Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

” سماہر “
وہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی، اپنی سوچوں میں گم اپنے بالوں میں برش پھیر رہی تھی جب واشروم سے نکلتے میران کی نظر آئینے میں نظر آتے اس کے عکس پہ رک گئی اور کسی احساس کے تحت میران نے اسے آواز دی تھی، ڈر بھی تھا کہ پھر سے اس کے اجنبی نظروں کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے لیکن وہ ہلکا سا مسکرائی تھی، آنکھوں میں وہی شناسائی کی جھلک تھی اور چہرے پہ وہی احساس بکھرا ہوا تھا جو ہمیشہ اس کے چہرے پی پھیلتی جب جب وہ میران کے سامنے آتی۔
” میرے بال نہیں سلجھ رہے “
تھکے تھکے معصوم سے انداز میں کہتی وہ اب بھی میران کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران گہرا سانس لیتا اس کے قریب آیا تھا اور اس کے ہاتھ سے برش لیتا وہ نرمی سے سماہر کے بالوں میں پھیرنے لگا جبکہ سماہر کی نرم نگاہیں اس کے عکس پہ ٹھہری ہوئی تھی۔

” ایک تمہیں چاہنے کے علاوہ
اور کچھ ہم سے ہوگا نہیں “

ہلکی آواز میں گنگناتی وہ میران کو چونکا گئی تھی تبھی اس نے جھک کے سماہر کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھے ہمیشہ کے لئے حفظ کر لو سماہر “
اس کے لبوں نے یہ الفاظ بےاختیاری میں ادا کیے تھے ۔ اس کے سامنے بیٹھ کے، اپنے ہاتھ کی پشت سے اس کے گال سہلاتے وہ بےحد گھمبیر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا ایسا ممکن ہے کہ اپنی نئی یادیں بنا لیں ہم ، بےحد محبت اور چاہ سے “
سماہر کے لب ہلکا سا مسکرا رہے تھے۔
” تو بتاؤ جب میں کومہ میں تھی تو کیا کیا باتیں کرتے تھے تم مجھ سے ؟؟”
میران ہلکا سا مسکرایا تھا اور اٹھتے ہوئے اس نے سماہر کے بالوں کو چھیڑا تھا ۔
” ٹاپ سیکریٹ “
شرارتی انداز میں آنکھیں ونک کرتا وہ اپنے بال بنانے لگا جبکہ سماہر خفگی سے اسے دیکھنے لگی ۔
” تو جب تمہیں بھول جایا کروں تو گلے شکوے بھی نہ کرو مجھ سے ۔ کیونکہ تم میرے لئے اجنبی ہوتے ہو تب “
میران گھبرا کے خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا جو اب بھی خفگی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ بےاختیار وہ جھکا تھا اور سماہر کے لبوں پہ اپنے لب رکھ کے اس نے آنکھیں موند لی تھی،گہرا سانس لیتا وہ جیسے ان الفاظ کے تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
” پیشنٹ پہ پریشر ڈالنے کی کوشش بھی کی تو وہ پھر سے کومہ میں جا سکتی ہے مسٹر میران “
اسے ڈاکٹر کے کہے الفاظ یاد آئے تھے تبھی اس کے لبوں کو چھوڑتا وہ اپنی پیشانی اس کی پیشانی پہ ٹکا گیا تھا اور اپنے ہاتھ کی انگلیاں نرمی سے اس کے بالوں میں چلانے لگا ۔ آنکھیں اب بھی بند تھی۔
” میں تمہیں یاد دلاتا رہوں گا اپنا آپ، ہر لمحہ، ہماری محبت “
بند پلکوں پہ میران کی بوجھل سانسیں محسوس کرتی وہ مسکرائی تھی۔
” تھکو گیں تو نہیں؟”
” کھبی نہیں۔ “
بوجھل سرگوشی نے جیسے سماہر کے دل کی دھڑکنوں میں شور سا مچایا تھا تبھی گہرا سانس لیتی وہ میران کا کالر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں میں دبوچ گئی تھی۔
” اگر کھبی نہ یاد آؤ تم، عمر بھر کے لئے نہ یاد آؤ تم “
میران کا پورا وجود کانپا تھا اس لمحے لیکن وہ خود کو سنبھال چکا تھا جیسے لمحہ بھر میں۔
” تو عمر بھر کے لئے تمہیں خود میں بھینچ کے، ہماری نئی داستان محبت لکھوں گا اور نئی یادیں بنا کے تمہارے ذہن کے ہر پردے پہ ثبت کروں گا کہ جب تم بھولنے لگو تو ہر پردے صرف میری پرچھائیاں ہو، ہماری داستان ہو، اس کمرے کے دیواروں پہ،ہمارے ہر لمحے کی تصویریں سجاؤں گا کہ تم بھولنا بھی چاہو تو یہ تصویریں تمہیں بھولنے نہ دیں ہمارے ان لمحوں کو “
اس کی آواز میں لرزش سی آئی تھی، سماہر آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ بوجھل آنکھوں میں محبت اور عشق لیے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر وہ پلکیں جھکا گئی تھی کہ ان گھمبیر آنکھوں میں لو دیتے جذبوں کی تپش جیسے اسے جھلسا رہی تھی اور میران نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، اسے خود میں جذب کیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” بہت شوق ہے تمہیں مرنے کا ؟؟”
بروقت اندر کمرے میں آ کے اس نے مائزہ کو کوئی بھی بیوقوفی کرنے روک دیا تھا اور اب صبح سے وہ بار بار اپنے سخت الفاظ کے نشتر سے زخمی کر رہا تھا۔
” ہاں جب تمہارے حواس اس گھر کے سیکنڈ فلور پہ ہونگے تو یہی خیال ہی آئے گا مجھے “
مائزہ بھی سب تمیز بالائے طاق رکھ کے، ترکی بہ ترکی جواب دیا تھا، ازمائر نے ایک ابرو اچکا کے اس کی بات کو ملاحظہ فرمایا تھا اور پھر کندھے اچکا گیا ۔
” باہر گھر والوں کے سامنے کچھ بھی الٹا سیدھا بولنے کی کوشش کی تو نتائج کی ذمہ دار تم خود ہوگی “
مائزہ اسے شکایتی نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
” تو تم بھی اس کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کرو گے ۔”
” میری آنکھیں میری مرضی “
اپنی شرٹ ٹھیک کرتا وہ کمرے کے دروازے کی طرح بڑھا تھا ۔
” پچھتاؤ گے ازمائر، جب کھبی میں نہیں ہونگی “
اس کی آواز بےحد کرب پنہاں تھا جبکہ ازمائر سر جھٹک کے کمرے سے باہر نکلا تھا لیکن لمحے بھر کو یہی لگا کہ کاش کمرے سے باہر نکلنے میں وہ تھوڑا اور وقت لیتا تو یوں اس دشمن جان سے سامنا بھی نہ ہوتا جبکہ سماہر میران کا ہاتھ تھامے، بےحد نزاکت سے سیڑھیاں اتر رہی تھی، ایک لمحے کے لئے اس کا پاؤں پھسلا تھا لیکن میران نے اسے بروقت تھام کے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے اور سماہر جھینپ گئی تھی۔ ازمائر کا دل اس کے مسکراہٹ میں ڈوب رہا تھا، اپنی نظروں کا زاویہ بدلنے کی کوشش میں ناکام سا ہوتا، وہ بےجان سا ہو رہا تھا۔
” خوش آمدید میرے بچوں “
دشاب مسکرا کے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے جبکہ عارفین بھی مسکراتی ان کے پاس ہی کھڑی تھی، میران نے لب بھینچے تھے دونوں کو ساتھ دیکھ کے، لیکن سماہر کی طبیعت کے پیش نظر وہ خاموش ہی رہا۔ عارفین دونوں کا ماتھا چوما تھا ۔
” ماشاءاللہ میرے بچے بےحد خوبصورت لگ رہے ہیں ساتھ ساتھ “
” بلکل ۔۔ “
دشاب نے بھی ہاں میں ہاں ملایا تھا جب میران کی نظریں ازمائر پہ گئی تھی جس کی نظروں کا مرکز سماہر تھی، وہ لب بھینچے سماہر کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے، آگے بڑھ گیا کہ اس شخص سے اسے بےحد نفرت تھی لیکن یہی حال ازمائر کا بھی تھا۔ دونوں بھائی ایکدوسرے سے نفرت کی آگ میں جل رہے تھے اور اس نفرت اور انتقام کی جنگ میں نہ جانے وہ کس حد کو پار کرنے والے تھے یہ کوئی نہیں جانتا تھا، سماہر کو ان دونوں کے ساتھ مصروف دیکھ کے، وہ لمبے ڈگ بھرتا ازمائر تک پہنچا تھا اور خشمگین نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔
” اسٹڈی روم میں ملتے ہیں “
سرد لہجے میں کہتا وہ اسٹڈی روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ ازمائر کے چہرے پہ زہرخند مسکراہٹ ابھری تھی، طنزیہ نگاہوں میں نفرت اور انتقام کی آگ لیے وہ بھی اسٹڈی روم میں آیا تھا جہاں اس کے آتے ہی، میران نے آگے بڑھ کے بلکل اچانک اس کے منہ پہ گھونسا مارا تھا ۔
” اوپس ۔ “
اہنے چہرے کو ہاتھ سے چھوتا وہ میران کے دوسرے وار اے خود کا بچاؤ کرتا پیچھے ہوا تھا۔
” وہ بیوی ہے میری “
میران تقریبا دھاڑا تھا ۔
” جو بہت جلد میری ہوگی “
ازمائر کا انداز پرسکون تھا اور میران کے غصے کو ہوا دے گیا تبھی وہ چلاتا اس کا کالر دبوچ چکا تھا ۔
” کیا بکواس کر رہے ہو ذلیل انسان “
سر کو زور سے جھٹکا دے کے، اس کی ناک پر وار کیا تھا اس نے اور ازمائر کے ناک سے خون بہنے لگا تھا ۔
” تمہیں جان سے مار دوں گا بےغیرت “
وہ پھر سے دھاڑتا ازمائر پہ وار کر چکا تھا ۔ ازمائر اپنا بچاؤ کرتا، میران کے ہاتھ جھٹک چکا تھا۔
” اہنے گند آلود ہاتھ مجھ سے دور رکھو۔ نفرت کرتا ہوں تم سے میران ملک “
وہ پیچھے ہوتا دھاڑا تھا جبکہ میران پھولے نتھنوں کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا ۔
“میں بھی نفرت کرتا ہوں تم سے، بےحد نفرت”
” تف ہے تم پہ “
ازمائر پھر سے چلایا تھا۔
” سانپ ہو تم ، ناگ ہو، ایسا ڈستے ہو کہ خبر ہی نہیں ہوتی ، مجھ سے میرا سب چھین لیا، سماہر کو چھین لیا مجھ سے، میری خوشیاں، میری خواہشات سب کا جنازہ نکالا ہے تم نے ، میران ملک، میرے قاتل ہو تم ، ایک قاتل ہو تم ، لیکن میں یہ سب پھر سے چھین لوں گا تم سے۔ “
” شٹ اپ ۔۔ “
میران اس کی طرف غصے سے گرفتار لپکا تھا لیکن ازمائر کے الفاظ نے اس کے قدم روک دیے تھے۔
” تمہاری حقیقت سماہر کو میرا کر دے گی “
اس نےلب بھینچ لیے تھے جبکہ ازمائر ہنسنےلگا۔
“لکی ہو تم، جو سماہر کو میموری لاس ہوا ہے، ورنہ کب کا سب بتا چکا ہوتا اسے اور پھر وہ تمہاری شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتی “
وہ کہہ رہا تھا جبکہ میران لب بھینچے گہرے سانس لے رہا تھا ۔
” ایک بات سے بہت سکون ملتا ہے مجھے، جب وہ تمہیں پہچاننے سے انکار کر دیتی ہے کھبی کھبی اور تم زندہ لاش بن جاتے ہو اس لمحے، تب میرے وجود کے رگ رگ میں سکون سا اترتا محسوس ہوتا ہے مجھے ، جس دن سماہر کی یادداشت مکمل ٹھیک ہو جائے گی، اسی دن تمہارا اس کی زندگی میں آخری دن ہوگا، تمہاری حقیقت جان کے وہ خود میرے پاس آئے گی “
میران جو کب سے ضبط کیے ہوئے تھا بلکل اچانک شیر کی طرح اس پہ جھپٹا تھا۔
” بکواس بند کرو “
وہ حلق کے بل چیخا تھا، ازمائر کو زمین پہ گرائے میران اس پہ گھونسوں اور مکوں کی بارش کر رہا تھا، وہ اس وقت اپنے حواس میں تھا ہی نہیں، اسے بس خاموش کرانا تھا اس شخص کو، جس کے الفاظ نشتر کا کام کر رہے تھے۔
” میران ۔۔ “
اس کا بازو کسی نے کھینچا تھا اور وہ جیسے ہوش میں آیا تھا تبھی وحشت زدہ آنکھوں سے وہ دشاب کو دیکھ رہا تھا جو آنکھوں میں حیرت لیے کھڑے تھے۔
” کیا ہو رہا ہے یہاں “
میران اسے چھوڑ کے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ دشاب نے آگے بڑھ کے ازمائر کو اٹھنے میں مدد دینی چاہی تھی لیکن ازمائر نفرت سے ان کا ہاتھ جھٹک چکا تھا اور خود کھڑا ہو کے اپنی شرٹ جھٹکے لگا۔
” ازمائر ہاسپٹل چلتے ہیں بیٹا “
ازمائر نے بےحد عجیب نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
” اپنے سگے بیٹے کو یہ دکھاوا دکھائیے “
یہ کہہ کے وہ نفرت سے دونوں کو دیکھتا کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ دشاب لب بھینچے، کرب بھری نگاہوں سے دیر تک اسٹڈی روم کے بند دروازے کو دیکھتے رہے، ان کا بیٹا ناراض تھا ان سے، بےحد ناراض، نظریں اب میران پہ تھی جو آنکھوں میں آگ اور طوفان لیے کھڑا تھا، دشاب دکھ سے اپنے اس جواب بیٹے کو دیکھ رہے تھے جو اس وقت کوئی وحشی حیوان لگ رہا تھا۔
” میران بیٹا “
انہوں نے میران کے کندھے پہ ہاتھ رکھنا چاہا جسے میران بےدردی سے جھٹک گیا تھا۔
” بیٹا نہیں ہوں میں “
سرد آواز میں کہتا وہ بھی اسٹڈی روم سے باہر نکلا تھاجبکہ کمرے کے بیچ و بیچ دشاب کھڑے اپنی کوتاہیوں کے بارشیں سوچ رہے تھے کہ کب کہاں کیسے کوتاہیاں سرزد ہوئی ہے ان سے جو وہ تہی داماں رہ گئے ہیں آج۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” مجھے بھوک لگی ہے “
عیشل کچن میں کھڑی تعبیر کی طرف ڈرتے ڈرتے دیکھتی کہہ رہی تھی جب تعبیر نے خشمگین نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
” ملکہ عالیہ، کیا کھانا پسند کریں گی آپ؟”
کچن میں آتے وقاص ملک نے بےحد خفگی سے اپنی بیوی کو دیکھا تھا۔
” تعبیر یہ چھوٹی سی بچی ہے، تھوڑا تو خیال کرو “
” اچھا ؟؟ یہ خیال آپ کو تب کیوں نہ آیا جب اس چھٹانک بھر کی لڑکی کی ماں کے ساتھ گلچھڑیاں منا رہے تھے ۔ “
ہر لحاظ کو بالائے طاق رکھ کے وہ چلائی تھی، عیشل سہم کے وقاص کے پیچھے جا چھپی تھی جبکہ وقاص نے غضبناک نظروں سے تعبیر کو دیکھا تھا۔
” تعبیر ۔۔۔ “
” کیا تعبیر ؟؟ کیا ؟؟ کیا ؟؟ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، مجھ سے جھوٹ بولا گیا اور اب اس بدذات عورت کی بیٹی بھی میں سنبھالوں؟؟ اپنا کیا دھرا سب میران پہ ڈال کے ، کیسے میری آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے”
وہ چلا رہی تھی۔
“بس کرو “
وقاص بھی چلائے تھے۔
” نہیں کروں گی بس “
وہ بھی تعبیر ہی تھی کسی سے نہ ڈرنے والی۔
” یہ بھی تو سماہر اور مائزہ کے جیسے اس گھر کی بیٹی ہے “
وقاص ملک گرجے تھے جب تعبیر نے انہیں روک دیا مزید کچھ کہنے سے ۔
” خبردار جو اس لڑکی کو میری بیٹیوں سے بھی جوڑا، اپنی گندگی کو اس گھر کی بیٹی “
اس کی بات ادھوری رہ گئی جب وقاص ملک نے آگے بڑھ کے اسے تھپڑ مار دیا، تعبیر آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی اور پھر وہ وقاص پہ جھپٹی تھی جبکہ عیشل سہم کے کچن سے باہر نکلی تھی اور دوڑتی ہوئی وہ گھر سے باہر نکلتی چلی گئ، اس کا ننھا سا وجود کانپ رہا تھا، خوف سے کپکپاہٹ سی طاری تھی اس پہ، دھندلائی آنکھوں سے کچھ دکھائی بھی نہیں دے رہا تھا لیکن پھر بھی اسے بھاگنا تھا کہ اسے پھر کھبی تعبیر کی آواز سنائی نہ دے اور نہ اس کا چہرہ وہ دیکھ سکے لیکن گہرے سانس لیتی وہ لان کے گوشے میں چھپ کے، دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھ کے آنکھیں بند کر گئی تھی، ان دونوں کی آوازیں یہاں تک نہیں آ رہی تھی لیکن عیشل کو خوف کے باعث ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر طرف تعبیر کی آوازیں ہیں اور اس کا چہرہ ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
چاتہ فریاد اوکرم
چاتہ اوژارم
زرہ کہ می پراتہ دی
آرمانونہ دیر ۔۔

” واہ، واہ، واہ ۔۔ کیا تعریف کی جائے ، اس شخص کی ، اس آواز کی ۔۔ “
اینکر تعریف پہ تعریف کر رہا تھا ۔
” the one and only …
ہماری ینگ جینیریشن کے فیورٹ سنگر عاھل خان “
اپنے فائلز سمیٹتی وہ لمحہ بھر کے لئے رکی تھی،
” عاھل خان “
دل کی دھڑکنیں مدھم ہو کے تیز ہوئی تھی جبکہ ہاتھوں میں لرزش سی ہوئی تھی۔
” یہ میرا پسندیدہ غزل ہے جو میں کسی کو dedicate کرنا چاہوں گا آپ سب کی اجازت سے “
وہ کہہ رہا تھا، وہی آواز، وہی لہجہ، پریشے ٹی وی اسکرین کی طرف دیکھنے سے بھی ڈر رہا تھا، ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اج وہ بارہ مہینوں بعد اس آواز کو دوبارہ سے رہی تھی۔
” وہی جسے بچپن کی دہلیز سے لے کر جوانی کی دہلیز تک، چاہتا آ رہا ہوں اور ہمیشہ چاہتا رہوں گا “
دھڑکنوں کا شور مزید بڑھا تھا جیسے کچھ سنائی نہ دے رہا ہو، ذہن بھاری ہو رہا تھا، لب کاٹتی وہ نظریں اٹھا کے ٹی وی کی طرف دیکھنے لگی اور سامنے اس شخص کو دیکھ کے وہ آنکھیں ساکت ہو گئی تھی پل بھر کے لئے، وہ غزل سنا رہا تھا، گٹار ہاتھ میں تھامے وہ اس لمحے بےحد مختلف لگ رہا تھا، وہی عاھل خان ، جو فرصت کے لمحوں میں بیٹھ کے، دیر تک پریشے کو کچھ نہ کچھ سناٹا رہتا اور آج۔۔۔۔
وہ بلکل اچانک پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی۔ فائل اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کے گرے تھے اور ٹانگوں کے بل نیچے گری تھی کہ ٹانگیں شل ہو گئی تھی، اب سکت نہ رہی تھی۔ وہ اپنی آواز کا سحر پورے اسٹوڈیو میں بکھیر رہا تھا لیکن وہ سن کہاں رہی تھی، وہ تو بس خاموش نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” پردیس کی گلیوں میں سکون تلاش کرنے کی کوشش میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ میں خود کو ہی بھول جاتا ہوں لیکن “
وہ کہتے کہتے رکا تھا، اس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ تھی لیکن آنکھوں میں سکوت تھا،
” لیکن کیا عاھل خان ؟؟”
اینکر سے رہا نہیں گیا تبھی پوچھنے لگی جبکہ وہ ہلکا سا مسکرا کے سامنے کیمرے میں دیکھنے لگا۔
” معافی مانگنے کے قابل نہ ہونے کے باوجود بھی، اگر یہ خواہش رکھوں کہ مجھے معاف کر دو تو پلیز ایک بار آ کے بتا دینا “
کتنا گھمبیر لہجہ تھا، بھیگی آنکھوں میں حسرت لیے وہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔
” یہ کیا عاھل خان اپ ہمیشہ اپنے ہر کنسرٹ اور پروگرام کے اینڈ میں یہی جملہ دہراتے ہیں۔ ایسا کیوں؟؟”
اینکر پوچھ رہی تھی جبکہ عاھل خان نے اپنی کنپٹی سہلائی تھی۔
” جواب کا منتظر ہوں “
بات ختم کرتا، وہ اہنا گٹار اٹھا کے، اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ کیمرہ اب اینکر پہ فوکس کر رہا تھا اور پریشے جو کچھ دیر ٹوٹ کے بکھری تھی، پورے کمرے میں نظریں دوڑانے لگی۔ بےدردی سے آنسو صاف کیے تھے اس نے، وہ رو کیوں رہی تھی ؟؟ اسے رونا چاہئے کیا ؟؟ وہ شخص اسے چھوڑ چکا ہے اور بےدردی سے چھوڑ چکا ہے تو وہ کیوں رو رہی ہے؟؟
” جواب کا منتظر ہوں “
اس کے الفاظ کانوں میں گونجے تھے اور وہ لب بھینچے اپنی جگہ سے اٹھ کے ریموٹ ڈھونڈنے لگی۔
” جب میں سنگر بنوں گا تو ہر پروگرام میں تمہیں اپنے ساتھ لے کے جاؤں گا اور تمہیں اپنے قریب بٹھا کے، تمہیں نظروں کے حصار میں لیے گیت گاؤں گا “
ماضی کے الفاظ گونجے تھے۔
” جواب کا منتظر ہوں “
اس نے زور سے کتابیں ٹیبل سے نیچے پھینکی تھی جب آبگینے کمرے میں داخل ہوئی تھی اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
” اے خورے (بہن) تم ٹھیک تو ہو؟؟ میری کتابیں تھی وہ سب “
گہرا سانس لیتی پریشے کچھ دیر اپنی بہن کو دیکھتی رہی جو حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اور پھر سر جھٹک کے، آنکھیں موند کے گہرا سانس خارج کرتی وہ آنکھیں کھول کے کتابیں اٹھانے لگی ۔
” سوری دھیان نہیں رہا “
جبکہ آبگینے حیرت سے اپنی بہن کی غیر ہوتی حالت کو دیکھ رہی تھی۔
” تم ٹھیک تو ہو پریشے؟؟”
آبگینے کا لہجہ تشویش بھرا تھا ۔
” میں ؟؟”
کتابیں ٹیبل پہ رکھ کے، وہ اپنی طرف اشارہ کرنے لگی ۔
” نہیں۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں میں بلکل ٹھیک ہوں “
خود ہی سوال کرتی اور خود ہی جواب دیتی وہ آبگینے کو پریشان کر رہی تھی اور بیگ کندھے پہ ڈال کے وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی جب آبگینے نے راستے میں ہی اسے روک لیا ۔
” کیا ہوا ہے پریشے؟؟ کچھ ہوا ہے ؟ کیوں پریشان ہو رہی ہو ؟”
پریشے نے ضبط سے سرخ ہوتی بھیگی آنکھوں سے اپنی بہن کو دیکھا تھا۔
” رو رہی ہو پریشے، کیوں؟”
آبگینے نے نرمی سے اپنی بہن کے گال سہلائے تھے جبکہ آنسوؤں کو تو راستہ مل گیا اسی لمحے بہہ نکلنے کا۔
” عاھل خان ۔ “
بھیگی آواز میں وہ بس اتنا ہی کہہ پائی اور پریشے نے لب بھینچ لیے تھے، اپنی بہن کو خود سے لگا کے وہ دیر تک اس کی پشت سہلاتی رہی کہ اس کی یہ معصوم سی بہن آج بھی عاھل خان کو نہیں بھولی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤