Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

” دشاب ملک یو آڑ انڈر اریسٹ “
انسپکٹر جمشید اکیلے ہی آیا تھا ان کے بنگلے پہ اور اب لاؤنج میں کھڑا وہ دشاب ملک سے اچانک یہی کہا تھا، ازمائر نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ میران نے لب بھینچ لیے تھے، وہ جانتا تھا کہ جمشید یہاں کس لئے اور کیوں دشاب ملک کو گرفتار کرنے آیا ہے۔
” ایم سوری دشاب ملک، لیکن آپ کو ہمارے ساتھ جانا ہی ہوگا “
” کیا کیا ہے انہوں نے اب ؟”
ازمائر سرد نظروں سے دشاب ملک کو دیکھتا پوچھنے لگا۔
” ماریہ کے مرڈر کیس میں ان کو اریسٹ کیا جا رہا ہے “
جمشید نے جواب دیا تھا جبکہ ایک گہری نظر میران پہ بھی ڈالی تھی اور میران نے لب بھینچے نظریں پھیر لی تھی۔
” اوہ، ڈیڈ یہ کام بھی آپ نے انجام دیا ہے، گڈ ٹو نو “
ازمائر کے لہجے میں طنز تھا، دشاب ملک اسے دیکھ کے رہ گئے۔
” باہر کوئی پولیس کی گاڑی نہیں آئی اور نہ کوئی کانسٹیبل آیا ہے، صرف میں آیا ہوں آپ کو اپنے ساتھ لے جانا، میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ نیوز اخبار کی سرخیاں بنے اور میران تمہیں کوئی پرابلم ہو اپنے پولیٹیکل کیرئیر میں “
دشاب ملک سے بات کرتے کرتے اس نے آخر میں میران کی طرف دیکھا تھا۔
” دشاب ملک پلیز ۔۔۔ اپ کو جانا ہوگا میرے ساتھ “
دشاب ملک نے اپنے دونوں بیٹوں کو ایک ایک نظر دیکھا تھا، میران لب بھینچے انہیں ہی دیکھ رہا تھا جبکہ ازمائر نے نظریں پھیری تھی، وہ گہری سانس بھر کے رہ گئے اور خاموشی سے جمشید کے ساتھ آگے بڑھ گئے جبکہ میران کی نظروں نے وہاں تک ان کا تعاقب کیا جہاں تک اس کی نظر جا سکتی تھی لیکن وقاص ملک کے وہاں پہنچنے پہ جمشید رک گیا تھا۔
” اسلام علیکم وقاص ملک “
” وعلیکم السلام، کیا بات ہے ؟؟ انسپکٹر؟”
وقاص ملک اچھنبے سے اپنے بھائی کو دیکھتے پوچھنے لگے۔
” میرا باپ اپنی محبوبہ کو مارنے کے جرم میں جیل جا رہا ہے “
ازمائر نے نفرت بھرے لہجے میں جواب دیا تھا۔
” ازمائر “
وقاص ملک نے کڑی نظر سے اسے دیکھا تھا تو وہ کندھے اچکا کے میران کو دیکھنے لگا جو خاموش تھا مکمل۔
” انسپکٹر شاید آپ ہمیں جانتے نہیں ہے جو اس طرح سے میرے بھائی کو لے کے جا رہے ہیں “
وقاص ملک کی بات پہ جمشید نے اپنی کنپٹی سہلائی تھی۔
” ہم انویسٹگیشن کے لئے، دشاب ملک کو لے کے جا رہے ہیں ، otherwise آپ کی فیملی ہمارے لئے قابل احترام ہے”
” یہ غلط ہے ویسے، ایک عزت دار شخص کو اپ ایک معمولی جرم کا الزام دے کے، اپنے ساتھ لے جائیں “
وقاص ملک کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔
” وقاص پلیز،مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ان کو اپنا کام کرنے دو”
دشاب نے ان سے کہا تھا جبکہ وہ نفی میں سر ہلا گئے۔
” بلکل بھی نہیں، یہ غیر قابل تحمل بات ہے، میرے بھائی کو کوئی نہیں لے جا سکتا”
” سر آپ۔۔۔”
جمشید نے کچھ کہنا چاہا لیکن دشاب ملک نے اسے روک دیا اور پھر وقاص کو دیکھنے لگے۔
” میں آ جاؤں گا تمہیں پریشان مت ہو”
یہ کہہ کے، اس نے پھر سے ایک نظر اپنے دونوں بیٹوں پہ ڈالی تھی جو خاموشی سے انہیں ہی دیکھ رہے تھے اور وقاص ملک کی طرف،ہلکا سا مسکرا کے دیکھا تھا انہوں نے، جن کے چہرے پہ پریشانی تھی اپنے بھائی کے لئے اور پھر سر جھٹک کے باہر کی طرف بڑھ گئے تھے۔
گاڑی میں کب سے دشاب ملک بیٹھے ہوئے تھے، ساکت آنکھیں روڈ پہ تھی جبکہ وہ خود اپنی ہی سوچوں میں گم تھے۔ آنکھوں کے آگے سب دھندلا سا تھا اور دماغ مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ جوانی سے لے کے اب تک کی ساری زندگی، ان کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چل رہی تھی۔
” کیوں؟؟ کیوں؟؟ یہی سب کیوں؟؟ اس قدر تنہا ہو کے رہ گیا ہوں، مکمل خالی ہاتھ ہو چکا ہوں، میرا کوئی نہیں ہے، نہ بیٹا، نہ بیوی، نہ بھائی نہ کوئی ہمدرد، اس قدر تنہا ہوں میں۔ نفرت کے قابل ہوں میں اس گھر کے فرد کے لئے، نفرت کرتے ہیں سب اور عارفین بھی نفرت کرتی ہے مجھ سے، اس قدر نفرت، عارفین کی نفرت نہیں سہہ سکتا میں، مجھے ۔۔۔ مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے لیکن عارفین ، عارفین کی نفرت نہیں سہہ سکتی میں، کھبی بھی نہیں “
وہ رونے لگے، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی تو آتا ہے کہ سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، اپنے ہی کیے گناہوں کی سزا ایسے انداز میں ملتی ہے ہمیں کہ لمحہ بھر کے لئے تو ہم ساکت رہ جاتے ہیں کہ یہ تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا، یہ سب کیسے ہو گیا، ظالم بنتے وقت انسان کو کھبی یہ خیال تک چھو کے نہیں گزرتا کہ اگر کل کو میری پکڑ ہوگی تو کیا ہوگا ؟ کس کس کو کیا جواب دوں گا اور سب سے بڑھ کے اپنے رب کو کیا جواب دوں گا۔
جمشید کی گاڑی کا رخ پولیس اسٹیشن کی طرف تھا، جب اب سب منہ موڑ چکے تھے اور سب نے نفرت کا اظہار کر ہی دیا تھا ان سے تو بہترین عمل یہی تھا کہ اپنے گناہوں کو قبول کر لیں اور اپنی باقی ماندہ زندگی، جیل کی سلاخوں کے پیچھے، ایک کونے میں بیٹھ کے گزار دے ۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” یہ غلط ہے میران، دشاب چچا بہت غلط کر چکے ہیں مانتی ہوں لیکن وہ اس فیملی کے بزرگ ہے، نہیں ہونا چاہئے تھا یہ سب “
سماہر پریشان نظروں سے میران کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران کی بےتاثر آنکھیں اس کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔
” وہ ماریہ کا قاتل ہے “
” تمہیں کیسے پتہ ؟؟ بنا ثبوت کے کیسے کہہ سکتے ہو “
سماہر اس کے سامنے جا بیٹھی تھی۔
” میں نے خود دیکھا ہے سماہر، سی سی ٹی وی فوٹیج میں۔”
سماہر کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی جبکہ میران کچھ سوچنے لگا۔
” تم نے بتایا پولیس کو ؟؟”
سماہر کے سوال پہ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
” میں نہیں بتا پایا، میں نے ساری پروف مٹا دیے تھے ، نہیں پتہ کہ جمشید کو کیسے پتہ چلا “
سماہر نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے اور ان پہ باری باری اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھے برا لگ رہا ہے ان کے لئے میران “
” مجھے بھی “
وہ سماہر کو دیکھنے سے گریز کر رہا تھا جبکہ سماہر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” میران ۔۔۔ “
میران اسے دیکھنے لگا۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا، تم پریشان مت ہو پلیز “
” میرا اس شخص سے کوئی رشتہ نہیں ہے سماہر، اس سے ہر رشتے کو میں قبول نہیں کرتا لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا”
میران آہستگی سے بوجھل آواز میں کہہ رہا تھا جبکہ سماہر نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر تھا۔
” جانتی ہوں میں میران، لیکن مجھے یقین ہے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ “
میران نے جھک کے، اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” انشاءاللہ “
اس کے موبائل پہ کال آئی تھی اور اس نے اچھنبے سے موبائل کی طرف دیکھا تھا جہاں کوئی انجکشن نمبر چمک رہا تھا۔
” ہیلو ۔ “
اس نے موبائل کو کان سے لگاتے کہا تھا جبکہ دوسری طرف کوئی اجنبی آواز ابھری تھی
” سماہر کے ہزبینڈ میران ارتضی ملک ؟؟”
میران کی نظر بےساختہ سماہر پہ گئی تھی جبکہ سماہر نظریں جھکائے اس کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔
” جی ؟”
” مجھے ضروری بات کرنی ہے ، مجھ سے ملنا ہوگا تمہیں آج؟”
” آپ کون ؟؟”
میران نے اچھنبے سے پوچھا تھا۔
” میرے اور تمہارے بیوی کے متعلق ہے”
اس نے تیزی سے کہا تھا ۔
” کیا بکواس ہے ؟”
میران نے لب بھینچ لیے تھے ۔
” میں تمہارے واٹس ایپ پہ لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں، ملنے آ جانا “
یہ کہہ کے اس نے کال بند کر دی جبکہ میران نے سوالیہ نظروں سے موبائل کو دیکھ کے سائیڈ پہ رکھا تھا۔ ۔
” کس کی کال تھی میران ؟”
سماہر اس سے پوچھنے لگی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” نہیں پتہ، کوئی ملنا چاہ رہا ہے مجھ سے “
” کون ؟؟”
سماہر پوچھنے لگی۔
” نہیں جانتا “
اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔ سماہر نے ہنکارا بھرتے اسے دیکھا تھا۔
” پھر کسی دشمن کی چال نہ ہو، تمہارا ہر دشمن تمہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے “
سماہر کے لہجے میں اب کے پریشانی کی جھلک تھی جبکہ میران نے اس کے لبوں پہ نرمی سے اپنے لب رکھے تھے۔
” تمہاری دعائیں کہاں مجھے کچھ ہونے دیتی ہے”
سماہر کی آنکھوں میں اب بھی پریشانی کی جھلک تھی۔
“پھر بھی میران، تم اکیلے نہیں جاؤ گیں وہاں “
” اوکے ڈونٹ ووری، میں منان کاکا کے ساتھ جاؤں گا “
میران اسے تسلی دیتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ سماہر نے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روکا تھا۔
” گارڈز بھی جائیں گے تمہارے ساتھ میران، صرف منان کاکا نہیں “
میران نے اثبات میں سر ہلاتے، اس کے گال پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” جیسے آپ کا حکم میری جان “
میران جانے لگا جب سماہر پھر سے اسے روک کے کھڑی ہوئی تھی، میران مڑ کے اس کی ناراض آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” ایسے جاؤ گیں؟؟”
میران اس کے قریب آیا تھا، اس کے گال اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلائے تھے۔
” مطلب یہ ہے کہ مجھے تم نے جانے دینا ہی نہیں ہے آج “
” ڈر لگ رہا ہے میران، بہت ڈر لگ رہا ہے”
میران ہلکا سا مسکرا دیا تھا۔
” میں کسی جنگ پہ تو نہیں جا رہا جان میران، واپس آ جاؤں گا جلدی سے “
” پرامس ؟؟”
سماہر آنکھوں میں ڈھیر سارا خوف لیے اسے دیکھ رہی تھی۔ میران نے اس کی گردن، ہاتھ سے سہلائی تھی اور اس کے لبوں پہ جھک کے، اس نے ان لبوں پہ اپنی محبت کی مہر نرمی سے ثبت کی تھی، اور پھر گہرا سانس لیتا وہ پیچھے ہونے لگا تھا لیکن سماہر اسے روک گئی تھی اور اسے خود سے الگ نہ ہونے دیا، لبوں کے ملاپ کے اس عمل میں، وہ میران کا ساتھ دینے لگی اور ان لمحوں میں میران سب بھول کے، سماہر کی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھاتا، اپنی سانسیں مہکانے لگا جبکہ سماہر کو اپنا خوف اس کی قربت میں زائل ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ تبھی وہ سیکنڈ کے لئے بھی میران کو خود سے دور نہ کر پا رہی تھی، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ میران کو روکے رہے، اسے خود سے دور نہ جانے دیں، تبھی میران اس کی قربت میں بہکتا، اس کی گردن پہ اپنے سلگتے لب رکھتا، اسے اپنی محبت سے مہکانے لگا۔
” جانے کیوں نہیں دے رہی ہو جان میران ؟”
میران کے سوال پہ، اس کے دونوں ہاتھ میران کے کالر پہ سختی سے جم گئے۔
” کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ تم مجھ سے دور ہو”
” اتنی خوفزدہ کیوں ہو سماہر ؟؟”
وہ پوچھ رہا تھا جبکہ سماہر کی سرخی مائل ہوتی آنکھوں میں خوف پنہاں تھا۔
” پتہ نہیں میران “
کال پھر سے آئی تھی وہ اٹھانے کا سوچ رہا تھا جب سماہر نے اسے روک دیا۔
” مت جاؤ میران، پتہ نہیں کون ہے ؟ کیا کہنا ہے اسے ؟”
میران رکا تھا،ہلکا سا مسکرا دیا تھا ۔
” جلدی آ جاؤں گا تم اپنی بلیک کلر کی ساڑھی پہن کے میران انتظار کرنا، تمہارے لئے سرپرائز ہے میرے پاس “
سماہر کے دل میں خوف پنپ رہا تھا اور میران نے اس کے دونوں ہاتھ نرمی سے چھوڑ دیے تھے اور پھر وہ آگے بڑھ کے، کمرے سے باہر نکل چکا تھا جبکہ سماہر اپنے کانپتے دل لو تھپکی دیتی بند دروازے کو دیکھتی رہی، ایسے لگ رہا تھا اسے کہ جیسے کچھ ہونے والا ہے،عجیب گھبراہٹ سی تھی جو اس پہ حاوی ہو رہی تھی۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

مائزہ لب بھینچے پورے کمرے کو دیکھ کے، اب ازمائر کو دیکھنے لگی جو کمرے کا دروازہ بند کر کے، اس کی طرف مڑا تھا۔
” بولو کیا کہنا تھا تم نے ؟ جو یہاں لے آئے ہو مجھے “
مائزہ نے حتی الامکان اپنے لہجے کو سپاٹ ہی رکھا۔
” بات کرنی تھی تم سے، اس لئے “
ازمائر لاپرواہ انداز میں کہتا اس کی طرف بڑھنے لگا جبکہ مائزہ خود کو تسلی دیتی، یونہی کھڑی رہی۔
” یہاں کیوں لائے ہو تم مجھے “
مائزہ سپاٹ آنکھوں سے، اسے دیکھتی تیز لہجے میں بولی تھی جبکہ ازمائر بےساختہ اس کے قریب ہو کے، اس کے سرخ ہوتے چہرے پہ جھکا تھا، بوجھل آنکھوں میں بےپناہ محبت لیے وہ مائزہ کو دیکھ رہا تھا۔
” اس کمرے سے ہر بری یاد کو مٹا کے، یہاں تمہارے ساتھ نئی یادیں بنانا چاہتا ہوں، “
مبہم سا لمس اس کی گردن پہ چھوڑتا وہ اب مائزہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جبکہ اس ایک لمس سے مائزہ کی دھڑکنیں پل بھر کے لئے تھم سی گئی تھی لیکن اپنے حواس سنبھالتی وہ ازمائر کو دھکا دے کے پیچھے ہوئی تھی۔
” اس کمرے سے کسی بھی بری یاد کو تم مٹا نہیں سکتے ازمائر، اس لئے ایسی کسی کوشش کا سوچو بھی مت “
بیڈ کی طرف نظر گئی تو گھٹن کا احساس بڑھنے لگا تبھی اس نے قدم آگے بڑھائے تھے۔
” مجھے یہاں سے جانا ہے، یہاں نہیں رہ سکتی میں “
” مائزہ پلیز “
ازمائر نے اسے بازو سے تھام کے روکا تھا۔ مائزہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” ہوس نہیں ہے مائزہ، میں بس چاہتا ہوں کہ ہن دونوں سے ریلیٹیڈ خوبصورت یادیں بناؤں یہاں، تا کہ ہر بری یاد کو سایہ مٹ جائے یہاں سے “
مائزہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی اور پھر سر جھٹک گئی۔
” ایسی کوئی خوبصورت یاد نہیں ٹھہر سکتی ازمائر، ہم صرف اچھے دوست رہ سکتے ہیں لیکن ازمائر میں تم سے کوئی رشتہ نہیں بنا سکتی “
” کیوں مائزہ ؟؟ جب تم مجھے معاف کر چکی ہو اور ہم۔دوست بن چکے ہیں تو ایسا کیوں؟؟”
ازمائر نے لب بھینچ لیے تھے مائزہ کیوں ایسا کر رہی تھی اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
” کیونکہ ازمائر، “
وہ لب کاٹ گئی تھی۔
” بولو مائزہ پلیز “
ازمائر کے لہجے میں بےچینی تھی۔
” میں مانتی ہوں کہ ہم دوستی کر چکے ہیں لیکن ازمائر، “
مائزہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے بات کریں۔
” کہ میں پاکدامن نہیں ہوں؟؟”
ازمائر نے جیسے اس کی مشکل آسان کر دی تھی، مائزہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی جبکہ ازمائر کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ ابھری تھی۔
” یہی بات ہے ناں مائزہ ، میں تمہاری آنکھیں پڑھ چکا تھا بہت پہلے ہی، کہ تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو، تم نہیں چاہتی مجھے، کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں اپنے ہر گناہ کے لئے اپنے رب کے آگے سجدہ ریز ہو کے بخشش مانگ چکا ہوں، لیکن شاید تمہارے لئے مجھے معاف کر دینا مشکل امر ہے، میں تمہیں آج بھی فورس نہیں کر رہا مائزہ، کسی بھی بات کے لئے، تم نہیں چاہتی تو تمہاری چاہ میرے لئے زیادہ امپورٹنٹ ہے، مجھ سے ڈائیورس چاہتی ہوگی تم، لیکن تم کہہ نہیں پا رہی، تو میں بتا رہا ہوں کہ تمہیں پوری اجازت ہے ، کسی بھی فیصلے کے لئے تم آزاد ہو مائزہ۔ “
ازمائر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا جبکہ مائزہ بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی۔
” ازمائر کیا کر رہے ہو تم “
” کرنے دو مجھے، معافی مانگنے دو مجھے تم سے، میں جانتا ہوں کہ وہ کئی راتیں جب میں نشے میں دھت گھر آتا تھا تو جس طرح سے تم مجھے سنبھال کے روم میں لے کے جاتی اور جس طرح سے تم میری کئیر کرتی، مائزہ ان سب کے لئے تھینک یو، جو غلط حرکت کی ہے میں نے تم سے، جس طرح سے تمہارے غرور کو توڑا ہے میں نے، ان سب کے لئے مجھے معاف کر دو پلیز “
ازمائر کی اواز میں شرمندگی تھی، پچھتاوا تھا،
” اٹھو ازمائر پلیز “
مائزہ کی بھرائی آواز ابھری تھی اور ازمائر کھڑا ہوا تھا اور مائزہ کا ہاتھ تھامے اسے صوفے پہ بٹھایا تھا اور خود بھی اس کے قریب بیٹھ کے، اس کے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کیے تھے۔
” ایم سوری مائزہ ، ایم سو سوری، تمہیں جتنی دفعہ کہو گی، میں اتنی دفعہ معافی مانگ لوں گا لیکن پلیز مائزہ، اتنی سزا کافی ہے، میں وعدہ کرتا ہوں تم سے، خود سے کہ تمہیں کھبی ہرٹ نہیں ہونے دوں گا، یار میں بہک گیا تھا مائزہ، کیا تم نہیں جانتی مجھے ؟؟ کیا میں نیا ہوں تمہارے لئے؟؟ بچپن سے تو جانتی ہو مجھے ، تمہیں محبت اس لئے ہوئی مجھ سے، کیونکہ مجھ میں اچھائی نظر آئی ہوگی تمہیں، میں برا نہیں ہوں مائزہ، میں بس بہک گیا تھا اور بہت بڑی طرح بہکا تھا،کیونکہ میں ہرٹ تھا، مانتا ہوں کہ مجھے تم سے وہ سب نہیں کہنا چاہئے تھا، لیکن مائزہ معاف کر دو، پلیز “
” بس بھی کرو ازمائر “
مائزہ نے اس کے لبوں پہ اپنے ہاتھ رکھ کے، اسے مزید بولنے سے روک دیا تھا جبکہ ازمائر اسے خاموشی سے دیکھنے لگا اب۔
” کتنا بولو گے تم، میں نے محبت کی ہے تم سے اور تم جتنا بھی برا بن جاؤ،میری محبت تم سے کم نہیں ہو سکتی، میں ہرٹ ہوئی تھی ازمائر، بہت زیادہ ہرٹ، ہوتا ہے نا، کہ جس سے محبت ہو، اس سے محبت کی امید رکھے بنا بھی، ہم ہرٹ ہو جاتے ہیں، اگر ہم اس سے محبت نہ بھی مانگے تو بھی ہم ہرٹ ہو جاتے ہیں کیونکہ دل کے کسی کونے میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ ہم جس سے محبت کرے، وہ بھی ہم سے محبت کرے، ہے نا ازمائر؟ بس مجھے بھی تو یہ خواہش”
ازمائر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” تمہاری ہر خواہش کا احترام کرتا ہوں میں مائزہ، میں دعوی نہیں کرتا کہ مجھے تم سے ہمیشہ سے محبت تھی لیکن اتنا سمجھ چکا ہوں کہ دوستی سے بڑھ کے کوئی محبت نہیں ہوتی، اور ہماری دوستی ہی ہماری محبت ہے، اپنے آج کو ہم محبت سے بھر دے گیں، اس قدر محبت کرے گیں ایکدوسرے سے کہ ماضی کی تلخ یادیں دھندلی ہو کے، ختم ہو جائے، مجھے اگر محبت نہیں تھی لیکن تمہاری محبت سے مجھے محبت ہونے لگی ہے اور میں جانتا ہوں وقت کے ساتھ ساتھ، یہ محبت مزید گہری ہوگی، ساتھ دو گی میرا مائزہ ؟؟”
مائزہ بھیگی آنکھوں سمیت، سر اثبات میں ہلانے لگی جبکہ ازمائر نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھے پھر سے بہترین مرد بنانے کے لئے شکریہ مائزہ “
مائزہ کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ پھیلی تھی اور ازمائر نے جھک کے اس کے لب سرگوشی کی تھی۔
” مجھے اپنی محبت کے قابل سمجھنے کے لئے شکریہ مائزہ “
اور مائزہ اسے معاف کر چکی تھی، اسے معاف کرنا ہی تھا، غلطیاں انسان سے ہو، وہ بہک جائے اور سچے دل سے توبہ کر لیں تو اللہ کی پاک ذات بھی اس انسان کو معاف کر دیتی ہے تو ہم انسان کیوں نہیں؟؟ ازمائر بڑا نہیں تھا، وقت اور حالات نے اسے برا بنا دیا تھا لیکن وہ سنبھل بھی تو گیا تھا،اس کے لئے اتنی سزا کافی تھی اور مائزہ اسے معاف کر چکی تھی بہت پہلے ہی، وہ کوئی اجنبی نہی تھا مائزہ کے لئے، ازمائر وہ شخص تھا جس سے اس نے محبت کی تھی جب شعور کی منزل پہ اس نے پہلا قدم رکھا تھا اور ازمائر کو محسوس ہو چکا تھا کہ ہمیشہ جیت اپنی محبت کو پا لینے میں نہیں ہوتی، کھبی کھبی جیت اس انسان کو پا لینے میں بھی ہوتی ہے جو آپ سے بےانتہا محبت کرتا ہو اور ازمائر آج بھی فاتح ٹھہرا تھا، مائزہ کی بےلوث محبت جیت کے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” میرے اور سماہر کے تعلقات بہت آگے تک جا چکے ہوتے اگر تم ہمارے بیچ نہ آتے “
میران نے اپنے مقابل کھڑے اس شخص کو لب بھینچے، سرد نظروں سے دیکھا تھا جو اس کی پاکدامن بیوی کے بارے میں غلط الفاظ کا استعمال کر رہا تھا،
” اے ۔۔۔ “
منان اونچی آواز میں اسے تنبیہ کرتا آگے بڑھا تھا لیکن میران نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا جبکہ سرد آنکھیں اس شخص پہ گاڑی ہوئی تھی جس کا نام دانیال تھا۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں، وہ میری یونیورسٹی فیلو تھی اور ہمارے بیچ بہت گہرے۔۔۔۔ “
میران دو قدم آگے بڑھا تھا اس کی طرف، تو اسے خاموش ہو جانا پڑا۔
” کتے کو دیکھا ہے کھبی ؟؟ وہی جو سڑک پہ گزرنے والے ہر انسان کو دیکھ کے بھونکتا ہے، میری بیوی کا راستہ کاٹنے والے وہی کتے ہو تم، میران ارتضی ملک کی بیوی کی زندگی میں، اس بھونکنے والے کتے سے زیادہ اوقات نہیں ہے تمہاری، تو اس لئے اپنی اوقات سے اونچی اڑان مت اڑو۔۔۔ مجھے اپنی بیوی کی پاکدامنی پہ نہ کوئی سوال اٹھانا ہے اور نہ کوئی جواب سننا ہے، وہ میران ارتضی ملک کی بیوی ہے، اور اپنی بیوی کی پاکدامنی پہ اٹھنے والی ہر انگلی کو کاٹ کے رکھ دیتا ہوں میں ۔۔۔ “
” میران سائیں۔۔۔۔ “
منان چلایا تھا اور ساتھ میران کو دھکا دے کے، نیچے گراتا، خود بھی اس پہ گر کے، ڈھال بن گیا تھا اس کے لئے جبکہ وہاں موجود باقی گارڈز الرٹ ہو چکے تھے کیونکہ یزدان ہمدانی اور اس کے بھائی مہتاب خان کو وہ دیکھ چکا تھا جو میران کا نشانہ لے رہا تھا، گولیوں کا شور برپا ہو چکا تھا ۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤