Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27 Last

Malayeka Rafi

ادائے عشق ہوں
Season 2
Last Episode

کتنا بدلاؤ تھا ان سب کی زندگیوں میں، سب جیسے مکمل ہو رہے تھے، بدگمانیاں چھٹنے لگی تو محبتیں بھی اجاگر ہونے لگی تھی، زندگی بھی کسی فلم کی طرح ہی ہے، دنیا میں آنا، بچپن کا گزرنا، شعور کی منزل پہ پہلا قدم رکھتے ہی، اس بات کا سمجھ آ جانا کہ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے جس میں مشکلیں بھی ہیں، آسانیاں بھی ہیں، محبتیں بھی ہیں تو نفرتیں بھی، وفا بھی ہے تو بیوفائی بھی، سچ بھی ہے تو جھوٹ بھی۔ اس زندگی کی کتاب میں سب مل جاتا ہیں ہمیں، سوائے اس درد کے، جب کوئی اپنا آپ کو چھوڑ جائے ہمیشہ کے لئے اور اس کے ساکت وجود میں کوئی روح باقی نہ رہے اور نہ سانسیں تو ؟؟
تو آپ اسے کھبی پھر سے نہیں پا سکتے، کھبی نہیں!!
سماہر نے ڈائری بند کر دی اور سامنے کھڑکیوں سے نظر اتے پرندوں کو دیکھا تھا جو درختوں پہ اپنی سریلی آواز سے چہک رہے تھے، اس کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے، اس نے نظریں پھیر کے بیڈ پہ سوئے میران کو دیکھا تھا، جو گہری نیند میں تھا اور سماہر اسے دیکھے گئی۔
سب ٹھیک ہو چکا ہے جیسے، مائزہ کو اس کا ازمائر مل گیا ہے، جو سچے دل سے اب مائزہ کو چاہنے لگا ہے، عارفین کو اب ایک بیٹا نہیں بلکہ تین بیٹے ملے ہیں جو ان پہ جان چھڑکتے ہیں، عظمی کو طلاق مل چکی ہے تو وہ یہاں سے جا چکی ہے، مشعل سکون کی زندگی گزار رہی ہے، تابعہ اس کے لئے ایک اچھی ماں ثابت ہو رہی ہے، وقاص ملک گولی لگنے کی وجہ سے وہیل چئیر پہ ہوتے ہیں زیادہ تر، ان کی ٹانگ متاثر ہوئی ہے، اگر بات کروں دوسری فیملی کی تو میرب بہت خوش ہے ارتسام کے سنگ، پریشے کی شادی بھی ہو چکی ہے عاھل خان کے ساتھ اور وہ دونوں کینیڈا جا چکے ہیں، آبگینے اور شازم کی شرارتیں عروج پہ ہے اور دشاب ملک ۔۔۔۔ اس نے لب بھینچ لیے تھے۔ وہ سب پھر سے کسی فلم کی طرح اس کے ذہن میں گردش کرنے لگا۔

تین مہینے پہلے ۔۔۔۔

پولیس کی گاڑی کا ہارن بجا تھا ان گولیوں کے شور میں ، جمشید، وقاص ملک اور پولیس ٹیم باہر آئی تھی، یزدان ہمدانی اور آفتاب ہمدانی نے ان کا نشانہ لینا چاہا تھا لیکن یزدان ہمدانی کے ریوالور سے نکلی گولی وقاص ملک کے ٹانگ کو لگی تھی اور وہ زمین بوس ہوئے تھے۔
” چچا جان “
میران چلایا تھا، جمشید کی گولی یزدان کو لگی تھی اور وہ کراہ کے زمین پہ گرا تھا، آفتاب کا دھیان اپنے بھائی پہ گیا اور پولیس کی گولی اسے بھی لگی تھی۔ یزدان ہمدانی، جو میران کا دشمن بنا پھرتا تھا، وہ اور اس کا بھائی زخمی حالت میں وہاں پڑے ہوئے تھے جبکہ میران اپنے چچا وقاص ملک کو ہاسپٹل لے جانے کی تگ و دو میں تھا۔ جمشید بھی اس کی مدد کرنے لگا جبکہ منان پولیس کانسٹیبل کے ساتھ ان دونوں کے زخمی جسموں کو گاڑی میں ڈال رہا تھا۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

اور پھر منظر بدلا تھا، دشاب ملک واپس آ چکا تھا، آنکھوں میں شرمندگی تھی، کندھے جھکے ہوئے تھے، اپنے ہی گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ناکام انسان تھا وہ، سب نے بس ایک نظر ہی ڈالی تھی اس پہ، عارفین نے لب بھینچے رخ موڑ لیا تھا، ازمائر نے ایک طنزیہ نظر ان پہ ڈالی تھی، میران بس خاموش نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا، وہ ان کے پہلو میں کھڑا تھا، انہیں میران لے کے آیا تھا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ دشاب ملک سزا کاٹے، جو بھی تھا اس کا باپ تھا۔ وہ خاموش تھا لیکن احسان کر گیا تھا دشاب ملک پہ۔ سماہر نے محبت بھری نظروں سے میران کو دیکھا تھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کا شکریہ ادا کر رہی ہو۔ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا جو دشاب ملک کو خوش آمدید کہتا۔
” ویلکم بیک دشاب چچا “
سماہر کی آواز پہ وہ چونکے تھے جو مسکراتی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی، ان کی آنکھوں میں شکرگزاری کے آنسو آ ٹھہرے تھے۔
” تھینک یو بیٹا”
انہوں نے اپنا کانپتا ہاتھ سماہر کے سر پہ رکھا تھا۔ میران اسے ہی دیکھ رہا تھا، کس مٹی کی بنی تھی وہ؟ سب کا خیال رکھتی تھی وہ، ہر اس شخص کا جو اس سے تعلق رکھتا تھا، ان کا دل رکھنا جانتی تھی وہ۔
” آج شام کو اس گھر میں ڈبل خوشیاں منائی جائے گی، ازمائر اور مائزہ کے لئے فنکشن رکھا گیا ہے اور دوسری خوشی آپ کے واپس اس گھر میں آنے کی خوشی “
سماہر مسکرا کے بتانے لگی جبکہ دشاب ملک نے نم آنکھوں سے ازمائر کو دیکھا تھا جو نظریں پھیر گیا اور پھر مائزہ کو، جو ہلکا سا مسکرائی تھی اور پھر سماہر کو دیکھنے لگے۔
” بہت اچھی بات ہے “
” میں نے آپ کے کپڑے رکھ دئیے ہیں چچا جان، آپ فریش ہو جائیے”
انہوں نے سماہر کے سر پہ اپنا ہاتھ پھیرا اور سب پہ ایک اداس نظر ڈال کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے۔
” ان کو یہاں لانے کی وجہ جان سکتا ہوں میں میران ؟”
ازمائر اب سیدھا میران سے پوچھ رہا تھا، میران خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔
” ازمائر وہ بابا ہے تمہارے، اس گھر کے بزرگ، ایسے بات نہیں کرو پلیز “
سماہر نے اسے نرم لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی جبکہ وہ لب بھینچ گیا۔
” غلطیاں ہو جاتی ہے ہم سے، معاف کرنے والی ذات اللہ پاک کی ہے اور پھر جب ہمارا رب، ہمارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں سزا دینے والے، اور پھر وہ ہمارے اپنے ہیں، ہمارے بزرگ، پلیز ان سے ایسے برتاؤ نہیں کرو “
سماہر کی بات پہ وہ خاموش ہی رہا لیکن دل میں اب بھی دشاب ملک کے لئے کچھ نہ تھا، سر جھٹک کے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

منظر بدلا تھا، ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا، ازمائر اور مائزہ کے لئے خوبصورت فنکشن رکھا گیا تھا، جہاں سب اکٹھا تھے، خوش تھے، ہنس رہے تھے، بہ قول ازمائر کے، مائزہ بھی حق رکھتی ہے کہ نئی زندگی کی آغاز کے لئے، خوشیوں بھرا فنکشن ہو، جو اس کے لئے بہترین یاد بن جائے ازمائر کے سنگ۔
وقاص ملک بھی اپنی ویل چئیر پہ وہاں موجود تھے، شازم بھی آیا ہوا تھا اور اپنے دونوں بھائیوں کو دیکھ کے، بےحد خوش تھا کہ بدگمانیوں کے بادل چھٹ چکے تھے ان کے بیچ۔ عاھل اور پریشے بھی موجود تھے، ان کے بارے میں بتاؤں کہ کیا ہوا تھا؟؟ ارتسام کو کیسے راضی کیا گیا؟ ہماری میرب نے کیا کارنامہ، اور ارتسام کا دل ہوا نرم۔ میرب بہت خوش ہیں، تین بھائی ہیں اس کے، ایک عدد محبت کرنے والا شوہر ہے، خوش قسمت تو ہوگی ہی وہ۔
” ان دونوں کو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیئے جو میں نے ارتسام کو منایا، بڑی مشکل سے “
وہ کہہ رہی تھی اور پریشے ہنس رہی تھی جبکہ عاھل مسکرا رہا تھا۔
” تم دونوں کے ہنی مون کا ٹریپ ہماری طرف “
” ویزا بھی بھیج دیجئیے گا عاھل بھائی پلیز “
میرب چہکی تھی۔
سماہر ہر لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے کا حکم دے چکی تھی فوٹوگرافر کو۔ میران نے اسے بانہوں میں لے کے خود سے لگایا تھا۔
” تھینک یو میری سماہر “
سماہر نے مسکرا کے اسے دیکھا تھا۔
” مجھے بھی ایسا ہی ایک فنکشن چاہئے “
میران نے ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” جو آپ کا حکم “
اس کے کان کی لو پہ سرگوشی کی تھی میران نے، جبکہ سماہر جھینپ سی گئی تھی۔
عارفین ان سب کو دیکھ کے خوش تھی، ان کے لبوں مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں ڈھیر ساری محبت۔
” دشاب کہاں ہے ؟؟”
وقاص ملک کے پوچھنے پہ، عارفین، سماہر اور میران ادھر ادھر دیکھنے لگے تھے۔
” اپنے کمرے میں ہونگیں”
عارفین نے کہا تھا۔
” میں دیکھتی ہوں “
سماہر مسکرا کے کہتی آگے بڑھی تھی اور بلکل اچانک گولی چلنے کی آواز آئی تھی، لمحہ بھر کے لئے سب ساکت ہو گئے تھے، آنکھوں میں حیرت اور بےیقینی نمایاں تھی، گولی کی آواز گھر کے اندر آئی تھی ، تو ؟؟؟ سماہر کانپتے دل کے ساتھ بھاگی تھی گھر کی طرف، عارفین نے دل پہ ہاتھ رکھا تھا، ازمائر اور میران بھی ساتھ ساتھ بھاگے تھے، شازم ان کے پیچھے تھا، آگے پیچھے سب گھر کی طرف گئے تھے لیکن عارفین دل پہ ہاتھ رکھے وہیں گری تھی۔ آنکھوں میں خوف اور آنسو تھے۔
” دشاب ۔۔۔ “
ان کے لبوں نے جنبش کی تھی۔
دشاب ملک خودکشی کر چکے تھے، ریوالور سے انہوں نے اپنی کنپٹی پہ فائر کیا تھا۔
” ڈیڈ۔۔۔۔ “
ازمائر چلایا تھا، وہ تیزی سے دشاب ملک کی باڈی کے قریب گیا تھا اور بےیقینی سے ان کی ساکت کھلی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔
” ڈیڈ۔۔۔۔ ڈیڈ “
وہ چلایا تھا، اسے اپنا آج کا رویہ یاد آیا تھا جس طرح سے اس نے دشاب ملک کے مایوس چہرے سے نظریں پھیری تھی۔ میران بھی قریب آیا تھا، اس کے ذہن میں کچھ نہیں تھا، سب ساکت تھا، اس کے پاس خوبصورت یاد ہی نہیں تھی کوئی دشاب ملک سے متعلق یا اپنے رشتے سے متعلق، وہ بس ان کا چہرہ دیکھے گیا اور ہاتھ بڑھا کے ان کی آنکھیں بند کی تھی۔
ہوتا ہے نا، انسان مایوس ہو جائے، اپنوں کی بےاعتنائیاں نہ سہہ پائے تو خودکشی کو ہر مسئلے کا ہر سمجھ لیتا ہے، ڈپریشن یا انزائٹی اسی کا نام ہے، انسان جب شرمندہ ہو، اسے اپنے گناہوں کا احساس ہو جائے تو اسے معاف کر دینے میں کوئی قباحت نہیں، جب وہ اپنے گناہوں کی سزا پا بھی چکا ہے لیکن ہم انسانوں میں اتنی گنجائش ہی نہیں ہوتی کہ ہم۔کسی کو معاف کر پائے اور پھر ۔۔۔۔۔۔ اس کے مردہ جسم کے پاس بیٹھ کے رو دینے سے، کچھ ہاتھ نہیں اتا، تب صرف پچھتاوے ہی رہ جاتے ہیں۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

گہرا سانس لیتی وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی، ڈائری کو اس نے دراز میں رکھا تھا، صبح ہو چکی تھی، نئی صبح، نئے دن کا آغاز۔ آج ان کی ویڈنگ اینورسری تھی، جسے وہ میران کے ساتھ بےحد انوکھی انداز میں منانے کا ارادہ رکھتی تھی، لب دانتوں تلے دبا کے، وہ میران کے سوئے وجود پہ جھکی تھی۔اس شخص سے محبت نہیں عشق تھا اور عشق بھی بےانتہا۔ اس کے ہلکی ہلکی شیو والے چہرے پہ، سماہر نے لب رکھے تھے اور میران نے بلکل اچانک اسے بانہوں میں بھر کے، اپنے پہلو میں لٹایا تھا جبکہ سماہر کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دے رہا تھا۔
” میران ۔۔۔ “
وہ کھلکھلائی تھی۔
“جان میران “
وہ سماہر پہ جھکا تھا اور اس کے لبوں پہ مبہم سرگوشی کی تھی۔
“ہیپی ویڈنگ اینورسری مائی لو “
سماہر نے آنکھیں بند کر لی تھی جبکہ میران نے اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں مدغم کی تھی، جب اچانک سماہر پیچھے ہوئی تھی۔
” تم نے ٹوتھ برش نہیں کیا گندے”
” وہاٹ ؟”
میران بدمزہ سا ہو کے اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ ہنس رہی تھی۔
“رات کو کیا کھایا تھا”
” تمہیں۔۔۔ “
میران نے اچانک جواب دیا تھا۔
” اور اب بھی میرے ارادے بہت نیک ہے “
میران کے معنی خیز انداز پہ سماہر اسے دیکھے گئی جبکہ میران اس پہ جھک چکا تھا پھر سے، اس کے لبوں پہ سرگوشیاں بکھیرتا، وہ اب سانسیں الجھانے لگا، اس قدر مدہوش کن تھا اس کا یہ عمل، کہ سماہر سب بھول کے، اس کی بانہوں میں پگھلتی گئی، میران کے گرد اپنے نازک بازوؤں کا گھیرا تنگ کرتی، سماہر اس کے محبت کی بارش میں بھیگتی گئی۔ ۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

کیسا لگا ناول ؟؟ ضرور بتائیے گا۔ امید ہے کہ اس ناول کے آغاز کی طرح اس کا انجام بھی آپ کو پسند آیا ہو۔ 😊😊
بہت سارا پیار 🥰❤
خوش رہیں۔ 🖤