Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

” بڑوں کی غلطیاں ہوتی ہے جو چھوٹے بہک جاتے ہیں، میں بھی بہک گیا غم اور غصے میں، لیکن اب سنبھلا ہوں تو تم سے کھبی الگ نہیں ہونا چاہتا میں مائزہ “
اس کی بانہوں میں مائزہ کے لئے کس قدر سکون تھا، اس کی انکھ سے آنسو اس کی گال پہ پھسلا تھا۔ لب آہستگی سے ہلے تھے۔
” ازمائر لوٹ آؤ پلیز ۔۔ “
ہاسپٹل کوریڈور میں رکھے بنچ پہ، مائزہ، دشاب ملک، عارفین بیٹھے ہوئے تھے، تینوں ہی اپنی سوچوں میں گم تھے، مائزہ کی سوگوار آنکھیں آئی سی یو کے بند دروازے پہ ٹھہری ہوئی تھی جہاں ازمائر کے زندہ ہونے یا مردہ ہونے کی کوئی خبر ابھی نہیں آئی تھی جبکہ ان سے فاصلے پہ دیوار سے ٹیک لگائے فرش پہ بیٹھا میران، اپنے خون سے رنگے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا، جن پہ اس کے بھائی، ازمائر ارتضی ملک کا خون لگا ہوا تھا، وہ بھائی جو ہمیشہ ایکدوسرے سے نفرت کرتے رہے، اہکدوسرے کی ضد میں جنگ لڑتے رہیں اور اس قدر ایکدوسرے سے نفرت کرتے تھے کہ ایکدوسرے کی جان کے دشمن بن گئے تھے اور آج وہی بھائی، اپنے بھائی کے لیے جان کی بازی لگا گیا تھا۔ اس نے لب بھینچ لیے تھے، آنسو اس کی آنکھوں میں ٹھہر گئے تھے۔
” آج نفرت کی دیوار گرا دی ہے میں نے”
وہ نیم غنودگی میں کہہ رہا تھا جبکہ میران نے اسے بانہوں میں بھر ہوا تھا اور منان تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا، میران اسے نیم غنودگی میں جاتا دیکھ کے رونے لگا تھا۔
” آنکھیں بند مت کرنا ازمائر “
” میرے مرنے کے بعد ، مجھ سے نفرت مت کرنا میران، م ۔۔۔ میری اولاد امانت ہے، اس سے نفرت مت کرنا “
وہ پھر سے کہہ رہا تھا اور میران رو دیا تھا۔
اور اب ۔۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا ۔
” ذلیل، بدذات، اوباش “
عظمی چیختی ہوئی میران کے قریب آ رہی تھی، میران ایک نظر اس پہ ڈال کے، پھر سے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا
” کھا گئے میرے بیٹے، مار دیا میرے بچے کو”
اس سے پہلے وہ میران پہ جھپٹتی، دشاب ملک آگے آئے تھے اور میران کے سینے ڈھال بن گئے تھے جبکہ عظمی نے ان کے سینے پہ دونوں ہاتھ مارے تھے
” مل گیا سکون ؟؟ لے لی جان اپنے ہی بیٹے کی، اب سکون آ گیا تمہیں “
وہ چیخ رہی تھی جب عارفین نے آگے بڑھ کے اسے تھامنا چاہا لیکن وہ نفرت سے انہیں دھکا دے چکی تھی۔
” ذلیل، منحوس عورت ، تیرا بیٹا کھا گیا میرے بیٹے کو، اب مناؤ رنگ رلیاں۔۔۔۔۔ “
اس سے پہلے اس کی بات مکمل ہوتی، میران اس کے منہ پہ تھپڑ مار چکا تھا، وہ حیرت سے منہ پہ ہاتھ رکھے میران کو دیکھ رہی تھی جو خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ عارفین نے دل پہ ہاتھ رکھ لیا تھا اپنے، وہ حیرت کا بت بنی اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیا شور مچایا ہوا ہے، یہ ہاسپٹل ہے پلیز “
نرس کی اواز پہ سب متوجہ ہوئے تھے جبکہ میران لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا تھا، مائزہ نے عارفین کا ہاتھ تھام کے انہیں بنچ پہ بٹھایا تھا، دشاب ملک بھی نفرت بھری نگاہ اس پہ ڈال کے وہیں بنچ پہ بیٹھ گئے تھے جبکہ عظمی شاک کی کیفیت میں ایک کونے میں کھڑی ہو کے دشاب کو دیکھ رہی تھی، آنکھوں میں خون اتر آیا تھا لیکن وہ صرف دشاب کو ہی دیکھے جا رہی تھی جیسے انہیں نگل جائے گی وہ۔
” کتنی قیمت لگائی تھی سماہر کی ؟؟”
عظمی کا لہجہ سرد تھا جبکہ وہ تینوں چونک کے اسے دیکھنے لگے۔
” جتنی میران کی لگائی تھی؟ اتنی ہی ؟؟ یا زیادہ ؟”
” کیا بکواس کر رہی ہو تم ؟”
دشاب ملک غرائے تھے اور اٹھ کے اس کے قریب جا کے، اسے بازو سے جکڑا تھا۔
” ہوش میں تو ہو”
آواز پست تھی لیکن آنکھوں میں غصہ اور لہجے میں غراہٹ تھی جبکہ عظمی مسکراتی آنکھوں میں نفرت لیے انہیں دیکھ رہی تھی۔ جب ڈاکٹر باہر آیا تھا تو وہ چاروں اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
” خوش قسمتی سے، گولی ریڑھ کی ہڈی کے قریب سے، گزر کے گئی ہے، گولی تو ہم نکال چکے ہیں اب ان کے ہوش میں آنے کا انتظار ہے، ہوش آنے پہ یم کچھ کہہ سکے گیں، اگلے چوبیس گھنٹے مسٹر ازمائر کے لئے، فی الحال کریٹیکل ہے “
وہ کہہ کے آگے بڑھا تھا جبکہ دشاب ملک جیسے ٹوٹ گئے تھے، مائزہ پھر سے رونے لگی تھی جبکہ عارفین اسے دلاسہ دیتی خود سے لگا گئی تھی۔ عظمی اب خاموشی سے سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” میران ملک نے مجھ پہ دست درازی کی، یہاں آ کے، اور جب میں نے انکار کیا تو میرے بال کھینچے، میری گردن دبوچی اور مجھ پہ گولیاں چلائی، یہ دیکھ رہے ہیں آپ، وہاں دیوار پہ، صوفے پہ، وہ دیکھے کچن میں “
ماریہ مگرمچھ کے آنسو بہا رہی تھی جبکہ انسپکٹر جمشید اس لب بھینچے دیکھ رہا تھا۔
” اب اس کی بیوی میرے پاس کیا کرے گی؟ میں خود ایک عورت ہوں اور مجھے دوسری عورت کی عزت کا خیال ہے اچھی طرح سے ، وہ تو یزدان ہمدانی کے فارم ہاؤس پہ ہے، وہ لے گیا تھا اسے کہ اپنا بدلہ لوں گا میران ملک سے، اس کی بیوی کے ساتھ رات گزار کے “
انسپکٹر جمشید نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچ لی تھی، اس عورت کی باتیں اس کو پارہ ہائی کر رہی تھی لیکن وہ خاموش ہی رہا ۔
” سر سارا گھر چیک کر لیا، اب سب ٹھیک ہے “
کانسٹیبل ہارون نے آ کے بتایا تو انسپکٹر جمشید سر اثبات میں ہلاتا اب گہری نگاہوں سے ماریہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ نظریں چرا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی،
” تو مس ماریہ میں چلتا ہوں اب، آپ سیف ہے ڈونٹ ووری “
” تھینک یو “
ماریہ بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی اور مسکرانے کی کوشش کرنے لگی۔
” آپ اریسٹ وارنٹ جاری کرے گیں نا میران ملک کے ؟؟”
جمشید اسے اچھنبے سے دیکھنے لگا۔
” یہ سوال کس لئے ؟؟ آپ کو مجھ پہ یقین نہیں ہے ؟؟”
” ن ۔۔ نہیں، بس میران ملک اثر و رسوخ والا بندہ ہے تو مجھے لگا کہ شاید پولیس کچھ نہ کر پائے “
ماریہ نے تیزی سے جواب دیا تھا جبکہ جمشید ہنکارا بھرتا، اس لئے فلیٹ سے باہر نکلا تھا۔
” ہمم رپورٹ بتاؤ “
سیڑھیاں اترتے ہوئے جمشید پوچھنے لگا
” جیسا آپ نے کہا بلکل ویسا ہی کیا ہے ہم نے سر، ہر جگہ ہم ہیڈن کیمرے لگا چکے ہیں “
ہارون نے تیزی سے جواب دیا تھا اور وہ اثبات میں سر ہلاتا میران کو کال ملانے لگا۔
” تم نے جیسا کہا تھا، ویسا ہی ہوا ہے “
کال ریسیو ہوتے ہی جمشید نے اطلاع دی تھی جبکہ میران نے صرف ہنکارا بھرا تھا۔
” ازمائر کیسا ہے اب؟؟”
جمشید پھر سے پوچھنے لگا۔
” کوئی فرق نہیں آیا، ICU میں ہے ابھی “
میران کی آواز بوجھل آواز بھاری تھی۔
” اللہ بہتر کرے گا “
کال ڈسکنیکٹ کرتی جمشید نے لب بھینچے اپنی ٹیم کو دیکھا تھا۔
” ہاسپٹل کی سیکیورٹی بڑھاؤ اور دھیان رکھو ہر آنے جانے والے انسان پہ، سب کو شک کی نظر سے دیکھو، ازمائر جب تک ہاسپٹل میں ہے، اس کی سیکیورٹی مضبوط ہونی چاہئے”
” اوکے سر”
ان سب نے بہ یک زبان کہا تھا اور جمشید، ہارون کے ساتھ اپنی کار کی طرف بڑھا تھا جبکہ باقی دوسری گاڑی میں بیٹھ کے ہاسپٹل کی طرف بڑھ رہے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
کمرے کو نیم تاریک کیے وہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی، اس کی بھیگی آنکھوں میں، آنسوؤں کی تہہ سی جیسے جم گئی تھی۔ مکمل دو دن ہو چکے تھے اور میران اس کے پاس نہیں آیا تھا، نہ اس سے بات کی تھی، نہ اس سے ملنے کی کوشش کی تھی۔ ان سب کی ذمہ دار وہ خود کو ٹھہرا رہی تھی، ازمائر کی، مائزہ کی، میران کی گنہگار سمجھ رہی تھی وہ خود کو، وہ یقین کر چکی تھی کہ اب میران کھبی اس کے پاس نہیں آئے گا اور نہ اس سے کبھی محبت کرے گا وہ۔
” لیکن میں۔۔۔۔ “
اس کے لب ہلے تھے اور آنسو پھر سے بہنے لگے تھے۔
” میں کیسے رہوں گی اتنے گناہوں کے بوجھ تلے؟؟ کیسے سہہ پاؤں گی میران کی نفرت کو؟؟ میں تو اس کے محبت کی عادی ہوں، اس کی نفرت سہنا میرے بس میں کہاں؟؟”
اپنے قریب موجود اس نے شیشے کے اس ٹکڑے کو دھندلائی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ کانپتے ہاتھ سے وہ شیشے کا ٹکڑا اٹھا کے، لرزتے دل کے ساتھ ، اس ٹکڑے کو دیکھے گئی۔
” میران ارتضی ملک، تمہاری بےانتہا محبت کی عادی ہوں میں، تمہاری بےانتہا نفرت دیکھنے سے پہلے، میں اپنی سانسیں ختم کر دوں گی “
شیشے کے اس ٹکڑے کو اپنی کلائی پہ رکھ کے، وہ خود میں ہمت مجتمع کر رہی تھی، اپنی سانسیں خود ختم کرنا اتنا آسان کہاں تھا۔
” سماہر دروازہ کھولو “
میران نے دروازے پہ دستک دی تھی اور اسے آواز دینے لگا، گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ ٹکڑا پھسل کے نیچے گرا تھا جبکہ بھیگی آنکھوں سے وہ دروازے کو دیکھنے لگی۔ وہ جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔
” سماہر دروازہ کھولو، “
پھر سے میران کی آواز آئی تھی۔ وہ ڈر رہی تھی کہ کوئی بری خبر ہونے والی ہے ، وہ کچھ نہیں سننا چاہتی کسی سے بھی ۔
” سماہر ؟؟”
میران کی آواز پھر سے آئی تھی اور اسے لگا کہ وہ مکمل کسی کھائی میں گرا دی گئی ہو، خوف سا طاری ہوا تھا اس پہ، کہ جیسے میران اس سے نفرت کا اظہار کرے گا، اسے دھتکار گا، تبھی بوکھلاہٹ میں وہ پھر سے شیشے کا ٹکڑا اٹھا چکی تھی، اور کانپتے ہاتھ سے اپنی کلائی پہ رکھتی وہ اپنے ہاتھ کی رگ کاٹنے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ دروازہ مسلسل بج رہا تھا اور بلکل ویسے ہی اس کے رونے اور خوف میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
” Samaher open the damn door “
وہ چلایا تھا اور ساتھ ہی دروازے کو زور سے دھکا دے کے، اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگا اور ایک دو بار دھکا دینے کے بعد دروازہ کھل گیا تھا، میران اندر آیا تھا جبکہ سماہر کی چیخ ابھری تھی۔
” نہیں میران ، میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ “
جبکہ میران کی آنکھیں پہلے حیران ہوئی تھی اور پھر ان آنکھوں میں خوف ابھرا تھا۔
” سماہر ۔۔۔ “
وہ جھٹ سے سماہر کے قریب پہنچ کے، جھٹکے سے شیشے کا ٹکڑا اس کے ہاتھ سے لے کے دور پھینک چکا تھا اور اسے بانہوں میں بھر کے خود میں بھینچا تھا، اس کی کلائی پہ ہلکے ہلکے خون کے نشان ابھرے تھے۔
” میران پلیز م ۔۔۔ مجھ سے ن۔۔۔ نفرت نہیں ک۔۔۔ کرو ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا، م ۔۔۔ میں پاکدامن ہوں “
وہ روتے ہوئے چلا چلا کے کہہ رہی تھی، اس کی آواز میں خوف تھا، درد پنہاں تھا، میران کی آنکھیں بھیگی تھی اور آنسو انکھ سے نکل کے، اس کے گال پہ پھسلا تھا۔ وہ سماہر کو خود سے الگ کر کے، اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ ہاتھوں میں بھر کے، وہ اس کے چہرے پہ بار بار اپنے لب رکھ رہا تھا، اس کی آنکھوں پہ، اس کے گالوں پہ، اس کے لبوں پہ۔
” سماہر میری جان ۔ “
سماہر کے رونے میں مزید شدت آ گئی تھی، میران کی آنکھوں ابھی بھی وہی محبت تھی، وہی التفات تھے اس کے ہر انداز میں۔
” جان میران، کیا مجھے ختم کرنے کا ارادہ تھا تمہارا سماہر ؟؟”
اس کے لہجے میں شکایت تھی۔
” میری سانسیں ختم کرنا چاہ رہی ہو تم سماہر ؟؟”
وہ پھر سے شکوہ نما سوال کر رہا تھا جبکہ سماہر روتے ہوئے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔ ۔
” م ۔۔ مجھے لگا کہ تم مجھ سے نفرت کرتے ہو اب “
کس قدر معصومیت تھی اس کے انداز میں۔
” میران کھبی اپنی سماہر سے نفرت کر سکتا ہے ؟؟”
” م ۔۔۔ مجھے لگا کہ ۔۔۔ کہ میں نہیں سہہ پاؤں گی تمہاری نفرت”
وہ روتے ہوئے میران کے سینے سے لگی تھی۔
” تم ۔۔۔ ت۔۔۔ تم آئے ہی نہیں میرے پاس، دیکھا ہی نہیں مجھے، میں منتظر رہی، تم نہیں آئے تو ۔۔۔ م ۔۔۔ مجھے لگا کہ تم مجھ سے اب محبت نہیں کرتے، “
وہ روتے ہوئے ہچکیوں کے بیچ کہہ رہی تھی جبکہ میران نے اسے پھر سے خود میں بھینچ لیا تھا۔
” میں آ رہا تھا سماہر، مجھے آنا تھا تمہارے پاس ہی، میری محبت کسی چیز کی محتاج نہیں ہے سماہر، تم سے محبت کتاب میں لکھے لفظوں کی مانند ہے جن میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتی، تم سے محبت وضو کی طرح ہے جس کی ایک سنت بھی قضا ہو تو وضو نامکمل ہی رہتی ہے، تم سے محبت فرض نماز کی طرح ہے، پڑھو تو سکون اور اگر ترک کر دو تو بےسکونی، “
وہ اب سماہر کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر چکا تھا جبکہ سماہر رونا بھول کے اسے سن رہی تھی اب۔
” سجدوں میں گڑگڑا کے، اپنے رب سے مانگنے والی سماہر سے میں نفرت کیونکر کروں گا ؟؟ “
وہ لبوں سے اس کے آنسو چننے لگا۔ سماہر کو اس کا لفظ لفظ معتبر کر گیا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ میران نے اپنے ہاتھوں میں لیے تھے، اس کے ہاتھ کی کلائی پہ خون کے کچھ قطرے تھے، اس کی کلائی پہ لب رکھے تھے میران نے اور پھر سے سماہر کو دیکھنے لگا۔
” تمہاری سانسیں میری امانت ہے سماہر، تم خیانت کرنے لگی تھی؟؟ “
سماہر لب کاٹنے لگی۔
” مجھے لگا کہ میں تمہیں کھو چکی ہوں، پھر ان سانسوں کی کیا اہمیت میرے قریب “
” مجھے معاف کر دو جان میران، تمہاری آنکھوں میں ان آنسوؤں کی وجہ بنا میں ۔ “
میران نے ان لبوں کو ہاتھ کے انگوٹھے سے رب کرتے کہا تھا۔
” تم زخمی تھے ، مجھے لگا کہ ۔۔۔ میں کچھ سوچ ہی نہی پائی، میں کچھ سمجھ ہی نہیں پائی، مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ میں کیسے وہاں پہنچی، کیسے یہ سب ۔ “
” ہشششششش “
میران نے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” کچھ مت کہو، “
وہ خاموش ہو کے آنکھیں موند گئی تھی جبکہ میران نے اسے بانہوں میں بھرا تھا اور اسے بیڈ پہ لا کے، نرمی سے بٹھا کے خود اس کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔
” فرسٹ ایڈ باکس کہاں ہے ؟؟”
وہ سوال کر رہا تھا جبکہ سماہر سائیڈ ٹیبل کے دراز کی طرف اشارہ کرنے لگی ۔ میران نے جھک کے دراز کھولی تھی اور وہ چھوٹا سا باکس نکالا تھا جس میں کچھ بیبڈجز تھے اور کچھ میڈیکل کا سامان تھا۔ میران نرمی سے اس کی کلائی سے خشک ہوئے خون کو صاف کرنے لگا جبکہ سماہر اسے دیکھے گئی، کشادہ ماتھے پہ بکھرے بال اسے کس قدر وجیہہ بنا رہے تھے کہ سماہر منتشر ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔ یہ وجیہہ مرد اس کا تھا، وہ مکمل سماہر کا تھا، وہ سماہر کا نصیب تھا، کتنی خوش نصیب تھی وہ۔ اس کے زخم پہ بینڈج باندھ کے، میران نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور زیر لب مسکرا دیا تھا۔
” اتنا دیکھو گی تو پھر سے عشق کر بیٹھو گی”
سماہر ہلکا سا مسکرائی تھی لیکن نظریں پل بھر کے لئے بھی اس شخص سے نہیں ہٹی تھی۔
” عشق دل کا سجدہ ہے اور میں یہ سجدہ روز کرتی ہوں اور میرے ہر دن کی ابتدا اور انتہا اسی عشق پہ قائم ہے جو مجھ سے کھبی قضا نہیں ہوتی میران ارتضی ملک “
جذب کے عالم میں کہہ رہی تھی وہ، جبکہ میران کی آنکھوں میں، اس کی محبت کا خمار سا چڑھا تھا۔
” میں مغرور سا ہونے لگا ہوں “
” اگر یہ غرور ہے میرے عشق کا، تو تم پہ یہ غرور جچتا ہے “
سماہر کس قدر والہانہ انداز میں عشق کو بیان کرتی ہے، میران اسے دیکھتے، سوچے گیا۔ شاید سماہر کے لئے میران اور میران کے لئے سماہر بہترین لکھے جا چکے تھے، تبھی ایکدوسرے کا نصیب بنا تھے، میران جیسے ادھورے انسان کو مکمل ہی سماہر نے کیا تھا اور سماہر جیسی نرم مزاج انسان کو میران نے اپنے عشق سے مکمل کیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

رات کے گیارہ بج رہے تھے، ماریہ اپنے بالوں کا جوڑا بناتی، خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں دیکھ رہی تھی، اس کی گردن پہ ابھی بھی میران کی انگلیوں کے نشانات تھے، اس کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے اور نرمی سے ہاتھ کی ہتھیلی ان نشانات پہ پھیری تھی۔
” میران ارتضی ملک، تمہارا یہ درد بھی میٹھا سا لگ رہا ہے مجھے “
لب دانتوں تلے دباتی وہ ہنسنے لگی جب دروازے پہ ہوتی بیل نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا، وہ اپنے بالوں کو جھٹکے سے، کندھے پہ پھیلاتی دروازے تک گئی تھی، دشاب ملک کو دیکھ کے اس نے، اپنی نائٹی کو ٹھیک کیا تھا جس سے، اس کے بدن کے نشیب و فراز نمایاں ہوئے تھے۔ دروازہ کھول کے وہ ادائے بےنیازی سے اسے دیکھنے لگی۔
” دشاب ملک ۔۔۔ مائی لو “
دشاب ملک لب بھینچے داخل ہوئے تھے تو وہ بھی دروازہ بند کر کے، اس کے پیچھے ہی آئی تھی۔
” کیسے آنا ہوا سرکار ؟؟”
ان کے ہاتھوں میں موجود سیاہ گلوز کو دیکھتی وہ پوچھ رہی تھی جبکہ وہ کنپٹی سہلاتے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔
” بہت ضروری کام سے آیا ہوں”
” مجھ سے کیا ضروری کام پڑ گیا ہیں آپ کو “
وہ مسکراتی،بالوں کو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پہ ڈالتی پوچھنے لگی جبکہ دشاب ملک کے چہرے پہ خفیف مسکراہٹ ابھری تھی، اس کا ہاتھ تھام کے، اسے کھینچ کے اپنے قریب کر چکے تھے جبکہ ماریہ ان کے سینے پہ اپنی شہادت کی انگلی پھیرنے لگی۔
” دشاب ملک اس قدر شدت، آپ کی گرفت میں “
جبکہ دشاب ملک نرمی سے اس کی گردن پہ ہاتھ پھیرنے لگے کہ ماریہ آنکھیں بند کر گئی تھی اور گہرا سانس لیتی وہ آنے والے حسین لمحوں کے لئے خود کو آمادہ کرنے لگی، دشاب ملک اسے دھکا دیتے صوفے پہ گرا چکا تھا، بند آنکھوں کے ساتھ ماریہ مسکرائی تھی، جب اچانک دشاب ملک نے اس کی گردن دبوچی تھی اور ماریہ آنکھیں کھول کے حیران آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی، جن کے چہرے پہ سرد مہری تھی اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھی، وہ اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتی، دشاب کو خود پر سے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کی گردن پہ دشاب کی گرفت کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ ماریہ کی آنکھیں باہر آنے کو ہوئی تھی۔
” مکار، ذلیل عورت، میرا گھر،میری زندگی برباد کر دی ہے تم نے، میرے بیٹے مجھ سے نفرت کرتے ہیں صرف تمہاری وجہ سے، تمہاری باتوں میں آ کے میں نے اپنا سب کھو دیا، تم وہ ناگن ہو جو صرف ڈسنا جانتی ہو لیکن میں تمہیں ختم کر دوں گا، نہیں رہنے دوں گا تمہیں زندہ “
وہ کہہ رہے تھے جبکہ ماریہ کی سانسیں دم توڑنے لگی تھی، اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا ذہن تاریکیوں میں ڈوب رہا تھا، جوں جوں دباؤ اس کی گردن پہ بڑھ رہی تھی ویسے ہی اس کی سانسیں مدھم پڑ کے خاموش ہو گئی، اس کے دونوں ہاتھ جو خود کو نجات دلانے کی کوشش میں تھے اب وہ دونوں ہاتھ بےجان ہو کے اس کے پہلو میں گرے تھے، دشاب ملک نے اس کے گردن کی شہ رگ پہ انگلی رکھ کے چیک کی تھی، وہ مر چکی تھی، دشاب ملک پیچھے صوفے پہ جا گرے تھے اور ساکت نظروں سے، ماریہ کے بےجان وجود کو دیکھ رہے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤