Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
واہ عزین!!! آج تو تو کمال لگ رہی ہے. اسے کہتے ہیں پیسے کا کمال _ قیمتی کپڑے اور ماہر بیوٹیشن کا میک اپ …..؟ ؟ عزین نے خود کوششیے میں دیکھتے ہوئے سراہا میڈم اگر کوئی تبدیلی وغیرہ کرنی ہو تو بتا دیں ہم نہیں چاہتے کہ سر میر سے ہمیں ڈانٹ پڑے. عزین کے ارد گرد کھڑی پارلر لباس میں ملبوس دو تین لڑکیاں میں سے ایک نے کہا (مگر میری تو دلی خواہش ہے کہ تم سب کو میر سے ڈانٹ پڑے. عزین نے بظاہر ہلکی مسکراہٹ ساتھ سب کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا) نہیں بس ٹھیک ہے عزین کا انداز احسان جتلانے والا تھا.
سر آ جائیں تو آپ دونوں کا فوٹو شوٹ سٹارٹ کریں. پارلر کی اونر نے سامنے صوفے پر عزین کو اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بتایا تو خوشی سے عزین کی گالیاں چمکنے لگیں.
ہائے اللہ جی اپ کتنے اچھے ہیں. گولڈن اف وائٹ لہنگے میں عزین بہت خوبصورت لگ رہی تھی.
میں ابھی ماجد کو اپنی تصویر بھیجتی ہوں. کہہ رہا تھا کہ پیسے سے انسان میں کوئی فرق نہیں پڑتا. آپ خود دیکھ لے کہ کتنا فرق پڑتا ہے…..؟ ؟ عزین سوچتے ہوئے اپنے موبائل سے سیلفی لینے لگی تبھی میر اندر داخل ہوا.
میر کے احترام میں پالر میں موجود تمام عملہ احتراماً کھڑا ہو گیا. مخصوص خوشبو محسوس کرتے عزین نے موبائل سے نظر ہٹا کر سامنے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی کیونکہ میر اسے ہی دیکھ رہا تھا. نظروں میں ستائش تھی.
مجھے بیوٹیشن کی یہ بات بہت پسند ہے کہ معمولی شکل صورت کو بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی مگر اچھا خاصا حور پری بنا دیتے ہیں.
اب تم اپنی مثال ہی لے لو! آفس میں میرا تمہاری شکل دیکھنے کو دل نہیں کرتا تھا مگر فی الحال تم مجھے اچھی خاصی خوبصورت لگ رہی ہو اور میں یہی چاہتا تھا. میر نے عزین کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا تو عزین نے گردن موڑ کر اسے حیرت سے دیکھا
آپ ایسا کیوں چاہتے تھے …..؟؟ عزین کے منہ سےبےساختہ نکلا
کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری سوتن اور میری بیوی تمہیں دیکھ کر اپنے ہوش گواہ بیٹھے. میر کے لبوں پر پراسرار مسکراہٹ تھی. تبھی کیمرے مین ان کے سامنے ان کھڑے ہوئے.
چلو اٹھو اب اچھی دلہنوں کی طرح میرے ساتھ فوٹو شوٹ کروا لو. تمہاری “حسرت” پوری ہو جائے گی اور میری “سازش” میر نے آخری لفظ دل میں دہرایا.
جو بھی تھا مگر یہ سب عزین کو بہت اچھا لگ رہا تھا اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سب بھی ہو گا
کیمرہ مین اور پارلر کا سٹاف سب ہی اس جوڑی کی بہت تعریف کر رہے تھے اور بظاہر میر بہت خوش اور مطمئن دکھائی دے رہا تھا. جیسے یہ شادی اس نے اپنی پسند سے اور اپنے لیے کی ہو. جس پر عزین حیران تھی.
نکاح والے دن تو جناب کا منہ سوجا ہوا تھا. اتنی بے دردی سے نکاح نامے پر سائن کیا تھا جیسے کوئی فالتو پیپر ہو اور آج کیسے بیہیو کر رہے ہیں …..؟ ؟ عزین شدید حیران تھی.
پالر سے نکلتے ہوئے باقاعدہ میر نے عزین کے سر سے نوٹوں کی گڈی وار کر وہاں کے نچلے سٹاف کے ہاتھ تھما دی. میر کا ہر انداز ہی حیران کن تھا.
پارلر سے باہر نکلتے ہی پھولوں سے سجی لینڈ کروزر اس کا انتظار کر رہی تھی. میر نے اتنے گارڈز کی موجودگی کے باوجود بھی عزین کے لیے گاڑی کا دروازہ خود کھولا اور اس سے بیٹھنے کا اشارہ کیا.
عزین بی بی!!! تو مان یا نہ مان مگر گیم بہت بڑی ہے. یہ شخص جو بغیر مطلب کے کسی کے سلام کا جواب نہیں دیتا تیرے لیے دروازہ کھول رہا ہے یہ قیامت کی نشانی ہے. عزین نے دور کھڑے میر کو دیکھتے ہوئے سوچا جو اپنے گارڈز اور ڈرائیور کے ساتھ کھڑا نہ جانے کیا باتیں کر رہا تھا.
کہیں یہ اپنی بیوی کا قتل میرے ہاتھوں تو نہیں کروانے لگا یا بیوی کے قتل کے الزام میں مجھے جیل تو نہیں بھجوا دے گا. خیر جیل تو مجھے جانا پڑے گا آخر اس کی ماں سے سچ بھی تو پوچھنا ہے. عزین گیم کے تانے بانے بن رہی تھی جب اس کے برابر میر آن بیٹھا.
دیکھو حاشر کی اسسٹنٹ گھر میں میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے اس لیے جو تین باتیں میں تمہیں ابھی کہہ رہا ہوں ان پر عمل کرنا. دوسری صورت میں تم اس زمین کے اوپر دکھائی نہیں دو گی. میر کا لہجہ ایک دم سخت اور چہرہ ہر تاثرات سے بے نیاز تھا.
میں ابھی آپ کے بارے میں اچھا سوچنے ہی لگی تھی کہ آپ دوبارہ اپنے پہلے روپ میں لوٹ گئے. کم از کم مجھے منہ دکھائی تو دے دیتے. میری پہلی شادی ہے مانا کہ آپ کی دوسری ہے. عزین کا لہجہ طنز بھرا تھا.
پہلے تو عظیم بی بی آپ اپنی اصلاح کر لیں یہ شادی نہیں ایک معاہدہ ہے اور دوسرا یہ کہ منہ دکھائی ا ہی آپ کو دے رہا ہوں. میری بات غور سے سنیں. مجھے دہرانے کی عادت نہیں. میر انتہا درجہ کا سنجیدہ تھا.
تم نے میری بیوی سے دوستی کرنی ہے اور اسے اس چیز کا احساس دلانا ہے کہ ہماری شادی “محبت” کی ہے اور یہ کہ میں ان سے جھوٹ بول رہا ہوں کہ یہ شادی میں نے “اُن” کے لیے کی ہے جیسے ہی میر نے یہ جملے ادا کیے. عزین منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی اور گاڑی میں اس کی ہنسی اور چوڑیوں کی جھنکار نے عجب سے سماں باندھ دیا.
محبت ہنستے ہنستے عزین نے دہرایا تو میر اس سے نگاہ چرا کر باہر دیکھنے لگا
سوری میں آپ جتنی اچھی ایکٹر نہیں ہوں مگر کوشش کروں گی کہ آئندہ ایسا نہ ہو. میر کو انتہائی سنجیدہ دیکھ کر عزین نے معزرت کی.
دوسرا تم میرے تمام چھوٹے بڑے کام، گھر کا انتظام، گل کے سامنے خود کیا کرو گی گل کو نہیں کرنے دو گی. اب کی بار عزین نے فرمانبرداری سے صرف سر ہلایا
تیسرا تم گل سے اس کے ماضی کے بارے میں ایک ایک بات پوچھو گی اور وہ جیسا تمہیں بتائے گی بالکل ویسا ہی تم مجھے میسج کرو گی.
گل کا قتل کب، کیسے ہوگا اس کا فیصلہ میں کروں گا. تم صرف ہماری مدد کرو گی اور شک کے الزام میں جیل جاؤں گی.
تمہارا کیس بظاہر انتہائی مضبوط لیکن حقیقت میں بالکل کمزور ہوگا. تم خود ایک وکیل ہو اس لیے اچھے سے جانتی ہو. ہم صرف میڈیا اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جونکیں گے. میرا کام ہوتے ہی میں تمہیں فوراً فری کر دوں گا. معاہدے کے مطابق تمہیں ہر چیز ملے گی.
اور ہاں غداری کی صورت میں صرف موت ہوگی. گل کی جگہ تمہاری احتیاط کرنا. میر نے انگلی اٹھاتے ہوئے وارنگ دی.
آپ صرف منہ سے بھی کہیں تو میں یقین کر لوں گی یوں مجھے ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے. عزین نے میر کی انگلی کی طرف اشارہ کیا تو وہ مسکرا دیا.
منہ دکھائی تمہیں گھر جا کر دوں گا پریشان مت ہو. میر نے کہتے ہوئے ریلیکس انداز میں سیٹ ساتھ ٹیک لگا لی.
کیوں گاڑی میں ٹھیک سے منہ دکھائی نہیں دے رہا ……؟ ؟ عزین نے کہتے ہوئے باہر دیکھا تو نہ چاہتے ہوئے بھی میر مسکرا دیا.
اپنی نوعیت کا انوکھا پیس ہے. میر سوچتے ہوئے ڈرائیور کو اشارہ کرنے لگا
🎭🎭🎭🎭
ماجد رنگ برنگے راستوں سے گزرتا ہوا پتہ نہیں کہاں جا رہا تھا مگر اسے یہ تمام راستے اور جگہیں جانی پہچانی لگ رہی تھی. اپنے ہی دھیان میں چلتا وہ سامنے سے آتی لڑکی کو نہ دیکھ سکا اور اس سے جا ٹکرایا
اندھے تو نہیں لگتے اور شکل سے ایسا بھی نہیں لگ رہا کہ تم پاگل ہو ……. ؟؟ زریں جو چارہ سر پر لادے جا رہی تھی ماجد کے یوں ٹکرانے پر اسے غصے سے دیکھنے لگی.
سوری ماجد نے شرمندگی سے دو قدم پیچھے لیے.
“سوری” میری بھینس نہیں کھاتی وہ “چارہ” کھاتی ہے. اگر آپ اپنی غلطی کا مداوا کرنا چاہتے ہیں تو یہ چارہ اپنے سر پہ لا دے اور میرے پیچھے پیچھے آئیں. میری بھینس کو چارہ مل جائے گا اور آپ کی غلطی کا مداوا ہو جائے گا. اب کی بار زریں کا لہجہ پہلے کی نسبت مختلف تھا.
میں ضرور آپ کا کام کر دیتا مگر اس وقت جلدی میں ہوں. مجھے کسی کی مدد کے لیے جانا ہے. ماجد نے معذرت خوان لہجہ اختیار کیا.
کیا ہم دونوں کے علاوہ یہاں کوئی تیسرا ہے …… ؟؟ زری نے شرارت بھرے لہجے میں ارد گرد دیکھتے ہوئے ماجد سے پوچھا تو اس نے نہ سمجھی سے اپنے آس پاس دیکھا.
نہیں ناااااا زریں کے کہنے پر ماجد نے سر ہلایا بس تو پھر آپ میری بات مان لیں. ورنہ آپ کسی کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہیں گے. زریں کہتی ہوئی آگے کی طرف چل دی تو ماجد کے کان کھڑے ہوئے. دیکھو لڑکی تم جانتی نہیں ہو کہ میں کون ہوں …… ؟؟ یہ تم مجھے بلیک میل کر رہی ہو. تم اس کی سزا جانتی ہو……. ؟؟ اچانک ماجد کو اس پر شدید غصہ آیا. تمہارا تو مجھے پتہ نہیں لیکن مجھے سارا گاؤں جانتا ہے. مجھ سے پنگا لینے سے پہلے اچھا خاصا بندہ پہلے سوچتا ہے. زریں کا انداز چیلنجنگ تھا. جس پر خاموشی سے ماجد اسے دیکھنے لگا دیکھو اب یہ مت کہنا کہ شکل تو بہت پیاری ہے اور حرکتیں تم کیسی کرتی ہو ……. ؟؟ تمہیں میری حرکتوں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے. بس چارہ میرے گھر پہنچا دو معاملہ ختم زریں نے کندھے اچکائے تو ماجد نے خاموشی سے چارہ اٹھا لیا.
سمجھدار ہو. میرا تو خیال تھا ابھی کم از کم آدھا گھنٹہ میرا سر کھاؤ گے. ویسے کہاں سے آئے ہو اور کس کے گھر جا رہے ہو …..؟ ؟ زریں نے چلتے ہوئے پوچھا
تمہیں اس سب سے مطلب تمہارا گھر کتنی دور رہ گیا ہے …..؟ ؟ ماجد نے بیزاری سے پوچھا وہ جہاں سے دھواں اٹھ رہا ہے ناااااا وہ میرا گھر ہے. ماسی آج بیسن والی روٹی پکا رہی ہے اور جب وہ یہ روٹی پکاتی ہے تو پورے گاؤں میں اس کی خوشبو پھیل جاتی ہے. اس نے آج ساگ بھی پکایا ہوگا. آخر اس کا بیٹا آیا ہوا ہے مذاق تھوڑی ہے. زریں کے بتانے پر ماجد کو غازی کی باتیں یاد آئیں. وہ جو سات سال پہلے سیلاب میں ڈوب گیا تھا…..؟؟ ماجد نے ہوا میں تیر چلایا ہاں ہاں وہی مگر تمہیں کیسے پتہ ……. ؟؟ زریں کے چہرے پر حیرت نمایاں تھی میں لوگوں کی شکل دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ ان کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے …..؟ ؟ ماجد کو زریں سے بدلہ لینے کے لیے شرارت سوجھی یہ کون سی خاص خوبی ہے. یہ تو میں بھی بتا سکتی ہوں کہ تمہارے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے …… ؟؟ ماجد کی توقع کے برخلاف زری نے بالکل حیرت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ماجد کو حیران کر دیا میرے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے …..؟ ؟ ماجد نے ٹھہر ٹھہر کر لفظ ادا کیے تم میرے گھر جاؤ گے. وہاں پہ تمہیں اپنے پرانا دوست مل جائے گا. تم کہو گے میں تو اسی سے ملنے آیا تھا .پھر اچانک تمہاری میری ماسی سے بھی رشتہ داری بن جائے گی. اپنی بات پر زری نے خود ہی قہقہ لگایا جبکہ ماجد واقع ہی شاکڈ تھا. بیسن والی روٹی ساگ اور لسی تو میں نے تمہیں ویسے بھی دینی تھی. ہم لوگ مہمان نواز ہیں مگر تم یہ ڈرامے نہ کرو کیونکہ میں پہلے ہی ایک شہری ڈرامے سے تنگ پڑی ہوئی ہوں بلکہ ایک احسان کرو کہ واپس جاتے ہوئے اسے بھی اپنے ساتھ لیتے جانا. زریں نے کہتے ہوئے ایک پرانا لکڑی کا دروازہ اندر کی طرف دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا. اتنی دیر کہاں لگا دی تھی …..؟؟ ماسی پھلاں نے زری کو دیکھتے ہوئے پوچھا مگر اس کے پیچھے ماجد پر نگاہ پڑتے ہی خاموش ہو گئیں. ماسی یہ تیرے بیٹے کا دوست ہے شہر سے آیا ہے. زری کی بات پر جہاں غازی شاکڈ تھا وہاں ماجد ماسی پھلاں کو دیکھ کر سکتے میں آگیا تھا. اس لڑکی کے تکے اتنے پرفیکٹ کیسے بیٹھتے ہیں …..؟ ؟ غازی نے دل میں سوچتے ہوئے ماجد کی طرف دیکھا 🎭🎭🎭🎭 🌹ماضی…… میں کسی بھی صورت ایسا کچھ بھی ہونے نہیں دوں گا اور اگر کسی نے مجبور کیا تو میں یہ نہیں دیکھوں گا کہ سامنے والا کون ہے ……. ؟؟ میں میر کو اور اس کے حمایتی کو گولی سے اڑا دوں گا. شیر علی کی آواز پوری آب و تاب سے حویلی میں گونجی تھی. شیر علی آخر تم کب عقل سے کام لو گے. زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے. سردار بیگم نے فکر مندی سے اس کی طرف دیکھا جبکہ غلام علی خاموش تھا. میں میر کو اس جائیداد میں سے ایک پھوٹی کوڑی دینے کو تیار نہیں اور آپ کہتی ہیں کہ میں بچپن کی منگ اسے دے دوں. شیر علی نے حقارت سے پاس پڑے گلدان کو لات ماری تو وہ دور جا گرا غلام علی تم ہی اسے کچھ سمجھاؤ کہ یہ عقل سے کام لے. یوں جذبات سے کام لے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا. میر کا کچھ نہیں جائے گا. سردار بیگم نے مدد طلب نظروں سے غلام علی کی طرف دیکھا اس بے غیرت کی طرف کیا دیکھ رہی ہیں. اس کی وجہ سے ہی تو مجھے یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے …..؟ ؟ اگر یہ میری طرح بہادر ہوتا تو مجال تھی کہ میر میرے سامنے کھڑا ہو سکتا مگر اس کو تو عادت ہے ہر کسی کی ہاں میں ہاں ملانے کی، عورتوں جیسا بھائی ہے. شیر علی نے سر جھٹکا میری ایک بات کان کھول کے سن لے. گل میری ہے اور تیری بھابھی لگتی ہے. اگر آج کے بعد میں نے تجھے گل سے فری ہوتے دیکھا تو تو دوبارہ چلنے کے قابل نہیں رہے گا. غلام علی کو کمرے سے باہر جاتا دیکھ کر شیر علی پیچھے سے چلایا بس شیر علی اب تم حد سے زیادہ بڑھ رہے ہو! وہ دونوں کزن بھی ہیں. اپنی گندی سوچ کو صرف اپنے تک محدود رکھو. سردار بیگم کا ضبط جواب دے گیا تھا آپ بھی مجھے ہی ڈانٹ رہی ہیں. سنا نہیں تھا اس دن میر نے کیا کہا تھا ……؟ ؟ عادت کے مطابق شیر علی چیخا اگر تم اپنوں سے لڑتے رہے تو میر اپنی سازش میں کامیاب ہو جائے گا. سردار بیگم کی بات پر شیر علی دھیما سا مسکرایا. وہ کیسے …..؟؟ شیر علی کے لہجے میں تجسس تھا. آغا جان آگے ہی میر کے حمایتی ہیں اور تم اپنے رویے کی وجہ سے گل اور غلام علی کو بھی کھو دو گے. تو سب کچھ میر کا ہو جائے گا. سردار بیگم نے نفی میں سر ہلاتے جواب دیا اور اگر میں آغا جان کو ہی شیر علی نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑتے ہوئے قہقہہ لگایا تو سردار بیگم کے ہوش اڑ گئے.
بھول کے بھی ایسا کچھ مت کرنا. سردار بیگم نے وارنگ دی تو شیر علی ہنستا ہوا باہر چلا گیا.
ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے. ایک بوڑھا کتنی مزاحمت کر سکتا ہے …..؟ ؟ سونے پر سہاگہ ہو جائے اگر الزام بھی میر کے سر لگے. نہ بانس ٹوٹے گا اور سانپ بھی مر جائے گا
ارے واہ یہ آئیڈیا مجھے پہلے کیوں نہیں آیا. سردار بیگم نے دیو قامت شیشے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے سوچا
🎭🎭🎭🎭
ایسا کیسے ہو سکتا ہے. میر اور شادی گل بے تابی سے ویل چیئر کو کمرے میں چلا رہی تھی. تبھی دروازہ کھلتے میر اور عزین ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے. گل یہ ہے میری دلہن اور آپ کی سوتن بتائیں کیسے لگی ……؟ ؟ میر نے محبت سے عزین کے گرد اپنی بازو حائل کرتے ہوئے پوچھا. جس پر گل مسکرا دی.
تمہاری چوائس شروع سے ہی بے مثال ہے. گل نے سراہتے ہوئے ویل چیئر عزین کی طرف موڑی. جس پر عزین خود ہی آگے بڑھ کر ہاتھ ملانے لگی
امید ہے آپ دونوں میں اچھی دوستی رہے گی اور رونق بھی لگ جائے گی. ہلکے پھلکے سے انداز میں کہتا میر اپنا کوٹ اتار کر صوفے پر بیٹھ گیا.
میں گل ہوں. گل نے اپنا خود ہی تعارف کروایا تو عزین سر ہلاتی بیڈ پر بیٹھ گئی.
یہ صرف گل نہیں بلکہ “گلبدین طلال میر” ہیں . میں نے کتنی بار بولا ہے کہ اپنے نام ساتھ میرا نام لگانا مت بھولا کریں. میر نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے زور دیا. تو عزین نے حیرت سے میر کی طرف دیکھا
ایک طرف اتنی اپنائیت اور محبت اور دوسری طرف قتل یہ سب کیا ہے…..؟ ؟ میں پاگل ہو جاؤں گی. عزین نے دل میں سوچا کھانا لگواؤں …..؟ ؟ گل نے میر کی طرف دیکھا تو وہ عزین کو دیکھنے لگا بھوک لگی ہوگی …..؟؟ اب کی بارگل نے عزین سے پوچھا تو وہ سر ہلانے لگی تم کپڑے چینج کر لو. میں تب تک کھانا لگواتی ہوں یا ادھر کمرے میں ہی بھیج دوں. میرے خیال سے یہ زیادہ ایزی رہے گا. گل خود ہی کہتی اپنی ویل چئیر گھیسٹ کر باہر جانے لگی تو میر کے ڈھیلے پڑے اعصاب تنے. پاگل لڑکی اس کے پیچھے جاؤ اور اسے کہو کہ آپ رہنے دیں. آج سے سب کام میں کروں گی. میر نے فوراً عزین کے قریب بیٹھتے ہوئے سرگوشی میں اسے ڈانٹا کیا ہے ایک دن تو مہمان داری کھانے دیں عزین کا موڈ آف ہوا.
اگے ہی میرا سر آپکی ڈبل پرسنلٹی سے چکرانے لگا ہے. ایک منٹ میں رومینٹک ہیرو اور دوسرے میں سیریل کلر _ عزین نے جھرجھری لی. بس آج کی چھوٹ دے رہا ہوں. میر نے احسان کرتے ہوئے اپنے جوتے کے تسمے کھولے. اپنا احسان اپنے پاس رکھیں. میں چلی جاتی ہوں. عزین کہتی ہوئی تیزی سے اٹھی مگر لہنگا پاؤں کے نیچے آنے کی وجہ سے سامنے سے آتے غلام علی پر گرنے لگی تو میر نے تھام لیا. میر کھانا تیار ہے غلام علی نے دونوں سے نظریں چراتے ہوئے کہا
دل تو کرتا ہے کہ تمہارا گلا دبا دوں. میر نے عزین کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور خود واش روم میں چلا گیا
اچھا خاصا رومینٹک سین تھا اس کا بھی اس شخص نے بیڑا غرق کر دیا ہے. عزین نے کہتے ہوئے کمرے کا جائزہ لیا.
میں اس کمرے میں رہوں گی …… ؟؟ میر کو واش روم سے باہر آتا دیکھ کر عزین نے پوچھا جو نائٹ ڈریس میں تھا.
“میں” نہیں بلکہ “ہم” اس روم میں رہیں گے. میر نے جملے کی تصحیح کی تو عزین نے اسے حیرت سے دیکھا
ہم عزین نے دہرایا
جی ہم یعنی میں، تم اور گل _ میر نے مزے لیتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا. جو اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی.
میں چاہتا ہوں دونوں بیویوں کو برابری کے حقوق ملے تو پھر برابر کا سلوک کرنا پڑے گا. میر آنکھ ویک کرتا عزین کو حیران پریشان چھوڑ کر باہر نکل گیا.
🎭🎭🎭🎭
