Rate this Novel
Episode 06
” کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟؟”
وہ ماورا تھی جو خفگی سے اپنے سامنے کھڑے وقاص ملک کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ مسکرا کے آگے بڑھے تھے، کہ ماورا کو بانہوں میں بھر سکے لیکن وہ اچانک بدک کے پیچھے ہوئی تھی اور آنکھوں میں غصہ اور حیرت لیے انہیں دیکھنے لگی جبکہ وقاص ملک کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے ۔
” آپ دوسری عورت کی خوشبو اپنے وجود پہ اوڑھ کے میرے پاس کیوں آئے ہیں؟؟”
اس کی آواز میں غصہ تھا جبکہ وقاص ملک چونکے تھے۔
” یہ کیا بکواس ہے ماورا “
ان کا لہجہ بھی سخت تھا لیکن ماورا پہ ان کے غصے کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا تبھی پھر سے آگے بڑھے تھے لیکن ماورا تیزی سے پیچھے ہوئی تھی۔
” میں ایک عورت ہوں اور بیوی ہوں میں آپ کی، اپنے مرد کے ہر انداز سے واقف ہوں، میرے قریب مت آئیے اور جائیے یہاں سے ۔۔ “
” ماورا بکواس نہیں کرو، مجھے تمہاری ضرورت ہے ابھی “
وقاص ملک نے لب بھینچے تھے ۔
” اپنی ضرورت آپ پوری کر آئے ہیں وقاص سائیں، میرے پاس آپ بن کے آتے ہیں، اس کی خوشبو تو اوڑھ کے نہ آتے “
ماورا کی آنکھوں میں شکایت تھی لیکن وہ شکایت، شکایت ہی رہی کیونکہ وقاص ملک زبردستی اپنی من مانی کر چکے تھے اور آج!!!
مائزہ کمرے کے کونے میں، نیم برہنہ بیٹھی شکایتی نگاہوں سے، بیڈ پہ سوئے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اپنی درندگی کا مظاہرہ دکھا کے، اب سکون سے سو رہا تھا۔ خود کو کوسنے کے علاؤہ، اس کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہ تھا کہ وہ خود اپنے لئے یہ زندگی اور اس بٹے ہوئے شخص کو چن چکی تھی، سب جانتے ہوئے بھی وہ خود کو اس بٹے ہوئے شخص کے سپرد کر چکی تھی اور اب اسے اس گندگی کو سہنا ہی تھا۔
” دوسری عورت کی خوشبو اپنے وجود پہ اوڑھ کے تم میرے قریب نہیں آ سکتے ازمائر “
وہ چلائی تھی لیکن ازمائر نے اسے تھپڑ مار کے، بیڈ پہ دھکا دیا تھا۔
” تم میری ضرورت ہو بس، بدلہ ہو تم “
دانت پیس کے کہتا، وہ مائزہ پہ جھک کے، اس کے سارے فرار کے راستے مسدود کر گیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اسے سو دفعہ پکارا ہے
دل نے مگر ۔۔۔
میرے دل کی بات وہ سن نہ سکا
جو آنکھوں میں تھی۔۔
میرے آنسوؤں کی طرح
بکھری وہ خواہشیں چن نہ سکا ۔۔۔!!
اپنے خیالوں میں گم ، وہ سامنے برستی بارش کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران وہیں درخت کے پاس رک کے، بےحد محویت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ شام کے سائے پھیل کے رات میں تبدیل ہو رہے تھے، کھبی لگتا وہ سب جانتی ہے اور کھبی لگتا کہ جیسے وہ سب بھول گئی ہے ۔ ہاتھ بڑھا کے، اہن6ے نازک ہاتھ کی ہتھیلی پہ ، وہ بارش کے ننھے قطروں کو چننے لگی اور میران کے دل میں خواہش سی جاگنے لگی کہ آگے بڑھ کے، اسے اپنے بےحد قریب کر لے اور اس نازک ہاتھ کی ہتھیلی پہ، اپنے لب رکھ کے، ان قطروں کو، لبوں سے چن لے۔ اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھی، وہ اتنے فاصلے سے بھی اپنا عکس ان آنکھوں میں دیکھ پا رہا تھا، وہ تھوڑا آگے ہوئی تھی، آنکھیں بند کر کے، وہ بارش کی ان بوندوں کو اپنے چہرے پہ محسوس کر رہی تھی اور میران کو اپنا دل سنبھالنا اس لمحے مشکل امر لگ رہا تھا، دل بار بار سر پھرا سا، نافرمانی کرنے پہ تلا ہوا تھا، سماہر اس سے بےحد محبت کرتی ہے، اسے یاد ہے کہ وہ میران ارتضی ملک سے بےحد محبت کا مرتکب ہوئی ہے، وہ کسی کی نہیں سنتی میران کے معاملے میں، اس قدر یقین اور اگر ۔۔۔۔ اس نے لب بھینچ لیے تھے، چہرے پہ بےبسی پھیلی تھی، نظریں اب بھی سماہر پہ رکی ہوئی تھی اور اس کا وجود جذبات کی رو میں بہنے لگا تھا اور تبھی وہ اپنے دل کی خواہش پہ لبیک کہتا آگے بڑھا تھا، آہستہ روی سے چلتا، وہ سماہر کے قریب جا رکا تھا جو نظریں اٹھا کے، اب میران کو دیکھ رہی تھی، لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی، آنکھوں میں شناسائی اور محبت کی رمق تھی، ایسی ہی ایک بارش تھی کہ جب میران نے اس کی ہتھیلی پہ لکھے الفاظ پڑھے تھے اور اعتراف محبت کیا تھا، اسے یاد تھا، اسے اس لمحے سب یاد تھا۔۔ اور شاید میران کو بھی اس لمحے وہ پل یاد آیا تھا تبھی تو جھک کے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، ان مسکراتی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔۔
” ہاں یہی محبت ہے “
سماہر کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی اور پھر وہ مسکرائی تھی، میران نرمی سے اس کا ہاتھ تھام چکا تھا اور سماہر اٹھ کے، اس کے مقابل، اس کے بےحد قریب ان آنکھوں کو دیکھ رہی تھی، جن میں خواہشوں کی لو جل رہی تھی۔
” ان آنکھوں میں کیا محسوس ہوتا ہے تمہیں سماہر ؟؟”
مبہم سرگوشی تھی۔
” میں۔۔۔ “
سماہر کچھ دیر ان آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر اس کے لب نیم وا ہوئے تھے اور وہ ہلکا سا مسکرایا تھا، بارش میں اس کے بال بھیگنے لگے تھے اور بارش کے ننھے قطروں نے اس کے سفید چہرے کو تر کر دیا تھا۔ دل میں اٹھتے خواہشوں پہ ضبط کے پل باندھنے کی کوشش میں وہ بےبس سا ہو رہا تھا، دھڑکنوں میں تڑپ سی ابھر رہی تھی، ان نم لبوں کو چھونے کی خواہش مچل رہی تھی، سماہر آہستگی سے مزید اس کے قریب ہوئی تھی، اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پہ رکھ کے، تیز دھڑکنوں کے تسلسل سے نظریں نہیں چرا پا رہی تھی، آج کتنے عرصے بعد، وہ میران کے بےحد قریب ہوئی تھی کہ اس قربت کی آگ سے، اس کے گال دہکنے لگے تھے، ان گالوں پہ گلابی پن اتر آیا تھا اور بےحد اچانک بادل گرجے تھے اور سماہر بوکھلا کے، اس کے سینے سے جا لگی تھی کہ اس کے لب ، میران کی گردن کو چھونے لگے تھے، جب اس کا نازک وجود، میران کے مضبوط سینے سے لگا کانپ رہا تھا۔ لمحہ لگا تھا میران کو بےاختیار ہونے میں، اور تبھی سماہر کی پشت پہ، اس کے مضبوط ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوئی تھی اور میران نے جھک کے ان لبوں کو بےحد نرمی سے، اپنے سلگتے لبوں میں قید کیا تھا۔ سماہر کے لبوں سے سسکی سی ابھری تھی اور پھر میران نے اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں الجھانے میں لمحہ بھی نہ لگایا، کتنا سکون تھا اس لمس میں، کتنی پرکیف تھی اس کے سانسوں کی مہک، اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ رہے تھے، اس کا وجود جیسے سکون پا رہا تھا، اس کے لبوں کو چھوڑ کے، اس نے نرمی سے سماہر کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، آنکھیں موندی تھی، بارش میں دونوں کے وجود بھیگ رہے تھے لیکن ان کا وجود، ان کہے جذبوں کی تپش میں جھلس رہے تھے، لرزتی پلکیں اٹھ کے پھر سے جھکی تھی اور میران نہ چاہتے ہوئے بھی، اس سے الگ ہو کے پیچھے قدم رکھ کے، اس سے دور ہوا تھا، سماہر نے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا اور بےاختیار اپنا نازک ہاتھ اٹھا کے، اس کی طرف بڑھایا تھا، لب بھینچے میران اس کی اس ادا کو دیکھ رہا تھا، وہ بنا کچھ کہے، میران کو روک رہی تھی، خود سے دور جانے سے وہ میران کو روک رہی تھی۔
” سماہر پلیز ۔۔۔ تمہاری طبیعت ۔۔۔۔ “
میران نے کہنا چاہا تھا لیکن وہ رک گیا تھا، دو قدم آگے ہو کے، وہ سماہر کا نازک ہاتھ تھام چکا تھا، سماہر بھی دو قدم آگے بڑھ کے، میران کے قریب آئی تھی، اتنے قریب کہ دونوں کے سانسوں کی تپش سے، دونوں کے چہرے جھلس رہے تھے، آنکھوں میں مدہوشی سی اتر آئی تھی، میران کے ہاتھ، اس کے گیلے بالوں سے ہوتے، اس کی گردن، کندھے کو چھوتے، اس کے پہلو سے ہوتے، اس کی کمر پہ آ رکے تھے، سماہر اس لمس کی تپش سے پگھلنے لگی تھی، میران نے اپنی پیشانی اس کی پیشانی پہ ٹکائی تھی۔
” مت کرو سماہر پلیز ۔۔ “
بےبس سی، بوجھل سانسوں کے ساتھ مبہم سرگوشی تھی جبکہ سماہر کی پلکیں لرز کے جھکی تھی۔
” ہشششششش “
ان لبوں کو اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے چھوتی اس نے کہا تھا،
” سب ٹھیک نہیں ہے تمہارے لئے سماہر، تم ۔۔۔ “
وہ پھر سے بوجھل سرگوشی کر رہا تھا لیکن سماہر نے پھر سے اس کے لبوں پہ، اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کا دباؤ ڈال کے اسے خاموش کرایا تھا۔
” ہشششششش۔۔ “
میران آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگا، ان آنکھوں کی مبہم مدہوشی نے اسے بےاختیار کر دیا اور تبھی اس نے پھر سے اپنے تشنہ لب، سماہر کے لبوں سے الجھائے تھے اور اب کے وہ مکمل سیراب ہونے کا ارادہ رکھتا تھا، تبھی وقفے وقفے سے، اس کے عمل میں شدت آ رہی تھی، سماہر کو خود میں بھینچے وہ پرسکون ہو رہا تھا، سماہر کو کچھ لمحوں میں لگا کہ اس کی سانسیں بند ہونے لگی ہے اور تبھی وہ میران کے سینے پہ ہاتھ مارنے لگی، میران تیزی سے اس کے لبوں کو چھوڑ کے، اسے دیکھنے لگا، جس کا چہرہ سفید پڑ رہا تھا۔
” سماہر۔۔۔ “
وہ سانس بحال کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی،
” ڈیم اٹ ۔۔ میں ان ہیلر لے کے آتا ہوں “
وہ گھبرا گیا تھا لیکن اس کی شرٹ اپنی مٹھی میں بھینچ کے، وہ میران کو جانے سے روک چکی تھی، سانس لینے کی کوشش میں ہلکان ہوتی، وہ میران کو خود سے دور جانے سے، منع کر رہی تھی اور وہیں میران پھر سے اس کے لبوں کو قید کرتا، اسے سانس ان ہیل کرنے لگا۔
” ان ہیل کرنے کی کوشش کرو سماہر ۔۔ “
سماہر آنکھیں موند چکی تھی اور میران نے پھر سے وہی عمل دہرایا اور سماہر ان ہیل کرنے کی کوشش کرتی، اس کے گلے لگ چکی تھی، اس کے کندھے پہ اپنی ٹھوڑی ٹکا کے وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” م ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں “
میران نے اسے بازوؤں کے گھیرے میں بھر کے،سکون کا سانس لیا تھا۔
” میرا تھوڑا سا ستم سہنے کی ہمت نہیں تم میں اور قریب آنے کی بات کرتی ہو۔ “
وہ کہہ رہا تھا اور سماہر اب بھی مسکرا رہی تھی۔
” تمہیں چاہنا۔۔
محبت سے ملنا تمہیں۔۔۔
اب مجھ میں وہ لگن باقی تو ہے
یہ بےانتہا ۔۔
تیرے بن سلگنا میرا ۔۔
میری سانسوں میں اگن باقی تو ہے “
وہ ہلکا سا گنگنائی تھی، میران اس سے الگ ہو کے اسے دیکھنے لگا۔
” میری سانسیں اگر رکنے لگے تو تم ہو میری سانسیں، میں اگر بھول جاؤں تو تم ہو میری یادداشت، میری جان نکلنے لگے تو تم ہو میرے جینے کی وجہ، میران ارتضی ملک، میں اگر محبت ہوں تو تم عشق ہو میرے، میں جسم ہوں تو تم روح ہو، تمہیں ہر لمحے میں، محسوس کرنے کی خواہش ہے میری میران ارتضی ملک “
وہ جذب کے عالم میں کہہ رہی تھی اور میران اسے سن رہا تھا۔ اس لمحے وہ سب بھول گیا تھا، اپنا ماضی، اپنی حقیقت، سب۔۔۔ وہ بس اس لمحے کو سماہر کے سنگ جینا چاہتا تھا۔
” کہیں چلتے ہیں، “
” کہاں؟؟”
میران کھوئے کھوئے انداز میں پوچھنے لگا۔
” کہیں بھی، جہاں کوئی آواز نہ ہو، سوائے ہماری سانسوں کے، جہاں کوئی نہ ہو سوائے ہم دونوں کے وجود کے، جہاں بس ہم ہو، ہماری آنکھیں ہو، ہماری سانسوں کا شور ہو اور مدھم رقص کرتا ساز ہو، جہاں ہمارے وجود محو رقص ہو ایکدوسرے کی قربت میں۔۔ “
کس قدر واضح، کس قدر خوبصورت گنگناہٹ تھی ان الفاظ میں۔
” مجھے برباد کرنے کا ارادہ رکھتی ہو آج کیا تم ؟؟”
بوجھل لہجے میں کہتا وہ زیر لب مسکرا رہا تھا۔ سماہر کو خود نہیں معلوم تھا کہ آج، اس لمحے اسے کیا ہوا ہے؟ کچھ تو ہوا ہے، وہ اتنی پاگل سی کیوں ہو رہی ہے؟ بےاختیار سی کیوں ہو رہی ہے؟ لیکن وہ خود نہیں جانتی تھی؟؟
” خوبصورت یادیں بنانا چاہتی ہوں ہمارے ان لمحوں کو میں “
اس کی آنکھوں میں ہلکی سی سرخی اتر آئی تھی۔
” اپنے بےحد قریب کر لو میران مجھے کہ میں، میں نہ رہوں، میری سانسیں میری نہ رہے، “
وہ میران کے قریب سے قریب تر ہو رہی تھی اور میران بہک رہا تھا اس کی اداؤں میں۔ تبھی بےخودی میں اس کی نازک گردن پہ، لب رکھ کے، اپنی بےچینیاں رقم کرنے لگا۔
” ہشششششش “
سسکتی سانسوں کے بیچ ، سماہر نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی ۔
” کہیں اور لے چلو ناں میران “
اور میران نے اسے بانہوں میں اٹھایا تھا کہ اب واقع میں سماہر سے دوری، اس کے لیے ناممکنات میں سے ہو رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
