Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

تمہیں میں نے منع کیا تھا نا مگر تم اپنے آپ کو بہت ہوشیار سمجھتی ہو ناااا _ بے وقوف لڑکی ہے پھنس گئی ہو نا میر کے جال میں یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں جتنا تمہیں دکھائی دے رہا ہے. حاشر نے اپنے غصے کو دباتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا جو مزے سے پاستہ کھانے میں مصروف تھی.
سر آپ نے مجھے کہا تھا کہ آ کر پاستہ کھا لو مگر آپ پاستہ کے ساتھ ساتھ جو کچھ مجھے کھلا رہیے ہیں وہ مجھے بالکل پسند نہیں آرہا. عزین نے آخری چمچ لگاتے ہوئے پلیٹ صاف کی جبکہ حاشر اس کی بات سے مزید بگڑ گیا.
تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی. میر جو کہتا ہے وہ نہیں کرتا اور جو کرتا ہے وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا. حاشر نے دبا دبا سا غصہ کیا
آپ تو کہہ رہے تھے کہ میر اپنی بات کا بہت پکا ہے. تم جتنا اسے جانو گی تمہیں اس سے اتنی ہی ہمدردی ہوگی. عزین کے یاد دلانے پر حاشر نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے پیچھے ٹیک لگائی.
کیا ہوا ……. ؟؟ عزین نے حاشر کے خاموش ہونے پر پوچھا
تم ایک بہت اچھی وکیل ہو _ حاشر کا جواب عزین کو ہنسنے پر مجبور کر کیا. سر ایسی بھی کوئی بات نہیں میں آپ کی ہی شاگردہ ہوں عزین نے یاد دلایا. میں اس بات پر شرمندہ ہوں حاشر کا موڈ خراب ہو چکا تھا.
سر دیکھیں مجھے تجسس ہے ایک بندہ جو بقول آپ کے اپنی بیوی پر بہت مرتا ہے لیکن اسے قتل کرانا چاہتا ہے. اور اس کی ماں جیل میں ہے جس سے وہ کوئی بات اگلوانا بھی چاہتا ہے مگر اسے جیل سے نکال نہیں رہا.
ان تمام باتوں میں مجھے حیرت صرف اس چیز پر ہے کہ وہ عورت جو اس کی ماں ہے وہ عورت اب تک جیل میں کیوں ہے …… ؟؟
میرا مطلب ہے وہ باہر آنا نہیں چاہتی یا میر اسے باہر آنے نہیں دیتا _ عزین کے ذہن میں جتنے بھی سوال تھے اس نے باری باری سارے حاشر سے پوچھے عزین تم صاف صاف انکار کر دو اور بس حاشر نے جیسے سب چیزوں سے اپنی جان چھڑائی.
سر آپ کو کبھی کسی سے محبت ہوئی ہے. میرا مطلب آپ نے کبھی کسی کو اپنا دل وغیرہ دیا ہے. عزین کا سوال خاصہ غیر متوقع تھا. اس لیے حاشر چونکا
عزین تم ٹھیک ہو نااااا اس پاستہ میں ایسا کیا تھا جو تم بہک رہی ہو ……. ؟؟ حاشر کا انداز طنزیہ تھا. سر میں سیریس ہوں. عزین نے سنجیدگی سے حاشر کی طرف دیکھا دیکھو عزین میں اپنی پرسنل لائف کسی سے شیئر نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کی پرسنل لائف میں انٹرفیئر کرتا ہوں. لہذا تم بھی احتیاط کرو. حاشر کہتا سنجیدگی سے باہر گرتی بارش کو دیکھنے لگا آپ کو بارش پسند ہے …… ؟؟ عزین نے ایک اور سوال کیا. عزین میں کچھ اور کہہ رہا ہوں اور تم کچھ اور پوچھ رہی ہو چلو چلتے ہیں اگر تم بات سننے کے موڈ میں نہیں ہو تو کوئی بات نہیں. حاشر نے کہتے ہوئے چابیاں ٹیبل سے اٹھائی.
سر بتائیں نااااا جو شخص اتنا اچھا دوست ہے وہ کیسے ایک بے غیرت خاوند اور بیٹا ہو سکتا ہے ……. ؟؟ عزین نے حاشر کے پیچھے چلتے ہوئے کہا تو حاشر سر ہلاتا مڑا.
عزین جو عورت جیل میں ہے وہ میر کی ماں تو ہے مگر “سوتیلی” اور جہاں تک بیوی کا تعلق ہے تو وہ راز بھی جلد کھل جائے گا. اب مزید سوال نہیں. حاشر کے چپ کرانے پر عزین خاموشی سے اس کے پیچھے چل دی مگر ذہن منتشر تھا.
🎭🎭🎭🎭
کہاں ہو اتنے دنوں سے کوئی خیر خبر نہیں …… ؟؟ ماجد نے اُس کا میسج پڑھتے ہی موبائل دوبار سائیڈ پر رکھا مگر اب کی بار وہ زورو شور سے بجنے لگا تو اس نے سائیلنٹ پر لگا دیا.
یہ لڑکی صرف میرا دماغ خراب کرتی ہے. جس بات سے منع کرتا ہوں وہی کرتی ہے اب لے مزہ میں کیا کروں …… ؟؟ اُس کی نظر میری تو کوئی ویلیو ہی نہیں ہے. ماجد نے سوچتے ہوئے فائل اپنے آگے کی.
ایک تو غازی پتہ نہیں کدھر رہ گیا ہے. اج پورا ہفتہ ہونے کو آیا ہے مگر حرام ہے کہ اپنے سلامت ہونے کی اطلاع دے. بھلا اتنی جلدی بتائے بغیر وہ مجھے کیسے مر سکتا ہے ……. ؟؟ ماجد نے منہ میں پن دباتے سوچا
سر جی _ حوالدار نے اندر آتے ہی سلوٹ مارا. ہاں بولو ماجد نے بغیر دیکھے پوچھا
سر آپ سے کوئی لڑکی ملنے آئی ہے. جیسے ہی حوالدار کے منہ سے لفظ “لڑکی” نکلا ماجد کی تمام حِسیں بیدار ہو گئیں. سوائے اُس کے کون ہو سکتا تھا…….. ؟؟
وہ ایسے کام کرنے کی ہمت رکھتی تھی گھڑی رات کے 10 بجا رہی تھی اور یہ تھانہ تھا ریسٹورنٹ نہیں. ماجد کے ماتھے پر بے شمار شکنیں نمودار ہوئیں. حوالدار کے جاتے ہی ماجد نے اپنا موبائل پکڑتے اس کا نمبر ملایا.
جب تمہارا اپنا مطلب ہوتا ہے یا تمہیں میری ضرورت ہوتی ہے تب میں یاد آ جاتا ہوں. ویسے تمہاری بلا سے جہنم میں جاؤں ماجد نے کال اٹینڈ ہوتے ہی ناگواری سے کہا جہنم میں تو تم ویسے بھی جاؤ گے. کرتوت دیکھے ہیں اپنے
اُس نے جواب دیتے اپنے بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا.
خبردار جو تھانے کے اندر آئی تو، ابھی کے ابھی باہر نکلو. میں باہر ہی آ رہا ہوں. ماجد نے جلدی سے اپنی چیزیں سمیٹیں.
اچھا ٹھیک ہے لیکن اگر تم میرے میسج کا جواب دے دیتے تو مجھے یوں نہ آنا پڑتا خیر اس کا لہجہ احسان جتلانے والا تھا.
بڑا احسان ہے آپ کا کہ آپ بات مان لیتی ہیں. ماجد نے حساب برابر کیا.
جب تم مجھے آپ کہتے ہو نا تو مجھے تم پر بہت پیار آتا ہے. دوسری طرف سے کھنکتی ہوئی آواز سنائی دی.
تمہیں مجھ پر جتنا پیار آتا ہے. وہ میں اچھی طرح جانتا ہوں. ماجد اب آفس سے باہر نکل رہا تھا.
اچھا بتاؤ ناراض کیوں تھے ……؟ ؟ بڑے مان اور لاڈ سے پوچھا گیا
تمہیں اپنی آخری بیہودہ حرکت شاید یاد نہیں مگر مجھے یاد ہے. وہ تو شکر ہے غازی کی یاداشت عورت کے معاملے میں کچھ اچھی نہیں. ورنہ اسے یاد ہوتا کہ تم میری کیا لگتی ہو ……… ؟؟ماجد نے کہتے ہوئے تھانے سے باہر قدم رکھا اور اس کی تلاش میں نگاہیں گھمائیں.
میں ادھر ہوں
دوسری طرف کھڑی پارکنگ کے بیچ “عزین” نے ہاتھ ہلایا تو ماجد اس سمت چل دیا.
ہاں اب بولو کیا بات ہے ……. ؟؟ ماجد نے قدرے فاصلہ پر کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
کوئی بات نہیں. بس تمہیں دیکھنا تھا. کافی دنوں سے دیکھا نہیں تھا. عزین کی آنکھوں میں شرارت تھی.
عزین بی بی اس دن کیفے ٹیریا میں تم نے میری عزت کا جو جنازہ نکالا تھا نااااا وہ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے. ماجد نے اسے ساتھ چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا.
اچھا سوری نا مجھے کیا پتہ تھا کہ تمہارا دوست وہاں آ جائے گا اور مجھے پہچان بھی لے گا ….؟؟ عزین نے کندھے اچکائے.
میر کے آفس سے ریزائن دے دو. مجھے تمہارا اس کے آفس میں کام کرنا بلکل پسند نہیں. ماجد نے رکتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا
تم یونیفارم میں پیارے لگتے ہو. عزین نے تعریف کی تو ماجد سر جھٹکتا آگے چل دیا.
عزین ماجد کے پکارنے پر وہ اسے دیکھنے لگی. ماجد مجھے بہت سارا روپیہ پیسہ جمع کرنا ہے. بہت سارا عزین کی آنکھوں اور لہجہ میں دولت کا حرص تھا. جسے دیکھتے ہوئے ماجد کچھ دیر کے لیے چپ سا ہو گیا.
اس طرح تو ہماری راہیں جدا ہو جائیں گی. ماجد کی بات پہ عزین نے اسے گھورا.
تم میرا انتظار نہیں کرو گے …..؟ ؟ عزین کے سوال پہ ماجد خاموش رہا.
تمہیں میرا انتظار کرنا ہوگا. آخر تم میرے “منگیتر” ہو. عزین کے جتلانے پر ماجد خاموشی سے اسے دیکھنے لگا جو اس کا کالر پکڑے پوچھ رہی تھی.
اب کیا اپنے سحر میں مبتلا کرو گے یا ہپناٹائز کر رہے ہو …..؟ ؟ عزین نے اس کے آگے چٹکی بجائی تو ماجد نے سر جھٹکتے اپنا کالر اس کے ہاتھ سے آزاد کیا.
غازی کا کچھ پتہ چلا یا نہیں …… ؟؟ ایک تو تم غازی کے لیے یوں پریشان ہوتے ہو جیسے وہ تمہاری محبوبہ ہو. مجھے اس سے جیلسی ہوتی ہے. عزین کی بات پر ماجد ہنسا اور پھر دونوں اپنے اپنے خیالات دوسرے سے شیئر کرنے لگے جب کہ چاند کی چاندنی ان پر مسکرا رہی تھی.
🎭🎭🎭🎭
آپ نے مجھے بلوایا ہے …… ؟؟ غلام علی نے آنکھیں چراتے ہوئے گل بی بی کی طرف دیکھا
تم اتنے دنوں سے کہاں غائب ہو. مجھے نظر ہی نہیں آئے …..؟؟ گل بی بی نے اپنی وہیل چئیر سیدھی کرتے ہوئے پوچھا
گل بی بی آپ کی وجہ سے میر صاحب مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں. انہیں لگتا ہے کہ میں آپ کی برین واشنگ کر رہا ہوں. غلام علی کے بتانے پر گل کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی.
کیا میر کو غلط لگ رہا ہے …… ؟؟ گل کے انداز پر غلام علی نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا مگر پھر فورا بدل لی.
کیوں اپنی اور میری جان کی دشمن بن رہی ہے …..؟ غلام علی نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
میر آفس میں ہے. فکر نہ کرو. ابھی نہیں آئے گا …… ؟؟ گل نے غلام علی کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اسے تسلی دی.
آپ نے کیوں بلوایا تھا ……؟ ؟ غلام علی نے اپنا جملہ دہرایا.
مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میر آج کل کیا کر رہا ہے یعنی اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے…..؟ ؟ گل اب کی بار سنجیدگی سے غلام علی کا چہرہ دیکھنے لگی.
میر پتہ ہی کہاں چلنے دیتے ہے کہ کیا سوچ رہا ہے. بس اتنا کہوں گا کہ میر اب مکمل طور پر ایک “درندہ” بن چکا ہے. وہ کسی کو بھی کبھی بھی مار سکتا ہے. رشتوں کا احترام اور جذبات اس کے اندر باقی نہیں رہے. غلام علی کا چہرہ اداس تھا.
میرا نمبر کب تک آئے گا…..؟ ؟ گل کے پوچھنے پر غلام علی نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں دیکھا
فی الحال تو میرا نمبر ہے. اس سے پہلے آپ کا نہیں آ سکتا. اس لیے جب تک میں سلامت ہوں. آپ بے فکر رہیں. غلام علی نے جیسے تسلی دی.
اگر کسی طرح میر شادی کر لے. تو فیملی کی محبت اسے ان تمام معاملات سے دور رکھ سکتی ہے. دوسرا اس کی فیملی اس کی کمزوری بھی بن جائے گ. ی تو ہمیں آسانی رہے گی. کچھ سوچتے ہوئے گل نے اپنے خیالات کا اظہار کیا.
میر اور اپنی کمزوری کسی کو دے ناممکن غلام علی نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے سر جھٹکا کچھ کرو غلام علی مجھے آپا کو جیل سے باہر نکالنا ہے. گل نے بے بسی سے غلام علی کی طرف دیکھا آج سے پانچ سال پہلے مجھے یہ سب بہت آسان لگ رہا تھا. بلکہ مجھے تو یہ بھی امید تھی کہ میر کو پھانسی ہو جائے گی تو ہم غلام علی نے گل کیطرف دیکھا تو وہ نظریں جھکا گئیں.
ایک معذور عورت کسی کے کیا کام آ سکتی ہے خیر گل نے خود کلامی کرنے والے انداز میں کہا تو غلام علی نے اسے غصے سے دیکھا کیا ہر وقت معذور معذور کی رٹ لگائے رکھتی ہیں. مجھے برا لگتا ہے. غلام علی سے رہا نہ گیا تو کہہ کر وہاں رکا نہیں بلکہ تیزی سے باہر نکل گیا. میر تم ہار جاؤ گے اتنا تیز مت بھاگو کہ پھر چلنے کی ہمت بھی نہ رہے. دیوار پر لگی دیو قامت میر کی تصویر سے گل نے کہا جبکہ وہ دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ میر اپنے موبائل پر اپنے کمرے کی فوٹیج دیکھ رہا ہے اور وہ غداروں کو معاف نہیں کرتا چاہے پھر وہ اس کے وفادار ملازم ہوں یا اس کی من پسند بیوی………. 🎭🎭🎭🎭 سانول تجھے کچھ بھی یاد نہیں رہا ….؟؟ ماسی پھلاں نے محبت سے غازی کے بالوں میں تیل لگاتے ہوئے پوچھا غازی کے لیے بڑی مشکل تھی. ساری زندگی اس نے عورت کو عزت نہ دی تھی مگر اب دینا پڑ رہی تھی. مجھے کچھ یاد نہیں. غازی نے اپنی طبیعت کے برخلاف نرم لہجے میں جواب دیا اگر ماجد دیکھ لیتا تو شاید بے ہوش ہی ہو جاتا. پتر اپنے ذہن پر زور دے شاید تجھے کچھ یاد آ جائے. تو اس صحن میں کس طرح بھاگ بھاگ بنٹے ساتھ کھیلتا تھا اوپر چڑھ کر پتنگیں اڑاتا تھا. ماسی نے اسے یاد دلانا چاہا. جب کہ غازی دل میں استغفار پڑھ رہا تھا کہ وہ کبھی بھی اتنے گندے کھیل کھیل نہیں سکتا. ماسی وہ زریں کہاں ہے …..؟ ؟ غازی نے ماسی کا دھیان ہٹانے کے لیے پوچھا تو ماسی پھلاں مسکرا دیں. کتنی بار کہا ہے کہ میں تیری ماں ہوں ماسی نہیں. پھر کیوں مجھے ماسی پکارتا ہے. ماسی پھلاں نے محبت سے اس کے سر پر ایک تھپ رسید کی. اچھا ٹھیک ہے مگر زریں کہاں ہے ….؟ اسے کہا کریں گھر پہ رہے یوں منہ اٹھا کر ہر جگہ نہ چلی جایا کرے. غازی کی بات پر ماسی مزید مسکرائی تجھے زریں کیسی لگتی ہے ……. ؟؟ ماسی پھلاں نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا تو وہ حیرت زدہ سا ماسی کا چہرہ دیکھنے لگا جو ہزار جھریوں سے بھرا ہوا تھا مگر آنکھوں میں ایک چمک تھی. جیسی ہے بالکل ویسی ہی لگتی ہے. غازی نے کندھے اچکائے. ابھی تو اس کی فکر کر رہا تھا تو مجھے بہت اچھا لگا. پتہ تیرے جانے کے بعد اس بچی نے بہت تکلیفیں برداشت کیں ہیں. اندر باہر کا سارا کام کرتی ہے. پڑھنے کا بہت شوق تھا اسے مگر پڑھ نہیں سکی. اب تو آگیا ہے. تو اپنی ذمہ داریاں سنبھال تاکہ اس بیچاری کو بھی آرام نصیب ہو. ماسی کی بات پر غازی نے اپنا گلا صاف کیا. (اس بوڑھی عورت کو کیا پتہ جسے وہ بیچاری کہہ رہی ہے وہ کیا توپ چیز ہے. غازی دل میں سوچتا سر ہلانے لگا) میرا پاؤں ٹھیک ہو جائے پھر دیکھنا میں کسی کو اس گاؤں میں نظر بھی آگیا تو ……. ؟؟ غازی دیکھ ماسی کو رہا تھا مگر بات خود سے کر رہا تھا. اچھا ایک بات تو بتا تو نے شادی تو نہیں کی شہر میں …..؟ ؟ ماسی چارپائی سے اٹھنے لگی مگر پھر خیال آتے ہی پلٹی اس سے پہلے غازی جواب دیتا زریں چارہ اٹھائے اندر داخل ہوئی. جسے دیکھتے ہی غازی کی نیت بدلی. اس لڑکی کی تو طبیعت ابھی صاف کرتا ہوں. کیا یاد رکھے گی کسی مرد سے پالا پڑا تھا. پتہ نہیں خود کو سمجھتی کیا ہے. جانتی نہیں ابھی مجھے غازی نے زریں کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا جو چارہ ایک طرف پھینک کر درانتی رکھنے لگی تھی.
نہیں بالکل بھی نہیں غازی کی فرمانبرداری قابل دید تھی. چلو شکر ہے. یہ زریں تیری بچپن کی منگ ہے. اب میں تم دونوں کی شادی خوب دھوم دھام سے کروں گی. قریب آتی زری کے کانوں میں جیسے ہی ماسی کے یہ الفاظ پڑھے اس کا رنگ مزید سرخ ہو گیا. ماسی اس سے پوچھ تو لے کہ کہیں شادی شدہ تو نہیں…..؟ ؟ زریں نے خشمگین نظروں سے گھورتے ہوئے کہا تو ماسی مسکرا کر اس کی طرف پلٹی. پوچھ لیا ہے کہہ رہا میں نے شادی نہیں کی. ماسی بتاتی وہاں سے چلی گئی جب کہ زریں نے غازی کی طرف قدم بڑھائے جو بڑے مزے سے تکیے ساتھ ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا. ایک منٹ لگے گا اور تیری گردن الگ ہو جائے گی. اچانک زریں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی لکڑی کی درانتی غازی کی گردن ساتھ رکھی تو وہ ہل نہ سکا تیری معلومات میں اضافے کے لیے عرض ہے کہ پچھلے سال ہمارا بیل بیمار ہو گیا تھا اور رات کی وجہ سے کوئی ہمیں ملا نہیں تو میں نے ہی اسے ذبح کیا تھا اگر میں ایک بیل ذبح کر سکتی ہوں تو تیری یہ مرغے جیسی گردن نہیں. زریں کے تیور غازی کے ہوش اڑا گئے اسے اس دیہاتی لڑکی سے ایسی امید نہ تھی. دیکھو میری بات سنو
غازی نے ہاتھ سے درانتی پیچھے کرنے کی کوشش کی تو زریں نے اور دبا بڑھا دیا.
بکواس نہیں، میں جانتی ہوں کہ تم سانول نہیں اور یہی بات تم بھی اچھی طرح سمجھ لو. جب تم سانول نہیں تو میں تمہارے ساتھ شادی کیوں کروں …..؟ ؟
اب تم سوچو کہ بغیر ٹانگ، پاؤں یا ہاتھ کے تم کیسے لگو گے ….؟؟ یقیناً برے _ ذریں کہتی پیچھے ہٹی تو غازی نے لاشعوری طور پر اپنے زخمی ہاتھ اور پاؤں کی طرف دیکھا اور جھرجھری لی. جیسا کہا ہے ویسا کرو اور چلتے بنو زری وارننگ دیتی چل پڑی.
توبہ ہے غازی نفی میں سر ہلاتا دوبارہ لیٹ گیا. 🎭🎭🎭🎭 ہاں بولو
میر نے مصروف سے انداز میں کال اٹینڈ کی.
میر صاحب میں حاشر نہیں عزین ہوں. مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی. آپ کے اس خوبصورت پروپوزل کے بارے میں _ عزین نے ساتھ ہی یاد دہانی کرائی تاکہ وہ کال کاٹ نہ دے جو بھی بات کرنی ہے حاشر سے کر لو اور دوبارہ اس کے نمبر سے مجھے کال مت کرنا. میر کے لہجے میں وارننگ تھی. بات تو آپ کو ہی سننا پڑے گی. ورنہ میں آپ کا کام نہیں کروں گی. عزین نے دھمکی دی. دھمکی کسے دے رہی ہو …… ؟؟ میر نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے میز پر مکا مارا دھمکی نہیں دے رہی بتا رہی ہوں. عزین کا کانفیڈنس قابل دید تھا. بولو مگر جلدی میر نے اکتاہٹ سے پوچھا
یہ جو آپ نے کہا تھا نا کہ جھوٹی موٹی شادی کرنی ہوگی مجھے بس اس پر اعتراض ہے. عزین کے جملے پر میر کو حیرت ہوئی مگر وہ خاموش رہا.
میں جھوٹی موٹی شادی نہیں کرنا چاہتی. عزین نے اپنی بات مکمل کی.
دیکھو لڑکی تمہیں گھر میں داخل کرنے کے لیے مجھے یہ جھوٹ تو بولنا پڑے گا. اس لیے تمہیں بھی ایکٹنگ کرنا پڑے گی. یہ پلان کا حصہ ہے. میر نے ٹہلتے ہوئے کہا
آپ کی باقی باتیں تو ٹھیک ہیں مگر میں اصلی شادی کرنا چاہتی ہوں. عزین کے جملے پر ٹہلتے میر کے قدم اپنی جگہ جم گئے.
دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ……؟ ؟ میر دھاڑا.
دماغ کا پتہ نہیں نیت ضرور خراب ہے. عزین کا جواب میر کے غصے میں اضافہ کر گیا.
بہت ہی گری ہوئی لڑکی ہو. میر نے حقارت سے کہا
کہہ سکتے ہیں مگر میں صرف اسی صورت میں آپ کا ساتھ دوں گی جب آپ مجھ سے اصلی نکاح کریں گے. عزین اپنی بات پر قائم تھی.
ٹھیک ہے ایک شرط تم نے رکھی ہے. اب ایک شرط میں بھی رکھوں گا. میر کے چہرے پر ایک پراسرار سی مسکراہٹ ابھری.
کیا ……؟ ؟ عزین نے بے چینی سے پوچھا
اتنی بے چینی اچھی نہیں عزین بی بی!!! تھوڑا انتظار کریں میر نے کہتے کال کاٹ دی. تو عزین نے حاشر کی طرف دیکھا.
کیا کہا ……؟ ؟ حاشر نے پوچھا
وہ تو مان گئے ہیں. عزین خود بھی بے یقین تھی.
ناممکن ___
حاشر نے مکا دیوار پر مارا.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.