Rate this Novel
Episode 24
اسے ہوش آ چکا تھا، اسے ابھی زیادہ بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی، تبھی وہ لیٹا ہوا تھا، لب کاٹتے نہ جانے وہ کن سوچوں میں گم تھا جبکہ اس کے بیڈ کے قریب میران کرسی پہ بیٹھا ہوا، اسے غور سے دیکھ رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے آج پہلی بار وہ اس شخص کو دیکھ رہا ہے، وہ شاید آج تک یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ ازمائر کے ناک کے قریب، اس کے اوپری لب پہ ایک تل بھی موجود ہے بلکل ویسے ہی، جیسا میران کے اوپری لب پہ ایک تل موجود تھا، شاید آج پہلی بار وہ ان آنکھوں کا رنگ دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے کے خدوخال دیکھ رہا تھا وہ بےحد غور سے، اس کی آنکھیں نم ہوئی تھی جب لب ہلکا سا مسکرائے تھے، بےساختہ ہاتھ بڑھا کے اس نے ازمائر کے کندھے پہ ہلکے سے ماری تھی۔
” ارے تمہارے upper lip پہ بھی ایک mole ہے، میں جانتا نہیں تھا آج پتہ چلا “
بھرائی آواز میں اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا جبکہ ازمائر بھی اسے دیکھنے لگا۔
” مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ تم مجھ پہ گئے ہو “
میران ادھر ادھر دیکھنے لگا شاید آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پھر سے وہیں دفن کرنا چاہ رہا تھا۔
” کیوں کیا تم نے ؟؟”
ازمائر ہلکا سا ہنس دیا تھا جب میران نے اسے پھر سے دیکھنے لگا۔
” کیا کیا ہے میں نے ؟؟”
” مجھے لگنے والی گولی تم خود کھا کے، کرنا کیا چاہ رہے تھے؟؟ پروف کیا کرنا چاہ رہے تھے ؟؟”
میران کے سوال پہ وہ کچھ دیر میران کو دیکھے گیا۔
” بہت چھوٹے سے تھے تم میران، نیا نیا بولنا سیکھا تھا تم نے، اور تمہیں بار بار پاپا کہنا اچھا لگتا تھا، بار بار بھا کہنا اچھا لگتا، تم مجھے بھا کہہ کے پکارتے تھے میران، لیکن ہمیشہ تمہیں ایسے اگنور کیا جاتا جیسے ۔۔۔۔ جیسے تمہارا کوئی وجود ہی نہ ہو، بڑوں کو دیکھتا دیکھتا میں بھی وہی سب کرنے لگا، تمہیں دھتکارنے لگا اور تمہارے پہ جب وہ درد پھیلتا، تو مجھے خوشی محسوس ہوتی، اور تب تب میں اور ڈیڈ قریب آتے گئے اور تم جیسے کہیں پیچھے کسی تاریک منظر میں گم ہو گئے تھے، اور پھر یہ سب بہت بڑی نفرت میں بدل گیا، ضد، سرد جنگ سی چھڑ گئی، ہمارے بیچ انسانیت نہیں بلکہ حیوانیت آ گئی، بھائی نہیں رہے ہم بلکہ دشمن بن گئے لیکن میران “
اس کی آواز بھرا گئی تھی جبکہ میران دھندلائی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا جو آج سب بتانے پہ تلا ہوا تھا۔
” میران تم نے بھائی ہونے کا فرض نبھایا تھا لیکن میں ہی حیوان بن گیا تھا، جب میران جب تمہیں پتہ چلا کہ میں زخمی ہوں، مجھے گولیاں لگی ہے، تم آئے تھے، سب کام چھوڑ کے تم آئے تھے میرے لئے،لیکن تم نہیں جانتے تھے کہ تمہارا اپنا بھائی وہاں تمہاری تاک میں بیٹھا ہے،تم پہ گولیاں چلانے کے لئے “
” ہشششششش بس “
میران سے سنا نہیں گیا تو سر نفی میں ہلاتا اسے روک گیا تھا،دل میں گھٹن بڑھ گئی تھی شاید، اس کی زندگی کے ماضی کا حصہ حصہ اس کی آنکھوں کے شاید کسی فلم کی طرح چلنے لگا تھا۔
“بولنے دو یار “
ازمائر کہنے لگا ۔
” آج تو بولنے دو، نہیں چپ رہ سکتا میں، بہت رہ لیا چپ، بہت ہو گئی نفرت، اب تھک گیا ہوں، اپنوں کے ہی اصلی چہرے دیکھ دیکھ کے اب تھک گیا ہوں “
” اتنی جلدی تھک گئے “
میران نے کہا تھا، انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہا ہو میں تو سالوں سے دیکھ رہا ہوں اور جی رہا ہوں۔ ازمائر نے لب کاٹے تھے۔
“تم بہت مضبوط ہو شاید، لیکن اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ ساری غلطی بڑوں پہ نہیں ڈالی جا سکتی، انہیں ہی قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ہماری تعلیم کہاں چلی جاتی ہے جب ہم اپنے ہی بھائی کے دشمن بننے لگتے ہیں تب کہاں چلی جاتی ہے عقل و شعور۔ میں بڑا تھا، مجھے تمہیں گلے لگا لینا چاہئے تھے، تمہارا ہاتھ تھام لینا چاہئے تھا تو شاید آج میں تمہارا بھا ہی ہوتا۔ ہے ناں میران “
ازمائر کہتے کہتے رو پڑا تھا،میران بھی رونے لگا تھا اسے وہ چھوٹا معصوم بچہ یاد آیا تھا، جو محبت کے پیچھے بھاگتا بھاگتا اتنا زخمی ہو چکا تھا کہ وہ زخم اس کی روح تک کو اپنا اسیر کر چکے تھے، وہ مکمل گھائل ہو چکا تھا۔
” لیکن قسم سے یار،مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ ۔۔۔ ڈیڈ نے تمہیں ایک بزنس ڈیل کے بدلے میں۔۔۔۔ “
وہ چپ کر گیا۔ میران لب بھینچ گیا تھا۔ ۔
” اور جب معلوم ہوا تب رشتوں سے یقین اٹھ گیا ، ب ۔۔۔ بہت سوچا، اکیلے میں بیٹھ کے بہت سوچا، تمہارے بارے میں اور ہر بار میران ہر بار، قصوروار میں ہی نکلا،میں کتنا برا بھائی ہوں یار، میں کس قدر گھٹیا ہوں، میں کس قدر گرا ہوا۔۔۔۔۔ “
” ہشششششش “
میران نے اس کے ہونٹوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کے، اسے خاموش کرایا تھا۔
” چپ ۔۔۔ بس چپ “
ازمائر رونے لگا، اپنے ہونٹوں پہ رکھ کے میران کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے تھام کے، وہ اس کے ہاتھ کی ہتھیلی دیکھنے لگا۔
” بہت چھوٹا سا ہاتھ تھا،کتنا بڑا ہو گیا ہے یہ ہاتھ اب “
اس نے میران کے ہاتھ کی ہتھیلی پہ بوسہ دیا تھا،
” مجھے معاف کر دو میران، میرے ہر گناہ کے لئے مجھے ایک بار، بس ایک بار معاف ۔۔۔۔ “
وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا اور میران سے رہا نہ گیا تو آگے بڑھ کے، وہ ازمائر کے گلے لگ گیا، بہت دیر تک دونوں ایکدوسرے سے لگے روتے رہے، ایکدوسرے میں بھائی کی خوشبو کو محسوس کرنے لگے کہ ازمائر اپنی پیٹھ پہ لگے زخموں کے درد کو بھی بھول گیا تھا۔ کتنا خوبصورت تھا یہ لمحہ کہ اندر آتے دشاب ملک کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھی اور وہ الٹے قدموں باہر گئے تھے، ان کے دونوں بیٹے ایکدوسرے کے گلے لگے رو رہے تھے، اپنے گلے شکوے مٹا رہے تھے اور ایک باپ اس سرد کوریڈور میں، دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا، اپنے کہے ہوئے گناہوں کے بوجھ تلے دبا، اپنے بھائی ہوتے دل کو تھام گیا تھا۔ ان کے گناہ ناقابل معافی تھے لیکن یہ دونوں بھائی اپنے گلے شکوے ختم کر کے، اب ایکدوسرے کے گلے لگے تھے۔
ابھی مجھ میں کہیں
باقی تھوڑی سی ہے زندگی
جاگی دھڑکن نہیں۔۔
جاناں زندہ ہوں میں ابھی
کچھ ایسی لگن اس لمحے میں ہے
یہ لمحہ کہاں تھا میرا۔۔۔
اب ہے سامنے
اسے چھو لوں ذرا
مر جاؤں یا جی لوں ذرا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“تم کیوں آ گئی مائزہ ؟؟ ازمائر سے ملے بنا ہی ؟”
سماہر کے سوال پہ وہ خاموش ہی رہی اور اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھ کے، درخت پہ شور مچاتے پرندوں کو دیکھنے لگی۔
” مائزہ میری بہن “
سماہر بھی اس کے سامنے ہی بیٹھ گئی تھی جب مائزہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” دل نہیں مان رہا تھا اسے اس حالت میں کیسے دیکھوں؟؟ جب وہ حرکت ہی نہ کر پا رہا ہو، وہ تو ہمیشہ مجھ سے اونچا ہی رہا ہے، ہمیشہ اپنی بات منوانے والا رہا ہے، میں کیسے اسے دیکھ سکتی ہوں کہ وہ یوں بیڈ پہ پڑا ہو “
وہ کہتے کہتے رو پڑی تھی جب سماہر نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔
” تو تم اس کا سہارا نہیں بن سکتی مائزہ؟؟ کیا تم نہیں چاہتی کہ اس لمحے ازمائر کی طرف بڑھنے والے پہلے ہاتھ تمہارے ہو، اس کے ساتھ مل کے پہلا قدم اٹھانے والی تم ہو، کیا تم ایسا نہیں چاہتی مائزہ؟؟”
مائزہ اسے دیکھنے لگی جبکہ سماہر نے اس کے آنسو دونوں ہاتھوں سے صاف کیے تھے۔
” محبت کرتی ہو اس سے مائزہ، سب کے خلاف جا کے اس سے نکاح کیا تم نے، ماں بن رہی ہو تم، کتنا خوبصورت احساس ہے یہ مائزہ، تم ماں بن رہی ہو اور ان لمحوں میں تمہارے ہر ایکشن کا اثر اس ننھے وجود پہ پڑے گا، کیا تم یہ چاہتی ہو کہ وہ جب اس دنیا میں آئے تو اس کے ذہن میں اپنے باپ کی کوئی تصویر نہ ہو، وہ اپنے بابا کی خوشبو تک کو نہ پہچان سکے ؟؟ اس میں اپنے بابا کے لئے کوئی احساس نہیں ہو؟ کیونکہ اس کی مما ایسا نہیں چاہتی تھی کیوں مائزہ ؟؟ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہے اور ہوئی ہے،ہمارے بڑوں سے غلطیاں ہوئی ہے لیکن کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم ان کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور خود کو وہ غلطیاں نہ کرنے دیں، بابا ، دشاب چچا، عارفین چچی اور مما، ان سب کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں مائزہ، میں کھبی نہیں چاہوں گی کہ مائزہ اور ازمائر، اس خاندان کے دوسرے وقاص ملک اور تابعہ بنے یا میں اور میران اس خاندان کے دوسرے دشاب ملک یا عارفین بنے،نہیں “
وہ مائزہ کے ہاتھ تھام کے لبوں سے لگاتی اب اسے دیکھنے لگی۔
” کیوں نہ ، ہم تاریخ بدل دیں اس خاندان کی؟؟ تا کہ جب ہمارے بچے ہو تو وہ مائزہ، سماہر یا میران اور ازمائر نہ بنے یا پھر کوئی چھوٹی سی مشعل نہ بنے جو خوفزدہ آنکھوں سے سب کو دیکھے، بلکہ وہ کہے ہاں یہ میری مما ہے جنہوں نے میرے بابا کے برے وقت میں ان کا ساتھ نہیں چھوڑا، وہ فخر محسوس کرے کہ اس کی مما اور بابا نے ایکدوسرے کا ساتھ نبھایا اور میں نے بھی ان سے سیکھا ہے “
مائزہ بےساختہ اس کے گلے لگی تھی۔
” تم کیا ہو سماہر،کیا ہو تم ؟؟ سراپا محبت، میران بہت لکی ہے “
سماہر نے مسکراتے ہوئے اسے خود سے الگ کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔
” اور ازمائر بھی۔۔۔ کہ اسے مائزہ ملی ہے، وہ خوش نصیب ہے “
مائزہ کے چہرے پہ دکھ کے سائے چھائے تھے۔
“کیا وہ بھی ایسا ہی سمجھتا ہے “
“تم نے پوچھا اس سے ؟؟”
سماہر کے سوال پہ اس کی آنکھوں میں اداسیوں کا موسم ٹھہر گیا تھا۔
” اس نے کہا تھا کہ میں بدلہ ہوں “
“اور پھر اسی نے دوستی کا ہاتھ بھی تو بڑھایا تھا، آگے بڑھ کے تھام لو وہ ہاتھ اور پھر جتنے گلے شکوے کرنے ہیں، اس کے کندھے پہ سر رکھ کے کر لو، وہ سن لے گا اور تمہیں بانہوں میں بھر کے تمہارے سارے زخم بھر دے گا “
سماہر نے نرمی سے کہا تھا۔
” اگر اس نے کندھا ہی پیچھے کر لیا تو ؟”
مائزہ کے خدشے۔
” اتنا تو تم بھی جان چکی ہو اسے اب،کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا “
سماہر کے جواب پہ، اس نے نظریں پھیر کے پھر سے پرندوں کے جنڈ کو دیکھا تھا، سماہر بھی باہر دیکھنے لگی۔
” اس خزاں رسیدہ سرد شام کے ڈھلتے ہی، تم اس کے لئے رات کی چاندنی بن کے جاؤ گی اس کے پاس،اور اپنی محبت سے، اس کے سرد پڑتے وجود کو حرارت پہنچاو گی مائزہ “
مائزہ اسے دیکھنے لگی جبکہ سماہر مسکراتی آنکھوں میں یقین لیے اپنی بہن کو دیکھ رہی تھی۔ وہ ڈھارس تھی مائزہ کے خزاں رسیدہ دل کے لئے، لیکن وہ مائزہ کو سیکھا رہی تھی کہ وہ خود اپنے قدموں سے چل کے، حسین بہار کو اپنے وجود کا حصہ بنائے، جو مشکل تھا لیکن ناممکن نہیں تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
جب وہ کمرے میں آئی تو نیم تاریک کمرے میں وہ شخص آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا، شاید سو رہا تھا، اپنی مدھم پڑتی تو کھبی ابھرتی سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کرتی وہ آگے آئی تھی، اس کمرے میں موجود کھڑکی سے، ہلکی ہلکی روشنی اندر آ رہی تھی، دیوار پہ لگی گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی، پورے کمرے پہ گہری نظر ڈال کے، وہ اب بیڈ کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی اور ہر خوف، ہر درد، ہر دکھ کو پس پشت ڈال کے، وہ نرم نگاہوں سے اس شخص کے وجود کو دیکھنے لگی تو اسے یہی محسوس ہونے لگا تھا کہ اس کا پورا وجود محبت سے بھر گیا ہے، ناراضگی کے بادل چھٹے تو وہ شخص نمایاں ہونے لگا تھا، اس سے محبت اجاگر ہونے لگی تھی، آہستگی سے اس نے ہاتھ اپنے پیٹ پہ رکھا تھا اور محسوس ہوا تھا جیسے سکون اس کے وجود کو اپنا اسیر کر رہا ہے، وہ ننھا وجود شکر گزار ہے اپنی ماں کا۔ آنکھ سے آنسو گال پہ پھسلا تھا۔ ہاتھ بڑھا کے اس نے ازمائر کے ماتھے پہ بکھرے بال سمیٹنے چاہے لیکن وہ رک گئی، لب کاٹتی وہ ازمائر کی بند آنکھوں کو دیکھے گئی اور پھر آہستگی سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
” میں دو دن سے منتظر رہا ہوں اور اب آ گئی ہو تو اجنبی بن کے مل رہی ہو “
ازمائر کی بوجھل آواز پہ وہ گھبرا گئی تھی، دل پہ ہاتھ رکھ کے وہ حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی جو آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔
” تھوڑا سا تو حق رکھتا ہوں گا شاید میں تم پہ، کچھ اور نہ سہی، وہ دوستی ہی سہی جو ہم میں پھر سے قائم ہوئی تھی۔”
وہ نظریں جھکا کے لب کاٹنے لگی جبکہ ازمائر نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تھا۔ مائزہ نظریں اٹھا کے پھر سے اسے دیکھنے لگی اور اپنا کانپتا ہاتھ اس کے ہاتھ پہ رکھا تھا، جسے ازمائر نے نرمی سے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں دبایا ۔
” یہاں بیٹھو “
اس کے کہنے پہ، مائزہ اس کے قریب بیڈ پہ بیٹھ گئی تھی، ازمائر اس کا ہاتھ نرمی سے چھوڑ کے، ہاتھ بڑھا کے اس کے گال سہلانے لگا جبکہ مائزہ کی انکھ سے آنسو پھسل کے، ازمائر کے ہاتھ کی پشت پہ جذب ہوا تھا۔
” پلیز مائزہ مت روؤ، تمہارے رونے کی، ان آنسوؤں کا سبب میں بنا ہوں لیکن میں ٹھیک کر دینا چاہتا ہوں سب، پلیز یہ آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں “
” میں اپنے لئے نہیں رو رہی ازمائر، میں تمہارے لئے رو رہی ہوں، اتنی ظالم نہیں ہوں میں، محبت کرتی ہوں تم سے، جانتے تو ہو تم “
مائزہ نے بھرائی آواز میں کہا تھا۔
” جانتا ہوں، اسی دن جان گیا تھا جب میرے ساتھ کورٹ تک گئی تھی تم مجھ سے نکاح کرنے “
ازمائر آہستگی سے کہتا، انگوٹھے سے اس کے لب سہلائے تھے۔ کس قدر سکون بخش تھا اس کا ہر لمس،مائزہ سوچے گئی۔
” سب جانتا ہوں مائزہ، کس طرح میں درد دیتا گیا اور تم سہتی گئی، لفظوں کی مار ماری، تو وہ بھی سہہ گئی تم، تم سے نفرت جتائی اور تم زہر کی مانند پی گئی، راتوں کو نشے میں دھت گھر آیا، سہارا دینے کوئی آگے نہیں بڑھا لیکن تم نے اپنا کندھا دیا، سہارا بنی، میری لاج رکھی، مجھے خود سے لگا کے رکھا تم نے، اور پھر وہ رات ۔۔۔۔ “
وہ چپ کر گیا، آنکھوں میں عجیب وحشت اتر ائی، لب سختی سے بھینچ لیے تھے اس نے، مائزہ نے اس کے لبوں پہ اپنے ہاتھ رکھے تھے۔
” مجھے نہیں سننا، کچھ بھی تلخ نہیں، میں بس یہی چاہتی ہوں کہ میرے لئے وہ خوبصورت یادیں ہمیشہ تازہ رہے کہ جن میں ہمارے بیچ دوستی کے سوا کوئی تلخ لمحہ نہیں تھا کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ میرے وجود میں پلنے والا یہ ننھا سا وجود، ہماری دوستی اور محبت کے سائے میں، اس دنیا میں آئے”
ازمائر نے اپنے کانپتے ہاتھ بڑھا کے، مائزہ کے پیٹ پہ رکھے تھے، آنسو آنکھوں کے کنارے بھگو گیا۔
” کتنا برا باپ ہوں میں بھی “
” ہشششششش “
مائزہ نے اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا، محبت بھری نگاہوں سے ازمائر کے چہرے کو دیکھتی، ہاتھ ہتھیلی سے اس کی آنکھوں کنارے صاف کرنے لگی۔
” ناراض ہو جائے گا وہ یہ سب سن کے “
” کون ؟؟”
ازمائر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا جبکہ مائزہ نے اس کا ہاتھ پھر سے اپنے پیٹ پہ رکھا تھا۔
” یہ ۔ “
” نفرت تو کرتی اب مجھ سے تم مائزہ “
ازمائر اسے نظر بھر کے دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
” سوچ کے بتاؤں گی، پہلے والا ازمائر بن کے دکھاؤ پھر میں کچھ کہوں گی”
مائزہ لب چباتی کہتی ابرو اچکا گئی تھی جبکہ ازمائر زیر لب مسکرا دیا تھا۔
” قریب آؤ “
” بلکل بھی نہیں “
مائزہ سر نفی میں ہلاتی اس سے مزید دور ہوئی تھی۔
“یار کھا نہیں جاؤں گا، قریب آؤ “
ازمائر نے محبت بھری جھنجھلاہٹ سے کہا جبکہ وہ بیڈ سے ہی اٹھ گئی۔
” بلکل بھی نہیں “
” میں خود ہی اٹھتا ہوں “
وہ اٹھنے لگا تھا جب مائزہ نے پھر سے قریب آ کے، اسے اٹھنے سے روکا تھا اور پھر بےحد قریب سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” ابھی تم نے امتحان کی بہت سی منزلیں طے کرنی ہے، تب کہیں جا کے میں یہ ڈیسائیڈ کروں گی کہ مجھے تمہارے کتنے قریب انا ہے”
مائزہ کے انداز ہی دل موہ لینے والے تھے اج، آنکھوں میں حیرانی لیے ازمائر نے اسے دیکھا تھا۔
” اور پھر ساری منزلیں طے کر کے، رزلٹ ڈے میں اپنی مرضی سے مناؤں گا، قبول ہے ؟”
ازمائر نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔ مائزہ پہلے مسکراتی چیلنجنگ آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر اس کے چہرے پہ اپنی سانسیں چھوڑتی وہ پیچھے ہوئی تھی جبکہ ازمائر کی دھڑکنیں منتشر ہوئی اس کے سانسوں کی مہک سے، جبکہ مائزہ پرسکون سی اسے دیکھے گئی کہ سماہر کی باتوں نے اسے مکمل بدل دیا تھا، وہ اب دل کی بھی سننے لگی تھی ورنہ ایسا لگتا تھا جیسے عرصے سے اس کا دل سویا پڑا ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ماریہ مر چکی ہے لیکن ہمیں کوئی کلیو نہیں مل رہا ہے کہ اسے مارا کس نے ہے ؟”
انسپکٹر جمشید، میران کے پاس بیٹھا کہہ رہا تھا جبکہ میران لب بھینچے سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔
” اس کے فلیٹ میں لگے CCTv فوٹیج میں بھی سب بلینک ہے جیسے ان کو چھیڑا گیا ہو”
وہ پھر سے کہنے لگا۔
” ہمممم، فنگر پرنٹس سے کچھ سامنے نہیں آیا؟؟”
میران پوچھنے لگا۔
” نہیں، اس کے باڈی پہ کوئی فنگر پرنٹس کے نشان نہیں ہے، بس گردن پہ زیادہ دباؤ ڈالنے کے نشان ہیں اور گردن کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہے اور کچھ چٹخ دی گئی ہے “
جمشید نے جواب دیا تھا جبکہ میران نے لب بھینچ لیے تھے۔
” میران اگر تمہارے پاس کوئی فوٹیج ہیں تو ؟؟”
” نہیں، میرے پاس تو ڈیوائس ہی ڈسکنیکٹ ہو چکا ہے، میں نے چیک کیا تھا “
میران سکون سے جواب دیتا، صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، اسکے اندر جو طوفان برپا تھا اس کی بھنک بھی وہ جمشید کو نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا۔ کیونکہ اس رات وہ دیکھ چکا تھا اپنے موبائل میں، کہ جس طرح سے دشاب ملک نے ماریہ کو ختم کیا تھا اور پھر خود دیر تک دوسرے صوفے پہ بیٹھ کے ، ماریہ کے مردہ وجود کو دیکھتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے رونا شروع کر دیا تھا، اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے وہ رو دیے تھے اور پھر ان کے جانے کے بعد، میران وہاں گیا تھا، وہاں کی سی سی ٹی وی کیمرے کو ڈسکنیکٹ کرنے اور ان کا سسٹم خراب کر کے، وہ وہاں سے باہر نکلا تھا۔ وہ خاموش تھا لیکن اس خاموشی کے پیچھے بھی ایک طوفان سا برپا تھا جو اسے اندر ہی اندر اپنی گرفت میں کر رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
