Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

” یہ لیں سائیں بی بی ۔۔ جیسا آپ نے کہا انتظام ہو گیا”
وہ جو کب سے کھڑی ” میران مینشن ” کے پچھلی طرف کے لان کے اس گوشے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی کہ بلکل ویسا ہی بنا ہے، جیسا میران بنانا چاہ رہا تھا جب منان کاکا کی آواز پہ وہ چونک کے مڑی تھی، صبح میران کے آفس جاتے ہی، اس نے منان کاکا کو کال ملائی تھی کیونکہ وہ رات کو سن رہی تھی میران کو، جب بےحد دلگرفتہ سا وہ منان سے بات کر رہا تھا اور تب وہ یہاں ائی تھی پھر سے میران کو سرپرائز کرنے۔
” ان پھولوں کو کہاں رکھنا ہے سائیں بی بی “
عمر میں وہ بڑے تھے سماہر سے، پھر بھی بےحد عزت دیتے تھے وہ اسے، چھوٹی سی عمر سے وہ منان کو دیکھتی آ رہی تھی لیکن سماہر ان کے لئے بہت قابل احترام تھی۔
” مجھے دے دیں منان کاکا ، میں رکھ دیتی ہوں “
” ارے نہیں سائیں بی بی، آپ بتائیے میں رکھ دیتا ہوں”
منان نے سر نفی میں ہلاتے کہا تھا تو سماہر نے اشارے سے ٹیبل کی سائیڈ پہ رکھنے کو کہا تھا ۔
” وہاں رکھ دیں منان کاکا”
” یہ لیں۔۔۔ بےحد خوبصورت لگ رہا ہے “
منان نے پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
” سچ میں ویسا ہی لگ رہا ہے ناں کاکا، جیسا میران چاہتا تھا “
سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” سائیں بی بی، میران سائیں کے لئے آپ کی محبت بےحد انوکھی ہے، اللہ سائیں آپ دونوں کی جوڑی کو سلامت رکھیں، میران سائیں نے بےحد محبت سے تیار کیا تھا سب ، بس اللہ سائیں غارت کریں اس عورت کو، جو سب خراب کر گئی “
سماہر نے لب بھینچ لیے تھے ماریہ کے ذکر پہ، اور پھر سر جھٹک گئی تھی۔
” کوئی بات نہیں کاکا، اب بھی سرپرائز ہی ہے سب، آپ بس شام ہوتے ہی میران کو کال کر دیں، “
” جو حکم سائیں بی بی “
منان سر اثبات میں ہلاتا وہاں سے جا چکا تھا جبکہ سماہر ایک بار پھر سے ساری تیاری دیکھنے لگی اور پھر لب دانتوں تلے دبا گئی ۔
” پرفیکٹ “
وہ مسکراتی وہاں سے اندر کی جانب بڑھنے لگی کہ اس کا ارادہ ابھی کچھ دیر آرام کرنے کا تھا اور پھر اٹھ کے تیار ہونا تھا اسے، اپنے میران کے لئے سجنا تھا اسے سر تا پیر۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” ماریہ کیا کر رہی ہے پاکستان میں؟؟”
وقاص ملک کی اواز پہ، ٹائی کی ناٹ بناتے دشاب ملک کے ہاتھ رکے تھے اور ابرو اچکا کے اپنے بھائی کو دیکھا تھا۔
” کیا مطلب ؟ ماریہ کیا کر رہی ہے پاکستان میں؟”
” تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ میری بات کا مطلب کیا ہے ؟”
وقاص ملک نے سرد لہجے میں کہا تھا جبکہ دشاب سر جھٹک کے اپنا کوٹ پہننے لگے ۔
” کل رات وہاں میران اور سماہر کے سامنے جو بھی ہوا، اگر ذرا سی بھنک بھی میڈیا کو پڑ جاتی اور اگر میران یا سماہر کو کچھ بھی ہو جاتا تو دشاب سمجھ لو کہ اس وقت تم اپنے پیروں پہ کھڑے نہ ہوتے “
وقاص ملک غرایا تھا جبکہ دشاب ملک کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔
” تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ، ہوش میں تو ہو تم “
دشاب ملک نے دانت پیسے تھے ۔
” تم جو کچھ کر چکے ہو میران کے ساتھ ماضی میں اور جس طرح سے اپنی سیاست کی کرسی سنبھالنے کے لئے میران کو اس عورت کے ہاتھ بیچا تھا، تم شاید بھول گئے ہو لیکن مجھے ابھی تک یاد ہے ، میران کو میں نے اس سے نجات دلوائی ہے، اس بچے کو میں نے بچایا تھا اس عورت کی شر سے، میران میری اولاد ہے، تم باپ ہوتے ہوئے بھی، اسے یتیم ہی ٹھہرا چکے تھے، اسے میں نے پالا ہے، اگر اب ایسا کچھ بھی ہوا میران کے ساتھ، ماریہ نے کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی اس کے ساتھ تو جان لو کہ تمہارے مقابل میں کھڑا ہونگا اور میرے ہاتھ تمہارے گریبان پہ ہونگے۔۔۔ “
دشاب ملک لب بھینچے انہیں دیکھ رہے تھے جبکہ وقاص ملک نے شہادت کی انگلی ان کی طرف اٹھائی تھی۔
” میران سترہ سال کا بچہ نہیں ہے کہ اسے ماریہ کے آگے بچھا دو یا اس کی قیمت لگاؤ، میران کو چوٹ بھی پہنچی تو اپنے مقابل مجھے پاؤ گے۔ اپنی گندگی میران کے دامن پہ نہیں مل سکتے تم دشاب”
” تم خود کیا چیز ہو جو مجھے گندگی کا ڈھیر کہہ رہے ہو، ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری بیوی کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔ “
دشاب چلایا تھا۔
” میں نے شادی کی تھی، تمہاری طرح دوسری عورت کے منہ میں اپنی اولاد نہیں پھینک آیا تھا”
وقاص ملک نے طنزیہ لہجے میں کہا تھا جب دشاب کی نظر پیچھے کھڑے ازمائر پہ پڑی تھی جو حیران آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا ۔ وقاص بھی پیچھے مڑے تھے ۔
” ازمائر ۔۔۔۔ “
دشاب ملک کے لب ہلے تھے۔
” تم کب آئے بیٹا؟”
دشاب نے مسکرانے کی کوشش کی تھی جبکہ ازمائر لب بھینچے سنجیدگی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” ہاں دیکھنے آیا تھا کہ ایک باپ کس حد تک گر سکتا ہے “
دشاب نے لب بھینچے تیز نظروں سے وقاص ملک کو دیکھا تھا۔
” میں میران سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ میرا اسٹیپ براڈر ہے، اس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ ہمارے بیچ بہت اختلافات ہیں اور ہم نفرت کی آخری حد تک آ پہنچے ہیں لیکن آپ کا تو سگا بیٹا ہے، آپ کی سگی اولاد، اپنی اولاد کی قیمت لگائی ہے “
ازمائر سرد لہجے میں کہہ رہا تھا جبکہ دشاب گڑبڑائے تھے۔
” ازمائر بیٹا میں تو ۔۔۔۔ یہ سب جھوٹ ہے ، الزام ہے، میں تو بس وہ سب ایک بزنس فائل پہ سائن۔۔۔۔ “
” کیسے باپ ہے اپ؟ “
ازمائر نے ان کی بات کاٹی تھی۔
” اپنے بیٹے کی قیمت لگا چکے تھے آپ؟؟ اپنے ہی بیٹے کو بیچ دیا تھا “
ازمائر اچانک ڈھارا تھا جبکہ دشاب ملک سن ہو گئے تھے۔
” زندگیاں برباد کر چکے ہیں آپ اپنے اس سو کالڈ سیاست کی وجہ سے ۔ اپ کی سگی اولاد برباد ہو کے رہ گئی ہے، چاہے وہ میران ہو یا پھر میں، ہم سب برباد ہو چکے ہیں آپ کی سو کالڈ سیاست نے سب ختم کر دیا ہے “
” ہو گئی تسلی وقاص ؟؟ کر دیا میرے بیٹے کو میرے خلاف۔۔ خوش ہو اب ؟”
دشاب، وقاص کو دیکھ کے بولے تھے جبکہ ازمائر ہنس پڑا تھا۔
” میں آپ کے خلاف ؟؟؟ میں آپ کے ساتھ تھا ہی کب ؟؟ آپ صرف اپنے مفاد کے لئے اولاد کو استعمال کرتے ہیں، یہ جو کرسی ہے ناں، اس کے لئے آپ اپنی اولاد کی قربانی دینے کو تیار ہے۔۔ افسوس ہے مجھے آپ پہ، بےحد افسوس “
ازمائر نے اپنی بات کے اختتام پہ، سر سے پاؤں تک انہیں دیکھا تھا اور پھر نظریں پھیر کے کمرے سے باہر نکلا تھا، وقاص بھی تاسف سے سر ہلاتے کمرے سے نکلے تھے جبکہ دشاب ملک لب بھینچے ساکت نظروں سے اس کھلے دروازے کو دیکھ رہے تھے، نظریں ساکت تھی لیکن دل ڈوب رہا تھا۔ جیسے تپتے صحرا میں وہ خالی ہاتھ رہ گئے ہو۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

لان میں آتے ہی اس کی نظر گاڑی کی طرف اٹھی جس میں مائزہ ڈرائیور کے ساتھ کہیں جا رہی تھی، ازمائر بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا اور تیزی سے بیٹھ کے وہ بھی گاڑی آگے بڑھا لے گیا، وہ مائزہ کی گاڑی کا پیچھا کر رہا تھا، مائزہ کی گاڑی ایک کلینک کے سامنے رکی تھی اور وہ نیچے اتر کے کلینک میں جا چکی تھی جبکہ ازمائر بھی گاڑی سے اتر اس کے پیچھے ہی کلینک آیا تھا۔ کوریڈور سے گزر کے اس نے جیسے ہی ڈاکٹر زینب کے کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا جب بات کرتے دونوں نے چونک کے اسے دیکھا تھا، مائزہ کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی جبکہ ڈاکٹر زینب مسکرا کے اسے دیکھنے لگی۔
” ارے مسٹر ازمائر، آپ بھی آئے ہیں “
ازمائر ہلکا سا مسکرایا تھا، نظریں مائزہ پہ گئی تھی جبکہ اس نے نظریں پھیر لی تھی ۔
” آئیے مسٹر ازمائر ، آپ بھی دیکھئیے اپنے بےبی کو “
ڈاکٹر زینب کی آواز پہ وہ چونکا تھا جبکہ مائزہ اس کے سامنے کترانے لگی لیکن زینب کے سامنے وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی، تبھی نظریں چراتی وہ بیڈ پہ لیٹنے لگی جبکہ ڈاکٹر زینب اس کی شرٹ ہلکا سا اوپر کر چکی تھی ۔
” یہ دیکھ رہے ہیں آپ مسٹر ازمائر، بےبی نظر آ رہا ہے آپ کو ؟؟ “
ازمائر اب اسکرین کو غور سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی، تب ڈاکٹر زینب نے اسکرین پہ اپنی شہادت کی انگلی رکھ کے اشارہ کیا تھا۔
” یہ دیکھئیے ، he is moving Mashallah
یہ اس کا ہارٹ ہے اور یہ ننھا سا بےبی”
ازمائر کی آنکھیں دھندلانے لگی، آنسو جیسے خود ہی جمع ہونا شروع ہوئے تھے اس کی آنکھوں میں، اس نے ہاتھ سے اپنی آنکھوں کو رگڑا تھا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے جمع ہوتے آنسوؤں کو صاف کر سکے، مائزہ جو اس سے نظریں چرا رہی تھی، اب وہ اسے دیکھنے لگی۔ اسے حیرت ہوئی تھی ازمائر کو یوں روتا دیکھ کے۔ اس کا دل بھی اس لمحے نرم پڑا تھا اور وہ لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی۔ اس لمحے وہ بےحد نرم دل ازمائر لگا تھا اسے، وہی پرانا ازمائر جو ہمیشہ اسے دوست کا درجہ دیتا تھا۔
” اب یہ آپ کا کام ہے مسٹر ازمائر کہ مائزہ کا بہت سارا خیال رکھے کیونکہ اس ٹائم پیریڈ میں ایک عورت کو اپنے ہزبینڈ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ “
زینب اٹھ کے اپنی سیٹ کی طرف آئی تھی جبکہ ازمائر ، مائزہ کو نیچے اترنے میں مدد دینے لگا، مائزہ نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا لیکن ازمائر نے اپنی گرفت اس کے ہاتھ پہ مضبوط کی تھی اور وہ لب بھینچے نیچے اتری تھی۔
” یہ کچھ میڈیسن لکھی ہے میں نے، یہ سب وٹامنز اور کیلشیم ہیں جو آپ کی وائف اور بےبی کی ہیلتھ کے لئے بیسٹ ہے ۔ مسٹر ازمائر میں کہہ رہی ہوں کہ اپنی وائف کا بہت خیال رکھنا ہے “
زینب مسکرا کے ازمائر سے بات کر رہی تھی جبکہ مائزہ لب بھینچے کھڑی تھی، دل کر رہا تھا کہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ کے، اسے دھکا ہی دے دیں، لیکن خاموش ہی رہی۔ مگر وہاں سے نکل کے، مائزہ نے زور سے ہاتھ کھینچ کے، خود کو اس سے الگ کیا تھا جبکہ ازمائر لب بھینچے اسے دیکھنے لگا ۔
” کیا مسئلہ ہے مائزہ “
” زیادہ چپکنے کی ضرورت نہیں ہے “
مائزہ کے انداز پہ، اس نے بھرپور گھوری دی تھی مائزہ کو۔
” سنا نہیں تھا کہ ڈاکٹر کیا کہہ رہی تھی کہ اپنی وائف کا خیال رکھو۔ “
” ڈاکٹر کو کیا معلوم کہ وہ ایک درندے کے حوالے کر رہی ہے مجھے “
مائزہ سپاٹ لہجے میں کہتی آگے بڑھی تھی جبکہ ازمائر نے لب بھینچے اس کی پشت گھوری تھی اور پھر لمبے ڈگ بھرتا اس کے قریب پہنچا تھا، اس کا بازو پکڑ کے، اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔
” کیا کہا تم نے، کہ میں درندہ ہوں “
مائزہ نے سر سے پاؤں تک اسے دیکھا تھا۔
” دیکھ تو رہی ہوں میں “
ازمائر نے گہرا سانس لے کے، اس کا بازو چھوڑا تھا۔
” ایم سوری ۔۔ “
” تم کھبی نہیں سدھر سکتے “
سر جھٹک کے، وہ آگے بڑھی تھی جبکہ ازمائر بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا، اس کا بازو نرمی سے تھام کے، اسے اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا ۔
” مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔ “
وہ ناگواری سے کہتی اپنا ہاتھ چھڑا کے گاڑی کی طرف بڑھی تھی جبکہ ازمائر بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا، مائزہ جیسے ہی گاڑی کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تھی، جب ازمائر ڈرائیور کو اشارہ کرتا، گاڑی کے ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا تھا جبکہ ڈرائیور ازمائر کی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے “
مائزہ غصے سے کہتی گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی لیکن اس سے پہلے ہی ازمائر گاڑی کو لاک کر چکا تھا۔
” کیا کرنا چاہ رہے ہو تم ازمائر “
مائزہ چلائی تھی جبکہ ازمائر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
” کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ایسا “
وہ پھر سے چلائی تھی اور ساتھ ہی اس کے بازو پہ اپنے ناخن گاڑے تھے۔
” آؤچ، مائزہ کیا کر رہی ہو تم یار “
گاڑی چلاتے ازمائر نے اسے ایک نظر دیکھا تھا اور پھر سے نظریں روڈ پہ کی تھی۔
” بدتمیز، گاڑی روکو، مجھے تمہارے ساتھ نہیں جانا کہیں “
مائزہ کی تیز آواز پھر سے گونجی تھی ۔
” مجھے درندہ کہنے والی، خود کو بھی دیکھ لو اب “
ازمائر نے جتلانے والے انداز میں کہا تھا جبکہ مائزہ نے دونوں ہاتھوں کا زور لگا کے، اسے دھکا دیا تھا جبکہ وہ گاڑی کو ایکسیڈنٹ سے بچانے کی کوشش کرتا سنبھلا تھا۔
” کیا کر رہی ہو تم مائزہ، ایکسیڈنٹ کروانا ہے کیا “
ازمائر جھنجھلایا تھا جبکہ مائزہ اسے گھورنے لگی۔
” ہو جائے ایکسیڈنٹ، مر ہی جاؤں تو بہتر ہے، تمہارے ساتھ یہاں رہنے سے بہتر ہے کہ میں مر جاؤں “
گاڑی سائیڈ پہ روک کے، ازمائر نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے چند لمحوں کے لئے قید کیا تھا اور پھر اس سے الگ ہوتا وہ مائزہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا۔
” اب مرنے کی بات کر کے دکھاؤ تم “
مائزہ آنکھوں میں حیرت اور نفرت لیے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ ازمائر پھر سے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا، مائزہ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئی تھی۔
” تم بہت برے ہو ازمائر، بہت زیادہ برے ہو “
مائزہ بھرائی آواز میں کہتی، پھر سے سامنے دیکھنے لگی جبکہ ازمائر یونہی گاڑی چلاتا رہا، مائزہ کی بھرائی آواز نے اس کے دل کو جیسے اپنی گرفت میں کر لیا تھا لیکن وہ یونہی گاڑی چلاتا رہا۔ وہ پشیماں تھا، پھر سے سب ٹھیک کرنا چاہتا تھا، لیکن مائزہ اس سے نفرت کا اظہار کرتی تھی ہمیشہ اور وہ خاموش ہو جاتا۔
مائزہ خاموش ہو گئی تھی لیکن خاموش آنسو اس کی گالوں پہ بہہ رہے تھے۔ وہ اس قدر اپنی سوچوں میں گم تھی کہ وہ یہ تک نہ دیکھ سکی کہ گاڑی کسی دوسرے راستے سے ہو کے جا رہی ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہ جیسے ہی ” میران مینشن ” میں داخل ہوا تھا تو اس کے قدموں میں، قالین کے مانند بکھرے پھولوں نے اس کا استقبال کیا تھا، وہ حیران سا چاروں طرف دیکھنے لگا، لاؤنج میں جگہ جگہ موم بتیاں جلائی گئی تھی، جن کی مسحور کن خوشبو چار سوں بکھر رہی تھی۔ اس کے لبوں پہ مبہم مسکراہٹ بکھری تھی، جہاں جہاں پھول بکھرے ہوئے تھے، میران وہیں سے قدم آگے بڑھا رہا تھا جب بڑے سے گلاس ڈور کے سامنے رک کے، اس نے باہر دیکھا تھا، لان کے اس گوشے کو پھر سے بےحد رومینٹک انداز میں سجایا گیا تھا جس طرح سے اس نے سجایا تھا اور ایک لمحے میں سب خاک بھی ہو چکا تھا۔ اس کی متلاشی نظروں نے سماہر کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ میران خو نظر نہ آئی تو قدم آگے بڑھا کے وہ باہر آیا تھا لیکن سماہر اسے پھر بھی نظر نہ آئی۔ وہ بےچین سا ہر طرف سماہر کو ڈھونڈنے لگا۔ وہ رکا تھا جب اچانک اس کے چہرے پہ خوشبوؤں میں بسا آنچل لہرایا تھا، آنکھیں موند کے اس نے خوشبو کو اپنی سانسوں میں بسایا تھا۔ اس آنچل میں سماہر کی بھینی خوشبو بسی تھی۔
” سماہر “
وہ مڑا تھا لیکن سماہر کھلکھلاتی اپنا آنچل لہراتی، پیچھے قدم رکھنے لگی۔ سفید رنگ کی ساڑھی میں، وہ جنت سے اتری کوئی حور ہی لگ رہی تھی، جس کے بےپناہ حسن سے میران کی آنکھیں خیرہ ہو رہی تھی، وہ آگے بڑھا تھا اسے تھامنے کے لئے، لیکن سماہر کھلکھلا کے ہنستی، اس سے دور ہوئی تھی۔
” سماہر کیا یار ۔ “
وہ بےچین سا ہو کے اس کے پیچھے چلنے لگا۔
” کیا کیا میران ؟”
وہ کھلکھلائی تھی جبکہ میران زیر لب مسکرانے لگا۔
” ایسے کیوں تنگ کر رہی ہو مجھے “
” کیونکہ مجھے اچھا لگ رہا ہے تمہیں تنگ کرنا “
سماہر پھر سے کھلکھلائی تھی۔
” مجھے ایسے تڑپانا تمہیں اچھا لگتا ہے ؟”
میران اس کے پیچھے پیچھے ہی چل رہا تھا۔
” بلکل ۔۔۔ “
اپنا سفید آنچل لہرا کے، وہ گھومی تھی۔
” لیکن میں تمہیں بانہوں میں بھرنا چاہتا ہوں “
میران کی آواز میں چھپی خواہشیں تھی وہ مسکرانے لگی ۔
” تو آ کے بھر لو مجھے بانہوں میں “
میران کے چہرے پہ بارش کی نمی محسوس ہوئی تھی، بارش کی چند بوندیں سماہر کے چہرے پہ گری تو وہ سر اٹھا کے آسمان کو دیکھنے لگی۔
” مجھے بارش ہمیشہ سے پسند رہی ہے میران “
” اور مجھے تم “
وہ رکی تھی اور اچانک سے میران نے آگے بڑھ کے، اسے کمر سے تھام کے اپنے قریب کیا تھا جبکہ سماہر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” مجھے تنگ کرنا اچھا لگتا ہے تمہیں؟”
میران نے اس کے دلکش چہرے پہ، بارش کی چند بوندوں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے چھوا تھا۔
” تمہاری بےچینیاں مجھے اچھی لگتی ہے “
سماہر گنگنائی تھی۔ میران نے جھک کے، اس کے ڈیپ گلے سے نظر آتے کندھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔ سماہر نے آنکھیں موند کے اس لمس کو خود میں جذب کیا تھا۔ وہ پھر سے سماہر کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہ سب پلان کر چکا تھا۔؟”
” وہ سماہر ہی کیا، جو اپنے میران کو نہ جانتی ہو “
سماہر کے محبت بھرے انداز پہ، اس نے ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” ناٹ بیڈ “
” آہہہ۔۔ “
سماہر نے بھی ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” بارش ہو رہی ہے میران “
وہ آسمان کو دیکھتی کہنے لگی جہاں بارش کی بوندیں تھوڑی تیز ہوئی تھی جبکہ میران گھمبیر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا، اس کی گردن پہ بارش کی بوندیں پھسل رہی تھی جو سر اوپر اٹھانے پہ زیادہ واضح دکھائی دے رہے تھے۔
” تمہیں کچھ محسوس ہو رہا ہے میران ؟”
وہ اب میران کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران اس کے لبوں پہ خم ہوا تھا، اپنی محبت کی مہر ثبت کر کے، وہ سماہر کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جہاں حیا اور محبت کے حسین رنگ بکھرے ہوئے تھے۔
” میرے احساسات کو تم خود سے پڑھ لو سماہر”
اس کے گردن پہ بکھری بارش کی بوندوں کو اس نے ہلکا سا ہاتھ سے چھوا تھا جبکہ سماہر کسمسائی تھی۔
” اچھا چلو دیکھتے ہیں کیا کیا تیاریاں کی ہیں میری بیگم نے “
میران اس کی نازک کمر کے گرد بازو حائل کر کے، قدم آگے بڑھا دیے تھے جبکہ اس نے مسکرا کے اسے روکا تھا، میران سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
” بارش میں بھیگتے ہیں۔ “
میران نے اس کے لبوں پہ اپنے ہاتھ کا انگوٹھا پھیرا تھا جبکہ سماہر نے اس کے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھ کے، اسے دھکا دیا تھا اور اس سے دو قدم پیچھے ہو کے، کھلکھلاتی ڈوری تھی جبکہ میران نے تو پہلے نہیں سمجھا اور پھر ہنستا اس کے پیچھے ڈور لگا دی تھی ۔
” رکو تم ۔۔۔۔ “
لان کے اس گوشے میں، وہ دونوں وجود بارش میں بھیگتے ایکدوسرے کے پیچھے ڈور رہے تھے، ہنس رہے تھے جبکہ ان کی کھلکھلاہٹ سے اس لان کا گوشہ گوشہ کھل رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤