Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم اتنی دیر کیوں کر رہے ہو. آخر تمہیں کس کا انتظار ہے …… ؟؟ غازی کا صبر اب جواب دے گیا تھا.
میرے مینیجر کو کال کرو. میری گاڑی منگوا کے دو. مجھے اب یہاں نہیں رہنا. مجھے یہاں سے جانا ہے ہر صورت _ غازی نے بے بسی سے اپنے قریب پڑے ہوئے تکے کو اچھال کے ماجد کی طرف پھینکا. زی تجھے کیا ہو گیا ہے. بات سمجھنے کی کوشش کر میں فلحال تجھے میڈیا کی نظر سے بچانا چاپتا ہوں. اگر تیرے مینیجر کو کال کی تو سمجھ بات پھیل جائے گی. زرا صبر سے کام لے، میں بات کر رہا ہوں. ماجد نرمی سے کہتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا.
بھابی اتنی جلدی شادی کی شاپنگ ممکن نہیں. آپ ایسا کریں کہ ہمارے ساتھ چلیں اور اپنی پسند کی شاپنگ کر لیں. ماجد کی آفر پر ماسی پھلاں اس کے صدقے واری جانے لگی.
ماسی چھوٹی اور جھوٹی باتوں پر یوں صدقے واری نہیں جاتے. زریں نے غصے سے ماسی کی طرف دیکھا تو ماجد نے اپنا گلاصاف کیا.
ٹھیک ہے اگر تم لوگ ان سب چیزیں کا بندوبست نہیں کر سکتے تو جاؤ اور بعد میں دھوم دھام سے بارات لے کر آنا. میں انتظار کر لوں گی. زریں کے جواب پر ماجد نے سکھ کا سانس لیا.
ارے اگر یہ لوگ واپس نہ آئے تو زریں توُ کیا کرے گی ….؟؟ رجو کو ٹنشن ہوئی.
حوصلہ رکھ، میں نے سب سوچ رکھا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں زریں کے جواب پر ماسی منہ بنا کر بیٹھ گئی جبکہ باقی عورتیں اور لڑکیاں کھسر پھسر کر رہیں تھیں. چل مسئلہ حل ہو گیا ہے …..؟ ؟ ماجد نے کہتے ہوئے غازی کے جوتے سیدھے کیے کیسے …..؟؟ غازی نے پاؤں نیچے اتارتے ہوئے پوچھا وہ نہیں جا رہی ہے. کہتی جب ٹھیک ہو جائے گا تب بارات لے آئے. اب یہ لوگ کی قسم کا کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے اور ہم آسانی سے گاؤں سے نکل جائیں گے. ماجد نے بتاتے ہوئے غازی کی طرف دیکھا جو سخت تیوروں سے اسے گھور رہا تھا. میں تو اسے چھوڑ کر نہیں جاؤں گا. وہ کیا سمجھتی ہے اتنا تماشہ لگانے کے بعد میں اسے یہاں رہنے دوں گا. وہ میرے ساتھ ہی جائے گی ہر قیمت پر، ابھی اور اسی وقت
غازی کی بات پر ماجد نے اپنا سر پکڑ لیا.
غازی چھوڑ نااااا ہر بات کو انا کا مسئلہ نہیں بناتے. معاملہ حل ہو گیا ہے. اب کیوں بات کو بڑھا رہا ہے …..؟ ؟ ماجد نے بےبسی سے غازی کی طرف دیکھا
مجھے تو تم دونوں کی ہی سمجھ نہیں آرہی ہے. ایک راضی ہوتا ہے تو دوسرا بگڑ جاتا ہے. دوسرے کو سیٹ کرو تو پہلا ناراض ہو جاتا ہے. تم دونوں نے جو کرنا ہے کر لو پھر مجھے بتا دینا. ماجد نے ہاتھ نے ہار مانتے ہوئے ہاتھ کھڑے کیے.
تو ایسا کر کے ماسی پھلاں کو بلا کر دے. میں خود اس سے بات کرتا ہوں. غازی نے اپنے کپڑے درست کرتے اے ہوئے کہا تو ماجد نا چاہتے ہوئے بھی چل دیا.
دیکھیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور میری دیکھ بھال کے لیے شہر میں بھی کوئی موجود نہیں. ایسی حالت میں مجھے بیوی کی کتنی ضرورت ہے …. ؟؟ غازی کی مسکین صورت اور ڈرامے بازی پر ماجد دل میں اش اش کر اٹھا جبکہ ماسی پھلاں نے غازی کا کندھا تھپکتے ہوئے اندر کا رخ کیا.
تجھے کب سے بیوی کی ضرورت پڑنے لگی. ُتو تو اس نام کی مخلوق سے سخت چڑتا تھا. ماجد نے غازی کی طرف دیکھتے ہوئے طنز کیا
چڑتا تو میں ابھی بھی ہوں مگر کیا کروں کچھ حساب بھی برابر کرنے ہیں اور تو جانتا ہے کہ غازی حساب کا کتنا پکا ہے. غازی نے مسکراتے ہوئے آنکھ ماری تو ماجد نے سر نفی میں ہلایا
میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ تو ایک مصیبت کو لے کر جا رہا ہے اور دیکھنا تو کتنا پریشان ہوگا. تجھے جو ابھی صرف فنٹسی لگ رہی ہے یہ تیرے گلے نہ پڑی تو مجھے کہنا. ماجد کی بات پر غازی مسکرانے لگا
دیکھ زریں ضد چھوڑ دے. تجھے اللہ کا واسطہ ہے. میں تیرے پاؤں کو ہاتھ لگاتی ہوں. تو غازی ساتھ چلی جا ورنہ گاؤں میں میری کیا عزت رہ جائے گی. دیکھ اگر تو نے آج میری بات نہ مانی تو میں تجھے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی. ماسی نے آخر میں دھمکی لگائی تو زریں ہنس دی
آپ نے مجھے اپنا دودھ پلایا ہی کب ہے …… ؟؟ میں تو گائے، بھینس اور بکریوں کا دودھ پی کر بڑی ہوئی ہوں. غازی کے جواب پر ماسی نے مدد طلب نظروں سے آس پاس بیٹھی عورتوں اور لڑکیوں کی طرف دیکھا
چل زریں ضد چھوڑ دے. ماسی ٹھیک کہہ رہی ہے. ایسے اچھا نہیں لگتا خوامخواہ ضد نہیں کرتے. آہستہ آہستہ تمام عورتوں نے بولنا شروع کیا تو زریں کو نہ چاہتے ہوئے بھی ہار ماننا پڑی.
اس لنگڑے کا تو میں وہ حال کروں گی کہ یہ ساری زندگی مجھے یاد رکھے گا. زری نے مجبوراً ساتھ جانے کی حامی تو بھر لی مگر اس نے دل میں تہیہ کر لیا تھا کہ وہ غازی کو چین سے نہیں رہنے دے گی اور بالآخر وہ تنگ آ کر اسے خود ہی گاؤں چھوڑ جائے گا.
🎭🎭🎭🎭
🌹ماضی ………
میر نے جیسے ہی حویلی کے اندر قدم رکھا ایک شورو غل نے اس کا استقبال کیا. کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی. پہلے تو اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے……. ؟؟ مگر سب کے منہ سے آغا جان کا نام سن کے اسے گڑبڑ کا شدید احساس ہوا تو اس نے آغا جان کے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی.
آغا جان کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا. اان کے آس پاس چیزیں بکھریں اور بے ترتیب پڑیں تھی. آغا جان کے چہرے پہ چادر تھی اور سردار بیگم ان کے سرہانے نوحہ کنعاں تھیں. یہ منظر دیکھ کر میر کی روح کانپ گئی.
آغا جان کو کیا ہوا ہے. ابھی تو یہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھے. مجھ سے باتیں کر رہے تھے. لان میں جانے سے پہلے میں ان سے مل کر گیا تھا. آپ سب کیوں رو پیٹ رہیں ہیں. میر کا دل ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ آغا جان اس دنیا میں نہیں رہے.
وہ اب ہم میں نہیں رہے. میر نے آگے بڑھتے ہوئے آغا جان کے چہرے سے چادر اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو سردار بیگم نے اس کا ہاتھ تھام لیا
مجھے دیکھنے دیں کہ آغا جان کو کیا ہوا ہے …..؟ ؟ ابھی تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھے. میر نے کہتے ہوئے آغا جان کے چہرے سے چادر اتاری تو ان کا رنگ متغیر ہو رہا تھا
آغاجان کے پاس آخری وقت میں کون تھا …..؟؟ میر نے اچانک چیختے ہوئے پوچھا تو قریب کھڑی ملازمہ نے شیر علی کا نام لیا. شیر علی کا نام آتے ہی میر کے جسم میں انگارے بھرنے لگے جبکہ سردار بیگم نے اسے گھور کر دیکھا
یہ ملازمہ جھوٹ بول رہی ہے. آخری وقت میں، میں آغا جان کے پاس تھی. سردار بیگم نے فوراً ا میر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اچھااااااااااااا تو پھر یہ کیا ہے ……. ؟؟ میر نے آغا جان کی کلائی میں بندھی گھڑی کی طرف اشارہ کیا جس کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا.
تمہاری اس بات کا کیا مطلب ہے. تم مجھ پر شک کر رہے ہو. مجھ پر سردار بیگم نے چیختے ہوئے اپنے سینے پر انگلی رکھی تو میر طنزاً ہنس دیا.
میں کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا. مجھ سے کوئی امید نہ رلھے. جس کی وجہ سے میں آپ سب لوگوں کا لحاظ کرتا تھا وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا اور میرے آغا جی کا قتل ہوا ہے. میر کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں تھیں.
میر بغیر سوچے سمجھے ایسی باتیں نہیں کرتے. یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں ہے. غلام علی نے نرمی سے میر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو میر نے بری طرح اس کا ہاتھ جھٹک دیا.
مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے یا تو سردار بیگم نے قتل کیا ہے اور یا شیر علی نے
میں تب تک آغا جان کا جنازہ نہیں اٹھاؤں گا جب تک ان دونوں کو پولیس کے حوالے نہ کر دوں. میر کا لہجہ حتمی تھی.
تم ہمیں پولیس کے حوالے تب کرو گے نا جب خود اس قابل بچو گے. شیر علی نے اندر داخل ہوتے ہوئے گن میر پر تانی
شیر علی گن نیچے کرو. تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے. سردار بیگم نے آس پاس کھڑے ملازموں اور لوگوں کو دیکھتے ہوئے شیر علی کو ڈانٹا ہے.
اسے لگتا ہے کہ گن صرف اسے چلانا آتی ہے. میر نے کہتے ہوئے پاس کھڑے ملازم سے گن لی.
یہ آپ دونوں کیا کر رہے ہیں. کچھ تو شرم کریں. آغا جان کا ہی خیال کر لیں. گل نے اندر آتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھا
گل آگے سے ہٹ جاؤ. آج میں اس میر کو نہیں چھوڑوں گا. شیر علی نے کہتا میر کا نشانہ لیا. اب صورتحال یہ تھی کہ کچھ ملازم میر جبکہ کچھ شیر علی کی طرف کھڑے تھے. گل نے بے بسی سے اس سارے تماشے کو دیکھا
میر تم ہی ہوش سے کام لو اگر شیر علی کا دماغ کام نہیں کر رہا. تو تم تو ایسی بچگانہ حرکت مت کرو. یہ کھلونا نہیں ہے. اب کی بار گل نے میر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا تو میر نے گن کا رخ گل کی طرف کر دیا
تم بھی ان سب جیسی ہو. تم سب نے مل کر ایک سازش کے ذریعے مجھے کمرے سے باہر نکالا تھا. گل تم بھی انہی میں سے ہو اور میں تمہیں اچھا سمجھتا رہا. تم نے میرے اعتماد کی دھجیاں اڑا دیں. میں تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا. میر نے گن لوڈ کی.
(سردار بیگم نے میر کو گل کے ساتھ انگیج ہوتا دیکھ کر شیر علی کو آنکھ سے اشارہ کیا. جس پر شیر علی نے اپنی گن لوڈ کرتے ہوئے میر کا نشانہ لیا مگر بدقسمتی سے گل نے دیکھ لیا.)
شیر علی پلیززز گل نے کہتے ہوئے قدم شیر علی کی طرف بڑھائے. اب گل، میر کی ڈھال تھی. گل کو مان تھا کہ شیر علی اب فائر نہیں کرے گا. اور پھر وہ ہوا جس کے بارے میں کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا. شیر علی نے بغیر سوچے سمجھے گل پر فائر کر دیا اور میر نے موقع کا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیر علی پر گولی چلا دی. جس حویلی میں کبھی پولیس نے قدم نہیں رکھا تھا. آغا جان کے جاتے ہی وہاں پر اب بھاری نفری تھی کیونکہ دو نہیں تین چار قتل ہوئے تھے. شیر علی اور میر کے حمایتی ملازموں اور گارڈز نے بھی ایک دوسرے پر دل کھول کر اپنی حسرتیں نکالیں. شیر علی تو مر گیا تھا مگر میر کسی بھی صورت سردار بیگم کو معاف کرنے کو تیار نہیں تھا. حاشر کے بہت سمجھانے کے باوجود بھی اس نے خود بھی گرفتاری دی اور سردار بیگم پر بھی ایف آئی آر کٹا دی. جس حویلی کے لیے ہزاروں دعویدار موجود تھے. آج وہ حویلی بے وارث پڑی تھی. گل ہسپتال میں تھی. سردار بیگم اور میر جیل میں، صرف ایک اکیلا غلام علی سب کے پیچھے بھاگ رہا تھا 🎭🎭🎭🎭 گڈ مارننگ
میر اور عزین کو ایک ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر آتا دیکھ کر گل نے کہا تو حسب عادت میر جواب دیتا گل کا ماتھا چوم کر کرسی پر بیٹھ گیا. جس پر عزین کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
عزین بی بی!!! یہاں تو بہت بڑی فلم چل رہی ہے. ایک طرف تو یہ شخص اس کے صدقے واری جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف مجھے اس کی مخبری پر لگایا ہوا ہے. مجھے تو اب تک یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اس کہانی کا ہیرو کون ہے اور ولن کون ….؟؟ عزین دل میں سوچتی کرسی گھیسٹ کر بیٹھ گئی.
ارے یہ تو پہلے دن کی دلہن ہی نہیں لگ رہی تھوڑا سا تو تیار ہو جاتی. میر کو اچھا لگتا. گل نے عزین کے سادہ سے چہرے کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگانا چاہا کہ آیا وہ خوش ہے یا نہیں.
گل مجھے میری بیوی ایسے ہی اچھی لگتی ہے. سادہ سی پیاری سی، آپ کو پتہ ہے کہ مجھے بناوٹی چیزیں بالکل پسند نہیں. اس سے پہلے کہ عزین جواب دیتی میر نے بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے جواب دیا تو اسے کھانسی شروع ہوگی کیونکہ ذہن میں کچھ دیر پہلے کی ریل چل پڑی تھی.
تمہیں کیا ہوا ……؟ ؟ یہ لو جوس پیو. میر نے فوراً عزین کی طرف جوس کا گلاس بڑھایا تو اس نے چپ چاپ تھام لیا. یہ منظر بڑے غور سے گل نے دیکھا
گل میرے پاس تو وقت نہیں ہوتا مگر میں سوچ رہا تھا کہ اب عزین آپ ساتھ ڈاکٹر پاس چلی جایا کرے گی. جیسے ہی میر نے یہ جملہ ادا کیا گل کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا.
میر میں نے تمہیں کتنی بار منع کیا ہے کہ مجھے چیک اپ نہیں کرانا. میں اپنے حال میں بالکل خوش ہوں تم کیوں میرے پیچھے پڑے ہو …..؟ ؟ گل نے ناراضگی سے میر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ عزین بڑی رغبت سے ناشتہ کر رہی تھی.
گل آپ خوش ہوں گی مگر میں نہیں. مجھے بہت حسرت ہے. میں آپ کو پہلے کی طرح چلتا پھرتا دیکھوں. میر نے محبت سے گل کی طرف دیکھتے ہوئے چائے کا سیپ لیا
جب میں خوش ہوں تو تمہیں کیا مسئلہ ہے. میں نے اپنی زندگی سے سمجھوتہ کر لیا ہے. مجھے اپنی زندگی اب ایسی ہی ٹھیک لگتی ہے.
تم لوگوں کی ابھی نئی زندگی شروع ہوئی ہے. گھومو پھرو، کھاؤ پیو، شاپنگ کرو. میری ٹینشن مت لو. گل نے فوراً بات بدلتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا جو بھرپور طریقے سے ناشتے سے انصاف کر رہی تھی.
زندگی میں پہلی بار ناشتہ کر رہی ہو ….؟؟ میر نے عزین کو اتنے انہماک سے ناشتہ کرتا دیکھ کر طنز کیا.
اپنا جملہ تھوڑا سا ٹھیک کر لیں. میں زندگی میں پہلی بار آپ ساتھ ناشتہ کر رہی ہوں. عزین نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پرسجاتے ہوئے جواب دیا تو میر ہاتھ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا.
گل آپ عزین کو وہ تمام کام سونپ دیں جو اب تک آپ کرتیں تھیں. تمام ذمہ داریاں سمجھا دیں اور خود صرف آرام کریں. میر نے عزین کو گھورتے ہوئے گل سے کہا
آج تو کم از کم چھٹی کر لو _ گل کے کہنے پر میر ہنس دیا. دوپہر میں ملتے ہیں. آج میں جلدی گھر آ جاؤں گا کیونکہ اب تو گھر جلدی آنے کی وجہ مل گئی ہے. میر کے جواب پر گل مسکرا بھی نہ سکی. 🎭🎭🎭🎭 گاڑی گاؤں کی کچی پکی سڑکوں سے ہوتی ہوئی اب شہر کی طرف گامزن تھی جبکہ زریں کا شدید موڈ خراب تھا اور غازی پرسکون سا ٹیک لگائے بیٹھا تھا. ہم کب تک پہنچ جائیں گے …..؟ ؟ زندگی میں پہلی بار زری نے گاؤں سے باہر سفر کیا تھا مگر اب اس کا سر چکرانے لگا تھا. بس تھوڑی دہر میں ہم ہسپتال پہنچ جائیں گے. آپ کو کوئی چیز چاہیے ……؟ ؟ ماجد جو ڈرائیور ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا غازی کے خاموش رہنے پر بول پڑا. ہم ہسپتال کیوں جائیں گے. تم ایکسیڈنٹ کرنے لگے ہو. کیا تمہیں گاڑی نہیں چلانا نہیں آتی. احتیاط سے گاڑی چلاؤ. میں نے ہسپتال نہیں جانا میرا سر گھوم رہا ہے میں نے آرام کرنا ہے. زریں کے جواب پر غازی جو آنکھیں موندے لیٹا تھا ہنس پڑا. اور کرو ہمدردی، مزہ آیا. یہ وہ مخلوق نہیں ہے جس سے ہمدردی کی جائے. غازی نے آنکھیں کھولتے ہوئے ماجد کو بیک مرر میں دیکھا یہ ساری بکواس تم نے میرے بارے میں کی ہے اور اگر جاگ رہے تھے تو جواب کیوں نہیں دیا. میں نے تم سے پوچھا تھا …..؟ ؟ زری نے غازی کی ٹانگ پہ ہاتھ مارتے ہوئے غصے سے پوچھا خبردار جو آج کے بعد مجھ پر ہاتھ اٹھایا تو، میں تمہارے ہاتھ توڑ دوں گا. یہ تمہارا گاؤں نہیں ہے. سمجھی غازی نے غصے سے زری کا ہاتھ مڑوڑا تو اس کی چیخ نکل گئی.
غازی یار یہ کیا کر رہا ہے …..؟ ؟ کچھ تو خدا خوفی کر، گاڑی ہے. ماجد نے پیچھے مرتے ہوئے یاد دلائی
میں تم دونوں پر پرچہ کرا دوں گی کہ تم لوگوں نے مجھے اغوا کیا ہے. چکی پیسوں کے جیل میں ساری زندگی زری نے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے کہا تو غازی نے ہنستے ہوئے بازو چھوڑ دیا. میڈم یہ جس گاڑی میں ہم سفر کر رہیں ہیں نا اسے پولیس موبائل وین بولتے ہیں اور یہ جو اگلی سیٹ پر بندر بیٹھا ہوا ہے نااااا یہ بذات خود ایک پولیس افسر ہے مگر لگتا نہیں. غازی نے لگے ہاتھوں ماجد کو بھی لتاڑ دیا برائے مہربانی اپنے میاں بیوی کی لڑائی میں مجھے سائیڈ پر ہی رہنے دو اور یہ جو بندر فرینڈ سیٹ پر بیٹھا ہے نااااا اسی کی وجہ سے تم یہاں تک پہنچے ہو مگر تم ہو ہی احسان فراموش ماجد جواب دیتا باہر دیکھنے لگا
ہاں یہ تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ یہ شخص احسان فراموش ہے ___
پہلی بار زری نے ماجد کی حمایت کی.
بہت شکریہ بھابی جان کے آپ کو بھی میری کوئی بات درست لگی. ماجد نے طنزاً شکریہ ادا کیا.
میرے صاحب کو میرے آنے کی اطلاع کر دین. ا وہ میری وجہ سے پریشان ہوں گے. غازی نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا
اب یہ میر کیا چیز ہے …..؟ ؟ زری سے خاموش نہیں رہا گیا تو وہ بیچ میں بول پڑی
آپ یوں سمجھ لیں کہ وہ آپ کے سسر جی ہیں یعنی آپ کے سسرال میں صرف ایک ہی بندہ ہے. جسے میر بولتے ہیں. ماجد کے جواب پر غازی اسے گھورنے لگا جبکہ زری نے نہ سمجھی سے غازی کی طرف دیکھا
تم نے تو کہا تھا کہ تم شہر میں اکیلے ہوتے ہو. ہائے میرے ساتھ دھوکا ہو گیا، فراڈ ہو گیا ہے. تم نے مجھ سے جھوٹ بول کر شادی کی. اب میں کیا کروں …… ؟؟ زری نے باقاعدہ اونچی آواز میں بین ڈالنا شروع کر دیا
تم فی الحال اپنا منہ بند کرو. یہ نہ ہو کہ میں تمہیں گاڑی سے باہر پھینک دوں اور تمہیں کوئی اٹھا کر لے جائے. پھر ساری زندگی اپنی ماسی کا منہ دیکھنے کو ترسنا. غازی نے انگلی اٹھاتے ہوئے زری کی طرف دیکھا تو وہ خاموش ہو گئی. جبکہ ماجد کو غازی کا یہ انداز برا لگا
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.