Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
آپ کے پاؤں کی ہڈی فلکچر ہے اور میں حیران ہوں کہ آپ نے کتنی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے. ڈاکٹر نے غازی کے پاؤں کا ایکسرے دیکھتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا.
میں نے لاپرواہی نہیں کی بس جس جگہ تھا وہاں کوئی طبعی امداد میسر نہ تھی. غازی کے جواب پر ڈاکٹر سر ہلاتا اس کے پاؤں کا جائزہ لینے لگا.
زیادہ پریشانی والی بات ہے …..؟ ؟ ماجد کو تشویش ہوئی.
نہیں زیادہ تو نہیں مگر پھر بھی _ ڈاکٹر سر ہلاتا کاغذ پر کچھ لکھنے لگا اور نرس کو اشارے سے بلایا اب آپ دوا دیں گے یا مزید کوئی ٹریٹمنٹ غازی نے بیزاری سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا
پہلے تو آپ کے پاؤں کا پلستر ہو گا. بڑی معزرت مگر تکلیف سے گزرنا پڑے گا. آپ کے ٹخنے کی پوزیشن درست نہیں. ڈاکٹر کا جواب غازی کی امید کے عین مطابق تھا.
جو بھی کرنا ہے جلد کریں مجھے اپنے گھر جانا ہے. غازی کی عجلت پر ڈاکٹر حیران ہوا.
بیوی بچوں سے کافی اداس لگتے ہیں. جیسے ہی ڈاکٹر نے یہ الفاظ بولے ماجد کو ہنسی آ گئی.
اپنی بتیسی اندر کر اور کاؤنٹر پر بل جمع کرا دے تاکہ یہ اپنا کام شروع کریں. غازی کی ہدایت پر ماجد سر ہلاتا باہر چلا گیا.
ڈاکٹر صاحب پلیز زرا جلدی کیجیے گا. غازی نے ماجد کے جاتے ہی دوبارہ ڈاکٹر سے کہا جو اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ہم پہلے بھی ملے ہیں …..؟ ؟ ڈاکٹر کے پوچھنے پر غازی نے کرسی ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے ایک گہرا سانس خارج کیا.
آپ نے پچھلے سال میرے بازو سے گولی نکالی تھی. میر طلال کے فام ہاؤس پر غازی کے جواب پر ڈاکٹر خوش دلی سے اٹھا. آپ بہت بہادر ہیں. مجھے یاد آ گیا. میر صاحب کے ہم پر بہت احسانات ہیں. یہ ہسپتال ان کی امداد سے ہی چلتا ہے. نرس روم ریڈی کرے تو پلستر کے لیے چلتے ہیں. ڈاکٹر نے غازی کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے خلوص سے کہا تو غازی سر ہلانے لگا میں سوچ رہا تھا کہ آپ پلستر کرتے ہوئے کافی تنگ کریں گے مگر اب میں مطمئن ہوں. ڈاکٹر میز ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے دوستانہ لہجے میں کہنے لگا تو غازی نے کندھے اچکائے یہ تو پلستر کےوقت ہی پتہ چلے گا کہ میں آپ کو تنگ کرتا ہوں یا آپ مجھے غازی کے جواب پر ڈاکٹر مسکرا دیا.
چلیں دیکھتے ہیں. نرس کو اندر آتا دیکھ کر ڈاکٹر نے غازی کو ویل چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا.
ارے آپ یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہیں. اندر آ جاتی. ماجد نے ویٹنگ بینچ پر بیٹھتے ہوئے زریں سے کہا
تاکہ آپ کا دوست مجھے باہر پھینک دیتا. زریں کا جواب ماجد کو حیران کر گیا.
ارے واہ آپ تو اسے بڑے اچھے سے جاننے لگیں ہیں. وہ پریشانی اور بیماری میں کافی فضول بولتا ہے. ماجد کے جواب پر زریں نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا.
پھر تو وہ ہر وقت ہی پریشان اور بیمار رہتا ہے کیونکہ میں نے اسے فضول بولتے ہی سنا ہے. زریں نے اپنی چادر درست کرتے جواب دیا.
کچھ کھائیں گی ….؟؟ ماجد کے پوچھنے پر زریں نے اسے یوں دیکھا جیسے اس نے کوئی انہونی بات کہی ہو.
ابھی بھی بس پوچھ رہے ہیں. میں کب سے کہہ رہی ہوں کہ بھوک لگی ہے. زریں کے جواب پر ماجد نے شرمندگی سے سر کھجایا
اچھا میں کھانے کے لیے کچھ لاتا ہوں. آپ پلیز یہاں سے کہیں مت جاہیے گا. ماجد ہدایت دیتا کینٹین کی طرف چل دیا.
مسٹر غازی آپ بہت بہادر ہیں ورنہ عام آدمی تو بہت چیخیں مارتا ہے. ڈاکٹر نے غازی کے پاؤں پر پلستر کرتے ہوئے اسے سراہا جس کی آنکھیں تکلیف سے لال ہو رہیں تھیں.
کوئی انجکشن ضرور لگا دیجیے گا تاکہ رات سکون سے گزرے. غازی نے ضبط کی انتہا کو چھوتے ہوئے کہا تو ڈاکٹر ہاتھ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا.
یہ ماجد کا بچہ پتہ نہیں کہاں مر گیا ہے ….؟؟ جیسے ہی غازی نے سوچا ویسے ہی ماجد اندر داخل ہوا.
پلستر ہو گیا. ماجد نے حیرانگی سے غازی کے پاؤں کی طرف دیکھا
مسٹر غازی بہت بہادر ہیں. ڈاکٹر نے انجکشن بھرتے ہوئے پھر تعریف کی تو ماجد نے داد دیتی نظروں سے غازی کی طرف دیکھا
دوائیاں میڈیکل سٹور سے لے آؤ تو چلیں. غازی نے انجکشن لگواتے ہوئے ماجد کو ایک پرچہ دیا جو ابھی ابھی نرس نے اسے دیا تھا.
راستے سے لے لیں گے. ماجد نے پرچہ جیب میں رکھتے ہوئے غازی کی ویل چیئر پکڑی.
اگر آپ لوگ چند گھنٹے اور ٹھہر جاتے تو مریض کے لیے اچھا ہوتا. ڈاکٹر نے غازی سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنی رائے دی.
بہت شکریہ غازی نے کہتے ہوئے ماجد کو چلنے کا اشارہ کیا. ویسے تُو ہے بہت ہمت والا میں تو تیری چیخیں سننے کے لیے تیار تھا. ماجد نے پارکنگ میں آتے ہوئے ڈرائیور کو ڈور کھولنے کا اشارہ کیا.
میری کا تو پتہ نہیں مگر تو نے اپنی بکواس بند نہ کی تو تیری چیخیں ضرور میں سنوں گا. غازی نے بیک سیٹ پر بیٹھتے ہوئے تکلیف سے کہا تو ماجد اس کے بال سیٹ کرتا مسکرا دیا.
چل اب جلدی کر مجھے آرام کرنا ہے. غازی نے سیٹ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اپنے پہلو میں دیکھا تو چیخ اٹھا
وہ کہاں ہے …..؟ ؟
کون …..؟؟ ماجد جو ابھی فرنٹ پر بیٹھنے ہی لگا تھا مڑا.
زریں غازی کے جواب پر ماجد الٹے پاؤں اندر کی طرف بھاگا جبکہ غازی نے پوری قوت سے مکا سیٹ پر مارا. 🎭🎭🎭🎭 میرا تو خیال تھا کہ دولہے میاں کچھ دن آرام کریں گے مگر آپ تو فوراً ہی افس آ گئے. حاشر نے میر کو افس میں داخل ہوتا دیکھ کر شرارت سے کہا حاشر مجھے کیوں ایسا لگتا ہے جیسے تیری طبیعت کچھ خراب رہنے لگی ہے. تجھے خوراک کی ضرورت ہے. میر نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے موبائل ٹیبل پر رکھا میری طبیعت اور نیت دونوں ہی ٹھیک ہیں. آپ اپنی سنائیں گھر میں کیسی گزری …. ؟؟ حاشر نے اپنی ہنسی کو روکتے ہوئے پوچھا کم از کم میں تجھ سے اس سوال کی امید نہیں کر رہا تھا تجھے تو معلوم ہونا چاہیے کہ تیری اسسٹنٹ کیسی ہے اور اس کے ساتھ بندے کا وقت کیسا گزر سکتا ہے …… ؟؟ میں نے بولا بھی تھا کہ اس سے کہنا کہ اپنی ضرورت کی چیزیں اور ڈھنگ کے کپڑے ساتھ لے کر آئے مگر وہ کچھ بھی ساتھ نہیں لائی. میر نے افسوس سے سر ہلایا اب اتنے امیر اور خوبصورت بندے سے شادی ہو رہی ہو تو لڑکی کی عقل کہاں ٹھکانے رہتی ہے جبکہ میں نے بھی اس کو آپ کا پیغام جوں کا توں پہنچا دیا تھا مگر اس میں اس کی غلطی نہیں بلکہ آپ کی غلطی ہے . آپ شادی کر رہے تھے تو کم از کم لڑکی کی ضرورت کی چیزیں ہی خرید لیتے. یہ تو لڑکے والوں کا کام بنتا ہے کہ وہ لڑکی کے کپڑے اور ضرورت کی چیزیں خریدیں. حاشر نے عزین کو defend کرتے ہوئے کہا تو میر مسکرانے لگا اپنی اسسٹنٹ کی بڑی فیور کر رہے ہو. کبھی دوست کی بھی کر دیا کرو. میر نے کہتے ہوئے اپنا موبائل میں سے اٹھایا دوست کے لیے تو جان بھی حاضر ہے مگر تازہ خبر یہ ہے کہ سردار بیگم شاید اس پیشی پر چھوٹ جائیں کیونکہ ہماری طرف سے کسی قسم کی کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی اور نہ ہونے کی وجہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ آپ نے مجھے منع کر رکھا ہے. حاشر کی بات پر میر کے اعصاب ایک دم تناؤ کا شکار ہوئے. سردار بیگم کو کسی بھی صورت جیل سے نہیں چھوٹنا چاہیے بلکہ میں اور بھی کچھ لوگوں کو جیل کے پیچھے دیکھنا چاہتا ہوں. میر نے کہتے ہوئے حاشر کی طرف دیکھا یہ کچھ اور لوگوں سے آپ کی کیا مراد ہے …..؟؟ اگر آپ کا اشارہ گلبدین کی طرف ہے تو معذرت وہ آپ برداشت نہیں کر پائیں گے کیونکہ میں جانتا ہوں آپ ان کے لیے سافٹ کارنر رکھتے ہیں. حاشر کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا. اس بات کا فیصلہ میں یا تم نہیں بلکہ وقت کرے گا. میں کسی بھی مجرم کو کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہیں دوں گا. میں یہاں صرف اور صرف آغا جان کے مجرموں کو سزا دینے کی وجہ سے موجود ہوں. ورنہ کب کا واپس چلا جاتا. میر کے جواب پر حاشر نے سر ہلایا میر کوشش کرو کہ خود سے جھوٹ بولتے ہیں چھوڑ دو. تم یہاں صرف اس لیے نہیں موجود، جس لیے موجود ہو اس کا اقرار کر لو، نہ خود کو دھوکا دو اور نہ دوسروں کو اس دھوکے میں رکھو. حاشر اب کی بار بہت سنجیدہ تھا. خیر چھوڑو ان باتوں کو اور اپنی تیاری رکھو کیونکہ میں نے پلان کر لیا ہے کہ گل پہ قاتلانہ حملہ کب اور کیسے کرنا ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں عزین جلد از جلد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو. ایک اور خاص بات جس کا تم نے خیال رکھنا ہے. وہ یہ کہ جس جیل میں عزین ہوگی ماجد کی ڈیوٹی بھی وہاں ہی لگنی چاہیے. میں نہیں چاہتا اسے کسی قسم کی بھی کوئی تکلیف پہنچے اور اگر ماجد کی ڈیوٹی ہوئی تو اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی کیونکہ وہ پہنچ نہیں دے گا. میر کی بات پر حاشر نے اسے حیرت سے دیکھا زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے. ماجد عزین کا منگیتر ہے. دونوں ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے ہیں اور میری معلومات کے مطابق دونوں کی جلد شادی ہونے والی تھی مگر میر نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے.
ابھی شادی کو ایک دن نہیں ہوا اور تم کس طرح اپنی نئی نویلی دلہن کے بارے میں مجھے معلومات دے رہے ہو. کچھ تو شرم کرو یہ شرفاء کا طور طریقہ نہیں ہوتا. حاشر نے بڑی بوڑھی عورتوں کی طرح میر کو ڈانٹا.
اگر یہ شادی میری اپنی مرضی اور پسند سے ہوئی ہوتی تو ماجد اب تک زمین کے نیچے ہوتا مگر یہ ایک کمٹمنٹ ہے اور کچھ نہیں. لہذا میں نہیں چاہتا عزین کا کوئی بھی ریلیشن اس کمٹمنٹ کی وجہ سے خراب ہو. میر کا چہرہ کسی بھی قسم کے تاثرات سے پاک تھا.
گلبدین کی کیا تاثرات رہے تمہاری شادی پر، میرا مطلب ہے تمہاری بیگم کو دیکھ کر انہوں نے کیسا ری ایکٹ کیا ……؟ ؟ حاشر کو جاتے جاتے اچانک گل کا خیال آیا تو وہ پلٹا
کچھ خاص نہیں، میرے خیال سے ایک عورت دوسری عورت سے جتنی جیلس ہو سکتی ہے وہ اتنا ہی جیلس ہوئی ہوں گی یا شاید اتنا بھی نہیں. میں کچھ کہہ نہیں سکتا مجھے کچھ خاص اندازہ نہیں ہوا. میر نے لاپرواہی سے حاشر کی طرف دیکھا
عزین کیسی ہے میرا مطلب اس نے ایڈجسٹ کر لیا …… ؟؟ حاشر کو اچانک اس کا خیال آیا.
مسٹر حاشر اب تم اس کے ساتھ ہمدردی کا پٹارہ کھول کے مت بیٹھ جانا. وہ تمہاری اسسٹنٹ ہے اور تم اسے اچھی طرح جانتے ہو. وہ کوئی عام سی لڑکی نہیں ہے جو جذباتی ہو جائے گی یا اسے کوئی دکھی کر دے گا. وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتی ہے.
میں تو حیران ہوں اس پر، کل پہلا دن بلکہ رات تھی اور وہ ایسے پھیل کے میرے کمرے میں سوئی ہے جیسے یہ کمرہ شروع سے اسی کا ہو اور ایسے پٹر پٹر مجھے جواب دے رہی تھی کہ سوچ ہے تمہاری مجھے بالآخر اسے بتانا پڑا کہ میں کون ہوں …..؟ ؟ حالانکہ پھر بھی اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑا کہ میں اس کا “باس” ہوں مگر کچھ شرم آ ہی گئی تھی. مجھے تو ترس آ رہا ہے پتہ نہیں اس نے گل کا میرے پیچھے کیا حشر کیا ہو گا …… ؟؟ میر کے لہجے میں اچانک گل کے لیے ہمدردی در آئی. ویسے بڑے افسوس کی بات ہے. عزین اچھی خاصی معصوم اور بھولی بھالی سی ہے مگر آپ نے اس کا حلیہ کافی برا کھینچا ہے. وہ ایسی نہیں جیسی آپ اسے بتا رہے ہیں. بہت ہی اچھی کوآپریٹو اور دوسرے کا احساس کرنے والی لڑکی ہے. میر دیکھ لینا یہ لڑکی تمہارے بہت کام آئے گی اور مجھے تو لگتا ہے کہ تمہیں اس سے “محبت” ہو جائے گی. حاشر کی بات پر میر نے چونکتے ہوئے اسے دیکھا محبت اور مجھے وہ بھی تمہاری اس اسسٹنٹ سے ناممکن ہو ہی نہیں سکتا. میر نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے حاشر کی طرف دیکھا شرط لگا لو حاشر نے چیلنج کیا.
لگی شرط میر نے فوراً حامی بھری. ہارنے کی صورت میں تم جو کہو گے وہ میں کروں گا اور جیتنے کی صورت میں، میں تبھی تمہیں بتاؤں گا کہ مجھے تم سے کیا چاہیے …..؟؟ حاشر کی بات پر میر طنزاً مسکرایا. سب مطلب کے یار ہیں. مجھے تو سارے ہی مطلبی ملے ہیں. چلو لگی شرط اور تم ہارنے کے لیے تیار ہو جاؤ تمہاری سوچ ہے کہ میں تمہیں کیا کرنے کو کہوں گا …… ؟؟ میر نے کھڑے ہوتے ہوئے حاشر سے ہاتھ ملایا تم جو بھی کہو گے میں کرنے کو تیار ہوں مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ مجھے تم سے کیا چاہیے ……؟ ؟ حاشر نے اپنی بات ادھوری چھوڑتے ہوئے میر کی آنکھوں میں دیکھا ایسی نوبت ہی نہیں آئے گی. میر نے حاشر کا ہاتھ دباتے ہوئے چھوڑا تو وہ مسکرا دیا مجھے تم سے ہارنے میں مزہ آتا ہے. میں تم سے جیتنا بھی نہیں چاہتا مگر پتہ نہیں کیوں اس دفعہ دل کہتا ہے کہ میں تم سے جیت جاؤں گا. حاشر نے آنکھ مارتے ہوئے کہا اور آفس سے باہر نکل گیا جبکہ میر اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگا 🎭🎭🎭🎭 میر کو تم نے پرپوز کیا تھا یا میر نے تمہیں …..؟ ؟ گل کو جو بات اتنے دنوں سے پریشان کر رہی تھی وہ بالآخر اس کی زبان پر آ گئی. آپ کے خیال سے میر کو کوئی پرپوز کر سکتا ہے وہ بھی اس کی اجازت کے بغیر عزین نے ہلکے پھلکے سے انداز میں گل کو جواب دیا.
مطلب میر نے تمہیں پرپوز کیا ہے. بہت لکی ہو. گل کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ عزین چونکی
لکی عزین نے گل کی طرف دیکھتے ہوئے دہرایا وہ دونوں اس وقت لان میں بیٹھیں موم پھلیاں کھا رہیں تھیں. ہاں لکی کیوں کہ میر جیسا شخص کسی لڑکی کو چاہے تو پاؤں زمین پر نہیں پڑتے. گل کے جواب پر عزین ہنسے لگی اسی لیے آپ کے پاؤں زمین پر نہیں پڑتے عزین کا اشارہ گل کی ویل چئیر کی طرف تھا.
کیا مطلب ہے تمہارا گل ایک دم تلخ ہوئی. میرا مطلب یہ ہے کہ میر آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ بقول آپ کے “پاؤں زمین پر نہیں پڑتے”. عزین نے گلا صاف کرتے وضاحت دی تو گل کے سخت تاثرات میں کچھ نرمی آئی. ایک بات پوچھو اگر آپ کو بری نہ لگے تو عزین نے گل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
بری بات پوچھو گی تو بری ہی لگے گی. گل کا لہجہ اب کی بار بہت سرد تھا.
جب میر اور آپ دونوں ایک دوسرے سے اتنی محبت کرتے ہیں تو میرا مطلب ہے کہ میر کو دوسری شادی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ….؟؟ عزین کے سوال پر گل ہنسنے لگی اور اس کی ہنسی میں پاگل پن تھا.
میں نے میر کو زور دیا تھا دوسری شادی کے لیے، تو وہ مجھے انکار نہ کر سکا کیونکہ وہ میری ہر بات مانتا ہے. گل نے اتراتے ہوئے کہا
اصل میں میرے اور میر کے درمیان فزیکل ریلیشن شپ نہیں ہے. تو مجھے لگتا تھا کہ یہ میر ساتھ زیادتی ہے. اس کے بچے ہونے چاہیے جو اس کے وارث بنیں. گل کی بات پر عزین کو شدید حیرت ہوئی.
(یعنی میر جھوٹ بولتا ہے. ویسا کچھ نہیں ہے جیسا وہ کہتا ہے. اس نے یہ شادی بچوں کے لیے کی ہے مگر مجھے وہ بےوقوف بنا رہا ہے. عزین گل کی بات پر دل میں اپنے آپ سے مخاطب ہوئی.) کیا سوچ رہی ہو. میں سچ کہہ رہی ہوں. اگر یقین نہیں ہے تو میر سے پوچھ لینا. تبھی تو میں نے پوچھا تھا کہ تم دونوں میں سے کس نے کس کو پرپوز کیا ہے. ….؟؟ گل کو اپنا تیر نشانے پر لگتا دیکھ کر خوشی ہوئی. میں بھلا کیوں پریشان ہوں گی وہ تو مجھے کچھ یاد آ گیا تھا. میرا موبائل-فون عزین کو اچانک اپنے موبائل کا خیال آیا.
شاید کمرے میں ہو _ گل کے کہنے پر وہ تیزی سے اٹھی اور اندر کی طرف بڑھ گئی.
ہونہہ مجھے بےوقوف سمجھتی ہے. میر اگر تم نے میرے ساتھ کوئی بھی چال چلنے کی کوشش کی تو میں اس لڑکی کی گردن مڑوڑ دوں گی. گل نے کہتے ہوئے سامنے پڑی ٹوکری سے مالٹا اٹھایا. تبھی بلیک کلر کی ویگو گیٹ سے اندر داخل ہوئی.
آپ یہاں اکیلی بیٹھیں ہیں. عزین کو بلا لیتیں _ میر نے لان میں قدم رکھتے ہوئے بلند آواز سے کہا ابھی اندر گئی ہے. اسے کچھ یاد آ گیا تھا. میں سمجھی تمہیں فون کرنے لگی ہے. گل کے کہنے پر لاشعوری طور پر میر نے ہاتھ میں پکڑا اپنا موبائل آن کیا. میں چینج کر لوں پھر بات کرتے ہیں. میر کہتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا. میر نے کمرے میں قدم رکھا تو عزین کارپٹ کو گھور رہی تھی جبکہ موبائل-فون اس کی گود میں پڑا تھا. کیا ہوا ماجد بات نہیں کر رہا …؟؟ میر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے طنز کیا. آپ کا گھر اچھا خاصا بھوت بنگلہ ہے. یہاں جو نظر آتا ہے وہ ہے نہیں اور جو نہیں ہے وہ نظر آتا ہے. عزین نے کھوئےسے لہجے میں کہا تو میر کے واش روم کی طرف بڑھتے قدم رکے. کیا دیکھا ہے تم نے …..؟؟ میر نے عزین کی طرف مڑتے ہو پوچھا تو عزین نے اپنی جھکی گردن اٹھائی دیکھ لیتی تو مر نہ جاتی صرف سنا ہے. عزین کی شکل پر بارہ بج رہے تھے. ڈر گئی ہو یا ڈرامہ کر رہی ہو. اچھی خاصی نوٹنکی ہو تم اتنا تو مجھے پتہ چل گیا ہے. میر کہتا دوبارہ مڑا. گل معزور نہیں ہے _ عزین کے اس جملے پر میر پورے کا پورا گھوم گیا.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.
