Rate this Novel
Episode 05
اس کی نظر ازمائر پہ گئی اور وہ تیزی سے ازمائر کی طرف لپکا تھا۔ اسکا کالر اپنی مٹھیوں میں بھینچتا وہ دھاڑا تھا۔
” کیا کہا ہے تم نے سماہر سے ؟؟ کیا بکواس کی ہے تم نے ؟؟ جان سے مار دوں گا آج میں تمہیں “
وہ چیخ رہا تھا جبکہ ازمائر لب بھینچے اپنا کالر اس کی گرفت سے آزاد کر رہا تھا جب وقاص ملک آگے بڑھے تھے اور ان دونوں کو الگ کرنے کی تگ و دو کرنے لگے لیکن ان دونوں کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔
” تمہاری حقیقت ۔۔۔ “
طنزیہ انداز میں کہتا ازمائر مزید اس کے غصے کو شہ دے گیا تھا۔
” مار ڈالوں گا آج تمہیں میں۔۔۔ “
اسے دیوار سے پٹختا وہ چیخا تھا، وقاص ملک ان دونوں کو دیکھ کے رہ گئے جو گلاس وال کے اس طرف بیٹھی سماہر کو بھول ہی گئے تھے اور ایکدوسرے پہ بھوکے شیر کی طرح وار کرنے پہ تلے ہوئے تھے۔
” تمہاری حقیقت بدل جائے گی جیسے ۔ “
ازمائر نے اسے دھکا دے کے خود سے الگ کیا تھا لیکن میران پھر سے اس پہ جھپٹ چکا تھا۔
” ماریہ نام ہے نا اس عورت کا ، جس کی چھاپ آج بھی تمہارے جسم پہ ہیں “
دانت پیستے وہ مسکراتی طنزیہ نگاہوں سے میران کو دیکھتا کہہ رہا تھا جب میران نے اس کی گردن دبوچی تھی ۔
” شٹ اپ ۔۔۔ “
وہ حلق کے بل چلاتا، اس کی گردن پہ اپنی گرفت سخت کرنے لگا، وقاص نے لب بھینچ کے ازمائر کو دیکھا تھا اور پھر نظر میران کے چہرے پہ گئی، جس کا چہرہ شدت ضبط سے سرخ ہو رہا تھا،
” تم خاموش رہو، چپ کرو، چپ رہو “
وہ بار بار چلاتا کہہ رہا تھا، عارفین نے یہ منظر بےحد حیرت سے دیکھا تھا۔ دشاب بھی یہ سب دیکھ کے لمحے بھر کے لیے تھے گئے تھے، اپنی جگہ ساکت ہو چکے تھے، ان کے دونوں بیٹے دشمن کے روپ میں ایکدوسرے کے مقابل تھے۔
دشاب اور عارفین ایک ساتھ آگے بڑھے تھے، دونوں بھائیوں کو ایکدوسرے سے الگ کرنے کے لئے، لیکن وہ دونوں جیسے اندھے اور بہرے ہو چکے تھے، ضد اور نفرت نے انہیں ایکدوسرے کا دشمن بنا دیا تھا، وقاص اپنی بیٹی کی طرف دیکھنے لگے جو بالکونی سے کمرے میں آ چکی تھی اور آنکھوں میں خوف اور حیرت لیے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ،پورا وجود کانپ رہا تھا میران کا یہ روپ، اس کے حواس سلب کر رہا تھا۔ وقاص تیزی سے آگے بڑھ کے میران کے بازو پہ اپنا بازو رکھا تھا۔
” میران، سماہر دیکھ رہی ہے “
وقاص حلق کے بل چلائے تھے اور میران کے ہاتھ رک گئے تھے، وہ تیزی سے سماہر کو دیکھنے لگا، گہرے سانس لیتا خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتا ، سماہر کو مزید خوفزدہ کر رہا تھا۔ آنکھوں میں بےبسی تھی، ازمائر اپنی گردن سہلاتا سماہر کو دیکھنے لگا۔
” اس کی۔۔۔۔ مت سنو ۔۔۔ میران ملک ایک دھوکا ہے “
وہ ان سب کے بیچ سے ہوتا سماہر کے قریب جاتا کہنے لگا جبکہ سماہر اس لمحے صرف میران کو دیکھ رہی تھی شکایت بھری، خوف بھری آنکھوں سے۔
” ازمائر خاموش رہو تم “
دشاب نے آگے بڑھ کے اسے روکنے کی کوشش کی تھی،ازمائر نے اپنا بازو چھڑایا تھا۔
” سماہر یہ شخص تمہیں دھوکا دے رہا ہے “
وہ کہہ رہا تھا لیکن سماہر سن کہاں رہی تھی، وہ قدم قدم میران کی طرف بڑھ رہی تھی، آنکھیں اب بھی میران پہ ٹھہری ہوئی تھی، جبکہ میران کی آنکھوں میں بےبسی نمایاں تھی۔ اسکے بےحد قریب رک کے سماہر اب بھی خاموش نگاہوں سے میران کو دیکھ رہی تھی۔ سب سانس روکے سماہر کو دیکھ رہے تھے۔
” م ۔۔۔۔ مجھے ب ۔۔۔ بہت ڈر لگ رہا ہے “
وہ بھرائی آواز میں اتنا ہی کہہ پائی جبکہ میران کی آنکھ سے آنسو گال پہ پھسلا تھا۔
“مجھ سے ؟؟”
عجیب یاسیت سی اتری ہوئی میران کی آواز میں۔ سماہر کی خوفزدہ آنکھوں میں معصومیت اتری تھی۔
” مجھے بس اتنا یاد ہے کہ اپنے مقابل کھڑے اس ضدی اور گھمنڈی مرد سے میں نے بےحد محبت کی ہے۔ “
ٹوٹتے لہجے میں کہتی وہ کندھے اچکاتی پلکیں جھپکا گئی جبکہ میران نے اپنی رکی سانس بحال کی تھی، کچھ لمحے پہلے کا خوف جیسے آنکھوں سے آنسو کی صورت میں بہہ نکلا تھا، کچھ لمحے لگا تھا کہ وہ سماہر کو کھو چکا ہے اور اب وہ الفاظ کھو چکا تھا کچھ کہنے کے لئے۔
” میں ایسی کیوں ہوں؟؟ کھبی لگتا ہے سب یاد ہے مجھے، اور کھبی لگتا ہے کہ ۔۔۔۔ کہ جیسے ہر طرف دھند ہے، غبار ہے، اور کچھ نظر نہیں آ رہا ، سب دھندلا ہے ، مجھے ایسے نہیں ہونا، میں ایسا ہونا نہیں چاہتی ، لیکن ۔۔۔۔۔ میں ایسی کیوں ہوں “
میران نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے، اس کے بال بےحد محبت سے سنوارے تھے،نم آنکھوں کے ساتھ وہ مسکرا رہا تھا۔
” مجھے تم ایسی بھی بہت پسند ہو سماہر “
ازمائر غصے سے بھناتا آگے بڑھنے کا سوچ رہا تھا جبکہ ملک نے اس کی کلائی تھام کے، اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا جبکہ وہ خون کے گھونٹ پیتا ان دونوں کو دیکھنے لگا اور پھر نفرت سے آنکھیں پھیری تھی۔ دشاب پہ نظر پڑی تو اپنا ہاتھ وقاص ملک کے ہاتھ سے چھڑا کے، وہ غصے سے تن فن کرتا دشاب ملک کی طرف بڑھا تھا اور بےحد زور سے انہیں دھکا دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے لڑکھڑا چار قدم پیچھے ہوئے تھے ۔
” نفرت کرتا ہوں، دشمنی خوب نبھائی ہے مجھ سے، تم سب قاتل ہو،میرے قاتل ہو، میرے قاتل ہو “
وہ دھاڑتا وہاں سے جا رہا تھا جب عارفین نے آگے بڑھ کے، کمزور پڑتے دشاب کو تھاما تھا، جو بےحد حیرت سے اپنے بیٹے کو جاتا دیکھ رہے تھے، اتنی نفرت، اپنی نفرت کہ احترام تک بھول گیا تھا وہ اس رشتے کا۔ اہنے باپ کو دھکا دے کے وہ آگے بڑھا تھا، انہوں نے چور نظروں سے میران کو دیکھا تھا جو لب بھینچے انہیں ہی دیکھ رہا تھا،وہ نظریں چرا گئے تھے، رخ پھیر گئے تھے، شرمندگی سے چہرہ سرخ پڑ گیا تھا، عارفین ان کی کیفیت سے بخوبی واقف ہو چکی تھی لیکن تسلی کے دو بول نہیں مل رہے تھے انہیں کہنے کے لئے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
سامنے لیپ ٹاپ کی روشن اسکرین پہ، عاھل خان کا نام جگمگا رہا تھا، جس کے آگے اس کی ایمیل لکھی ہوئی نظر آ رہی تھی، لیکن انگلیوں میں اتنی بھی سکت نہ تھی کہ وہ کچھ لکھ سکے، اب اس نے انسٹاگرام کی آئی ڈی اوپن کی تھی، جہاں عاھل خان کی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز تھی اس کے کیرئیر کے بعد سے اب تک کی، ہر پوسٹ پہ بہت سے لائکس اور کمنٹس تھے، جہاں اسے بےحد سراہا گیا تھا، پریشے خاموش نگاہوں سے ان الفاظ کو پڑھ رہی تھی۔
” وہ شخص جو تم پہ، تمہاری کزن کو ترجیح دے گیا، جو شادی کے نام پہ اپنی ہوس پوری کرتا رہا، کسی اور عورت کے جسم پہ، تم اس سے کیا توقع کر رہی ہو پریشے؟؟ دل بھر چکا تو اسے چھوڑ دیا اور اب ہر سونگ اور شعر کے بہانے پہ، وہ تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ تمہیں چاہتا ہے، اور تم بھی بےوقوف اس کی باتوں میں آ گئی ہو اور اسے سوچ رہی ہو۔ بیوقوفی نہیں ہے کیا یہ ؟؟”
ان الفاظ کی بازگشت کے ساتھ ہی، پریشے نے تیزی سے لیپ ٹاپ بند کر دیا تھا اور گہرا سانس لے کے وہ کرسی کی پشت پہ سر ٹکا گئی کہ یہ سچ ہی تو تھا کہ اس کی زندگی میں آئے دونوں مرد دھوکا دے گئے تھے اسے اور اب اس کے پاس کوئی جواز ہی نہیں بچتا تھا کسی بھی دوسرے یا پہلے مرد پہ اعتبار اور یقین کرنے کا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
رات کی تاریکی میں، دشاب ملک باہر لان میں بیٹھے، آسمان پہ نظر آتے اس آدھے چاند کو دیکھ رہے تھے، ذہن بھاری ہو رہا تھا اور ماضی کی غلطیوں کو سوچتے، وہ جیسے اندر سے ٹوٹ رہے تھے۔ ان کا دوسری شادی کرنا، میران پہ ہمیشہ ازمائر کو فوقیت دینا، میران کی معصوم آنکھوں میں ناامیدی کی جھلک اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہی ان آنکھوں میں ابھرتی نفرت اور سردمہری اور اب ازمائر کی بدتمیزی ۔ اپنے کندھے پہ ہاتھ کا دباؤ محسوس کر کے وہ چونکے تھے، نظر اٹھا کے وہ میران کو دیکھنے لگے جو لب بھینچے کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا،انہیں حیرت ہوئی تھی۔
” میران ۔۔۔ “
چیرہ مسکراہٹ پھیلی تھی میران کو دیکھ کے ، لیکن وہ سر جھٹک کے، ان کی کرسی کے قریب رکھی دوسری کرسی پہ بیٹھ گیا اور لان میں موجود اس بڑے درخت کو دیکھنے لگا جس کے سائے میں اکثر بیٹھ کے وہ شکایتیں کرتا، اپنے دل کی باتیں کرتا، اپنی محرومیاں بیان کرتا جبکہ دشاب اپنے بیٹے کو بےحد غور سے دیکھ رہے تھے، جس کے چہرے پہ سردمہری تھی، کچھ نہ تھا اس چہرے پہ۔
” میں اکثر بھولنے کی کوشش کرتا ہوں، اکثر یہی چاہتا ہوں کہ میں سب بھول جاؤں لیکن یہ سامنے تن آور درخت دیکھ رہے ہیں آپ؟؟ یہ مجھے بھولنے نہیں دیتا کچھ، کیونکہ اس کی آغوش میں سر رکھ کے، اس کے دامن میں، میں نے اپنے کئی آنسو بہائے ہیں، اس کی شاخوں پہ میں نے اپنے شکایتوں کے چھوٹے چھوٹے سے گھر بنائے ہیں اور آج بھی اس درخت پہ موجود میری شکایتوں کے چھوٹے چھوٹے گھر مجھے نظر آتے ہیں۔ “
وہ اب دشاب کو دیکھنے لگا۔
” باپ اور بیٹے کا رشتہ جانتے ہیں آپ؟؟؟ جانتے ہی ہونگے آپ، ازمائر کو دیکھ کے مجھے اکثر یہی خیال آتا کہ باپ بیٹے کا رشتہ کس قدر خوبصورت ہوتا ہے “
دشاب کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا جبکہ میران بےتاثر آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” بلکل اسی جگہ پہ بیٹھ کے اپ نے ازمائر کو گلے لگایا تھا، اس کے آنسو صاف کیے تھے، اسے سنبھالا تھا، اسے تسلیاں دی تھی اور میں وہاں ۔۔۔ “
وہ اب اپنے کمرے کی بالکونی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔
” وہاں کھڑا میں یہ سوچ رہا تھا کہ باپ کیا ہوتا ہے ؟؟ میرے لئے باپ کی تعریف کیا ہے ؟؟”
وہ اب پھر سے دشاب کو دیکھنے لگا۔
” اسکول ازمائر اپنے باپ کی انگلی پکڑ کے جاتا تھا اور میں۔۔۔۔ “
خاموش ہو کے اس نے لب بھینچے تھے۔
” مجھے ٹریپ کیا گیا، میں کچھ کر نہیں پا رہا تھا، میرا پورا جسم سرد پڑ رہا تھا لیکن آگے بڑھ کے آپ نے میری مدد نہیں کی، کیونکہ وہ عورت ۔۔۔۔ “
وہ لب بھینچ کے خاموش ہو گیا اور دشاب نے تیزی سے نظریں چرائی تھی۔ ان کے ہاتھ کانپے تھے اور انہوں نے اپنے دونوں کانپتے ہاتھوں سے کرسی کے ہینڈل کو مضبوطی سے پکڑا تھا۔
” اور اب آپ کا بیٹا مجھے ٹریپ کرنے کی کوشش کر رہا ہے “
چہرے پہ بےحد زہریلی مسکراہٹ تھی۔
” اور آپ اب بھی خاموش تماشائی ہے ۔ ماضی کی طرح آپ آج بھی خاموش تماشائی ہے “
دشاب نظریں چرا کے لب کاٹنے لگے تھے ۔
” مجھے آج بھی آپ کے لئے کوئی دکھ نہیں ہو رہا، میرے دل میں آج بھی کوئی احساس نہیں ہے آپ کے لئے، لیکن آج مجھے آج پہ ترس آتا ہے دشاب ارتضی ملک ۔۔ بہت ترس آتا ہے۔ ایک بےوفا مرد کا انجام اس سے بھی بھیانک ہونا چاہیے۔ جو نہ اپنی پہلی بیوی کی محبت کو سنبھال سکا، نہ اپنی دوسری بیوی سے وفا کر سکا اور نہ ہی تیسری عورت کے چنگل سے خود کو نکال سکا “
میران کی آواز بےحد سرد تھی جبکہ دشاب نے تڑپ کے اہنے بیٹے کو دیکھا تھا۔ میران اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور گھر کی طرف قدم قدم بڑھنے لگا اوپر سے وہ جس قدر سرد اور خشک نظر آ رہا تھا لیکن اندر سے وہ اسی قدر ٹوٹ ٹوٹ رہا تھا، ہر اٹھتے قدم کے ساتھ ، اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی اور نمی اتر رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ عورت مسکراتی خمار آلود نگاہوں سے، اپنے برابر میں موجود ازمائر کو دیکھ رہی تھی۔ جو لب بھینچے آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔
” تم باپ بیٹا ایک جیسے ہی ہو، پل بھر میں ایسے دور ہو جاتے ہو جیسے میرا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے “
شکایت بھرا جملہ تھا جبکہ ازمائر خاموش ہی رہا اور تب اس عورت نے ہاتھ بڑھا کے، اس کے سینے پہ اپنے ہاتھ کی پشت پھیرنی چاہی اور اسی تیزی سے ازمائر اٹھ کے بیٹھ چکا تھا۔
” جا رہے ہو ؟”
وہ اپنے بالوں میں انگلیاں چلاتی پوچھنے لگی، ازمائر بنا جواب دیے بیڈ سے نیچے اتر کے اپنے شوز پہننے لگا کہ اسے اس عورت کو جواب دینے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور تیزی سے اس کمرے سے باہر نکلا تھا، اسے آج کسی نتیجے پہ پہنچنا تھا اور تبھی وہ اس وقت اپنے کمرے میں موجود، بےحد سرخ ہوتی آنکھوں سے بیڈ پہ سوتی مائزہ کو دیکھ رہا تھا اور آگے بڑھ کے اس نے مائزہ کے اوپر سے کمفرٹر کھینچ کے نیچے پھینکا تھا، نیند بھری آنکھوں سے ہڑبڑا کے مائزہ اسے دیکھنے لگی جو عجیب نظروں سے مائزہ کے نازک وجود کو دیکھنے میں مصروف تھا اور پھر اچانک وہ مائزہ پہ جھکا تھا جبکہ مائزہ کی سانس جیسے رک گئی تھی پل بھر کے لئے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
