Rate this Novel
Episode 20
” سائیں بی بی “
سماہر کی چیخ پہ، گاڑی کے پاس کھڑا منان اس کی طرف دوڑا تھا جبکہ گارڈ بھی تیزی سے اسی طرف آیا تھا، سماہر کے حفاظت کی ذمہ داری ان دونوں کی تھی اور ان کے سامنے ہی سماہر کے ساتھ یہ حادثہ ہوا تھا، وہ دونوں اب میران کو کیا جواب دیتے۔
ماریہ ہنس رہی تھی۔
” ڈر گئی تم لوگوں کی سائیں بی بی “
وہ قہقہہ مار کے ہنستی وہاں سے بھاگی تھی جبکہ سماہر گہرا سانس لیتی اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھونے لگی۔ اسے کچھ نہیں ہوا تھا۔
” آپ ٹھیک ہے سائیں بی بی “
سر اثبات میں ہلاتی وہ اپنے کندھے پہ موجود ڈوپٹے سے اپنا تر چہرہ صاف کرنے لگی، وہ کوئی ایسڈ نہیں تھا بلکہ عام پانی تھا جسے ماریہ نے اس کے چہرے پہ پھینکا تھا، صرف اسے ڈرانے کے لئے تھا۔ گارڈ اس کے لئے ٹشو پیپر لے کے آیا تھا تا کہ سماہر اپنا چہرہ صاف کر سکے ۔
” میران سائیں کو کال کرتا ہوں میں، اپ گاڑی میں بیٹھئے سائیں بی بی “
منان موبائل جیب سے نکالتا کہنے لگا جب سماہر نے اسے منع کیا تھا۔
” نہیں منان کاکا، میران کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔ اسے اپ بلکل نہیں بتائیے گیں اس حادثے کا “
” لیکن کیوں سائیں بی بی، کل کو وہ عورت پھر سے کچھ کر دے گی “
منان حیرانی سے کہنے لگا ۔ ۔
” یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے اب، آپ پلیز میران کو کچھ مت بتائیے گا، میں نہیں چاہتی کہ میران کچھ غلط کر بیٹھے، پلیز منان کاکا “
سماہر اسے سختی سے منع کرتی گاڑی کی طرف بڑھی تھی جبکہ منان، گارڈ کی طرف دیکھتا آگے بڑھا تھا۔
” سائیں بی بی کے ساتھ رہو سائے کی طرح “
” جو حکم “
گارڈ تیزی سے آگے بڑھا تھا جبکہ منان اس راستے کو دیکھنے لگا جہاں سے ماریہ بھاگتی ہوئی گئی تھی اور پھر سر جھٹک کے وہ بھی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔ میران سے وہ جھوٹ بھی نہیں بول سکتا تھا لیکن سماہر کی بات بھی وہ ٹال نہیں سکتا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ صبح سے ہاسپٹل میں اسے دیکھ رہا تھا جو منہ بنا کے اسے نظرانداز کر رہی تھی، اگر وہ کچھ پوچھ بھی لیتا تو وہ اپنی چھوٹی سی ناک چڑھائے آگے بڑھ جاتی یا میڈیسن دیکھنے میں مصروف ہو جاتی، ارتسام پریشان نظروں سے اسے دیکھتا رہ جاتا، ابھی بھی وہ اپنے مریض کو دیکھ کے، کوریڈور میں جا رہی تھی جب ارتسام اس کے سامنے آیا تھا، میرب آنکھیں پھیر کے وہیں رک گئی۔
” بھوک لگی ہے مجھے، لنچ کے لئے چلیں؟”
ارتسام کے سوال پہ، میرب نے سر سے پاؤں تک اسے گھورا تھا۔
” تو جاؤ “
اس کے پہلو سے ہو کے وہ گزرنا چاہ رہی تھی جب ارتسام اس کے سامنے آیا تھا
” ساتھ میں کرتے ہیں ہم ہمیشہ لنچ، تو ابھی بھی تمہارے ساتھ کرنا ہے “
میرب نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا۔
” مجھے تمہارے ساتھ بیٹھ کے کچھ نہیں کھانا “
” کیوں؟؟ کیا ہوا ہے تمہیں؟؟ جو صبح سے منہ بنا ہوا ہے “
ارتسام اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
” انتہائی بدتمیز اور بدلحاظ ہو تم ۔۔۔ اس لئے “
میرب کے لفظ لفظ چبا کے کہنے پہ، ارتسام نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
” میں نے کیا بدتمیزی کی ہے تم سے ؟”
وہ ایسے ردعمل ظاہر کر رہا تھا جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہیں ہے، یا اسے کچھ یاد ہی نہیں ہے ۔
” گھر آئے مہمان کے ساتھ تو کی ہے بدتمیزی “
ارتسام نے لب بھینچ لیے تھے۔
” وہ مہمان نہیں تھا، دشمن ہے وہ ہمارا،میری بہن کی خوشیوں کا قاتل “
” اوہ کم آن ارتسام، کس دنیا میں رہتے ہو تم ، پرانی باتیں بھول جاتے ہیں لوگ، آگے بڑھتے ہیں، لیکن ڈاکٹر ہو کے بھی، تم اسی دقیانوسی دنیا میں رہتے ہو”
میرب نے آنکھیں گھما کے کہا تھا جبکہ ارتسام اسے گھورنے لگا۔
” تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے “
میرب نے غصے سے اسے ہاتھ سے پرے کیا تھا۔
” ہٹو سامنے سے “
وہ آگے بڑھی تھی جبکہ ارتسام نے اس کی پشت گھوری تھی۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے اب میرب ، میں ہزبینڈ ہوں تمہارا ” ۔
” بیوی سے تمیز سے بات کرنا سیکھو پہلے “
میرب نے یونہی چلتے ہوئے کہا تھا جب ارتسام بھی آگے بڑھ کے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا
” میں نے کیا بدتمیزی کر دی اب میرب “
” چپ ہی رہو تم پاگل پٹھان “
” وہاٹ، میرب عزت دو مجھے، میں تمہارا ہزبینڈ ہوں”
ارتسام کو غصہ آیا تھا ۔
” اچھا ۔۔ “
میرب نے بات ہی ختم کر دی ۔
” میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے نہ بھوک ہے اور نہ تمہارے ساتھ بیٹھنا ہے مجھے “
یہ کہہ کے اس نے تیزی سے قدم آگے بڑھا دیے تھے جبکہ ارتسام وہیں کھڑا رہا، اسے بھی میرب پہ اب غصہ آنے لگا تھا جو فضول میں اس کے ساتھ بحث کر رہی تھی، سر جھٹک کے وہ بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا کہ اب بھوک بھی مٹ چکی تھی میرب سے بحث کے بعد۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
پریشے اپنے مریض کو دیکھ کے، اپنے کمرے میں آئی تھی جب اس کی نظر عاھل خان پہ پڑی جو اسے دیکھ کے، کرسی سے اٹھ رہا تھا۔
” مجھے امید ہے کہ میں نے ڈسٹرب نہ کیا ہو تمہیں “
وہ ہلکا سا مسکرا کے کہنے لگا جبکہ پریشے سر جھٹک کے آگے بڑھی تھی۔
“کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟”
اسے دیکھے بنا ہی، وہ سوال کرتی اپنی چیزیں ٹیبل پہ رکھ کے، اپنی سیٹ پہ بیٹھ گئی جبکہ عاھل بھی اسے دیکھتا کرسی پہ بیٹھ چکا تھا۔
” ایم سوری،کل رات میری وجہ سے گھر میں اتنی بدمزگی ہوئی ۔”
پریشے نے اسے دیکھا تھا، وہ شرمندہ سا نظر آ رہا تھا، اسے دکھ ہوا تھا، شرمندہ تو اسے ہونا چاہئے کہ وہ مہمان تھا ان کے گھر اور وہ سب ہوا۔
” آپ کیوں سوری کر رہے ہیں عاھل، آپ مہمان تھے، شرمندہ تو ہمیں ہونا چاہئے “
” ارے نہیں نہیں، اٹس اوکے، مجھے برا نہیں لگا، ارتسام ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا، اتنا برا کر چکا ہوں میں تمہارے ساتھ، اس فیملی کے ساتھ، جو میرے اپنے تھے اور پھر بھی سب کا مان توڑا میں نے، سب سے بڑھ کے تمہارا یقین توڑا میں نے، اس محبت کی لاج بھی نہ رکھی میں نے اور، تمہارا مان توڑ دیا میں نے، “
وہ خاموش ہوا تھا جبکہ پریشے اپنے امڈتے آنسوؤں چھپانے کے لئے، پلکیں جھکا گئی جبکہ عاھل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” میں بس جا رہا تھا پھر سے”
پریشے نے چونک کے پلکیں اٹھائی تھی ۔
” پاکستان میں کچھ دنوں کے لئے آیا تھا، اب پھر سے جانا ہے، ایک بار پھر تم سے معافی مانگنا چاہوں گا پریشے، جو بھی ہوا شاید میری ہی غلطی تھی لیکن تمہیں کھونا کھبی نہیں چاہتا تھا میں، کیونکہ تم میری روح میں شامل ہو “
پریشے کے گال پہ بےاختیار آنسو پھسلے تھے۔
” میں تمہیں رلانا نہیں چاہتا تھا کھبی اور نہ اب چاہتا ہوں، تم سے محبت میں نے روح سے کی ہے، تمہیں میں خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور میرا ہونا یہاں تمہارے لئے اذیت کا باعث بن رہا ہے، میں نہیں چاہتا تھا اب بھی کہ تمہارے سامنے آؤں لیکن یہ ۔۔۔ یہاں “
اس نے لب بھنیچے پہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” میں ملنے آ گیا، تمہیں دیکھ لینا چاہتا تھا، اختیار نہیں ہوتا ناں ان فیلنگز پہ ہمارا، اب جا رہا ہوں تو دعا ہے میری کہ تم ہمیشہ خوش رہو اور، پھر سے تمہارے سامنے آ کے، تمہارے لئے یوں اذیت کا باعث نہ بنوں، بس کوشش کروں گا کہ ایسا ہی ہو “
وہ بات کرتے کرتے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ پریشے نظریں جھکائے بیٹھی رہی، ہاتھ کی مٹھی بنائے اس نے ٹیبل پہ رکھا تھا، عاھل نے ایک نظر اس کے ہاتھ پہ ڈالی تھی، شاید خود کو کچھ بھی کہنے سے روک رہی تھی، اداس نظروں نے اس کے سراپے کو، اپنی آنکھوں میں حفظ کیا تھا۔
” میری فلائٹ ہے اج رات، تو میں چلا جاؤں گا “
پریشے کا دل ڈوبا تھا بےاختیار، لیکن وہ یونہی بیٹھی رہی، بنا کسی حرکت کے، وہ جا رہا تھا جیسے اس کے جسم سے، اس کی روح کھینچ کے لے جا رہا ہو،
” اپنا خیال رکھنا اور تمہاری خوشیوں کے لئے ہمیشہ دعاگو رہوں گا میں “
اس نے پھر سے کہا تھا لیکن پریشے اب بھی خاموش تھی،
” اللہ حافظ “
بھاری بوجھل آواز میں کہتا وہ تھکا تھکا سا دروازے کی طرف مڑا تھا، بھاری ہوتا ہاتھ، اس نے دروازے کے ہینڈل پہ رکھے تھے۔ سماعت منتظر تھی کہ وہ کچھ کہے، کچھ تو کہے، اسے پکار ہی لیں، اس کا نام لیں، اسے روک لیں، لیکن وہ کس قدر مضبوط تھی، عاھل کو حیرت ہوئی تھی، ایک آخری نظر مڑ کے، اس نے پریشے پہ ڈالی تھی جو ابھی تک سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی، وہ کیوں روکے گی؟ جب تم جانے کی بات کر رہے ہو تو وہ کیا کہہ کے روکے گی ؟؟
اس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ ابھری تھی، اور دروازہ کھول کے، وہ تیزی سے باہر نکل کے دروازہ بند کر چکا تھا،دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تھی اور پھر سکوت تھا اس کمرے میں، لیکن اس سکوت کو پریشے کی ہچکی نے توڑا تھا، ہاتھ کی بند مٹھی کھلی تھی اور ہچکیوں کو راستہ مل گیا تھا جیسے، آنسوؤں کو بہہ نکلنے کی راہ مل گئی تھی، وہ یونہی بیٹھی روتی رہی، وہ جا رہا تھا، وہ جا چکا تھا، بنا کچھ کہے، بنا اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کی درخواست کیے، وہ چلا گیا، تو آیا کیوں تھا ؟؟ پرانے زخم ادھیڑنے؟؟ زخم تو ابھی بھی تازہ تھے لیکن وہ مرہم لگا کے، خود کو صبر کا درس دے چکی تھی،اس شخص نے تو آکے، سارے زخم ادھیڑ دئیے اور پھر چلا بھی گیا، بنا ان زخموں کو دیکھے، بنا ان زخموں پہ مرہم لگائے، اس کا دل سلگنے لگا تھا، گہرا سانس لے کے، اس نے خود کو رونے سے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن بےسود، بند دروازے پہ نظر پڑتے ہی، اس کے رونے میں شدت آئی تھی، جیسے آیا تھا ویسے ہی جا رہا ہے، بنا سوال کیے، بنا کوئی جواب دئیے، بنا کچھ کہے۔ وہ تیزی سے اٹھ کے اپنے آنسو صاف کرتی، دروازہ کھول کے باہر نکلی تھی، کوریڈور میں ادھر ادھر دیکھتی وہ آگے بڑھ رہی تھی، کلینک کے احاطے سے بھی باہر نکل کے دیکھا اس نے، وہ کہیں نہیں تھا، اسے لگا شاید یہیں کہیں منتظر ہو، جانے میں دشواری پیش آرہی ہو اسے اور وہ رک چکا ہو یہیں کہیں،لیکن وہ جا چکا تھا، اس قدر جلدی تھی اسے جانے کی، کہ پل بھر کو رکا کے، اس عمارت کی طرف بھی نہیں دیکھا،جہاں وہ روح بستی تھی، جس کا روم روم صرف اس کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ تھکے قدموں پھر سے اس عمارت کی طرف بڑھنے لگی کہ یہی اس کا نصیب تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
میران نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا، اچانک سماہر آگے بڑھ کے، اس کے سینے سے جا لگی تھی، میران حیران حیران سا اسے بانہوں میں بھر چکا تھا،جبکہ وہ میران کے سینے سے لگی، اپنا چہرہ بھی اس کے سینے میں چھپا گئی تھی۔
” سماہر۔۔۔ “
میران نے اس کے بکھرے بال، ہاتھ کی انگلیوں سے سمیٹتے، اس کا نام لیا تھا لیکن وہ خاموش ہی رہی، گہرے سانس لیتی، جیسے میران کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتار رہی تھی۔
” میران کی سماہر،کیا ہوا ہے میری جان ؟”
میران کے محبت بھرے لہجے پہ، وہ سمٹتی سی، اس کے سینے الگ ہو کے، اسے دیکھنے لگی۔
” میران،سماہر کا ہے ناں؟”
کس قدر معصومیت تھی اس وقت سماہر کی آنکھوں میں، وہ دیکھے گیا ۔
” مجھے تو یہی لگتا ہے “
اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، میران نے گہرا سانس لیا تھا جبکہ سماہر اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“پیار، محبت، عشق اور پھر محرم ہونا، کس قدر خوبصورت احساسات ہیں یہ سب “
سماہر کھوئے لہجے میں کہتی اس کے قریب ہوئی تھی، کہ دونوں کے لبوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں رہا تھا۔
” تم کس قدر خوبصورت ہو سماہر، کس قدر خوبصورت الفاظ ہیں تمہارے، تمہارے ساتھ بیتتا ہر دن مجھے یہ باور کروا رہا ہے کہ اللہ پاک ہمارے لئے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کرتے ہیں “
سماہر کے لب مسکرا دیے تھے، دل کو جو خوف لاحق تھا وہ اب زائل ہونے لگا تھا۔
” کیا ہوا ہے میری سماہر کو، آج کیوں اداسی سی چھائی ہے “
میران کے پوچھنے پہ، وہ سر نفی میں ہلانے لگی۔
” نہیں تو۔ “
اس نے نظریں چرائی تھی جسے میران دیکھ چکا تھا۔
“کیا بات ہے میری جان ؟”
اس کی ٹھوڑی کو ہاتھ کی پشت سے سہلاتا وہ پوچھ رہا تھا جبکہ سماہر لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟؟”
میران فکرمندی سے اس کے اداس چہرے کو دیکھنے لگا جبکہ وہ تیزی سے پیچھے ہو کے، اس سے الگ ہوئی تھی۔
” ن ۔۔۔ نہیں تو، مجھے کوئی کیا کہے گا ۔ “
وہ مسکرانے کی کوشش کرتی رخ موڑ گئی۔
” میں کپڑے نکال دیتی ہوں تمہارے “
وہ وارڈ روب کی طرف بڑھی تھی جبکہ میران کی کھوجتی نگاہیں اس کی پشت پہ تھی۔ وہ کپڑے نکال کے مڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔
” ابھی تک یہیں کھڑے ہو، چلو جلدی کرو”
میران نے آگے بڑھ کے، اپنی شرٹ اور ٹراؤزر اس کے ہاتھ سے لے کے، صوفے پہ رکھا تھا اور اب اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تھے۔
” کیا بات ہے جان میران ، کوئی بات ہے جو تم چھپا رہی ہو مجھ سے ؟”
‘ کتنا پڑھ لیتا ہے یہ شخص اسے’
وہ سوچ کے رہ گئی ۔
” ماریہ سے ریلیٹیڈ کوئی مسئلہ ہے ؟”
میران کے سوال پہ، سماہر نے چونک کے اسے دیکھا تھا، اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا، دل کی دھڑکن پل بھر کے لئے مدھم ہوئی تھی۔
‘ کیسے پڑھ لیتا ہے یہ شخص مجھے ؟’
اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
” نہیں، میں اس کے بارے میں کیوں سوچوں گی، بس سر میں درد ہے تبھی ایسا لگ رہا ہے تمہیں “
اس نے بات ٹالنے کی کوشش کی تھی،
” ہممم “
میران نے ہنکارا بھرا تھا۔
” شاپنگ کیسی رہی؟”
میران پوچھنے لگا تو وہ مسکرا کے کندھے اچکا گئی ۔
” بہت اچھی ۔۔۔ “
” آہاں، تو تم نے بتایا ہی نہیں “
” تم۔نے پوچھا ہی نہیں “
سماہر نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا اور وہ کھل کے مسکرا دیا تھا ۔
” اچھا میں چینج کرتا ہوں پھر ڈنر کرتے ہیں “
اس کے گال، اپنے ہاتھ سے ، نرمی سے سہلاتا میران بولا تھا اور وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔ تب میران نے اس کے گال پہ اپنے لب رکھ کے، اپنے محبت کی مہر ثبت کی تھی اور پھر اس سے الگ ہو کے، وہ صوفے پہ رکھی اپنی شرٹ اور ٹراؤزر لے کے، واشروم چلا گیا جبکہ سماہر نے گہرا سانس لیتے، واشروم کے بند دروازے کو دیکھا تھا اور پھر خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں دیکھنے لگی، خود کو فریش ظاہر کرنے کی کوشش کرتی، اس نے اپنے گالوں پہ بلش آن کی ہلکی سی تہہ لگائی تھی، آنکھوں میں کاجل لگایا تھا اور ہونٹوں پہ ہلکے رنگ کا لپ گلوس لگا کے، وہ خود کو دیکھنے لگی، اپنے کسی بھی حرکت سے، وہ میران پہ یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ پریشان ہے یا کچھ ہوا ہے اس کے ساتھ یا ماریہ کا ہاتھ ہے اس کی پریشانی میں۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” آ گئی سمجھ محترمہ کہ نہیں؟؟”
ازمائر اسے دیکھتے پوچھ رہا تھا جبکہ مائزہ سر نفی میں ہلاتی، بیچارگی سے اسے دیکھنے لگی تھی جبکہ ازمائر کی آنکھیں باہر آنے کو تھی۔
” مائزہ یار ، ابھی تو اتنا سمجھایا ہے، ایک میتھس پرابلم سولو نہیں ہو رہا تم سے ۔۔ “
مائزہ کی ہنسی گونجی تھی جبکہ ازمائر تاسف سے اسے دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اتنا سج، سنور کے بھی تم لنگور ہی لگ رہے ہو “
مائزہ کی آواز پہ وہ اچانک مڑا تھا اور بھرپور گھوری بھی دی تھی اسے،
” منہ اچھا نہ ہو تو بات اچھی کر لیا کریں بندہ “
” اسی پہ تو عمل کر رہی ہوں، منہ زیادہ اچھا ہے میرا، اس لئے باتیں بری کرتی ہوں “
مائزہ نے بھی دوبدو جواب دیا تھا جبکہ ازمائر نے منہ بنایا تھا۔
” واؤ گریٹ، ہنسنا تھا”
” ہاں “
” لو ہنس لیا “
بری آواز میں ہنستا ازمائر اسے دیکھنے لگا جبکہ مائزہ مسکرانے لگی کہ وہ شخص نظر لگ جانے کی حد تک، خوبصورت لگ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” یہ لڑکا کیوں ایسے گھور گھور کے دیکھ رہا تھا تمہیں، جیسے آنکھوں سے پیزا سمجھ کے کھانے کا ارادہ رکھتا ہے “
ازمائر کے منہ بنا کے کہنے پہ مائزہ ہنس پڑی تھی۔
” jealousy on its peak “
” استغفراللہ۔۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم، ازمائر دا گریٹ کسی سے جیلس نہیں ہوتا “
” تو پھر یہ کیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر منظر بدلا تھا، وہ ازمائر ہی تھا لیکن بےحد سفاک اور ظالم، نفرت کی حد تک جابر ازمائر،
” تم صرف ضد ہو میری، انتقام ہو اور کچھ نہیں ہو “
۔
” سامنے مت آیا کرو، اور غصہ آنے لگتا ہے “
۔
” تم خود چاہ رہی تھی، تو میں نے بھی تمہاری چاہ پوری کر دی “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چہرے پہ بکھری مسکراہٹ سکڑ گئی تھی اور آنسو گالوں پہ بہہ نکلے تھے، ماضی کی یادیں کھبی خوشگوار ہوتی ہے تو کھبی اذیتناک، اس نے اپنے سامنے پڑے پیپرز کو دیکھا تھا، اس کی آزادی کے پیپرز، اس کے اوپر ایک پین بھی رکھا ہوا تھا، اسے سائن کرنے تھے ان پیپرز، وہ پورے دو گھنٹے سے، ان پیپرز کو دیکھ رہی تھی، کھبی لب کاٹتی، کھبی پین اٹھا کے ان پیپرز پہ سائن کا سوچتی اور پھر رکھ دیتی، تو کھبی کھڑکی سے نظر آتے چڑیوں کو دیکھتی، جو درختوں پہ گردش کرتے، چوں چوں کر رہے تھے۔ کھبی ماضی کے خوشگوار یادوں میں کھو جاتی، تو کھبی اس دل کی سنتی، جس کی دھڑکنیں ازمائر کا نام الاپ رہی تھی، اس کا دھیان اپنے وجود میں پلتے، اس ننھی سی جان کی طرف گیا تو اس رات کا لمحہ لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے، کسی فلم کی مانند چلنے لگا۔ آنکھوں میں نمکین پانی پھر سے جمع ہونے لگا اور دل کانچ کی مانند ٹوٹ کے بکھرا تھا۔
” محبت کی تھی تم سے ازمائر، بےحد محبت، جب سے شعور کی منزل پہ قدم رکھا تھا، جب محبت کسی تتلی کی مانند، دل کی سرحدوں پہ آ ٹھہرتی ہے، جب کوئی غزل پڑھنے پہ، آنکھوں میں بےساختہ کسی کی تصویر بنتی ہے، جب پہلی بار دھڑکنیں منتشر ہوتی ہے کسی کے یوں سامنے آ جانے سے، جب لگنے لگتا ہے کہ کسی کا خاص ہونا، کس قدر خوبصورت احساس ہے، جب ۔۔۔ “
وہ رکی تھی، دھیرے دھیرے خود کلامی کرتی، لفظوں کو لفظوں سے جوڑتی، وہ تھکنے لگی تو رک درختوں پہ، پرندوں کے جنڈ کو دیکھنے لگی، جو شام ہوتے ہی، چہچہانے لگے تھے۔
” تمہیں کیا لگتا ہے کہ ان بےاختیار جذبوں کی مدت محدود ہوتی ہے؟؟ لامحدود ہوتی ہے یا پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے، صدیاں بیت جاتی ہے لیکن وہ جو پہلی محبت کا، پہلا قدم، اس دل کی سرزمین پہ رکھا جا چکا ہوتا ہے، وہ جو اس پہلی محبت کے خواب پلکوں پہ سج جاتے ہیں، وہ جو ہر دعا کا پہلا ورد بن جاتے ہیں، جو ڈائری کے ہر ورق کا عکس بن جاتے ہیں، وہ کھبی نہیں مٹتے، وہ کھبی منظر سے غائب نہیں ہوتے ازمائر ارتضی ملک “
اس نے پھر سے ان طلاق کے پیپرز کی طرف دیکھا تھا، جن پہ اسے سائن کرنے تھے ۔
” تم کھبی نہیں محسوس کر پاؤ گیں ازمائر ارتضی ملک۔ “
گہرا سانس لیتی وہ جھکی تھی اور پین ہاتھ میں لے کے، اس نے ان پیپرز پہ سائن کرنے کے لئے خود کو آمادہ کیا تھا، اسے سائن کرنے ہی تھے اور وہ سائن کر رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
