Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

وہ اچھنبے سے موبائل کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی جہاں کچھ دیر پہلے اسے کال موصول ہوئی تھی کہ میران ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے اور وہ سماہر کو دیکھنا چاہتا یے، اس لئے کسی کو نہ بتایا جائے گھر پہ، کہ سب پریشان ہو جائے گیں۔ اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو کنٹرول کرتی، وہ کمرے سے نکلی تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سیڑھیاں اتر کے، باہر کی طرف جا رہی تھی اور اس وقت لاؤنج مکمل خالی تھا تبھی وہ باہر لان میں آئی تھی اور پورچ کی طرف بڑھی تھی جہاں ڈرائیور اور گارڈ کھڑا تھا۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر ان دونوں کو دیکھنے لگی۔
” منان کاکا کہاں ہیں؟”
” میم، منان تو میران سائیں کے ساتھ ہیں “
ڈرائیور کے جواب پہ اس نے اپنے لب کاٹے تھے۔
” گاڑی نکالو، “
اس نے ڈرائیور کو حکم دیا تھا اور وہ تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھول کے کھڑا تھا۔ سماہر جب گاڑی میں بیٹھ چکی تو ڈرائیور دروازہ بند کرتا، خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھ گیا تھا اور گیٹ سے باہر نکلی تو سماہر نے اسے ہاسپٹل کا ایڈریس دیا تھا جہاں اس کا میران زخمی پڑا تھا اور یہاں کسی کو اس کی خبر نہ تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے، وہ بس میران کی صحت کے لیے دعا کر رہی تھی، تبھی سامنے کا منظر دھندلا سا گیا تھا، لیکن جب گاڑی جھٹکے سے رکی تھی اور سماہر چونک کے، ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی آنکھیں صاف کرنے لگی۔
” کیا ہوا ہے ؟؟”
گولی چلنے کی آواز آئی اور اس نے دیکھا زخمی ڈرائیور لڑھک کے دوسری سیٹ پہ گرا تھا، ابھی وہ کچھ سمجھنے کے قابل ہوتی جب اس کی طرف کا دروازہ کھلا تھا اور بلیک ماسک میں چھپے شخص کی مسکراتی آنکھوں کو اس نے دیکھا، جس نے ریوالور کا رخ اس کی طرف کیا ہوا تھا۔
” خوش آمدید مائی ڈئیر “
بھاری اواز پہ وہ بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی۔
” ک ۔۔۔ کون ہو تم ؟؟”
” آپ کا مخلص ، اب آپ عزت سے نیچے اتر کے اس گاڑی میں بیٹھے گی یا میں زبردستی کروں “
وہ پھر سے بھاری اواز میں کہہ رہا تھا جبکہ سماہر نے حرکت نہیں کی۔
” کون ہو ت ۔۔۔ تم ۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا”
” دیکھئیے ہمیں اجازت نہیں ہے آپ کے ساتھ زبردستی کرنے کی، کیونکہ میران ملک کی بیوی ہے اس لئے عزت سے بات کر رہا ہوں، زبردستی کرنے پہ مجبور نہ کریں مجھے “
سماہر خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی اور پھر آگے ہو کے، وہ گاڑی سے نیچے اترنے لگی، جہاں ایک اور ماسک والا آدمی بھی موجود تھا، جو گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ سماہر پیچھے والے آدمی کو دیکھتی، پھر سے سامنے دیکھنے لگی اور لب کاٹتی گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ جا کے بیٹھ گئی تھی، دل خوف سے کانپ رہا تھا اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ مزید بڑھ گئی تھی، میران بھی زخمی تھا اور یہ لوگ کون تھے ؟ وہ کچھ غلط کر بیٹھی ہے۔
” کام ہو گیا “
اس نے فون پہ کسی کو کہا تھا جبکہ سماہر بھیگی آنکھوں میں خوف لیے ان دونوں کو دیکھا تھا ۔ گاڑی کا دروازہ ہے بند ہوا تھا اور سماہر کو ایسا لگا جیسے اس وجود سے جان نکل چکی ہو ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

پریس کانفرنس سے وہ منان کے ساتھ چلتا باہر نکلا تھا۔ جب رپورٹرز نے اس کے سامنے آئے تھے۔
” سر ابھی ابھی اطلاع ملی ہے ہمیں کہ آپ کی بیوی کو کڈنیپ کر لیا گیا ہے “
میران نے جبڑے بھینچے اس رپورٹر کو دیکھا تھا افسوس کہ وہ ایک لڑکی تھی، اگر لڑکا ہوتا تو شاید میران اس کا منہ توڑ دیتا۔
” کیا بکواس کر رہی ہے آپ میری بیوی کے بارے میں؟”
اس کی آواز میں دھاڑ سی تھی جس پہ وہ لڑکی خوفزدہ ہو کے پیچھے ہوئی تھی جبکہ میران ملک لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھا تھا جبکہ منان اس کے ساتھ ساتھ ہی تھا، پھر سے کسی میں ہمت نہ ہوئی تھی کہ میران سے کوئی سوال کرتا۔ موبائل نکال کے وہ سماہر کو کال کرنے لگا ایک دو رنگز کے بعد ہی کال ریسیو ہوئی تھی
” سرپرائز “
یہ شاید یزدان ہمدانی کی آواز تھی، اس کا دل جیسے پل بھر کے لئے رکا تھا، چلتے قدم بھی رک چکے تھے۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟”
وہ پست آواز میں غرایا تھا۔ منان بھی پریشان نظروں سے اپنے سائیں کو دیکھ رہا تھا۔
” میرے پاس “
” نہیں‪ جھوٹ بول رہا ہے یہ، میرے پاس ہے
ساتھ ہی ماریہ کی اواز بھی گونجی تھی اور میران نے دانت پیسے تھے۔
” ماریہ، تمہاری اتنی جرات، میری بیوی کہاں ہے ؟”
وہ اب گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور منان بھی تیزی سے آ کے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔
” یزدان ہمدانی کی مہمان ہے کچھ دن کے لئے “
ماریہ کی مسکراتی اواز، اس کے تن بدن میں آگ لگا چکی تھی۔
” کیا بکواس کر رہی ہو تم “
گاڑی میں اس کی دھاڑ ابھری تھی جبکہ ماریہ ہنس رہی تھی۔
” بس ایک رات کی قیمت لگا رہی ہوں تمہاری بیوی کی، ایک رات میرے نام اور تمہاری بیوی تمہارے گھر پہ “
میران نے دھاڑتے ہوئے موبائل کو ڈیش بورڈ پہ پھینکا تھا۔
” ذلیل عورت ۔ “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

پورے گھر میں سماہر کے اغوا ہونے کی خبر پھیل چکی تھی اور سب حیرت سے ایکدوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے کہ سماہر کیسے باہر گئی اور کون اغوا کر کے لے گیا اسے ؟
” تم لوگوں کو یہاں پہ رکھا کس لئے ہیں کہ میری بیٹی باہر گئی اور تم میں سے ایک بھی نہیں تھا یہاں؟”
وقاص ملک دھاڑ رہے تھے وہاں موجود گارڈز پہ ۔ جب ان کا ایک گارڈ آگے آیا تھا جس کا نام آصف تھا۔
” میم ڈرائیور کے ساتھ گئی تھی تو مجھے لگا کہ “
” کیا لگا تھا ؟؟ ڈرائیور زخمی ہاسپٹل بیڈ پہ پڑا ہے، اگر مجھے اپنے گھر والوں کی حفاظت کے لئے ڈرائیور کی ضرورت ہوتی تو تمہیں کیوں رکھتا ؟؟ میرے لئے ڈرائیور کافی تھے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ حالات کیسے جا رہے ہیں ، یہ بےوقوفی کیسے سرزد ہوئی تم سے “
وقاص ملک گرجے تھے جب ازمائر بھی ان کے قریب آیا تھا اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے، انہیں تسلی دینے کی کوشش کی ۔
” چچا جان ٹائم ویسٹ کر رہے ہیں ہم اپنا یہاں، ہم ڈھونڈ لیں گے سماہر کو صحیح سلامت، آپ چلیں “
ازمائر انہیں اپنے ساتھ لیے گاڑی کی طرف بڑھا تھا اور پھر اب کو تنبیہ کی تھی۔
” یہاں سے بلکل بھی نہیں ہلنا، سب الرٹ رہیں “
دشاب بھی پہنچ چکے تھے۔ ان کی گاڑی پورچ میں داخل ہوئی اور دشاب ملک گاڑی سے باہر نکلے تھے۔ ازمائر نے لب بھینچے انہیں دیکھا تھا۔
” وقاص یہ سب “
وہ وقاص کو دیکھنے لگے جبکہ وقاص نے رخ پھیر لیا۔
” مجھے تو یہ سب تمہارا کیا دھرا لگتا ہے دشاب”
وہ حیرت سے اپنے بھائی اور بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔
” کیا کہہ رہے ہو، میں اپنے خاندان کی بچی کے ساتھ ایسا کروں گا ؟”
” بیٹے کے ساتھ کر تو چکے ہیں “
یہ کہہ کے، ازمائر ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا تھا جبکہ دشاب ملک حیرت کا بت بنے ان کی گاڑی کو گیٹ سے باہر نکلتا دیکھ رہے تھے۔ وہ ایک بار گر چکے تھے لیکن ان کی سزا اب بھی جاری تھی، باوجود معافی مانگنے کے بعد بھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” سماہر کہاں ہے ؟؟”
میران پاگل ہو رہا تھا جبکہ ماریہ ہنستے ہوئے اس کے قریب ہوئی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ میران اسی کے فلیٹ پہ آئے گا تبھی وہ میران کے پہنچنے سے پہلے ہی یہاں موجود تھی۔
” میرے پاس ہے، کڈنیپ کر چکی ہوں تمہاری بیوی کو میں، بس ایک رات کے بدلے میں، تمہاری بیوی تمہارے پاس ہوگی “
اپنی شہادت کی انگلی اس کے چہرے پہ پھیرتی وہ کہنے لگی جب میران نے اس کی گردن دبوچ لی، غصے سے اس کے گردن کی رگیں تن گئی تھی اور آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔
” میران ارتضی ملک کی بیوی کو کڈنیپ کرنے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری، جانتی نہیں ہو کہ میران اپنی بیوی کے لئے کسی کی بھی جان لینے میں منٹ نہیں لگاتا “
ماریہ کو سانس لینا دشوار لگا تھا تو ماریہ کو دھکا دے کے پیچھے دیوار سے لگایا تھا اور خود اس کے قریب جا کے، ایک ہاتھ دیوار پہ رکھ کے، اس کی آنکھوں میں خونخوار انداز سے دیکھنے لگا۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟”
وہ اپنی گردن سہلاتے سر نفی میں ہلانے لگی ۔
” نہیں بتاؤں گی، کھبی نہیں بتاؤں گی۔”
وہ ٹھہر ٹھہر کے بولی جبکہ میران اس کے قریب دھاڑا تھا۔
” عورتوں پہ ہاتھ اٹھانا میں بےغیرتی سمجھتا ہوں، اس لیے مجھے مجبور مت کرو کہ میں بےغیرت بن جاؤں، اس لئے بتاؤ میری بیوی کہاں ہے ؟”
اس کی سرد آواز ماریہ کے وجود مہم سنسناہٹ سی دوڑا چکی تھی، اسے اندازہ نہیں رہا تھا کھبی میران کے اس قدر غصے کا۔ وہ سمجھی تھی کہ میران اس کی بات مان لے گا کیونکہ وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے لیکن یہاں سے الٹ ہو رہا تھا ۔
” بتاؤ “
وہ حلق کے بل چیخا تھا، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیسے اسے پر لگ جائے اور وہ اڑ کے سماہر کے پاس پہنچ جائے۔
” نہیں بتاؤں گی “
باوجود خوف کے بھی، وہ میران کو کچھ بھی بتانے سے انکار کر گئی، جبکہ میران ریوالور نکال کے، اس کی کنپٹی پہ رکھ چکا تھا جبکہ ماریہ کی آنکھوں میں اب وہ خوف کو واضح دیکھ رہا تھا۔ ۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟”
” دیکھو۔۔۔ م ۔۔۔یران، بس ایک رات کی تو بات ہے ، سماہر تمہارے پاس ہوگی، ابھی ۔۔۔ ابھی کرتے ہیں ناں “
وہ کوئی پاگل عورت تھی شاید، اور اس وقت مکمل پاگل لگ رہی تھی۔ جب میران نے ریوالور سے اس کی کنپٹی پہ دباؤ ڈالا تھا۔
” وہ میری بیوی ہے، میران ارتضی ملک کی بیوی کہاں ہے ؟ “
” وہ نہیں۔۔۔۔۔ “
اس سے پہلے اس کی بات مکمل ہوتی، میران نے گولی چلائی تھی جو صوفے پہ جا لگی تھی، دوسری گولی اس کی ٹانگ کے قریب چلائی تھی، ماریہ چیختی وہاں سے دور ہوئی تھی، میران نے اب اس کا نشانہ لیا تھا۔
” میری بیوی کہاں ہے ؟؟”
آنکھیں سرد اور سفاک ہو چکی تھی میران ملک کی اس وقت ۔ وہ سماہر کے لئے کسی کی بھی جان لے سکتا ہے ، کسی کی بھی، ماریہ یہ بات سمجھ چکی تھی۔
” مجھے مت مارو پلیز، میں مرنا نہیں چاہتی “
وہ خوفزدہ ہو کے چلائی تھی، میران جبڑے بھینچے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” وہ ۔۔۔ تمہاری بیوی یزدان ہمدانی کے فارم ہاؤس میں ہے “
اس نے جتنی تیزی سے کہا تھا، میران نے اسی تیزی سے گولی چلائی تھی جو دیوار پہ لگی تھی، ماریہ کی چیخ ابھری تھی، میران بمشکل خود پہ ضبط کر گیا تھا ورنہ دل چاہ رہا تھا کہ اس عورت کو ابھی ختم کر دے یہاں۔ منان تیزی سے اندر آیا تھا کیونکہ عمارت کے باہر پولیس کی گاڑیاں پہنچ گئی تھی،
” سائیں چلیں یہاں سے، پولیس باہر آئی ہے ، چلیں سائیں “
منان اسے اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ میران ابھی بھی ریوالور ماریہ کی طرف کیے کھڑا تھا
” سائیں چلیں یہاں سے، اپ کو سائیں بی بی کی قسم “
میران نے بمشکل ریوالور نیچے کی تھی اور منان کے ساتھ وہاں سے باہر نکلا تھا جو اسے اس عمارت کے خفیہ راستے سے باہر لے جا رہا تھا۔ جبکہ میران کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کا بھاری ہوتا وجود کھنچ رہا ہو ان راستوں سے۔ یزدان ہمدانی، اس کا سب سے بڑا دشمن، سیاست میں اس کا حریف اور اس کے خاندان کا دشمن، اور اس کی بیوی اسی یزدان ہمدانی کے فارم ہاؤس میں یے ، گاڑی تک پہنچ کے چیخ پڑا تھا جبکہ منان نے نم آنکھوں سے اپنے سائیں کو دیکھا تھا۔ ۔
” حوصلہ کریں، سائیں، ہم ڈھونڈ لیں گے سائیں بی بی کو”
میران نے لب بھینچ کے، آنکھوں میں آنے آنسوؤں کو بمشکل پیا تھا ۔
” یزدان ہمدانی “
اس نے دانت پیسے تھے اور تیزی سے گاڑی میں بیٹھ گیا تھا، منان بھی بیٹھ چکا تھا اور گارڈز دوسری گاڑی میں بیٹھے تھے۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور گاڑی تیز رفتاری سے سڑک پہ رواں تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” یہ کیا ہو گیا ہے ؟ یہ کیسی قیامت ہے ؟ م ۔۔۔ میری بیٹی کہاں ہے ؟”
تابعہ کب سے رو رہی تھی جبکہ عارفین انہیں گلے سے لگائے خود بھی خاموش آنسو بہا رہی تھی لیکن ساتھ ساتھ تابعہ کو تسلی دے رہی تھی۔
” تابعہ ایسے روؤ گی تو دیکھو مائزہ اور مشعل بھی روئے گیں، پلیز میری جان سماہر آ جائے گی، میران اسے ڈھونڈ نکالے گا، ایسے کیسے ممکن ہے کہ سماہر پہ انچ آنے دیں میران”
” مما پلیز مت روئیے ناں “
مائزہ روتے ہوئے کہنے لگی جبکہ تابعہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
” اگر ۔۔۔ اگر میری بچی کو مار دیا ہو تو ؟؟ تو میں کیا کروں گی ، میں تو جیتے جی مر جاؤں گی “
” تابعہ ۔۔ “
امامہ کی آواز پہ تابعہ نے انہیں دیکھا تھا ۔
” امامہ میری بچی ۔۔۔ میری بچی نہیں ہے “
تابعہ نے روتے ہوئے کہا اور امامہ نے آگے بڑھ کے انہیں گلے لگایا تھا جبکہ میرب اور آبگینے بھی مائزہ کے ساتھ بیٹھ گئی تھیں، مشعل جو مائزہ سے لگی بیٹھی رو رہی تھی،میرب کے گلے لگی تھی۔
” آپی نہیں ہے پھوپھو “
وہ میرب کو ہمیشہ پھوپھو کہا کرتی تھی ۔۔
” ارے پھوپھو کی جان، آ جائے گی آپ کی اپی انشا اللہ “
دل اس کا بھی رو رہا تھا لیکن مشعل کو گود میں لے کے، اسے تسلی دینے لگی ۔
” کون ہے یہ ماریہ ؟؟ کون ہے یہ منحوس عورت؟؟ میری بچی سے کیا دشمنی ہے “
تابعہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ میرب لب کاٹتی انہیں دیکھنے لگی کہ وہ ایک بار اس کا ذکر اپنے بابا اور چچا کی زبان سے سن چکی تھی جب وہ آپس میں بحث کر رہے تھے، وہ جانتی تھی کہ ماریہ نام کی عورت،میران ارتضی ملک کے پیچھے پڑی ہے۔ وہ نظریں پھیر کے مائزہ اور آبگینے کو دیکھنے لگی جبکہ مشعل کو خود سے لگایا ہوا تھا اس نے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” مہتاب ہمدانی وہیں رک جاؤ “
یزدان ہمدانی چلایا تھا جبکہ وہ جو نشے میں غرق سماہر کی طرف بڑھ رہا تھا، مڑ کے اپنے بھائی کو دیکھنے لگا۔
” کیا ہے ؟؟”
یزدان لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
“کہاں جا رہے ہو تم ؟؟ “
” میران کتے کی بیوی کے درشن کرنے ہیں مجھے “
وہ کمینگی سے ہنستا کہہ رہا تھا جبکہ سماہر دیوار سے جا لگی تھی، وہ نہ جانے کب لاؤنج میں آیا تھا اور سماہر کی طرف بڑھنا چاہ رہا تھا جب اچانک یزدان اندر آیا تھا۔
” وہ میرے فارم ہاؤس میں ہے تو تم یہاں کیا کرنے آئے ہو، جاؤ یہاں سے “
یزدان ہمدانی تقریبا اسے دھکا دیتے ہوئے کہنے لگا جبکہ وہ لڑکھڑا کے پھر سے رکا تھا۔
” تو میں تمہارا بھائی ہوں، حق تو بنتا ہے میرا تم پہ اور تمہارے اس فارم ہاؤس پہ اور یہاں موجود اس حسینہ پہ “
بتیسی نکالے وہ کہنے لگا پھر سے۔ جبکہ بےباک نظریں پھر سے سماہر کے گرد گھومنے لگی تھی اور سماہر نے خود کو اپنے کندھے پہ موجود ڈوپٹے میں چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔
” میران کی بیوی ہے ، اسے بھنک بھی پڑی کہ تمہاری بری نظر ہے اس کی بیوی پہ، تمہیں زندہ گاڑ دے گا۔ “
یزدان غرایا تھا ۔
” اس حسینہ کے لئے زندہ بھی درگور ہو جاؤں گا،پہلے اس کے مزے تو لوں “
مہتاب پھر سےسماہر کی طرف بڑھنے لگا تھا، سماہر دیوار سے لگی خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” میرے قریب بھی مت آنا، “
اس کی آواز بھی کانپ رہی تھی جبکہ مہتاب ہنسنے لگا۔
” اس کی آواز کس قدر خوبصورت ہے بھائی، مزہ آئے گا “
مہتاب آگے بڑھنے لگا جبکہ سماہر اپنی عزت بچانے کی خاطر سیڑھیوں کی طرف دوڑی تھی۔
” کہاں تک بھگاؤ گی چمک چلو “
وہ کہتا اس کی طرف جانے لگا۔
” پورا علاقہ ہمارا ہی ہے “
اس سے پہلے کہ وہ سماہر تک پہنچ کے، اپنے گندے مقاصد میں کامیاب ہوتا، اچانک سے لاؤنج میں میران کی دھاڑ گونجی تھی اور ساتھ ہی گولی چلی تھی جو مہتاب کی ٹانگ پہ لگی تھی اور وہ درد سے چیختا وہیں گرا تھا جبکہ سماہر کی چیخ بھی ساتھ ہی ابھری تھی، وہ بھیگی خوفزدہ آنکھوں سے میران کو دیکھ رہی تھی۔
” ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو یہاں لانے کی، کیسے ہمت ہوئی”
وہ دھاڑتا،مہتاب کی طرف بڑھا تھا اور اس کی کمر پہ اپنی ٹانگ رسید کرتا، اس کے بال مٹھی میں بھر کے، اسے کھینچتا ہوا اس کا رخ اپنی طرف کر چکا تھا ۔
” بدذات، اوقات کیا ہے تمہاری، میران ارتضی ملک کی بیوی کو یہاں لانے کی جرات کیسے آئی تم میں “
اس کی کنپٹی پہ ریوالور رکھ کے، اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے، مہتاب کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جبکہ وہ ہڑبڑا گیا تھا۔
” م ۔۔۔ م ۔۔۔میں،ن۔۔۔ نہیں، وہ تو یز ۔۔۔۔ یزدان لایا ہے “
میران نے جبڑے بھینچے یزدان کو دیکھا تھا جو بوکھلا کے ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔ جبکہ میران نے ریوالور سے اس کی کنپٹی پہ دباؤ ڈالا تھا۔
” دونوں کو کتوں سے بدتر موت دوں گا ۔۔ منان کاکا “
” جی سائیں “
وہ ریوالور یزدان کی کنپٹی پہ رکھ کے الرٹ ہوا تھا جبکہ سماہر کمزور ہوتے وجود کے ساتھ کچھ کہنے کے قابل بھی نہیں رہی تھی، وہ اپنے شل ہوتے اعصاب کو سنبھالتی وہیں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھتی چلی گئی۔
” دیکھو میران، میران مقصد یہ تھا کہ ، میرا تمہاری بیوی سے کوئی کام یا دشمنی نہیں۔۔۔ دیکھو میران تم “
یزدان کہنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
” شٹ اپ “
میران بلند آواز میں چیخا تھا، وقاص ملک اور ازمائر بھی وہیں آ گئے تھے،۔
” سماہر “
وقاص تیزی سے اپنی بیٹی کی طرف بڑھے تھے۔
” یہ ٹھیک نہیں ہے ، میران ہم مذاکرات ۔۔۔۔ “
” بکواس بند کرو “
میران مہتاب کو چھوڑ کے، اس کی طرف مڑا تھا اور ریوالور کا رخ بھی یزدان کی طرف کر چکا تھا جبکہ یزدان دو دو ریوالور کا رخ اپنی طرف دیکھ کے بوکھلا گیا تھا۔ کھبی منان کی طرف دیکھتا تو کھبی میران کی طرف۔
” وقاص چچا سماہر کو لے کے جائیے سے “
یزدان کو خونخوار نظروں سے دیکھتا وہ بولا تھا۔ ازمائر کی نظر اچانک اوپر کی طرف گئی تھی جہاں وہ شخص کھڑا تھا جس کے ریوالور کا رخ میران کی طرف تھا، یہ وہی آفتاب خان تھا جس کی گولی کا نشانہ ایک بار پہلے بھی میران بن چکا تھا ازمائر کی غلطی کی وجہ سے اور اب وہ پھر سے یزدان یا آفتاب کو ان کے مقصد میں کامیاب ہونے نہیں دینا چاہتا تھا تبھی وہ تیزی سے میران کی طرف بڑھا تھا۔
“میران۔۔۔۔ “
وہ چلایا تھا، اس کا مقصد میران کو اس کے نشانے سے دھکا دے کے نیچے گرانے کا تھا لیکن اچانک سے گولی چلی تھی جو میران تک پہنچنے سے پہلے ہی، ازمائر اپنی پشت پہ کھا چکا تھا، سب اپنی جگہ ساکت ہو گئے تھے جبکہ میران شاکڈ کیفیت میں ازمائر کی طرف بڑھا تھا، اس کا خون سے لتا وجود میران کے سامنے تھا، اس کا بھائی جس سے ہمیشہ نفرت ہی رہی تھی اسے، آج وہ اس کے سامنے خون میں لت پت گرا ہوا تھا، وہ وہیں گھٹنوں کے بل گرا تھا۔
” یہ کیا کر دیا تم نے ازمائر ؟”
کانپتے ہاتھوں سے اس کے خون سے لت پت ہوتے جسم کو، اپنی بانہوں میں بھر کے میران چلایا تھا، اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے اس کے زخموں سے نکلتے خون کو روکے، جبکہ ازمائر کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ تھی۔
” بڑا بھائی ہونے کا فرض نبھایا ہے میں نے “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤