Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17


Meeran ki Samaher

” یہ آپ کے لئے ہیں سماہر بیٹا “
بوا ایک بڑا سا پیکٹ اور ساتھ میں پھولوں کا خوبصورت بولے لیے، اس کے روم میں آئی تھی، وہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی، اپنے بال برش کرتی، بےدھیانی میں میران کے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی، جب بوا نے کمرے میں آ کے بیڈ پہ وہ پیکٹ رکھا، سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔ ۔
” کیا ہے یہ بوا ؟؟ “
” منان دے گیا ہے بیٹیا، کہا کہ سماہر بی بی کو دینا ہے “
سماہر اثبات میں سر ہلاتی اب حیران آنکھوں سے بیڈ پہ رکھے اس پیکٹ کو دیکھ رہی تھی جبکہ بوا کمرے سے باہر جا چکی تھی، برش ٹیبل پہ رکھ کے، اپنی جگہ سے اٹھ کے، وہ چھوٹے قدم اٹھاتی بیڈ تک آئی تھی اور نرمی سے ان پھولوں پہ ہاتھ پھیرا تھا، ساتھ ہی ایک چھوٹا سا کارڈ نظر آیا اسے، جسے کھولنے پہ لکھا ملا
” To My Love “
اس کے لبوں پہ دھیمی مسکان بکھری تھی، ان پھولوں کا بولے ہاتھوں میں لے کے، ان کی مسحور کن خوشبو سانسوں میں اتاری تھی، بوکے کو سائیڈ پہ رکھ کے، وہ پیکٹ کھول کے دیکھنے لگی، جس میں بےحد خوبصورت ڈریس اس کا منتظر تھا، اس کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت ابھری تھی، وہاں بھی ایک کارڈ رکھا ہوا ملا تھا اسے،
” انتظار کر رہا ہوں تمہارا ، جلدی آنا “
لب دانتوں تلے دبا کے، وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” سرپرائز کرنا بھی سیکھ لیا اس نے “
زیر لب بڑبڑاتی، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں خود کو دیکھتی، اب تیار ہونے کا سوچ رہی تھی کہ اس کا سرتاج، اس کا محبوب، اس کا منتظر تھا۔ وہ جلد سے جلد اس تک پہنچ جانا چاہتی تھی۔
Islamabad Marriot
کی پرکشش عمارت کے سامنے ان کی گاڑی رکی تھی، منان کاکا بھی فرنٹ سیٹ پہ موجود تھے ڈرائیور کے ساتھ، گاڑی کے رکتے ہی، ڈرائیور اور منان دونوں گاڑی سے اترے تھے، ان کے اترتے ہی دو گارڈز بھی ان کی گاڑی کے قریب آئے تھے اور ڈرائیور نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تھا اور خود نہایت احترام کے ساتھ سائیڈ پہ کھڑا ہو چکا تھا، گاڑی سے اترتی سماہر نے پرشوق نظروں سے، سامنے کا منظر دیکھا تھا جو بےحد خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ اس کی آنکھیں میران کو دیکھنے کے لئے بیتاب ہو رہی تھی، وہ جلد سے جلد اس شخص کے پاس جانا چاہتی تھی۔ وہ جوں جوں آگے بڑھ رہی تھی، گارڈز اس کے دونوں اطراف میں کھڑے، اس سے دور قدم پیچھے ہو کے جا رہے تھے، اور جیسے ہی اس نے عمارت کے اندر قدم رکھا تھا، روشنیوں میں ڈوبے اس لاؤنج میں موجود لوگوں میں گڈمڈ شروع ہوئی تھی، کیمرے کلک کرنے لگے جبکہ نیوز رپورٹرز بھی اس کی طرف متوجہ ہو کے آئے تھے۔
” اوہ مائی گاڈ مسز میران ملک آئی ہے “
سماہر بوکھلا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کہیں سے میران اسے نظر آ جائے لیکن ان کے ہجوم میں وہ میران کا چہرہ ہی نہیں دیکھ پا رہی تھی، جب اچانک اس کی کمر پہ بےحد نرمی سے ہاتھ رکھا گیا تھا اور وہ چونک کے اپنے دائیں طرف دیکھنے لگی ۔ جہاں میران اس کے برابر میں کھڑا، اسے خود سے لگائے زیر لب مسکرا رہا تھا اور کیمرے کی روشنی میں، ان کی تصویریں بن رہی تھی اور ویڈیو بن رہے تھے، جبکہ نیوز رپورٹرز کوئی نہ کوئی سوال کر رہے تھے، سماہر اسے ہی دیکھ رہی تھی، جب میران بات کر رہا تھا اور جب سوال سماہر سے ہوا تو میران گھمبیر نگاہوں سے سماہر کو دیکھنے لگا جبکہ وہ مسکرا کے جواب دیتی، پھر سے میران کو دیکھنے لگی ۔ وہ دونوں اب قدرے پرسکون گوشے میں تھے۔ میران اسے مہمانوں سے ملاتا، اب قدرے پرسکون گوشے میں لے آیا تھا اسے ۔
” یہ سب کیا ہے میران ؟؟ “
وہ حیرانی سے میران کو اپنی خوبصورت آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
” یہ سوری ہے میرے صبح کے رویے کے لئے “
میران نے محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
” لیکن میں نے تو کوئی شکایت نہیں کی تم سے “
” تمہاری دھڑکنیں بار بار یہی کہہ رہی تھی مجھ سے “
میران زیر لب مسکراتا بولا جبکہ سماہر ہلکا سا مسکرائی تھی کہ یہ شخص بھی عجیب ہی ہے جس کے موڈ کا کچھ پتہ نہیں چلتا اسے۔
” ہیلو رومینٹک کپل “
اواز پہ دونوں نے چونک کے دیکھا تھا، ماریہ مسکراتی ان کے قریب آئی تھی جبکہ میران کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے اسے یہاں دیکھ کے۔
” ہیلو سماہر “
میران کو نظرانداز کیے، اس نے سماہر کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔
” آپ کون ؟؟”
سماہر سوالیہ نظروں سے ماریہ کو دیکھنے لگی جبکہ ماریہ نے نزاکت سے، ایک ہاتھ سے اپنے بال کندھے پہ سیٹ کیے تھے اور تھوڑا سا خم ہو کے، وہ سماہر کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” میران کی دیوانی ۔ “
سماہر نے چونک کے میران کی طرف دیکھا تھا جو لب بھینچے پریشان نظروں سے سماہر کو ہی دیکھ رہا تھا۔
” میران کی محبوبہ، میران کو تم سے بہت جلد چھیننے والی، ماریہ “
” انف “
میران آہستہ آواز میں غرایا تھا جبکہ ماریہ مسکراتی آنکھوں سے میران کو دیکھنے لگی۔
” کہا تھا ناں کہ میرے پاس آؤ، نہیں آئے ناں، تو اب مجھے خود تمہاری بیوی کے سامنے آنا پڑا ہے ، کیا ہوا تمہیں؟؟ غصہ آ رہا ہے؟؟ تو چلاؤ، چلاؤ ناں ، اوہ تم نہیں چلا سکتے کیونکہ یہاں میڈیا ہے جو تمہاری ریپوٹیشن خاک میں ملا دے گی “
میران صبر کے گھونٹ پیتا، سماہر کا ہاتھ تھام چکا تھا اور ساتھ ہی اپنے بندوں کو اشارہ کرتا، وہ سماہر کو لیے وہاں سے جا رہا تھا، اس کے دو گارڈز اس کے ساتھ تھے جو میران اور سماہر کے ساتھ ساتھ، ہوٹل کے خفیہ راستے سے جا رہے تھے، سماہر اس پورے راستے خاموش ہی رہی تھی، یہاں تک کہ وہ دونوں گاڑی میں بھی بیٹھ گئے لیکن سماہر خاموش ہی رہی، میران نے بھی اسے بلانے یا اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور نہ سماہر کچھ کہہ رہی تھی، وہ بس خاموشی سے ونڈ اسکرین سے باہر ، روشنیوں میں ڈوبے اسلام آباد کو دیکھ رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہ بلکل خاموش ہو چکی تھی، وہاں سے آنے کے بعد جیسے اسے چپ ہی لگ گئی تھی، نہ اس نے میران کی طرف دیکھا اور نہ ہی میران سے کوئی بات کی، میران جو سرپرائز اس کے لئے تیار کر رکھا تھا اور جو پلانز اس نے بنائے تھے آج رات کے حوالے سے، اپنے اور سماہر کے لئے، وہ سب جیسے ایک لمحے میں خاک میں مل چکا تھا۔ گہرا سانس لیتا وہ ایک نظر سماہر پہ ڈال چکا تھا لیکن وہ رخ موڑے بیڈ پہ آ کے لیٹ چکی تھی، اس کا چہرہ بےتاثر تھا، میران کوئی نتیجہ اخذ نہ کر سکا کہ وہ ناراض ہے یا غصہ ہے ۔۔ اس کے موبائل پہ کال آئی تھی جو منان کی تھی۔
” ہیلو ۔۔ “
بھاری بوجھل آواز کمرے کے خاموش فضا میں گونجی تھی، وہ جو پچھلے ایک گھنٹے سے کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی تو اب عجیب سا محسوس ہوا تھا اس بھاری اواز کے گونجتے ۔
” میران سائیں، بارش ہو رہی ہے اور اپ کے بنائے ہوئے ۔۔۔ “
” کوئی مشکل نہیں منان کاکا، اب ان سب کی ضرورت نہیں رہی “
اس نے کہہ کے کال بند کر دیا ، نظر پھر سے سماہر کی طرف اٹھی تھی، جو بیڈ پہ رخ موڑے لیٹی ہوئی تھی۔ میران تھکا تھکا سا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا، بھاری ہوتے قدموں گھسیٹتا وہ بیڈ کی طرف آیا تھا، گنہگار نہ ہوتے ہوئے بھی وہ گنہگار تھا، قصور نہ ہوتے ہوئے بھی وہ قصوروار تھا، سامنے بیڈ پہ موجود وہ انسان تو اس کی کل زندگی تھی، اس کی سانسیں تھی، اس کی دھڑکنیں تھی، اس کا مکمل وجود تھی وہ، اور وہ ہی منہ موڑے ہوئے ہے، وہ ہی خاموش ہے، کچھ نہیں کہہ رہی ۔ وہ آہستگی سے سماہر کی پشت پہ آ لیٹا تھا، بےبس آنکھیں اداسی لیے اس کی پشت پہ بکھرے بالوں کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھ بڑھا کے وہ سماہر کو چھونا چاہتا تھا لیکن اس میں ہمت نہ تھی، اگر وہ دھتکار دیتی، اگر وہ نفرت کا اظہار کرتی، تو ؟؟ تو کیا ہوگا ؟؟ سوچ کے ہی، اس کا مضبوط وجود کانپ اٹھا۔ وہ لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
” میں ماریہ کے پاس گیا تھا ۔۔۔۔ کیونکہ دشاب ملک نے مجھے اسے ایک ڈیل کے بدلے بیچا تھا “
اس کی اواز قریب سے گونجی تھی، رخ موڑے سماہر نے اپنے لب کاٹے تھے جبکہ اس کی پشت پہ لیٹا میران اداس آنکھوں سے اس کی پشت دیکھ رہا تھا ۔
” لیکن میں اس کے ساتھ کھبی فزیکل نہیں ہوا سماہر۔ تم وہ پہلی عورت ہے میری زندگی میں سماہر، جو میرے وجود میں اتر کے، میرے وجود کا حصہ بنی ہو”
سماہر نے تکیے پہ اپنی انگلیاں مضبوطی سے پیوست کی تھی لیکن خاموش ہی رہی، کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا اس نے،
” اس رات دشاب ملک کے کہنے پہ، میں اس بلڈنگ میں گیا تھا، تب میں سترہ سال کا تھا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں وہاں کیوں بھیج دیا گیا ہوں، جب میں وہاں پہنچا تو وہ ایک فلیٹ تھا، میرے پاس کچھ فائلز تھی، جن پہ مجھے سائن کروانے تھے کیونکہ دشاب ملک نے مجھے یہ کہا تھا کہ بزنس ڈیل کی فائل ہے، سائن کروانے ہیں اور بس، جب میں وہاں پہنچا تھا تو وہاں ایک عورت تھی، وہ ماریہ تھی، “
وہ رکا تھا شاید گہرا سانس لینے،
” میں اسے نہیں جانتا تھا، مجھے بس سائن ہی کروانے تھے، وہ بےحد نرمی سے ملی تھی مجھ سے، وہ مجھ سے بڑی تھی تو میں بھی عزت سے ملا تھا، پیپرز پہ سائن کے بعد، وہ کوئی کولڈ ڈرنک تھی، جو میں نے پیا تھا لیکن ۔۔۔۔۔ “
وہ رکا تھا، سماہر کو لگا کہ جیسے اس کے سینے میں سانس اٹکنے لگی ہو جیسے بےحد بے چین سا ہوا ہو۔ لیکن سماہر خاموش رہی، وہ صرف اسے سن رہی تھی بنا کسی حرکت کے۔
” میں ساکت ہو چکا تھا، میں خود کو حرکت نہیں دے سکتا، میں بس سانس لے رہا تھا لیکن میری پوری باڈی جیسے پیرالائز ہو چکی تھی، میں صرف دیکھ سکتا تھا لیکن میں نہ اٹھ پا رہا تھا، نہ خود سے موو کر پا رہا تھا،
جبکہ ماریہ مسکرا رہی تھی۔”
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ سب کسی فلم کی طرح چلنے لگا۔
ماضی:

” میران ۔۔۔ میران ۔۔۔ بس اس رات اور اس لمحے کی منتظر تھی میں “
ماریہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے اسے دیکھ رہی تھی۔
” جانتے ہو تمہیں نشہ کیوں نہیں کروایا ؟؟ کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ میں تمہارے قریب، تمہارے نشے کی حالت میں آؤں کہ تمہیں کچھ یاد نہیں رہے، میں چاہتی ہوں کہ ہمارا گزرا لمحہ لمحہ تمہیں یاد رہے، بےحد خوبصورت یاد بن کے”
وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور اپنا گاؤن اتار کے، قدموں پہ پھینکا تھا جبکہ میران لب بھینچے اسے سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
” دشاب چاہتا تھا کہ میں ان پیپرز پہ سائن کروں تو میں نے کر دیے ہیں اور بدلے میں تمہیں مانگا تھا میں نے اس سے، بہت بڑا سیاستدان ہے ، اپنے ہی بیٹے کو ڈیل کے بدلے قربانی کا بکرا بنا دیا “
یہ کہہ کے وہ ہنسنے لگی جبکہ میران جس نے بچپن کی تمام کدورتیں اپنے باپ کے خلاف مٹا دی تھی، وہ سب کدورتیں پھر سے دل میں ابھرنے لگی، وہ جو بچپن کی ناراضگیاں اس نے ختم کی تھی، اس لمحے وہ سب نفرت کا روپ دھارنے لگے، وہ جو انہیں بابا کہتے نہ تھکتا، اس لمحے اس شخص کے لئے ہر احساس سرد پڑنے لگا تھا۔ ماریہ اس پہ جھکنے لگی تھی۔
” تم بےحد ہینڈسم ہو میران، جب سے تمہیں دیکھا ہے، ایک لمحے کے لئے بھی، میں تمہاری سوچ سے خود کو نکال نہیں پائی، تمہارا خیال مجھے مزید تمہارے لئے تڑپاتا ہے اور اب تم یہاں ہو میرے پاس، میرے بےحد قریب، میں حاصل کر لوں گی تمہیں آج، “
اس کی شرٹ کے بٹن کھولتی، وہ مسکرا رہی تھی جبکہ میران اس لمحے یہی چاہ رہا تھا کہ کسی بھی طرح ہو وہ خود کو حرکت دے سکے، اس کی تمام کوششیں دم توڑ رہی تھی، ماریہ کی بےباکیاں بڑھنے لگی تھی جب اچانک دروازہ کھلا تھا اور وقاص ملک تیزی سے لاؤنج میں داخل ہو کے آئے تھے، میران نے شکر کا سانس لیا تھا جبکہ ماریہ خود کو ڈھانپتی غصے سے مڑی تھی۔
” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں وقاص ملک “
اس کی آواز میں غصہ اور نفرت دونوں تھے۔ وقاص ملک اسے نظر انداز کر کے، صوفے پہ پڑے میران کی طرف بڑھے تھے لیکن ماریہ ان کے سامنے آئی تھی۔
” جائیے یہاں سے وقاص ملک “
” شٹ اپ یو بچ “
وقاص ملک نے آگے ہاتھ سے پرے کیا تھا اور خود میران کے قریب آئے تھے اور اس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگے۔
” میں نہیں کرنے دوں گی آپ کو کچھ بھی، میران کو نہیں لے جا سکتے یہاں سے آپ “
وہ زور چیخی تھی اور اس سے پہلے وقاص کے قریب آتی، وقاص کے الرٹ گارڈز اندر آئے تھے اور ماریہ کو اپنی گرفت میں لیا تھا ۔
” چھوڑو مجھے “
وہ چلائی تھی ان دونوں گارڈز کو دیکھ کے،
” نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ میران کو نہیں لے جا سکتے یہاں سے، چھوڑو مجھے “
وہ چیخ رہی تھی جب ایک گارڈ آگے آیا تھا اور اس کے منہ پہ ٹیپ لگا کے، اس کی آواز کا گلا گھونٹا تھا اور پھر وقاص ملک کے ساتھ میران کو اٹھانے میں مدد کی تھی۔
” اس عورت کو یہاں سے دور بھجوانے کا بندوبست کرو، ملک بدر کر دو کوئی بھی الزام لگا کے، کہ اس ملک کے اس عورت کا آنا مکمل بند ہو جائے ۔۔۔ یہ عورت کل تک مجھے یہاں نظر نہ آئے۔۔ از ڈیٹ کلیئر “
سرد لہجے میں اپنی بات کہہ کے وہ میران کو لیے باہر نکلے تھے جبکہ ماریہ کچھ نہ کر سکی ۔۔۔
جب وقاص ملک کو دشاب کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ وہ میران کو ایک ڈیل کے بدلے میں، تب انہیں نفرت ہوئی تھی اپنے بھائی کی اس حرکت سے، وہ اس گھر کا بیٹا تھا، کیسے کر سکتا ہے ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ، سیاست کی کرسی نے اس قدر ان کی آنکھوں پہ پٹی باندھ دی تھی کہ اپنے بیٹے کو بکاؤ کر دیا اور تب وہ یہاں آئے تھے میران کو بچانے اور یہی وجہ تھی کہ میران اس دن کے بعد سے، دشاب ملک کی بجائے وقاص ملک کے ساتھ رہنے لگے تھے، ان کو باپ کا درجہ ہی دے دیا تھا، اور وقاص ملک نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا، زندگی کے ہر موڑ پہ، انہوں نے میران کا ساتھ دیا، اس کو فوقیت دی اور تب سے دشاب ملک، میران کی بےحد نفرت کے حقدار بنے تھے کیونکہ وہ ایک بیٹے کے آگے، باپ کی حیثیت سے اپنا یقین اور اعتبار کھو چکے تھے۔

حال:

سب بتا کے وہ خاموش ہوا تھا۔ سماہر جو کب سے اسے سن رہی تھی، اس کا چہرہ خاموش آنسوؤں سے بھر چکا تھا، اس کا دل ڈوب رہا تھا، اس کا وجود بےجان ہو رہا تھا، دشاب ملک جیسے بھی سہی، لیکن وہ اتنا بھی بڑا نہیں سمجھتی تھی انہیں، اسے بس یہی لگتا کہ عارفین چچی کے حق میں، وہ ناانصافی کر چکے ہیں تبھی میران ان سے کھنچا سا رہتا ہے لیکن وہ تو، میران کی شخصیت سے گیم کھیل چکے تھے، میران کو بیچ آئے تھے، قیمت لگائی تھی میران کی، کھلونا بنا گئے تھے اپنے ہی بیٹے کو، اپنی ہی سگی اولاد کو۔ اس کے دل میں نفرت بھر گئی تھی دشاب ملک کے لئے، جو احترام اس کے دل میں تھا ان کے لئے، وہ سب ختم ہو گیا تھا ، اس کی جگہ نفرت نے لے لی تھی۔
میران کو گھٹن ہونے لگی، تبھی وہ اٹھنے لگا جب سماہر نے اس کی طرف رخ کیا تھا، وہ رو رہی تھی،میران پریشان سا اسے دیکھنے لگا۔ اس کی وجہ سے سماہر رو رہی ہے۔
” ایم سوری ۔۔۔۔۔ “
” ہشششششش “
سماہر نے بےاختیار قریب ہو کے، اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے تھے، آنکھیں موند کے، ان پہ اپنی محبت کی مہر ثبت کی تھی اور پھر میران کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” میں تم سے عشق کرتی تھی میران اور آج اگر عشق سے بھی کوئی بالاتر احساس ہے تو وہ احساس میرے دل میں تمہارے لئے ہیں میران۔ “
میران حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ سماہر نے آگے بڑھ کے اس کی آنکھوں پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” جانتے ہو عشق کیا ہوتا ہے ؟؟ کسی سے عشق کرنا کیسے ہوتا ہے ؟؟ کسی کی روح میں اتر کے عشق کرنا کیسے ہوتا ہے میران ؟؟ میں نے تمہاری روح میں اتر کے تم سے عشق کیا ہے، محبت کی ہے، مجھے کسی کے کچھ بھی کہہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ مجھے ماریہ کے وہ سب کہنے سے کچھ فرق پڑا تھا، میں اپنے میران کو جانتی ہوں اور اپنے میران سے عشق کرتی ہوں، بےحد عشق، بےپناہ عشق ۔ تمہارے اندر کا خوف جانتی تھی میں ہمیشہ سے، لیکن میں اس خوف کو تمہاری زبان سے سننا چاہتی تھی میران، کیونکہ اس خوف کا الفاظ کی زبان دے دینے کے بعد ہی تم جان سکتے تھے کہ تمہاری سماہر تم سے کس قدر محبت کرتی ہے، تم سماہر کے لئے کس قدر اہم ہو، میران “
وہ میران کے چہرے پہ اپنا ہاتھ نرمی سے پھیر رہی تھی جبکہ میران نے آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اپنے سارے دکھ، اپنی ساری محرومیاں، اپنی ساری ان کہی خواہشیں، اپنے سارے احساسات میرے وجود کو سونپ دو، مجھے بانہوں میں لے کے، میرے وجود کے کسی کونے میں دفن کر دو، میں بنوں گی تمہارے ہر دکھ کے لئے سکھ، تمہاری ہر محرومی کے مرہم، تمہاری ہر ان کہی خواہش کی تکمیل، تمہارے ہر احساس کے لئے سراپا محبت۔ “
اور وہ اچانک رو پڑا تھا، بلکل اچانک، وہ سماہر کو بانہوں میں بھر کے رو دیا تھا، وہ مضبوط مرد پھوٹ پھوٹ کے رو دیا تھا، سماہر نے نرمی سے اس کے گرد اپنے بانہوں کا گھیرا بنا دیا تھا جہاں میران ارتضی ملک رو رہا تھا، تڑپ رہا تھا اور سماہر اسے سکون بخش رہی تھی۔سماہر کتنے خوبصورت لفظوں میں اپنے احساسات کو بیان کیا کرتی تھی، میران کو الفاظ سے کھیلنے نہیں آتا تھا، احساسات کو الفاظ کا پیراہن پہنانا نہیں آتا تھا لیکن وہ بس رو رہا تھا، دل کا غبار آنسوؤں کی صورت بہا رہا تھا اور سماہر نے اسے سمیٹ لیا تھا اس ارادے کے ساتھ، کہ کل صبح کا سورج جب طلوع ہوگا تو وہ میران کے سارے غم دفن کر چکی ہوگی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤