Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

کمرے میں قدم رکھتے ہی، اس نے گہرا سانس لیا تھا جیسے برسوں کی تھکن اتاری ہو اس نے۔ بیگ صوفے پہ رکھ کے، وہ تھکے تھکے انداز میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ رکی تھی، خود کو خالی نظروں سے مرر میں دیکھا تھا، خالی آنکھوں میں ویرانیوں کا بسیرا تھا بس، اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی چیزوں پہ گئی تو بےوجہ ہاتھ بڑھا کے، وہ ان چیزوں کو ٹھیک کرنے لگی لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کرنا کیا چاہ رہی ہے، تبھی سب چھوڑ کے وہ اپنے رائٹنگ ٹیبل کو دیکھنے لگی، تیزی سے آگے بڑھ کے، اس نے کتابیں ٹھیک سے سائیڈ پہ رکھی تھی اور پھر باقی چیزیں سمیٹنے لگی لیکن کچھ بھی اپنی جگہ پہ نہیں رکھا جا رہا تھا، اس کے ہاتھ کانپے تھے، اپنے آنسوؤں کا راستہ روکنے کی کوشش کرتی، وہ بلاوجہ ان کتابوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی اور اچانک وہ سب جھٹک کے، وہیں بیٹھ کے رونے لگی ، دل کا غبار تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، اروشے کی باتوں نے آج مکمل توڑ دیا تھا، وہ جب اس شخص کو بھولنے کی کوشش کر رہی ہے تو پھر سے کیوں سب یاد آنے لگ جاتا ہے، پچھلے چار سال سے وہ کچھ نہیں کر پا رہی سوائے خود سے لڑنے کے، سوائے اس شخص کو بھولنے کے، لیکن اس کا عکس تو ایسے ذہن کے پردوں پہ جاگزیں ہوا ہے کہ دھندلاہٹ تک نہیں آتی ۔۔
” کیوں؟؟ کیوں؟؟ اے اللہ کیوں ؟؟ میرے ساتھ ہی کیوں؟؟ کیوں نہیں بھول پاتی میں اسے ؟؟ کیوں آج۔۔۔ آج بہت درد سا پھیلا ہے میرے ہر طرف، مجھ سے ناراض ہے کیا آپ؟؟ میرے مولا کیا آپ مجھ سے ناراض ہے؟؟ میرا کوئی عمل آپ کے غصے کا سبب بنی ہے کیا ؟؟ جو ۔۔۔ جو میرے وجود میں بےسکونی ہے، کیوں؟؟ کیوں سکون نہیں ہے ؟؟ میری مدد فرمائیں پلیز “
وہ رو رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی،
” تھک گئی ہوں بہت، آج تو بہت تھکن ہے، روح تک میں تھکن ہے میرے، بہت تھکن ہے “
تھکی تھکی سی وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی، ادھر ادھر کمرے میں نظریں دوڑانے لگی، وہ جو انسانوں کا علاج کیا کرتی تھی، انہیں ذہنی اذیت سے نجات دلاتی تھی، آج وہ خود اس ذہنی اذیت کا شکار تھی، اور وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیسے خود کو اس اذیت سے باہر نکالے۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

کھڑکی سے ٹیک لگائے بیٹھے مائزہ کو تین گھنٹے ہو گئے تھے لیکن ازمائر ابھی تک گھر نہیں آیا تھا کہ وہ ایک نظر اس دشمن جاں کو دیکھ سکے، وہ ننھی جان جو اس کے وجود میں پنپ رہا تھا، جو ازمائر کی درندگی کا نتیجہ تھا، لیکن وہ اس ننھی جان کو اپنے وجود سے الگ بھی نہیں کر سکتی تھی ۔ سر جھٹک کے وہ اپنی کمر سیدھی کرتی پھر سے باہر دیکھنے لگی۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، اب تو موسم بھی بدل گیا تھا، خزاں کے اداس موسم نے اس کے دل کو بھی اداس کر دیا تھا لیکن خزاں کے اس اداس شام میں، اس کی آنکھیں اس سنگدل شخص کی منتظر تھی، جو کھبی اس کا دوست ہوا کرتا تھا، جو اس کی بہت عزت کرتا تھا، اس کی مدد کرتا اس کی پڑھائی میں اور آج۔۔۔۔ وہ بدلے اور انتقام کی آگ میں جل کے، اس قدر اندھا ہو گیا تھا کہ ۔۔۔۔ وہ مائزہ سے اپنا رشتہ تک بھول گیا تھا۔ گاڑی جھٹکے سے پورچ میں آ رکی تھی اور ازمائر گاڑی کا دروازہ کھولتا نیچے اترا تھا، مائزہ سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی، جو ماتھے پہ بل ڈالے، لب بھینچے لان کی طرف آ رہا تھا، مائزہ گھبرا کے مزید پردے کی اوٹ میں ہو گئی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ ازمائر کو بھنک بھی پڑے کہ وہ یہاں ہے، لیکن اسے کون سا فرق پڑ جانا ۔اس نے تلخی سے سوچا تھا۔ اپنی کنپٹی سہلاتا وہ لان میں ٹہلنے لگا، جب کچھ نہ بن پایا اس سے بھی تو پھر سے رکا تھا، سماہر وہیں آ رہی تھی شاید وہ مائزہ سے ہی ملنے آ رہی تھی، مائزہ انہیں ہی دیکھ رہی تھی جب ازمائر نے بےبسی سے اسے آواز دی تھی ۔
” سماہر ۔۔”
وہ رک گئی تھی اور سپاٹ نظروں سے اس شخص کو دیکھنے لگی جو بےحد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
“کیا ہے اس میں؟ جو مجھ میں نہیں؟؟”
سماہر نے لب بھینچ لیے تھے، کیا بن گیا تھا یہ شخص؟ کس قدر سوبر ہوا کرتا تھا، کس قدر اچھائی سے بات کرتا تھا سب سے اور اب ۔۔۔ کیا یہ صرف انتقام کی جنگ ہے ؟
” ازمائر اپ میرے بہنوئی ہے، یہ کھبی بھی مت بھولیے “
اس کا لہجہ بےحد سپاٹ تھا۔
” بہت تھکن ہے سماہر، پلیز ایسے مت کریں، میں پاگل ہو رہا ہوں “
کتنی بےبسی تھی اس کے انداز میں، سماہر استہزائیہ انداز میں ہنسی تھی ۔
” تو آپ کو کیا لگتا ہے ازمائر ؟؟ کہ آپ کو کھبی بد دعا نہیں لگتی ؟؟ کسی معصوم کی جان اور عزت سے کھیلے گیں آپ اور پھر بھی اپ سکون سے رہے گیں؟؟ کسی پہ تہمت لگائے گیں تو آپ سکون سے رہیں گے ؟؟ ایک معصوم انسان پہ زندگی تنگ کر دے گیں تو آپ سکون سے رہے گیں؟؟ مائزہ کو اپنے انتقام کے لئے، ڈھال بنا کے آپ یہ سوچ رہے تھے کہ آپ کچھ بھی کر لیں گے اور آپ سکون سے رہے گیں؟؟ نفرت، ضد، دشمنی اور انتقام نے آپ کو اس قدر معذور کر دیا ہے ازمائر، کہ آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اندھے ہو چکے ہیں، آپ کو اپنے رشتے نظر نہیں آتے، آپ کو محبت نظر نہیں اتی، کچھ نہیں دیکھ پا رہے آپ، مائزہ کو موت کے منہ میں ڈال کے، آپ کو کھبی سکون نہیں ملے گا، افسوس ہوتا ہے مجھے یہ سوچ کے، کہ یہ وہی ازمائر ارتضی ملک ہے جو مائزہ کا کھبی دوست ہوا کرتا تھا ۔ “
اپنی بات کہہ کے، ایک سرد نظر اس پہ ڈال کے، سماہر آگے بڑھی تھی۔
” نفرت کرتی ہو مجھ سے سماہر ؟؟”
اس کا سوال ان سنی کرتی وہ چلتی گئی، جبکہ ازمائر میں ہمت تک نہ تھی آگے بڑھنے کی، سماہر اسے آئینہ دکھا چکی تھی اور وہ اس آئینے میں خود سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔ مائزہ ؟؟ ہاں اتنے دنوں سے وہ کہیں نہیں ہے، وہ غائب ہے اور اس نے یہ بھی سوچنا ضروری نہیں سمجھا کہ وہ زندہ ہے یا مر چکی ہے، اس کے دیے ہوئے زخم سے۔ وہ سماہر کو جاتا دیکھ رہا تھا لیکن وہ اسے پکار تک نہیں سکتا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا، لان سے پورچ کی طرف گیا تھا، اپنی گاڑی میں بیٹھ کے، وہ گاڑی جھٹکے سے گیٹ سے باہر لے گیا تھا جبکہ مائزہ نم آنکھوں سے اس شخص کو جاتا دیکھ رہی تھی۔ جب اپنے کندھے پہ کسی لمس کا احساس ہوا، نم پلکیں اٹھا کے، وہ سماہر کو دیکھنے لگی جو اس کے قریب بیٹھ کے، اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ چکی تھی۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا “
سماہر نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔
” وہ کیوں نہیں سمجھتا ؟؟ سماہر وہ کیوں نہیں سمجھتا؟؟ “
مائزہ رونے لگی تھی جبکہ سماہر اس سے الگ ہو کے اس کا چہرہ دیکھنے لگی ۔
” تم رو کیوں رہی ہو ؟؟ اس شخص کے لئے، جو بےوقوف بنا پھر رہا ہے؟ وہ بےوقوف ہے مائزہ، جو اسے تم اور تمہاری محبت نظر نہیں آتی لیکن مائزہ تک اب بچی نہیں ہو اور نہ تم کوئی عام عورت ہو، تم ماں بننے جا رہی ہو مائزہ ، ماں، اور ماں کی ذات کتنی اسٹرونگ ہوتی ہے، کیا تم جانتی ہو ؟؟ ایک چھوٹا سا، ننھا سا وجود ہے اب تم میں، جو تمہارا ہے، تمہارے وجود کا حصہ ہے، جسے تمہاری ضرورت ہے، اس ننھی جان کو بڑھنے میں، صحت مند بنانے میں تم ہی سب کرو گی، تمہیں اسٹرونگ ہونا ہے، اس ننھی جان کے لئے، “
مائزہ آنسو روک کے سماہر کو دیکھنے لگی۔
” اگر ازمائر نہیں ہے، تم خود ہو اپنے لئے، اس بےبی کے لئے، ضروری تو نہیں ہوتا کہ زندگی کا ہر لمحہ ہماری مرضی اور خواہش کے مطابق آگے بڑھے لیکن مائزہ ہم خود بھی تو اپنی زندگی کو خوبصورت بنا سکتے، اگر اس میں ہماری مرضی شامل نہ بھی ہو، پھر بھی ہم خود کے لئے اسٹینڈ لے سکتے ہیں، خود کو مضبوط بننے میں، خود کی مدد کرتے ہیں، یہ تمہارا بےحد اسپیشل ٹائم ہے مائزہ، اس ٹائم کو جیو، وہ شخص اگر تمہارے لئے بہترین ہے، تو اللہ خود اسے تمہیں لوٹا دے گا اور اگر نہیں ہے تو اللہ خود تمہیں صبر عطا فرمائے گیں، وہ بہک گیا ہے، رشتوں کا احترام، ان کی پہچان بھول گیا ہے، تم پریگننٹ ہو مائزہ، تم اپنے رب سے اس کی ہدایت مانگو، تم اس کا ہاتھ تھام کے، اسے ہدایت کے راستے پہ تو نہیں لا سکتی، تو پھر رونے سے کیا ہوگا ؟؟ کیا یہ بہترین نہیں ہے کہ تم اللہ تعالٰی سے اس کی ہدایت مانگو، اللہ تعالٰی خود اس کا ہاتھ تھام کے، اسے سیدھے راستے پہ لے ائے، یہ مانگو تم، “
وہ خاموش ہو کے مائزہ کے بال سنوارنے لگی۔
” اس سے چھپ کے مت بیٹھو، تم مضبوط ہو مائزہ، مضبوط بن کے دکھاؤ، تم کسی سے خوفزدہ نہیں ہو، حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کرنا آتا ہے تمہیں، میں جس مائزہ کو جانتی ہوں وہ تو میرا دل بھی کھبی کھبی توڑ دیا کرتی تھی تو وہ مائزہ کہاں ہے اب ؟؟ اس مائزہ کو باہر لاؤ، اسے دفن مت کرو، اس کا گلا مت گھونٹو، اس مائزہ کو جینے دو، “
سماہر نے اس کے بکھرے بال سمیٹ کے جوڑے میں باندھے تھے، اس کے چہرے سے آنسو کے نشان صاف کیے تھے، اس کی شرٹ کا کالر ٹھیک کیا تھا ۔
” خود سے پرامس کرو کہ کل صبح جب تمہاری آنکھ کھلے گی تو تم اسٹرونگ مائزہ بن کے، سب کا سامنا کرو گی ۔ “
اور واقع جب انسان کو یہ تسلی ہو کہ اس کے رشتے، کسی بھی طرح کے حالات میں اس کے ساتھ ہے تو اس کو مضبوط اور نڈر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، کل تک وہ کمزور تھی کیونکہ اس کے رشتے منہ موڑ چکے تھے، نہ ماں تھی اور نہ بہن ، اور آج اس کے دو مضبوط رشتے اس کے ساتھ ہیں، تابعہ اور سماہر ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” آپ بات کر لیں، میں دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے ۔۔ “
کال بند کر کے، وہ موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، اپنی کنپٹی سہلانے لگا، آج وہ بےحد تھکا ہوا لگا تھا سماہر کو، تبھی کمرے کے دروازے تک آ کے بھی ، وہ پھر سے مڑی تھی، اس کا رخ کچن کی طرف تھا۔ ہاتھ میں موجود موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ کافی میکر میں میران کے لئے، کافی بنانے کا سوچنے لگی۔ اپنی دھن میں گم وہ کافی میکر آن کر کے، ریفریجریٹر سے دودھ نکالنے کے لئے مڑی ہی تھی، جب دل پہ ہاتھ رکھ کے اسے رکنا پڑا جبکہ میران زیر لب مسکراتا اسے دیکھ رہا تھا ۔
” میں تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈ رہا تھا ۔ “
لمحہ بھر کے لئے سماہر کی دھڑکنوں نے بیٹ مس کی تھی اور پھر اس نے نظریں چرا کے منہ بنایا تھا ۔
” کیوں؟”
آگے بڑھ کے ریفریجریٹر سے دودھ نکال کے وہ پھر سے مڑ کے، کیبنٹ کی طرف آئی تھی۔
” تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ مجھے اس وقت کافی کی طلب ہو رہی ہے ۔ “
اپنی پشت پہ، میران کی آواز سن کے، لب دانتوں تلے دبا کے ہلکا سا مسکراتی کندھے اچکا گئی ۔
” اچھا ؟؟ تم نے بھی کافی پینی ہے ؟”
اس کے انداز پہ میران زیر لب مسکرانے لگا، وہ دیکھ چکا تھا کہ ٹیبل پہ دو کافی کے مگز رکھے ہوئے ہیں، تبھی اس کے سامنے آ کے وہ وہیں ٹیک لگا کے کھڑا ہوا تھا۔
” اگر اپنی ان خوبصورت ہاتھوں سے پلا دیں، تو ضرور پینا چاہوں گا “
سماہر نے ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” ایسی باتیں بھی کر لیتے ہیں آپ، واؤ “
” آپ سے سیکھی ہے محترمہ “
اس کے چہرے پہ آئی آوارہ لٹ کو ، شہادت کی انگلی میں لپیٹتا وہ کہنے لگا جبکہ سماہر نظریں پھیر گئی تھی۔
” اچھا اب بھی ناراض ہو ؟؟”
وہ نظر بھر کے، سماہر کے چہرے کو دیکھتا پوچھ رہا تھا ۔
” صبح اتنے رومینٹک موڈ میں، تمہیں منا کے گیا تو تھا”
سماہر خاموش ہی رہی ۔
” میں اب بھی اسی موڈ میں ہوں “
اس کے گھمبیر لہجے پہ، سماہر نے چونک کے اسے دیکھا تھا جو زیر لب مسکرا رہا تھا۔
” ک ۔۔۔ کافی میں شوگر کتنی لو گیں؟؟”
وہ پھر سے نظریں چرا کے، اب کافی مگز میں کافی انڈیلنے لگی جبکہ میران کی نظریں، اس کی نازک گردن کا طواف کر رہی تھی، جہاں کیچر سے، اس کے بال نکل کے، آوارگی کر رہے تھے ، تبھی تھوڑا جھکا تھا کہ اس کی سانسیں سماہر کی گردن چھونے لگی۔
” تمہارے لبوں کی مٹھاس کافی ہے، “
اپنی سانسیں اس کی گردن پہ چھوڑتا میران پیچھے ہوا تھا جبکہ سماہر کے لئے سانس لینا تک محال لگا تھا اسے، میران اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتا مڑا تھا اور کچن سے نکلتا چلا گیا جبکہ سماہر لب بھینچے اسے جاتا دیکھنے لگی کہ وہ کل سے، سماہر کو پریشان کر رہا تھا اور وہ پریشان ہو بھی رہی تھی میران کے اس نئے انداز سے ۔ جب اس کے موبائل پہ میسج کی بپ ہوئی تو سر جھٹک کے اپنا موبائل کھول کے دیکھنے لگی، اس نے حیران نظریں اٹھا کے سامنے دیکھا تھا جہاں میران کمرے میں جا چکا تھا اور پھر سے موبائل اسکرین دیکھنے لگی ۔
” میران کا ماضی “
بس اتنا ہی لکھا ہوا تھا اور ساتھ میں ایک تصویر بھی تھی، میران اور ماریہ کی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

لب بھینچے وہ کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا، یہ شہر سے دور، سڑک کنارے جنگل نما ایک جگہ تھی، جہاں بےحد خاموشی سی تھی اور وہ اپنی سوچوں میں گم ایک ہی نقطے کو گھور رہا تھا۔ سماہر کی باتوں نے آج اسے جھنجھلا کے رکھ دیا تھا۔
” نفرت کرتی ہو مجھ سے سماہر ؟؟”
اسے اپنا سوال یاد آیا تھا جب اس نے سماہر سے پوچھی تھی اور سماہر بنا جواب دئیے آگے چلتی گئی ۔
” اے ازمائر چل ناں “
اسے مائزہ کی آواز سنائی دی تھی۔
” یہ کون سی ٹون ہے اب ؟؟”
ازمائر نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ ہنسنے لگی ۔
” سوچا یہ جو میرا ایک عدد بیسٹی ہے ۔۔۔ اسے اس ٹون میں بلا کے دیکھ لوں “
وہ لب بھینچ گیا ۔ کسی فلم کی طرح چل رہی تھی اس کی زندگی، اس کی آنکھوں کے سامنے۔ وہ کیا تھا اور کیا بن گیا تھا، وہ کیا کچھ کر چکا تھا اب تک، صرف ایک انتقام کے لئے، وہ کیا کچھ کر چکا تھا، وہ زنا کی حد تک جا چکا تھا، وہ شراب کو پی چکا تھا جسے شراب سے نفرت تھی، غلط رستے پہ نکلنے کے لئے، بس ایک لمحہ لگتا ہے اور آپ نکل پڑتے ہیں اور چلتے جاتے ہیں لیکن اس راستے سے واپس آنے کے لئے، بار بار لہولہان ہونا پڑتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں کو سامنے کر کے دیکھنے لگا، کتنا برا اور گھٹیا بن چکا تھا وہ، کس قدر گھٹیا۔۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے بالوں میں پھنسا کے، وہ سر اپنے ہاتھوں پہ گرا گیا تھا۔ سماہر سے محبت اس کی ضد بن گئی تھی اور وہ قابل نفرت انسان بن کے، سب کو اپنی نفرت سے بھسم کرتا آیا تھا ابھی تک اور پھر بھی خالی ہاتھ تھا، پھر بھی بےسکونی تھی، وہ بےسکون تھا، بےحد بےسکون تھا، وہ کیا سے کیا بن گیا تھا، اس نے اپنی حالت دیکھی، اس کی شرٹ آلودہ ہو چکی تھی جو دو دن سے وہ پہنے ہوا تھا، اس نے کھبی ایک شرٹ ایک دن سے زیادہ نہیں پہنی تھی، بالوں پہ گرد کی تہہ جم چکی تھی، شیو بڑھی ہوئی، آنکھوں میں رتجگوں کی سرخی، اس کا پورا جسم بدبودار ہو چکا تھا، وہ جو کھبی پرفیومز کا دیوانہ تھا، آج اس کے جسم پہ بدبو کے سوا کچھ نہ تھا، اسے خود سے گھن آئی تھی، وہ جو خود کو ہر ناپاکی سے دور رکھتا، آج وہ اس قدر آلودہ اور ناپاک ہو چکا تھا کہ شاید اپنی پاکی پانے کے لئے، اسے پانی کم پڑ جائے، وہ کس قدر گناہوں میں دھنس چکا تھا، وہ خود کو گناہوں کے دلدل میں غرق کر چکا تھا اور پھر بھی بےسکونی تھی۔ وہ اچانک سے چلایا تھا، آسمان کی طرف چہرہ کر کے، وہ چیخا تھا۔ کہ درد اور گھٹن اسقدر بڑھ چکے تھے کہ کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی تھی۔ وہ پھر سے چیخا تھا اور اس بار اس چیخ میں اس کے اندر کا درد اور غم بھی ساتھ میں چلائے تھے۔ صبح کے پانچ بج رہے تھے جب اس کی گاڑی پورچ میں داخل ہوئی تھی، تھکا تھکا سا سرخ آنکھیں لیے، وہ گاڑی سے نیچے اترا تھا، بھاری ہوتے سر کو سنبھالتا، وہ من من ہوتے ٹانگوں کو کھینچتا لان کی طرف آ رہا تھا کہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کے، اس کا ارادہ اپنے کمرے میں جانے کا تھا جب اس کی نظر سامنے اٹھی تھی، لان کے دوسری طرف مائزہ اپنی سوچوں میں مگن ٹہل رہی تھی، اس کے پاؤں سلیپر کی قید سے آزاد تھے، وہ اس کے نازک پاؤں کو دیکھے گیا جو گھاس پہ بےحد آہستگی سے اٹھ رہے تھے۔
‘ میں جب پریشان ہوتی ہوں تو ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا مجھے سکون دیتا ہے، ‘
” اور تم پریشان کیوں ہوتی ہو؟؟’
ازمائر نے پوچھا تھا۔
‘ کھبی کھبی پریشان ہو جاتی ہوں، سر میں درد ہونے لگتا ہے اور لگتا ہے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا، تب یوں ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا سکون دیتا ہے مجھے ‘
مائزہ نے جواب دیا تھا۔
‘ نفرت، ضد، دشمنی اور انتقام نے آپ کو اس قدر معذور کر دیا ہے ازمائر، کہ آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اندھے ہو چکے ہیں، آپ کو اپنے رشتے نظر نہیں آتے، آپ کو محبت نظر نہیں اتی، کچھ نہیں دیکھ پا رہے آپ، مائزہ کو موت کے منہ میں ڈال کے، آپ کو کھبی سکون نہیں ملے گا، افسوس ہوتا ہے مجھے یہ سوچ کے، کہ یہ وہی ازمائر ارتضی ملک ہے جو مائزہ کا کھبی دوست ہوا کرتا تھا ۔ ‘
اس نے لب بھینچ لیے تھے، اسے سماہر کے کہے الفاظ یاد آئے تھے۔
‘ میری اولاد کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر کے، اس کی عزت نفس کو کچلنے سے پہلے یہ تو سوچ لیا ہوتا کہ وہ تمہاری چچازاد ہے، اس گھر کی عزت، اس خاندان کی بیٹی، جس کے ساتھ اس گھر میں تم اکھٹا بڑے ہوئے ہو، ایٹ لیسٹ ایک بار تو سوچ لیتے کہ وہ تم سب کی چہیتی مائزہ ہی تھی جسے تم سب نے مل کے زندہ لاش بنا دیا، جس کی عزت کو تم نے روند دیا، میرے پاس سے تو وہ ایسے نہیں آئی تھی تمہارے پاس ، ایسے تھوڑی سونپا گیا تھا تمہیں، وہ تو بہت زندہ دل لڑکی تھی، کیا بنا دیا تم نے میری مائزہ کو، اپنی ہی کزن، اپنی ہی دوست کو تم نے کیا بنا دیا ‘
اسے تابعہ کی باتیں یاد آئی تھی اور وہ لب کاٹ کے رہ گیا۔
‘ مائزہ تو دوست تھی تمہاری، یہ دوستی نبھائی ہے ‘
مائزہ کی نظر بھی اس پہ رک گئی تھی، چہرے کا رنگ زرد پڑا تھا، وجود بےجان ہوا تھا آج اسے یوں سامنے دیکھ کے، ازمائر اس کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھ چکا تھا، خود میں ہمت مجتمع کرتی وہ مڑ کے تیزی سے گھر کی طرف گئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤