Rate this Novel
Episode 15
” مائزہ پلیز لسن ٹو می “
ازمائر نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی جبکہ مائزہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ۔
” لیو می ۔۔ ہاتھ چھوڑو میرا “
” مائزہ یار بات سنو پلیز “
ازمائر اس کا ہاتھ چھوڑنے پہ راضی نہ تھا جبکہ مائزہ ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ شاید تابعہ یا سماہر میں سے کوئی اسے نظر آ جائے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا، تبھی ناگواری سے وہ ازمائر کو دیکھنے لگی ۔۔
” مجھے تمہیں نہیں سننا، اس لئے ہاتھ چھوڑو میرا تم”
ناگواری سے کہتی وہ اپنا ہاتھ ازمائر کی مضبوط گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ ازمائر نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا ۔
” یار بات سنو، میں اتنے آرام سے کہہ تو رہا ہوں، سمجھ نہیں آتی تمہیں ” ۔
مائزہ اس کے سینے سے تکرائی تھی اور پھر سنبھل کے اس سے دور بھی ہوئی تھی ۔
” یہ آرام سے کہنا ہوتا ہے کیا ؟؟”
اس نے لب بھینچے ازمائر کو دیکھا تھا۔ ۔
” تو تم بھاگ بھی تو ایسے رہی ہو جیسے میں کھا جاؤں گا تمہیں “
ازمائر جھنجھلایا تھا، مائزہ رک کے اسے دیکھنے لگی، اپنا ہاتھ چھڑانے کا ارادہ وہ ترک کر چکی تھی۔
” ایک درندے سے درندگی کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے “
ازمائر نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا جو براہ راست ازمائر کی آنکھوں میں اپنی سپاٹ آنکھیں گاڑے کھڑی تھی۔
” مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرنا اب ازمائر ارتضی ملک ۔ “
اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑایا تھا۔
” شرمندہ ہوں میں اپنے ہر اس احساس، اس تعلق اور اس رشتے پہ، جو تم سے وابستہ تھی۔ “
وہ دانت پیستی کہنے لگی جبکہ ازمائر خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اچانک سے بھاری ہوتے سر کو سنبھالتی، وہ سر جھٹک کے آگے بڑھی تھی لیکن ابھی دو قدم ہی چل پائی تھی جب اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا تھا اور وہ گرنے ہی والی تھی جب ازمائر نے اسے آگے بڑھ کے تھام لیا۔
” مائزہ ؟؟ مائزہ ؟؟”
وہ ازمائر کی بانہوں میں ہی جھول گئی تھی جب ازمائر نے لب بھینچے اسے بازوؤں میں اٹھایا تھا اور تیزی سے گھر کی طرف بڑھ گیا، اپنے کمرے کی طرف جاتے، اس نے سامنے سے آتی عظمی کو بھی نظر انداز کر دیا جو اچھنبے سے مائزہ کو ، اس کے بازوؤں میں دیکھتی اس کے پیچھے پیچھے ہی، اس کے کمرے تک آئی تھی۔ مائزہ کو آرام سے بیڈ پہ لٹا کے وہ سیدھا ہوا تھا۔
” کیا ہوا ہے اسے ؟”
عظمی کے سوال پہ اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔
” جائیے یہاں سے آپ “
اپنی ماں کو بنا دیکھے وہ بولا ۔ عظمی کچھ دیر اسے دیکھتی رہی جو مائزہ پہ کمفرٹر ٹھیک کرتا، اب موبائل پہ کسی کو کال کر رہا تھا اور پھر کمرے سے باہر نکلی تھی۔ ازمائر نے ڈاکٹر کو کال کر کے یہاں بلایا تھا اور اب موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ وہیں مائزہ کے قریب بیٹھ کے، اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ لے چکا تھا، جبکہ نظریں مائزہ کے چہرے پہ تھی، جو اس وقت زرد پڑ رہی تھی اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھی۔ وہ کتنا بدل گئی تھی، اس کے چہرے پہ شرارتی مسکراہٹ کی جگہ، تھکاوٹ نے لے لی تھی، گلابی رنگت اب زردی مائل ہو گئی تھی اور آنکھیں کتنی ویران اور متورم تھی۔
” میں درندہ ہی تو ہوں جو ہمارے رشتے کو برباد کر دیا میں نے اپنی ضد اور انا میں ۔”
وہ زیر لب بڑبڑایا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
شام کے سات بج رہے تھے، اج کافی لیٹ ہوئی تھی وہ، تبھی اپنا بیگ اور موبائل سنبھالتی، وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی تھی تاکہ جلد سے جلد کلینک سے نکل کے وہ گھر کی طرف روانہ ہو، اچانک دروازہ کھلا تھا اور اندر آتے شخص کو دیکھ کے، وہ لمحہ بھر کو ٹھٹھک گئی تھی، آنکھیں حیران ہوئی تھی جبکہ لب نیم وا ہوئے تھے۔ یہ شخص یوں اچانک کیسے سامنے آ گیا اس کے، کیوں آیا تھا آج وہ یوں اس کے رو برو۔
” کیسی ہو پریشے؟”
وہی مدھم لہجہ اور مسکراتی آنکھیں، لیکن کتنا بدل گیا تھا وہ، شاید اس لئے کہ اب وہ سپر اسٹار بن چکا تھا لیکن اواز، لہجہ اور آنکھیں بلکل وہی تھی، جیسے وہ پریشے کے ذہن میں ثبت ہوا پڑا تھا ۔ ٹانگیں بےجان ہوتی محسوس ہوئی تو سہارے کے لیے اس نے ٹیبل پہ اپنے ہاتھ کا دباؤ ڈالا تھا۔
” میں اسلام آباد آیا تھا، یہاں میری میٹنگ تھی تو سوچا تم سے بھی مل لوں۔ “
وہ پھر سے کہہ رہا تھا جبکہ پریشے نے گہرا سانس لیتے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی۔
” کافی ٹائم بعد پاکستان آیا ہوں تو کوئی دوست ایسا مائنڈ میں آیا نہیں کہ مل لوں اس سے، تو تم سے ملنے آیا “
پریشے آنکھیں پھیرتی اب خود کو نارمل کرنے چکی تھی۔ کتنا فارمل انداز تھا اس کا، کس قدر پرتکلف انداز میں بات کر رہا تھا وہ، پہلے جیسا کچھ تھا ہی نہیں اس میں تو،
” ہمممم ۔۔۔ “
” تم آئی تھنک جا رہی تھی گھر ؟؟ “
وہ پھر سے سوال کر رہا تھا جبکہ پریشے نے اثبات میں سر ہلایا تھا وہ کہہ بھی نہ سکی کہ کیوں آئے ہو یہاں؟؟ مجھ سے ملنے کیوں آئے ہو ؟؟ کس لیے آئے ہو؟؟ گنگ ہو گئی تھی اسے یوں سامنے دیکھ کے، جبکہ وہ بولے جا رہا تھا، کیسے بول لیتا ہے وہ اتنی زیادہ،؟ پریشے سوچ کے رہ گئی ۔
” اف یو ڈونٹ مائنڈ، ہم ڈنر ساتھ میں کر لیتے ہیں، کہیں باہر جا کے، “
” کہاں؟؟”
پریشے نے اچانک پوچھا تھا جبکہ وہ ہلکا سا اس کی طرف جھکا تھا۔
” تمہاری فیورٹ جگہ ۔۔ “
وہ مسکرا رہا تھا جبکہ پریشے کی آنکھوں میں حیرانی در آئی تھی اور پھر اس نے نظریں چرائی تھی جبکہ زیر لب مسکراتا عاھل خان سیدھا ہوا تھا۔ نظریں اب بھی پریشے لے سراپے پہ تھی۔ سادہ سے حلیے میں بھی، ہمیشہ کی طرح منفرد اور خوبصورت لگ رہی تھی وہ آج بھی۔
” چلیں پریشے؟؟”
پریشے کا دل لمحہ بھر کو ڈوب کے ابھرا تھا، ایک نظر عاھل خان کو دیکھ کے، وہ سر جھکائے آگے بڑھی تھی جہاں عاھل خان اس کے لئے پہلے سے ہی دروازہ کھول چکا تھا۔ پریشے کے باہر جاتے ہی، وہ بھی آگے بڑھ کے، اس کے پہلو میں چلنے لگا۔ کتنا دلفریب احساس تھا یوں اس کے پہلو میں چلنا، پریشے اس لمحے ہر ڈر، خوف اور ہر منفی سوچ کو پس پشت ڈال چکی تھی، بنا کچھ سوچے وہ عاھل خان کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” قیمت بتاؤ اپنی ۔ “
دشاب کی بات پہ وہ ہنسنے لگی، اپنے کھلے بالوں کو ہاتھوں سے سہلاتی، وہ دشاب کو دیکھنے لگی ۔
” عجیب سیاست دانوں جیسی بات کر رہے ہیں آپ بھی دشاب “
دشاب نے لب بھینچ لیے تھے جبکہ ہاتھ کی مٹھی بنائے تھی اپنا غصہ کم کرنے کے لئے۔
” کتنا ؟؟ ہمممم دس کروڑ، پچاس کروڑ، اسی کروڑ یا اس سے زیادہ؟؟ کتنی قیمت لگاؤں اپنی میں؟؟”
ماریہ ٹیبل پہ دونوں ٹانگیں رکھ کے، صوفے پہ آرام دہ انداز میں بیٹھی تھی۔
” میران کے آفس کیوں گئی تھی تم ؟؟ کہا تھا ناں کہ اس سے دور رہو “
دشاب نے سرد لہجے استفسار کیا جبکہ وہ سرد آہ بھر کے رہ گئی ۔
” اتنے سالوں بعد اس سے ملنے گئی، آپ سے یہ بھی نہیں دیکھا جا رہا اب “
دشاب نے لب بھینچ لیے تھے۔
” کتنا پیسہ چاہئے تمہیں؟” ۔
ماریہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور نزاکت سے چلتی وہ دشاب کے قریب آ کے، اس کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھ کے، ہلکا سا جھکی تھی۔
” مجھے میران چاہئے بس “
” ڈیم اٹ “
دشاب نے اسے دھکا دیا تھا وہ دیوار سے جا لگی تھی جبکہ دشاب غصے میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔
” میران کی اپنی بیوی ہے، وہ میرڈ ہے، وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے “
وہ چلائے تھے۔ ۔
” اور میں میران سے محبت کرتی ہوں “
ماریہ اپنی بات کہہ کے، اب اپنے بال سنوارنے لگی۔
” میران ارتضی ملک سے میں بےحد اور بےحساب محبت کرتی ہوں اور کرتی رہوں گی، اسے میری دام تک آپ پہنچائیں گیں دشاب ملک “
” میں کیوں کروں گا ایسا “
دشاب ملک بگڑے تھے جبکہ وہ پھر سے دشاب کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی۔
” آپ ہی کرے گیں، ورنہ ، چلیں چھوڑیے میں اب آپ کو بلیک میل کرتی اچھی لگوں گی ؟ آپ خود سمجھدار ہے، آپ بتائیے ناں کہ میں کیا کچھ کر سکتی ہوں “
اس کی مسکراتی آنکھوں طنز پنہاں تھا جبکہ دشاب نے آبرو اچکا کے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔
” ارے نہیں نہیں، آپ کی میری ملاقاتیں تو پرائیوٹ ہی ہے، میں ان حسین ملاقاتوں کو کہاں وائرل کر سکتی ہوں صاحب، میں تو بس کہہ رہی تھی کہ زبیر شاہ کے ساتھ بلیک منی کا کنٹریکٹ سائن ہوا تھا آپ کا اور یہ کہ دبئی ایئرپورٹ سے ۔۔۔ “
” شٹ اپ “
دشاب نے چلا کے، اس کا منہ دبوچا تھا ۔ ۔
” ایک بھی بکواس مزید کی تو یہیں قتل کر دوں گا تمہیں کہ نام و نشاں بھی نہ ملے کئی دنوں تک تمہارا کسی کو “
انہوں نے دانت پیسے تھے اور پھر اس کا منہ جھٹکے سے چھوڑ کے پیچھے ہوئے تھے۔
” آپ سیاستدانوں کا یہی تو کام ہے، عیاشی کر کے اسی عورت کو قتل کر دینا”
” تو تم جیسی عورتیں ہوتی ہی عیاشی کے لئے ہیں “
دشاب ملک کا لہجہ تمسخر بھرا تھا۔ ماریہ خاموشی سے کچھ دیر انہیں دیکھتی رہی اور پھر دیکھتے دیکھتے اس نے اپنی گردن پہ اپنے لمبے ناخنوں سے کھینچ کے وار کیا تھا، دشاب ملک حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے لے جا کے، اپنے نیم عریاں کمر پہ ناخنوں سے لکیریں کھینچی تھی۔
” یہ کیا کر رہی ہو تم “
دشاب ملک حیرت سے چلائے تھے جبکہ ایک ہی جھٹکے سے، اپنی ٹاپ کندھے سے کھینچ کے پھاڑی تھی اور ایک ہی جست میں وہ دشاب کے گلے لگ گئی۔
” بچاؤ۔۔۔ بچاؤ، مجھے بچاؤ، پلیز ہیلپ می ۔۔ ہیلپ مہ پلیز ۔ ۔۔ “
وہ چلا رہی تھی جبکہ دشاب ملک بوکھلائے سے، اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ چپکے ہی چکی تھی جیسے دشاب سے اور پھر کچھ دیر بعد ہنستے ہوئے خود ہی، دشاب ملک سے الگ ہوئی تھی جبکہ لب بھینچے دشاب ملک خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
” کیا ہوا دشاب ملک تو ڈر گئے ؟؟ “
وہ کہہ کے ہنسنے لگی، ہنستے ہنستے وہ پھر سے دشاب ملک کے قریب آنے لگی جبکہ دشاب تیزی سے پیچھے ہوئے تھے۔ ۔
“پاگل عورت ۔ “
وہ کہہ کے، تیزی سے دروازے کی طرف بڑھے تھے اور دروازہ کھول کے، اس کے فلیٹ سے باہر نکلے تھے کہ انہیں سچ میں خوف آیا تھا ماریہ سے، جبکہ ماریہ صوفے پہ بیٹھ کے ہنسنے لگی، گردن پہ لگے زخموں میں درد کی ٹیسیں اٹھی تو ہلکا سا انہیں سہلانے لگی، لیکن دشاب کا چہرہ یاد کر کے وہ ایک مرتبہ پھر سے ہنسنے لگی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” یہ کون سا طریقہ ہے بن بتائے یوں آنے ۔۔۔۔۔ “
اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی، وہ جو اپنے خاص آدمی منان کاکا کی زبان سے یہ سن کے جھنجھلایا تھا کہ سماہر ” میران مینشن ” آئی ہے اور وہ یہ سن کے پہلے حیران ہوا تھا اور پھر لب بھینچے آفس سے نکل کے، وہ گاڑی تیز رفتاری سے چلاتا یہاں آیا تھا لیکن سامنے کا منظر دیکھ کے، اس کی بات ہی ادھوری رہ گئی تھی اور زبان نے جیسے ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
سیاہ ساڑھی میں ملبوس، کھلے بالوں کو سائیڈ پہ ڈالے وہ رخ موڑے کھڑی نہ جانے کیا کر رہی تھی، سیاہ بلاؤز کے ڈیپ گلے سے، اس کی دودھیا پشت فاصلے سے ہی، مارش میلو کی طرح نرم و ملائم سی محسوس ہو رہی تھی۔ سماہر رخ موڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔
” کچھ کہہ رہے تھے ؟؟”
ایک ادا سے، ہاتھ اٹھا کے، اپنے بال پیچھے کی طرف ڈالتی وہ سوالیہ نگاہوں سے، میران کو دیکھنے لگی، اس بات سے بےخبر کہ میران کے دل کی دنیا تو اسی ایک لمحے میں درہم برہم ہو چکی ہے، وہ کچھ کہنے کی حالت میں ہے ہی کب ۔ سماہر نظریں پھیر کے، ناراضگی کا اظہار کرتی جانے والی تھی، جب دو قدم کا فاصلہ طے کر کے، میران نے اس کی کلائی تھامی تھی، وہ اچھنبے سے میران کو ناراض آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” ہاں میں کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔ “
اسے اپنی بات ہی بھول گئی تھی شاید، تبھی مسمرائز سا وہ بات ادھوری چھوڑ کے، سماہر کو دیکھے جا رہا تھا۔
” کیا ؟؟”
” کیا ۔۔۔۔۔ “
وہ کھوئے کھوئے انداز میں خود سے سوال کرنے لگا۔
” یہی کہ چرا لو ناں دل میرا ۔۔ “
اسے خود سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا پے،سماہر نے ایک ابرو اچکا ، اسے دیکھا تھا، آج وہ جیسے مکمل میران کا انداز اپنائے ہوئے تھی جبکہ میران زیر لب مسکرا رہا تھا۔
” میں کافی بنا رہی تھی “
اپنا ہاتھ نزاکت سے، اس کی گرفت سے چھڑاتی آگے بڑھی تھی جبکہ میران کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی، اپنی کنپٹی سہلاتا وہ سماہر کے پیچھے ہی کچن میں آیا تھا۔
” مجھے کافی کی طلب ویسے نہیں ہو رہی “
وہ سماہر کے پیچھے ہی کھڑا تھا، سماہر جیسے ہی مڑی، اس کے سینے سے ٹکراتی بچی تھی۔ میران گہری نگاہوں سے اس کے سجے روپ کو دیکھ رہا تھا، سماہر نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور میران کے پہلو سے آگے بڑھی تھی۔
” میں کھانا تیار کرتی ہوں “
میران مسکراتی آنکھوں سے، اسے دیکھتا مڑا تھا اور اس کا ڈھلکتا ساڑھی کا پہلو تھام کے، اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے، اسے اپنی طرف کھینچا تھا کہ اس کی پشت، میران کے سینے سے لگی تھی۔
” مجھے بھوک بھی نہیں ہے “
اس کی کھلی زلفوں میں، اپنا چہرہ دیے میران نے کہا تھا۔
” ارے کچن ہے یہ ۔ “
وہ میران کے بازو کے گھیرے سے نکل کے آگے بڑھی تھی، میران اس کی اس ادا کو سمجھتا زیر لب مسکراتا، اسے دیکھنے لگا۔
” تو بیڈ روم بھی ہیں یہاں ویسے تین چار عدد”
” وہاں تو میں نے Mortien اسپرے کیا ہیں”
آنکھیں معصومیت سے جھپکاتی وہ اطلاع دینے لگی۔
” وہاٹ؟؟ کیوں؟؟”
میران صدمے سے چلایا تھا جبکہ سماہر ناراضگی بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔ میران کنپٹی سہلاتا اس کے قریب آیا تھا ۔
” آئی مین ، مجھے تو تمہاری طلب ہو رہی ہے اس وقت “
اس کی نازک گردن پہ، شہادت کی انگلی پھیرتا وہ بولا تھا جبکہ سماہر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔
” not available “
اپنا جواب دے کے وہ کچن سے باہر نکلی تھی۔ میران بھی اس کے پیچھے ہی باہر آیا تھا۔
” کیوں؟؟”
وہ کندھے اچکا گئی ۔
” میرا موڈ نہیں ہے “
” میں موڈ بنا دیتا ہوں “
میران نے حاضر جوابی سے کام لیا تھا ۔ زیر لب مسکراتی سماہر رخ موڑے ہوئے تھی۔
” کیا کہا تم نے ؟؟ میں نے ٹھیک سے سنا نہیں “
میران نے اس کے ساڑھی کے بلاؤز میں اپنی شہادت کی انگلی رکھ کے، اس کے نازک وجود کو اپنی طرف پھر سے کھینچا تھا۔
” پاس آؤ، تو شاید سن پاؤ ۔”
اس کے کان کی لو پہ سرگوشی کرتا، وہ اپنی سلگتی سانسیں سماہر کی گردن پہ بکھیر گیا، سماہر خود میں سمٹتی جھینپ سی گئی تھی، جب میران نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا، میران کے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھے، وہ مخمور نگاہوں سے میران کو دیکھنے لگی جبکہ میران کی مدہوش نگاہیں، اس کے دہکتے حسن میں الجھتی گئی۔
” تو کیا نہیں سن پا رہی آپ بیگم ؟”
گھمبیر لہجے میں سوال کرتا، وہ ہلکا سا اس کے لبوں پہ خم ہوا تھا، سماہر لب دانتوں تلے دباتی، اس کے سینے پہ دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈال کے پیچھے ہوئی تھی۔
” میری ناراضگی برقرار ہے ابھی بھی ۔۔ “
مسکراتی آنکھوں سے میران کو دیکھتی، وہ رخ موڑ کے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی،
” ارادے کیا ہیں جناب کے ؟”
میران پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے کے، اس کے پیچھے ہی آنے لگا جبکہ وہ کندھے اچکا کے مسکرائی تھی، میران کو اپنی مخمور آنکھوں سے دیکھتی وہ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
” آپ کو برباد کر دینے کے ارادے ہیں میرے “
میران ہلکا سا ہنسا تھا۔
” اور میں برباد ہونا چاہتا ہوں “
آخری سیڑھی پہ پہنچ کے، آگے بڑھتے اسنے سماہر کی ساڑھی کا پہلو تھامنا چاہا تھا لیکن وہ مسکراتی بیڈ روم میں گئی تھی۔ میران بیڈ روم کا دروازہ بند کرتا، زیر لب مسکراتا اسے دیکھنے لگا۔
” ناراضگی ختم کرنے کا موقع کب دے رہی ہے آپ مجھے ؟”
سماہر کندھے اچکا گئی، جب میران نے آگے بڑھ کے، اسے کمر سے تھام کے، وارڈ روب سے لگایا تھا۔ ۔
” ان اداؤں سے مجھے قتل کرنے کا بندوبست اچھا کیا ہے آپ نے ویسے ، مسز سماہر میران ملک “
سماہر اپنے لب دانتوں تلے دبا گئی۔
” مسٹر میران ملک، آپ کے قتل کے لئے، میری ایک نگاہ کافی ہے “
میران دلفریبی سے ہنسا تھا اور ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھنے لگا ۔
” ایسا ہے کیا؟؟”
سماہر بھی اسی کے انداز میں ایک ابرو اچکا گئی۔
” ایسا ہی ہے “
میران گہری نگاہوں سے، اس کا سجا حسن دیکھتا، اس کے بال سنوارنے لگا۔
” بہت خوبصورت ہو تم سماہر”
” اور اپ بےحد ہینڈسم “
سماہر کے انداز پہ، وہ ایک بار پھر دلفریبی سے مسکرایا تھا۔
” اور یہ حسین خیال کیسے آیا میری سماہر کو ؟؟ یوں مجھے یہاں بلا کے، مجھے سرپرائز کرنے کا”
سماہر پلکیں جھکا کے، پھر سے اٹھا کے ، اسے دیکھنے لگی۔
” اتنی بھی جلدی ہی کیا سب جاننے کی “
” اممم ارادے بھی بےحد خطرناک لگ رہے ہیں آپ کے تیور جیسے ہی”
میران اس کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارتا کہنے لگا، جب سماہر نے اس کی کالر کو نزاکت سے تھام کے، اپنی طرف کھینچا تھا، دونوں کے چہروں کے بیچ فاصلے نہ ہونے کے برابر تھے۔
” میرے حسین تیور سے بچنا بےحد مشکل ہے آج کی. “
” میں شکار ہونا چاہتا ہوں آپ کے حسین تیوروں کا”
بوجھل لہجے میں، اس کے لبوں پہ سرگوشی کرتا، وہ ان لبوں کو اپنی دسترس میں کر چکا تھا کہ سماہر کے حسین تیور، اس کا صبر آخری حد تک آزما ہی چکے تھے، سانسیں تھمنے لگی، تو لبوں کا سفر گردن کی اور گیا تھا، سماہر سمٹتی، اسی کی بانہوں میں پگھلنے لگی ۔ وہ جو اب تک میران کے صبر کا امتحان لیتی، اسے پاگل بنا رہی تھی خود کے لئے، تو اب اس کی دیوانگی سہنا سماہر کے لئے مشکل ہی ہو رہا تھا۔ جھٹکے سے میران اسے کھینچ کے، اپنے بازو پہ گرا چکا تھا اور خود اس پہ جھکتا گیا، اس کے پگھلتے نرم و نازک وجود کو میران اپنی بانہوں میں سمیٹ گیا، اسے اپنے وجود سے لگائے، وہ مسحور سا ہو رہا تھا اس کی خوشبو سے۔
” بوند بوند کر کے تمہیں خود میں اتارنے کا ارادہ ہے میرا آج “
وہ مبہم سرگوشی کر رہا تھا۔
” تمہاری روح میں اتر کے، تمہیں خود میں جذب کرنا ہے مجھے آج سماہر”
سماہر آنکھیں بند کر گئی تھی، میران اسے خود میں حفظ کر رہا تھا۔
سماہر اپنی سانس بحال کرتی آنکھیں کھول گئی تھی لیکن ایسے لگا جیسے منتشر ہوتی دھڑکنیں باولی ہو رہی ہو، دل کے نہاں خانوں میں سر پٹخ رہی ہو۔
” گستاخیوں کی اجازت ہے مجھے آج؟؟ “
میران اس کی آنکھوں میں دیکھتا پوچھ رہا تھا، سماہر پلکیں موند گئی تھی، لبوں پہ شرمیلی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی، وہ جو ساڑھی کا پلو رکاوٹ بن رہا تھا ان کے بیچ، میران وہ رکاوٹ بھی دور کر گیا،ہلکی ہلکی سانسوں کے شور میں، وہ جو ایک داستان بن رہی تھی، ان کے عشق کی دلکش داستان، وہ تکمیل ہو رہے تھے، ایکدوسرے میں اتر کے، وہ تکمیل پا رہے تھے۔ بارش کی برستی ہلکی بوندیں بھی، اس حسین ملاپ، محو رقص تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
