Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

وہ ساکت بیٹھی اپنے سامنے رکھے اس پیپر کو دیکھ رہی تھی جس کے مطابق وہ پریگننٹ تھی، اسے خوش ہونا چاہئے ؟؟ یا پھر اسے رونا چاہئے ؟؟ اسے خود کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا بس ذہن بھاری ہو رہا تھا، کیسے ہو گیا یہ سب ؟؟ جب وہ شخص ہی لاتعلق ہے تو کیسے ؟؟
تابعہ، بوا کے ساتھ کھانا لے کے اس کے پاس آئی تھی، اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کے، انہیں بےحد دکھ ہو رہا تھا، لیکن وہ مائزہ کا درد کم کرنے میں ناکام ہی رہی، وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹوٹ رہی ہے، بکھر رہی ہے اور تابعہ اسے جوڑنے کی کوشش میں سرگرداں ہے، وہ تو تعلق کا سوچ رہی تھی ان دونوں کے، لیکن مائزہ پریگننٹ ہے، یہ بات انہیں پریشان کر رہا تھا۔
” مائزہ ، آؤ بیٹا کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے “
مائزہ چونک کے اپنی ماں کو دیکھنے لگی جو اس کے لئے کھانا نکال رہی تھی۔ وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی جبکہ تابعہ کھانا کھاتے ہوئے، وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” مائزہ اگر تم نہیں چاہتی تو میں ڈاکٹر سے بات کرتی ہوں، وہ ایبارشن کر دے گی “
مائزہ نے بےحد چونک کے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔
” میں کیسے کر سکتی ہوں ایسا؟؟ وہ تو بہت چھوٹا سا ہے ، آپ نے دیکھا اس پیپر کو”
مائزہ کی بات پہ تابعہ نظریں چرا گئی، مائزہ نے اب شاید رونا ہی چھوڑ دیا تھا، اتنا رو چکی تھی وہ، کہ اب رونا بھی نہیں آتا تھا اسے، بس ہمیشہ بےتاثر چہرہ رہنے لگا تھا اس کا۔
” ایم سوری بیٹا ، میرا مطلب یہ نہیں تھا “
” مجھے گھر جانا ہے مما “
اب کے چونکنے کی باری تابعہ کی تھی۔
” کیا مطلب ؟؟”
” مطلب یہ کہ، میرا یہاں دم گھٹتا ہے، وقت نہیں گزرتا، مجھے گھر جانا ہے “
مائزہ بےدلی سے کہنے لگی ۔
” تو تم پھر اس درندے کے پاس جانا چاہتی ہو مائزہ ؟؟ بھول گئی کیا سب ؟؟”
تابعہ کو غصہ آیا تھا جبکہ مائزہ اسے دیکھنے لگی۔
” اپنے گھر جا رہی ہوں مما، وہاں کا نہیں کہا میں نے، مجھے اپنے روم کی یاد آ رہی ہے بہت اور۔۔۔۔ “
وہ خاموش ہو کے نظریں جھکا گئی ۔
” میں چاہتی ہوں کہ میرے یہ تمام لمحے، اس گھر اور کمرے میں گزرے جہاں میں بڑی ہوئی ہوں”
تابعہ اداس نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھے گئی ۔
” وہاں اس شخص سے سامنا ہوگا، تنگ کرے گا وہ تمہیں، ٹارچر کرے گا ذہنی طور پہ”
” کچھ نہیں ہوگا، اب میں مضبوط مائزہ بن چکی ہوں، مجھے اب کوئی نہیں توڑ سکتا “
مائزہ کا لہجہ مضبوط تھا، تابعہ گہرا سانس لے کے رہ گئی ۔ ۔
” ٹھیک ہے، لنچ کے بعد چلتے ہیں “
” ہمم “
آہستگی سے سر اثبات میں ہلا کے وہ پھر سے کھانے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

اروشے کو اپنے کلینک میں دیکھ کے، پریشے پل بھر کے لئے حیران ہوئی تھی۔ جبکہ اروشے مسکرانے کی کوشش کرتی اس کی ٹیبل کے قریب آ رکی تھی۔
” میں بیٹھ سکتی ہوں یہاں؟”
” ہممم بیٹھو “
اس کے کہنے پہ اروشے کرسی پہ بیٹھ کے، اس کے کمرے کا جائزہ لینے لگی جبکہ پریشے اچھنبے سے اسے دیکھ رہی تھی، اس کا یوں انا کس لئے تھا اتنے عرصے بعد ۔ وہ اب مسکرا کے پریشے کو دیکھ رہی تھی۔
” کتنی عجیب بات ہے ناں پریشے، ہم جب طاقتور ہوتے ہیں اور ہمارے پاس جب کوئی اختیار ہوتا تو ہم اس کا غلط استعمال کر کے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بلکل نہیں چوکتے اور پھر جب منہ کے بل زمین پہ گرتے ہیں، تب اٹھ کے پھر سے چلنا تو شروع کر دیتے ہیں لیکن گرنے سے جو ہمارا چہرہ کیچر زدہ ہو چکا ہے اسے صاف نہیں کر پاتے، کیونکہ وہ کیچر نہ صرف چہرے پہ،بلکہ ہمارے پورے وجود پہ لگ چکا ہوتا ہے “
اس کی آنکھیں بھر آئی تھی یہ سب کہتے ہوئے،جبکہ پریشے سپاٹ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” اور میں اس قدر کیچر زدہ ہوں پریشے، کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے صاف کروں اپنے وجود پہ لگے اس کیچر کو “
پریشے بنا کچھ کہے اسے دیکھ رہی تھی۔
” تمہارے پاس آئی ہوں پریشے، میری مدد کر دو، مجھے اس کیچر سے نکالنے میں میری مدد کردو پلیز “
پریشے کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا بات کرے اروشے سے؟ کیا کہے اور کیا پوچھے؟
” عاھل خان۔۔۔۔ “
یہ کہہ کے وہ خاموش ہوئی تھی جبکہ پریشے اچھنبے سے اسے دیکھنے لگی ۔
” کو تم سے چھین تو لیا میں نے، لیکن اسے کھبی اپنا نہ بنا سکی میں، میں اس کے لئے ہمیشہ ایک بیکارہ اور فالتو ذات ہی رہی کیونکہ وہ تمہاری جگہ مجھے نہیں دے پا رہا تھا اور نہ کھبی دیا اس نے، میں نے مانگا بھی تو انکار ہی سننے کو ملا ۔ کیونکہ زبردستی کے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں،میں سمجھی تھی کہ میں اپنی خوبصورتی اور چالاکی سے، اسے اپنا بنا دوں گی لیکن جھوٹ اور دھوکے کی بنیاد پہ بنے رشتے، کھبی پائیدار نہیں ہوتے، مجھے یہ سمجھنے میں، بہت وقت لگا، بہت زیادہ وقت “
” ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں اروشے، اگر تم یہ سب کہنے آئی ہو تو میرے پاس ان سب کا کوئی جواب نہیں “
پریشے نے جزبز ہوتے کہا تھا کہ اس کے زخم تازہ ہو رہے تھے جبکہ اروشے ہنسنے لگی ۔
” عاھل خان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے پریشے، یہ جاننا ضروری ہے تمہارے لئے”
پریشے لب بھینچے اسے دیکھنے لگی ۔
” اس کا اپنا باپ اسے دھمکی دے چکا تھا کہ اگر عاھل مجھ سے شادی نہیں کرے گا تو وہ اس کی ماں کو تعلق دے دے گا کوئی بھی گھٹیا الزام لگا کے”
اروشے نے تلخی سے کہا تھا جبکہ پریشے حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
” اولاد کے لئے یہ دھمکی بہت خطرناک ہوتی ہے جب مقابل بھی ماں ہو، وہ ماں جس کی حرمت اولاد کے لئے اولیت ہوتی ہے اور پھر اسے مجبور کیا گیا کہ وہ مجھ سے شادی کرے”
پریشے کی آنکھیں نم ہوئی تھی اپنی چچی کا سوچ کے، جو اس دنیا سے جا چکی تھی اب۔
” اور ۔۔۔ “
وہ کہتے کہتے سر جھکا گئی تھی۔
” عاھل خان کو اپنے قریب لانے کے لئے، اسے نشہ کروایا تھا میں نے، تا کہ اسے ۔۔۔۔۔ “
خاموش ہو کے وہ لب کاٹنے لگی جبکہ پریشے تاسف بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی، کتنا گر چکی تھی وہ، اس قدر کہ پریشے کے پاس الفاظ ختم تھے، اروشے کی شان میں کچھ کہنے کے لئے ۔ ۔
” اب میں بیمار رہنے لگی ہوں، میرا دماغ ناقص ہو چکا ہے، بہت بوجھ ہے اس دل پہ، سکون کہیں نہیں ہے، ایسے لگتا ہے کہ میں خودکشی کر لوں، خود کو ختم کر دوں، شاید دو انسانوں کی بددعا لگی ہے مجھے، پریشے مجھے معاف کر دو، پلیز مجھے معاف کر دو، تا کہ کچھ تو سکون ہو، تم سے الگ کرنے کے لئے، میں نے عاھل خان کے قریب جانے کے لئے ، ہر غلط راستہ اپنایا، سرتوڑ کوششیں کی لیکن وہ نہ میرا تھا اور نہ میرا ہو سکا، اور نہ کھبی میرے قریب انا چاہا، مجھے معاف کر دو پریشے پلیز “
وہ رو رہی تھی، پھوٹ پھوٹ کے روتی، وہ پریشے کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی جبکہ پریشے نے جلدی سے اپنے پاؤں پیچھے کر کے، اسے اٹھایا اور صوفے پہ لے جا کے بٹھایا۔
” میں تمہیں معاف کر چکی ہوں اروشے، پلیز ایسے نہیں کرو اور رونا بند کرو “
سدا کی نرم دل پریشے اسے معاف کر چکی تھی جبکہ اروشے شرمندگی سے ، اس کی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی ۔ اگر وہ ہوتی تو شاید کھبی نہ معاف کرتی لیکن پریشے اسے معاف کر چکی تھی، وہ شرمندہ ہو رہی تھی کہ کیسے دو انسانوں کی زندگی برباد کر دی اس نے اور اب رنج و غم اس سے الگ ہی نہیں ہو پا رہے ۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” میں آفس تک جا رہا ہوں تو تمہیں کچھ چاہئے تو نہیں؟”
کمرے میں آتی سماہر نے بےحد حیرت سے اس شخص کو دیکھا تھا جو صبح سے اس کو پریشان ہی کر رہا تھا اپنی حرکتوں سے، پہلے ناشتے کی ٹیبل پہ اور اب یہاں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ان کے بیچ اور وہ سالوں سے بےحد محبت سے رہتے آ رہے ہو ایکدوسرے کے ساتھ۔
تبھی لب بھینچے نظریں پھیر گئی تھی، میران نے چونک کے اسے دیکھا تھا، رات کو تو وہ اسقدر قریب آئی تھی میران کے اور اب ؟؟
تو کیا اتنی نیند میں تھی کہ کچھ یاد ہی نہیں سماہر کو ؟؟
وہ سوچنے لگا۔
” اگر کچھ چاہیئے تو پلیز کال کر دینا”
اس نے پھر سے کہا تھا جبکہ سماہر اسے گھور کے دیکھنے لگی۔ ۔
” مسئلہ کیا ہے ؟؟ صبح سے پریشان کیوں کر رہے ہیں مجھے ؟؟”
” میں نے کب پریشان کیا ؟؟ میں تو تمہاری پریشانی کم کر رہا ہوں “
میران ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔ ۔
” پورے چار دن بعد آپ کو خیال آیا کہ آپ کو میری پریشانی کم کرنی چاہئے “
سماہر کا لہجہ طنزیہ بھی تھا اور شکایتی بھی۔
” تو تم کال کر لیتی اگر میں نہیں آیا تھا “
میران نے بلکل اچانک کہا تھا جبکہ سماہر کی آنکھیں پھیلی تھی۔
” میں؟؟ میں کیوں کال کرتی مسٹر میران ملک ؟؟ “
” کیونکہ آپ مسز میران ملک جو ہے”
میران نے بھی اسی کے انداز میں کہا تھا جبکہ سماہر نے گہرا سانس لے کے، اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کی تھی۔
” کیونکہ آپ بےحد تنہائی پسند ہے تو سوچا آپ کی تنہائی میں باعث خلل نہ ہوں “
” لیکن میری تنہائی میں تو تم بھی میرے پاس ہوتی ہو سماہر “
اچانک سے گھمبیر لہجے میں کہتا وہ سماہر کی طرف قدم بڑھا چکا تھا جبکہ سماہر بوکھلا کے پیچھے قدم رکھ چکی تھی۔
” سب جھوٹ اور فریب “
اپنی آواز کو نارمل کرتی وہ بولی تھی۔
” لیکن تمہیں تو میرا اعتراف محبت زیادہ پسند آیا تھا ۔ “
وہ اب بھی قدم آگے بڑھا رہا تھا جبکہ سماہر پیچھے کی طرف قدم رکھتی، اسے دیکھ رہی تھی۔
” جھوٹے الفاظ زیادہ اٹریکٹو ہوتے ہیں، شاید اس لئے “
” تو کیا میں فریب ہوں؟؟”
سماہر کی پشت دیوار سے لگی تھی، اب مزید راہ فرار نہیں تھا،جبکہ میران ایک ہاتھ دیوار پہ رکھ کے، اس کے قریب ہوا تھا کہ اس کی سانسیں سماہر کے چہرے کو جھلسا رہی تھی جبکہ اس نزدیکی پہ، سماہر کا دل جیسے پسلیوں سے باہر آ رہا تھا۔
” بولو ناں ؟؟ کیا میں فریب ہوں؟؟”
وہ پھر سے بوجھل لہجے میں پوچھ رہا تھا جبکہ سماہر کا دل چاہا کہ کہہ دے کہ نہیں تم عشق ہو، تم جان سماہر ہو، تم میرے میران ہو،
لیکن وہ خاموش ہی رہی۔
” کیا ہوا؟ میں قریب آیا تو تم خاموش ہی ہو گئی ۔۔ کچھ کہو گی نہیں؟؟ “
سماہر کے لئے ان آنکھوں سے نظریں پھیرنا مشکل امر لگ رہا تھا، کس قدر خوبصورت آنکھیں تھی اس شخص کی، بےحد مغرور آنکھیں، جن میں سماہر کا عکس تھا، جن میں عشق کا غزل پنہاں تھا۔
” مجھے کچھ نہیں کہنا ۔ “
اتنا ہی کہہ کے، وہ نظریں پھیر گئی جبکہ آگے بڑھ کے میران نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، گہرا سانس لیا تھا۔ سماہر نے اس لمس کو اپنے مکمل وجود میں حفظ کیا تھا۔ وہ اب سماہر کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
” مجھے الفاظ کی بازی کھیلنا نہیں آتا سماہر، احساسات کو خوبصورت لفظوں میں پرونا نہیں جانتا میں، میں تمہارے جیسا خوبصورت انسان نہیں ہوں کہ میں عشق کو لفظوں میں ادا کر سکوں۔۔۔ لیکن “
وہ خاموش ہوا تھا پل بھر کے لئے، جبکہ سماہر کی تمام حسیات بیدار ہوئی تھی اسے سننے کے لئے۔
” مجھے عشق کا سلیقہ تم سے آیا سماہر، سلیقہء عشق تم سے سیکھا میں نے، روح میں اتر کے ، عشق کرنا تم سے سیکھا میں نے سماہر، تم سماہر میران ملک ہو، جانتی ہو مجھ جیسے ادھورے انسان کو مکمل کرنے کے لئے یہی ایک جملہ کافی ہے میرے لئے، کہ میں سماہر کی زندگی کے اس کتاب میں، جس میں سماہر کے تمام احساسات، خیالات، اور چاہتیں لکھی ہوئی ہے، اس کتاب کا پہلا ورق صرف میں ہوں۔۔۔ میں گنہگار ہوں، برا ہوں، غلط ہوں، لیکن پھر بھی دنیا میں ایک واحد انسان موجود ہے جو ان سب کے باوجود مجھے اولیت قرار دیتی ہے، وہ تم ہو سماہر، مجھے میرا غرور بخشنے کے لئے بہت شکریہ “
سماہر گنگ اسے دیکھ رہی تھی، سن رہی تھی، اس شخص کو آج کیا ہوا تھا ؟؟ کیا کہہ رہا تھا وہ شخص؟؟ وہ بولتا بھی ہے، اتنا زیادہ کیسے بول گیا وہ آج؟؟ کیا کچھ سوچ رہی تھی وہ ۔ اس کی ناراضگی اب بھی برقرار تھی لیکن وہ اس شخص کو دھکا دے کے، خود سے دور کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی، کیونکہ وہ عشق کرتی تھی اس شخص، اس کا محبوب تھا وہ، اس کا محرم۔
میران نے ہاتھ اس کے گال پہ رکھے تھے، اس کے ہاتھ کا گرم لمس محسوس کر کے سماہر آنکھیں موند گئی جبکہ میران اس کے لبوں پہ جھکا تھا۔ نرمی سے ان لبوں پہ بوسہ دے کے، وہ پیچھے ہوا تھا۔
” ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا سماہر “
مبہم سرگوشی پہ اس نے آنکھیں کھولی تھی، سانس روکے وہ میران کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران پھر سے ان لبوں کو چھو کے، اپنی سانسیں مہکانا چاہتا تھا لیکن وہ پیچھے ہوا تھا۔ قدم قدم پیچھے رکھتا وہ سماہر سے دور ہو رہا تھا، چہرے پہ دلفریب سی مسکراہٹ تھی ، سماہر اسے ہی دیکھ رہی تھی بنا پلکیں جھپکائے، وہ کمرے سے نکلا تو سماہر نے رکی سانس بحال کی تھی، اپنے لبوں پہ ہاتھ رکھ کے، اس نے وہ لمس اپنی روح میں اترتا محسوس کیا تھا، لب ہلکا سا مسکرائے تھے۔
” بھول جائیے میران ارتضی ملک، کہ میں اتنی جلدی مان جاؤں گی “
آنکھیں مسکرانے لگی تھی، وہ تیزی سے کھڑکی کے پاس گئی تھی اور ہلکا سا پردہ ہٹا کے، وہ میران کو دیکھنے لگی جو گاڑی میں بیٹھ رہا تھا،لب دانتوں تلے دبا کے، وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ چکی تھی کہ اس شخص کی ہر خطا معاف تھی ۔

وہ ایک شخص بھی کتنا عجیب سا ہے
کہ اس کی ہر خطا معاف ہے ۔۔
وہ اتنا منفرد سا ہے۔۔
وہ اتنا دلکش سا ہے
کہ۔۔
اس کی ہر خطا معاف کرنے کو دل چاہتا ہے ۔۔ !!!

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤