Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

دروازہ کھول کے دشاب ملک آفس میں داخل ہوئے تھے، لیپ ٹاپ کو گھورتا میران ارتضی ملک اچھنبے سے انہیں دیکھنے لگا،جو اس کی ٹیبل کے قریب آ رکے تھے اور لب بھینچے اسے دیکھ رہے تھے۔
” گھر کیوں نہیں آ رہے تم ؟؟”
” میری مرضی “
وہ کندھے اچکا کے جواب دیتا، سیٹ کی پشت پہ ٹیک لگاتا، آرام دہ انداز میں انہیں دیکھنے لگا۔
” کس سے منہ چھپا رہے ہو؟؟ کس سے چھپ رہے ہو تم ؟؟ تم اب کوئی لاابالی لڑکے نہیں ہو، شوہر ہو تم کسی کے، بیوی ہے تمہاری ایک عدد “
وہ تیز انداز میں کہہ رہے تھے جبکہ میران ابرو اچکا کے، ان کے انداز کو دیکھنے لگا ، چہرے کا تاثر ایسا تھا جیسے اس پہ کوئی اثر نہیں ہونے والا ان کی باتوں کا۔
” کیوں آئے ہیں آپ میرے آفس؟؟ دشاب ملک ؟”
انہیں ان کی حیثیت یاد دلانا ضروری سمجھی میران نے ، لیکن اس بار شاید دشاب ملک پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس کے الفاظ کا تبھی سر جھٹکتے، وہ ٹیبل پہ ہاتھ رکھ کے اس کی طرف جھکے تھے اور اسی کے انداز میں بات کرنے کا تہیہ بھی کر لیا ۔
” سماہر تمہاری بیوی ہے اور اتنے بےغیرت تو ہونگے نہیں تم کہ اپنی بیوی کو، اپنے ہی دشمنوں کے بیچ اکیلا چھوڑ کے، روپوش ہو جاؤ، میری بات سمجھ گئے ہونگے بیٹے جی “
وہ میران کی آنکھوں میں، آنکھیں ڈال کے طنزیہ انداز میں بات کر رہے تھے جبکہ میران کے لب بھنچ گئے تھے۔
” گھر آؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ رہو، لگتا ہے تمہاری دوستی ہو گئی ہے ازمائر سے یا پھر تم یہ قبول کر چکے ہو کہ ازمائر اس پہ اپنا حق جتانا شروع کر دے بیٹا جی “
ان کے انداز میں بےحد طنز تھا اور تبھی میران یکبارگی اپنی جگہ سے طیش کے عالم میں اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” بس ۔۔۔ “
وہ زور سے دھاڑا تھا جبکہ دشاب ملک مطمئن انداز میں سیدھے ہوئے تھے اور اب اپنے بیٹے کے غضبناک چہرے کو سرخ پڑتا دیکھ رہے تھے۔
” اللہ حافظ “
الوداعی کلمات کہہ کے، وہ مڑے تھے اور کمرے سے باہر نکلے تھے جبکہ میران نے غصے سے مٹھی میز پہ ماری تھی، یہاں آنے سے پہلے دشاب، منان سے بات کر چکے تھے اور منان کے مطابق، میران کسی بھی طرح نہیں مان رہا واپس گھر جانے کے لئے، تبھی انہیں یہ انداز اپنانا پڑا، کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میران سماہر سے دور رہے اور اس بات کا فائدہ ازمائر یا ماریہ اٹھا سکے۔ میران کے حق میں، وہ ماضی میں جتنا برا کر چکے تھے اب ازالے کے وقت تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ سماہر اور میران کی زندگیاں برباد ہو۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

سماہر اپنے سامنے بیٹھی مائزہ کو دیکھ رہی تھی۔ وہ کتنا بدل گئی تھی، اس کے چہرے کی رنگت میں زردی گھل گئی تھی، آنکھیں ویران اور سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے، جبکہ آنسوؤں کو جیسے ہر دو گھنٹے بعد باہر نکلنے کا موقع مل جانا چاہئے تھا، سچ ہی تو ہے نکاح کے بعد عورت کی خوش قسمتی اور بدقسمتی کا تعلق شوہر سے ہی ہوتا ہے اور وہ ہی لٹیرا نکلے تو۔
” تم کیسے خاموش رہی اس کے مقابل مائزہ ؟؟؟کیسے ؟؟ مائزہ جیسی بہادر لڑکی کیسے خاموش رہ سکتی ہے ایک ظالم کے مقابل “
سماہر اپنی بہن کی حالت دیکھ کے، بےحد غصے میں تھی جبکہ مائزہ زخمی ہنسی ہنس دی تھی۔
” یہ محبت جو ہے ناں سماہر، یہ انسان کو بےزبان ہی کر دیتی ہے میری بہن، میں بھی بہک گئی تھی محبت کے نام پہ، غلط راستے پہ چل نکلی تھی اس بےمعنی محبت کے نام پہ “
سماہر اداس نظروں سے اسے دیکھتی، اب چاروں طرف دیکھنے لگی، یہ فلیٹ کا لاؤنج تھا جہاں وہ دونوں بیٹھی ہوئی تھیں، اوپن کچن سے بوا ان کے لئے چائے بناتی نظر آ رہی تھی۔
” کب سے ہو یہاں؟؟”
” ایک ہفتہ ہو چکا ہے ۔ “
مائزہ نے جواب دیا تھا جبکہ سماہر اس کے دونوں ہاتھ تھام کے نرمی سے سہلانے لگی جبکہ مائزہ غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” میران کیسے ہیں؟؟”
سماہر چونک کے اسے دیکھنے لگی جبکہ مائزہ مسکرانے لگی جیسے اسے کچھ یاد آیا ہو۔
” پتہ ہے جب تم بیمار تھی تو میران تو ڈریکولا بن گیا تھا، کوئی تمہاری طرف بری نظر سے بھی دیکھ لیتا تو اس سے لڑ پڑتا، ازمائر سے تو کافی بار لڑ چکا تھا، ایون مارا بھی تھا اسے “
” کیوں؟؟”
سماہر حیرانگی سے پوچھنے لگی ۔
” وہ تمہیں میران کے خلاف کرنے کی کوشش کرتا اور تمہیں اکثر دورے پڑ جاتے، ڈاکٹر نے ان سب سے ، بےحد سختی سے منع کیا تھا لیکن وہ ازمائر ہی کیا جو منع ہو”
بات بات کرتے اس کی آنکھیں پھر سے اداس ہو گئی تھی اور پھر سر جھٹک کے، مسکراتی آنکھوں سے سماہر کو دیکھنے لگی۔
” میران بھی غصے میں اس کی حالت خراب کر دیتا ۔ عجیب ہی محبت ہے میران کی بھی، تم بےحد لکی ہو سماہر “
سماہر ہلکا سا مسکرا دی تھی جبکہ آنکھیں کچھ سوچ رہی تھی، جب اتنی محبت کرتا ہے، اتنا خیال رکھتا ہے تو پھر یہ بےاعتنائی کیوں اب ؟؟
” کیا سوچ رہی ہو ؟؟”
مائزہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تھی جبکہ وہ سر جھٹک کے مسکرا دی تھی۔
” بس سوچ رہی ہوں کہ اپنا بوریا بستر میں بھی یہیں لا دوں، بہت خوبصورت جگہ ہے یہ “
مائزہ ہنسنے لگی۔
” کب تک یہاں رہنے کا ارادہ ہے تمہارا ؟؟”
سماہر پھر سے پوچھنے لگی جبکہ وہ ادھر ادھر بیزار نظروں سے دیکھنے لگی ۔
” ڈاکٹر کے مطابق، ابھی میری ٹریٹمنٹ چل رہی ہے، زخم ابھی گہرے ہیں “
یہ کہتے اس کی نظریں جھک گئی تھی اور خاموش ہو کے لب کاٹنے لگی جبکہ سماہر نے اذیت بھری نگاہوں سے اپنی بہن کو دیکھا تھا۔ وہ کس قدر تکلیف میں تھی، کس قدر بدسلوکی ہوئی تھی اس کے ساتھ، اسکا دل کٹ کے رہ گیا تھا جب بوا چائے کی ٹرالی لیے وہیں آئی تھی۔
” میری بچیوں کے لئے چائے بھی بن گئی اور سموسے بھی۔ “
” تھینک یو بوا ۔۔۔ یو آڑ گریٹ “
سماہر کھلکھلائی تھی جبکہ مائزہ نے نظر بھر کے اپنی بہن کی ہنسی کو دیکھا تھا۔ میران کے سنگ وہ کتنی خوش تھی، مائزہ کو رشک آیا تھا لیکن اس سے نظریں چراتی سماہر کا دل، اندر سے جو جل رہا تھا، اس جلن سے مائزہ بےخبر ہی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” بابا جان، آپ میرے لئے بےحد محترم ہے اور بلکل ویسے ہی آپ کا ہر فیصلہ میرے لئے محترم ہے “
نظریں جھکائے بیٹھی پریشے، شاہ نواز خان سے کہہ رہی تھی۔
” لیکن بابا جان ۔۔ “
وہ پلکیں اٹھا کے اب انہیں دیکھنے لگی آنکھیں بھیگی ہوئی تھی، شاہ نواز خان تڑپ سے گئے تھے اپنی بیٹی کے لئے۔
” پلیز بابا جان، ایسا کوئی فیصلہ نہ کریں کہ آپ کی بیٹی پھر سے ٹوٹ کے بکھر جائے، بہت مشکل سے خود کو سنبھالا ہے، اب اٹھ کے کھڑی ہو چکی ہوں اپنے پاؤں پہ، لیکن بابا ایک اور کاری ضرب لگے گی اور میں پھر سے گر جاؤں گی، “
” پریشے بچے، ایسی باتیں نہیں کرو، تمہارا یہ باپ اتنا مضبوط دل کا انسان نہیں ہے میرے بچے”
شاہ نواز خان کی آواز میں درد پنہاں تھا، پریشے پلکیں جھکا گئی۔
” مجھے لگا کہ میں تمہارے لئے اچھا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں کیونکہ میری بچے کو بھی خوشیوں پہ حق ہے، سب تمہاری خوشی کے لئے تھا، اگر تم نہیں چاہتی تو میں کچھ نہیں کر رہا، میرے لئے تمہاری خوشی مقدم ہے”
” میرے لئے خوشی کا باعث میرے اپنے یہ رشتے ہیں، جو میرے دل کے بےحد قریب ہے، جو میرے اپنے ہیں، مجھے باہر کی محبت نہیں چاہیئے، بابا جان میں خوش ہوں اور سکون ہے میری زندگی میں، آپ کو خوشی نہیں ہوتی دیکھ کے کیا ؟؟ کہ آپ کی بیٹی آگے بڑھ رہی ہے اپنی فیلڈ میں اور پرسکون ہے “
پریشے کی سوالیہ نظریں ان پہ تھی جبکہ شاہ نواز خان اثبات میں سر ہلاتے مسکرانے لگے۔
” بلکل بچے،میں خوش ہوں کہ میری بیٹی ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کر رہی ہے”
” تو بس آپ کچھ مت سوچے، آپ بس مسکرائے، ہمارے لئے دعا مانگا کریں، اپنا خیال رکھیں، یہی ہم تینوں کے لئے کافی ہے بابا جان اور مجھے ان لوگوں سے دور رکھے پلیز بابا جان۔”
وہ نرمی سے کہہ رہی تھی جبکہ شاہ نواز خان نے مسکرا کے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔
” خوش رہو میری بچی ۔ اللہ نصیب اچھے کریں “
ان کی بات پہ،پریشے ہلکا سا مسکرا دی تھی لیکن دل اندر سے کانپ رہا تھا، کچھ انہونی نہ ہو جائے کا خیال اسے پریشان کر رہا تھا اور وہ خوفزدہ ہو رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” تابعہ کب تک رہے گی مائزہ وہاں ؟؟ مجھے تو اس کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے “
عارفین ڈنر کرتے ہوئے تابعہ سے پوچھ رہی تھی، آج عارفین اور سماہر وہیں آئی تھیں ڈنر کرنے۔
” اس کی فکر یہاں ہے ہی کس کو؟ تم ہی ہو جو مائزہ کا پوچھ رہی ہو”
تابعہ کا دل کٹ سا گیا تھا جبکہ عارفین نے نرمی نگاہوں سے انہیں دیکھا تھا۔
” ایسے نہیں کہتے تابعہ، ہماری بچی ہے مائزہ “
” تبھی دشاب اور ازمائر نے مل کے اس گھر کی بچی کو، ذہنی مریض بنا دیا “
تابعہ کی بات پہ عارفین لب کاٹ کے رہ گئی جبکہ سماہر خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی، اس کا ذہن الجھا ہوا تھا۔
” خیر، مائزہ یہاں سے دور رہے تو اس کے لئے بہتر ہے ورنہ وہ ازمائر مائزہ کو پھر سے کوئی نقصان نہ پہنچا دے ۔ “
تابعہ اپنی بات کہہ کے اب سماہر کو دیکھنے لگی۔
” تم بھی یہیں رہو سماہر، وہ گھر تمہارے لئے بلکل مناسب نہیں ہے “
سماہر نے آنکھوں کے اشارے سے، انہیں عارفین کی موجودگی کا احساس دلایا تھا جبکہ عارفین کہنے لگی ۔
” ایسا کیوں کہہ رہی ہو تابعہ، میں نے سماہر کو ملکہ کہ طرح رکھا ہے اس گھر میں اور میران سماہر سے بےحد محبت کرتا ہے، آج تک کوئی غلط بات سنی ہے کیا تم نے ہمارے بارے میں؟؟”
عارفین کا لہجہ بےحد دکھی تھی جبکہ تابعہ کو شرمندگی ہوئی تھی ۔
” ارے نہیں عارفین، معذرت چاہتی ہوں میرا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا، اللہ کا شکر ہے کہ میری ایک بیٹی تو خوش ہے، سکون سے ہے، بس میں ازمائر کی وجہ سے کہہ رہی تھی “
‘ ہونہہ، مسٹر پولیٹیشن ایک بار آ کے مجھے پوچھتا نہیں ہے، چار دن سے مجھے دیکھا تک نہیں ہے اور مجھ سے محبت کرتا ہے ؟’
منہ بنا کے اس نے تلخی سے سوچا تھا، کھانے سے دل ہی بھر گیا اس ہرجائی کا خیال آتے ہی، تبھی ہاتھ روک لیا تھا۔
” مجھے مائزہ کی بہت فکر ہو رہی ہے سماہر، وہ ٹھیک تو ہے ناں؟؟ تم مل کے آئی ہو اس سے “
ڈنر کے بعد گھر کی طرف جاتے ہوئے، وہ دونوں لان سے گزر رہی تھی جب عارفین نے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور وہ سر اثبات میں ہلانے لگی۔
” جی چچی ماں، اب بہت بہتر ہے “
” چلو شکر ہے ۔۔ “
انہوں نے سکون کا سانس لیا تھا لیکن سامنے دیکھ کے، سماہر کے قدم وہیں جم گئے تھے، دل یکبارگی زور سے دھڑکا تھا اور وہ لمحہ بھر کے لئے، سانس روک گئی تھی۔

جیوں میں ذرا
مجھے دے تو دل میں جگہ
ملے مجھ کو دھوپ میں۔۔
سایہ تیرا ۔۔۔
تیرے بن نہیں
سکون زندگی میں کہیں۔۔
دیکھو دل ہے بنجر میرا
اندھیرے میرے گہرے
ستاروں سے بھی بہرے
میرے غم کی رات میں
ہے تو کہکشاں۔۔۔۔

میران اسے پورے چار دن بعد دیکھ رہا تھا، اس کے ہلکے مسکراتے لب میران کو دیکھتے ہی سکڑ گئے تھے، میران نے نظر بھر کے، اس کی اس ادا کو دیکھا تھا، دل کی دھڑکنیں منتشر ہو رہی تھی لیکن خود ساکت کھڑا، سماہر کو اپنی آنکھوں میں حفظ کر رہا تھا ۔
” ارے میران ۔۔۔ “
عارفین اپنے بیٹے کو دیکھ کے، مسکراتی ہوئی آگے بڑھی تھی جبکہ سماہر وہیں کھڑی رہی، اس کے قدم بھاری ہو رہے تھے، وہ آگے بڑھنے کا سوچ تو رہی تھی لیکن وہ قدم اٹھا نہیں پا رہی تھی۔ عارفین اپنے بیٹے سے مل رہی تھی لیکن میران کی نظریں اب بھی سماہر تھی، آنکھوں میں گہرے سوال تھے، خوف تھا، ڈر تھا جبکہ مقابل کی آنکھوں میں شکایتوں کا جال بچھا ہوا تھا، اپنی گستاخ آنکھوں کو ڈپٹتی، سماہر سر جھٹک کے آگے بڑھی تھی، میران سانس روکے اسے اپنی طرف آتا دیکھ رہا تھا، دل میں خوش فہمیوں نے جنم لیا تھا، وہ میران کے قریب آ رہی ہے، وہ ناراض نہیں ہے، وہ ملنے آ رہی ہے، اسے خوش آمدید کہنے آ رہی ہے، ساری ناراضگی دور کرنے آ رہی ہے، لیکن خوش فہمیاں بھی دور ہو گئی، جب وہ ان کے قریب سے ہوتی، گھر کی طرف جانے لگی، میران لب بھینچے اسے جاتا دیکھتا رہا، وہ جا رہی تھی پلٹ کے دیکھے بنا، اور میران ارتضی ملک اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا جبکہ عارفین خاموش رہی، سماہر اس سے ناراض تھی، اور اسے ناراض ہونا بھی چاہئے ان کے بیٹے سے۔ سماہر خاموش سے اندر آ کے سیڑھیاں چڑھنے لگی، قدم من من بھاری ہو رہے تھے، بمشکل وہ اپنے کمرے تک پہنچی تھی، موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھا ہی تھا جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور میران کمرے میں داخل ہوا تھا، سماہر چونکی تھی لیکن میران کو مڑ کے دیکھنے کی کوشش بلکل بھی نہیں کی اس نے، میران اس کی پشت پہ بکھرے بالوں کو دیکھتا، کمرے کا دروازہ بند کر گیا لیکن آگے بڑھ کے، اس سے مخاطب ہونے کے ہمت نہیں تھی اس میں، تبھی وہیں کھڑا سماہر کی پشت دیکھنے لگا۔
‘ تم سے دوری میری مجبوری تھی سماہر’
وہ بس سوچ ہی سکا، سوچ کو الفاظ کا پیراہن نہیں دے پایا۔
‘ پلٹ کے دیکھا تک نہیں، آگے بڑھ کے روکا تک نہیں، حال پوچھنے نہیں ائے’
سماہر نے بس سوچا تھا اور آگے بڑھ کے وہ بیڈ پہ جا کے لیٹی تھی، کمفرٹر خود پہ ٹھیک کرتی، وہ اپنی طرف کا لیمپ بند کر چکی تھی اور کمفرٹر بھی سر تک اوڑھ چکی تھی لیکن کمفرٹر کے نیچے لیٹی، وہ بےچین سی ہو رہی تھی کہ ان بےچینیوں میں اس کا دم گھٹ رہا تھا اور وہ دم سادھے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ میران کھڑا اس کے نازک وجود پہ موجود اس کمفرٹر کو گھور رہا تھا۔ اس کی چپ میران کو بےچین کر رہی تھی ، وہ کچھ کہہ کیوں نہیں رہی؟ جواب کیوں نہیں مانگ رہی؟؟ کیوں دیکھ نہیں رہی؟؟ کچھ تو کہے لیکن مقابل کی طرف سے خاموشی تھی اور وہ بھی لب بھینچے اگے بڑھ کے، بیڈ کے دوسری طرف آ کے لیٹا تھا، سماہر کمفرٹر کے نیچے سانس ہی روک گئی، اس شخص کے کلون کی مہک، سماہر کو اپنے حواسوں پہ چھاتی محسوس ہو رہی تھی، دل نے یکبارگی چاہا کہ اس شخص کو دھکا دے کے، بیڈ سے نیچے گرا دے جو اس کے حواسوں کو سلیب کر رہا ہے لیکن منتشر ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی وہ یونہی لیٹی رہی جبکہ میران اس کی طرف رخ کر چکا تھا اور بےبس آنکھوں سے وہ اس کمفرٹر کو دیکھنے لگا جس کے نیچے، اس کی راحت جاں موجود تھی لیکن ہاتھ آگے بڑھا کے، اسے چھونے سے بھی ڈر رہا تھا وہ، اتنے راتوں کو، وہ ٹھیک سے سویا بھی نہیں تھا، جاگ کے گزری تھی راتیں، بےچینیوں نے اس کے وجود کو کھوکھلا کر دیا تھا، اعصاب تھے ہوئے تھے اتنے دنوں اور راتوں سے، اور اب جیسے سکون پا رہا تھا، اعصاب ڈھیلے پڑ رہے تھے، وجود کی بےچینیاں ختم ہو رہی تھی ،اس کا وجود جیسے پرسکون ہو رہا تھا، تبھی نیند کا غلبہ بھی آنے لگا اور وہ کچھ ہی دیر میں آنکھیں بند کر کے سو گیا، اس کی گہری سانسوں کا شور سن کے، سماہر نے ہلکا سا کمفرٹر سے منہ باہر نکالا تھا، میران سو چکا تھا، یہ تسلی کر کے، اس نے کمفرٹر مکمل ہٹا کے، گہرا سانس لیا تھا ورنہ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے دم گھٹ رہا ہے ۔ نظریں بھٹک کے میران کے سوئے وجود پہ گئی تھی، جو بےخبر پرسکون نیند سو رہا تھا۔
” مجھے بےچینیاں دے کے، خود کتنے سکون سے سو رہا ہے، مغرور، بدتمیز، انا پرست، ہرجائی، “
اس نے جل کے سوچا تھا اور پھر رخ اس کی طرف کے کے، وہ میران کو دیکھے گئی، دل میں خیال سا آیا تو ہاتھ آگے بڑھا کے، اس کا چہرہ چھونا چاہا لیکن ہاتھ وہیں روک دیا تھا اس نے۔

تجھے چاہنا
محبت سے ملنا تجھے
ابھی مجھ میں وہ لگن
باقی تو ہے ۔۔۔
یہ بےانتہا۔۔۔
تیرے بن سلگنا میرا
میری سانسوں میں اگن باقی تو ہے ۔۔۔

آنکھیں نم ہوئی تھی اور اس نے ہاتھ بڑھا کے، میران کے چہرے کو ہلکا سا چھوا تھا، اس کی بڑھی ہوئی شیو پہ، اپنے ہاتھ کی پشت پھیرتی، وہ ہلکا سا مسکرا رہی تھی۔
آج کتنے دنوں بعد وہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی، دل نے یکبارگی باوجود بےحد غصے اور ناراضگی کے بھی، اس کی قربت چاہی تھی، اس کی خوشبو سے اپنی سانسوں کو مہکانے کی خواہش کی تھی، لب کاٹتی اس نے گہرا سانس لیا تھا، کمفرٹر اس کے اوپر ٹھیک کرتی، وہ پھر سے لیٹ چکی تھی اور نرم نگاہوں سے اس شخص کو دیکھنے لگی ۔
‘ میران تم سے پہلے کسی دوسری عورت کے ساتھ فیزیکل ریلیشن میں رہا ہے’
آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی، اس نے لب بھینچ لیے تھے، اور پھر گہرا سانس لیتی، وہ پھر سے اس شخص کو دیکھنے لگی جو اس کا محرم اور اس کا مکمل عشق تھا۔ وہ ناراض تھی، غصہ تھی لیکن اسے عشق بھی تو تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤