Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
آپ کے لیے یہ خط گل نے دیا ہے کہہ رہی تھی پریشان مت ہوں ہم جلد ایک ساتھ ہوں گے. غلام علی نے ایک انویلپ سردار بیگم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو انہوں نے نفرت سے انویلپ کی طرف دیکھا
تم دونوں ایک دم بیکار ہو. میں یہاں جیل میں سڑ رہی ہوں اور تم لوگ مجھے کسی چھوٹے بچے کی طرح لولی پوپ دے رہے ہو. میں سب سمجھتی ہوں. سردار بیگم نے غلام علی کے ہاتھ سے انویلپ لے کر پڑھے بغیر ہی پھاڑ دیا.
سردار بیگم گستاخی معاف ہم بھی میر ویلا میں کوئی عیاشی نہیں کر رہے. پہلے ہر وقت اس کے وفادار کتے ہمیں سونگھتے رہتے تھے اور اب اس کی نئی نویلی بیگم نے جینا حرام کر رکھا ہے. نہ چاہتے ہوئے بھی غلام علی کا لہجہ تلخ ہوا
ہاں تو اس میں بھی ساری غلطی گل کی ہے. اس سے ایک مرد نہیں سنبھالا گیا اور وہ کیا کرے گی ….؟؟ سردار بیگم کے جواب پر غلام علی محض انھیں دیکھتا رہ گیا.
گل سے کہو مجھے ملنے آئے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تو دوبارہ تم بھی مجھے اپنی شکل نہیں دکھانا. سردار بیگم نفرت اور غصے کے ملے جلے لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں.
آپ خوامخواہ غصہ کر رہی ہیں. ہم دونوں کوشش میں تو لگے ہوئے ہیں مگر آپ میر کے دماغ سے بھی واقف ہیں. ہم دو قدم چلتے ہیں تو وہ چار قدم ہم سے آگے کھڑا ہو جاتا ہے.
پتہ نہیں اسے کون بتا دیتا ہے کہ ہم کیا کرنے لگے ہیں. وہ تو گل کی وجہ سے بچت ہو جاتی ہے ورنہ اب تک _ غلام علی کہتے کہتے رکا. میں خوامخواہ غصہ نہیں کر رہی. تم دونوں کو یہاں ایک رات بھی گزارنی پڑے تو لگ پتہ جائے. سردار بیگم نے غصے سے غلام علی کی طرف دیکھا کیا جیلر آپ ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہا. میں ہر مہینے اسے اچھی خاصی موٹی رقم دیتا ہوں. غلام علی کے استھزائیہ پر سردار بیگم طنزاً مسکرا دی. تم اسے کیا دیتے ہو مجھے نہیں پتہ مگر جو مجھ تک پہنچتا ہے وہ قابل تعریف نہیں. میری اب بس ہو گئی ہے.گل سے کہہ دینا مجھے ملنے آئے. یہ نہ ہو کہ میں تم دونوں کو بھی اپنے پاس یہی بلوا لوں. سردار بیگم کے لہجے میں وارننگ تھی. 🎭🎭🎭🎭 کہاں جا رہے ہو …..؟ ؟ غازی کو تیار ہوتا دیکھ کر زری نے پوچھا کام پر غازی نے اپنی گن لوڈ کرتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا
مگر رات کو کون سا کام ہوتا ہے. میرا مطلب ہے رات کو تو سارے دفتر اور کاروبار بند ہوتے ہیں. زری نے قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا
رات کو ہی سب بڑے کاروبار ہوتے ہیں. تمہیں کیا معلوم پینڈو لڑکی کہ رات میں کتنے بڑے بڑے کام ہوتے ہیں ….؟؟ غازی نے اپنی گن کو پینٹ ساتھ لگاتے ہوئے جواب دیا.
اچھااااااااااااا اب میں سمجھی کہ تمہاری جاب کیا ہے …..؟ ؟ زریں نے غازی کی گن کو دیکھتے ہوئے کہا تو غازی نے آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا یہی کہ تو تم رات کو ڈاکے ڈالتے ہو، لوگوں کے بچے اغواء کرتے ہو اور لوگوں کا قتل وغیرہ ہے نااااا
تصدیق کے لیے زری نے غازی کی طرف دیکھا تو اس نے داد دیتے ہوئے تالی بجائی
ارے واہ تم تو اچھی خاصی ذہین ہو. میں تو سمجھا کہ تم بالکل عقل سے پیدل ہو. مگر تم نے مجھے غلط ثابت کرتے ہوئے حیران کیا ہے. اب کی بار غازی نے جیکٹ پہنتے ہوئے اس کی تعریف کی.
کیا تمہارے گروپ میں کوئی لڑکی بھی ہے …..؟ ؟ زری نے پرچوش انداز میں پوچھا تو اب کی بار حقیقت میں غازی کو حیرت کا جھٹکا لگا
نہیں بالکل بھی نہیں ہمارے گروپ میں لڑکی کا کیا کام ہے …… ؟؟ غازی نے نہ کرتے ہوئے مرر میں اپنے آپ پر ایک نظر ڈالی
اچھا پھر تم ایسا کرو کہ مجھے اپنے گروپ میں رکھ لو. یقین مانو میں بندہ قتل کرتے ہوئے ڈرتی نہیں ہوں. کلہاڑی سے بندہ مار دیتی ہوں تبھی تو ہمارے گھر میں کوئی نہیں گھستا تھا. پورے گاؤں والے مجھ سے ڈرتے تھے. زری کی آفر پر غازی نے اس کی طرف دیکھا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو میں سچ کہہ رہی ہوں. …..؟ ؟
اگر تمہیں یقین نہیں ہوتا تو بے شک گاؤں والوں سے پوچھ لو. زری نے غازی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس سے یقین دلانا چاہا
مجھے یقین ہے کسی سے بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں. چلو اب ہٹو آگے سے غازی نے سٹک کے سہارے چلتے ہوئے ہاتھ سے زری کو پیچھے کیا میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی. جب سے گاؤں سے آئی ہوں. تم نے مجھے شہر نہیں دکھایا. میں یہاں بور ہو جاتی ہوں. زری نے اس کا راستہ روکا میں تمہاری بوریت کا ذمہ دار نہیں اور میرا دماغ مت خراب کرو. کام پہ جاتے ہوئے مجھے کوئی روکے یا ٹوکے تو میرا دماغ خراب ہو جاتا ہے. غازی نے زریں کے ماتھے کو اپنی دو انگلیوں سے ٹھوکتے ہوئے غصے سے کہا نارمل حالت میں بھی تمہارا دماغ خراب ہی رہتا ہے مگر آج رات میں گھر پر اکیلی نہیں رہوں گی میں تمہارے ساتھ جاؤں گی. زریں کی ہٹ دھرمی پر غازی کا خون کھولنے لگا تم کیوں چاہتی ہو کہ میں تمہارا حلیہ بگاڑ دوں جبکہ میں فی الحال اس موڈ میں نہیں. غازی نے خود پر قابو پاتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا اگر تم اپنے اوپر نظر ڈالو تو فی اللہ تمہارا حلیہ کافی بگڑا ہوا ہے مگر پھر بھی کوشش کر کے دیکھ لو. میری گارنٹی ہے کہ تمہیں بہت مایوسی ہوگی کیونکہ میں تمہارے شہر کی لڑکیوں جیسی نہیں. میں بندے کو چیر کے رکھ دیتی ہوں ہاتھ تو لگائے کوئی زری کا لہجہ اور اعتماد غازی کو سوچنے پر مجبور کر گیا.
اچھا ٹھیک ہے. آج گزارہ کر لو. کل سے میں سوچوں گا. ابھی میں تھوڑا جلدی میں ہوں. ایک بہت ضروری کام کرنا ہے. وہاں میں تمہیں نہیں لے جا سکتا. غازی نے نرم پڑتے ہوئے کہا
اچھا کتنی دیر میں واپس آؤ گے ……. ؟؟ زری نے اداسی سے پوچھا
دو گھنٹے تو لگ ہی جائیں گے. غازی نے اپنی گھڑی پر نظر مارتے ہوئے بیزاری سے جواب دیا
چلو ٹھیک ہے اگر تم دو گھنٹے تک واپس نہ آنے تو میں باہر نکل جاؤں گی. پھر نہ کہنا کہ کہاں گئی ……؟ ؟ زری کا جواب غازی کو اشتعال دلا گیا
خبردار جو تم نے ایک قدم بھی یہاں سے باہر نکالا، تو میں تمہاری ہڈیاں توڑ دوں گا. تم مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تم سے وہ سلوک کروں جو میں کرنا نہیں چاہتا. غازی نے زریں کا بازو دبوجتے ہوئے انتہائی غصے سے کہا
تو پھر مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ. مجھے بڑا شوق ہے دوسروں کا قتل دیکھنے کا میں جانتی ہوں تم کسی ایسے ہی کام پر جا رہے ہو. زری کی فرمائش پر غازی نے کمرے میں نظر دوڑائی تو اسے سائیڈ پر پڑی زنجیر نظر آئی. اچھا ٹھیک ہے ایسا کرو وہ زنجیر اٹھا کر لاؤ. پھر چلتے ہیں. غازی نے انتہائی نرمی سے کہا تو زری چپ چاپ زنجیر اٹھانے چل دی یہ لو جیسے ہی زری نے زنجیر غازی کے آگے کی اسے سمجھ ہی نہیں لگی کہ کیسے غازی نے اس کا بازو موڑتے ہوئے زنجیر لپیٹ دی.
جنگلی انسان چھوڑو مجھے، تم ایسا نہیں کر سکتے. درد کی شدت سے بلبلاتے ہوئے زری نے چیخ کر کہا جب کہ اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں.
اب تم آرام سے ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھ کر ڈرامے دیکھو. جب تک میں واپس آتا ہوں. پھر اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ کون کتنا جنگلی ہے …..؟ ؟ غازی نے زری کو باہر لاتے ہوئے ٹی وی لاؤنچ کے صوفے پر دھکیلا
میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی. تم غلطی کر رہے ہو. زری نے بے بسی سے اپنا اپ چھڑانا چاہا
فی الحال تو میں تمہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں دوسرا میں کبھی غلطی نہیں کرتا. اور اگر تم نے اپنا منہ بند نہ کیا تو میں اس کا بھی بندوبست کر کے جاؤں گا. غازی نے انگلی اٹھاتے ہوئے وارننگ دی تبھی اس کے موبائل پر میر کی کال آنے لگی.
اچھا سنو ایک ہاتھ کھول دو. مجھے پیاس بھی لگ سکتی ہے میں نے واش روم بھی جانا ہوگا. اب کی بار مسکین سی صورت بناتے ہوئے زری نے غازی کی طرف دیکھا
بہت مکار لڑکی ہو. تم ایک منٹ میں کئی رنگ بدلتی ہو. دو گھنٹے پانی نہیں پیو گی تو مر نہیں جاؤ گی. غازی نے ماجد کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے جواب دیا
پلیز زری کا لہجہ التجائیہ تھا تو غازی کو اس پر ترس آگیا اچھا ٹھیک ہے پھر میں تمہارا پاؤں ٹیبل ساتھ باندھ دیتا ہوں. کیونکہ مجھے تم پر ذرا برابر بھی اعتبار نہیں. غازی نے کہتے ہوئے سٹور کی طرف قدم بڑھائے. اب اس رسی کا کیا کرو گے …..؟ ؟ غازی کے ہاتھ میں رسی دیکھ کر زری نے پریشانی سے پوچھا حیرت ہے کہ تم بھی اس کا استعمال پوچھ رہی ہو حالانکہ تم میرے سے بہتر اس کا استعمال جانتی ہو. میں اپنی بھینس باندھنے لگا ہوں تاکہ وہ میرے گھر کا ستیا ناس نہ کرے. غازی نے کہتے ہوئے زری کا پاؤں پکڑا. اب ٹھیک ہے. غازی نے زری کا پاؤں ٹیبل ساتھ باندھتے ہوئے اس کے ہاتھ کھول دیے. جس پر وہ غصیلی نظروں سے اسے گھورنے لگی. اب تم مجھے ایسی نظروں سے نہ دیکھو کہ میں کام پر ہی نہ جا سکوں. غازی نے کہتے ہوئے ایک آنکھ ونک کی اور زری کے پاس سے اٹھ گیا. 🎭🎭🎭🎭 مگر اس طرح وہ مریں گی نہیں بلکہ صرف زخمی ہوں گی. غازی نے میر کی بات سنتے ہوئے اپنی رائے دی تو میر مسکرانے لگا میں فی الحال اسے مارنا بھی نہیں چاہتا صرف ڈرانا ہے. مگر اتنا کہ یہ ڈر اس کے ذہن پر سوار ہو جائے. میر نے سگریٹ کا کش لیا. ٹھیک ہے جو آپ کا حکم غازی سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا.
غازی مجھے تمہاری یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ تم فالتو کے سوال نہیں پوچھتے بلکہ صرف حکم بجا لاتے ہو. میر نے سگریٹ پھینکتے ہوئے کرسی ساتھ ٹیک لگائی
مجھے فالتو بولنا پسند نہیں. میں صرف اپنے کام سے کام رکھتا ہوں. غازی نے پاس جلتے الاؤ کی طرف دیکھا
ہمممم اسے لیے تو میں تمہیں بہت پسند کرتے ہوں. مجھے تم میں اپنا آپ دکھائی دیتا ہے. میر نے آگے جھکتے ہوئے آگ پر اپنے ہاتھ سے سیکے. ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں. جیسا آپ نے کہا ہے بالکل ویسا ہی ہوگا. یقین رکھیے گا. غلطی کی کوئی گنجائش نہیں. کیونکہ میں غلطی نہیں کرتا. غازی کہتا ہوا پلٹا مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے شادی کر لی ہے. میر کی آواز پر غازی کے جاتے قدم رکے. آپ نے ٹھیک سنا ہے مگر میں نے شادی کی نہیں بلکہ میری کروائی گئی ہے. غازی نے پلٹتے ہوئے جواب دیا تو میر مسکرانے لگا میری ذاتی رائے میں بہادر لوگوں کو شادی نہیں کرنی چاہیے. یہ عورت ذات مرد کو کمزور بنا دیتی ہے. میر کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اب دیکھنا تم وہ لڑکی تمہیں کیسے روز بہانوں بہانوں سے ڈرایا کرے گی اور تم جلد ہی یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے شریف شہری کی طرح زندگی گزارنے لگو گے. یہاں تک کہ تمہیں ایک پٹاخہ پھوڑنے سے بھی ڈر لگے گا. میر نے کہتے ہوئے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا اشارہ کیا یہ تو ہے. عورت ذات بزدلی کا دوسرا نام ہے. میں آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں. غازی کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی جس نے میر کو کنفیوز کیا. خوش ہو …..؟ ؟ میر کے پوچھنے پر غازی کا بے ساختہ قہقہہ نکلا اپ تو یوں پوچھ رہے ہیں جیسے پہلی بار لڑکی شادی کے بعد میکے آئے تو اس کی ماں پوچھتی ہے. غازی نے سر جھٹکتے ہو میر کی طرف دیکھا جو بھی ہے تمہاری شادی کا گفٹ مجھ پر ادھار ہے. بتاؤ میں اپنی پسند سے دوں یا تم اپنی پسند کا لو گے …..؟ ؟ میر نے کھلے دل آفر کی. آپ جانتے ہیں میری ہیوی بائیک حادثے کا شکار ہو گئی تھی. غازی نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا صبح تک تمہارے فلائٹ پر پہنچ جائے گی. میر نے غازی کا کندھا تھپکا ویسے اس لڑکی میں کچھ تو خاص ہوگا کہ تم چپ چاپ راضی ہو گئے ورنہ تم کتا بھی اپنے فلیٹ پر نہیں رکھتے. خاصے تنہائی پسند ہو. میر کے لہجے میں طنز تھا. بالکل عام سی ہے. کچھ بھی خاص نہیں اس میں غازی کے اقرار پر میر کو حیرت ہوئی.
تم جیسا بہادر اور نڈر انسان کیسے ایک کمزور ڈرپوک لڑکی ساتھ گزارا کرے گا. یہ تو شیر اور چوہے والی جوڑی ہوئی.
میر غازی ساتھ چلتا ہوا اپنی گاڑی تک کی آیا.
بات تو آپ کی ٹھیک ہے. میں خود بھی پریشان ہوں. میں تو گن کا استعمال کرتا ہوں بندوں کو مارنے کے لیے مگر وہ کلہاڑی سے بندوں کے ٹکڑے کر دیتی ہے. غازی نے سرسری انداز میں کہا تو میر جو گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا ٹھٹکا.
واقعی ہی _ حیرت کی زیادتی سے میر نے غازی کو دیکھا میری مانیں تو اپنی بیگم کے لیے اسے ہی ہائر کر لیں. اس کی خوبیاں کا اندازہ بھی ہو جائے گا اور اسے تجربہ بھی غازی کا جواب میر کو مسکرانے پر مجبور کر گیا.
سوچتے ہیں. بات اتنی بری نہیں میر ہنستے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا تو غازی سر جھٹکتا ٹائم دیکھنے لگا 🎭🎭🎭🎭 میر نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو اسے ویرانی کا احساس ہوا. جس پر وہ حیرت سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا. کمرے کی ہر چیز اپنی جگہ پر سلیقے سے پڑی تھی. سب کچھ اپنی جگہ پر ہے تو کمرہ اتنا خالی خالی کیوں لگ رہا ہے ….؟؟ میر خود کلامی کرتا ہوا الماری کی طرف بڑھا اپنے کپڑے لیتے ہوئے وہ واش روم کی طرف بڑھا تو صوفے پر پڑے عزین کے ڈوپٹے پر اس کی نظر پڑی جس نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا. اچھا تو یہ آفت کی پڑیا آج گل کے کمرے میں ہے تبھی میرے کمرے میں اتنا سکون ہے. غیر لاشعوری طور پر میر نے عزین کا دوپٹہ پکڑتے ہوئے اوپر رکھا اور خود واش روم میں چلا گیا. بلو کلر کا ٹریک سوٹ پہنے. وہ تولیے سے بال رگڑتا ہوا آئینے کے آگے کھڑا اپنا جائزہ لے رہا تھا. کہ اچانک بڑے دنوں بعد اسے آئینے نے مخاطب کیا کیوں میر نیند نہیں آرہی یا تنہائی ستا رہی ہے …..؟ ؟ میر کو اپنا عکس طنز کرتا محسوس ہوا. مجھے آغا جان کی وفات کے بعد سے نیند نہیں آتی اور تنہائی سے میں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے. میر نے فوراً اپنی صفائی دی جیسے آئینے نے اس کی کوئی چوری پکڑ لی ہو. نہیں میر تم اس وقت جھوٹ بول رہے ہو. تمہارے الفاظ تمہارے چہرے کا ساتھ نہیں دے رہے. عکس نے پھر طنز کیا میں کیوں جھوٹ بولوں گا. مجھے جھوٹ بولنے کی عادت نہیں. میر نے غصے سے تولیا کرسی پر پھینکتے ہوئے دو قدم پیچھے لیے. تم عزین کی کمی کو محسوس کر رہے ہو. تمہیں اس کے وجود کی عادت ہو گئی ہے. اب بار عکس میر پر قہقے لگانے لگا تو میر نے ہمیشہ کی طرح پاس پڑا گلدان اٹھایا اور زور سے آئینے پہ دے مارا. چھن کی آواز ساتھ وہ کئی ٹکڑوں میں تبدیل ہوا. میر کو کسی کی ضرورت نہیں. میر اپنے لیے خود ہی کافی ہے. میر کہتا ہوا لحاف اوڑھتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا. مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی. گھنٹہ بھر وہ بستر پر کروٹیں بدلتا رہا پھر تھک کر ٹیرس کی طرف چل دیا. ہوا میں خنکی تھی. ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے میر نے اپنے آپ کو گرم چادر میں لپیٹا اور ریلنگ ساتھ ٹیک لگا کر باہر جلتی بجتی روشنیوں کو دیکھنے لگا. کافی آواز پر پلٹا تو وہ ہاتھوں میں کافی کے کپ لیے کھڑی تھی.
شکریہ میر نے کہتے ہوئے کافی کا کپ تھام لیا تو وہ بھی تھوڑے سے فاصلے پر ریلنگ ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی.
آپ نے اپنے گھر کو آخری دفعہ کب دیکھا تھ ا…..؟؟ کافی کا گھونٹ بھرتے میر نے عزین کے سوال پر اسے حیرت سے دیکھا
حاشر کی سسٹنٹ!!! میرا دماغ خراب مت کرو. کافی بنانے کا شکریہ میر کا لہجہ ازلی سرد پن لیے ہوئے تھا
میں نے آپ سے بالکل سنجیدہ سوال کیا ہے کہ آپ نے آخری بار اپنے گھر کو کب دیکھا تھا ….؟؟ عزین نے کافی کا گھونٹ بھرتے اطمینان سے اپنا سوال دہرایا تو میر کے ماتھے پر بل پڑے
میں اپنے گھر کو روز دیکھتا ہوں. کب سے کیا مراد ہے ……. ؟؟ میر نے باقاعدہ جارحانہ انداز میں عزین کو دیکھتے ہوئے جواب دیا تو وہ مسکرا دی
اچھا پھر تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کے گھر کی بیک سائیڈ پر جو سٹور ہے اس میں کون رہتا ہے …… ؟؟ عزین نے کافی کا گھونٹ بھرتے چیلنجنگ انداز میں پوچھا
میرے گھر کی بیک سائیڈ پر صرف سرونٹ کوارٹرز ہیں اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ سرونٹ کوارٹرز میں نوکر رہتے ہیں اور میں نوکروں کے گھر نہیں جاتا. میر نے جتلایا
پھر میں آپ کے معلومات میں تھوڑا سا اضافہ کر دوں کہ ان کوارٹرز کے ساتھ ایک سٹور بھی ہے. عزین نے گھونٹ بھرتے جواب دیا
اچھا پھر تو تمہیں یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس میں کون رہتا ہے…… ؟؟ میر نے طنزاً پوچھا
جی بالکل میں اچھے سے جانتی ہوں کہ سٹور میں کون رہتا ہے …..؟ ؟ عزین نے کافی ختم کرتے ہوئے میر کی طرف دیکھا
جب تم سب جانتی ہو تو مجھ سے سوال کیوں پوچھ رہی ہو ….؟؟ میر نے اپنا کپ خالی کرتے ہوئے عزین کی طرف کیا
ایک کپ اور کافی پییں گے …… ؟؟ عزین نے میر سے کپ پکڑتے ہوئے پوچھا
نہیں میں رات کو اتنی کافی نہیں پیتا بلکہ پیتا ہی نہیں ہوں. سر میں درد تھا اس لیے پی لی. میر نے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا
میرے جواب کے بعد آپ کو کافی کی ضرورت پڑے گی. اس لیے میں ایک کپ اور بنوا کر بھجوا دیتی ہوں. عزین نے اندر کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا تو میر چونکا
اس سٹور میں وہ تیسرا شخص رہتا ہے. عزین کہتی ہوئی چل دی جبکہ میر اس کی بات کو سمجھنے لگا
تیسرا شخص __ میر نے زیر لب دہرایا تو ساتھ ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا اس سے پہلے کہ وہ عزین کو پکارتا وہ وہاں سے جا چکی تھی
🎭🎭🎭🎭
