Rate this Novel
Episode 01
” مرد کی نفرت جانتی ہو کیا ہے مائزہ وقاص ملک ؟”
وہ بےحد سرد لہجے میں کہہ رہا تھا، سپاٹ آنکھوں میں سردمہری لیے وہ لب بھینچے مائزہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ اس کمرے کے بند دروازے کے باہر سب اپنے اپنے کمروں میں جا کے سونے کا سوچ رہے تھے جبکہ یہاں اس بند کمرے کے پیچھے دلہن بنی مائزہ بھیگی آنکھوں سے اپنے محبوب مرد کی نفرت کو ضبط سے دیکھ رہی تھی جو اس وقت بےحد سفاک لگ رہا تھا اس نازک اور بیوقوف لڑکی کا دل توڑتے ہوئے۔ تبھی وہ منمنائی تھی۔
” میں مائزہ ازمائر ملک ہوں “
اس کے چہرے پہ تمسخر ابھر کے معدوم ہوا تھا۔
” نام کی حد تک اور ان کاغذوں کی حد تک، جن پہ میں اور تم سائن کر چکے ہیں، جیسے ہی میرا راستہ صاف ہو جائے گا، جیسے ہی میرے راستے کا کانٹا دور ہو جائے گا اور تب سماہر ازمائر ملک بن جائے گی تب ان کاغذات کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی “
وہ کس قدر سرد اور سفاک تھا اس لمحے، مائزہ بےیقینی سے اسے دیکھے گئی۔
” ازمائر یہ گناہ ہے “
” اور مجھے یہ گناہ کرنا ہے کسی بھی حال میں “
وہ اس کے قریب سے اٹھ کے کمرے میں ٹہلنے لگا جبکہ مائزہ بھیگی آنکھوں میں وحشت لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” میں بیوی ہوں تمہاری ازمائر، تمہاری دسترس میں ہوں، تم سے بےحد محبت کرتی ہوں، تمہارا سکون بن سکتی ہوں میں بھی، تمہیں میرے وجود کی چاہ ہونی چاہئے، میں اپنا آپ تمہیں دان کر رہی ہوں “
پھر سے ایک امید، ایک آس کے ساتھ اس نے اپنے شوہر کی توجہ خود کی طرف مبذول کرانا چاہی جبکہ وہ رک کے سر نفی میں ہلانے لگا ۔ ۔
” مجھے تم سے کچھ نہیں چاہئے مائزہ، کچھ بھی نہیں، نہ تم، نہ تمہاری خوبصورتی، نہ تمہارا وجود اور نہ تمہارا سکون ، تم بس ایک مہرہ ہو، جسے میں سماہر کے آگے چلاتا رہوں گا اور تب تک، جب تک وہ خود کو میرے حوالے نہ کر دے”
ازمائر بدلے میں جیسے شیطان بن رہا تھا
” اور رہی بات اس کی ، کہ اگر مجھے کھبی اپنی مردانگی ظاہر کرنی پڑے تو بےفکر رہو، اس کے لئے میں باہر کی عورت کو تم پہ ترجیح دینا پسند کروں گا “
چھن سے ٹوٹا سب مائزہ کے وجود میں، دل جیسے گہری کھائی میں ڈوبتا جا رہا تھا اور آنکھوں کے سامنے جیسے سیاہ دائرے سے بن رہے تھے۔ وہ اپنے کانپتے وجود کو سنبھالتی بیڈ سے نیچے اتری تھی، بھاری ڈریس جیسے اسے خود پہ بوجھ سا لگ رہا تھا، اس کے چوڑیوں کی کھنک کمرے کے فضا میں گونجی تھی جسے ازمائر نے لب بھینچے بیزاری سے دیکھا تھا۔
” یہ کیا ہے ازمائر ؟؟”
وہ اس سے کچھ فاصلے پہ کھری ہو کے پوچھ رہی تھی کہ اس شخص کے قریب جانے سے بھی ڈر لگ رہا تھا۔
” حقیقت، جس سے تم آنکھیں پھیر رہی ہو، نفرت، جسے تم سمجھنا نہیں چاہ رہی ہو “
وہ کندھے اچکا کے کہتا بےحد ظالم لگ رہا تھا۔ مائزہ بنا ایک لفظ ادا کیے اسے دیکھتی رہی، لمحے بھر میں سب کیسے ختم ہو گیا تھا۔ وہ جو اس رات کے لمحے لمحے سے بہت سے خواب بن چکی تھی، سب چھن چھن کر کے بکھر رہے تھے۔
” اتنی بھی نفرت مت کرو ازمائر کہ کل کو محبت کے لئے تمہیں الفاظ نہ مل پائے، اتنا مجھے، میرے احساسات کو پامال مت کرو کہ کل کو تمہیں اپنے لفظ لفظ کے جواب دہ ہونا پڑے اور تم ان الفاظ کا اثر زائل کرنے کے لئے، مثبت الفاظ ڈھونڈ کے نہ لا پاؤ “
ازمائر لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں میں خواہشات دم توڑ رہی تھی۔
” بدلے اور جنونیت کے احساسات میں گر کے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کو اسقدر دلدل میں دھنس جاؤ کہ تمہیں تنکے کا سہارا بھی نہ مل سکے اور جب آواز دینے لگو تو میں سن نہ پاؤں “
وہ کہہ رہی تھی، ازمائر لمحے بھر کے لئے خاموش ہوا تھا، دونوں کے بیچ سکوت تھا، جب اچانک ازمائر کے موبائل میں ہوتی وائبریشن نے دونوں کو چونکایا تھا، اس کے موبائل میں کسی کی کال آ رہی تھی، کال ریسیو کرتا وہ بالکونی کی طرف گیا تھا جبکہ مائزہ وہیں کھڑی بھیگی آنکھوں سے اس کی پشت دیکھ رہی تھی۔ وہ ہار رہی تھی، اپنی شکست تسلیم کر رہی تھی، وہ استعمال ہو رہی تھی اور اسے آگے بھی استعمال ہونا تھا، کیا وہ استعمال ہوتی رہے گی؟؟ خاموش رہے گی ؟؟ نہیں۔۔۔
آنکھیں گھما کے اس نے پاس ٹیبل پہ رکھے فروٹ باسکٹ کو دیکھا تھا، جس کے قریب ہی دو پلیٹس میں چھڑی رکھی نظر آئی تھی، بنا کچھ سوچے آگے بڑھ کے اس نے وہ چھڑی اپنے ہاتھ میں لے لی تھی، نظریں اب بالکونی میں کھڑے نظر آتے ازمائر پہ رکی تھی۔
” میں استعمال کھبی نہیں ہونگی ازمائر ، کھبی بھی نہیں “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” تمہیں کیا ہوا ہے زمہ جانان؟؟”
کمرے میں بیڈ پہ دلھن بنی بیٹھی میرب کے چہرے پہ بیزاری دیکھتے ارتسام مسکرایا تھا جبکہ میرب نے گہری سانس خارج کی تھی۔
” یاررر پاگل پٹھان اتنی گرمی میں اتنی رسمیں کروائی تم سب نے مجھ سے “
وہ منہ بنا کے آنکھیں گھماتی بولی جبکہ ارتسام نے کندھے اچکا کے ادھر ادھر دیکھا تھا ۔
” کون سی گرمی؟؟ اے سی کی رفتار سے کمرے کا درجہ حرارت تو منفی پہ آ چکا ہے “
میرب نے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔
” یہاں نہیں پاگل پٹھان۔۔ وہاں باہر “
” میں تمہارا شوہر نامدار ہوں، کیا پاگل پٹھان پاگل پٹھان کہہ رہی ہو “
ارتسام نے مصنوعی حیرت سے اسے دیکھا تھا ۔
” میں تو کہوں گی پاگل پٹھان “
میرب منہ بنا کے کہتی ادھر ادھر دیکھنے لگی اور پھر جھنجھلا کے سر پہ رکھا بھاری دوپٹہ جیسے کھینچنے لگی۔
” یاررر اسے تو ہٹاؤ پلیز اب ، میری سانس بند ہو رہی ہے “
ارتسام زیر لب مسکرا دیا تھا جبکہ آنکھوں میں شرارت تھی۔
” میں سانس ان ہیل کروں تمہیں۔۔ اگر اجازت ہو تو “
میرب نے رک کے پہلے اسے حیرت سے دیکھا تھا، ارتسام کی آنکھوں میں چمکتی شرارت نے اسے سمجھا دیا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا تبھی اس کے کندھے پہ ہاتھ مار کے رخ موڑ گئی تھی۔
” بہت برے ہو تم ارتسام “
ساتھ ہی دوپٹہ اتارنے کی کوشش میں اس کے ہاتھ ، اس کے بالوں اور ڈوپٹے میں الجھ کے رہ گئے تھے جبکہ ارتسام ہنستا اس کے قریب ہوا تھا ۔
” بس بس گنجی نہ ہو جانا، میں اتار دیتا ہوں، چھوڑو “
ارتسام نے ابھی اس کا ڈوپٹہ تھاما ہی تھا جب میرب نے مڑ کے اسے گھوری دیتے ناک چڑھائی تھی۔
” اتنی شکی آنکھیں “
ارتسام کی مصنوعی حیرت اور مسکراتے لب۔ وہ بلبلا کے رہ گئی ۔
” اچھا یار ، کچھ نہیں کرتا اب، نہ کچھ کہہ رہا ہوں، چھوڑو می ہیلپ کر دیتا ہوں “
میرب نے دونوں ہاتھ گود میں رکھ لیے تھے جبکہ ارتسام بےحد احتیاط سے سارے پن اس کے ڈوپٹے سے اتارنے لگا۔
” وی آئی پی ، یار بات سنو “
” ہممم بولو “
وہ مصروف سے انداز میں بولا ۔
” مجھے ڈاکٹر بننے میں کتنے سال لگ جائے گیں ؟؟”
وہ اپنے ناخنوں کو کھرچتی سوال کرنے لگی ۔
” دو سال مزید “
بےحد مصروف انداز میں پنز اتار اتار کے اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پہ رکھتا جواب دینے لگا ۔
” دو سال مزید “
وہ حیرت سے مڑ کے اپنی نشیلی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ ارتسام کا دل لمحہ بھر کے لئے تھم سا گیا تھا جیسے، اس حشر ساماں کو اپنے بےحد قریب دیکھ کے، سانسیں ارتسام کے چہرے کو چھو رہی تھی اور وہ بہکنے لگا تھا جیسے۔
” مسز وی آئی پی، منہ ادھر کریں آپ اور مجھے ایسی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش بھی بند کر دیں پلیز ۔ “
” کیوں؟؟”
میرب کا معصوم سا سوال جبکہ وہ لب بھینچ گیا اور دوپٹہ اتر چکا تھا تبھی اس کے ہاتھ میں دے کے اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لے گیا تھا ۔
” کیونکہ مجھے اپنا وعدہ توڑنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور میں نہیں چاہتا کہ میں اپنا وعدہ توڑ دوں “
گھمبیر لہجہ، معنی خیز آنکھیں، میرب دھڑکتے دل کے ساتھ جھینپ گئی تھی، تبھی سانس روک کے وہ تیزی سے لرزتی پلکوں کے سارے رخ موڑ گئی تھی جبکہ ارتسام نے مسکرا کے اس کی پشت کو دیکھا تھا اور اس لمحے میرب کی کیفیت سے لطف اندوز ہوا تھا، تبھی اسے بانہوں کے گھیرے میں لے کے وہ اپنی ٹھوڑی اس کے کندھے پہ ٹکا گیا تھا جبکہ میرب گھبرا کے سانس لینا ہی بھول گئی۔
” لیکن میں اپنا وعدہ نہیں توڑوں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میری پاگلیٹ بہت بڑی ڈاکٹر بنے کہ میں اپنی اس ڈاکٹرنی پہ پراوڈ فیل کروں اور یہ تبھی ممکن ہے کہ جب تم ریلیکس مائنڈ کے ساتھ پڑھو گی “
ارتسام نے اس کے کندھے پہ اپنے لب رکھے تھے تو جہاں وہ ارتسام کے الفاظ سے پرسکون ہوئی تھی، وہیں اس انوکھے لمس سے وہ خود میں جھینپ بھی گئی تھی۔
” ہلکی پھلکی شوخیاں تو چلیں گی ہم میں، آخر یہ ڈاکٹر صاحب اتنا بھی خود پہ ضبط کے پہرے نہیں لگا سکتا “
وہ شرارتی انداز میں گویا ہوا تھا ۔
” لیکن ۔۔ “
ساتھ ہی وہ اپنی شہادت کی انگلی اس کی گردن پہ نرمی سے پھیرنے لگا۔
” تم ہر لمحے اور ہر مشکل اور آسانی میں، مجھے اپنے ہمراہ پاؤ گی “
” ار ۔۔۔ تسام “
میرب بمشکل یہ الفاظ ادا کر پائی تھی ۔
” پاگل پٹھان بلاو “
ارتسام شرارتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ اپنی بند ہوتی سانس بحال کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔
” ن ۔۔۔ نہ ۔۔۔ پ ۔۔ پلیز “
وہ اب بھی اپنی شہادت کی انگلی اس کی گردن پہ پھیرتا اسے پریشان کر رہا تھا، گہرا سانس لیتی وہ مڑی تھی اور دونوں ہاتھ ارتسام کے سینے پہ رکھتی اسے پیچھے دھکا دے چکی تھی جنہیں وہ حیرت سے میرب کو دیکھتا بیڈ سے نیچے جا گرا تھا۔
” یہ کیا تھا اب ؟”
ارتسام اسے گھورنے لگا جبکہ میرب کھلکھلانے لگی ۔
” یہ مجھے تنگ کرنے کا انجام ۔ “
” دیکھو پاگلیٹ، تم میری بیوی ہو، میرا جو دل کرے گا میں وہی کروں گا، زیادہ تنگ کرو گی تو ۔۔۔ تو “
وہ دانت پیستا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” تو کیا پاگل پٹھان؟؟”
میرب کانپتے دل کو تھپکی دیتی، خود کو تسلیاں دیتی، اسے مزید چھیڑنے کا ارادہ ترک کر کے، لب بھینچے اس سے نظریں چرا گئی، لیکن خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش عروج پہ تھی۔
” دشاب انکل سے کہوں گا کہ میرب مجھے اپنے قریب نہیں آنے دیتی “
میرب نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ ارتسام کندھے اچکا گیا تھا۔
” جا کے کہہ دو، تم تو ہو ہی بےشرم “
” استغفراللہ، شوہر کو کوئی ایسے کہتا ہے؟؟ زہ استا خاوند یم “
ارتسام پھر سے اس کے قریب بیٹھا تھا جبکہ میرب بیڈ سے نیچے اترنے لگی ۔
” زہ مرہ “
ارتسام کو اس لمحے اس پہ بےحد پیار آیا تھا تبھی اسے کھینچ کے بیڈ پہ لٹا کے، خود اس پہ جھکا تھا، میرب حیران آنکھوں میں ڈر لیے اسے دیکھنے لگی جبکہ ارتسام نے گہرا سانس لیتے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے اور پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
” تم صرف میری ہو، مجھ سے منسوب ہو، یہی میرے لئے کافی ہے میرب، تم اپنے کیرئیر پہ دھیان دو، میں تمہارے ساتھ ہوں “
میرب پرسکون سی اسے دیکھنے لگی جبکہ ارتسام اٹھ بیٹھا تھا۔
” چلو شاور لیتے ہیں “
میرب گھور کے اسے حیرت سے دیکھنے لگی جبکہ ارتسام اس کا ہاتھ تھام کے کھینچنے لگا ۔۔
” چلو جلدی کرو “
” ارتسام ۔۔ “
میرب نے کچھ کہنا چاہا جبکہ ہنس پڑا تھا اور میرب کو کھینچ کے پھر سے اپنے قریب کیا تھا۔
” چلو ناں “
میرب اس کی شرارتی آنکھوں میں دیکھنے لگی جبکہ وہ مسکرا رہا تھا۔
” کیا ہوا جانان؟؟”
” تنگ کرو گے مجھے ارتسام؟”
وہ اتنی معصومیت سے کہہ رہی تھی کہ ارتسام کو اپنا ارادہ اسے تنگ کرنے کا ترک کرنا پڑا ۔
” اففف بہترین ہو تم میرب، بہترین “
میرب پہلے اسے معصومیت سے دیکھتی رہی لیکن ارتسام کے پرسکون انداز نے اسے بھی سکون سا بخشا تھا اور تبھی ہلکا سا مسکرا کے، ارتسام کے کندھے پہ اپنا سر رکھا تھا اور ارتسام نے بھی اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیا تھا کہ میرب کے اس کی زندگی میں آنے کے بعد، اس کی زندگی بےحد حسین اور خوبصورت ہو گئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ سو رہی تھی اور میران بےحد محویت سے اس کی بند پلکوں کو تک رہا تھا، دواؤں کے زیراثر ہونے کے باوجود بھی اس کے چہرے پی تھکن کے آثار نمایاں تھا۔ میران کو ابھی کچھ لمحوں پہلے سماہر کی ہوئی حالت یاد آئی تو آنکھیں بند کر کے اس نے جھرجھری سی لی تھی۔ سب کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ سماہر کو رخصتی کروا کے اسے اپنے گھر لے آیا تھا لیکن جب دلھن بنی سماہر نے اسے پہچاننے سے انکار کر دیا، خوفزدہ آنکھوں میں وحشت لیے جب وہ میران کو دیکھنے لگی تھی تو تب میران کو لگا کہ وہ سب ہار گیا ہے، وہ اب سانس نہیں لے پائے گا ۔
” ک ۔۔۔ کون ہو تم ؟؟”
اجنبی سپاٹ آنکھیں ۔ میران کا مکمل وجود اس لمحے بکھر گیا تھا۔
” میں تمہارا میران “
اس نے نرمی سے سماہر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینا چاہا تھا جسے سماہر جھٹک چکی تھی۔
” میں کون ہوں “
وہ اب سوالیہ نظروں سے چاروں طرف کمرے کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا، وہ پھر سے سب بھول گئے تھی،پھر سے میموری لاس ہوا تھا ۔ تبھی اپنی جگہ سے اٹھ کے وہ دو قدم پیچھے ہوتا صوفے پہ جا بیٹھا تھا لیکن نظریں اب بھی سماہر پہ تھی جس کی آنکھوں میں خوف اور اجنبیت واضح تھی۔
” یہ کون سی جگہ ہے ؟؟”
وہ روہانسی انداز میں پورے کمرے کو دیکھتی اب میران کو دیکھ رہی تھی جو آنکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہا تھا جو اسے ہی پہچاننے سے انکاری تھی۔ ہاتھ اٹھا کے اس نے اپنے ماتھے کو چھوا تھا شاید درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھی اور تبھی میران تیزی سے اٹھ کے اس کے قریب آیا تھا اور اسے کندھوں سے تھام کے بےچین نظروں سے اس کے چہرے پہ پھیلے کرب کو دیکھنے لگا ۔
” سماہر ۔۔ “
اس کے مردانہ کلون کی مہک سماہر کے حواسوں پہ چھا رہی تھی لیکن وہ حواسوں میں کب تھی، میران کو اپنے قریب دیکھ کے وہ مزید خوفزدہ ہو رہی تھی۔
” ڈ ۔۔۔ ڈر لگ رہا ہے “
کانپتی آواز میں بھی خوف پنہاں تھا۔
” مجھ سے ؟؟”
میران کی آواز جیسے کسی کھائی سے آ رہی تھی اور سماہر روہانسی سی سر اثبات میں ہلا گئی ۔
” میں تمہیں کچھ نہیں کر رہا سماہر، ریلیکس ہو جاؤ پلیز “
وہ نرمی سے کہہ رہا تھا جبکہ دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب رہا تھا، وہ پھر سے نہیں پہچان پا رہی میران کو۔
” ک ۔۔۔ کون ہو تم؟؟”
وہ پوچھ رہی تھی اور میران کو اس لمحے اپنا آپ بےجان ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
گہرا سانس لیتے اس نے کمفرٹر سماہر پہ ٹھیک کیا تھا، اے سی چل رہا تھا تبھی کمرے میں خنکی کا احساس نمایاں تھا ۔
” مجھے مکمل حفظ کر لو سماہر پلیز، سب بھول جاؤ، پوری دنیا خو بھول جاؤ، مجھے فرق نہیں پڑتا، مین تمہیں یاد دلاتا رہوں گا لیکن پلیز مجھے ۔۔۔۔ “
وہ لب بھینچ کے خاموش ہوا تھا، آنکھوں میں نمی چمک رہی تھی اور تبھی آنسو لکیر کی صورت چہرے پہ پھسلا تھا۔
“مجھے مت بھولو، مجھے یاد رکھو ہمیشہ پلیز “
بھاری بوجھل آواز کمرے کی فضا میں گونجی تھی۔ وہ کچھ دیر یونہی اسے دیکھتا رہا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کے وہ دروازے تک گیا تھا، دروازہ کھول کے وہ کمرے سے باہر نکل کے، یونہی چلتا لان میں آیا تھا، کچھ دیر ادھر ادھر ٹہلتا وہ اب وہیں کین کی رکھی کرسیوں میں سے ایک پہ بیٹھ چکا تھا، سوچوں کا محور اس وقت سماہر تھی، جو اپنی آدھی یادداشت کھو چکی تھی، جسے کھبی تو کچھ باتیں یاد آ جاتی اور کھبی سب بھول جاتی ۔
وہ رات اب بھی اس کی آنکھوں کے سامنے تھی جب اچانک سے گولیاں چلی تھی اور سماہر کو بچانے کی خاطر، وہ اسے لیے صوفے کے پیچھے جا گرا تھا لیکن سماہر کا سر شدت سے زمین بوس ہوا تھا اور وہ اسی لمحے بےہوش ہو گئی تھی۔
” میران ۔۔۔ “
دشاب کی آواز پہ وہ چونکا تھا اور سر جھٹکتا وہ خود کو اس لمحے کے زیراثر سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا ۔
” یہاں کیوں بیٹھے ہو بیٹا؟”
ان کے سوال پہ وہ خاموش ہی رہا ۔
” سماہر ٹھیک ہے ؟؟ اسے اکیلا چھوڑ کے یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟”
دشاب اس کے سامنے والی رکھی کرسی پہ بیٹھے تھے ۔
” سماہر سو رہی ہے “
آہستگی سے جواب دیتا وہ چاند کو دیکھنے لگا جبکہ دشاب اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے جس کے چہرے پہ تھکن تھی، دکھ تھا، پریشانی تھی۔
” سماہر سے اس حالت میں شادی کر کے، تم نے صحیح فیصلہ کیا ہے کیا میران ؟؟”
میران لب بھینچے دشاب کو دیکھنے لگا جبکہ وہ نظریں چرا گئے ۔
” سماہر بیوی ہے اور تا ابد میری بیوی ہی رہے گی۔ آج نہیں تو کل اس کی یادداشت واپس آ جائے گی ، مجھے یقین ہے “
” اور تب تک تم ایک جنگ لڑتے رہو گیں اس کمرے، اس گھر میں، وہ بار بار تمہیں پہچاننے سے انکار کرے گی اور تم بار بار اسےاپنی پہچان کراتے جاؤ گیں؟؟ آخر کب تک “
دشاب کہنے لگے جبکہ میران نے ہاتھ اٹھا کے انہیں روکا تھا۔
” آپ شاید بھول رہے ہیں کہ آپ کو میں یہ حق دینے کا قائل نہیں ہوں کہ میری پرسنل لائف کو ڈسکس کریں آپ یا میری بیوی کو “
وہ سرد لہجے میں کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” سماہر میری بیٹی بھی ہے، میری بھتیجی اور اب بہو ہے اور مجھے پورا حق ہے اسے لے کے پریشان ہونے کا ۔ “
دشاب نے لفظ لفظ پہ زور دیتے کہا تھا ۔
” اور ان سب سے پہلے وہ میری بیوی ہے، میران ارتضی ملک کی بیوی “
میران نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا ۔
” مت بھولو کہ ڈاکٹر کہہ چکا ہے کہ اس کنڈیشن میں اس کے لئے کوئی بھی ڈیسژن لینا، اس کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے اور ایک غلط ڈیسژن تم لے ہی چکے ہو، کچھ اور غلط نہ کر دینا اس کے ساتھ “
دشاب اس کے سامنے آ کھڑے ہوئے تھے جبکہ میران نے لب بھینچے ایک سرد نظر ان پہ ڈالی تھی۔
” تم سمجھ رہے ہو ناں میری بات کو ؟”
ان کا انداز جتانے والا تھا جبکہ میران اب بھی سرد مہری سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جو اپنی زندگی میں ہر غلط راستہ چن لینے کے بعد اب میران ملک کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ سر جھٹک کے میران گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھنے لگا جبکہ دشاب کی پرسوچ نظروں نے اس کے اندر جانے تک، اس کی پشت کو گھورا تھا۔ سماہر اپنی یادداشت کھو چکی تھی جسے شاید long term memory loss بھی کہا جاسکتا ہے۔
