Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

” کچھ تو مسئلہ ہے تمہارے ساتھ مسز وی آئی پی۔ “
ارتسام گلاسز اتار کے سائیڈ پہ رکھتا اسے پرسوچ نظروں سے دیکھتا کہنے لگا جبکہ میرب ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔
” کیا مطلب ؟؟”
” مطلب یہ کہ، جب میں اپنا پرامس نہیں توڑنا چاہ رہا تو تم کیوں مجھے اشارے اشارے سے آنکھ ونک کر کے بلاتی ہو “
ارتسام کے انداز پہ میرب نے لب بھینچ کے اسے گھورا تھا جبکہ وہ پرسکون سا بیٹھا ہوا تھا۔
” میں ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مرد بھی ہوں، مانا کہ تم سے بےحد محبت کرتا ہوں لیکن میں ایک مرد بھی تو ہوں، کیوں میرا امتحان لے رہی ہو میری جان “
میرب ایک ٹانگ رسید کر کے اسے صوفے سے نیچے گرایا تھا ۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے پاگلیٹ”
اسے لگا جیسے بجلی کا کا کرنٹ چھو کے گزرا ہو اسے ۔
” تمہاری ان بیہودہ باتوں کا سمپل سا جواب “
نہایت اطمینان بھرا انداز تھا جبکہ ارتسام جلتا بھنتا اپنی جگہ سے اٹھ کے پھر سے صوفے پہ بیٹھ چکا تھا۔
” اپنے ہزبینڈ کو بیہودہ کہہ رہی ہو ، گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوئی ہو تم “
” دیکھو پاگل پٹھان، بار بار میری عزت نفس کو کچلنے کی کوشش مت کرو تم “
میرب اب بھی اسے گھور رہی تھی۔
” عزت نفس کہاں سے آ گیا اب “
ارتسام حیرت سے اس کا چہرہ تکنے لگا ۔
” کوڈ ورڈز میں کیا باتیں کر رہے ہو تم مجھ سے؟؟ یہ double standard والی “
میرب ہاتھ میں موجود نوٹ بکس زور سے صوفے پہ مارتی بولی تھی ۔
” double standard ??
تم ڈاکٹر بننے سے پہلے ہی عقل سے پیدل ہو گئی ہو، میں بتا رہا ہوں تمہیں علاج کی زیادہ ضرورت ہے “
ارتسام اب بھی لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
“پہلے تو آنکھیں ونک کرتی ہو،پھر عجیب نزاکت سے چلتی ہو، اٹھتی بیٹھتی ہو، یہ سب انداز کیا ہیں تمہارے؟؟ اسے میں کیا سمجھوں؟ کیا نام دوں ان اداؤں کو میں؟”
ارتسام جیسے شروع ہو گیا تھا جبکہ میرب روہانسی انداز میں اسے دیکھتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور اس سے پہلی وہ ناراض ہو کے چلی جاتی، ارتسام نے اسے کھینچ کے خود پہ گرایا تھا، وہ ارتسام کے سینے سے لگ کے اسی کے بانہوں میں قید ہو گئی تھی، دھڑکنوں نے اچانک سے شور مچا دیا تھا جبکہ وہ ارتسام کو گھورنے کا جو ارادہ رکھتی تھی، ان آنکھوں کہ گہرائیوں میں کھو کے، جیسے ارد گرد سے بیگانہ ہو گئی تھی۔
” اتنی گستاخیوں کا تو حق ہے مجھے مسز پٹھان “
بوجھل سرگوشی کرتا وہ شرارتی موڈ میں تھا جبکہ میرب نے نظریں چرائی تھی ۔
” پاگل پٹھان “

” جھومے جو پٹھان
میری جان
محفل ہی لٹ جائے “

ارتسام کے اچانک گنگنانے پہ، میرب نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ انکھ ونک کرتا مزید گوہر افشانی کرنے لگا۔

” پٹھان کے گھر مہمان بن کے آؤ گیں تو پٹھان تو مہمان نوازی کرے گا ہی “
” پاگل تو نہیں ہو گئے مسٹر چشمش “
میرب نے اسے گھوری دی تھی جبکہ وہ ہنسنے لگا ۔
” ایک ڈاکٹر کو رومینٹک ہونے سے تم نہیں روک سکتی چندر مکھی”
” وہاٹ ۔۔۔ چھوڑو مجھے تم “
میرب اٹھنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ ارتسام نے گرفت مزید سخت کر دی تھی اس کے نازک وجود کے گرد۔ میرب نے بھرپور گھوری دی تھی اسے، جسے وہ آنکھ ونک کر کے قبول کر گیا تھا۔
” ارتسام میری جان، کل میرا ٹیسٹ ہے پلیز مجھے تیاری کرنے دو “
گہرا سانس لے کے اس نے اب اپنا لہجہ نرم کیا تھا جبکہ ارتسام نے ایک ابرو اچکا کے اس کی کارروائی کو ملاحظہ کیا تھا ۔
” یہ جان تم کتنا خوبصورت بولتی ہو، ایک بار پھر سے کہو “
میرب غصہ اندر ہی اندر پیتی، اسے آنکھیں پٹپٹا کے دیکھنے لگی ۔
” جان ۔۔”
” اہ۔۔۔ کیا کہنے ، دل کو سکون سا ملا ہے اس ایک لفظ سے”
ارتسام کا انداز بےحد پرسکون تھا۔
” اب ایسا ہے کہ مسز میرب ارتسام خان ، یعنی کہ مسز پٹھان، ایک kiss میرے گال پہ تم کرنا چاہو تو کر سکتی ہو”
” ارتسام تنگ کر رہے ہو تم مجھے بہت “
میرب نے دانت پیسے تھے جبکہ ارتسام نے کندھے اچکائے تھے ۔
“زبردستی تھوڑی ہے، نہ کرنا چاہو تب بھی کوئی مسئلہ نہیں، چلو سوتے ہیں “
” ارتساممممم ۔۔۔ میرا ٹیسٹ ہے “
لفظ لفظ پہ زور دیتی وہ ضبط کے انتہا پہ تھی جبکہ ارتسام نے گال آگے کیے تھے اپنے ۔ تحمل کا مظاہرہ کرتی، میرب نے اس کی بات ماننے میں اپنی عافیت جانی۔
” پرامس می فرسٹ، اس کے بعد تنگ نہیں کرو گے؟؟”
” بلکل بھی نہیں، پکا پرامس، اینڈ یو نو کہ میں پرامس میں کتنا پکا انسان ہوں “
سر اثبات میں ہلاتی وہ آگے کو جھکی تھی تا کہ ارتسام کی فرمائش پوری کر سکے لیکن نظر اچانک اس کے بکھرے بالوں پہ گئی تھی، لب دانتوں تلے دباتی اس نے ارتسام کے چہرے پہ نظر ڈالی تھی، جو آنکھیں موندے مسکرا رہا تھا ، جیسے منتظر ہو میرب کا، ہاتھ آگے بڑھا کے اس نے ارتسام کے بال زور سے کھینچے تھے، وہ درد سے جیسے ہی چیخا، اس کی گرفت میرب کے گرد کمزور پڑ گئی تھی اور میرب فورا اس کے سینے پر سے اٹھ کے، دور جا کھڑی ہوئی تھی۔
” میرب، ڈیم اٹ، یہ کیا بدتمیزی ہے “
وہ چلایا تھا ۔
” تھینک یو “
میرب سکون سے مسکراتی جواب دے کے، اپنے بال کیچر میں بند کرنے لگی۔ ۔
” بہت بدتمیز ہو تم “
” تھینک یو ۔ “
دوبارہ سے یہی جواب آیا تھا اور ارتسام لب بھینچے اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔
” تمہاری تو ۔”
دانت کچکچاتا وہ میرب کے پیچھے بھاگا تھا جبکہ میرب اس سے آگے دوڑی تھی، یوں پورے کمرے میں ان کا شور تھا، میرب اپنا بچاؤ کرتی ہنس رہی تھی جبکہ ارتسام اسے پکڑنے کی کوشش میں بندر کی طرح چھلانگ رہا تھا یہاں سے وہاں۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ ان دونوں کے بیچ کھڑی گہری سوچ میں غرق تھی، جبکہ اس کے ایک طرف ازمائر پینٹ کے دونوں پیکٹس میں ہاتھ ڈالے کھڑا مسکرا رہا تھا جبکہ میران کے چہرے پہ پریشانی کی جھلک تھی۔
” سماہر ۔ “
ازمائر کی اواز پہ وہ چونک کے اسے دیکھنے لگی۔
” کیا سوچ رہی ہو ؟؟ سامنے کھڑا یہ شخص تمہارا ہزبینڈ نہیں ہے، یہ ایک ظالم، انا پرست، دھوکے باز اور سفاک انسان ہے، اس کے قریب بھی گئی تو تمہیں چیر پھاڑ کے رکھ دے گا ۔ “
” ازمائر ۔۔۔۔ “
میران نے دانت کچکچائے تھے جبکہ ازمائر مسکرایا تھا۔
” سماہر مجھے سن رہی ہو ناں، میرے پاس آؤ اور اس سفاک حیوان کے قریب بھی مت جاؤ “
منظر بدلا تھا، گولیاں چلی تھی اور میران سماہر کو خود میں سمیٹ کے صوفے کے پیچھے جا گرا تھا، لیکن میران کا پاؤں پھسلا تھا اور سماہر کے ار شدت کے ساتھ زمین بوس ہوا تھا، اس کی آنکھیں اسی لمحے بند ہوئی تھی ۔
” سماہر ۔۔۔ سماہر ۔۔۔ سماہر “
وہ بار بار پکار رہا تھا لیکن سماہر کی آنکھیں بند ہو چکی تھی۔
” سماہر ۔۔۔”
وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا تھا، وہ اپنے بیڈ پہ تھا، دائیں طرف اس نے نظر کی جہاں سماہر پرسکون سی سو رہی تھی، گہرا سانس لیتا ، وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کے، گھڑی کو دیکھنے لگا جو رات کے بارہ بج رہے تھے، اج وہ جلدی سے گیا تھا سماہر کے ساتھ ہی، لیکن یہ خواب اسے بےچین کر چکا تھا، گھٹن کا احساس سینے میں بڑھتا جا رہا تھا، بےچینی حد سے سوا ہو رہی تھی اور تبھی بیڈ سے اتر کے وہ کمرے سے باہر نکلا تھا۔
عارفین گہری نیند میں تھی جب اسے اپنے پاؤں پہ کسی کے لمس کا احساس ہوا تھا، پٹ سے آنکھ کھلی تھی اور اپنے پاؤں کے قریب، بیڈ سے نیچے بیٹھے میران کو انہوں نے حیرت سے دیکھا تھا۔
” میران “
حیرت لیے وہ اٹھ بیٹھی تھی جبکہ میران ان کے پاؤں پہ ہاتھ رکھے سر جھکائے ہوئے تھا۔
” کیا بات ہے بیٹا؟؟ سماہر کہاں ہے ؟؟”
اب کے لہجے میں پریشانی تھی ۔
” سماہر سو رہی ہے “
اس نے آہستگی سے جواب دیا ۔
” تم کیوں نہیں سوئے میران ؟”
انہوں نے اپنے بیٹے کے پژمردہ چہرے کو دیکھتے پوچھا تھا۔
” سو رہا تھا ۔۔۔ “
بات ادھوری چھوڑ کے وہ خاموش ہوا تھا جبکہ عارفین اپنے بیٹے کے قریب ہوئی تھی۔
” کیا بات ہے بیٹا؟؟ کچھ ہوا ہے ؟؟ سماہر تو ٹھیک ہے ؟؟”
لب کاٹتا وہ خاموش تھا جیسے کچھ سوچ رہا ہو ۔ عارفین کچھ دیر اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھتی رہی۔ ایسا کیا ہوا تھا کہ میران یوں آدھی رات کو اٹھ کے ان کے کمرے میں آیا تھا۔
” میران مجھے ڈرا رہے ہو تم اب ، سماہر تو ٹھیک ہے ؟؟”
اخر عارفین نے دہل کے سوال کیا تھا، میران انہیں دیکھنے لگا ۔
” کیا یہ میری سزا ہے ماں؟؟ سماہر جس فیز سے گزر رہی ہے، کیا یہ دب میری سزا ہے ؟ لیکن سماہر کیوں؟؟ وہ تو بےحد معصوم ہے، وہ ہی کیوں ؟؟ میں مجرم ہوں، میں برا ہوں، میں گنہگار ہوں، مجھے سزا ملنی چاہئے، سماہر ہی کیوں؟؟”
وہ پل بھر کو رکا تھا، نم آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھی۔
” میں سماہر کو ایسے نہیں دیکھ سکتا ماں، وہ ۔۔۔ جب ماں جب سماہر مجھے اجنبی آنکھوں سے دیکھتی ہے، جب مجھے نہیں پہچان پاتی، جب مجھے کہتی ہے کون ہو تم ؟؟ ماں تب لگتا ہے کہ میرا وجود آگ کے شعلوں میں دہک رہا ہو، نہیں سہہ پا رہا میں اس کی یہ اجنبیت”
” بس اتنی ہی ہمت “
ان سب باتوں کے جواب عارفین نے مسکرا کے اپنے بیٹے کو دیکھا اور سوال کیا، میران خاموشی سے انہیں دیکھنے لگا ۔
” ارے عشق، محبت کی راہ میں تو بہت سی مشکلیں انسان برداشت کرتا ہے، سماہر تمہیں نہیں پہچان پا رہی ، تو کیا ہوا بیٹا، اس کے ساتھ مل کے نئی یادیں بناؤ، اسے اس کا ماضی یاد دلانے کی کوشش مت کرو، اس کا آج خوبصورت بناؤ، محبت سے گوندھ کے لمحوں کو اس کے کل کی بہترین یادیں بناؤ میری جان، اس سے بار بار یہ مت کہو کہ تم کیا تھے اس کے، بلکہ اس رشتے کو اس قدر خوبصورت بناؤ کہ وہ خود تمہیں نام دے سکے، اپنے اور تمہارے رشتے کو وہ خود نام دے سکے”
عارفین کس قدر نرم۔الفاظ میں اپنے بیٹے کو سمجھا رہی تھی، میران خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا،
” سماہر کے ٹھیک ہونے میں صدیاں لگ جائے شاید، لیکن یادداشت واپس آنے پہ بھی وہ تمہاری ہوگی، تمہاری سماہر اور اب بھی اسے اپنا بناؤ، کہ نہ ابھی اور نہ کھبی بھی اس کے بچھڑ جانے کا خوف تمہیں کھوکھلا کر سکے ۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا میران میری بات کو ؟؟”
میران نے آہستگی سے سر اثبات میں ہلایا تھا جبکہ آنکھوں میں سوچ کی گہری پرچھائیاں تھی۔
” میران کیا سوچ رہے ہو بیٹا؟”
عارفین کے پوچھنے پہ اس نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
” آپ سو جائیے ماں، تھوڑا پریشان تھا، ایم سوری سمجھ نہیں آیا کیا کروں، آپ کے پاس آ گیا ، آپ کی نیند بھی خراب ہو گئی “
میران کے چہرے پہ ہلکی سی شرمندگی ابھری تھی اور تبھی اٹھنے لگا جبکہ عارفین نفی میں سر ہلانے لگی
” ارے نہیں بچے، مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا میرے پاس آ کے بیٹھا ہے، اپنے دل کی باتیں کی ہے مجھ سے، “
عارفین نے نرمی سے ہاتھ میران کے چہرے پہ پھیری تھی جبکہ میران بھی ہلکا سا مسکرا کے سیدھا ہوا تھا ۔
” آپ سو جائیے ماں، کل بات ہوتی ہے “
یہ کہہ کے وہ کمرے سے باہر نکلا تھا لیکن اپنے کمرے تک جاتے، دل من من بھاری ہو رہا تھا، دماغ عجیب سوچوں کی آماجگاہ بن گیا تھا۔
‘ سماہر کی یادداشت واپس آتے ہی میں اسے تمہاری حقیقت بتاؤں گا اور پھر وہ تمہیں چھوڑ دے گی ‘
ازمائر کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تھے اور اس نے اسی تیزی سے اپنا سر جھٹکا تھا۔ ۔
” میں سماہر کی یادداشت واپس آنے نہیں دوں گا “
شاید اپنے مفاد کے لئے وہ لالچی ہو رہا تھا۔ سماہر کی یادداشت نہ آنا، مطلب سماہر اس سے کھبی الگ نہیں ہوگی ۔ انہی سوچوں میں غلطاں اس نے کمرے کا دروا،ہ کھولا تھا لیکن سماہر کو یوں تیار ہوتا دیکھ کے وہ حیران سا کمرے کا دروازہ بند کر کے اس کے قریب آیا تھا ۔
” سماہر کیا کر رہی ہو تم ؟”
سماہر جو اپنے بال برش کرنے میں مصروف تھی، چونک کے اسے دیکھنے لگی، اب اسے اس چہرے کی عادت ہو گئی تھی، اگر کھبی اس پہ دورہ بھی آتا تو وہ میران کو دیکھ کے خوفزدہ نہیں ہوتی تھی۔
” کیا نام تھا تمہارا ؟؟”
وہ سوالیہ نظروں سے میران کو دیکھتی پوچھنے لگی۔ اس نے گہرا سانس لیا تھا۔
” میران “
” ہاں میران۔۔۔ “
سناہر سمجھنے والے انداز میں سر ہلانے لگی ۔
” تم میرے کیا لگتے ہو ؟؟ میں بھول گئی ہوں وہ لفظ؟؟”
” شوہر “
میران نرمی سے جواب دیتا، اس کا سجا روپ دیکھ رہا تھا۔
” ہاں میرے شوہر “
وہ برش ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھ کے اب اسے دیکھنے لگی ۔
” مجھے یونیورسٹی جانا یے ، آج میرا پیپر ہے “
” اس وقت ؟؟”
میران حیرت سے گھڑی کو دیکھتا پھر سے سماہر کو دیکھنے لگا ۔ گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی۔
” ہاں میرا پیپر رہ جائے گا، جلدی ہٹو میرے سامنے سے، مجھے جانا ہے “
بیگ سنبھالتی، وہ ہاتھ سے میران کو پرے کرتی آگے بڑھی تھی جبکہ میران نے بروقت اس کا بازو تھام کے اسے جانے سے روکا تھا ۔ سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” ابھی تو رات ہے سماہر، باہر اندھیرا بھی ہے، یوں کرتے ہیں ابھی سو جاؤ ،ہم کل چلے گیں “
” نہیں مجھے ابھی جانا ہے، چھوڑو مجھے “
وہ اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتی آگے بڑھی تھی ابھی وہ دروازے تک پہنچی ہی تھی جب میران کی آواز نے اس کے قدم روک لیے ۔
” ابھی ابھی میں ایک سایہ دیکھ کے آیا ہوں، جو بےحد خطرناک لگا مجھے۔ دروازہ مت کھولنا پلیز، وہ شاید اندر آجائے گا یا ہو سکتا ہے تمہیں باہر کی طرف کھینچ کے اپنے ساتھ لے جائے “
سماہر نے جھرجھری لیتے رک کے اسے دیکھا تھا جو بےحد سنجیدہ نظر آ رہا تھا۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں، تم ماں سے بھی پوچھ سکتی ہو، ایک بار اس سائے نے ماں کا راستہ بھی روک لیا تھا،”
” پھر کیا ہوا ؟؟”
وہ جو رکا تھا کہ سماہر کا ردعمل دیکھ سکے، جب سماہر نے اچانک سے سوال پوچھا تھا۔
” ماں کو اپنے ساتھ لے جانے لگا، اوپر کی طرف کہ عین ٹائم پہ میں پہنچا اور وہ ماں کو چھوڑ کے تیزی سے بھاگ نکلا “
سماہر حیرت سے میران کو سن رہی تھی جب اچانک لائٹ چلی گئی اور سماہر کی چیخ بلند ہوئی تھی، اندھیرے مئی وہ تیزی سے میران کی طرف آئی تھی جب میران نے اسے تھام کے خود سے لگایا تھا اور وہ میران کے سینے میں اپنا چہرہ چھپانے لگی ۔ میران اس نازک وجود کو خود میں بھینچے کھڑا تھا جیسے اس کے نازک وجود کے لمس سے پرسکون سا ہو رہا ہو جبکہ سماہر کے دل کی دھڑکنیں بھی وہ سن پا رہا تھا جو بےحد تیز تھی لیکن میران بےبسی سے اس کے وجود کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتار رہا تھا۔
” تم نے کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے ، کیسے ؟؟ میں کیوں نہیں جانتی تمہیں؟؟”
اس کے اچانک یوں سوال پہ میران چونکا تھا، وہ پرسکون سی میران کے وجود سے لگی، اس کے سینے پہ اپنا سر رکھے سوال کر رہی تھی۔
” محبت بتا کے نہیں ہوتی سماہر ، ہو جاتی ہے، بنا دستک دیے، بنا کوئی جواب ، کوئی دلیل سنے، یہ محبت بس ہو جاتی ہے، کوئی دل میں بس جاتا ہے، ہم بےاختیار ہوتے ہیں اس میں، جیسے میں بےاختیار تھا اور ہوں “
وہ گھمبیر لہجے میں کہہ رہا تھا۔ کمرے میں روشنی پھیلی تھی اور سماہر نے سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا۔
” میں بھی محبت کرنا چاہتی ہوں تم سے “
دھیمے سروں میں اس کے لب ہلے تھے جبکہ میران ہلکا سا مسکرایا تھا اسے عارفین کے کہے الفاظ یاد آئے تھے کہ سماہر کا ماضی کریدنے سے بہتر ہے، اس کا آج خوبصورت بناؤ، اس کا آج اپنی محبت کی آنچ سے سلگا دو کہ وہ خود تمہیں سے محبت کرنے لگے۔
” کیوں ؟؟”
بےاختیار سوال پوچھ بیٹھا ۔
” کیونکہ مجھے سارا دن تمہارا ہی چہرہ دیکھنے کو ملتا ہے تو بس تم سے محبت ہو جانی چاہئے مجھے “
وہ اس قدر معصومیت سے بولی تھی کہ میران پل بھر کے لئے مبہوت سا اسے دیکھتا رہ گیا ۔
” اگر میرا چہرہ نظر نہ آئے تمہیں سارا دن، تو؟؟ تو کیا نہیں کرو گی محبت؟؟”
” کہا تو ہے چاہتی ہوں کہ محبت ہو مجھے تم سے، “
وہ اپنی بات کہہ کے، ہاتھ میران کے سینے سے ہٹا کے بیڈ کی طرف جانے کے لئے مڑی تھی جب اچانک میران نے اس کی کلائی تھام کے، اس کا رخ اپنی طرف موڑ کے، اسے اپنے قریب کیا تھا کہ دل اس ماہ رو سے محبت کا متلاشی ہو رہا تھا، دھڑکنیں بےتحاشا دھڑکنے لگی تھی سماہر کو اپنے قریب کر کے، جبکہ سماہر حیران آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ میران کا ہاتھ اس کی پشت پہ اپنے لمس چھوڑتا، کندھے کہ طرف گامزن تھا۔
” کب ہوگی مجھ سے محبت؟؟”
سرگوشی سی تھی۔
” ن ۔۔۔ نہیں پتہ “
میران کی آنکھوں میں دیکھتی وہ جواب دے رہی تھی۔
” میں چاہتا ہوں کہ تمہیں جلدی محبت ہو مجھ سے “
وہ پھر سرگوشی کر رہا تھا۔
” کیوں؟؟”
سماہر اپنی آنکھیں ان گھمبیر آنکھوں سے چرا نہیں پا رہی تھی۔
” جب ہوجائے تمہیں مجھ سے محبت، تو بتانا ضرور”
اس بار سرگوشی میں سانسوں کی تپش تھی جو سماہر کی نازک گردن کو جھلسا گئی تھی، تبھی جھینپ کے اس نے پلکیں جھکائی تھی اور لب دانتوں تلے دبا گئی تھی، میران نے بےحد شوق سے اس کی اس ادا کو دیکھا تھا۔
” جانتی ہو ناں سماہر، لب دانتوں تلے دباتی تم کس قدر خوبصورت لگتی ہو “
” م۔۔۔ میں سونے جا رہی ہوں “
تیزی سے کہہ کے وہ پلٹی تھی لیکن میران کھینچ کے اس کی پشت اپنے سینے سے لگا چکا تھا اور اینی سانسیں اس کے کندھے کو دان کرتا، وہ اپنے لب اس کے کان کی لو پہ رکھ چکا تھا۔ سماہر کو اس لمحے لگا تھا جیسے اس کی سانس اٹکنے لگی ہے تبھی اس کا نازک وجود کانپ رہا تھا۔ اس کے کندھے پہ گستاخی کرتا میران اس کے ہوش اڑا گیا تھا اور تبھی اس شوخ سے لمس پہ، سماہر نے بےساختہ اپنے وجود کے گرد لپٹے اس کے بازو پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔
” میران ۔۔۔ “
اس کے لبوں سے یہ لفظ ادا ہوئے تھے اور ساتھ ہی بلکل اچانک اسے محسوس ہوا کہ وہ سانس نہیں لے پائے رہی ہے، میران نے بےساختہ اس کے بےجان ہوتے وجود کو بانہوں میں بھرا تھا۔
” س۔۔۔ سماہر “
جبکہ سانس بحال کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی، وہ میران کی بانہوں میں جھولتی جا رہی تھی اور تبھی میران کو اپنی بےاختیاری پہ افسوس ہونے لگا، خود کو کوستا وہ لب بھینچ گیا۔ اسے صوفے پہ لٹا کے وہ تیزی سے سماہر کے دوائیوں کے پاس گیا تھا اور ان ہیلر ڈھونڈنے لگا، تیزی سے ان پیلر لیے وہ سماہر کے پاس آیا تھا اور اس کے منہ میں ان ہیلر رکھ کے وہ سماہر کی آنکھوں کو دیکھنے لگا، جن میں بےتحاشا تھکن تھی، اس کے چہرے پہ شرمندگی سی پھیلی تھی اپنے کچھ دیر پہلے کے عمل کو سوچ کے ہی، سماہر کی حالت بہتر ہونے لگی تھی، وہ سانس لے پا رہی تھی اب، تبھی آنکھیں موندے وہ گہرا سانس لیتی، شاید سونے لگی تھی۔
” سماہر “
میران نے گھبرا کے اسے آواز دی تھی جبکہ وہ کچھ بڑبڑا رہی تھی۔
” سماہر are you okay ??
پلیز آنکھیں کھولو پلیز “
وی مزید گھبرا گیا تھا جبکہ سماہر کی آنکھیں بند ہو رہی تھی اور لب ہل رہے تھے ۔
” مجھے سونا ہے “
اتنا ہی کہہ کے وہ پھر سے غنودگی میں جا چکی تھی جبکہ میران کی نیند جیسے اڑ گئی تھی ، اسے بانہوں میں بھر کے وہ بیڈ پہ آ چکا تھا، اس پہ کمفرٹر ٹھیک کر کے، وہ دیر تک وہیں نیم دراز سماہر کو دیکھتا رہا، وقفے وقفے سے اس کی سانسیں چیک کر رہا تھا کہ وہ سانس لے پا رہی ہے اب کہ نہیں۔ نرمی سے شہادت کی انگلی اس کے چہرے پھیرتا وہ بار بار کچھ دیر پہلے کیے ہوئے اپنے عمل کو یاد کر کے خود سے شرمندہ ہو رہا تھا۔
” ایم سوری سماہر ۔۔ “
بوجھل آواز میں کہتا وہ یک ٹک سماہر کو دیکھ رہا تھا ۔
‘ اگر سماہر کو حقیقت پتہ چلی تو ؟’
لب بھینچے وہ بےچین سا اٹھ بیٹھا تھا، نظریں ٹیبل پہ رکھے سماہر کے میڈیسن پہ تھی، کچھ دیر خود سے جنگ لڑتا رہا، ہاں اور ناں کے بیچ میں پھنسا ہوا تھا اور بلکل اچانک اپنے جگہ سے اٹھا تھا، شاید کسی نتیجے پہ پہنچا تھا، میڈیسن کا پیکٹ اٹھا کے اس نے ٹیبلٹ جو اس لے میموری لاس کے لئے ڈاکٹر نے دیے تھے، سب اس نے ٹیبل کے نچلے دراز میں چھپا دیے اور باقی وٹامنز اور کیلشیم کے ٹیبلٹ اس نے وہیں ٹیبل پہ رکھ دیے اور مڑ کے سماہر کے سوئے وجود کو دیکھنے لگا ۔
” میں نہیں چاہتا تمہیں کچھ یاد آئے، تمہاری میموری کھبی بھی واپس نہیں آنی چاہئے، “
وہ اس وقت صرف اپنے لئے سوچ رہا تھا شاید۔
میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا سماہر”
الفاظ ٹوٹ کے ادا ہوئے تھے اس کی زبان سے اور ساتھ ہی آنسو کا ایک قطرہ بھی اس کی گال پہ پھسلا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤