Ada e Ishq hon Season 02 by Malayeka Rafi readelle50008 Last updated: 11 June 2025
Rate this Novel
" مجھے معاف کردو پلیز ، میں نہیں چاہتا تھا دوسری شادی کرنا لیکن ۔۔۔ " وہ نم آنکھوں سے عارفین کے سامنے بیٹھے تھے جن سے بےحد محبت ہونے کے بعد انہوں نے شادی کی تھی بےحد چاہ سے اور اب وہ سوتن لے ہی آئے تھے ان پہ ۔ " میں مجبور ہو گیا تھا ، تم جانتی ہو ناں ، تم نے دیکھا تو تھا کہ مجھے مجبور کیا گیا ۔ " ان کے ہاتھ کانپے تھے، بیڈ کراؤن پہ اپنے ہاتھ مضبوطی سے جماتی وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن ایسا لگ رہا تھا جیسے سانس اب نکلے گی اور اب نکلے گی ۔۔ اپنے سے متعلق شخص کو دوسری عورت کو سونپنا کس قدر تکلیف دہ ہے ، یہ ان سے بہتر کون جان سکتا تھا کہ اپنے محبوب کو دوسری عورت کے پاس بھیجنا کس قدر مشکل امر ہے ایک بیوی کے لئے ۔ " جائیے پلیز ، آپ کی منتظر ہے وہ ۔ " کس قدر مشکل تھا یہ ایک جملہ کہنا لیکن وہ کہہ گئی تھی اور وہ نم آنکھوں سے اپنی بیوی کو دیکھتے نفی میں سر ہلا رہے تھے ۔ " میں یہ نہیں کر سکتا ، نہیں کر پا رہا میں یہ ۔ " اور وہ جو خود پہ کب سے ضبط کیے ہوئی تھی آخر مسکرا کے اپنے سامنے بیٹھے دشاب ارتضی ملک کو دیکھنے لگی ۔ " آپ کے خاندان کو وارث چاہیئے جو آپ کا نام آگے لے جا سکے ، جائیے اور اس خاندان کو اپنا وارث دیجئیے جو میں تو نہ دے سکی شاید وہ دوسری عورت وہ وارث آپ کو دے پائے ۔ " لہجہ ہر طنز سے عاری تھا، بھیگی آنکھوں میں بھی نرم تاثر تھا لیکن وہ شرمندہ ہو گئے تھے تبھی سر جھکا گئے تھے وہ اور پھر وہ جا رہے تھے دوسرے کمرے میں جہاں ان کی دوسری بیوی منتظر تھی اور وہ عورت مضبوط بنی اپنے شوہر کو لمحہ لمحہ خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھی ۔ آنکھیں موند کے انہوں نے آنے والی صبح کو سوچا تھا جب ان کا محبوب دوسری عورت کی خوشبو اوڑھ کے ان سے کیسے آنکھیں ملا پائیں گے ۔ اور اب !!!! ان کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ بکھری تھی ، وہ جو اس رات عارفین کے سامنے نم آنکھوں سمیت بیٹھے تھے ، اج اتنے سالوں بعد لمحہ لمحہ وہ بےحد بدل گئے تھے کہ شاید پہچاننے میں نہیں آ رہے تھے ۔ انہوں نے گہرا سانس لیا تھا، آج ، رات کے اس پہر نہ جانے پھر سے کیوں وہ رات یاد کی صورت ان کے وجود پہ بکھرے پڑ رہے تھے جس کا بیتا لمحہ لمحہ ان کے لئے کسی عذاب سے کم نہ تھا ، کسی زہر سے کم نہ تھا اور کوئی ان سے ان کی زندگی کے بدترین لمحات کا پوچھے تو وہ اس رات کے ہر سیکنڈ اور منٹ کو اپنی زندگی کے عذاب کش لمحات کا نام دیں گی ، جن کا لمحہ لمحہ ان پہ بھاری تھا جب ان کا محبوب شوہر اسی گھر کے دوسرے کمرے میں اپنے لذت بھرے لمحات گزار رہے تھے دوسری عورت کی قربت میں۔ دھڑام کی آواز پہ وہ چونکی تھی، نظر گھڑی پہ گئی ، رات کے تین بج رہے تھے ، یہ وقت تو میران ارتضی ملک کے گھر آنے کا تھا ۔ " لو آ گیا اس گھر کا شرابی بیٹا ۔ " ہمیشہ کی طرح عظمی کی آواز گھر میں گونجی تھی ۔ " چپ رہو تم ۔ " ساتھ ہی دشاب ارتضی ملک کی آواز بھی گونجی تھی جبکہ عارفین سینے پہ ہاتھ رکھے تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی جہاں ان کا بیٹا میران ارتضی ملک شراب کے نشے میں جھومتا اوپر آنے کے لئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا جب دشاب کی گرجتی آواز پہ اس کے قدم ڈگمگائے تھے اور وہ لڑکھڑاتا مڑا تھا۔ " اوہ سلام سلام ابا جان حضور، آج آپ یہیں ہیں ۔ " " پھر سے کتنی بوتلیں چڑھا کے آ گئے جو پورا گھر جگانے پہ تلے ہوئے ہو ؟؟" عظمی منہ بناتی کڑے تیوروں سے پوچھ رہی تھی۔ " آپ نے بھی پینی تھی کیا ؟؟ میں لانا بھول گیا " میران کے آنکھ ونک کرنے پہ عظمی کی گھوریاں عروج پہ پہنچ گئی ۔ ۔ " استغفراللہ، دشاب دیکھ رہے ہیں آپ، کیا کہہ رہا ہے یہ مجھے " اس سے پہلے دشاب کچھ کہتے، عارفین سیڑھیاں تیزی سے اترتی نیچے آئی تھی اور میران کا بازو تھاما تھا ۔ " میران چلو یہاں سے ۔ " جبکہ میران نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا تھا ۔ " آپ اپنے اس شوہر نامدار کو ہی سنبھالئے ۔۔ " سرد لہجے میں کہتا وہ لڑکھڑاتے قدموں سیڑھیاں چڑھنے لگا جہاں میرب کھڑی یہ تماشا دیکھ رہی تھی ۔ عارفین نے عظمی کی گھوریوں پہ نظریں چرائی تھی ، ایک شکایت بھری نظر انہوں نے دشاب پہ ڈالی تھی اور رخ موڑ کے سیڑھیاں چڑھنے لگی جبکہ دشاب لب بھینچے ان دونوں ماں بیٹے کو آگے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ رہے تھے۔ " چلئیے ناں کمرے میں، نیند خراب ہو گئی آپ کی بھی " عظمی ان کا بازو تھامے نرم لہجے میں کہنے لگی کہ ان کا نظر التفات بھی وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی عارفین کے لئے ۔ جبکہ دشاب اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑا کے لمبے ڈگ بھرتے کمرے کی طرف بڑھے تھے ۔ عظمی نے ایک تیز نظر سیڑھیوں پہ ڈالی تھی جہاں اب کوئی نہیں تھا ۔ " نیندیں حرام کر رکھی اس عورت نے اور اس کی دو اولادوں نے " نخوت سے سر جھٹکتی وہ بھی کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ میرب اپنے بھائی کو سہارا دیے کمرے میں لائی تھی جبکہ وہ بیڈ پہ گر سا گیا ۔ " جاؤ سو جاؤ میرب " اس کی طرف دیکھنے سے میران گریز کر رہا تھا ۔ " پانی لاؤں بھائی ؟" ہمیشہ کی اپنے بھائی پہ مہربان بہن رہی تھی وہ ، تبھی پوچھنے لگی جبکہ وہ رخ موڑے خاموش رہا ، شاید اسے اس وقت اپنی بہن سے شرمندگی ہو رہی تھی ، یوں اس حالت میں۔میرب بھی سر جھٹک کے کمرے سے باہر نکلی تھی اور دروازہ بھی بند کیا تھا تو نظر عارفین پہ پڑی جو صوفے پہ افسردہ سی بیٹھی ہوئی تھی ۔ " مما آپ یہاں کیوں بیٹھی ہے ؟" عارفین پریشان نظروں سے میرب کو دیکھنے لگی ۔ " سو گیا ؟" " جی سو گیا ہے ، چلئیے آپ بھی سو جائیے " میرب انہیں اٹھنے میں مدد دیتی ، ان کے ساتھ ہی ان کے کمرے میں گئی تھی کہ اس کی زندگی میں اس کے دو جان سے بھی زیادہ عزیز ہستیاں تھے عارفین اور میران جبکہ دشاب اس کے باپ تھے لیکن وہ ان سے دور رہنے کی کوشش کرتی ، نہ جانے کیوں اپنے اور ان کے بیچ دیوار سی کھڑی کر رکھی تھی ، وہ میران کی طرح ان سے بدتمیزی نہیں کرتی تھی لیکن وہ خاموش ہی رہتی دشاب کے سامنے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
