی ہے نااااا اگر مجھے غصہ آگیا تو پھر یہ بتیسی دوبارہ کسی کو دکھائی نہیں دے گی. میر کی وارننگ پر حاشر نے منہ پر انگلی رکھتے خود کو خاموش کرانا چاہا جب کہ ابھی بھی اس کی بتیسی میر کا منہ چڑھا رہی تھی
مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اس پاگل لڑکی نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں سپلٹ پرسنلٹی رکھتا ہوں …..؟ ؟میر نے کافی کا کپ اپنے آگے کرتے ہوئے افسوس سے سر ہلایا
مذاق ایک طرف مگر سچ میں اس کمرے میں کون رہتا ہے. میرا مطلب ہے وہاں وہ تمام چیزیں کس نے رکھی ہیں اور کیوں ……… ؟؟ حاشر نے اب کی بار سنجیدہ سے میر کی طرف دیکھا تو میر کافی کو گھورنے لگا
فلحال تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر مجھے کسی پر شک ہے. میر نے کافی کا سیپ بھرتے ہوئے جواب دیا
تمہارے خیال سے یہ سب کچھ بھی گل کا کیا دھرا ہے. مطلب وہ تمہیں یا عزین کو کنفیوز کرنا چاہ رہی ہے. حاشر کی بات پر میر نے اسے ناراضگی سے دیکھا
گل اتنے اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتی. یہ ساری باتیں اس کی پرسنلٹی کے خلاف ہیں. اس نے جو کچھ بھی کہنا یا کرنا ہوتا ہے. وہ منہ پر کہتی اور کرتی ہے. ہر وقت گل کے پیچھے نہ پڑے رہا کرو مجھے برا لگتا ہے. میر کے جواب پر حاشر نے مسکراتے ہوئے سر کو خم دیا اور کافی پینے لگا
عزین کو یا تو غلط فہمی ہوئی ہے اور یا وہ کوئی گیم کھیل رہی ہے. میں ٹھیک سے نہیں کہہ سکتا مگر مجھے ایسے لگتا ہے جیسے _ میر نے بات ادھوری چھوڑتے حاشر کی طرف دیکھا جیسے حاشر نے کافی کا کپ خالی کرتے ہوئے میز پر رکھا
تمہارے خیال سے عزین کتنی لالچی ہے. میرا مطلب ہے وہ لالچ میں کس حد تک جا سکتی ہے ….؟؟ میر نے ریلیکس انداز میں بیٹھتے ہوئے حاشر سے پوچھا
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ میری اسسٹنٹ تھی بیٹی نہیں. مجھے کیا پتہ میں کون سا اس کو جانتا ہوں. ہاں اتنا ضرور پتہ ہے کہ وہ اپنے کام کے ساتھ بہت مخلص ہے. باقی میں کچھ نہیں کہہ سکتا. حاشر نے جواب دیا تو میر مسکرانے لگا
کیا وہ مجھے نقصان پہنچا سکتی ہے …… ؟؟ میر کے اگلے سوال پر حاشر کرسی چھوڑ کر کھڑا ہو گیا
میرے خیال سے مجھے اب چلنا چاہیے. کافی مزے کی تھی پیشکش کا بہت شکریہ. اب میں چلتا ہوں. اجازت دیں. حاشر کا لہجہ ایک دم فارمل ہوا.
تو جناب بیرسٹر حاشر صاحب!!! ناراض ہو گئے ہیں. میر نے کھڑے ہوتے ہوئے پینٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ ڈالے.
بات ناراضگی کی ہے تو ناراض ہوا ہوں نا. مجھے کیا پتا وہ کیا کرے گی کیا نہیں. تم اپنے سامنے بٹھا کر پوچھو کہ اس ساتھ کیا مسئلہ ہے بات ختم حاشر کہتا پارکنگ کی طرف جانے کو مڑا میں عزین پر قاتلانہ حملہ کروانے لگا ہوں. تجھے کوئی اعتراض تو نہیں. میر نے برابر چلتے ہوئے چھیڑا وہ کسی بھی جنم میں میری محبوبہ نہیں رہی. اس لیے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے. تو جان اور تیرا کام، بس مجھے میرے گھر پر اتار دے. حاشر نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے جواب دیا پھر تیرا یہ منہ کیوں بنا ہوا ہے …..؟ ؟ میر نے گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا میر میں اس سب سے تنگ آگیا ہوں. کیا ہم سب نارمل زندگی نہیں گزار سکتے. تو نے اپنی زندگی کو بہت کمپلیکیٹڈ کر دیا ہے. سیدھی طرح تجھے جن سے مسئلہ ہے ان سے بات کر، دوسرے لوگوں کو بیچ میں مت الجھا. حاشر نے بیزاری سے کہا اچھا تو تیرا شمار بھی اب دوسرے لوگوں میں ہونے لگا ہے. میں تو اب تک سمجھ رہا تھا کہ تو میرا اپنا ہے. خلاف معمول میر کا لہجہ کافی خوشگوار تھا. میر دیکھ میں نے تیرا ساتھ اس سب میں اس لیے دیا تھا کہ تو ناجائز جیل کے اندر تھا. تجھے جیل سے باہر لانے کے لیے مجھ سے جو کچھ ہو سکا میں نے تیرے لیے کیا کیونکہ تو میرا دوست ہے اور تو نے بھی کبھی ہماری دوستی پر حرف نہیں آنے دیا مگر اب یہ سب کچھ چھوڑ دے بس کر دے. آغا جان واپس نہیں آئیں گے اور نہ ہی تیرے یہ سب کرنے سے آغا جان کی روح خوش ہوگی. اگر تجھے گل سے محبت ہے تو اس سے ڈائریکٹ پوچھ لے کہ اس کا گناہ کیا ہے اور اگر تو اس سے محبت نہیں کرتا تو اسے چھوڑ کے واپس چلا جا. کب تک اپنے ساتھ باقیوں کو بھی الجھائے رکھا گا. عزین سے تیرا کچھ لینا دینا نہیں. تو نے اسے گل کی جاسوسی کے لیے رکھا تھا. اب تو خود پریشان ہے کہ وہ اپنی ہی گیم کھیل رہی ہے. کبھی تجھے وہم ستاتے ہیں کہ وہ تجھے قتل کر دے گی اور کبھی تجھے لگتا ہے کہ وہ لالچ میں تجھ سے تیری جائیداد چھین لے گی. سکون دے زندگی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے. خود کو پریشان رکھنے کا کیا مقصد تو خوبصورت ہے، اللہ نے تجھے مال و دولت دے رکھا ہے. اعلی تعلیم یافتہ ہے. اب تو پاکستان میں تیرا بہت بڑا بزنس بھی ہے.
بس اپنا گھر بسا اور خوشی سے زندگی بسر کر، بدلے میں کچھ نہیں رکھا. انسان کا اپنا آپ جل جاتا ہے حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا. معاف کرنے والا بڑا ہے بدلہ لینے والا چھوٹا _ میری مان تو سردار بیگم کو بھی معاف کر دے. حاشر نے آخر میں امید بھری نظروں سے میر کی طرف دیکھا خیر ہے آج تیرے اندر بڑی ممتا جاگی ہوئی ہے. ایسے لگتا ہے جیسے مجھے میری ماں سمجھا رہی ہو. بہرحال میں تیرے مشورے پہ عمل کروں گا. میر کے اتنی آسانی سے مان جانے پر حاشر نے اسے تعجب سے دیکھا بات مان لوں تو تب بھی تو مجھے شک سے ہی دیکھتا ہے. تم وکیلوں میں یہ بہت بڑی بیماری ہے. میر نے اسے دیکھتے ہوئے اپنی مسکراہٹ دبائے جب کہ حاشر بے یقین تھا. 🎭🎭🎭🎭 میرا نہیں خیال کہ میر بیمار ہے. گل نے عزین کی طرف دیکھتے ہوئے مضبوط لہجے میں جواب دیا تو عزین نے اس کے آگے چائے کی پیالی رکھتے کندھے اچکائے. دیکھو میرا ایک مشورہ ہے تم اس بات کا ذکر کسی اور سے مت کرنا. اس طرح میر کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے. میر کے لاکھ دشمن ہیں. وہ بہت بڑا بزنس مین ہے. کوئی بھی اس بات کو کیش کر سکتا ہے. گل نے چائے کی پیالی تھامتے ہوئے کہا تو عزین ہنس دی. اپ کو میر سے بہت محبت ہے مگر وہ آپ سے محبت نہیں کرتے. کم از کم میرا تو یہی اندازہ ہے. عزین نے چائے کا سیپ بھرتے ہوئے گل کو چھیڑا اندازے نہیں لگانے چاہیے کیونکہ وہ غلط ثابت ہوتے ہیں. پہلی بات تو یہ کہ میرے اور میر کے درمیان کبھی بھی کوئی ایسا ریلیشن نہیں رہا جس کی بنا پر میں تمہیں یہ کہہ سکوں کہ ہم دونوں میں شدید محبت ہے. ہاں یہ میں پکا کہہ سکتی ہوں کہ ہم میں نفرت کا رشتہ نہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہو گا. گل نے چائے کی پیالی کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے گھمایا اگر ایسا ہے تو پھر وہ آپ کو مروانا کیوں چاہتے ہے …..؟ ؟ عزین کے سوال پہ چائے پیتی گل کو شدید پھندا لگا اور وہ کھانسنے لگی آپ کو شاید میری بات پر یقین نہ آئے مگر سچ مچ وہ آپ کو قتل کروانا چاہتے ہیں. وہ آپ سے بہت تنگ ہیں. معذرت کے ساتھ وہ آپ سے بہت نفرت کرتے ہیں. عزین نے بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے گل کے تاثرات نوٹ کرنا چاہے جس میں وہ ناکام رہی. یہ سب باتیں میر نے تم سے کہی ہیں یا تم اپنے پاس سے سوتن ہونے کا پورا ثبوت دے رہی ہو. گل کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ تھی. حیرت ہے آپ ابھی بھی شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں حالانکہ بات بالکل صاف ہے. بھلا ایک معذور عورت کے ساتھ اتنا خوبصورت ہینڈسم امیر شخص کب تک رہ سکتا ہے. اسے سوسائٹی میں موو کرنے کے لیے مجھ جیسی بیوی کی ضرورت تو پڑے گی نا اور مجھ جیسی بیوی کے ہوتے ہوئے وہ بھلا ایک معذور عورت کو اپنی زندگی میں کیوں رکھے گا….؟؟ عزین نے چسکا لیا. میں معذور نہیں ہوں _ گل کے منہ سے اچانک یہ جملہ پھسلا تو عزین نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا جس پر وہ شرمندہ ہو گئیں. میرا مطلب ہے کہ ڈاکٹر علاج کر رہے ہیں. امید ہے کہ میں جلد چلنے پھرنے لگوں گی. گل نے گلا صاف کرتے بات بنائی جس پر عزین سر ہلانے لگی اچھا آپ کے خیال سے سٹور روم میں کون ہوگ ا…..؟؟ میرا مطلب ہے کہ سٹور روم میں وہ تمام چیزیں کس نے رکھی ہوں گی کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں. سب نوکر آپ کا حکم بجا لاتے ہیں. تو پھر وہاں پر کون کب کیسے جا سکتا ہے. وہ بھی آپ کی اجازت کے بغیر عزین کی معصومیت عروج پر تھی وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے بہت قریب تھی. مگر گیٹ پر ہوتی میر کی گاڑی کے ہارن نے سب خراب کر دیا.
🎭🎭🎭🎭
خبردار جو تم نے میرے کان کے پردے پھاڑے تو، چپ چاپ نیچے بیٹھ جاؤ. تمہیں گولی نہیں لگے گی. غازی نے کہتے ہوئے گاڑی کو سپیڈ بڑھا دی.
کیوں مجھے کیوں نہیں گولی لگ سکتی….. ؟؟ زریں نے نیچے ہوتے ہوئے پوچھا جب کہ موٹر سائیکل سوار اب بھی ان کے پیچھے تھے.
اس لیے کہ اس گاڑی کے شیشے بلٹ پروف ہے. غازی نے کہتے ہوئے تیزی سے موڑ کاٹا جس پر پیچھے سے آتی موٹر بائیک نے سنبھلنے کی کوشش کی مگر فٹ پاتھ پر چڑھ گئی اور موٹر سائیکل سوار دور جا گرے.
اچھا میں سمجھی کہ تمہارے پاس کوئی کرامات ہے. جس کی وجہ سے تمہیں گولی نہیں لگتی مگر یہ گاڑی کا کمال ہے. “بلٹ پروف” کا یہی مطلب ہے نا کہ اس کو گولی کچھ نہیں کہہ سکتی. زری کے پوچھنے پر غازی نے سر ہلایا تو اسے کچھ فاصلے پر پولیس چیک پوسٹ دکھائی دی
اللہ کرے ماجد ڈیوٹی پر ہو. غازی نے ہم کلامی کرتے ہوئے چیک پوسٹ کی طرف گاڑی کا رخ کیا جبکہ پیچھے دوسرا موٹر سائیکل سوار دکھائی نہیں دے رہا تھا.
یہ تمہارا وہی دوست ہے نااااا جسے تم کافی بےعزت کرتے ہو مگر وہ ہوتا نہیں. زری نے دوبارہ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تو غازی زیرِ لب مسکرایا
خیر ایسی بھی بات نہیں ہے. غازی نے گاڑی سائیڈ پر روکتے ماجد کا نمبر ڈائل کیا
وہ تو مجھے پتہ ہے کہ تمہیں بات کرنے کی تمیز نہیں. تم بات ہی ایسے کرتے ہو کہ دوسرے بندے کو لگتا ہے اسے ذلیل کر رہے ہو حالانکہ تمہارا یہ مقصد نہیں ہوتا. زری نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے جواب دیا.
ارے واہ ہم سے تو اچھی بھابھی صاحبہ ہیں. جس کے آگے تیری بولتی بند ہو جاتی ہے اور کیا خوب ارشاد فرمایا ہے کہ” تمہیں بات کرنے کی تمیز نہیں”. سپیکر سے ماجد کی کھنکتی ہوئی آواز ابھری.
کیا بھابھی جی کی رٹ لگا رکھی ہے. پہلے بھائی سے تو مل لے. مجھے بتا ابھی چیک پوسٹ پہ موجود ہے. غازی کے پوچھنے پر ماجد سیٹی بجانے لگا
مطلب پولیس سو رہی ہے. خیر میں نے تجھے یہ بتانا تھا کہ آج میری گاڑی پر دو موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کی ہے. جب ڈیوٹی ہو تو سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنا. غازی کے بتانے پر ماجد پریشان ہو گیا
تو ٹھیک ہے ناااااا _ ماجد کی پریشان آواز سپیکر سے ابھری ٹھیک ہوں تو بول رہا ہوں ورنہ سب بول رہے ہوتے اور میں چپ ہوتا. غازی نے کہتے گاڑی کو ریورس کیا استغفراللہ تو اتنی بکواس کیسے کر لیتا ہے. تجھے ذرا بھی شرم نہیں آتی کہ تیری بیوی ساتھ بیٹھی ہے. ماجد کے ڈانٹنے پر غازی مسکرانے لگا الو کے پٹھے!!! بیوی سے کون شرماتا ہے….؟؟ ؟ یہ آج کے دن کا سب سے بڑا joke ہے. غازی گنگناتا کال کاٹ گیا. تمہارے دوست کے بیوی بچے نہیں ہیں. میرا مطلب یہ اکیلا ہی ہے …؟؟ غازی کو خوشگوار موڈ میں دیکھتے ہوئے زری نے پوچھا منگیتر تھی جناب کی مگر وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی حالانکہ وہ اس سے بہت محبت کرتی ہے. غازی کے بتانے پر زریں کو بہت افسوس ہوا ایسی منگیتر کو تو گولی مار دینی چاہیے. تمہارے دوست میں غیرت نام کی کوئی چیز نہیں، اگر ہمارے گاؤں میں ایسے ہوا ہوتا تو اب تک وہ لڑکی زمین کے نیچے ہوتی. زری کے جارحانہ جواب پر غازی مسکرانے لگا یہ تو ہے غازی نے گاڑی فلیٹ کی طرف موڑی.
اگر تم کہو تو میں تمہارے دوست کے لیے اپنی سہیلی کا رشتہ لے آؤں. میں ویسے بھی یہاں اکیلی ہوتی ہوں. وہ آ جائے گی تو میں بہت خوش رہوں گی. زری اپنی بات کے اخر میں اداس ہو گئی.
کون سے سہیلی وہ رجو جو کوے کی طرح کائیں کائیں کرتی رہتی ہے. مجھے بالکل نہیں پسند، اچھا خاصا میرا دوست ہے. غازی نے فلیٹ کی پارکنگ میں گاڑی جھٹکے سے روکی.
خبردار جو میری دوست کے بارے میں ایک بھی لفظ اپنے منہ سے نکالا تو میں تمہارا خون پی جاؤں گی. اچانک زری نے انتہائی غصے سے غازی کا گریبان پکڑا تو وہ اسے دیکھتا رہ گیا.
تم اب اپنی دوست کے لیے مجھ سے لڑو گی یعنی غازی سے اور میرا گریبان پکڑنے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی. تم جانتی ہو کہ تم نے کس کا گریبان پکڑا ہے……؟؟ غازی غرایا
اپنے شوہر کا پکڑا ہے اور میں اس کا حق رکھتی ہوں. زری نے کہتے ہوئے گریبان چھوڑ دیا اور دروازہ کھولتے نیچے اترنے لگی
انٹرسٹنگ _ غازی اسے اندر جاتا دیکھ کر کہنے لگا “اُس کے لہجے کا اثر تو ہے بڑی بات قتیل وہ تو آنکھوں سے بھی کرتا ہوا جادو آئے” 🎭🎭🎭🎭 اب بولتے کیوں نہیں اس طرح خاموش کیوں بیٹھے ہو …… ؟؟ گل کی آواز پر میر نے سر اوپر اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے. آپ کو عزین کی بات کا کتنے فیصد یقین ہے….؟؟ جواب کی بجائے الٹا سوال آیا. میر تم میری بات کا جواب دو. مجھ سے سوال مت پوچھو کیونکہ فی الحال تم مجھ سے سوال پوچھنے کی پوزیشن میں نہیں ہو. گل نے سنجیدگی سے میر کی طرف دیکھا میں آپ کے بارے میں کبھی بھی برا نہیں سوچ سکتا اور نفرت تو میں کر ہی نہیں سکتا. اپ نے یہ کیسے سوچ لیا…. ؟؟ میر نے قدر ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا میر اگر تمہارے دل میں مجھے لے کر کوئی بدگمانی ہے تو تم مجھ سے پوچھ سکتے ہو. میں تمہیں تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گی مگر کبھی بھی اپنے اور میرے ریلیشن کے بارے میں کسی تیسرے کو مت بتانا کیونکہ مجھے تیسرا شخص برا لگتا ہے. چاہے وہ کوئی بھی ہو. گل نے مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے اپنا چہرہ موڑ لیا. (حاشر کی اسسٹنٹ!!! آج میں تیرا حشر بگاڑ دوں گا. تو میرے ہاتھ سے نہیں بچے گی. پتہ نہیں گل سے کیا کیا بکواس کرتی رہی ہے. میر نے دل میں سوچتے ہوئے گل کی طرف دیکھا) آپ مجھ سے ناراض ہیں….؟؟ میر نے کھڑے ہوتے ہوئے گل سے پوچھا میر تمہاری خاطر شیر علی نے مجھ پر گولی چلائی. تمہیں بچاتے ہوئے میں اپنی ٹانگیں کھو بیٹھی. اب اگر کوئی مجھے آ کر کہے کہ میر مجھے مارنا چاہتا ہے یا مجھ سے نفرت کرتا ہے یا میرا وجود اس کی زندگی میں ایک بوجھ ہے. تو یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا میں تمہارے اس گھر سے چلی جاؤں گی. گل کا لہجہ بے لچک تھا. اگر آپ اس گھر سے چلی جائیں گی تو اس گھر میں باقی کیا رہ جائے گا …..؟ ؟ میں نے ان تمام چیزوں کو اپنے سر میں مارنا ہے. اس گھر میں رونق آپ کی وجہ سے ہے. جب آپ ہی نہیں رہیں گی تو میں بھی کہیں چلا جاؤں گا. میر نے محبت سے گل کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تو گل اسے دیکھنے لگی سٹور میں وہ تمام چیزیں تم نے رکھی ہیں ….؟؟ گل کے اس قدر پر یقین لہجے پر میر نے حیرت سے گل کی آنکھوں میں دیکھا آپ بھی مجھ پر ہی شک کر رہی ہیں. کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں ذہنی مریض ہوں یا میں کبھی بھی ایسی کوئی حرکت کر سکتا ہوں. یہ ایک نارل انسان کی حرکت نہیں ہے اور میں بالکل نارمل ہوں. میر نے انتہائی غصے میں ہونے کے باوجود نرمی سے پوچھا پھر وہ سب کیا ہے …..؟ ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی مگر تمہاری بیوی جو کچھ بولتی پھر رہی ہے. اس سب سے تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے اور مجھے تمہاری فکر ہے. گل نے میر کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے کہا تو میر مسکرا دیا مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب آپ میری فکر کرتی ہیں اور بہت برا لگتا ہے جب آپ مجھ سے ناراض ہو جاتی ہیں. رہی بات بیوی کی تو اس کا میں ابھی بندوبست کر دیتا ہوں. میر نے جھکتے ہوئے گل کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور کمرے سے باہر نکل گیا اب تک تو میر کو کمرے میں آندھی طوفان کی طرح داخل ہونا چاہیے تھا. 20 منٹ گزر چکے ہیں. کیا گل نے میر کو نہیں بتایا کہ میں نے اسے کیا کہا ہے …. ؟؟ عزین نے کمرے میں چکر لگاتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا تبھی ایک دھماکے سے کمرے کا دروازہ کھلا شکر ہے آپ آگے ورنہ آج میں گل کی فین ہو گئی تھی. بھلا عورت بھی کبھی اپنے پیٹ میں اتنی باتیں رکھتی ہیں. میں سمجھی گل نے آپ کو کچھ بھی نہیں بتایا اور آپ دونوں آپس میں گپے مارتے ہوئے چائے پی رہے ہیں. عزین نے میر کی طرف دیکھتے ہوئے شکر ادا کیا تو وہ نفی میں سر ہلاتے آگے بڑھا کیا سوچ کے تم نے وہ ساری بکواس گل سے کی ہے اگر آئندہ کچھ بھی تم نے ایسا ویسا گل سے کہا تو میں تمہاری زبان کاٹ دوں گا بلکہ ٹانگیں توڑ دوں گا. میر نے عزین کا بازو پکڑتے ہوئے اسے جھنجوڑا آپ کو بیوی ویل چیئر پر بیٹھی زیادہ خوبصورت لگتی ہے. جو دوسری کو بھی بیٹھانا ہے. پتہ نہیں آپ کو معذور بیوی میں کیا اٹریکشن نظر آتی ہے. “ٹانگیں توڑ دوں گا” عزین نے میر کی نقل اتاری بہت ڈھیٹ ہو تم یقین مانو کہ بہت ڈھیٹ ہو. میری سوچ سے بھی زیادہ اور یہ جو تم نے سٹور کا شوشہ چھوڑا ہے نا اب اس مسئلے کو خود ہی حل کرو اور مجھے یہ ایک دن کے اندر اندر حل چاہیے. سب کچھ شیشے کی طرح کلیئر میر نے جھٹکے سے عزین کو چھوڑتے ہوئے صوفے کا رخ کیا
مجھے لگا اپ واش روم میں جائیں گے. عموماً ایسی صورتحال میں ہیرو شاور کے نیچے کھڑا ہو کر نہاتا ہے تاکہ اس کا غصہ کم ہو مگر آپ تو صوفے پر بیٹھ گئے ہیں. اس سے غصہ کم نہیں ہوگا کم از کم ایک دو چیزیں توڑ دیں تاکہ یہ ثابت ہو کہ آپ نارمل نہیں ہیں. پلیز
عزین کی بات پر میر جو جوتے اتارنے لگا تھا اس کا ہاتھ رکا اور اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی.
چیزیں توڑنے کا تو پتہ نہیں البتہ دل کر رہا ہے یہ جوتا تمہارے سر پہ دے مارو. میر نے غصے سے اپنے جوتے اتارتے ہوئے دور پھینکے تو عزین مسکرانے لگی
اگر آپ کو سب کچھ شیشے کی طرح کلیئر چاہیے تو آپ کو میرا ساتھ دینا ہوگا. اس لیے جیسا میں کہتی ہوں ویسا کریں کم از کم آج رات کے لیے _ عزین کی فرمائش پر میر کی آنکھیں پھیل گئیں. مجھے معلوم ہے کہ تیسرا سال شخص کون ہے مگر میں اسے سب کے سامنے بے نقاب کرنا چاہتی ہوں. اس لیے آپ کو میرا ساتھ دینا ہوگا. اس کمرے کا حلیہ بگاڑ دیں اگر کل تک آپ کو سچائی جاننی ہے تو عزین کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی.
اب یہ مجھے بلیک میل کرے گی. مجھے یعنی میر طلال کو میر نے غصے سے اٹھتے ہوئے پاس پڑے گلدان کو ٹھوکر ماری.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے
