Aib E Yaar By Amna Mehmood Readelle50139 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
آج مجھے بڑے عرصے بعد اپنا فلیٹ اپنا اپنا سا لگ رہا ہے. غازی نے خاموش بیٹھی زری کو دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں کہا
کافی بناتے ہیں کیونکہ فلحال میں اسی ساتھ اپنی خوشی سیلیبریٹ کر سکتا ہوں. ماجد تو ڈیوٹی پر ہو گا. غازی نے خود کلامی کرتے ہوئے قدم کچن کی طرف بڑھائے.
ایک سہیلی باغ میں بیٹھی رو رہی تھی اس کا ساتھی کوئی نہیں ہے. آ کر اپنا ساتھی ڈھونڈ لو. غازی نے کافی پھینٹتے ہوئے شرارت سے ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھی زری کی طرف دیکھا جو اسے ہی گھور رہی تھی.
اس کا ساتھی ہے ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں مگر وہ اس کا ساتھ نہیں دیتا. بالآخر زری کے صبر کی بس ہوئی تو وہ بول پڑی.
ایہہہہہہ _ غازی نے آبرو اچکاتے ہوئے اسے دیکھا. اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتا اس کا ٹیبل پر پڑا موبائل بجنے لگا اے لڑکی!!! میری کال اٹینڈ کرو. دیکھو کس کا فون ہے …..؟ ؟ غازی نے کچن میں کھڑے کھڑے زریں سے کہا تو وہ میز پہ پڑے موبائل کو گھورنے لگی. حد ہے میں نے بتایا بھی تھا کہ کال کیسے اٹینڈ کرتے ہے. غازی نے ٹیبل سے موبائل اٹھاتے ہوئے زریں کا ہاتھ پکڑا اور اسی کے ہاتھ سے کال اٹینڈ کی. ہاں بولو تمہیں اس وقت کیا تکلیف ہے کیونکہ بغیر تکلیف کے تم فون نہیں کرتے …..؟؟ غازی کان ساتھ فون لگائے دوبارہ کچن کی طرف چل دیا جب کہ زری نے اداسی سے اس کی پشت کو دیکھا ظاہری سی بات ہے جس طرح میر کی ہر بیماری کا علاج تمہارے پاس ہے بلکل اسی طرح میری تکلیف بھی تمہیں دور کر سکتے ہو. ماجد کی پر سکون آواز سپیکر سے ابھری تو ہنستے ہوئے غازی نے دونوں پیالیوں میں کافی انڈیلی اور ٹرے لیے زری کے پاس آ بیٹھا. ایک مشورہ چاہیے تھا اگر ماجد نے اتنا ہی کہا تھا کہ غازی نے اس کا جملہ اچک لیا
اگر مفت دو تو کیونکہ تم پولیس والے پیسہ دے کر مشورہ نہیں لیتے. غازی نے ہنستے ہوئے چائے کی پیالی زری کے آگے کی تو اس نے ناراضگی سے غازی کی طرف دیکھا
اچھا سنو اگر میں “میر ویلا” پر ریٹ کروں تو تمہارے خیال سے یہ ٹھیک رہے گا …؟؟ جیسے ہی ماجد کے منہ سے یہ الفاظ نکلے غازی کے ہاتھ سے کافی کی پیالی چھوٹتے چھوٹتے بچی
کبھی خواب میں بھی ایسا مت سوچنا ورنہ دوبارہ خواب دیکھنے کے قابل نہیں رہے گا. میر ویلا پر وہ بھی پولیس کی ریٹ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. غازی نے کافی کی پیالی ٹرے میں رکھتے زریں کی طرف دیکھا
تم نے اپنا منہ غبارے کی طرح کیوں پھلایا ہوا ہے …… ؟؟ میں صبح سے نوٹ کر رہا ہوں کہ تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے. میں کسی کو کافی اپنے ہاتھ سے بنا کر نہیں دیتا. شکر کرو کہ تمہارا نام ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو گیا ہے جنہیں غازی کے ہاتھ کی بنی کافی پینے کا شرف حاصل ہوا. غازی نے سپیکر پر ہاتھ رکھتے آہستہ آواز میں زری سے کہا
یار وہ عزین چاہتی ہے کہ میں میر ویلا پر ریٹ کروں. ماجد کی بات سنتے ہی غازی نے حیرت سے موبائل کو کان سے ہٹاتے ہوئے اسے گھورا.
یہ لڑکی تجھے مروائے گی وہ بھی کتے کی موت _ مجھے سمجھ نہیں آتی تو اس جیسی بے وفا لڑکی کی بات پہ اعتبار کیسے کر لیتا ہے….. ؟ غازی نے زری کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا غازی تو پہلے میری بات غور سے سنو پھر مجھے بتا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے …..؟؟ ماجد نے کہتے ساتھ ہی نون سٹاپ بولنا شروع کیا جبکہ ماجد کی بات سنتے اور زریں کا پھولا ہوا چہرہ دیکھتے غازی نے کافی پینا شروع کی. تیری بات سننے کے بعد مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کس کے ساتھ ہمدردی کروں. اپنے ساتھ، میر ساتھ یا تیرے ساتھ غازی نے پیالی خالی کرتے ہوئے ٹیبل پر رکھی.
تم اپنے اپنے دوست کی سن لوں. زری اٹھ کر جانے لگی تو غازی نے اپنی ٹانگیں اس کے راستے میں حائل کرتے ہوئے اسے روکا
کیا مطلب ہے تیری بات کا ماجد نے الجھتے ہوئے پوچھا
تیری اس جیمز بانڈ نما لڑکی نے میری روزی پر بھی لات مار دی ہے. اگر یہ مسئلہ اس طرح حل ہو گیا تو میں میر کی بیوی کو قتل نہیں کروں گا اور اگر میں اسے قتل نہیں کرتا تو مجھے پیسے نہیں ملیں گے لہذا مجھے اپنے آپ ساتھ ہمدردی ہو رہی ہے. غازی کی بات پر زری نے اسے گھور کر دیکھا تو غازی نے سر کو خم دیا جیسے وہ زری سے داد وصول کر رہا ہو.
میر ساتھ اس لیے ہمدردی ہے کہ بیچارے کے اپنے ہی اسے دھوکہ دے رہے ہیں. انسان بظاہر جتنا مرضی مضبوط ہو وہ باہر کے لوگوں کی بے وفائی تو برداشت کر لیتا ہے لیکن اپنوں کی نہیں.
اور تیرے ساتھ اس لیے ہمدردی ہے کہ میں نہیں چاہتا وہ چڑیل تیرے حصے میں آئے. اچھا خاصا تو شریف انسان ہے مگر وہ تجھے بھی خراب کر دے گی بلکہ تباہ برباد کر دے گی. اپنی بات کی آخر میں میر نے باقاعدہ افسوس سے سر ہلایا جبکہ زریں ابھی تک کھڑی تھی.
غازی وہ بری نہیں ہے بس اس نے برا راستہ اختیار کیا تھا مگر وہ بھی کسی کی بھلائی کے لیے _ ماجد نے عزین کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی جب کہ وہ جانتا تھا کہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہو رہا. میں نے جو مشورہ دینا تھا دے دیا ہے. آگے تیری مرضی اور کون اچھا ہے اور کون برا، کون لالچی ہے اور کون مطلب پرست _ یہ کبھی اپنے دل سے پوچھنا وہ تجھے مجھ سے بہتر جواب دے گا. غازی نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا جبکہ ماجد گہری سوچ میں ڈوب گیا. اب بتاؤ تمہیں کیا ہوا ہے …… ؟؟ غازی نے زری کا ہاتھ کھینچتے ہوئے اسے اپنے قریب بیٹھایا مجھے ماسی کی بہت یاد آرہی ہے. میں نے گاؤں جانا ہے. زری نے کہتے ہوئے باقاعدہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا تو غازی پریشان ہو گیا. اس کا آج سے پہلے ایسا کوئی تجربہ نہیں تھا کہ روتی لڑکی کو کیسے چپ کرایا جاتا ہے …… ؟؟ اس میں رونے والی کیا بات ہے یہ بات تم مجھے آرام سے بھی کہہ سکتی تھیں. غازی نے کافی کی پیالی اٹھاتے ہوئے زری کے آگے کی. پتہ نہیں تم یہ کالا پانی کیسے پی لیتے ہو. مجھے یہ کڑوا لگتا ہے. میں نے نہیں پینا. زری نے ہاتھ مارتے ہوئے پیالی کو پیچھے کیا. پاگل لڑکی اگر میرے اوپر گر جاتی تو غازی نے پیالی دوبارہ ٹرے میں رکھتے ہوئے اپنا ہاتھ جھاڑا اور ماجد کو کال ملائی.
میں نے سوچا اگر تو یہاں رہا تو اکیلے سوچ سوچ کے مر جائے گا یا اپنی اس چڑیل کی کسی گیم کی نظر ہو جائے گا لہذا میں تجھے لے کر گاؤں چلا جاتا ہوں. کیا خیال ہے گاؤں چلیں. غازی نے کال اٹینڈ ہوتے ہی ایک سانس میں پوچھا
یار مجھے گاؤں نہیں جانا. وہاں جا کر مجھے عجیب گھبراہٹ کا احساس ہوتا ہے. مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں نے وہ تمام چیزیں پہلے بھی کبھی دیکھی ہیں.
میرے لاشعور میں بہت سارے واقعے اور مناظر محفوظ ہیں. مجھے تنگی ہوتی ہے. میرا سر دکھنے لگتا ہے. ماجد نے اپنی کنپٹی دباتے ہوئے معذرت کی.
بہت برا ڈرامہ ہے تو قسم سے، ماجد میرا دل کر رہا ہے میں تیرا سر توڑ دوں. میں تجھ سے پوچھ نہیں رہا بلکہ تجھے بتا رہا ہوں کہ میں تجھے ایک گھنٹے کے اندر اندر پک کرنے آ رہا ہوں. اپنا سامان پیک کر لے. ورنہ میں تجھے پیک کر کے گاڑی میں ڈال لوں گا. غازی نے کہتے فون بند کیا تو زری کے آنکھوں میں خوشی چمکنے لگی.
اففففف _ میں لڑکیوں کے اس جذباتی پن سے سخت تنگ ہوں. ایک منٹ میں بارش برس رہی ہوتی ہے اور دوسرے منٹ میں غازی سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ زریں کی خوشی دیدنی تھی. وہ ایک ماہ بعد ماسی سے ملنے جا رہی تھی
🎭🎭🎭🎭
گل تمہیں نہیں لگتا کہ ہمیں اب میر ویلا چھوڑ دینا چاہیے. غلام علی نے گل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
غلام علی تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا. ہم میر ویلا چھوڑ کے کہاں جائیں گے. جتنا آرام و سکون ہمیں یہاں نصیب ہے اور کہاں ملے گا…..؟ ؟ گل نے غصے سے غلام علی کی طرف دیکھا اور دوبارہ پھولوں کے ساتھ کھیلنے لگی
پتہ نہیں کیوں مگر مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے کوئی طوفان تیزی سے میر ویلا کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ ہم سب کو بہا کر لے جائے گا.
اس سے پہلے کہ وہ طوفان ہم کو جدا کر دے کیوں نہ ہم حویلی لوٹ جائیں. غلام علی کی بات پر گل نے ہنستے ہوئے پھولوں کا گلدستہ بنا کر گلدان میں ڈالا
غلام علی یہ جو میر ہے نااااا اسے طوفانوں سے نپٹنا آتا ہے اور ویسے بھی میرا اس اجاڑ حویلی میں جانے کو بالکل بھی دل نہیں کرتا. اب اس حویلی میں کیا ہے. صرف یادیں وہ بھی تلخ قسم کی یا آغا جان کی چیخیں. مجھے تو حویلی کا سوچتے ہی وحشت ہونے لگتی ہے. سچ پوچھو تو مجھے بھی آغا جان کے لیے بہت برا لگتا ہے. میں نے سردار بیگم کو منع بھی کیا تھا اور بھی کئی راستے تھے مگر شیر علی نے ان کی بات پر عمل کرتے ہوئے مشکل راستے کا انتخاب کیا. وہ خود بھی مصیبت میں ہیں اور ہم سب بھی ان کی وجہ سے سولی پر لٹکے ہوئے ہیں. میر نے آج نہیں تو کل، واپس لوٹ جانا تھا اور آغا جان ان کی کتنی زندگی باقی رہ گئی تھی. ایک بیمار بوڑھا ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتا تھا مگر سردار بیگم پر تو بھوت چڑھا ہوا تھا. حویلی اور گاؤں کے لوگوں پر راج کرنے کا اگر یہ سب سیدھا راستہ اختیار کرتے تو آج صورتحال بہت مختلف ہوتی ہے.
میر باہر اپنی گرل فرینڈ ساتھ اپنی ایک خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہا ہوتا. میں اور شیر علی بھی حویلی میں اپنے بچے کھیلا رہے ہوتے اور سردار بیگم کا راج پورے گاؤں پر ہوتا. گل نے کھوئے سے انداز میں کہا
اور میں میں کہاں ہوتا. میرا تو وجود اس پوری کہانی میں کہیں بھی نہیں ہے. کیا میں آپ سب کو لوگوں کے لیے فالتو ہوں …… ؟؟
کتنی قربانیاں دی ہیں میں نے آپ سب لوگوں کے لیے، جو کچھ سردار بیگم نے کہا میں نے وہ کیا. گل آج تک میں تمہارے خلاف نہیں گیا. تمہاری ہر بات پر امین کہی. شیر علی کی زیادتیاں بھی میں نے چپ کر کے برداشت کی مگر میرا وجود تو آپ کی کہانی میں کہیں بھی نہیں ہے. غلام علی کا گلا کرتا لہجہ گل کو پہلی بار چونکنے نے پر مجبور کر گیا
یہ تم کس طرح بات کر رہے ہو. تمہاری باتوں سے بغاوت کی بو آرہی ہے .غلام علی تم ہم سب میں سے ہو. ہم سب ایک ہیں.گل نے میز پر پڑیں بیکار ٹہنیاں ٹوکری میں پھینکیں.
میرے ساتھ بھی تم سب لوگ وہی سلوک کرتے رہے ہو. جو ابھی ابھی تم نے ان ٹہنیوں ساتھ کیا ہے. پھول توڑ کے گلدان میں سجا لیے اور باقی سب کوڑے کی نظر کر دیا.
میرے سینے میں بھی دل ہے. میرے بھی کچھ جذبات ہیں. مگر تم میں سے کسی کو دکھائی ہی نہیں دیتا. سب چاہتے ہیں کہ میں ان کا کام کروں. ان کے بارے میں سوچوں. ان کی بہتری کے لیے کوشش کروں مگر میرے لیے کون کوشش کرے گا.
میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اپنے لیے خود سوچوں گا. اب میں وہ کروں گا جو مجھے ٹھیک لگے گا. تمہاری اور سردار بیگم کی بہت باتیں مان لیں. نتیجہ صفر نکلا. اب میر کا بندوبست میں اپنے طریقے سے اور خود کروں گا اور دیکھنا اس بار جیت میری ہوگی. غلام علی کے جارحانہ رویے پر گل پریشان ہو گئی.
تم کچھ نہیں کرو گے. غلام علی تم میں اتنی عقل نہیں ہے. خدا کے لیے شیر علی کی طرح بنا بنایا کھیل بگاڑ مت دینا. پتہ نہیں تم دونوں بھائی دماغ سے کیوں نہیں سوچتے …… ؟؟
سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے. میری پوری کوشش ہے کہ میر باہر کے ملک چلا جائے یا کسی نہ کسی طرح الزام میر کی دوسری بیوی پر آئے اور سردار بیگم جیل سے باہر آ جائیں.
اگر تم نے اس موقع پر ذرا بھی جلد بازی سے کام لیا یا شیر علی کی طرح کوئی بھی بے وقوفانہ حرکت کی تو ساری گیم الٹ جائے گی. یاد رکھنا شطرنج کی گیم ایک بار خراب ہو جائے تو دوبارہ اس کو سیٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے. گل کے سمجھانے پر شیر علی طنزیہ مسکرایا
گل میں تمہیں آج ایک بات بتاتا ہوں. شاید تم خود بھی اس بات سے بے خبر ہو یا تم اس کا اقرار نہیں کرنا چاہتی.
تمہیں نہ شیر علی سے محبت تھی. نہ مجھ سے ہمدردی بلکہ تمہاری تمام ہمدردیاں اور محبتیں صرف اور صرف میر ساتھ ہیں.
جب بھی کوئی میر کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو تمہیں سخت برا لگتا ہے. شیر علی نے میر کو مارنا چاہا تو تم اس کے آگے آ گئیں. اسی بات کا دکھ شیر علی کو تھا. وہ تمہاری بےوفائی برداشت نہ کر سکا اور تم پر گولی چلا دی.
اب اگر میں نے میر کے بندوبست کا ذکر کیا تو تمہیں بہت ناگوار گزرا، حقیقت یہ ہے کہ تم میر کو پسند کرتی ہو. مگر تم اس بات کا اقرار نہیں کرتی کیونکہ تمہاری انا اڑے آ جاتی ہے. تم میر سے عمر میں بڑی ہو اور یہی بات تمہیں روکتی ہے. غلام علی کی باتوں پر گل کے چہرے کا رنگ سرخ پڑ گیا.
دفع ہو جاؤ یہاں سے تمہارا دماغ خراب ہے اور میرا بھی کر رہے ہو. خبردار جو آئندہ اس طرح کی بیہودہ گفتگو میرے ساتھ کی تو میں تمہارا منہ توڑ دوں گی. اب یہاں سے چلے جاؤ. میں مزید تمہیں دیکھنا نہیں چاہتی. گل نے کہتے ہوئے اپنا رخ موڑ لیا
سچ ہمیشہ ہی کڑوا ہوتا ہے. انسان خود کو کتنا ہی سچا ظاہر کرے مگر سچائی اس سے برداشت نہیں ہوتی. خیر میں نے تمہیں یہ کہنا تھا کہ اگر میں کسی مصیبت میں پھنسا تو میں شیر علی کی طرح چپ چاپ جان نہیں دوں گا بلکہ آپ کو اپنے ساتھ لے کر ڈوبوں گا. غلام علی کہتا تیزی سے باہر نکل گیا جب کہ گل نے شدید تکلیف اور کرب سے اپنی آنکھیں موند لی.
میر میری شروع سے اب تک ایک ہی خواہش رہی ہے کہ میں تمہیں شیر علی کی طرح خون میں لت پت نہ دیکھوں. تم پاکستان سے چلے کیوں نہیں جاتے. ایک تمہارے جانے سے سب کی زندگیوں میں سکون آ جائے گا. گل نے آنکھیں کھولتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے ابھی ابھی غلام علی گیا تھا.
🎭🎭🎭🎭
میر یہ سب کیا ہے. تم نے ہمیں یہاں کیوں اکٹھا کیا ہے. اگر کوئی بات کرنی ہے تو تم خود کرو. اس طرح اپنی بیوی کے ہاتھ ہمیں بےعزت مت کرواؤ. اگر اب ہمارا وجود برداشت نہیں ہو رہا تو ہم حویلی چلے جاتے ہیں. گل نے تیکھے لہجے میں زریں کی طرف دیکھتے ہوئے میر سے کہا تو وہ اپنی کنپٹی دبانے لگا
گل آپ شاید بھول جاتی ہیں کہ آپ میری عزت ہیں اور کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ میر کی عزت سے کھیلے. عزین نے محض کچھ باتیں کرنی ہیں اور میں چاہتا ہوں
کہ وہ آپ سب کے سامنے کہے.
اگر وہ جھوٹی ثابت ہوئی تو میں ابھی اسی وقت اسے گولی مار دوں گا. جب کہ دوسری صورت میں _ میر نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا چلو اب بولو بھی، میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے. عزین کو خاموش کھڑا دیکھ کر میر نے سرد لہجے میں کہا تو وہ اپنا گلا صاف کرنے لگی مجھے زندگی میں کبھی اتفاق نہیں ہوا اتنے “بڑے” میرا مطلب ہے کہ “پیسے” والے لوگوں سے خطاب کرنے کا تو اس لیے تھوڑا عجیب سا لگ رہا ہے. خیر عزین کے باتوں پر میر نے اسے گھور کر دیکھا
سب سے پہلی بات جو میں آپ سب کو بتانا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر میں یہاں پولیس کی ریٹ ہوگی. جیسے ہی یہ جملہ عزین کے منہ سے نکلا میر جو اپنا سر دبا رہا تھا ایک دم غصے سے کھڑا ہو گیا
حاشر کے باس!!! ٹکٹ ایزی زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے. مجرم کو پکڑنے کے لیے پولیس کی ضرورت پڑتی ہے. پولیس آپ کی اجازت سے ہی اندر آئے گی. میرے بتانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ بھاگنے کی کوئی کوشش نہ کرے کیونکہ بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا. عزین نے میر کی طرف دیکھتے ہوئے قدر نرم لہجے میں انفارم کیا میر یہ سب کیا ہے. کون مجرم اور پولیس یہاں کیوں آئے گی. ہم چاروں کے علاوہ یہاں پر ہے ہی کون اور ہم چاروں میں سے کون مجرم ہے. میر یہ سب کیا ہے …..؟ ؟ گل نے شدید غصے سے پوچھا تو میر اس کی طرف پلٹا گل صرف چند منٹ صبر کر لیں. مجھے لگتا ہے کہ میں عزین کو تھوڑی دیر میں گولی مار دوں گا. میر نے ضبط سے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنائی تو اس کی رگیں پھولنے لگی. (یہ بھی سہی ہے. مجھ بیچاری کو خامخواہ گولی ماریں گے. میں نے کیا کیا ہے ….؟؟ حاشر کا باس پاگل
گل نے دل میں سوچتے ہوئے میر کی پشت کو دیکھا)
سب سے پہلی اور انتہائی ضروری بات جو میں آپ سب کو بتانا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ گل یعنی مسز میر طلال معذور نہیں ہے.
اور دوسری بات “تیسرا شخص” ہم میں ہی موجود ہے اور وہ تیسرا شخص کوئی اور نہیں بلکہ غلام علی ہے. عزین کی بات پر سب پھٹی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے.
کم از کم میرے لیے تالیاں ہی بجا دیں. عزین نے
باری باری سب کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا جو اسے خونخوار نظروں سے گھور رہے تھے.
یہ کیا بکواس ہے. لڑکی تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے. سب سے پہلے غلام علی نے ہوش میں آتے ہی چیخ کر کہا
غلام علی صبر کرو. یہ ہمیں اپنے ہر الزام کا ثبوت دے گی ورنہ دوسری صورت میں میں بتا ہی چکا ہوں کہ کیا ہوگا …..؟؟ میر نے اپنی گن لوڈ کرتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھی
گل چل سکتی ہیں اور مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے معذوری کا ڈھونگ کیوں رچایا. اس بات کا جواب تو وہ ہی دے سکتیں ہیں.
ہاں البتہ اگر آپ لوگوں کو یقین نہیں آتا. تو میں ایک فوٹیج میر سے شیئر کر دیتی ہوں. وہ دیکھ لیں. جیسے ہی عزین کے منہ سے یہ الفاظ نکلے گل کے ماتھے اور ہتھیلیوں پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے.
میر یہ جھوٹ بول رہی ہے. ایسا کچھ نہیں ہے. میں سچ کہہ رہی ہوں. تمہیں مجھ پہ اعتبار ہے نااااا گل نے میر کی طرف دیکھتے ہوئے مان سے پوچھا تو میر سر ہلانے لگا گل آپ پریشان نہ ہوں اور اسے بولنے دیں. میں نے کہا نااااا تھوڑا صبر کریں. زندگی میں پہلی بار میر کی تسلی سے گل کو تسلی نہیں ملی تھی اور وہ پریشان نظروں سے میر کو دیکھنے لگی میر یہ فوٹیج نقلی ہے. تمہیں قسم ہے تم کوئی فوٹیج نہیں دیکھو گے. یہ لڑکی مکار ہے، جھوٹی ہے، دھوکے باز ہے. گل نے عزین کو کوسنا شروع کر دیا آپ تو ابھی سے پریشان ہو گئی ہیں. ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے. عزین نے کہتے ہوئے میر کی طرف دیکھا جو اسے خشگمین نظروں سے گھور رہا تھا. ٹھیک ہے میں نے مان لیا کہ گل چل سکتی ہیں. اب آگے کہو کیا کہنا چاہتی ہو …..؟ ؟ میر نے عزین کی طرف دیکھتے ہوئے اسے کہا چلنے کا گل کو بولیں. میں تو چل سکتی ہوں. عزین نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے میر کی طرف دیکھا تو اس نے اپنا ہاتھ گن کی طرف بڑھایا. اس سے پہلے کہ میر گن کو پکڑتا غلام علی نے گل کے سر پر گن تان لی. غلام علی یہ کیا کر رہے ہو. تم ہوش میں تو ہو. تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ……؟ ؟ گل نے غلام علی کی حرکت پر چیخ کر کہا تو عزین اور میر دونوں اس کی طرف متوجہ ہوئے غلام علی وہ غلطی مت دہرانا جو شیر علی نے کی تھی. اپنی گن نیچے کرو. تم اچھے سے جانتے ہو کہ میری زندگی میں گل کی کیا اہمیت ہے اور جو لوگ میری زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں اگر ان کی طرف کوئی گندی نظر سے دیکھے تو میں ان کا کیا حال کرتا ہوں …… ؟؟ میر نے سر ترین لہجے میں کہتے ہوئے اپنا ہاتھ گن کی طرف بڑھایا آج پانچ سال بعد دوبارہ وہی صورتحال بن گئی ہے. جو اس دن حویلی میں بنی تھی. یاد کرو میر!!! سب کچھ تقریباً ویسا سا ہی ہے. میر کو غلام علی اس وقت کوئی ذہنی مریض لگا ہاں یہ لڑکی جو بھی بول رہی ہے. سچ بول رہی ہے. گل واقعی ہی چل سکتی ہے مگر شاید آج کے بعد نہ چل سکے کیونکہ غلام علی نے پاگلوں کی طرح ہنسنا شروع کر دیا.
میں ہی تیسرا شخص ہوں. میں نے تم سب کو کنفیوز کرنے کے لیے “میر” کا حلیہ اپنایا. میر کی چیزوں کو چوری کرنا. چوری چھپے میر کا پرفیوم استعمال کرنا. میرا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے تمہاری یہ دوسری بیوی ذہنی مریض بن جائے گی تو ہمیں تمہیں راستے سے ہٹانے میں آسانی رہے گی مگر یہ ضرورت سے زیادہ تیز نکلی. غلام علی کی بات پر میر کی آنکھوں میں سرخ ڈورے بڑھے
اور میر تم یہ مت سمجھنا کہ گل تمہارے ساتھ مخلص ہے.یہ آغا جان کے قتل میں سردار بیگم کے ساتھ ملی ہوئی تھی. یاد کرو میر تمہیں لان میں کون لے کر گیا تھا ……؟ ؟ غلام علی کے کہنے پر گل نے تیزی سے سر نفی میں ہلایا
میر یہ جھوٹ بول رہا ہے. میں ایسی نہیں ہوں. نہ ہی مجھے آغا جان کے قتل کا پتہ تھا. گل نے تیزی سے سر نفی میں ہلانا شروع کیا تو غلام علی نے گن زور سے گل کے سر پر ماری.
غلام علی _ میر نے چیختے ہوئے گن تیزی سے اٹھائی اور پھر لاؤنج میں گولی چلنے کی آواز آئی جس سے پورے لاؤنچ میں سکوت چھا گیا.
چند لمحوں بعد جب سب کو ہوش آیا تو سب سہی سلامت تھے پھر گولی کس کو لگی……؟ ؟ میر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی گن کو دیکھا پھر غلام علی اور گل کی نظروں کے تعاقب میں، تبھی پولیس سائرن کی آواز سنائی دینے لگی.
میر ایک بار پھر بیوی قتل کے الزام میں جیل جانے کی تیاری کرو. میں نے کہا تھا نا پانچ سال بعد دوبارہ تاریخ اپنے اپ کو دہرانے لگی ہے. غلام علی کے کہنے پر میر نے اپنی دائیں طرف دیکھا تو عزین خون میں لت پت پڑی تھی.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.
