Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
تھکا ہارا اور کچھ کچھ بیزار سا میر جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوا اسے دھیمی لائٹ میں کسی اور وجود کا بھی احساس ہوا. پہلے ماتھے پہ کچھ بل پڑے پھر دماغ کے پردے پہ جھماکا ہوا تو خاموشی سے صوفے پر کوٹ اتار کر پھینکتا وہیں بیٹھ گیا.
اپنی چیز کو دوسروں ساتھ شئیر کرنا میری عادت نہیں پھر وہ چاہے میرا اپنا ہی کیوں نہ ہو …..؟ ؟ میر نے اپنے بیڈ کو دیکھتے ہوئے جوتے اتارے. موزے اتارتا وہ نرم کارپٹ پہ چلتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ان کھڑا ہوا
ویسے خود پسندی کی بھی حد ہوتی ہے. ہمیشہ کی طرح آج بھی میر کا عکس اس سے مخاطب تھا جس پر میر مسکراتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پلٹا تو نظر گلبدین پر جا ٹہری.
یہاں نیند پوری کی جا رہی ہے اور میری نیند حرام ہے. میں اب بیڈ پہ کیسے سوؤں گا …….. ؟؟ میر نے گہرا سانس بھرتے واش روم کی لائٹ آن کی اور فریش ہونے چلا گیا.
دروازہ بند ہونے کی آواز پر گل کی آنکھ کھل گئی. پہلے تو اس نے ناسمجھی سے ادھر ادھر دیکھا پھر خیال آیا کہ وہ اپنے نہیں میر کے کمرے میں ہے. جس پر وہ اٹھ کر بیڈ ساتھ نیم دراز ہوئی.
ارے آپ جاگ گئی ہیں. میر بالوں کو تولیے ساتھ صاف کرتا واش روم سے نکلا. اس نے بلیک کلر کا سلیپنگ سوٹ پہن رکھا تھا اور یہ کلر ہمیشہ ہی اس پہ بہت جچتا تھا
بس آنکھ لگ گئی تھی. میں سونے کی نیت سے نہیں لیٹی تھی. گل کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا
بیڈ پر زیادہ تر سویا ہی جاتا ہے. اپ کیوں وضاحت سے رہی ہیں. میر نے ڈریسنگ ٹیبل سے برش اٹھاتے ہوئے جواب دیا.
میر میری موجودگی میں تم آرام سے سو جاؤ گے …..؟ ؟ گلبدین کے پوچھنے پر میر نے اسے مرر میں گھورا
میرا مطلب ہے کہ تمہیں عادت نہیں ہے نا اپنی چیزیں شیئر کرنے کی _ گلبدین کو اپنا جملہ کچھ ٹھیک نہ لگا تو فورا اس نے وضاحت دی میرے خیال سے جب آپ کی بیگم آپ پاس موجود ہو تو نیند سکون کی ہی آنی چاہیے. میر کہتا ہوا بیڈ کی دوسری سائیڈ پر ا کر لیٹنے لگا میری میں یہاں سکون سے نہیں سو پاؤں گی. میر کے لیٹنے پر گلبدین نے اس کی طرف دیکھے بغیر بتایا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں عادت ہو جائے گی. تو آپ کو اس کمرے اور بیڈ کے علاوہ کہیں سکون نہیں ملے گا. میر نے اپنا بازو اپنے سر کے نیچے رکھتے ہوئے جواب دیا میرا وجود تمہارے اوپر ایک بوجھ ہے کئی لوگوں کو مار چکے ہو تو مجھے کیوں نہیں مارتے حالانکہ میں تمہارے دشمنوں میں سے ہوں. گلبدین کے سوال پر میر جو سونے کے لیے آنکھیں بند کر رہا تھا فوراً چونک کر اسے دیکھنے لگا اگر وہ گولی جو شیر علی نے چلائی تھی مجھ پر میر نے گلبدین کی طرف کروٹ لیتے ہوئے اپنے سینے پر انگلی رکھی
وہ آپ اپنے اوپر نہ روکتی تو یقیناً اس دن باقیوں کے ساتھ ساتھ میں آپ کو بھی مار دیتا مگر میر نے اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے گلبدین کا ہاتھ پکڑا مگر اب مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میری زندگی آپ کی امانت ہے. آپ کے وجود سے میرا وجود ہے. لہذا آپ کی حفاظت و خوشی کا خیال مجھ پر فرض ہے. میر نے اپنے گرم ہاتھ میں گل کا ہاتھ دبایا نہیں میر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے. جو تم مجھ سے چھپا رہے ہو کیونکہ تم اتنے سیدھے اور معصوم نہیں. گل کے سوال پر میر ہنسنے لگا میں نے کب کہا کہ میں سیدھا اور معصوم ہوں. ویسے اگر ایسا ویسا کچھ ہوتا تو اب تک آپ اپنے شیر علی پاس پہنچ چکی ہوتی جبکہ ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا. میر کی آنکھوں میں ایک عجب چمک ابھری ایسا اس لیے ابھی تک کچھ نہیں ہوا کہ تم چند سال جیل میں رہے اور باہر آنے کے بعد سب سے پہلے تم نے اپنا امیج قائم کیا اور اب جب کہ تم ملک کے ایک نامور بلڈرز بن چکے ہو تو گل نے میر کی طرف دیکھا جو دلچسپی سے اسے ہی دیکھ اور سن رہا تھا
تو ……. ؟؟ میر نے آبرو اچکایا
تو اب تم میرا کیا کرو گے …؟؟ گل کے سوال پر میر ہنستا ہوا دوبارہ تکیے پر اپنا سر رکھ گیا
ابھی تو اپ سو جائیں اور میں یہ گارنٹی نہیں دیتا ہوں کہ میں آپ کو کچھ نہیں کہوں گا. ہاں البتہ وقت بتائے گا کہ میں آپ ساتھ کیا سلوک کروں گا اور وہ وقت جلد آنے والا ہے.
گڈ نائٹ _ میر نے کہتے ہوئے اپنی طرف کا لیمپ بجھا دیا کیونکہ وہ اپنے تاثرات گلبدین سے شئیر نہیں کرنا چاہتا تھا. جبکہ گل نے میر کی طرف دیکھتے ہوئے وال کلاک کو دیکھا جہاں رات کا ایک بج رہا تھا پتہ نہیں اس رات کی صبح کب ہوگی …….. ؟؟ وہ گھڑی کی سوئیاں دیکھتی اور اس کی آواز سنتی لیٹنے لگی. جب کہ میر کے سانسوں کی بھاری آواز کمرے میں سنائی دینے لگی تھی. یہ شخص اتنا مطمئن کیسے سو جاتا ہے……. ؟؟ گل سوچتی ہوئی اپنے اوپر کمبل لینے لگی 🎭🎭🎭🎭 ماسی تیرا پتر واپس آ گیا ہے. اب تو اس خوشی میں دیسی گھی کے لڈو ہمیں کب کھلا رہی ہے …….. ؟؟ رجو نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے ماسی پھلاں سے کہا جو پھولے نہیں سما رہی تھی. ہاں ہاں کیوں نہیں رجو میں صبح ہی دیسی گھی کے لڈو بنانے کا آرڈر دیتی ہوں بھلا وہ میرے پتر سے قیمتی ہیں……. ؟؟ ماسی پھلاں نے غازی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہے ہوئے جواب دیا جبکہ وہ شدید بیزار تھا. ماسی صبح نائی کو بلوا کر اسے نہلا دیتے ہیں صاف ستھرے کپڑے پہنے گا تو چاند جیسی شکل باہر نکل آئے گی. رجو نے ایک اور فرمائش کی جس پر غازی کا دل کیا کوئی چیز اٹھا کر اس لڑکی کے سر پر مار دے جب کہ زریں بالکل خاموش تھی. ہاں ہاں کیوں نہیں ایسا ہی کروں گی ابھی تو تھکا ہوا ہے اوپر سے چوٹ بھی لگی ہے. جا زریں دودھ میں ہلدی ڈال کر لا، پہلے اس کو کچھ کھلا پلا دوں پتہ نہیں کب کا بھوکا ہے …….. ؟؟ ماسی پھلاں کے لہجے میں زمانے بھر کی ہمدردی اتر آئی. جی ماسی ابھی لائی زریں کہتے ہوئے باہر کی طرف چل دی تو رجو نے بھی اس کی پیروی کی.
اے رجو مجھے تو لگتا ہے یہ لڑکا بہت تیز ہے. کس طرح آنکھیں گھما گھما کے تجھے اور مجھے دیکھ رہا تھا. ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں. میں تو کہتی ہوں پہلے اس ساتھ سیٹنگ کر لیتے ہیں. تو کیا کہتی ہے……. ؟؟ زری نے رازداری سے رجو کے کان میں سرگوشی کی
زری عقل کے ناخن لے، پہلے اس کے تیور دیکھتے ہیں اگر تو بھولا بھالا ہوا تو ٹھیک ورنہ اس سے لین دین کر لیں گے.
ایک بار تیری شادی ہو جائے پھر بھلے ماسی کو پتہ چلے کہ یہ اس کا بیٹا نہیں ہے. ہماری بلا سے رجو نے سمجھاتے ہوئے زری سے کہا تو وہ سر ہلاتی دودھ گلاس میں جانے لگی
غازی کو بری طرح اپنا فلائٹ یاد آرہا تھا اور ساتھ ہی ماجد بھی مگر وہ عجیب مصیبت میں گرفتار تھا نہ کچھ بتا سکتا تھا اور نہ کوئی سننے کے موڈ میں تھا. گاؤں اسے کبھی بھی پسند نہ تھا.
لے پتر دودھ پی تیری طبیعت ٹھیک ہو جائے گی اور بتا تجھے کھانے میں کیا پسند ہے …….. ؟؟ ماسی نے محبت سے زریں کی ہاتھوں سے گلاس لیتے ہوئے غازی کو پیش کیا جب کہ ماسی کے دوسرے جملے پر زری کا منہ بن گیا
اماں جو بھی بنے گا یہ کھا لے گا. آپ زیادہ فرمائشی پروگرام نہ چلائیں. میرا کچھ بھی بنانے کو دل نہیں کر رہا بلکہ آپ کا بیٹا ہے آپ اس کے لیے خود جا کر کچھ بنائیں. اسے اچھا لگے گا. زری نے کہتے ہوئے غازی کی طرف حمایت بھری نظروں سے دیکھا جو حیرت سے زریں کو دیکھ رہا تھا
(یہ لڑکی تو اس لڑکی سے بھی زیادہ چالاک ہے کون کہتا ہے کہ گاؤں کی لڑکیاں بھولی بھالی اور سیدھی سادی ہوتی ہیں ……. ؟؟ غازی نے دودھ کا گلاس پکڑتے دل میں سوچا)
اچھا میں تیرے لیے تیری پسند کا کھانا بنا کر لاتی ہوں. تجھے بچپن میں دال چاول بہت پسند تھے. ماسی نے محبت سے ایک بار پھر غازی کا ماتھا چوما اور کمرے سے باہر نکل گئی. جس کے جاتے ہی زری اور رجو ایک دم غازی کی چارپائی کے کنارے آ بیٹھیں تو اس کا گلاس ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا
اب یہ کیا معاملہ ہے ……..؟؟ غازی نے دل میں سوچتے دونوں کو گھورا. لڑکیوں سے چڑ تو اسے پہلے بھی تھی اور اب شدت اختیار کرنے لگی تھی. بڑی مشکل سے وہ اپنے جذبات کنٹرول کیے ہوئے تھا کیونکہ وہ اس وقت مارنے کی پوزیشن میں نہیں تھا. ورنہ دونوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیتا
دیکھو لڑکے کوئی بھی ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے. ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم ماسی کے بیٹے نہیں ہو مگر تمہیں یہاں لانا ہماری مجبوری تھی. زریں نے بات شروع کی تو غازی کو دلچسپی ہوئی.
ماسی کا ایک بیٹا چھ سات سال کی عمر میں سیلاب میں بہہ گیا تھا اور سب کو پتہ ہے کہ وہ مر کھپ گیا ہے مگر ماسی یہ بات ماننے کو تیار نہیں اس لیے مجبوراً ہمیں تمہیں یہاں لانا پڑا. رجو نے بات آگے بڑھائی.
تو میں کیا کروں …… ؟؟ غازی نے ناگواری سے پوچھا تو رجو اور زریں نے ایک دوسرے کو خوشی سے دیکھا
ارے واہ یہ تو بولتا بھی ہے. ہم سمجھے تھے تم گونگے ہو. زیارت پر تو ایسے ہی پڑے تھے جیسے تم کوئی سائیں ہو. زری نے خوش ہوتے ہوئے غازی کی طرف دیکھا
مجھے لڑکیوں سے شدید چڑ ہے. برائے مہربانی آپ تھوڑے فاصلے پر ہو کر بیٹھیں اور دوسرا آپ کے اس تمام معاملے سے میرا کیا لینا دینا میں کیا کروں ……. ؟؟ غازی شدید اکتاہٹ کا شکار تھا.
زیادہ ڈرامے بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے. سب لڑکے ایسے ہی کہتے ہیں. تمہارا حلیہ بتا رہا ہے کہ تمہارا تعلق شہر سے ہے اور تمہیں طبیعت آوارہ زری نے غازی کی کلائی میں چاندی کا کڑا اور انگلی میں انگوٹھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو غازی کے تاثرات بگڑ گئے
تمہاری راتیں کلب میں گزرتی ہوں گی وہاں لڑکیاں نہیں تو کیا پودے دیکھنے جاتے ہو …… ؟؟ بڑے حاجی صاحب بن رہے ہو. ہم گاؤں میں ضرور رہتے ہیں مگر بے وقوف نہیں ہے دنیا کا پتہ ہے. زریں کی بات پر پہلی بار غازی کے لب مسکرائے
(اگر اس وقت ماجد یہاں ہوتا تو وہ اس لڑکی کی بھرپور حمایت کرتا. واقعی میں کلب میں کیا کرنے جاتا ہوں جب کہ مجھے لڑکیوں سے چڑ ہے …… ؟؟ غازی نے دل میں سوچتے ہوئے زری کی طرف دیکھا جو اسے ہی گھور رہی تھی)
اور تم نے کرنا کیا ہے یہ ہم بتاتے ہیں …… ؟؟ رجو نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے زریں کو اشارہ کیا.
دیکھو یہ جو میری دوست ہے نا یہ بچپن سے ماسی کے بیٹے کے ساتھ منگی ہوئی ہے مطلب اس کا اس ساتھ رشتہ ہوا تھا. رجو نے کہنا شروع کیا جبکہ زریں دروازہ بند کرنے لگی
ماسی اب کسی سے بھی میری شادی کرنے کو تیار نہیں. اس کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا واپس آئے گا تو وہ اپنے بیٹے ساتھ ہی میری شادی کرے گی جب کہ میں نے شادی کرنی ہے. زریں نے مسکین سی شکل بنائی
تو …….. ؟؟ غازی نے ان دونوں ڈرامے باز لڑکیوں کی طرف دیکھا جب کہ دروازہ بند کرنے کی اسے ابھی تک سمجھ نہیں آئی تھی.
بار بار دروازے کی طرف مت دیکھو. دروازہ بند کرنے کی ایک خاص وجہ ہے جو ہم تمہیں آخر میں بتائیں گے. فی الحال تم وہ کرو جو ہم کہہ رہے ہیں. زریں کے ٹوکنے پر غازی نے گہرا سانس خارج کیا اور بدلی سے انھیں دیکھنے لگا
تم نے ماسی کو یہ بتانا ہے کہ تم شادی شدہ ہو اور تمہارے دو بچے بھی ہیں. اس طرح میری جان چھوٹ جائے گی. میری شادی کے بعد چاہے تو ماسی کو چھوڑ جانا کوئی پریشانی نہیں. میں دیکھ لوں گی. زری کی بات پر غازی نے اسے طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھا
اور اگر میں تم دونوں کی بات نہ مانوں اور ماسی کو سچ سچ سب بتا دوں پھر …….. ؟؟ غازی نے دھمکی
تو یہ کہ یہ جو دروازہ میں نے بند کیا ہے تھا ناااااا اُس کی وجہ یہ تھی کہ اگر تم ہوشیاری کرنے کی کوشش کرو جو کہ کر بھی رہے ہو. پھر میں شور مچا دوں گی کہ تم نے میری عزت پہ ہاتھ ڈالا ہے اور رجو اس بات کی گواہی دے گی. گاؤں والے مار مار کے تمہارا بہت برا حشر کریں گے کہ تم ساری زندگی نہیں چل سکو گے سمجھے. زریں کا انداز چیلنج دینے والا تھا.
اس سے پہلے غازی کچھ کہتا ماسی پھلاں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو رجو اور زری چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئی.
ماسی اسے سردی لگ رہی تھی تب دروازہ بند کیا تھا. رجو نے فوراً وضاحت دی.
سردی کا تو پتہ نہیں مگر غازی بیٹا پھنسا برا ہے. غازی نے دودھ کا گلاس منہ کو لگاتے ہوئے سوچا. حالانکہ اسے تازہ دودھ پسند نہیں تھا. اسے اس میں سے گوبر کی بو آتی تھی مگر اس وقت وہ بہت سخت پیاسا اور بھوکا تھا اس لیے ایک ہی سانس میں سارا گلاس خالی کر گیا
🎭🎭🎭🎭
اس وقت حاشر، میر اور عزین آفس کے میٹنگ روم میں بیٹھے تھے مگر اتنی خاموشی تھی جیسے کوئی ذی روح موجود نہ ہو.
آپ تسلی سے اس آفر کے بارے میں سوچیں مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو زندگی میں کسی نے ایسی آفر دی ہوگی …… ؟؟ چند لمحوں بعد میر نے اپنا کپ اٹھاتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا
ظاہری سی بات ہے اتنی “واحیات اور بےہودہ” آفر ہر کوئی تو دے نہیں سکتا. عزین نے دل میں سوچا
اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ مجھے جیل سے نکال لیں گے. ہو سکتا ہے آپ کا کام ہو جانے کے بعد آپ میری خبر بھی نہ لیں اور میں جیل میں سڑتی رہوں …..؟ ؟ عزین کے پوچھنے پر حاشر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا جیسے اُسے اِس سوال کی اُس سے امید نہ تھی.
پہلے میں آپ کی رہائی کا بندوبست کروں گا پھر آپ مجھے میری امانت دیجیے گا. میر نے مطمئن سے انداز میں جواب دیا
قتل کس کا کرنا ہے اور کب دوسرا یہ کہ اپ کو کیسے پتہ کہ اُس قتل کی وجہ سے میں وہاں ہی جاؤں گی جہاں “وہ” ہے. عزین کے سوال پر حاشر نے اپنا ماتھا مسلا
یہ لڑکی کیوں پنگا لے رہی ہے حالانکہ میں نے اسے منع بھی کیا تھا …..؟؟ حاشر دل میں سوچتا ٹیبل پر انگلی پھیرنے لگا
دیکھیں مس آپ نے قتل نہیں کرنا بس بظاہر ایسا لگے پولیس والوں کو کہ قتل آپ نے کیا ہے. باقی سب میں دیکھ اور سنبھال لوں گا. میر نے اپنا پلان بتایا.
مجھے بظاہر قتل کس کا کرنا ہوگا …..؟؟ عزین نے “بظاہر” لفظ پر زور دیا تو میر کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی.
میری بیوی کا _ میر کے منہ سے یہ تین الفاظ نکلے تو عزین اور حاشر دونوں ہی اپنی کرسیوں پر اچھل پڑے. کیا……؟ ؟ ایک ساتھ دونوں کے منہ سے نکلا ہاں میری “بیوی” کا قتل کرنا ہے مگر قتل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کو پہلے میری جھوٹی موٹی بیوی بننا پڑے گا. پھر آپ جیلسی میں اپنی “سوتن” یعنی میری “بیوی” کا قتل کریں گی کیونکہ گھر کے اندر ہی میں آپ کو ہر طرح کی سہولت مہیا کر سکوں گا اور تمام ثبوت بھی آپ کی فیور میں جمع کروں گا. پولیس کو وہی نظر آئے گا جو میں انہیں دکھانا چاہوں گا اور قتل بھی آپ نہیں کریں گی وہ میرا کام ہے. میر کے بتانے پر حاشر اور عز دونوں دم با خود تھے انہیں میر سے ایسی باتوں کی امید نہ تھی. اور تمہارا وکیل حاشر ہوگا. مجھے پوری امید ہے وہ تمہیں چند دنوں میں ہی رہا کرا لے گا کیونکہ حاشر تو تمہیں مرتا نہیں دیکھ سکتا کیوں حاشر ……. ؟؟ میر کا لہجہ طنزیہ تھا. جس پر حاشر خاموش رہا اپ اپنی بیوی کو کیوں مروانا چاہتے ہیں …… ؟؟ عزین نے تجسس سے پوچھا کیونکہ وہ زندہ نہیں رہنا چاہتی. اسے لگتا ہے کہ اس کی ذات مجھ پر ایک بوجھ ہے. میر نے خالی کپ ٹیبل پر رکھا. آپ اسے “محبت” سے سمجھا سکتے ہیں کہ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے. اس کے لیے اسے قتل کرنے کی کیا ضرورت ہے…… ؟؟ وہ تو بے وقوف ہے مگر آپ تو سمجھدار ہیں. عزین کو شدید دکھ لگا تو میر مسکرانے لگا “محبت” ہی تو نہیں ہے اس سے، دوسرا کچھ لوگوں کا مر جانا ہی ان کے حق میں بہتر ہوتا ہے. تیسرا مجھے آپ کو اس تک پہنچانے کے لیے یہ سب کرنا پڑے گا. میر اپنی بات کی آخر میں سنجیدہ ہو گیا. جیل میں آپ کا کون ہے …… ؟؟ عزین نے ایک اور سوال کیا. جس پر میر کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ ہی حشر بھی، میر اپنا موبائل، ویلٹ اٹھاتا سنجیدگی سے عزین کو دیکھنے لگا میری ماں __ میر بتاتا ہوا خاموشی سے دروازے کی چل دیا جبکہ عزین سکتہ میں تھی.
اگر آپ کو میری آفر منظور ہے تو آپ ایگریمنٹ کل حاشر ساتھ سائن کر دیجئے گا. میں اپنی بات سے پھرتا نہیں جو کہا ہے وہی کروں گا. میر نے پلٹ کر عزین کی طرف دیکھا اور پھر دونوں آگے پیچھے میٹنگ روم سے باہر آ گئے.
“بیوی” کو قتل کروا کے “ماں” سے کچھ جاننا ہے. بھلا یہ کیا بات ہوئی ….؟؟ حاشر صاحب ابھی اس قاتل کو مظلوم کہتے ہیں. عزین نے جھرجھری لی
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے
