Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
یہ لو اور جلدی سے جس سے بات کرنی ہے کر لو _ زری نے ماسی پھلاں سے نگاہ بچاتے ہوئے موبائل غازی کے آگے کیا تو وہ حیران رہ گیا. یہ موبائل ہے …… ؟؟ زری کے ہاتھ سے موبائل لیتے غازی نے پوچھا ہمارے گاؤں میں تو اسے ہی موبائل کہتے ہیں. زری نے کندھے اچکائے جبکہ اس بلیک کلر کے بٹنوں والے موبائل کی خستہ حالی پر غازی اپنا ماتھا مسلنے لگا کال کرو نااااا زریں نے دوبارہ کہا تو غازی اسے دیکھنے لگا جس کے چہرے پر جلدی اور اکتاہٹ کے ملے جلے تاثرات تھے!
تمہیں جلدی کس بات کی ہے ……. ؟؟ غازی کے پوچھنے پر زری کے تاثرات بدلے.
کیا مطلب جلدی کس بات کی ہے ……. ؟؟ تم نے کال کے لیے مانگا تھا. اب کال کرو اور مجھے واپس دو. زری کا انداز جارحانہ تھا.
مگر مجھے تو یہ اپنے پاس رکھنا ہے. غازی نے زری کو ستاتے ہوئے موبائل اپنی جیب میں رکھا.
نہیں یہ تو غلط بات ہے. میں شابو بابا کی دکان سے اسے مانگ کر لائی ہوں. وہ بھی کچھ دیر کے لیے _ زری نےمسکین سے شکل بنائی تو غازی کو اس پر ذرا برابر بھی ترس نہ آیا. تم ایک نمبر کی ڈرامے باز لڑکی ہو. میں نے کہا تھا مجھے موبائل چاہیے یہ نہیں کہا تھا کہ ایک کال کرنے کے لیے چاہیے. غازی نے سنجیدگی سے زری کی طرف دیکھا اچھا ٹھیک ہے کال کرو ( پھر میں چھین لوں گی.) زری نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا ہاں تو تمہارے سامنے تھوڑی کال کروں گا. تم جاؤ پھر میں نے بات کرنی ہے. غازی کے انداز پر پریشان زری کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تمہیں میرے سامنے پیار محبت کی باتیں کرتے ہوئے شرم آتی ہے نااااا زری کے پوچھنے پہ غازی کا دل کیا اس کا سر توڑ دے
تم اچھی خاصی خوبصورت لڑکی ہو مگر جب منہ کھولتی ہو تو دل کرتا ہے بندہ تمہارا سر توڑ دے. اب جاؤ یہاں سے ایسا نہ ہو کہ میں تمہارے ساتھ کچھ غلط کر بیٹھوں. غازی کا لہجہ وارننگ دینے والا تھا
زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی. خیر شام تک میں نے یہ فون واپس کرنا ہے. تب تک جس سے بھی بات کرنی ہے کر لو .زری کہتی ہوئی جانے لگی مگر پھر اپنی بےعزتی کے احساس سے پلٹی اور غازی کے پاؤں پر ٹھوکر مار دی. تکلیف کی شدت سے غازی نے اپنی آنکھیں بند کر لیں مگر منہ سے کچھ نہیں کہا
تم میں بہت برداشت ہے. زری نے سراہا
تم میں بھی آ جائے گی ذرا مجھے ٹھیک ہونے دو. غازی کے جواب پر زری سر ہلاتی باہر کی طرف چلتی. جب غازی کو یقین ہو گیا کہ وہ اب ادھر نہیں آئے گی. تو اس نے ماجد کا نمبر ڈائل کیا اور کال کاٹ دی. امید کے عین مطابق ابھی ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا
کمینے انسان مجھے تلاش کرنے کی کوشش تو کی ہوتی …… ؟؟ غازی نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے گلہ کیا.
ارے غازی کہاں ہے تو _ شکر ہے کہ تیری آواز سننے کو ملی. غازی جو اداس سا اپنے سرکاری کوارٹر میں بیٹھا تھا اٹھ کھڑا ہوا. بس میرے ساتھ یہ تھرڈ کلاس محبوب والے ڈائیلاگ مت بولا کر اور یہ بتا کہ ادھر سب ٹھیک ہے …… ؟؟ غازی نے منہ بناتے ہوئے پوچھا ہاں ہاں سب ٹھیک ہے. پرچہ نامعلوم افراد کے خلاف کٹا ہے. مگر تو اس وقت کہاں ہے …..؟ ؟ ماجد کا بس نہیں چل رہا تھا کہ غازی پاس پہنچ جائے. میں وہاں ہوں جہاں سے مجھے میرہ خبر نہیں آتی غازی نے سرد آہ بھری.
یہ کیا بات ہوئی …..؟؟ ماجد کو جواب عجیب لگا
بس کیا بتاؤں پانی میں چھلانگ لگاتے ہی میں بہاؤ کی سمت چل پڑا. مجھے تو خود بھی معلوم نہیں جہاں تک تیر سکتا تھا تیرتا رہا. تجھے میرے تیرنے کی کارکردگی کا تو اندازہ ہے نااااا بس پھر کیا تھا آہستہ آہستہ میں ڈوبنے لگا. میرا سر کسی سخت چیز ساتھ ٹکرایا اتنا یاد ہے مگر پاؤں کی ہڈی کیسے فلیکچر ہوئی یہ یاد نہیں. غازی نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا
تیرا پاؤں لیکچر ہوا ہے. غازی تو کس ہسپتال میں ہے …… ؟؟ ماجد نے بے قراری سے پوچھا
جانوروں کے ہسپتال میں ہوں اور یہاں خالص دیسی ڈاکٹرز ہیں غازی نے گردن پیچھے پھینکتے ہوئے تکیے ساتھ ٹیک لگائی
غازی کبھی تو بات سنجیدگی سے کر لیا کر، مجھے پریشانی ہو رہی ہے اور تو ڈرامے کر رہا ہے. ماجد کو غصہ آیا.
میرے خیال سے پانی سے مجھے کسی بندے نے نکال کر ساتھ والے گاؤں میں پہنچا دیا ہوگا اور وہاں سے پھر غازی نے اب تک کی ساری صورتحال ماجد کے گوش گزار کر دی.
ارے واہ یہ تو بالکل فلمی سین ہوا. ہیروئن مل گئی. ماجد کی چہچہاتی آواز پر غازی کو شدید غصہ آیا.
ماجد میری لوکیشن ٹریس کر اور مجھے فوراً یہاں سے لے کر جا اس سے پہلے کہ میں پاگل ہو جاؤں. اتنی مٹی اور گوبر کی بدبو ہے کہ مت پوچھ غازی نے ارد گرد نظریں دوڑائیں. اپنا موبائل اور لوکیشن دونوں ان رکھ. میں جلد از جلد تیرے تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں. یار ذرا جلدی مجھے یہاں وحشت ہو رہی ہے. غازی کے جواب پر ماجد سر ہلانے لگا 🎭🎭🎭🎭 🌹 ماضی…… میر کل کی فلائٹ سے پاکستان آ رہا ہے. سردار بیگم نے گویا سب کے سر پر دھماکہ کیا سب جو مزے سے کھانا کھانے میں مصروف تھے. اب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے سوائے گلبدین کے جو نارمل تھی. اچھا تو بالآخر آغا جان نے اپنے لاڈلے کو باہر سے بلوا ہی لیا. وہ اکیلا آرہا ہے یا اس کی گوری میم بھی ساتھ ہوں گی …..؟ ؟ گل نے اپنا کھانا ختم کرتے ہوئے نپکن سے ہاتھ صاف کیے تمہیں بڑی خوشی ہو رہی ہے اس کے آنے کی شیر علی نے عادت کے مطابق طنز کیا تو گل مسکرانے لگی جبکہ سردار بیگم اس تمام معاملے میں سنجیدہ تھی
شیر تمہیں پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے مگر میرا وہ بہت اچھا کزن اور دوست ہے. لہذا مجھے اس کے آنے کی خوشی ہے. ویسے بھی وہ میرے لیے گفٹس لا رہا ہے. گل نے چڑایا
آپ اسے دیکھ رہی ہیں پھر آپ مجھ سے ناراض ہوتی ہیں. شیر علی نے کرسی چھوڑتے ہوئے گلہ کیا
گل تمہیں بات کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے. تم ہمیشہ شیر علی ساتھ زیادتی کر جاتی ہو. سردار بیگم نے شیر علی کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے گل سے کہا
آپا میرے خیال سے اس بندے کا نام ہی غلط ہے. اب شیر نام رکھ دیا ہے یہ انسانوں کی طرح تو بیہیو کرے گا نہیں. ہر وقت شیر کی طرح دوسروں کو چیر پھاڑ کھانے کے لیے تیار رہتا ہے. اس سے پوچھیں کہ میر نے اسے کیا تکلیف پہنچائی ہے. یہ اس سے اتنا جیلس کیوں ہوتا ہے…..؟ ؟ گل کی بات پر غلام عباس اور سارہ اسے گھورنے لگے جبکہ ضبط کے مارے شیر علی کی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں.
مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں سوائے اس کے کہ آغا جان ہمیشہ اسے مجھ پر فوقیت دیتے ہیں جبکہ ان کے سارے کام میں کرتا ہوں. سارے بزنس اور زمینی معاملات کو میں دیکھتا ہوں جبکہ وہ نوابزادہ باہر بیٹھا صرف میری کمائی پر عیاشی کرتا ہے. شیر علی نے عادت کے مطابق چنگارتے ہوئے گل کو جواب دیا
تم دونوں کی لڑائی اگر ختم ہو گئی ہو تو جو بات میں کرنے جا رہی ہوں کیا وہ تم سننے کے لیے تیار ہو …… ؟؟ سردار بیگم جو اس وقت کچھ خاموش اور کھوئی کھوئی سی تھی شیر علی کے چنگھاڑنے پر بول پڑی
آپا میں آپ کا ہمیشہ احترام کرتا ہوں مگر آپ خود سوچیں کیا آغا جان میرے ساتھ زیادتی نہیں کر رہے. میر کا اس جائیداد سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن آغا جان اسے زبردستی دینے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ وہ تو پاکستان بھی نہیں آنا چاہتا اور شادی بھی باہر ہی کر رہا ہے.
جب ایک غیر عورت ہمارے خاندان کا حصہ بنے گی تو وہ ہماری خاندانی روایات کی کیا خاک پاسدار کرے گی ……. ؟؟ میر اتنا عرصہ لندن میں رہ کر خود بھی فرنگی بن گیا ہے اور اس کی اولاد بھی فرنگی عورت سے ہی ہوگی تو ان سے کیا بعید …..؟ ؟
مگر آغا جان کو یہ بات کون سمجھائے اور اگر کوئی سمجھا سکتا ہے تو وہ صرف آپ ہی ہیں. وہ آپ کی بات سنتے ہیں. سردار بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے شیر علی نے بڑے مان سے کہا
میر کے معاملے میں وہ میری ایک نہیں سنتے اگر سنتے ہوتے تو آج صورتحال بہت مختلف ہوتی. خیر میں نے آپ سب لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ میر کل کی فلائٹ سے آ رہا ہے اور آغا جان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ میر کی شادی سارہ سے کریں گے. سردار بیگم کے منہ سے جیسے ہی یہ الفاظ نکلے شیر علی بھڑک اٹھا جبکہ باقی سب خاموش تھے.
میں اس گھٹیا انسان ساتھ اپنی بہن کی شادی نہیں کروں گا. کسی بھی صورت نہیں کروں گا بلکہ میں اسے اس حویلی میں پہنچنے ہی نہیں دوں گا. وہ زندہ رہے گا تو یہاں پہنچے گا نااااا _ شیر علی نے انتہائی جذباتی انداز میں کہتے ہوئے کرسی چھوڑی. میرے خیال سے تو یہ آغا جان کا بالکل درست فیصلہ ہے. اس طرح میر کی ہمارے ساتھ ہمدردی اور محبت بڑھے گی اور سارہ بھی خوش رہے گی. خاندان کی جائیداد بھی کہیں نہیں جائے گی. گل کی بات پر شیر علی نے حقارت سے اس کی طرف دیکھا میری ایک بات تم سب کان کھول کے سن لو کہ میں ایسا کچھ بھی ہونے نہیں دوں گا. شیر علی کہتا ہوا رکا نہیں بلکہ تیزی سے نکل گیا جب کہ سردار بیگم نے گل کی طرف دیکھ کر افسوس سے سر ہلایا گل تم ہمیشہ شیر علی کو غصہ دلا دیتی ہو. مجھے سمجھ نہیں آتا تمہاری ساری ہمدردیاں میر ساتھ کیوں ہوتی ہیں. جبکہ محبت تمہیں شیر علی سے ہے. وہ تمہارا منگیتر ہے. تمہیں چاہیے کہ اس کے ساتھ کھڑی ہو مگر تم ہمیشہ میر کا ساتھ دیتی ہو. سردار بیگم نے دکھ سے کہا آپا شیر علی ہمیشہ جذبات سے کام لیتا ہے جبکہ ہمیں عقل سے کام لینا چاہیے. میر نے یہاں نہیں رہنا اس نے آج نہیں تو کل واپس لوٹ جانا ہے. جس انسان کی ساری زندگی لندن میں گزری ہو وہ پاکستان میں بھلا کیسے رہ سکتا ہے …… ؟؟ اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی کہ ہماری سارہ شادی ہو کر اس کے ساتھ باہر چلی جائے. جائیداد بھی ہمارے پاس رہے گی اور بہن بھی خوش رہے گی. یہ بات شیر علی کو سمجھ کیوں نہیں آتی …..؟ ؟ اب کی بار گل نے مکمل سنجیدگی سے آپا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میر ہلکے پھلکے سے مزاج والا ایک لا ابالی انسان ہے. اسے ان تمام سازشوں کا کچھ علم نہیں لیکن ہم اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے اس سے اپنا دشمن ضرور بنا لیں گے. اور ایک بات میں یاد رکھیں جب ایسا انسان دشمن بنتا ہے تو بہت خطرناک ہو جاتا ہے. شیر علی ہر چیز کو طاقت کے زور پر حل کرنا چاہتا ہے جبکہ میں ہمیشہ اس بات کی حمایت میں رہی ہوں کہ بات عقل سے حل ہونی چاہیے جذبات سے نہیں. اگر کوئی گڑ دینے سے مر رہا ہے تو اسے گولی مارنے کی کیا ضرورت ہے. یہ تو صاف صاف خون سے اپنے ہاتھ رنگنے والی بات ہے. آپ شیر علی کو سمجھاتی کیوں نہیں ہے …… ؟؟ گل نے اب کی بار غلام علی کی طرف حمایت طلب نظروں سے دیکھا میرے خیال سے گل بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے. ہمیں معاملے کو احسن طریقے سے حل کرنا چاہیے نہ کہ بندوق کے زور پر غلام علی نے گل کی طرف مسکراہٹ اچھالتے ہوئے جواب دیا
دیکھا مجھے پورا یقین تھا کہ غلام علی میری حمایت ضرور کرے گا مگر اس کا بھائی توبہ ہے اس سے _ گل کہتی ہوئی کرسی چھوڑ کے کھڑی ہو گئی اب تم کہاں جلدی دی ……؟ ؟ سردار بیگم نے گل کو کھڑا دیکھتے ہوئے پوچھا دیکھوں نااااا آپ کا وہ شیر کیا کر رہا ہے …..… ؟؟ کہیں کسی جانور کی سختی تو نہیں آگئی. میرا غصہ کسی اور پر نکل رہا ہو گا. گل مسکراتی ہوئی باہر کی طرف چل دی جب کہ سردار بیگم کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی.
🎭🎭🎭🎭🎭
زندگی میں پہلی بار عزین کو مشکل کا سامنا تھا. نکاح نامے پہ سائن کرتے ہوئے اس کا دل عجیب لہہ پر دھڑک رہا تھا جب کہ حاشر اور میر بالکل سنجیدہ بیٹھے تھے جیسے کوئی سرکاری کاروائی ہو رہی ہو.
عزین سے رضامندی لینے کے بعد مولوی صاحب نے نکاح نامہ میر کے آگے رکھ. ا تو اس نے ایک سیکنڈ کے اندر اندر نکاح نامے پر سائن کر دیا ہے اور اس بات کو عزین نے بہت نوٹ کیا.
(الو کا پٹھا اس سے زیادہ اہمیت تو یہ اپنی کاروباری فائلز کو دیتا ہے. عزین نے دل میں سوچا) بس پھر مولوی صاحب نے دعا کراتے ہوئے دونوں کو مبارکباد دی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوئے. حاشر تم انہیں باہر چھوڑ آؤ اور ساتھ ہی ان کی پیمنٹ بھی کلیئر کر دینا. میر نے کھڑے ہوتے ہوئے مولوی صاحب سے مصافہ کیا ہاں تو عزین بی بی!! آپ نے اپنے جو بھی جوڑے کپڑے لینے ہیں وہ لے لیں. شام کو آپ کو میرا ڈرائیور اسی پھاٹک والے سٹاپ سے پک کر لے گا. میر کے لہجے میں حقارت تھی یا نہیں مگر عزین نے محسوس کی جبکہ وہ خود سربراہی چیئر پہ بیٹھا اپنی میل چیک کرنے لگا تھا. نہیں میں آج نہیں آؤں گی. مجھے گھر پر کچھ کام ہے. وہ سب سمیٹ لوں پھر میں خود ہی آپ کو انفارم کر دوں گی. تو آپ جس مرضی کو بھیج دیجئے گا لینے کے لیے عزین نے “جس مرضی” پر زور دیتے جملہ مکمل کیا. تبھی حاشر اندر داخل ہوا.
حاشر تم اپنی اسسٹنٹ کو لے جاؤ اس سے پہلے کہ یہ میرا دماغ خراب کر دے اور اسے یہ بات اچھی طرح سمجھا دو کہ مجھے نہ سننے کی عادت نہیں ہے. میر نے حاشر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
آپ کو مجھے جواب دینا چاہیے تھا. حاشر صاحب کو نہیں مگر لگتا ہے کہ آپ _ عزین نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا کیونکہ جس نظر سے میر نے اسے دیکھا تھا اس کی بولتی وہیں بند ہو گئی
ٹھیک ہے میں کسی کے ساتھ بھی آ جاؤں گی مگر میری شرط یہ ہے کہ گاڑی بہت اچھی پھولوں سے سجی ہونی چاہیے. پتہ چلے کہ دلہن کو لے کر جا رہے ہیں. آخر میرے کچھ ارمان ہیں اور آپ تو اچھے خاصے ہیں. میرے ارمان پورے کر سکتے ہیں. عزین کہتی ہوئی حاشر کے ساتھ باہر کی طرف چل دی جب کہ میر نے زور سے پیپر ویٹ دروازے پر مارا
اگر مجھے گل کا دماغ ٹھکانے نہ لگانا ہوتا تو میں کبھی بھی تم جیسی مصیبت کو اپنے گلے کا ہار نہ بناتا. میر نے بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف دیکھا
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.
