Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

تم سب کے سب نمک حرام ہو. جب میں نے کہا تھا کہ گل بی بی کے آس پاس رہنا ہے. انہیں تنہا نہیں چھوڑنا تو کہاں مر گئے تھے سب کے سب _ اور خاص طور پر آپ ……. ؟؟ میر نے آیا کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا جب کہ باقی سب ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑے تھے. پورے میر ویلاز میں میر کی اواز گونج رہی تھی صاحب جی میں ان کے لیے کھانا لینے کچن میں آئی تو پتہ نہیں گل بی بی نے پیچھے اپنے ساتھ کیا کر لیا. آیا کی ڈری سہمی آواز نکلی تم گئی تھی تو باقی سارے مر گئے تھے. اپنی جگہ کسی اور کو چھوڑ کر جا سکتی تھی ناااااا میر کے سوال پر اس کی بولتی بند ہو گئی
ان سب کو فارغ کر دو بلکہ یوں کرو کہ انہیں میرے فارم ہاؤس بھیج دو. یہ انسانوں کی نہیں جانوروں کی خدمت کرنے کے قابل ہیں. وہاں میرے کتے نہائیں گے، گھوڑوں کی دیکھ بھال کریں گے. تو ٹھیک ہو جائیں گے. میر کی بات پر سب نے ایک ساتھ نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا
صاحب رحم کریں. ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہوگی. ایک بزرگ ملازم نے میر کے آگے ہاتھ جوڑتے سب کی سفارش کی.
یہ یہاں رہیں گے تو غلطی ہوگی نااااا _ میر نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے گلے سے کھینچی صاحب اس دفعہ معاف کر دیں. میں ان کی گارنٹی دیتا ہوں. اب یہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کریں گے اپ اچھے سے جانتے ہیں کہ میں کسی کو معاف نہیں کرتا. میری سرنسشت میں بدلہ لینا شامل ہے معاف کرنا نہیں. میر نے کف کے بٹن کھولتے انہیں فولڈ کیا بس آخری بار بزرگ نے بڑی آس سے میر کی طرف دیکھا تو غلام علی سے رہا نہ گیا
میر معاف کر دیں ناااااا ان کے سفید بالوں کیطرف دیکھیں. سفید بالوں سے تو اللہ بھی حیا کرتا ہے. غلام علی کی آواز پر میر نے اسے شعلہ باز نظروں سے گھورتے ہوئے باقی سب کو جانے کا اشارہ کیا
غلام علی تم جانتے ہو کہ جب میرا دماغ خراب ہوتا ہے تو میں کیا کرتا ہوں ….؟؟ میر نے غلام علی کے اوپر سے فرضی گرد جھاڑتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں پوچھا
آپ
غلام علی کی آواز لڑکھڑائی.
ہاں میں میر نے اسی انداز میں دوبارہ پوچھا
میر آپ اپنا غصہ کسی کو مار کر نکالتے ہیں. غلام علی کا جملہ پورے ہوتے ہی میر نے ہلکا سا قہقہہ لگایا
اور جانتے ہو اس بار باری کس کی ہے ……. ؟؟ میر نے مڑتے ہوئے پوچھا تو غلام علی نے تھوک نگلا. اس سے پہلے کے غلام علی کچھ کہتا میر نے پلٹتے ہوئے گن اس کے ماتھے پر رکھ دی
غلام علی تم آج کل جس طرح گل بی بی کی برین واشنگ کر رہے ہو. میرا دل کرتا ہے کہ تمہارا سر اڑا دوں. میر کے ایکشن پر غلام علی کا جسم پسینے میں ڈوبنے لگا
میر میں نے کچھ نہیں کیا بلکہ وہ کہہ رہی تھی کہ مجھے اپنے بھائی کے مرنے کا افسوس نہیں. غلام علی کے یوں بولنے پر میر نے پاس پڑے گلدان پر ہاتھ مارا تو وہ نیچے گرتے ہوئے کئی ٹکڑوں میں تبدیل ہو گیا
گل بی بی کا تو دماغ شروع سے کام ہی نہیں کرتا ورنہ وہ شیر علی کی جگہ مجھ پر گولی چلاتی مگر تمہارا تو کرتا ہے نا بولو …….. ؟؟ میر نے چیختے ہوئے غلام علی کا گریبان پکڑا تو وہ دو قدم پیچھے ہوا
میر نے گن صوفے پر پھینکتے ہوئے گہرے گہرے سانس لیے. اپنے اپ کو نارمل کرتے ہوئے میر نے ٹی وی آن کیا تو اس پر ایک ہی خبر چل رہی تھی کہ ملک کے مایہ ناز بلڈرز کے اکلوتے بیٹے کی کار حادثے میں ڈیٹھ ہو گی ہے
خبر پڑھتے ہی میر کے تنے اعصاب نارمل ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے خوشی میں ڈھل گئے. تم سب کے سب نکمے اور نمک حرام ہو سوائے اس “غازی” کے، وہ میرا “ٹائیگر” ہے. میر کی خوشی دیدنی تھی
خوشی سے میر نے باری باری تمام چینلز ٹیون کیے تو سب پر ایک ہی خبر تھی. جس سے اس کا انگ انگ خوشی سے جھومنے لگا.
گاڑی نکالو مجھے ابھی اور اسی وقت عابد بلڈرز کے پاس افسوس کے لیے جانا ہے. آخر ہمارا کاروباری رقیب ہے اور رقیب تو” محبوب” سے زیادہ عزیز ہوتا ہے. تمہیں تو اس بات کا باخوبی اندازہ ہوگا ہے نااااا آخر تم بھی میرے رقیب رہ چکے ہو. میر آنکھ مارتا غلام علی کا کندھا تھپکتا آگے بڑھ گیا
🎭🎭🎭🎭
عزین تم نے خبر سنی حاشر نے عزین کو فون کرتے ہوئے پوچھا سنی ہے سر مگر ہمارا اس سے کیا لینا دینا. عزین کے جواب پر حاشر نے اپنا ماتھا پیٹ لیا بے وقوف لڑکی بلکہ وکیل عابد بلڈرز ہمارے رقیب ہیں اور وہ سب سے پہلے ہمارا ہی نام دیں گے. حاشر نے اس سے سمجھانا چاہا مگر میری تو کسی سے بھی کوئی دشمنی نہیں ہے دوسرا میں اور آپ کب سے “ہم” ہو گے …… ؟؟ عزین کی بات پر حاشر نے گہرا سانس خارج کیا عزین ہم سے مراد میر کا سٹاف ہے. حاشر کے جواب پر عزین سر ہلانے لگی اچھا اب مجھے بات سمجھ آگئی ہے. تو بتائیں کہ ہمیں اب کیا کرنا چاہیے ……. ؟؟ عزین نے جان بوجھ کر ہم پر زور دیا محترمہ وکیل صاحبہ!!! ہمیں فوراً ایک قانونی کاروائی کرنی چاہیے تاکہ ہم عابد بلڈرز کے کسی بھی قسم کی جارحیت سے بچ سکیں آئی سمجھ یعنی ہم نے میر کو ایک safe zone مہیا کرنا ہے. حاشر نے سنجییدگی سے بتایا کیونکہ آج کل سارے کام عزین ہی کر رہی تھی بدلے میں ہمیں کیا ملے گا …… ؟؟ عزین کی بات سنتے ہوئے حاشر کمرے میں ٹہل رہا تھا عزین ہم اس کے قانونی مشیر ہیں اور وہ ہمیں اس چیز کی اچھی خاصی تنخواہ دیتا ہے. حاشر نے جتلایا اچھااااااااااااا پھر میں ایک پروٹیکٹو فائل تیار کرتی ہوں. عزین کے حامی بننے پر حاشر نے سکھ کا سانس لیا اور فون بند کر دیا. ابھی وہ دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہی ہوا تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا ہاں میر حاشر نے ٹی وی پر نظریں جماتے ہوئے پوچھا
حاشر میں عابد بلڈرز کے آفس جا رہا ہوں افسوس کے لیے، تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ آگے کیا کرنا ہے ……. ؟؟
جی بالکل میں نے عزین کو کہہ دیا ہے. حاشر کے منہ سے عزین کا لفظ سنتے میر کافی بدمزہ ہوا.
ایسا کرو عزین سے کہو کہ وہ میرے ساتھ عابد بلڈرز چلے تاکہ ان کو دیکھتے ہوئے قانونی کاروائی کی جائے. میر کے حکم پر حاشر حیران ہوتے ہوئے مسکرانے لگا
اچھا میں اسے کال کرتا ہوں کیونکہ اس وقت وہ آفس میں نہیں ہے. حاشر کی اطلاع پر کچھ سوچتے ہوئے میر نے کہا
اسے کہو کہ اپنے اسی گندے سٹاپ پر آ جائے. میں وہیں سے پک کر لیتا ہوں. میر نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی
میر کے ذہن میں پتہ نہیں کیا چل رہا ہے. اللہ عزین کو میر کے اور میر کو عزین کے شر سے محفوظ رکھے دونوں ہی نیگٹو چارج رکھتے ہیں. حاشر کہتا عزین کو کال ملانے لگا
🎭🎭🎭🎭
ماجد نے غوطہ خوروں کی مدد سے اس جھیل نما نالے کا چپا چپا چھان مارا تھا مگر غازی کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا ابھی بھی ایک اور غوطہ خور ٹیم اس کی تلاش کر رہی تھی
سر آپ کو آخر کس کی تلاش ہے …… ؟؟ حوالدار نے ماجد کو یوں پریشان ہوتا دیکھ کر پوچھا
ہمارا کام ہے تلاش کرنا کیونکہ تین گاڑیوں میں کافی لوگ سوار تھے اور سب کی تو لاشیں نہیں ملیں. ماجد نے بات بدلی
دفع کریں سر جی!!! آپ کیوں ان لوگوں کے پیچھے خوار ہو رہے ہیں ….؟؟ حولدار کی بات پر ماجد نے اسے گھور کر دیکھا
ہماری اور تمہاری ترقی کا انحصار اسی کارکردگی پر ہے. چپ چاپ کام کرو. عینی شاہد ڈھونڈو اور ان سے پوچھو کہ واقعہ کیا ہوا تھا ……؟ ؟
پھر رپورٹ تیار کر کے ایس پی صاحب کو پیش کرو. اس سے پہلے کہ ہماری پیشی ہو جائے. ماجد کا موڈ غازی کی وجہ سے سخت خراب تھا اور رہتی کسر حوالدار نکال رہا تھا.
غازی یار کہاں ہے تو کہاں جا کر چھپ گیا ہے…… ؟؟ پانی کی لہروں کو دیکھتے ہوئے ماجد نے دل میں اسے پکارا
غازی ہے تو کافی تیز، میرا دل نہیں مانتا کہ وہ یوں عابد نے اپنی آنکھوں کو دبایا
پیارے اللہ جی پلیز ہے تو میرا دوست بہت ہی گھٹیا، ذلیل، کمینہ مگر تو اسے بچا لے. ماجد دعا کرتا اٹھ کھڑا ہوا اتنی دیر میں غوطہ خور ٹیم بھی باہر اگئی
سر ہمارے حساب میں یہاں کوئی زندہ یا مردہ وجود نہیں ہے. ورنہ ضرور کوئی نہ کوئی سراغ مل جاتا. آپ کے حکم پر ہم نے اچھی طرح چھان بین کر لی ہے مگر ہمیں کچھ نہیں ملا. ٹیم کے سربراہ نے جواب دیا تو ماجد نے اداسی سے سر ہلایا
🎭🎭🎭🎭
زری تو نے سنا ہے کہ بابا سرکار کی زیارت پر کوئی نوجوان آیا ہے. رجو نے ساگ پکاتی زریں کے کان میں سرگوشی کی.
زیارت پر تو ہر روز پتہ نہیں کتنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آتی ہیں. اس میں خاص کیا ہے…….. ؟؟ زری نے آگ کو پھونک مارتے ہوئے جواب دیا
پاگل لڑکی وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھا ہے. بابا سرکار کے گدی نشین نے اعلان کروایا تھا کہ اگر کوئی اس کا جاننے والا ہے تو اسے آکر لے جائے. رجو نے پرتجسس لہجے میں زریں کی طرف دیکھا جس پر وہ آبرو اچکاتے ہوئے اسے دیکھنے لگی
زری تو میرا پلان لگتا ہے بھول گئی ہے. اگر ہم ماسی پھلاں سے کہیں کہ وہ نوجوان سانول ہے تو ماسی یقیناً اسے لینے جائے گی. آگے تو خود سمجھدار ہے. بھلا پاگل سے کون شادی کرتا ہے …..؟ ؟ رجو نے سرگوشی نما آواز میں کہا تو زریں کھل اٹھی.
رجو تو نے میرا دل خوش کر دیا ہے. چل ماسی کو لے کر زیارت پر چلتے ہیں. ویسے وہ دیکھنے میں کیسا لگ رہا ہے …… ؟؟ زریں نے ہانڈی پر ڈھکن دیا اور آگ بجھا دی.
ارے یہ کیا کر رہی ہے کھانا تو بنا لے ……. ؟؟ رجو نے اسے آگ بجھاتے دیکھ کر شور مچایا
چپ کر ہلکی آنچ پر خود ہی پکتا رہے گا. چل آ ماسی کو زیارت پر لے کر چلتے ہیں. زریں نے اپنا ڈوپٹہ سر پر لیتے ہو کہا تو رجو بھی کھڑی ہو گئی
ماسی ماسی لگتا ہے اللہ نے تیری سن لی ہے. دیکھ زیارت پر تیرا سانول آیا ہے. دور سے ہی رجو نے چیخ چیخ کر ماسی کو آواز دی جو کھیتوں میں کام کر رہی تھی.
رجو مجھے اس طرح کا مذاق بالکل پسند نہیں ہے. ماسی نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے دوبارہ اپنا کام شروع کر دیا.
ہائے اللہ ماسی میں کیوں جھوٹ بولوں گی. ابھی ابھی زیارت اور دو دفعہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر میں بھی اعلان ہوا ہے. وہ بیچارہ ساتھ والے گاؤں کا نالہ نہیں ہے اس میں سے ملا ہے.
پانی ہی تیرا بیٹا لے کر گیا تھا اور پانی ہی تیرا بیٹا لے کر واپس آیا ہے. تو ایک دفعہ چل کے اسے دیکھ تو لے. رجو کی ایکٹنگ پر زری نے اسے دور سے خوب سراہا
تجھے کیسے پتہ کہ وہ میرا سانول ہی ہے ……. ؟؟ ماسی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رجو کے برابر کھڑی ہو گئی. دل تو اس کا بھی عجیب طرح دھڑک رہا تھا کہ اللہ کرے اسی کا بیٹا ہو.
ماسی تو خود کہتی ہے کہ تو اپنے بیٹے کو پہچان لے گی. چل ہمارے ساتھ اور دیکھ کیا وہ تیرا ہی سانول ہے. زریں نے بات بگڑتے دیکھ کر فوراً سنبھالی
زیارت پر اس وقت اچھا خاصا لوگوں کا ہجوم تھا. غازی سب لوگوں کو عجیب نظروں سے گھور رہا تھا. بدقسمتی سے اسے سر اور ٹانگ پر شدید چوٹ آئی تھی جس کی وجہ سے وہ کچھ کر نہیں پا رہا تھا اور اوپر سے اتنے سارے لوگ شدید کوفت اور تکلیف کے مارے وہ بار بار آنکھیں بند کرتا دیوار ساتھ ٹیک لگا رہا تھا.
لو جی ماسی پھلاں آگئی. دیکھ ماسی اللہ نے تیرا بیٹا واپس کر دیا ہے. وہاں پر جتنے بھی مرد عورت کھڑے تھے سب ماسی پھلاں کو دیکھ کر شور مچانے لگے.
زی دیکھ یہ تو بیچارہ اچھا خاصا مسکین سا ہے. رجو کے منہ سے جیسا ہی یہ جملہ نکلا غازی نے ایک جھٹکے سے گردن اٹھا کر اس سمت دیکھا کیونکہ یہ لفظ ماجد اسے بہت پیار سے کہتا تھا. مگر وہاں شناسائی کی کوئی رمق نہ تھی جبکہ ماسی غازی کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیر رہی تھی
وہ غازی کو دیوانہ وار چوم رہی تھی. جس سے وہ شدید تنگی کا شکار ہو رہا تھا مگر اس وقت شور مچانا سراسر بے وقوفی تھی.
میں اپنے پتر کو اپنے گھر لے کر جاؤں گی. اس کی خدمت کروں گی. کچھ دنوں میں یہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا. ماسی نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے غازی سے کہا تو غازی نے دل میں شکر ادا کیا کیونکہ اتنے سارے لوگوں کے درمیان سے بھاگنا مشکل تھا با نسبت ایک بوڑھی عورت کے پاس سے بھاگنا. غازی نے فوراً ہاں میں سر ہلایا تو ماسی نے خوشی سے اس کا ماتھا چوم لیا.
🎭🎭🎭🎭
سٹاپ پر کھڑے ہوئے تقریبا 10 منٹ گزر چکے تھے مگر عزین کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا. میر اب کوفت کا شکار ہونے لگا تھا اس سے پہلے کہ وہ حاشر کو کال کرتا دور سے عزین آتی دکھائی دی.
عزین کو دیکھتے ہی باڈی گارڈ نے تیزی سے دروازہ کھولا تو وہ خاموشی سے اندر آ کر بیٹھ گئی. ساری گاڑی میں بہت ہی خوبصورت خوشبو رچی بسی تھی شاید یہ میر کے پرفیوم کا کمال تھا.
بس جی بڑے لوگ اور بڑی باتیں مہنگے پرفیوم لگاتے ہیں. کئی دن تک خوشبو ہی نہیں جاتی اور ایک ہم غریب لوگ ابھی پرفیوم لگایا نہیں کہ اڑ گیا. عزین نے دل میں سوچا جب کہ میر اسے کافی غصیلی نظروں سے گھور رہا تھا مس عزین آپ کے ہاں وقت کی کوئی اہمیت ہے یا نہیں …… ؟؟ بالاخر میر کا صبر جواب دے گیا تو اس نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اگر گھڑی آپ کی طرح قیمتی ہو تو “ہاں” ورنہ میرے نزدیک وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے. عزین کے جواب پر میر نے اسے چونک کر دیکھا کیا میرا آپ کا مذاق ہے …….؟؟ میر کے لہجے میں تلخی تھی نہیں اور اگر ہوتا بھی تو میں آپ ساتھ نہ کرتی کیونکہ آپ کی حسہ مزاح بہت کمزور ہے بلکہ ہے ہی نہیں. عزین کے جواب پر ڈرائیور اور باڈی گارڈ نے بیک مرر میں اسے گھور کر دیکھا حاشر نے آپ کو بتا تو دیا ہوگا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ……. ؟؟ میر نے بات بدلتے باہر کی طرف دیکھا ہاں کہہ رہے تھے کہ میر صاحب کی بڑی ساری پرسکون گاڑی میں جا کر ایک اچھے سارے ہوٹل میں ایک زبردست سا ڈنر ہے. تم انجوائے کرو گی. عزین کے منہ سے جیسے ہی یہ جملے نکلے میر نے گردن موڑ کر اسے ایسے دیکھا جیسے کچا کھا جائے گا یہ نہیں کہا تھا بلکہ کہا تھا کہ عابد بلڈوز کے آفس جانا ہے اور ان کے رویے کو دیکھتے ہوئے قانونی کاروائی کرنی ہے اگر انہوں نے ہمیں کچھ نہ کہا تو سب ٹھیک ورنہ ہم فائل کریں گے. عزین نے میر کے سخت تیوروں کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے وضاحت دی کیا فائل کریں گے …..؟ ؟ میر نے دہرایا کیس اور کیا اتنا نہیں پتہ آپ کو دیکھنے میں تو اچھے خاصے ذہین لگتے ہیں. اوہ سوری میں تو بھول ہی گئی تھی کہ جیل میں رہتے ہوئے بندے کو کہاں اتنا نالج ہوتا ہے. عزین کے منہ سے جیسے ہی یہ جملہ نکلا گاڑی کو زبردست بریک لگی کہ اس کا سر آگے والی سیٹ سے جا ٹکرایا
او شٹ کتنی گندی ڈرائیونگ کرتے ہیں ……. ؟؟ اپ انہیں کچھ نہیں کہتے. عزین نے اپنا ماتھا سہلاتے میر کی طرف دیکھا
میرے ہاتھوں سے آج تک کبھی کسی عورت کا قتل نہیں ہوا مگر لگتا ہے کہ آج یہ رکارڈ ٹوٹ جائے گا. میر نے اپنے پاکٹ سے پسٹل نکالتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا
شکر ہے کہ میں عورت نہیں ہوں. عزین نے میر کی طرف دیکھتے ہوئے سکھ کا سانس لیا
ابھی کے ابھی گاڑی سے نیچے اترو. اس سے پہلے کہ میں تمہاری لاش کا وہ حشر کروں کہ لوگ پہچانے بھی نہ
میر کے دھاڑنے پر باڈی گارڈ نے فوراً فرنٹ سیٹ سے اترتے ہوئے بیک کا دروازہ کھولا. جیسے ہی عزین گاڑی سے اتری گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی.
میرا شاندار ماضی سب کو بتانے سے پہلے اپنے مستقبل کی فکر بھی کر لیتے. اب دیکھ کے میں تیرا کیا حشر کروں گا …….. ؟؟ چند منٹوں کے اندر اندر تیری اس گھٹیا اسسٹنٹ نے میرا دماغ خراب کر دیا ہے. اب اپنی خیر منا. میر نے عزین کے اترتے ہی حاشر کو میسج سینڈ کیا اور اپنی کنپٹی دبانے لگا کیونکہ آج اس نے حد سے زیادہ برداشت کیا تھا کیونکہ وہ خوش تھا
سر آپ نے مجھے کس پاگل انسان ساتھ جانے کا مشورہ دیا تھا. شکر ہے کہ میری جان بچ گئی اگر میں مر جاتی تو یہ قتل آپ کے سر ہوتا. میں آپ سے سخت ناراض ہوں.
ابھی حاشر میر کا میسج پڑھ ہی رہا تھا کہ عزین کا بھی میسج آگیا
دونوں ہی اپنی جگہ پٹاخہ چیزیں ہیں. اب میں کیا کروں میر صاحب آپ کی ذاتی خواہش تھی اس پھل جھڑی کو ساتھ لے کر جانے کی. حاشر کندھے اچکاتا دوبارہ ٹی وی دیکھنے لگا