Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

تھپڑ بہت زور کا لگا تھا ان کے چہرے پہ، لیکن اس سے بھی زور کا جھٹکا لگا تھا انہیں۔ کیونکہ یہ تھپڑ عارفین کی طرف سے تھا اور جن گناہوں میں وہ برسوں سے سلگ رہے تھے، جس چہرے کو وہ عارفین سے چھپاتے آ رہے تھے، وہ چہرہ اب بےنقاب ہو کے عارفین کے سامنے آیا تھا۔
” ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے کی قیمت لگانے کی بھی “
ان کا کالر ہاتھوں میں جکڑ کے وہ چیخی تھی جبکہ دشاب لب بھینچے نظریں جھکا گئے تھے۔
” میں سمجھتی رہی کہ میرا بچہ اس لئے آپ سے دور رہتا ہے کیونکہ آپ باپ نہ بن پائے اس کے لئے، لیکن اس کے ساتھ ناانصافی کا مرتکب ہوئے ہیں اپ، یہ مجھے نہیں معلوم تھی، میرا بچہ، میرا بیٹا اس آگ میں برسوں سے جل رہا ہے، برسوں سے اس سیاہی کو اپنے دل میں دفن کیے جی رہا ہے اور میں اس کی ماں ہو کے بھی کچھ نہ جان پائی، کیسے نیند آ گئی تھی مجھے، بےچینی تک نہ ہوئی مجھے اس رات، جب میرے بچے کی قیمت لگا آئے تھے آپ “
وہ چیخ رہی تھی اور ساتھ ہی اس کے سینے اور گردن کو نوچ ڈالا تھا انہوں نے۔ دشاب انہیں روک نہیں رہے تھے بلکہ ان کی مار کھا رہے تھے۔
” عارفین پلیز ایسا کچھ ۔۔۔۔ “
انہوں نے آخر کہنے کی کوشش کی تھی ۔
” بس ۔۔۔ “
عارفین دھاڑی تھی ، دشاب دیکھ رہے تھے عارفین کی آنکھیں حد درجہ سرخ ہو رہی تھی جیسے خون چھلکا رہی ہو ۔
” اب نہیں سنوں گی میں آپ کے جھوٹے الفاظ، بہت بول چکے آپ، بہت کہہ چکے آپ، بہت سن لیا میں نے آپ کے وہ سب جھوٹے دعوے اور وہ دھوکے جو آپ محبت کے نام پہ دیتے رہے اب بس ۔۔۔ “
دشاب کا دل کانپ گیا تھا لمحہ بھر کے لئے۔
” اپنے حق میں، میں نے سب سہہ لیا، خاموش رہی، چپ رہی لیکن میرے بچوں کے معاملے میں، میں زندگی بھر آپ کو معاف نہیں کروں گی، میرا بیٹا تو آپ کا ہی خون تھا، آپ کا بھی بیٹا تھا وہ، کیسے کر لیا اس کے ساتھ یہ سب؟؟ بیچ ائے؟؟ اپنے بچے کو بیچ آئے، لعنت ہو آپ پہ دشاب ملک ، میرا رب بھی آپ کو کھبی معاف نہیں کرے گا، میری بد دعا ہے کہ آپ پہ وہ وقت آئے جب پچھتاؤں کے دلدل میں ایسے پھنسے کہ کوئی ہاتھ بڑھا کے آپ کو باہر نکالنے والا نہ ہو، یہ ایک ماں کی بد دعا ہے ، ایک ماں کی “
دشاب ملک حیرت سے انہیں دیکھتے لڑکھڑا کے پیچھے ہوئے تھے جبکہ عارفین نے روتے ہوئے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا تھا، بہت درد ہوا تھا انہیں، بےپناہ درد ۔
” چچی ماں “
سماہر ان کی آواز سنتی تیزی سے ان کے قریب آئی تھی اور انہیں کندھوں سے تھاما تھا جبکہ عارفین بھیگی آنکھوں سے سماہر کو دیکھے گئی جس نے ان کے بیٹے کو ایسے سنبھال لیا تھا کہ اس کے وجود کے بکھرے ٹکڑوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کے، ان کے بیٹے کو مکمل کر دیا تھا اور پھر دشاب کو دیکھنے لگی۔
” قیامت کے دن اپنا کوئی حق نہیں مانگوں گی آپ سے دشاب، لیکن اپنے بچوں کا ایک ایک حساب مانگوں گی آپ سے، اس گھر کے دونوں بچوں کو تباہ کر دیا آپ نے، دو بھائیوں کے بیچ نفرت کا بیج بویا، اسے تناور درخت بنا دیا، دونوں کی اس سب بربادی کا حساب آپ سے لوں گی ۔ “
” چچی ماں پلیز چلئیے یہاں سے ” ۔
ایک سرد نظر دشاب پہ ڈال کے، سماہر عارفین کو لیے ان کے کمرے میں آئی تھی، انہی بیڈ پہ بٹھا کے، ان کے لئے پانی کا گلاس لے کے ائی۔
” پانی پی لیں چچی ماں “
عارفین نے اس کے ہاتھ سے گلاس لے کے، لبوں سے لگایا تھا لیکن وہ پھر سے رونے لگی سماہر کو دکھ ہو رہا تھا انہیں یوں دیکھ کے۔
” مت روئیے پلیز چچی ماں “
گلاس ان کے ہاتھ سے لے کے، سائیڈ پہ رکھ کے سماہر نے انہیں گلے سے لگایا تھا جبکہ کندھا ملتے ہی، برسوں کا غبار جیسے خود ہی نکلنے لگا تھا آنسوؤں کی صورت اور سماہر نے بھی انہیں رونے دیا تھا کہ برسوں سے جو دکھ وہ دل پہ لیے اب تک جی رہی تھی صرف اپنے بچوں کی خاطر، اب ان دکھوں میں طوفان سا آیا تھا اور اس طوفان کو بہنا ہی چاہئے تھا اور سماہر ان کا کندھا بن گئی تھی، ان کے لئے غمگسار بنی تھی۔ عارفین اسے دیکھنے لگی۔
” میرا بچہ بہت خوش قسمت ہے کہ تم اس کی ہمسفر ہو، میرے بچے کے بکھرے وجود کو تم نے سمیٹا ہے سماہر، اسے مزید بکھرنے سے بچا لیا تم نے، بہت نیک بچی ہو تم سماہر، میرے بچے کو بچا لیا، میں نہ بچا پائی، میں۔۔۔ “
سماہر نے ان کے دونوں ہاتھ تھام کے، ان پہ بوسہ دیا تھا اور پھر ان کی بھیگی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” آپ میرے لئے ہمیشہ محترم رہی ہے چچی ماں، میں نے ہمیشہ اپ کو کاپی کرنے کی کوشش کی ہے، آپ جیسا بننے کی کوشش کی ہے، جب میں آپ کو دیکھتی تھی، آپ کی محبت بھری شخصیت کو دیکھتی تھی تو مجھے یہی لگتا کہ کس مٹی سے بنی ہے چچی ماں،اتنی محبت، اس قدر صبر ان میں کہاں سے اور کیسے آیا ہے، آپ بہت اچھی ماں، بہت اچھی بیوی اور بہت اچھی ساس ہے اور سب سے بڑھ کے آپ ایک مضبوط عورت ہے، باکردار، مضبوط، ہمت والی عورت “
” میں مضبوط ہوتی تو میں اس حال میں نہ ہوتی، میں نے اپنے حق میں ہر ناانصافی کو سہا، اپنے بٹے ہوئے شوہر کو، میرا شوہر بٹ گیا، وہ دوسری عورت کا ہو کے رہ گیا، میں انہیں بچہ نہ دے پائی تو بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ دوسری شادی ہر مسئلے کا حل ہے، دوسری عورت بچہ دے گی ہمیں، لیکن میں سوچتی ہوں کہ اگر مرد نہ چاہے تو کھبی کوئی دوسری عورت نہیں آتی، وہ اپنی بیوی کے لئے اسٹینڈ لے تو کھبی دوسری عورت نہیں اتی، مرد کو خود دوسری عورت کی چاہ ہو تو پہلی بیوی روئے گی بس، وہ اپنے مرد کو نہیں روک سکتی کھبی، لیکن میں نے ہمیشہ خود سے سوال کیا ہے کہ میں کیا ؟؟ میری خواہشیں کیا ؟ میرے سپنے کیا ؟ م ۔۔۔ میرے “
آنسوؤں کا گولہ بن گیا تھا گلے میں، تبھی وہ رکی تھی جبکہ سماہر بھیگی آنکھوں سے ان کے درد سن رہی تھی۔
” میرا تو سب لٹ گیا تھا ناں، میرا شوہر بٹ گیا، وہ میرے پاس آتا تو مجھے لگتا جیسے میں اپنے شوہر کی بانہوں میں نہیں ہوں بلکہ میری نیلامی لگ چکی ہے، مجھے نیلام کیا جا رہا ہے اور میں اتنے سال نیلام ہی ہوتی رہی،لیکن میں پھر بھی خاموش رہی، چپ رہی، میران اور میرب آئے میری زندگی میں اور میں ان کے ساتھ مصروف ہوئی اور دشاب کو میں نے دیکھا کہ بہت آہستہ روی سے، لیکن مجھ سے دور ہوتے گئے اس قدر دور، کہ اپنے ہی بچے انہیں پرائے لگنے لگے تھے، میرے بچوں نے اپنے سگے باپ کی محبت میں دیکھی، سماہر کتنے بدقسمت بچے تھے میرے، اپنے سگے باپ کی محبت کے لئے ترستے رہے تھے،مجھے ازمائر سے کوئی شکایت نہیں ہے، وہ بھی میرا بچہ ہے،میں نے اسے میران سے کم نہیں سمجھا لیکن دشاب نے دونوں بھائیوں کو ایکدوسرے سے نفرت کرنا سکھایا لیکن میں کب جانتی تھی کہ میرے بچے کا اپنا سگا باپ، اس کی قیمت لگا چکا ہے، بیچ آیا ہے میرے بچے کو، میں کیوں نہ سمجھ پائی، میں کیوں نہ محسوس کر پائی اپنے بچے کے دکھ کو؟ اتنے سال میران میرے ساتھ اس گھر میں رہا، لیکن میں نہ جان پائی اس کے دل کا درد ، اس کا ہم سے گریز، ہم تینوں ہی ایکدوسرے کی محبت کے لئے ترستے رہے اور میں نہ جان پائی کہ میرا بچہ ،میرا میران کس درد سے گزر رہا ہے، میں نہ بچا پائی اپنے بچے کو “
وہ پھر سے رو رہی تھی، سماہر نے بمشکل انہیں سنبھالا تھا۔
” ہشششششش، چچی ماں، “
انہیں گلے سے لگائے وہ خاموش آنسو بہا رہی تھی، عارفین، میران اور میرب، محبت کے لئے کس قدر ترسے ہوئے تھے، کس قدر دکھ تھے ان کے،نارسائی کے دکھ، نفرت اور محبت کے بیچ پھنسے ہوئے معصوم بچے اور ان کی ماں نے کیا کچھ سہا ہوگا، کیا کچھ، سماہر کا دل کانپ کے رہ گیا تھا۔
” میران کی زندگی میں بہار بن کے آنے کے لئے شکریہ میری بچی، میرے بیٹے سے محبت کرنے کے لئے، اسے سمیٹنے کے لئے، اسے مکمل کرنے کے لئے “
سماہر نے ان کے گال پہ پیار کیا تھا۔
” پہلی بار ایسی ساس دیکھ رہی ہوں جو اپنی بہو سے خوش یے “
سماہر بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھتی کہنے لگی جبکہ اس حالت میں بھی عارفین کے لب مسکرائے تھے، دل کا بھاری پن ہلکا ہوا تو ہنس بھی پڑی تھی سماہر کی بات پہ اور سماہر انہیں دیکھے گئی۔
ماں، کیا ہے ماں؟ کیسی ہوتی ہے ماں؟؟ ایسی ؟؟ اتنی نرم دل، مہربان، اپنے بچے کے حق کے لئے رونے والی، ظالم کے سامنے تن کے کھڑی ہونے والی، اس گھر کے دو بزرگ مرد خوب کھیلے ہیں اس گھر کی دو عورتوں کے ساتھ، چاہے وہ تابعہ ہو یا پھر عارفین۔ دونوں ہی مظلوم ہیں اپنی جگہ، دونوں کے ساتھ دھوکا ہوا اور دونوں کو توڑ دیا گیا، گردن تان کے اکڑ کے چلنے والے یہ دو مرد ، کھبی نہیں محسوس کر سکتے اپنی بیویوں کے دل کا حال، اپنی جوانی وار دی انہوں نے اور پھر بھی ان کا نصیب بےوفا مرد ہی ٹھہرے، یہ درد کوئی نہیں محسوس کر سکتا جب تک کہ اس پہ بیتتی نہیں ہے، گہرا سانس لیتی وہ اپنے امڈتے آنسوؤں کو پی گئی تھی۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ازمائر بیٹا “
وہ جو آنکھیں موندے اپنے بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا، اب وہ گھر شفٹ ہو چکا تھا اور اب پہلے سے بہتر تھے اس کے زخم۔ دشاب کی آواز پہ اس نے آنکھیں کھولی تھی اور سپاٹ آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا تھا۔
” کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟؟”
دشاب کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔
” اپنے بیٹے سے کچھ باتیں کرنے آیا ہوں “
” مجھے نہیں کرنی کوئی بات “
ازمائر نے نظریں چرائی تھی مبادا اپنے باپ کے آنسوؤں کے آگے کمزور نہ پڑ جائے، وہ بیڈ پہ اٹھ کے بیٹھ چکا تھا جبکہ وہ لب کاٹتے کسی مجرم کی طرح، اس کے بیڈ کے قریب رکھے صوفے پہ بیٹھے تھے۔ دھندلی آنکھوں سے انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جو لب بھینچے سامنے دیوار کو دیکھ رہا تھا۔
” مجرم کو سزا سنائی جاتی یے بیٹا، رخ نہیں موڑا جاتا “
ازمائر کوئی حرکت نہیں کی۔
” میں سماہر کو تمہارے لئے ہی مانگنے گیا تھا لیکن ۔۔۔”
” ڈیڈ پلیز جسٹ اسٹاپ اٹ “
ازمائر نے تیزی سے ان کی بات کاٹی تھی۔
” میری بیوی مائزہ ہے، گڑھے مردے نہ اکھاڑے اب آپ “
دشاب خاموش ہو گئے تھے، ازمائر بھی رخ موڑ گیا تھا ۔
” کیوں ناراض ہے میرا بیٹا مجھ سے ؟”
دشاب نے پھر سے سوال کیا تھا، ازمائر انہیں دیکھنے لگا۔
” آپ کو پتہ ہونا چاہئے ویسے تو “
پھر سر جھٹکا تھا۔
” میں خود رشتوں کا مجرم ہوں، آپ سے کیا گلہ، لیکن ایک ہی شکایت رہے گی مجھے تا عمر، کہ اگر ایک باپ بن کے ہم سے رویہ کیا ہوتا تو آج کوئی بھی اپنے نصیب کو نہ رو رہا ہوتا، لیکن آپ ایک سیاستدان کی طرح گھر میں اپنی پولیٹیکس چلاتے رہے۔ “
” جانتا ہوں میران کو اس عورت کے پاس ۔۔۔ “
دشاب کہنا چاہ رہے تھے جب ازمائر نے ان کی بات کاٹی تھی۔
” بس کریں ڈیڈ، مجھے کوئی جھوٹی کہانی نہیں سننی، سن چکا ہوں سب میں۔
” لیکن میں آپ کی طرح نہیں ہوں، اپنے گناہ آپ پہ نہیں ڈال رہا، اپنے گناہ میں اپنے ہی گردن پہ لے رہا ہوں، ہاں میں غلط کر چکا ہوں، خود کے ساتھ، میران کے ساتھ، مائزہ کے ساتھ، میں حق نہیں رکھتا کہ کوئی مجھے معاف کرے، اتنا سب برا کر لینے کے بعد، میں اب اچھا بن کے سب سے اچھائی کی امید رکھوں، میری بیوقوفی ہی یہ، بھائی کا دشمن، اپنے ہی خاندان کی لڑکی کے عزت کا قاتل اور اپنی بیوی کے لئے بیوفا مرد، اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری عورت سے تعلق رکھنا،کیونکہ مجھے میری پسند نہیں ملی اور میں دوسری لڑکی سے انتقام لینے لگ گیا، میرے گناہوں میں آتا ہے لیکن مائزہ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہے، اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوں میں سب، پڑھ لیتا ہوں سب، میں وہ سب ٹھیک نہیں کر سکتا لیکن بارہا اپنے خدا سے بخشش کی دعا کرتا ہوں کہ مجھے معافی مل جائے، میرے گناہوں کے لئے مجھے معاف کر دیں میرا رب، آپ ڈیڈ؟ آپ نے کھبی کوشش کی اپنی بیوی کی آنکھوں میں دیکھنے کی ؟؟ کھبی کی کوشش اپنے بچوں کی آنکھوں میں دیکھنے کی؟؟ کھبی پڑھا؟؟ کچھ تو پڑھا ہوگا؟؟ لیکن پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہو تو کیا پڑھنا؟؟ میں برباد ہو چکا ہوں ڈیڈ، میری زندگی برباد ہو چکی ہے، میں نہیں کہہ رہا کہ آپ قصوروار ہے لیکن کچھ تو قصور ہے آپ کا بھی، جو آپ کا بیٹا برباد ہوا پڑا ہے، کچھ تو قصور ہے “
دشاب ملک خاموشی سے نظریں جھکا گئے۔
” کاش ہمارے گھر میں پولیٹیکس کی جگہ، رشتوں کا تقدس سکھایا جاتا بچوں کو، تو شاید آج یہاں کوئی اپنے آپ میں بکھرا پڑا نہ ہوتا “
ازمائر نے بس اتنا کہا اور دوبارہ سے بیڈ پہ لیٹ کے آنکھیں موند لیں، دشاب اس کی پیٹھ گھورتے رہے نم آنکھوں سے، جبکہ ازمائر خاموشی سے آنکھیں موندے، اپنے اندر چلتی جنگ سے لڑ رہا تھا، مائزہ نہیں آئی تھی یہاں، وہ ازمائر سے ملنے آئی تھی ہاسپٹل لیکن یہاں آنے کے لئے خود کو آمادہ نہ کر پائی تھی وہ۔ ازمائر نے بھی اپنے وعدے کے مطابق اسے فورس نہیں کیا تھا لیکن دل میں ہوک سی اٹھی تھی، مائزہ نے ابھی تک اسے معاف نہیں کیا تھا۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” ہم کہاں جا رہے ہیں؟ بتانا پسند کریں گی آپ بیگم ؟”
میران کے انداز پہ اسے ہنسی آئی تھی، ڈرائیور نہ جانے کن راستوں سے گزرتا جا رہا تھا جبکہ پچھلی سیٹ پہ بیٹھی سماہر کی خاموشی میران کو مشکوک کر رہی تھی لیکن آنکھوں میں پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کچھ دیکھ نہیں پا رہا تھا۔
” صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے میران ارتضی ملک “
” کچھ زیادہ ہی میٹھا لگ رہا ہے مجھے آج تو “
سماہر کی طرف جھک کے، اس نے آہستہ آواز میں سرگوشی کی تھی جبکہ سماہر نے اسے پیار بھری گھوری دینے پہ ہی اکتفا کیا تھا، جسے میران نہیں دیکھ سکتا تھا۔
” سماہر، مجھے لگ رہا ہے میں اندھا ہو چکا ہوں “
میران جھنجھلایا تھا جبکہ سماہر نے اپنی ہنسی روکی تھی اور اس کی طرف ہلکا سا جھکی تھی۔
” میری محبت میں “
سرگوشی کرتی وہ لب دانتوں تلے دبا کے پیچھے ہوئی تھی جب گاڑی ” میران مینشن ” کے سامنے رکی تھی اور گاڑی کا دروازہ کھلا تھا ۔
” ویلکم میران سائیں اور سائیں بی بی “
منان کاکا کی آواز میران کے کانوں سے ٹکرائی تو لب بھینچ لیے تھے۔
” یہ تم سب ملے ہوئے ہو آپس میں ؟”
” معاف کر دیں سائیں “
منان نے جلدی سے کہا تھا جبکہ سماہر نے میران کو گاڑی سے اترنے میں مدد دی تھی۔
” اب تو ہٹا دو یہ ۔۔۔ سماہر یار “
” نہیں۔۔ “
اس کا بازو تھامے وہ میران کے ساتھ آہستہ روی سے چلتی،لان سے ہوتی اندر آئی تھی۔ اس پورے لاؤنج کی خوبصورتی کو اس نے بےحد محبت سے دیکھا تھا اور پھر وہاں موجود ان دو انسانوں کو بھی،جن کے لئے یہ سب تیاریاں کروائی گئی تھی۔
” سماہر ۔۔ “
میران کی اواز پہ وہ چونکی تھی اور دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے میران کی آنکھوں پر سے وہ پٹی کھول کے ہٹا دی تھی اور میران نے خوشگوار حیرت کے ساتھ وہ سب دیکھا تھا۔ پورے لاؤنج کو خوبصورت پھولوں سجایا گیا تھا،
” Happy Family Day “
” Happy Mother Day”
” Happy Siblings Day “
” We Love you Meeran “

اور عارفین تھی وہاں، اس کی چھوٹی بہن میرب تھی وہاں، اس کی آنکھیں پل بھر میں نم ہوئی تھی، اس نے حیرت سے سماہر کو دیکھا تھا، اس کی نم آنکھوں نے سماہر کا دل پگھلا دیا تھا لمحہ بھر میں۔
” آج تمہارا دن ہے میران، تم،میں، ماں اور میرب “
اس کی آنکھیں متشکر ہوئی تھی، نظریں پھیر کے وہ پھر سب دیکھنے لگا ۔
” آگے بڑھو میران اور اپنی بانہوں میں سمیٹ لو ان خوبصورت رشتوں کو “
سماہر نے سرگوشی کی تھی ۔ کتنی دوریاں تھی ان کے بیچ، کس قدر ہچکچاہٹ تھی ان کے بیچ، ماں اور بہن سے کتنا دور ہو گیا تھا وہ، کس قدر اجنبی سے بن گئے تھے یہ دو رشتے اس کے لئے، کس قدر گریز تھا ان سے اور آج، اس لمحے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کیسے آگے بڑھے؟ کیسے انہیں سمیٹ لیں اپنی پناہوں، کیسے ان کا مان بڑھائے؟ وہ شرمندہ تھا اپنے رشتوں سے، اب کیسے وہ انہیں یہ کہے اس عورت سے کہ وہ ان کا بیٹا ہے یا کیسے کہے اس معصوم لڑکی سے کہ وہ اس کا بھائی ہے ۔ لیکن عارفین نے اسے سمیٹا تھا، اپنی بانہوں میں بھر کے، اپنے بچے کو سینے سے لگایا تو ٹھنڈک کا احساس ان کے وجود میں سرایت کر گیا تھا۔ ۔
” میرا بچہ، میرا میران ، اپنی ماں کے دل کا سکون، میرا بیٹا، کیوں اپنے دکھ مجھ سے چھپاتا رہا، کیوں مجھے نہ بتائے اپنے درد، کیوں اپنی ماں سے چھپایا سب، میرا بچہ ، میرا میران “
” ہشششششش “
میران خود پہ ضبط کرتا ان کی آنکھوں میں دیکھتا، انہیں رونے سے منع کر رہا تھا اور پھر خود سے لگا کے اس نے عارفین کے بالوں میں اپنے لب رکھے تھے، اس کی ماں، جنہوں نے اتنے دکھ سہے تھے وہ کیسے آپ ی دکھ بھی انہیں بتاتا، کیسے ؟ نظریں بھٹک کے میرب پہ گئی، اس کی چھوٹی سی بہن، جو بھیگی آنکھوں سے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی، اس کی معصوم سی، نرم دل اور بہت اچھی بہن، جو اس کے دھتکارنے کے باوجود بھی، اس کے آگے پیچھے پھرتی، اپنے بھائی کی چوٹ پہ، آنسو بہاتی۔ میران کے دیکھنے پہ اس کے رونے میں شدت آئی تھی اور جیسے میران، عارفین سے الگ ہو کے اس کی طرف بڑھا، میرب اس کے سینے سے جا لگی تھی۔ کس قدر تڑپی تھی وہ اس لمحے کے لئے کہ وہ اپنے بھائی کے سینے سے جا لگے۔
” بھائی۔۔ “
اس نے بس اتنا کہا تھا اور رو دی تھی جبکہ سماہر وہیں کھڑی اس مکمل ہوتی فیملی کو دیکھ رہی تھی۔ عارفین نے متشکر نظروں سے سماہر کو دیکھا تھا تو وہ مسکرا دی۔
” کتنی چاہ تھی کہ میں اپنے بھائی کے سینے سے لگ کے، اپنے سب آنسو بہاؤں، کتنی خواہش تھی میری “
وہ کہتے کہتے ہنسنے لگی تھی،
” مما، دیکھئیے ناں، “
عارفین نے مسکرا کے دونوں کو دیکھا تھا، جبکہ میران اسے خود سے لگائے سماہر کو دیکھنے لگا، کس قدر محبت تھی ان آنکھوں میں سماہر کے لئے، جبکہ سماہر مسکراتی آنکھوں سے اپنے میران کو دیکھ رہی تھی، اشارے سے اس نے سماہر کو اپنے پاس بلایا تھا اور سماہر مسکراتی ان تینوں کے قریب گئی تھی لیکن آنکھیں میران پہ ٹھہری ہوئی تھی۔
” تھینک یو سماہر “
میرب کی اواز پہ وہ میران سے نظریں ہٹا کے، اسے دیکھنے لگی۔
” خوش رہو ہمیشہ “
سماہر نے محبت بھرے انداز میں کہا تھا اسے۔
” دنیا جہاں کی خوشیاں میرے بچوں کا نصیب بنے”
عارفین نے ان تینوں کو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لیا تھا جبکہ میران نے سماہر کا ہاتھ تھام کے نرمی سے دبایا تھا۔
“تھینک یو “
سرگوشی کرتا وہ محبت سے سماہر کو دیکھ رہا تھا اور پھر وہ دن ان کی زندگی کا بہترین دن تھا، انہوں نے ساتھ میں بیٹھ کے کھانا کھایا، دیر تک وہ باتیں کرتے رہے، میرب کے شکوے گلے تھے جبکہ میران کی مسکراہٹ تھی، عارفین کی ہنسی تھی جبکہ ان لمحوں کو سیلفی کی رٹ لگاتی سماہر کی کھلکھلاہٹ تھی اور ان لمحوں کو وہ کیمرے کی آنکھ میں قید کرتی گئی۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤