Rate this Novel
Episode 09
سماہر کے ٹھیک ہونے کی جہاں پہ خوشی تھی سب کو، وہیں سب میران کے غائب ہونے پہ حیران بھی تھے کہ دو دن گزر جانے کے باوجود بھی، میران گھر نہیں آیا تھا، اس کا موبائل بھی بند تھا اور وہ خود بھی کہیں نہیں تھا۔ سماہر کے چہرے پہ پھیلی سنجیدگی کو دیکھ کے، کوئی اس سے پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کر پا رہا تھا کہ کہیں پھر سے اس کی طبیعت خراب نہ ہو، اس ڈر سے سب احتیاط برت رہے تھے۔ رات کی خاموشی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور نیند جیسے ان آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ اپنے گھر نہیں گئی تھی، وہ یہیں آئی تھی، میران کے گھر، اپنے اور میران کے بیڈ روم میں۔ گہرا سانس لیتی وہ بیڈ پہ اٹھ بیٹھی تھی، دل پہ بھاری بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ خالی بیڈ اس کا منہ چڑا رہا تھا اور وہ جھنجھلا کے بیڈ سے نیچے اتر گئی۔ یونہی چلتی وہ بالکونی کے دروازے تک آئی تھی، باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی، اور اسے بارش سے عشق تھا، کیونکہ ایسی ہی بارش میں میران نے اس سے اعتراف محبت کیا تھا، سر جھٹک کے وہ کمرے سے باہر نکلی تھی، یہاں گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا اور اسے کھلی ہوا میں سانس لینا تھا۔
کتنی عجیب بات تھی کہ میران اس کے پاس آیا ہی نہیں، نہ اس کا پوچھا اور نہ کسی خوشی کا اظہار کیا، یہ خیال آتے ہی اس کا غصے بڑھ گیا اور لب بھینچے وہ بارش میں ٹہلنے لگی۔ اس کا دل سچ میں توڑ گیا تھا میران اپنے اس عمل سے، تبھی دل ہی دل میں وہ طے کر چکی تھی کہ میران سے اس نے کھبی کوئی بات نہیں کرنی۔
” سماہر ۔۔۔ “
آواز پہ وہ مڑی تھی جہاں ازمائر کھڑا اسے ہی محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا جبکہ سماہر نے نظریں پھیری تھی۔
” آپ یہاں کیا کر رہے ؟؟”
ازمائر کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔
” جب سے تم آئی ہو تم سے ٹھیک سے مل بھی نہیں پایا میں، ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پایا میں “
بوجھل آواز میں آہستگی سے کہتا ،وہ سماہر کے غصے کو ہوا دے گیا تھا، تبھی وہ ماتھے پہ بل ڈال کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ گڑبڑا کے سنبھلا تھا۔
” میرا مطلب ہے کہ تمہارے ٹھیک ہونے کے بعد، بات نہیں ہوئی، مجھے خوشی ہے کہ تم ٹھیک ہو چکی ہو اب ۔ “
” ہمممم “
سماہر نے بس اسی پہ اکتفا کیا ۔
” بارش میں چلنا تمہیں اب بھی پسند ہے سماہر “
وہ پھر سے بولا تھا جبکہ سماہر نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
” مائزہ نہیں نظر آئی مجھے، جب سے میں آئی ہوں، نہ ہی کسی نے کچھ بتایا مجھے “
سماہر کے پوچھنے پہ، ازمائر نے نظریں چرائی تھی۔
” میران نہیں آیا؟؟”
اس نے اچانک سے سوال کیا تھا تاکہ سماہر کا ذہن مائزہ سے ہٹ جائے لیکن وہ خاموش رہی اور درخت کے پتوں کو ہاتھ سے چھونے لگی جن پہ بارش کی ننھی بوندیں ٹھنڈک کا احساس دلا رہی تھی۔
” شاید اس لیے نہیں آیا کہ پھر سے وہیں گیا ہوگا، اسی عورت کے پاس، جس کے پاس ہمیشہ سے جاتا رہا ہے “
ازمائر نے بنا تمہید کے، تیز نشانے پہ چلانے کی کوشش کی تھی جبکہ سماہر رک کے اسے دیکھنے لگی لیکن خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا ۔
” تمہیں نہیں معلوم سماہر ؟؟ معلوم بھی کیسے ہوگا تم اتنے ٹائم سے بیمار جو رہی ہو “
وہ پھر سے کہنے لگا ۔
” کہنا کیا چاہتے ہیں آپ ازمائر ؟؟”
دھڑکتے دل کے ساتھ اسے سوال کرنا ہی پڑا جبکہ ازمائر دل ہی دل میں مسکرانے لگا۔
” تم سے پہلے میران، ایک عورت کے ساتھ فیزیکل ریلیشن میں رہا ہے اور وہ تم سے یہ بات چھپاتا رہا ہے، وہ عورت میران کے ساتھ ایک گھر میں رہتی رہی ہے کافی عرصے تک ۔”
وہ رک کے، سماہر کا ردعمل دیکھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ خاموشی سے نظریں پھیر کے، درخت کے پتوں کو ہاتھ سے چھونے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور نہ اس نے کچھ سنا ہو۔
” میں سمجھ سکتا ہوں سماہر کہ تمہارے دل پہ کیا بیت رہی ہوگی لیکن مجھے برا لگ رہا ہے جب سے میرے علم میں یہ بات آئی ہے اور میں چاہتا تھا کہ تمہیں بھی بتا دوں اور تبھی ۔۔۔ لیکن تم پریشان مت ہو سماہر، میں اس معاملے میں اور ہر معاملے، ہر قدم پہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ “
سماہر اسے دیکھنے لگی لیکن وہ بےحد خاموش کیوں تھی، یہ بات ازمائر کو کھٹک رہی تھی ۔
” you can trust me Samahir “
وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ سماہر اثبات میں سر ہلاتی آگے بڑھ گئی تھی، اس کے قدم گھر کے اندر کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ دل پہ بوجھ سا آ پڑا تھا اور قدم من من بھاری ہو رہے تھے۔ تو بچھڑنا ایسے ہی لکھی تھی قسمت میں شاید، یا پھر یہی جدائی نصیب بن چکی تھی اس کی اب ۔ وہ کمرے میں آ چکی تھی، جس کمرے میں اسے گھٹن محسوس ہو رہی تھی اب وہی کمرہ اس کے لئے جیسے پناہ گاہ بن گیا تھا۔
” کاش میں باہر نہ جاتی “
زیر لب دہراتی وہ بیڈ پہ ڈھے سی گئی اور سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں خود کو خالی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
وہ ملا کیوں تھا
اگر اس سے بچھڑنا تھا
تمنا کیوں تھی جینے کی
اگر وہ ہی میرا نہ تھا
کوئی ایسا درد دیں
نکل جائے جاں ۔۔۔ !!!
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
برستی بارش کو بےبسی سے دیکھتا، وہ لب کاٹ رہا تھا، نہ جانے کب سے وہ لان میں کھڑا، بارش میں بھیگ رہی تھی لیکن دل کی آگ بڑھتی جا رہی تھی، وجود جیسے الاؤ میں دہک رہا تھا۔ سماہر کا وہ انداز اس کے کئی ٹکڑے کر رہا تھا لیکن وہ کیسے سامنا کرے اس کا، اب تک تو ازمائر سب بتا چکا ہوگا، وہ جان چکی ہوگی میری حقیقت، وہ اب کہاں سنے گی میران کو، کیسے جائے وہ سماہر کے پاس؟؟ کیسے سامنا کرے اس کا؟؟ کیسے ؟؟
اسے سو دفعہ پکارا ہے دل نے
مگر ۔۔
میرے دل کی بات وہ سن نہ سکا
جو
آنکھوں میں تھی میرے آنسوؤں کی طرح
بکھری
وہ خواہشیں چن نہ سکا ۔۔۔
اکیلے چلتے چلتے ۔۔
ہو سائے جیسے ڈھلتے
رہے کیوں ئے فاصلے
سدا درمیان ۔۔۔۔
” آپ جاتے کیوں نہیں سائیں؟؟”
منان کی آواز پہ، اس نے بند آنکھیں کھول کے اسے دیکھا تھا، سرخ ہوتی آنکھوں میں بےحد اذیت تھی۔
” کیسے جاؤں منان کاکا ؟؟ کیسے ؟؟”
” سائیں جب آپ بےقصور ہے،جب آپ کا کوئی قصور ہی نہیں ہے تو حقیقت بتانے میں کیا حرج ہے ؟”
منان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ زخمی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹک گیا۔
” وہ مجھے چھوڑ کے جا چکی ہے منان کاکا، وہ نہیں سنے گئے مجھے، وہ بدگمان ہو گئی ہے مجھ سے “
منان خاموش ہی رہا اور اداس نظروں سے میران کو دیکھنے لگا ۔
” آج کے کانفرنس میں نہیں جا رہے آپ سائیں؟؟”
” ہمممم جانا ہے ، میں چینج کر کے آتا ہوں، اپ گاڑی تیار کریں “
یہ کہہ کے وہ آگے بڑھ گیا جبکہ منان اداس نظروں سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” کیا کر رہی تھی تم وہاں؟؟”
دشاب نے اسے بازو سے جکڑ کے دھکا دیا تھا اور دانت پیستے اسے قہر آلود نظروں سے دیکھنے لگا جبکہ وہ ہنس رہی تھی۔
” ڈر رہے ہو ؟؟”
” بکواس بند کرو تم، کیا کر رہی تھی تم وہاں؟؟ اگر میں نہ دیکھتا تو تم گھر کے اندر بھی آ چکی تھی “
دشاب نے پھر سے دانت پیسے تھے ۔
” دیکھنے آئی تھی کہ ایسا کیا ہے میران کی بیوی میں کہ وہ مجھ سے منہ موڑ ہوا ہے “
ماریہ کی آنکھوں میں عجیب ویرانیاں در آئی تھی جبکہ دشاب نے اس کی گردن اپنے ہاتھ سے دبوچی تھی ۔
” بکواس بند کرو، اپنی اور میران کی عمر کا خیال کر لو، اور تھوڑی شرم بھی کر لو “
ماریہ نے انہیں دھکا دے کے خود سے دور کیا تھا ۔
” مجھے اپنے بستر پہ لے جاتے، شرم کی تھی کیا آپ نے ؟؟ تب تو مجھے شرم پہ لیکچر نہیں دیا تھا “
وہ تلخی سے گویا ہوئی ۔
” تم اور تمہارا بیٹا مجھ سے کئی بار کھیل چکے ہو، اب میری باری ہے، میں کھیلوں گی، مجھے سماہر کو دیکھنا ہے اور پوچھنا ہے اس سے،کہ کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں ہے “
دشاب نے اسے تھپڑ مار کے، اس کے بال کھینچے تھے۔
” میران اور سماہر سے دور رہو، ماضی میں جو بھی ہوا اس میں قصور میران کا کھبی نہیں رہا، سب قصور تمہارا اپنا ہے، اس سے دور رہو “
ماریہ ہنسنے لگی، آنکھوں عجب وحشت تھی ۔ دشاب نے اس کے بال چھوڑ دیے تھے اور رخ موڑ کے جانے لگے ۔
” پاگل عورت ۔۔ “
” ہاں میں پاگل ہوں، میں میران کے لئے پاگل ہوں، میں میران کی دیوانی ہوں، مجھے میران دے دو، میں کچھ نہیں کروں گی “
وہ چلا چلا کے کہہ رہی تھی جبکہ لب بھینچے دشاب اس کے گھر سے، لمبے ڈگ بھرتے باہر نکل رہے تھے کہ اس پاگل عورت سے کچھ بعید نہ تھا کہ مزید کیا گوہر افشانی کرے لیکن ان کا دماغ بھاری ہو چکا تھا، وہ پاگل عورت ان کے گھر تک پہنچ گئی تھی، کچھ بعید نہ تھا کہ وہ گھر کے اندر بھی داخل ہو جائے، انہیں گھر کی سیکیورٹی بڑھانی تھی اب ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” جب وہ شادی ہی نہیں کرنا چاہتی تو کیوں آپ سب اس کے پیچھے پڑ گئے ہو؟ مجھے اس بات کی سمجھ بلکل بھی نہیں آتی “
میرب ارتسام سے کہتی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔
” میرب یار بحث نہیں کرو “
وہ جھنجھلایا تھا، ایک تو تھکا ہارا ہاسپٹل سے آیا تھا اور آتے ہی امامہ کی بات پہ اس کا موڈ خراب ہوا تھا کہ کچھ بھی ہو پریشے کو شادی کے لئے رضامند کیا جائے اور اب میرب ۔
” میں بحث کر رہی ہوں؟؟ اور تمہارا موڈ میری وجہ سے خراب ہو رہا ہے؟؟ بہت اچھی بات ہے یہ تو “
غصے سے اسے کہتی، وہ منہ بنا کے پلٹی تھی لیکن ارتسام نے اسے کمر سے تھام کے اپنے قریب کیا تھا۔
” میرب میری جان ، ایم سوری “
میرب کہاں اس سے ناراض رہ سکتی تھی، تبھی اس کے کندھے پہ سر ٹکا کے گہرا سانس لیتی مسکرائی تھی۔
” تم بھی تو میرب کی جان ہو “
ارتسام مسکرا دیا تھا ۔
” یار میں بہت تھکا ہوا ہوں اور آتے ہی مجھے مما نے یہ بات بتا کے میرا موڈ خراب کر دیا اور تم بھی، نہ کافی کا پوچھا نہ چائے کا،کچھ بھی نہیں اور شروع ہو گئی ۔۔۔ یار ایسے کون کرتا ہے “
ارتسام کی بات پہ وہ شرمندہ سی رخ موڑ کے اسے دیکھنے لگی۔
” ایم سوری، یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ، میں پریشے کے لئے پریشان ہو گئی تھی۔۔ افف میں ابھی کافی بنا کے لاتی ہوں “
وہ کہہ کے جانے لگی جب ارتسام نے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روکا، وہ رک کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔ ۔
” تھینک یو سویٹ ہارٹ، بٹ پلیز نیچے کسی سے اس بارے میں بات مت کرنا”
” سب سو رہے ہیں ارتسام، وہ تو بس مما جاگ رہی تھی تم سے یہ بات کرنے کے لیے۔۔ میں آتی ہوں، تم بیٹھو یہیں “
وہ کندھے اچکا کے کہتی دروازے کی طرف بڑھی تھی جبکہ ارتسام تھکا تھکا سا،اپنی کنپٹی سہلاتا بیڈ پہ ڈھے گیا تھا کہ تھکاوٹ بےحد تھی اور اسے آرام کی ضرورت تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
موبائل کی بپ پہ اس نے چونک کے،موبائل کی طرف دیکھا تھا جو بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پہ اس نے رکھا تھا، دل یکبارگی دھڑکا تھا کیونکہ یہ ٹون اس نے اس لئے سیٹ کر رکھا تھا کہ جب بھی میران کا کوئی انٹرویو ہو، تو اسے نوٹیفکیشن ملے۔ دھڑکتے دل کو سنبھالتی، وہ موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی۔ گہرا سانس لے کے، اس نے آنکھیں بند کی تھی جیسے خود کو آمادہ کر رہی ہو اور پھر آنکھیں کھول کے، وہ لنک پہ کلک کر چکی تھی، اور دل کی دھڑکن پل بھر کو معدوم ہو کے ابھری تھی، سانس کو ہموار کرنے میں وقت زیادہ لگا تھا اسے، آنکھوں کی دھند کو پلکیں جھپکا جھپکا کے، صاف کیا تھا کہ میران کو دیکھنے میں اسے مشکل پیش آ رہی تھی۔ عجیب ہی تھا نہ اسے دیکھے بنا قرار تھا اور نہ اس سے ناراضگی ختم کرنے کا عہد کر چکی تھی وہ خود سے۔
بڑھی ہوئی شیو اور اداس آنکھوں کے ساتھ، کس قدر وہ ڈیشنگ لگ رہا تھا، سماہر اسے دیکھے گئی۔
” تم سے پہلے وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ، فزیکل ریلیشن میں رہا ہے “
ان الفاظ کے ساتھ اس کا دل ڈوب گیا تھا ، ہاتھ میں موجود موبائل کانپا تھا، دنیا تاریک ہوئی تھی اس کی، لیکن پھر بھی ، پھر بھی میران ارتضی ملک سے وہ عشق کرتی ہے،
” تم سے پوچھ کے، عشق نہیں کیا میں نے میران ارتضی ملک، لیکن ۔۔۔۔ لیکن “
الفاظ ادھورے چھوڑ دیے اس نے اور خاموشی سے لب کاٹتی، وہ میران کو دیکھے گئی جو ہر سوال کا جواب دے رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
