Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

پاشا _ میر نے ہوش میں آتے ہی چیختے ہوئے سیکورٹی انچارج کو آواز دی اور خود عزین کو اٹھانے لگا جو ہوش کی دنیا سے بیگانہ تھی. تم دونوں کو اس سب کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی. میر نے کہتے ہوئے عزین کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور باہر کی طرف چل دیا. سر باہر پولیس آئی ہے اس سے پہلے کہ میر لاؤنچ سے باہر قدم رکھتا سیکورٹی انچارج پاشا نے اندر داخل ہوتے ہوئے تیز آواز میں کہا
پولیس کو اندر بھیج دو. ان کے مہمان یہاں موجود ہیں اور تم گاڑی نکالو جلدی. میر کی شرٹ عزین کے خون سے رنگتی جا رہی تھی.
غلام علی تم نے بھی وہی حرکت کی جو شیر علی نے کی تھی. اب اگر اس لڑکی کو کچھ ہو گیا تو ساری زندگی جیل میں سڑنا پڑے گا. میں آگے ہی سردار بیگم کی وجہ سے پریشان ہوں اور اب تم _ گل نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا جبکہ غلام علی ہاتھ میں گن تھامے چپ چاپ کھڑا تھ. ا نہ اس کے پاؤں میں کسی قسم کی کوئی حرکت تھی اور نہ چہرے کے تاثرات میں تبدیلی آئی تھی. ماجد نے جیسے ہی اپنی ٹیم ساتھ اندر قدم رکھا میر کو اپنی گاڑی پاس پریشان حال پایا. انسپکٹر اس سے کہ ماجد لاؤنچ میں داخل ہوتا میر کے پکارنے پر رکا.
انسپیکٹر گل میری بیوی ہے اور اس نے کچھ نہیں کیا. آپ میری عزت کا ضرور خیال رکھیے گا. باقی جو قانونی تقاضے ہیں وہ پورا کر لیں. میں کچھ دیر تک آپ سے ملتا ہوں بلکہ میرا وکیل آپ کے پاس خود آ جائے گا. میر نے کہتے ہوئے حاشر کا نمبر ڈائل کیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا جب کہ میر کی شرٹ پہ لگا خون ماجد کو الجھا گیا
خبردار!!! اگر تم میں سے کسی نے بھی مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی یا مجھ پر گولی چلائی تو میں اس لڑکی کو گولی مار دوں گا. غلام علی نے پسٹل گل کے سر پر رکھتے ہوئے اپنے ارد گرد کھڑے سیکورٹی اہل کاروں کو دھمکایا جبکہ حیرت سے گل کی آنکھیں پھیل گئیں.
اپنی خیریت چاہتے ہو تو ہتھیار ڈال دو. ماجد نے اندر داخل ہوتے ہی غلام علی سے کہا جبکہ غلام علی اور گل کے صحیح سلامت ہونے پر اسے عزین کی کمی کا شدت سے احساس ہوا.
سارے گھر کی تلاشی لو ماجد نے اہلکاروں کو حکم دیتے غلام علی پر گن تان لی. اگر تم لوگوں نے میرا راستہ نہ چھوڑا تو میں اسے گولی مار دوں گا اور تم پاشا تم مجھ سے بےوفائی کروں گے. یاد کرو جب تم میرے پاس نوکری کے لیے آئے تھے ….؟؟ غلام علی کی بات پر پاشا نے خاموشی سے سر جھکا لیا.
غلام علی اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دو. میں آخری بار تمہیں کہہ رہا ہوں. ماجد نے غلام علی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا
اگر اب تم نے میری طرف ایک بھی قدم بڑھایا تو میں اسے سچ مچ گولی مار دوں گا. غلام علی نے چیختے ہوئے گل کا بازو زور سے پکڑا تو وہ بھی چیخ اٹھی.
سر سارا گھر چھان مارا ہے کوئی نہیں ہے. جو بھی ہے بس یہیں ہے. اہلکاروں نے واپس لوٹتے ہوئے ماجد کو انفارم کیا تو اس نے حیرت سے زمین پر پڑے خون کی طرف دیکھا
تو پھر یہ خون کس کا ہے …… ؟؟ ماجد نے گل اور غلام علی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو بالکل ٹھیک ٹھاک دکھائی دے رہے تھے.
سر یہ خون میر صاحب کی دوسری بیوی کا ہے. انہیں گولی لگی ہے. جیسے ہی پاشا کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ماجد کو اپنی دھڑکن کانوں میں سنائی دینے لگی. اس سے پہلے کہ کوئی بھی کچھ سمجھتا ماجد نے بغیر دیکھے غلام علی پر گولی چلا دی
گولی لگتے ہی غلام علی ریت کی دیوار کی طرح زمین پر بیٹھتا چلا گیا جبکہ غلام علی کی گرفت ڈھیلی پڑنے پر گل فورا ویل چیئر سے اٹھ کر اندر کی طرف بھاگی اور یہ منظر بہت حیرت سے پاشاہ نے دیکھا
ماجد کے چہرے پر طنزیہ ہنسی تھی. ماجد کے لیے یہ منظر حیران کن نہیں تھا کیونکہ عزین اسے اس بارے میں پہلے ہی بتا چکی تھی.
اسے فورا گرفتار کر کے ہسپتال لے چلو.ماجد اہلکاروں کو حکم دیتا تیزی سے باہر کی طرف نکل گیا.
کتنا سمجھایا تھا اس لڑکی کو میں نے مگر اسے میری باتیں سمجھ ہی کب آتی ہیں. پاگل بے وقوف لڑکی!!! نہ جانے کس حال میں ہوگی……؟ ؟ ماجد دل میں سوچتا تیزی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا.
🎭🎭🎭🎭
حاشر یار بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے
جیسے یہ حاشر نے کال اٹینڈ کی میر کی بہت اداس اور سنجیدہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی. میر تو ٹھیک ہے ناااااا کہاں ہے تو …… ؟؟ حاشر نے پریشانی سے پوچھا جس پر میر پھیکا سا مسکرایا
میں تو ٹھیک ہوں مگر وہ ٹھیک نہیں. میر نے بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے اپنی آنکھیں زور سے بند کی.
کون گل تو ٹھیک ہے ناااااا کیا ہوا ہے اسے …… ؟؟ حاشر جانتا تھا کہ میر اب صرف گل کے لیے ہی پریشان ہو سکتا ہے.
گل تو ٹھیک ہے مگر وہ __
میر کے منہ سے عزین کا لفظ نہیں نکل رہا تھا. جس کی اتنی برائیاں وہ کرتا رہا ہے. اب اس کی ہمدردی کس منہ سے کرے وہ بھی حاشر ساتھ، میر نے خاموشی سے آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کی طرف دیکھا
میر کیا ہو گیا ہے کچھ تو بول کیوں اتنا خاموش ہے. میر کی طویل خاموشی پر حاشر نے دوبارہ پوچھا
یارررر وہ عزین کو گولی لگ گئی ہے. میر قدرے آہستگی سے کہا
کیا مگر کیسے …؟؟ حاشر کے لیے یہ خبر حیران کن تھی.
یار میں نے غازی سے کہا تھا کہ صرف ڈرانا ہے مگر شاید اس کا نشانہ _ میر کے لہجے میں واضح شرمندگی تھی. میر تو نے یہ کیا کیا ہے اور کیوں …..؟؟ حاشر کو دکھ ہوا ابھی میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ کیا اور کیوں کا جواب دوں. بس تو ایسا کر کہ فوراً غلام علی کی زمانت کروا کر اسے فام ہاؤس چھوڑ آ میر کی بات پر حاشر سر ہلاتا گاڑی کی چابی اٹھانے لگا.
میر فون بند کرتے ہوئے تھکے سے انداز میں بنچ پر بیٹھ گیا. کبھی کبھی ہم سوچتے کچھ اور ہیں اور ہوتا کچھ اور ہے. میں نے یوں پلان نہیں کیا تھا. میر اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اس کا موبائل رنگ کرنے لگا
ہاں پاشا بولو خیریت ….؟؟ میر نے آنکھیں موندتے ہوئے کہا
معزرت میر صاحب مگر اچھی خبر نہیں ہے. پاشا کا لہجہ چونکا دینے والا تھا.
کیا ہوا ….؟؟ میر نے تیزی سے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا چہرے پر واضح گھبراہٹ تھی.
میر صاحب ایک تو غلام علی کو گولی لگ گئی ہے اور دوسرا پاشا نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑتے خاموشی اختیار کی تو میر کا پارہ تیزی سے اوپر چڑھنے لگا جب میں نے سختی سے منع کیا تھا کہ کوئی غلام علی کو کچھ نہیں کہے گا تو کس نے اس پر گولی چلائی اور یہ تمہیں کہاں سے عورتوں جیسی عادتیں پڑ گئی ہیں کہ آدھی بات کر کے آدھی بات ہڈی کی طرح تمہارے گلے میں پھنس جاتی ہے. میر کا غصہ سوا نیزے پر تھا دوسرا سر گل بی بی نے اپنے اپ کو کمرے میں بند کر لیا ہے وہ کمرہ نہیں کھول رہیں. پاشا کے الفاظ گویا پگھلا ہوا سیسہ ا تھے جو میر کے کان میں اترے. اگر گل کو کچھ ہوا تو میں تم سب کی گردنیں اڑا دوں گا. میں آ رہا ہوں. میر نے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلتا دیکھ کر فون بند کیا. ڈاکٹر صاحب سب ٹھیک ہیں ناااااا میر نے ڈاکٹر کے قریب جاتے ہوئے بے چینی سے پوچھا
مسٹر میر سب ٹھیک ٹھاک ہے. کوئی پریشانی والی بات نہیں. وہ اب خطرے سے باہر ہیں. چند گھنٹوں تک وارڈ میں منتقل کر دیں گے. تو آپ ان سے مل سکتے ہیں. ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہتے ہوئے میر کا کاندھا تھپکا اور چل دیا جس پر میر نے سکھ کا سانس لیا
🎭🎭🎭🎭
میں کس منہ سے میر کے سامنے جاؤں گی. اتنے سالوں کی میری ریاضت غلام علی نے پل میں ضائع کر دی. میں کبھی بھی غلام علی کو نہیں بخشوں گی. گل نے پورے کمرے کی شکل بگاڑ کے رکھ دی تھی.
غلام علی نے مجھے اس قابل نہیں چھوڑا کہ میں میر کا سامنا کر سکوں.اس نے مجھے میر کے آگے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیا ہے. مجھے اپنے وجود اپنی زندگی سے نفرت ہو رہی ہے.
میں ایسی زندگی جی کر کیا کروں گی. جس میں مجھے قدم قدم پر شرمندگی کا سامنا ہوگا.مجھے ایسی زندگی نہیں جینی. گل نے اپنے آس پاس نظر دوڑاتے ہوئے چیخ کر کہا
ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے. گل تو نے بالکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے. مجھے اپنی زندگی ختم کر دینی چاہیے مگر میں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی بھی اجیرن بنا کر جاؤں گی.
میں کوئی بے وقوف نہیں کہ خاموشی سے چپ چاپ خودکشی کر کے اس دنیا سے چلی جاؤں بلکہ میں جانے سے پہلے سب کی زندگیوں کو جہنم بنا دوں گی. میر میں تمہیں بھی نہیں بخشوں گی. گل نے دراز سے پیڈ پیپر نکالتے ہوئے اس پر کچھ لکھنا شروع کیا
اب بھلا اس تحریر کو کوئی کیسے جھٹلا سکتا ہے اور کوئی کیسے میری گواہی لے گا کہ یہ سب سچ ہے یا جھوٹ میں قبر سے باہر تو نہیں آ سکتی نااااا. گل نے ابنارمل لوگوں کی طرح پیڈ کی تحریر کو دیکھتے ہوئے قہقہہ لگانا شروع کیا دروازے پہ ہوتی تیز دستک نے اسے خاموش ہونے پر مجبور کیا. وہ یک دم خاموش ہوتی اپنے ارد گرد چیزوں کو گھورنے لگی. جبکہ دروازے کے باہر کھڑی اس کی ملازمہ اسے مسلسل آوازیں دے رہی تھی. خود کو ختم کرنا بہت مشکل ہے مگر گل ہر مشکل کام آسانی سے کر لیتی ہے. گل نے اپنی نبض پر ٹوٹی چوڑی رکھتے ہوئے سوچا اور پھر مسکرا دی. گل دروازہ کھولیں. گل جلدی سے دروازہ کھولیں. مجھے مجبور نہ کریں کہ میں اس کو توڑ دوں. مجھے آپ کی کسی بھی بات کا کوئی غصہ نہیں ہے. نہ میں آپ سے ناراض ہوں. میں سچ کہہ رہا ہوں.گل دروازہ کھول دیں ورنہ میں اس کو توڑ دوں گا. اس سے پہلے کہ گل چوڑی کو اپنی نبض پر پھیرتی باہر سے آتی میر کی آواز اسے منجمد کر گئی. گل میرے لیے یہ بات کوئی نئی نہیں کہ آپ چل پھر سکتی ہیں. میں بہت شروع سے یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ معذور نہیں مگر میں نے آپ کا راز، راز رکھا. آپ کو کسی کے آگے شرمندہ ہونے نہیں دیا. اس لیے پلیز دروازہ کھول دیں اور کوئی الٹی سیدھی حرکت مت کریں. میر نے ملازموں کو دروازہ توڑنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا نہیں میر تم کیا میں کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دوں گی کہ وہ میرے کردار یا مجھ پہ کسی قسم کی کوئی انگلی اٹھائے. مجھے سر اٹھا کے جینے کی عادت ہے سر جھکا کے نہیں. میں نے تمہارے لیے بہت قربانیاں دی ہیں. میں تمہارے لیے اپنوں سے لڑی ہوں. میں نے تمہارے لیے شیر علی کو کھو دیا اور تم نے مجھے بدلے میں کیا دیا. تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے. مجھے نہیں رہنا تمہارے اس گھر میں، میں بہت دور جا رہی ہوں. گل نہیں کہتے ہوئے تیزی سے چوڑی اپنی نبض پر پھیر دی گل کی چیخوں اور دروازے کے ٹوٹنے کی آواز نے پورے میر ویلا میں ایک عجیب سا شور برپا کر دیا. میر کو یہ شور حویلی کے اس شور جیسا لگا جس دن آغا جان اسے چھوڑ کر گئے تھے. کہیں آج اسے گل بھی نہ چھوڑ جائے اپنے خیال پر میر نے تیزی سے سر نفی میں ہلایا. مگر جیسے ہی اس نے کمرے میں قدم رکھا گل کا بے جان وجود کارپٹ پہ پڑا اسے منہ چڑھا رہا تھا.
گل اگر اپ سو قتل بھی کر دیں تو میں آپ کو معاف کر دوں گا. آپ نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی ہے. آپ نے اچھا نہیں کیا. میر نے گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھتے ہوئے چیخ کر کہا جبکہ باقی ملازم ہاتھ باندھے پیچھے کھڑے تھے.
🎭🎭🎭🎭
مشینوں میں جکڑی وہ پھول جیسی لڑکی آج بہت خاموش تھی. جس کے منہ سے 24 گھنٹے پھل جھڑیاں سننے کی ماجد کو عادت تھی.
کاش تم میری بات مان لیتی مگر انسان بہت لالچی ہے. وہ اپنا نقصان اپنی لالچ کے ہاتھوں خود کرتا ہے اور الزام دوسروں کو دیتا ہے. ماجد نے شیشے کی کھڑکی سے اندر جھانکتے دل میں سوچا
اچھی بھلی میری تنخواہ ہے. ہمارا بڑا سکون سے گزارا ہوتا. مگر تمہیں تو عیش عشرت چاہیے تھا. اب بتاؤ اگر لاکھوں دولت میں تمہارے قدموں میں رکھ دوں. تو اس وقت وہ تمہارے کس کام کی …… ؟؟
کاش تم میری باتیں سن سکتی اور میری تکلیف محسوس کر سکتی. میں تم پہ آج کوئی حق نہیں رکھتا مگر پھر بھی مجھے بہت تکلیف ہے. ماجد نے دل میں سوچتے ہوئے اپنی نم آنکھوں کو انگلیوں سے دبایا
ابھی وہ بہت دیر تک عزین سے یوں ہی باتیں کرنا چاہتا تھا مگر اس کی ڈیوٹی اور رشتہ اسے اس بات کی اجازت نہیں دے رہا تھا. تبھی کسی نے اس کے کندھے پر تسلی بخشا رکھا تو وہ پلٹا غازی تو اس وقت یہاں خیریت
تجھے کیسے پتہ چلا کہ زین کو گولی لگی ہے …… ؟؟ ماجد کے پوچھنے پر غازی نے خاموشی سے سر جھکا لیا تو ماجد کی آنکھوں میں سرخ ڈورے مزید گہرے ہوئے
کہیں تو نے تو نہیں، میرا مطلب ہے کہ عزین کو گولی تو نے تو نہیں ماری …… ؟؟ اب کی بار ماجد کے لہجے میں عجیب طرح کا غصہ اور یقین تھا
آئی ایم سوری مگر میں اسے مارنا نہیں چاہتا تھا. میر صاحب کا آرڈر تھا کہ صرف ڈرانا ہے مگر جیسے ہی میں نے فائر کیا وہ اپنی جگہ سے ہل گئی. مجھے خود بھی سمجھ نہیں آئی کہ اس کو کھڑے کھڑے کیا ہوا. وہ خاموشی سے کھڑی تھی مگر پھر _ غازی نے کہتے اپنا سر جھٹکا جب کہ ماجد کی آنکھوں میں شدید غصہ اور نفرت تھی. میں تو سمجھ رہا تھا کہ گولی غلام علی نے چلائی ہے. مفت میں اس بیچارے کو بھی کھانی پڑ گئی. ماجد نے افسوس سے غازی کی طرف دیکھا یہی میر صاحب چاہتے تھے کہ سب کو لگے یہاں تک کہ گل کو بھی کہ گولی غلام علی نے چلائی ہے جبکہ گولی میں نے چلائی تھی. غازی نے اقرار کیا ایک پولیس انسپیکٹر کے سامنے اقبال جرم کرنے کا مطلب جانتے ہو …..؟ ؟ پہلی بار غازی کو ماجد کے لہجے سے اجنبیت محسوس ہوئی گرفتار کرنا چاہو تو میں حاضر ہوں مگر ایک بے وفا لڑکی کی اتنی سزا تو بنتی ہے. غازی نے کھڑکی سے اندر جھانکتے ہوئے عزین کی طرف دیکھا یہ تیرا مسئلہ نہیں ہے _ ماجد نے غصے سے غازی کے سینے پر ہاتھ مارا
تو پھر یہ تیرا مسئلہ بھی نہیں ہے. یہ اب میر کا مسئلہ ہے کیونکہ یہ اس کی بیوی ہے. غازی نے ماجد کو حقیقت کا آئینہ دکھایا
تو یہاں میرے زخموں پہ نمک چھیڑکنے آیا ہے. ماجد نے کہتے ہوئے کوریڈور میں چلنا شروع کیا.
نہیں میں تجھے لینے آیا ہوں. چل گاؤں چلتے ہیں. غازی نے محبت سے ماجد کے کندھے پر بازو پھیلائے تو اس نے غازی کا بازو جھٹک دیا
میں نے تجھے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں نے گاؤں نہیں جانا. ماجد کے لہجے میں ناراضگی تھی.
“یہی حالات ابتدا سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے”
غازی کہتا ماجد کے ساتھ ساتھ چلنے لگا.
🎭🎭🎭🎭
جاری ہے.