Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

اس نے پین سے ایک لمبی لائن کھینچ دی تھی اس پیپر پہ اور زور سے پین کو دیوار پہ مارتی، وہ پیپر بھی پھاڑ چکی تھی اور اب گہرے سانس لیتی وہ بھیگی آنکھوں سے، فرش پہ پڑے ان کاغذ کے ٹکڑوں کو دیکھ رہی تھی۔
” میں نہیں کر سکتی، میں نہیں سہہ سکتی، میں محبت کرتی ہوں ازمائر سے، کیسے چھوڑ دوں اسے؟ کیسے ؟؟”
اس کی تیز آواز سن کے، سماہر تیزی سے اندر آئی تھی، وہ یہاں مائزہ سے ملنے آئی تھی اور اس کی یہ حالت دیکھ کے وہ گھبرا گئی تھی، تبھی بنا کچھ کہے اسے کے قریب آئی تھی اور اسے بانہوں میں بھر لیا تھا جبکہ بہن کا سہارا ملتے ہی، مائزہ کے رونے میں شدت آ گئی تھی۔
” مما سے کہو، مجھے نہیں چاہئے ڈائیورس، میں ازمائر سے محبت کرتی ہوں بہت زیادہ، اپنی سانسیں ختم کر دوں گی لیکن ازمائر، ازمائر سے محبت کرتی ہوں میں، پلیز سماہر کہو مما سے، مجھے یہ سب کرنے پہ مجبور نہ کریں، پلیز سماہر “
سماہر اسے خود سے لگائے، اس کی پیٹھ سہلا رہی تھی جبکہ مائزہ ہچکیاں لیتی رو رہی تھی، بہت مہینوں بعد پھر سے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا تھا اسے،
” ہشششششش میری جان، بس چپ، تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی۔ “
مائزہ اس سے الگ ہو کے، بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” ازمائر کو بھی ہونی چاہئے نا مجھ سے محبت، دیکھو تو میں کتنی محبت کرتی ہوں اس سے، اسے بھی تو ہونی چاہئے “
سماہر کی آنکھیں نم ہوئی تھی، یوں مائزہ کو دیکھ کے۔
” اچھا چلو محبت بھی نہیں ہوتی اسے مجھ سے، مجھے تو ہے محبت اس سے، میں کیسے اس سے الگ ہو جاؤں؟ مانا کہ وہ بہت غلط کر چکا میرے ساتھ، لیکن یار میں نہیں الگ ہو سکتی اس سے، اسے سمجھ جانی چاہیے نا کہ شعور کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھتے ہی، جو دل کو بھا جائے، جو دل میں بس جائے، وہ عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے یار، اسے تو سمجھنی چاہئے نا، “
سماہر نے اس کے آنسو نرمی سے صاف کیے تھے، اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھر کے، وہ نرم نگاہوں سے مائزہ کو دیکھ رہی تھی۔
” وہ سمجھتا ہے مائزہ، تمہیں، تمہاری محبت کو اور وہ مکمل سمجھ بھی جائے گا، دیکھو تو وہ بدل رہا ہے، تمہارے لیے بدل رہا ہے وہ مائزہ، تم دیکھنے کی کوشش تو کرو، بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے مائزہ کہ ہم جو اپنے مقابل سے محسوس کرنا چاہتے ہیں، ویسا ہمیں کچھ مل نہیں پاتا لیکن مائزہ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم مقابل کے لئے اہمیت نہیں رکھتے، اگر ہم اہم نہ ہو تو مقابل کیوں ہمیں خود سے باندھ کے رکھ رہا ہے یا کیوں اپنی زندگی میں شامل کیے ہوئے ہیں؟ وہ کیا ہے ناں کہ ہر انسان مختلف ہوتا ہے، بلکل ویسے ہی اپنے فیلنگز کو بتانے کا انداز بھی ڈفرنٹ ہوتا ہے اور پتہ کیا ہر انسان کو ایک بار موقع ضرور ملنا چاہئے، اگر وہ بدل رہا ہے یا بدلنا چاہتا ہے تو اس کے لئے راہ آسان بنانی چاہئے ہمیں، ایسے رونے سے، یا بند کمرے میں بیٹھ کے over thinking کرنے سے کچھ نہیں ملتا مائزہ، باہر آؤ، سورج کی روشنی کو محسوس کرو، ہلکی چلتی ہواؤں کو ان ہیل کرو، اپنے ارد گرد کی خوبصورتی کو اپنی ان خوبصورت آنکھوں سے دیکھو، خود کو قید مت کرو مائزہ، خود کو آزاد کرو اور پھرتم وہ دیکھ پاؤ گی جو تم دیکھ نہیں پا رہی، “
مائزہ اسے دیکھ رہی تھی ۔
” کیا تھا میران کو بھی ایسے ہی باتیں کرتی ہو ؟؟ تبھی تو تمہارے آگے پیچھے ہوتا ہے “
مائزہ کی شرارت پہ سماہر ہنس پڑی تھی، آنکھوں میں اچانک سے محبت کا جہاں بس گیا تھا۔
” میران بہت خوبصورت انسان ہے مائزہ، بےحد خوبصورت، اور میں خوش قسمت ہوں کہ میران میرا نصیب بنا”
مائزہ اسے دیکھے گئی اور پھر آگے بڑھ کے سماہر کو گلے لگایا تھا۔
” میری غلطیوں کو معاف کردو سماہر،میں بہت بری بن گئی تھی “
” وہ تو تم ہو “
سماہر نے ہنستے ہوئے کہا تھا جبکہ مائزہ اسے گھورنے لگی۔
” اچھا رونا بند کرو، چلو دونوں بہنیں باہر جا کے بیٹھتے ہیں اور زندگی کو جیتے ہیں “
سماہر اٹھ کے اسے بھی اٹھنے میں مدد دینے لگی،مائزہ اب خود کو ہلکا محسوس کر رہی تھی سماہر کی باتوں سے۔ بہن کا ہونا بھی اللہ تعالٰی کی نعمت ہی تو ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” سائیں آپ نے بلایا “
منان نے کمرے میں قدم رکھتے پوچھا تھا جبکہ میران اپنے ایزی چئیر پہ بیٹھا اس کا منتظر ہی تھا۔
” آج کیا ہوا تھا ؟؟”
منان چونکا تھا لیکن پھر بھی سوال کرنا ضروری سمجھا تھا اس نے ۔
” کیا مطلب سائیں؟۔”
میران اسے خاموش نگاہوں سے دیکھنے لگا تو وہ نظریں چرا گیا ۔
” وہ سائیں۔۔۔ سائیں بی بی نے منع کیا ہے کہ۔۔۔ “
کہتے کہتے منان پھر سے میران کو دیکھنے لگا جو بےحد سنجیدگی سے، اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا اور وہ ملازم ہی کیا جو اپنے مالک کا خاص آدمی ہو اور اپنے مالک کی آنکھوں کا مطلب نہ سمجھ سکے، منان بھی سمجھ گیا تھا۔
” سائیں بی بی جب شاپنگ کر کے بوتیک سے باہر آئی تو ماریہ نے وہاں سب کے بیچ، سائیں بی بی کے چہرے پی پانی کی بوتل چھڑکی تھی “
میران نے سختی سے جبڑے بھینچ لیے تھے ۔
” اپ کہاں تھے؟”
” سائیں میں اور رضوان گاڑی کے پاس تھے، ہم بروقت پہنچے تھے وہاں،لیکن ۔۔۔ “
اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب میران اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا میران سائیں کس قدر محبت کرتا ہے اپنی سماہر سے ۔
” دس منٹ کے اندر، وہ عورت فارم ہاؤس میں موجود ہو “
یہ کہہ کے وہ لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ منان احترام سے سر جھکائے اس کے پیچھے پیچھے ہی تھا کہ اسے جلد سے جلد حکم کی تعمیل کرنی تھی۔
اور دس منٹ کے اندر ہی ماریہ وہاں موجود تھی، جو مسکراتی آنکھوں سے میران کو دیکھ رہی تھی۔
” میری خوش نصیبی ہے یہ کہ میران ارتضی ملک نے مجھے اپنے فارم ہاؤس پہ بلایا ہے “
میران صوفے پہ بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” دل چاہ رہا ہے کہ ناچوں اور اتنا ناچوں کہ تم مجھے اپنی بانہوں میں بھر لو “
ماریہ سے جیسے اس کی خوشی سنبھالی ہی نہیں جا رہی تھی۔ تبھی قدم رکھتی وہ میران کی طرف بڑھ رہی تھی جبکہ میران اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا، اپنے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ چکا تھا۔
” یہ کتنی حسین رات ہوگی میری، تمہارے ساتھ اس فارم ہاؤس پہ، میں تمہاری اس رات کا لمحہ لمحہ یادگار بنا دوں گی میران ارتضی ملک، تمہاری طلب مجھے بےباک کر چکی ہے اور تم جیسے سیاستدان کو میری بےباکی ضرور پسند آئے گی میران، “
وہ میران کے قریب آئی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ میران کو چھوتی، میران نے اسے زور کا ایک تھپڑ مارا تھا جبکہ وہ حیران آنکھوں سے میران کو دیکھے گئی جو سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” تمہاری بےباکیاں میرے کام کی نہیں ہے ماریہ، “
ساتھ ہی اس کی گردن دبوچی تھی۔
” سماہر میری بیوی ہے، سماہر میران ملک، ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے ساتھ وہ گھٹیا حرکت کرنے کی ؟ “
وہ دھاڑا تھا۔
” جرأت کیسے ہوئی کہ میری بیوی کے قریب بھی جاؤ اور وہ گھٹیا حرکت کرو تم “
وہ چیخا تھا، ماریہ کی گردن پہ دباؤ بڑھا تھا اس کی گرفت کا، تو اس کی آنکھیں باہر آنے کو ہوئی تھی۔
” کتوں کے آگے ڈال دیتا ہوں میں اسے، جو میری بیوی کی طرف قدم بھی بڑھائے غلط نیت سے”
سانس لینے کی کوشش میں وہ بےحال ہو رہی تھی، ایسے لگ رہا تھا جیسے ابھی اس کے گردن کی ہڈیاں چٹخ جائے گی، میران نے اسے دھکا دیتے چھوڑ دیا تھا۔ وہ پیچھے لڑکھڑا کے کھانسنے لگی تھی جبکہ میران غضبناک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اپنا گندا وجود اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤ یہاں سے، ورنہ پولیٹیکس کو تو تم مجھ سے بھی بہتر جانتی ہو، کسی ناپسندیدہ شخصیت کو کیسے اور کہاں غائب کرنا ہے کہ اس کی ایک بوٹی بھی نہ ملے کسی کو، یہ ہم سیاستدانوں کے لئے بہت آسان ہے “
ماریہ اسے دیکھ رہی تھی اور پھر ہنسنے لگی تھی۔
” عشق کرتی ہوں میں میران ارتضی ملک سے،دیوانی ہوں میں میران ارتضی ملک کی “
میران نے لب بھینچ لیے تھے۔
” ختم کر دوں گی سماہر کو، نیست و نابود کر دوں گی اسے، جلا دوں گی اس کا چہرہ “
” شٹ اپ “
وہ دھاڑ کے قریب آیا تھا ماریہ کے،
” میران۔۔۔ “
دشاب ملک کی اواز پہ اس کے قدم رکے تھے اور لب بھینچے اس نے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔ آنکھوں میں سرخ دوڑیں تھی۔
” آئیے آئیے مسٹر دشاب ملک، آپ کی کمی تھی بس اس پورے ڈرامے میں “
میران نے طنزیہ انداز میں انہیں مخاطب کیا تھا جبکہ دشاب ملک قریب آئے تھے۔
” کیوں اس کے گندے خون سے، اپنے ہاتھ رنگنا چاہتے ہو تم میران “
میران کو اچانک ان پہ ہنسی آئی تھی اور وہ زور زور سے ہنسنے لگا جبکہ دشاب لب بھینچے اسے دیکھ رہے تھے۔
” یہ سنہرے اقوال پڑھنا کب سے اسٹارٹ کیا ہے آپ نے دشاب ملک “
” میران، ماضی کی غلطیوں کو بھول کے، اپنے باپ کع معاف نہیں کر سکتے ؟؟”
دشاب کو دکھ ہوا تھا جبکہ میران رک کے انہیں دیکھنے لگا کچھ دیر ۔
” کر سکتا ہوں، لیکن کروں گا نہیں “
دشاب،ماریہ کو دیکھنے لگا۔
” اپنی مہارانی کو اپنے اقوال زریں سنائیے، میں چلتا ہوں “
میران دونوں پہ نفرت بھری نظر ڈال کے، وہاں سے جانے لگا۔
” میران ،میران “
دشاب نے اسے آواز دی تھی لیکن وہ ان سنی کرتا وہاں سے جا چکا تھا جب وہ ماریہ کو دیکھنے لگا جو مسکراتے ہوئے آنکھ ونک کر گئی جبکہ دشاب نے لب بھینچ لیے تھے۔
” بیٹا نہ سہی، باپ سہی “
وہ قریب ہوئی تھی جب دشاب ملک نے اسے دھکا دے کے پیچھے کیا تھا۔
” دور رہو تم “
وہ نیچے گری تھی اور لب بھینچے دشاب ملک کو دیکھنے لگی جبکہ انہوں نے باہر جا کے منان کو آواز دی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
رات کے گیارہ بج رہے تھے، وہ بےچین سی لان میں ٹہل رہی تھی، اسکی سوچوں کا مرکز عاھل تھا،
‘ وہ جا چکا ہوگا اب ‘
اس نے اداس نظروں سے اوپر اسمان کی طرف دیکھا تھا جہاں اس نے ایروپلین کو گزرتے دیکھا تھا اور اس کے لبوں پہ اداس مسکراہٹ آ ٹھہری تھی۔
‘ جب آئے ہی واپس جانے کے لئے تھے تو ۔۔۔ تو آئے ہی کیوں؟’
تلخی سے سوچتی وہ سامنے گیٹ کو دیکھنے لگی، جہاں اسے کوئی سایہ سا نظر آیا تھا، وہ حیرت سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی اور اس کے لب نیم وا ہوئے تھے حیرانی سے۔ وہ شخص عاھل خان تھا جو قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے حیرت سے اوپر دیکھا تھا اور پھر اسے دیکھنے لگی، جیسے کہنا چاہ رہی ہو جہاز تو گیا۔ لیکن وہ بنا کچھ کہے اس کے سامنے آ رکا تھا اور پریشے کی حیران آنکھوں میں مسکرا کے دیکھنے لگا۔
” میں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے پریشے”
پریشے اب بھی حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی، جس کی آنکھوں میں امید کے جلتے بجھتے دیے تھے۔
” آ۔۔۔۔ آپ گئے نہیں؟؟”
جب کچھ نہ سوجھا تو بےوقوفوں کی طرح یہ سوال پوچھ بیٹھی جبکہ وہ ادھر ادھر دیکھتا کچھ سوچنے لگا۔
” میرے وہاں جانے کی وجہ یہاں رہ گئی تھی، سوچا اس وجہ کو بھی ساتھ ہی لیتا چلوں “
عاھل زیر لب مسکراتا اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔ اپنے کوٹ کے پاکٹ سے، اس نے سرخ مخملی ڈبیہ باہر نکالی تھی اور کھول کے اسے دیکھنے لگا
” اردو میں سننی ہے یا پشتو یا انگلش؟؟”
وہ بےحد پراعتماد انداز میں بات کر رہا تھا جبکہ پریشے دھڑکتے دل کے ساتھ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” کوئی دیکھ بھی لیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں سب سے مانگ لوں گا تمہیں، ابھی میری طرف دیکھو پریشے “
پریشے کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا اپنا نام اس کی زبان سے سن کے۔
” مجھ سے شادی کریں گی پریشے خان ؟”
پریشے بنا کچھ کہے اسے دیکھ رہی تھی۔
” انکار مت کر دینا، دل ٹوٹ جائے گا میرا”
عاھل نے مزید کہا تھا جبکہ پریشے کے لبوں پہ ہلکی مسکراہٹ بکھری تھی۔
” بنا کچھ پوچھے اگر پھر سے غائب ہو گئے تو ؟؟ “
” ایک چانس تو میرا حق بنتا ہی ہے “
عاھل نے جواب دیا تھا۔
” میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ تو نہیں ہے یہ “
پریشے نے اسے ہلکی سی گھوری دی تھی جبکہ وہ ہنسنے لگا۔
” ڈاکٹرنی صاحبہ سے شادی کرنے جا رہا ہوں تو یہ انٹری ٹیسٹ چلتا ہی ہے اچھا بتاؤ ناں، وادا اوکہ مہ سرا ( مجھ سے شادی کر لو )”
پریشے کو اس کے انداز پہ ہنسی آئی تھی، تبھی مسکراتے لبوں کے ساتھ اس نے کندھے اچکائے تھے۔
” جو میرے آغا جان فیصلہ کریں “
عاھل جھنجھلا کے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” ایٹ لیسٹ تم تو کچھ بولو، تمہارے اغا جان خی رضامندی بھی لے لوں گا”
” اور اگر انکار ہوا ان کی طرف سے تو ؟؟”
پریشے کی سوالیہ نظریں اس پر تھی ۔
” تو میں اپنی رنگ واپس لے لوں گا “
عاھل نے تیزی سے جواب دیا تھا جبکہ پریشے کی آنکھوں میں حیرانی اتر آئی تھی۔
” کیا مطلب ؟ اتنی جلدی “
” اچھا ایک دن چھوڑ کے لے لوں گا رنگ “
عاھل نے آنکھیں ونک کرتے کہا تھا جبکہ پریشے اسے گھورتی، آگے بڑھ گئی تھی۔
” کہاں جا رہی ہو ؟؟”
عاھل اس کے ساتھ ہی آگے بڑھا تھا۔
” سونے جا رہی ہوں “
” چلو ٹھیک ہے میں بھی یونہی چلتے چلتے تمہارے آغا جان سے بات کر لیتا ہوں اور ساتھ ہی وہیں رنگ بھی پہنا دیتا ہوں ان کے سامنے “
عاھل کے اطمینان بھرے انداز پہ وہ ٹھٹھکی تھی اور اسے بازو سے تھام کے پیچھے کھینچا تھا۔
” کیا کرنے جا رہے ہو تم “
عاھل نے نثار ہوتی نظروں سے، اس کے اس انداز کو دیکھا تھا۔
” ہائے، آپ کا یوں کھینچنا تو میری جان لے گیا “
پریشے نے تیزی سے اس کا بازو چھوڑ دیا تھا۔
” بہت برے ہو تم “
وہ کہتی تیزی سے آگے بڑھی تھی جبکہ وہ پیچھے کھڑا مسکرانے لگا۔
” کل آؤں گا میں، تمہارے آغا جان سے ملنے ۔۔۔ انتظار کرنا میرا “
پریشے دھڑکتے دل کے ساتھ رکی تھی، ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر تیزی سے رخ موڑ کے اندر میں جا چکی تھی جبکہ عاھل خان وہیں کھڑا کچھ دیر زیر لب مسکراتا رہا اور پھر سر جھٹک کے وہ رخ موڑ کے جانے لگا، اب اسے کل کا انتظار تھا کہ کل صبح ہو اور وہ آ کے اپنے چچا جان سے بات کر کے، پریشے کو اپنے لئے مانگ لیں۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
لان میں موجود سفید رنگ کے ٹیبل پہ اس نے خوبصورت پھولوں کا بوکے دیکھا تو آنکھوں میں حیرانی در آئی تھی، ادھر ادھر نظریں دوڑاتی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس ٹیبل تک آئی تھی اور پھولوں کو دیکھنے لگی۔
” ضرور میران لائے ہونگے سماہر کے لئے، صبح صبح اسے سرپرائز کرنے “
وہ خود ہمکلامی کرتی مسکرا دی تھی۔
” روم میں رکھ دیتی ہوں ویسے بھی سماہر سو رہی ہے “
وہ بوکے اٹھانے کا سوچ ہی رہی تھی جب ازمائر کی اواز پہ اس کے ہاتھ رکے تھے۔
” تمہارے خوبصورت چہرے پہ بکھری مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ تمہیں پسند آیا ہے بوکے “
اوہ، تو یہ ازمائر لایا ہے میرے لئے۔
وہ ازمائر کو دیکھنے لگی جو جوگنگ کے لئے جا رہا تھا شاید ۔ مائزہ نے تیزی سے ہاتھ پیچھے کیے تھے اور لب بھینچ کے وہ دوسری طرف دیکھنے لگی۔
” کیسی ہو ؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہا تھا۔
” ٹھیک ہوں “
بنا اس کی طرف دیکھے مائزہ نے جواب دیا تھا جبکہ ازمائر بھی خاموشی سے درختوں پہ چہچہاتے پرندوں کو دیکھنے لگا۔ مائزہ نے کن انکھیوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی۔
” تمہارا ہاتھ کیسا ہے اب ؟”
ازمائر اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا۔
” ٹھیک ہے ، تھینک یو “
” ہمممم “
وہ پھر سے دوسری طرف دیکھنے لگی تھی۔
” تم بیٹھ جاؤ، زیادہ مت کھڑی رہا کرو”
ازمائر کہہ رہا تھا جب مائزہ نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا۔
” نہیں میرا مطلب ہے کہ میں کل پڑھ رہا تھا کہ پریگننسی کے first three months میں زیادہ ارام۔کرنا چاہئے “
ازمائر نے جلدی سے بات بنائی تھی جبکہ مائزہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا، اسے شرم سی آئی تھی ازمائر سے۔ تبھی گھر کی طرف جانے کے لئے مڑی تھی۔
” میں سوچ رہا تھا کہ تم اس دن اپنے بکس لے کے آئی تھی یہاں، تو کیوں نا پھر سے اسٹیڈیز continue کی جائے اور مجھ سے ہیلپ چاہئے ہو تو میں یہیں ہوں “
مائزہ کے چہرے قدم رکے تھے، ازمائر اس کی پشت ہی دیکھ رہا تھا جب وہ مڑ کے ازمائر کو دیکھنے لگی۔
” پہلے کی طرح، جب مجھ سے ہیلپ لیا کرتی تھی تم “
اس نے مسکرانے کی کوشش کرتے کہا تھا۔
” کیوں؟”
مائزہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” تم میری بیوی ہو اس لئے “
ازمائر کی بات پہ ، مائزہ کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ ابھری تھی۔
” زبردستی کی بیوی ۔۔ “
ازمائر نے لب بھینچ لیے تھے۔
” تم نے ہی کہا تھا کہ زبردستی کا رشتہ ہے ہمارا۔ “
اسے دکھ ہوا تھا، یہ بات مائزہ سے کہنے والا وہ خود ہی تو تھا۔
” میں غلط تھا مائزہ “
وہ خاموش ہی رہی۔ سر جھٹک کے پھر سے گھر کی طرف مڑی تھی۔ جب ازمائر نے پھر آواز دی تھی اسے۔
” یہاں بیٹھ کے باتیں کرتے ہیں “
آنکھیں موند کے مائزہ نے گہرا سانس لیا تھا اور پھر اس کی طرف مڑی تھی
” کیوں کر رہے ہو یہ سب تم ازمائر؟؟”
ازمائر اسے دیکھنے لگا۔
” کیونکہ میں اپنی دوست کو مس کر رہا ہوں “
مائزہ نے سر جھٹک کے آنکھیں پھیری تھی۔
” دوست ؟؟ “
” کیا ہم پھر سے دوست نہیں ہو سکتے مائزہ ؟؟”
ازمائر آنکھوں میں امید لیے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ مائزہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
” ترس آ رہا ہے مجھ پہ؟؟ رحم کھا رہے ہو مجھ پہ ؟؟ “
” خود پہ ترس آ رہا ہے مائزہ “
ازمائر کہنے لگا
” میں رشتوں کے تقدس کو بھول گیا تھا اور اب جب سمجھنے لگا ہوں تو خود پہ ترس آ رہا ہے مجھے، تبھی تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں، معاف کر دو گی مجھے پلیز ؟”
مائزہ خاموش رہی ۔
” اچھا دیکھو مائزہ، پہلے جیسے دوست بنتے ہیں، میں تمہیں کچھ بھی فورس کرنے کی کوشش نہیں کروں گا، تم اس بیڈ روم میں نہیں جانا چاہتی تو میں فورس نہیں کروں گا، تمہیں اگر کچھ نہیں پسند تو میں تب بھی فورس نہیں کروں گا، پہلے جیسا بنتے ہیں، کزنز بیسڈ دوست”
ازمائر کو مائزہ حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
” سب پہلے جیسا ممکن نہیں ہوتا کھبی ازمائر”
” ہم ممکن تو بنا سکتے ہیں مائزہ “
ازمائر بےساختہ اس کے قریب آیا تھا جبکہ مائزہ بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی ۔
” اچھا سوری یار ۔۔ “
وہ پھر سے پیچھے ہوا تھا جبکہ مائزہ اپنی مسکراہٹ چھپانے لگی لیکن ازمائر کی تیز نظر دیکھ چکی تھی اس کی مسکراہٹ۔
” تو ٹھیک ہے نا، ہم دوست ہیں آج سے ؟؟ ہے ناں مائزہ ؟؟”
” سوچ کے بتاؤں گی۔ “
مائزہ نے ادائے بےنیازی سے کہا تھا
” کیا مطلب ؟؟”
ازمائر چونکا تھا جبکہ مائزہ نے آہستگی سے پھولوں کا بوکے، ٹیبل پر سے اٹھایا تھا اور اسے دیکھنے لگی۔
” مجھے ابھی تو آرام کرنا ہے، زیادہ کھڑا رہنا میرے لئے ٹھیک نہیں ہے “
سنجیدگی سے اپنی بات کہہ کے وہ مڑی تھی اور یونہی چلتے ہوئے گھر کی طرف جانے لگی جبکہ ازمائر وہیں کھڑا زیر لب مسکراتا اسے جاتا دیکھ رہا تھا، سچ ہی کہتے ہیں آنکھیں کھول کے اپنی خوش نصیبی کو خوش آمدید کہو گے تو ہی خوش نصیبی تمہارا مقدر بنے گی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” جی ؟؟”
ماریہ سوالیہ نظروں سے اپنے فلیٹ کے دروازے پہ کھڑے یزدان کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ خفیف مسکراہٹ تھی۔
” مجھے یزدان ہمدانی کہتے ہیں “
” ہاں دیکھا ہے آپ کو نیوز میں “
ماریہ نے جواب دیا جبکہ وہ مسکرانے لگا۔
” خادم لوگ ہیں ہم، بس یہ نیوز والے کچھ زیادہ احترام دیتے ہیں “
ماریہ ایک ابرو اچھا کے اسے دیکھ رہی تھی، وہ تھوڑا سا خم ہوا تھا ماریہ کی طرف ۔
” سنا ہے آپ میران ملک کی شیدائی ہے “
ماریہ چونکی تھی جبکہ یزدان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
” اور میں سب سے بڑا دشمن میران ملک اور سماہر بی بی کا”
ماریہ پہلے اچھنبے سے اسے دیکھنے لگی اور پھر اس کی آنکھوں میں وہی چمک ابھری تھی جو یزدان کی آنکھوں میں تھی جبکہ یزدان سیدھا ہوا تھا۔
” آپ چاہے تو بہت کچھ ہو سکتا ہے، آپ کی خواہش بھی پوری ہوگی اور میرا بدلہ بھی ۔۔ “
ماریہ پرسوچ نظروں سے اپنے سامنے کھڑے یزدان کو دیکھتی مسکرائی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤