Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

بس کریں گل بی بی!!! دیر ہو رہی ہے. اب ہمیں چلنا چاہیے. غلام علی نے گلبدین کو زارو قطار روتے ہوئے دیکھ کر کہا
اگر آج شیر علی زندہ ہوتا تو صورتحال بلکل مختلف ہوتی. قبروں کے درمیان بیٹھی گلبدین نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے جواب دیا.
اگر آج شیر علی زندہ ہوتا تو پھر معزرت کے ساتھ میر زندہ نہ ہوتا. اس لیے آپ صبر کریں. غلام علی کے چہرے پر کرب کے آثار نمایاں تھے.
تم تم کیسے بھائی ہو. تمہیں اپنے بھائی ساتھ زرا برابر ہمدردی نہیں. میں نے تمہیں کبھی شیر علی کے لیے روتے ہوئے نہیں دیکھا …… ؟؟ گلبدین نے چیختے ہوئے غلام علی کی طرف دیکھا
جو سوال آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں وہی سوال میں آپ سے بھی پوچھ سکتا ہوں …….. ؟؟ غلام علی کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ چھا گئی
مطلب ……. ؟؟ گلبدین کا چہرہ اپنی ہتک پر سرخ پڑا
کچھ تو دھوپ کا اثر تھا اور کچھ رونے کی وجہ سے رنگت حد سے زیادہ سرخ پڑ رہی تھی.
مطلب مجھے اپنے بھائی کا طعنہ دینے سے پہلے آپ اپنے گریبان میں بھی جھانکیں. آپ نے بھی تو میر کے مقابلے میں اپنے منگیتر کو قربان کر دیا تھا.
یعنی اب تم بھی ہمیں باتیں سناؤں گے. یہی کثر رہ گئی تھی …… ؟؟ غلام علی کی بات پر گلبدین نے غصے سے اپنی ویل چیئر کا رخ قبرستان سے باہر کی طرف موڑا
گل بی بی آرام سے _ غلام علی نے فورا لمبے لمبے ڈنگ بھرتے ہوئے ویل چیئر پکڑی میں معذرت خواہ ہوں بس ذرا زبان پھسل گئی تھی. غلام علی کو فورا شرمندگی ہوئی کیونکہ وہ گل بی بی کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا تم اچھے سے جانتے ہو کہ کیا ہوا تھا. میں جان بوجھ کر شیر علی کو نقصان پہنچا سکتی تھی کبھی نہیں جو بھی ہوا اچانک ہوا. ہاں میری یہ غلطی ہے کہ میں نے شیر علی کو “میر” کے خون سے ہاتھ رنگنے نہیں دیے تھے. گلبدین عجیب سی کیفیت میں بول رہی تھی.
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی. ان دونوں کی لڑائی میں نقصان صرف میرا ہوا. میں نے اپنی ٹانگیں کھو دیں. میں شیر علی کو بچا رہی تھی اور اس نے مجھ پر ہی فائر کھول دیے. مجھے بےوفا سمجھا. گلبدین بولتے ہوئے پھر رونے لگی.
اپنا دل ہلکا کر لیں مگر میر صاحب کے سامنے احتیاط کیجئے گا.آپ آج کل بہت سخت بول جاتی ہیں. غلام علی نے اپنے طور پر سمجھانا چاہا
میر تو بالکل پتھر کا ہو گیا ہے. مجھے سمجھ نہیں آتی اتنی دولت اکٹھی کر کے کیا کرے گا ……. ؟؟ نہ کوئی اس دولت کا وارث ہے اور نہ ہی یہ دولت میر کو سکون دے رہی ہے.
رات میں گولیاں کھا کر سوتا ہے اور صبح ناشتہ کرنا بھی نصیب نہیں ہوتا. ہر وقت جلدی میں رہتا ہے. لاکھ دشمن پال رکھے ہیں. گل بدین بولتی جا رہی تھی اور غلام علی ویل چیئر گھسیٹتا چپ چاپ سن رہا تھا.
غلام علی مجھے ابھی کچھ دیر اور تازہ ہوا میں رہنا ہے. ویل چیئر پر بیٹھی گلبدین نے جیسے ہی گاڑیوں کو دیکھا کسی معصوم بچے کی طرح فرمائش کی.
گل بی بی دو بار میر صاحب کا فون آ چکا ہے. کہیں ایسا نہ ہو آپ سے یہ آزادی بھی چھین لی جائے. غلام علی نے گاڑیوں کے پاس کھڑی ملازمہ کو قریب آنے کا اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا
معذوری سے تو بہتر تھا کہ میں بھی ان لوگوں ساتھ ہی مر جاتی. گلبدین نے دکھ سے کہتے ہوئے ایک گہرا سانس خارج کیا.
آپ میر سے کہا کریں نا کہ آپ کو کہیں سیر پر لے جائے کیونکہ اب وہ صرف آپ کی ہی سنتے ہیں. غلام علی کی بات پر روتی آنکھوں ساتھ گلبدین ہنسنے لگی اور پھر ہنستی ہی چلیں گئی جب کہ غلام علی نے دکھ سے اپنی آنکھوں پر کالا چشمہ لگا لیا تاکہ گلبدین اس کے آنسو نہ دیکھ سکے
🎭🎭🎭🎭
حسب معمول تھانے میں لوگوں کی گہما گہمی تھی. ایس ایچ او ماجد اپنی کرسی پر جھولتے ہوئے حوالدار کو دیکھ رہا تھا.
سر جی ان لوگوں کو سر عام گولیاں ماری گئی ہیں. کوئی گواہ، سی سی ٹی وی فوٹیج وغیرہ ماجد نے اپنی تسلی کے لیے پوچھا
نہیں سر جی اس روڈ پر کیمرے ہی نہیں ہیں اور گواہ آدھی رات کو کہاں سے ملیں گے ……. ؟؟ حولدار کے جواب پر ماجد کے اندر سکون اترا
ٹھیک ہے. ہسپتال سے لاشوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ لے آؤ اور نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لو. ماجد نے کہتے ہوئے غازی کا نمبر ڈائل کیا جب کہ حوالدار سلوٹ مارتا باہر چلا گیا
زی اللہ ہی ہے جو ہر بار میری عزت رکھتا ہے. ورنہ تم اسے “لوٹنے” میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا. ماجد کی بات پہ غازی نے قہقہہ لگایا
چل پھر اس خوشی میں دوبارہ کلب ملتے ہیں. تو رنگ برنگی حوریں دیکھ لینا اور میں اپنا نشہ پورا کر لوں گا. غازی نے اپنی گن چیک کرتے ہوئے جواب دیا
تجھے تیری جنت حوروں سمیت مبارک ہو. میں جہاں ہوں، جیسا ہوں، بالکل ٹھیک ہوں، خوش ہوں. ماجد کہتے ہوئے کال کاٹنے لگا مگر پھر کسی خیال کے تحت رکا
زی چھوڑ دے یہ گناہ کی زندگی _ ماجد نے حسب عادت اسے سمجھانا چاہا. ماجد ایک پولیس افسر کے منہ سے یہ باتیں ذرا اچھی نہیں لگتی. تو نے خواہ مخواہ پولیس فورس جوائن کی ہے حالانکہ تجھے مولوی ہونا چاہیے تھا. ہر وقت گناہ ثواب کے چکر میں پڑا رہتا ہے. غازی نے گن لوڈ کرتے ہوئے سائیڈ پر رکھی زی ماجد نے بےبسی سے پکارا
فی الحال تو میں میر صاحب سے ملنے جا رہا ہوں. واپسی پر کلب چکر لگاؤں گا اگر تیرا دل ملنے کو کرے تو وہاں آ جانا. غازی نے جان بجھ کر چھیڑا.
میرا تجھے ملنے کو بالکل بھی دل نہیں کر رہا. ماجد نے کہتے ہوئے کال رکھ دی اور خود اپنی روز مرہ کی روٹین میں مصروف ہو گیا
🎭🎭🎭🎭
عزین تم ایک کامیاب وکیل ہو اور دیکھنا ایک دن پاکستانی عدالتوں میں تمہارا نام گونجے گا. حاشر نے فائل کا جائزہ لیتے ہوئے اسے تعریفی نظروں سے دیکھا
تھینک یو سو مچ سر!!! یہ سب آپ کی ہی ٹریننگ کا نتیجہ ہے. عزین کا چہرہ خوشی سے ٹمٹما رہا تھا.
میں یہ فائل میر کو دیکھا کر آتا ہوں. حاشر کچھ سوچتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا.
میرے خیال سے وہ آج ابھی تک نہیں آئے کیونکہ وہ اکیلے تو چلتے نہیں، پوری بارات ساتھ لے کر چلتے ہیں اور میں نے ابھی تک کوئی بارات گزرتے ہوئے نہیں دیکھی. عزین کی بات پر حاشر مسکراتا ہوا دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گیا.
سر آپ تو اچھے خاصے خوش اخلاق ہیں پھر آپ کی دوستی ان جیسے بداخلاق شخص سے کیسے ہوئی ……. ؟؟ عزین نے تجسس کے مارے پوچھا
پہلی بات تو یہ کہ عزین کسی کے بارے میں اتنی نیگیٹو سوچ نہیں رکھتے دوسرا بعض دفعہ زندگی میں ایسے حادثات پیش آتے ہیں کہ اچھا خاصا ہنستا کھیلتا انسان پتھر بن جاتا ہے. میر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے. حاشر نے بےحد سنجیدگی سے عزین کی طرف دیکھا
سر ایسا بھی کیا ہوا تھا ان کی زندگی میں ……..؟؟ عزین کے سوال پر حاشر نے دکھ سے اپنی آنکھیں بند کیں جیسے کچھ کہنے کے لیے ہمت جمع کر رہا ہو.
میر پر ڈبل قتل کیس تھا. جس کی وجہ سے اس نے جیل بھی کاٹی ہے. جیل جانے سے پہلے وہ اچھا خاصا خوش اخلاق تھا مگر جیل میں گزارے پانچ، سال اسے مکمل طور تباہ کر گئے.
میر کا ڈبل قتل کیس سے بچ جانا ایک معجزہ تھا. یہ سزائے موت سے بچ کر باہر آیا ہے. کسی کو بھی اس کی زندگی کی امید نہ تھی. حاشر کی باتوں پر عزین کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا
انہوں نے قتل کیا تھا ……؟ ؟ عزین بےیقین تھی.
بس کچھ مت پوچھو حاشر نے جھرجھری لی
سر بتائیں نااااا مجھے مزہ آرہا ہے. کیا کیا ہوا تھا اور کیسے …….. ؟؟ عزین نے دلچسپی سے حاشر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
لڑکی پاگل ہو حالانکہ لگتی نہیں ہو حاشر سر ہلاتا دوبارہ اپنا کام کرنے لگا لیکن ذہن کی سکرین پر وہ بھیانک دن گھوم رہا تھا
سر سر حاشر عزین کے بار بار پکارنے پر حاشر نے اس کی طرف دیکھا
سر آپ کہاں کھو گئے ہیں ……. ؟؟
کچھ نہیں تم بتاؤ اب آگے کیا کرنا ہے …… ؟؟ میرا مطلب ہے کچہری جوائن کرو گی یا اسی طرح کسی آرگنائزیشن کے لیے کام کرنے کا ارادہ ہے. حاشر نے جان بوجھ کر موضوع بدلا
فی الحال تو آپ ساتھ ہی رہنے کا ارادہ ہے لیکن اگر گئ تو وہاں جاؤں گی جہاں سے زیادہ اچھی افر آئے گی. عزین نے کرسی ساتھ ٹیک لگائے جواب دیا
پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا. لڑکی سب سے زیادہ اہمیت آپ کے سکون کی ہے. حاشر نے اس کے نظریے کی نفی کی.
میرے خیال سے تو سب کچھ پیسہ ہی ہوتا ہے. عزین نے فوراً تردید کی
نہیں پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا ہاں البتہ ہم اس کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے. حاشر ی کے جواب پر عزین ہنسنے لگی
سر ایک ہی بات ہے. آپ نے گھما پھرا دی جب کہ میں نے صاف صاف لفظوں میں کہا ہے. عزین نے پیپر ویٹ گھماتے ہوئے کہا
ایک بات نہیں ہے وکیل صاحبہ حاشر کے یوں مخاطب کرنے پر عزین کھلکھلا کر مسکرا دی
🎭🎭🎭🎭
پورے فلیٹ میں تیز میوزک نے شور برپا کر رکھا تھا ٹی وی پر علیحدہ اینکر چیخ چیخ کر ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بتا رہا تھا.
سلیپنگ سوٹ میں ملبوس غازی اوپن کچن میں کھڑا اپنے لیے کافی بنا رہا تھا. دو دفعہ اسے احساس ہوا کہ شاید کسی نے ڈور بیل بجائی ہے مگر پھر اس خیال کے تحت کے میرے فلیٹ میں کون آئے گا سوچ کر سر جھٹک دیا.
( غازی کا فلیٹ پانچ منزلہ عمارت میں سب سے اوپر تھا اور اس کے اعلی اخلاق کی بدولت کوئی بھی اس کے ساتھ رابطہ نہیں رکھتا تھا)
ابھی وہ اپنی کافی کپ میں ڈال ہی رہا تھا کہ میوزک اور ٹی وی کی آواز کے ساتھ ساتھ ایک اور آواز کا اضافہ بھی ہو گیا.
پہلے تو حیرت سے غازی نے اپنے ارد گرد دیکھا پھر احساس ہوا کہ یہ آواز شاید بیل کی ہے. اپنا کپ اٹھائے وہ لاؤنج میں آیا ٹی وی کی آواز اور میوزک بند کیا تو گھنٹی کی آواز واضح ہو گئی.
انتہائی واحیات اور کمینہ انسان تُو نہیں بلکہ میں، جو اس وقت تجھے ملنے چلا آیا. دروازہ کھلتے ہی ماجد بولتے ہوئے اندر داخل ہوا جسے غازی نے ناگواری سے گھورا
رات کے 11 بجے تو میرے فلیٹ پر کیا کرنے آیا ہے …….. ؟؟ غازی دروازہ بند کرتے اس کے پیچھے چل دیا
اور یہی سوال میرا بھی ہے کہ اتنی رات کو تو اپنے فلیٹ پر کیا کر رہا ہے. تیری طبیعت خراب ہے یا کسی کی کرنے جا رہا ہے ……. ؟؟ ماجد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
بس آج کلب جانے کا دل نہیں کر رہا تھا تو
غازی نے کندھے اچکائے اور ماجد کے برابر بیٹھ گیا
کب سے بیل بجا رہا ہوں مگر خیر سے آپ نے اندر اتنا ماحول بنایا ہوا ہے کہ باہر کی کچھ خبر ہی نہیں. ماجد نے طنز کرتے ہوئے سکرین کی طرف دیکھا جہاں میر کی فوٹیج چل رہی تھی
یہ تیرا سیٹھ ہے نااااا ماجد نے چونکتے ہوئے پوچھا
ہاں
غازی نے سر ہلاتے ہوئے آواز اونچی کی.
اب کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے …….. ؟؟ ماجد کو تجسس ہوا
ایک اور یتیم خانے کا افتتاح کیا ہے. غازی کے جواب پر ماجد ہنس پڑا
یہ صحیح ہے لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرو یہاں تک کہ قبرستان کو بھی نہ چھوڑو اور یتیم خانے کھولتے جاؤ جہاں تیرے جیسے معصوم لوگ اس کے جال میں پھنستے جائیں اور اس کا کاروبار چلتا جائے. ماجد کے کمنٹس غازی کو کچھ خاص پسند نہیں آئے
میر ایک کھرا انسان ہے. غازی نے کہتے ہوئے اپنا کپ خالی کر کے سامنے میز پہ رکھا اور ٹی وی بند کر دیا
زی اس کی غلامی چھوڑ دے. جس دن تو اس کے کام کا نہ رہا یا اس کی اپنی جان مشکل میں ہوئی تو وہ تجھے پھنسا کے خود نکل جائے گا وہ بہت شاطر ہے. ماجد نے حسب عادت دوبارہ بات شروع کی
یہ سب کچھ میر کا ہی دیا ہوا ہے اور ویسے بھی مجھے اس زندگی کی کوئی ضرورت نہیں میرے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے. غازی نے میز پر ٹانگیں رکھتے ہوئے جواب دیا.
پیچھے کا تو پتہ نہیں مگر آگے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے. ماجد کی بات پر غازی ہنس دیا
مثلاً کی ا…….. ؟؟ غازی نے آگے جھکتے ہوئے رازداری سے پوچھا
غازی تو شادی کر لے _ ماجد بالکل سیریس تھا. اچھا مجھے کون اپنی بیٹی دے گا ……. ؟؟ میں کرائے کا قاتل ہوں. غازی کے پوچھنے پر ماجد نے اس کی طرف دیکھا یہ کام تو مجھ پر چھوڑ دے تیرا رشتہ کرانا میری ذمہ داری ہے. بس یہ کام چھوڑ دے. یقین مان فیملی بڑی نعمت ہے. ماجد کی بات پر غازی ہنستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا مجھے وہی شخص اپنی بیٹی دے گا جس کی یا تو اندھی ہو گی یا پھر اسے کسی نے بدعا دی ہو گئی اور مجھے اس طرح کی لڑکی سے شادی نہیں کرنی. زی میری بات تو سن ماجد نے پکارا
میں فلحال میوزک سننے لگا ہوں. کچن میں جاتے ہوئے اس نے دوبارہ میوزک آن کر دیا.
🎭🎭🎭🎭
میر کی گاڑی تیزی سے گزر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر سڑک کنارے کھڑی عزین پر پڑی
گاڑی ریورس کرو اچانک میر کے کہنے پر ڈرائیور نے بریک لگائی اور گاڑی ریوس کرنے لگا. بلیک کلر کی ویگو کے ریورس ہوتے ہی باقی دونوں گاڑیاں بھی ریورس ہوئیں. یہ حاشر کی اسسٹنس ہے نااااا
بلیک گلاسز آنکھوں سے اتارتے میر نے تصدیق چاہی
جی سر وہی ہے. ڈرائیور کے برابر بیٹھا باڈی گارڈ نے جواب دیا
یہ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہے ……. ؟؟ میر نے دل میں سوچتے ہوئے گھڑی پر وقت دیکھا جہاں رات کے 10 بج رہے تھے
اسے بلا کر لاؤ _ کچھ دیر سوچنے کے بعد میر نے حکم دیا تو باڈی گارڈ فورا گاڑی سے نکل کر اس کی طرف چل دیا آپ کو میر صاحب بلا رہے ہے. باڈی گارڈ نے انتہائی مناسب الفاظ میں گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عزین سے کہا تو اس نے لائن میں لگی گاڑیوں کو حیرت سے دیکھا اندر آؤ میر نے عزین کو گاڑی پاس کھڑا دیکھ کر کرخت لہجے میں کہا
کس جرم میں …؟ ؟ عزین کا جواب ڈرائیور اور باڈی گارڈ دونوں کو حیران کر گیا جبکہ میر کے ماتھے پر انگنت شکن نمودار ہوئی. اس سے پہلے کہ وہ اسے دھکا دینے کا حکم دیا عزین کچھ سوچتی اندر بیٹھ گئی
اتنی بڑی اور لگزری گاڑی میں وہ پہلی بار بیٹھی تھی. پوری گاڑی میں میر کے پرفیوم کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی. عزین کو اپنے اوپر فخر ہو رہا تھا دونوں کے درمیان فاصلہ صرف ایک سیٹ کا تھا
تم اس وقت یہاں کیا کر رہی تھی ……… ؟؟ میر نے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا
مجھ سے پوچھ رہے ہے …… ؟؟ عزین نے میر کی طرف گھومتے ہوئے کہا تو باڈی گارڈ اور ڈرائیور کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
یہ لڑکی آج میر صاحب کے ہاتھوں سے نہیں بچے گی. جب کہ میر نے انتہائی غصیلی نگاہوں سے گردن گھماتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا
اچھا ٹھیک ہے اس میں غصہ کرنے والی کون سی بات ہے. میں بس وین، رکشہ یا کسی بھی چیز کا انتظار کر رہی تھی. جس پر بیٹھ کے جا سکتی. عزین نے اپنے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے فورا جواب دیا اسے یاد آیا کہ یہ قاتل بھی ہے.
کہاں جانا ہے ……. ؟؟ میر کا اگلا سوال عزین کو مسکرانے پر مجبور کر گیا جبکہ میر نے دوبارہ اپنا رخ موڑ لیا
“گھر”
یک لفظی جواب آیا.
ڈرائیور گاڑی روکو _ میر کی سپاٹ آواز گاڑی میں گونجی. اترو ابھی نیچے اترو
مجھے فضول گفتگو پسند نہیں. میر کی آواز میں تلخی گھلنے لگی تھی
وہ میں نے پھاٹک کے قریب اترنا ہے. پہلی بار عزین کا لہجہ سرد پڑا جسے میر نے واضح طور پر نوٹ کیا.
پھاٹک کے قریب تمہارا گھر ہے. میر نے لفظ “گھر” پر زور دیا مگر خلاف توقع عزین خاموش رہی اور پھر گاڑی میں خاموشی چھا گئی.
عزین نے کن اکھیوں سے میر کا جائزہ لیا. انتہائی قیمتی جوتے سارا دن گزرنے کے باوجود بھی جوں کے توں چمک رہے تھے. میر کے جوتوں کو دیکھتے ہوئے عزین کی نظر اپنے مہرون جاگرز پر پڑی جو گرد آلود تھے.
بلیک کلر کا تھری پیس سوٹ کسی بھی قسم کی شکن سے پاک تھا. ہاتھ میں پہنی قیمتی گھڑی کا ڈائل ہیرو سے چمک رہا تھا. ایک قیمتی موبائل اس کے ہاتھ میں مزید قیمتی لگ رہا تھا جبکہ عزین کے موبائل کی سکرین ہزار جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی.
ہائے یہ امیر لوگ یہ ٹھاٹ باٹھ، یہ شان و شوکت، کاش
میرے پاس بھی ایسی ہی گاڑیاں اور گارڈز ہوں تو مزہ آ جائے. ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ گاڑی کے تیز اور مسلسل بجتے ہارن نے اسے چونکنے پہ مجبور کیا
میرے خیال سے اسے پھاٹک ہی کہتے ہیں. میر کی آواز پر وہ شرمندہ سی باہر نکل گئی.
تم میں اخلاق کی شدید کمی ہے. نہ سلام اور نہ شکریہ ___
میر کی آواز پر عزین نے پلٹ کر خالی نگاہوں سے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی نظروں سے اوجھل ہو گئی