Rate this Novel
Episode 11
وہ گہری نیند میں تھا، جب اچانک اسے محسوس ہوا کہ بار بار اس کا نام لیا جا رہا ہے کسی سرگوشی کی مانند۔ ذہن بیدار ہوا تھا تو اپنی گردن پہ گرم سانسوں کا لمس محسوس ہونے لگا اسے، بوجھل سرخ ہوتی آنکھوں سے، اس نے اپنے بےحد قریب دائیں طرف دیکھا، جہاں سماہر گہری نیند میں، اس کی بانہوں میں آنکھیں موندے ہوئی تھی، لب نیم وا تھے، ہلکی ہلکی سرگوشی تھی میران کے نام کی، ان خاموشیوں میں، اس کی سرگوشیاں کسی ساز کی طرح بج رہی تھی، وہ بےحد نزدیک سے، اسے دیکھے گیا، بنا اسے جواب دیے، بنا کسی آہٹ کے، اس کی آنکھیں طواف کر رہی تھی سماہر کے چہرے کا۔ جبکہ وہ نیند میں کچھ بڑبڑا رہی تھی۔
” آئی ہیٹ یو، میں ۔۔۔۔۔۔ ناراض ۔۔۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ مغ۔۔۔۔۔۔۔۔ رور ۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔۔۔میران “
آنکھیں نم ہوئی تھی اور لب مسکرائے تھے، تو وہ ناراض ہے بس، وہ نفرت نہیں کرتی اس سے، تو کیا وہ کچھ نہیں جانتی؟؟ اسے کچھ نہیں معلوم ؟؟ کیسے بتاؤں میں؟؟ اپنا گناہ ؟؟ اہنی حقیقت کیسے ؟؟
وہ خاموشی سے سوچے جا رہا تھا۔
بارش کے بوندوں کی
ہوتی کہاں ہے زبان
سلگتے دلوں میں ہیں
خاموش اٹھتا دھواں۔۔۔
وہ مزید میران کے قریب ہوئی تھی کہ اس کے نازک وجود کا لمس، میران کو مدہوش کر رہا تھا اور اس کے سانسوں کی الجھی گرہیں، میران کی گردن سے ٹکراتی، اسے جھلسا رہی تھی، اس کا نازک مرمریں سا ہاتھ میران کے سینے پہ تھا، جو وہ میران کے گرد لپیٹنے لگی تھی۔ ایسا کیا ہوا تھا اچانک سے، کہ سماہر یوں کر رہی تھی، وہ حیرت کا بت بنا تھا لیکن یہ لمس بھی تو بےحد مدہوش کن تھا ان خاموش لمحوں میں۔
” میران ۔۔”
سماہر کی سرگوشی پہ وہ سماہر کی آنکھوں کو دیکھنے لگا، جو نیم وا آنکھوں سے اب اسے دیکھ رہی تھی۔ شہادت کی انگلی میران کے لبوں پہ پھیرتی، وہ ہلکا سا مسکرا رہی تھی، نیند سے بوجھل آنکھیں ہلکی ہلکی سرخی لیے ہوئے تھی،
” مجھ سے دور کیوں۔۔۔۔۔ بھاگتے ہو؟؟ مجھے چھوڑ کے کیوں۔۔۔۔ کیوں چلے جاتے ہو؟؟ میں۔۔۔۔ میں تمہاری سماہر ہوں نا، مجھے محبت کرنے کو دل نہیں کرتا تمہارا ؟؟ “
میران سانس روکے اسے دیکھ رہا تھا، آج سماہر ویسے ہی لگ رہی تھی جیسے وہ پہلے ہوا کرتی تھی۔
” میری خاموشیوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے تم ۔۔۔ کیوں؟؟ ایسا کیوں میران ؟؟”
وہ بات کرتے کرتے، مزید میران کے قریب ہوئی تھی کہ اس کے لب ، میران کے لبوں کے بےحد قریب ہوئے تھے اور وہ اپنی مخمور آنکھوں سے، میران کی حیران آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ، جن میں حیرت کے ساتھ ساتھ، گھمبیر محبت کا عکس بھی تھا، نرمی سے سماہر کی کمر پہ اپنے دونوں بازو باندھے تھے۔
” بارش سے مجھے محبت ہے میران، کیونکہ وہی بارش تھی جب تم نے اعتراف کیا تھا۔۔۔ اعتراف محبت، تمہیں یاد ہے ؟؟ “
وہ اب میران سے پوچھ رہی تھی اور میران کے چہرے پہ ، وہ لمحہ یاد کر کے مسکراہٹ بکھری تھی۔
” جب کسی سے محبت ہو، عشق ہو، اس کا ہی خیال ہو، بےدھیانی میں کی گئی گفتگو میں، الفاظ کا پیراہن ہو، اور جب وہی شخص اعتراف محبت کر لیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے ؟؟ مجھے بھی ویسا ہی محسوس ہوا تھا، اردگرد کا منظر گم ہو گیا تھا، جیسے میری سوچوں کا تسلسل ٹھہر گیا تھا، وقت ٹھہر گیا تھا، دھڑکنیں بڑھی تھی، سانسیں بمشکل آ رہی تھی، گال دہکنے لگے تھے تمہاری نظروں کے تسلسل سے اور میں۔۔۔۔ میران میں “
وہ خاموش ہو کے، اب میران کو دیکھ رہی تھی۔ جبکہ میران اس کا جواب سننے کے منتظر تھا۔ اپنے ہاتھ کہ پشت سے، اس کے گال سہلاتا وہ سوالیہ نظروں میں محبت لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اور تم ؟؟”
اس کی آنکھیں کھوئی ہوئی تھی اور کھوئے کھوئے انداز میں وہ میران کو دیکھ رہی تھی۔
” میں جیسے ہوا می تحلیل ہو رہی تھی”
کھوئی کھوئی سی سرگوشی کی تھی اس نے، آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
” میں نے ہر ان لمحوں میں تم سے عشق کیا ہے میران، جب اس گھر کا فرد فرد تم پہ انگلی اٹھائے کھڑا تھا”
آنسو گال پہ پھسل پڑا تھا، میران گنگ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” لیکن میں، سماہر میران ملک، پوری دنیا کے سامنے کھڑی ہو سکتی ہوں، پوری دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کھڑے ہونے کا حوصلہ ہے مجھ میں، تمہارا ہاتھ تھامے۔۔۔ کیونکہ “
وہ اب میران کے چہرے پہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں اس انداز میں پھیر رہی تھی کہ میران کے ماتھے سے ہو کے، اس کے لبوں تک آ رہے تھے۔
” عشق کرتی ہوں میں میران ارتضی ملک سے۔ “
میران نے اپنے لبوں پہ چنے تھے اس کے آنسو، کس قدر دلکش انداز تھا اس کا، میران کو مغرور کر گئے تھے اس کے الفاظ، اس کا غرور بخش گیا تھا اسے، سماہر اپنے اعتراف محبت سے، وہ جو ڈر رہا تھا، خوفزدہ تھا، بھاگ رہا تھا سماہر سے، آج اسی سماہر نے اسے سرخرو کر دیا تھا اپنے الفاظ سے، میران ارتضی ملک کو معتبر کر دیا تھا۔ محبت اور عشق کے معنی سکھا دیے تھے اسے۔ تبھی بےاختیار ہو کے ، سماہر کو وہ بانہوں میں بھر گیا تھا، اس کی گردن پہ، اپنے لب رکھ کے، وہ اپنے آنسوؤں پہ اختیار کھو گیا تھا، اور تبھی وہ خاموش آنسو بہا رہا تھا، سماہر اس کے گرد اپنے نازک بازوؤں کا ہالہ بنا چکی تھی، میران کے آنسوؤں کا لمس وہ اپنی گردن پہ محسوس کر رہی تھی، سماہر کی طرح وہ الفاظ پرونا نہیں جانتا تھا، الفاظ کا خوبصورت چناؤ کرنا، ان الفاظ کو پرو پرو کے بیان کرنا نہیں جانتا تھا وہ، لیکن وہ جانتا تھا کہ سماہر سے عشق کرتا ہے وہ، بےحد اور بےحساب۔ سماہر کو کھونا نہیں چاہتا وہ، اس کے مکمل وجود پہ صرف سماہر تھی، سماہر کا فسوں، سماہر کی پرچھائیاں، سماہر کا عکس۔ لیکن اسے یہ سب الفاظ میں پرونا نہیں آتا تھا۔ اسے کھبی سکھایا نہیں گیا تھا لیکن وہ اب سماہر سے سیکھنے لگا تھا۔ ان خاموش لمحوں میں، دونوں کے دھڑکتے دل کی دھڑکنوں کا شور تھا۔ خاموشیوں کی زبان بھی کتنی دلکش ہوتی ہے، مدہوشی سا طاری کرتی ہے،
کھبی خاموشیوں کی زبان میں بولنا تو سیکھو
کھبی خاموشیوں کی زبان کو سننا تو سیکھو
کھبی ان خاموشیوں میں مجھے تو دیکھو
خاموش نگاہوں کی، پرفسون داستان تو کھبی سنو
خاموش لبوں کے، الفاظ تو کھبی سنو
داستاں تو بےحد لمبی ہے میرے درد و رنج کی
کھبی فرصت سے تصویری خاموشیوں کو سنو۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” مائزہ کہاں ہے ؟؟”
وقاص کے سوال پہ، ناشتہ کرتی تابعہ چونکی تھی اور بےحد حیرت سے انہیں دیکھنے لگی۔
” اوہ تو تمہیں یاد ہے مائزہ “
” کیا مطلب ؟؟”
وقاص نے لب بھینچے انہیں دیکھا تھا۔
” میں تو سمجھی تھی کہ تم بھی فاتحہ پڑھ آئے ہو اپنی بیٹی کی قبر پہ جا کے”
تابعہ کے طنزیہ انداز پہ انہوں نے آبرو اچکا کے دیکھا تھا۔
” اسے تو مارا بھی تم نے ہی تھا تابعہ، مر چکی تھی تمہارے لئے”
” اور تم نے سچ میں اسے مرا ہوا سمجھ لیا تھا وقاص ؟؟ تبھی تو اپنی بیٹی کو ایک بار بھی پوچھنے نہیں گئے ؟؟ اسے دیکھنا لازمی نہیں سمجھا؟؟ ان سے بازپرس تک نہیں کی کہ مائزہ کے ساتھ کیسا رویہ ہے ازمائر کا ؟؟ ایک بار بھی ؟؟ لعنت ہے ایسے باپ پہ “
تابعہ بپھری تھی جبکہ وقاص چلایا تھا۔
” تابعہ ۔۔۔ “
” بس ۔۔۔ “
تابعہ نے ہاتھ روک کے انہیں کچھ بھی کہنے سے روکا تھا، کیونکہ وہ اب ایک عورت نہیں تھی کہ کمزور پڑتی، وہ اب ایک ماں تھی، مضبوط ماں۔ وقاص حیرت سے انہیں دیکھنے لگے۔
” ایک لفظ بھی نہیں، مائزہ میری بیٹی ہے، صرف میری بیٹی، اس خاندان کے کسی بھی فرد کا اس پہ کوئی حق نہیں ہے، نہ تم نہ تمہارا بھائی اور نہ تمہارے اس بھتیجے کا، کوئی حق نہیں ہے، اور بہت جلد مائزہ کو طلاق بھی دلاؤں گی اس قماش، درندہ صفت انسان سے۔ is that clear Mr waqas Irtaza Malik “
اپنی بات مضبوط انداز میں کہہ کے، تابعہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور وہاں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی جبکہ وقاص لب بھینچے، حیرت سے اس بدلی ہوئی تابعہ کو دیکھ رہا تھا،کس قدر بدل گئی تھی وہ، کس قدر مضبوط، کہ وقاص ملک کے الفاظ گڈمڈ ہوئے تھے اس لمحے اور وہ خاموش ہو گیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ناشتے کی ٹیبل پہ سب موجود تھے، سماہر بھی ان سب کے بیچ موجود تھی، جبکہ وہاں موجود ازمائر، بار بار کن انکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا جو ناشتہ کم اور سوچ زیادہ رہی تھی۔ اسے اپنے وجود پہ، اب بھی میران کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی، اپنی نازک گردن پہ، وہ لمس اب بھی محسوس ہو رہا تھا اسے، صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ میران کی بانہوں میں تھی، دل ساکت ہوا تھا اس کا، خود کو اس کی گرفت سے آزاد کر کے، وہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری تھی اور حیرت سے اس شخص کو دیکھنے لگی جو گہری نیند سو رہا تھا، چہرے پہ آنسوؤں کی لکیریں تھی شاید، یا اسے محسوس ہوا تھا، آہستگی سے اپنی گردن کو چھوا، اس کے وجود پہ میران کے وجود کی خوشبو بکھری پڑی تھی، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں خود کو دیکھنے لگی، اس کے گردن کی جلد سرخ پڑ رہی تھی، وہ پھر سے میران کو دیکھنے لگی، کیا ہوا تھا؟؟ اسے کچھ یاد کیوں نہیں؟؟ یاد کیوں نہیں کچھ ؟؟
” سماہر ناشتہ ٹھیک سے کرو “
ازمائر کی اواز پہ وہ چونکی تھی، سب اسے ہی دیکھنے لگے تھے جبکہ ازمائر نرم نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا،
” ناشتہ نہیں کر رہی تم “
وہ پھر سے بولا تھا، لب بھینچے اس نے بمشکل اپنے غصے کو پیا تھا، اور نظریں پھیری تھی جب نظریں سیڑھیاں اترتے میران پہ رک گئی، تو آنکھیں خود بخود گنگنانے لگی تھی اور اس منظر کو ازمائر نے بھی دیکھا تھا، تبھی میران کو یہاں دیکھ کے اور سماہر کی آنکھوں کے بدلتے رنگ کو بےحد حیرت سے دیکھا تھا اس نے، جیسے پوری دنیا اس پہ الٹ دی گئی ہو۔
” ارے میران اٹھ گئے بیٹا “
عارفین کی آواز پہ وہ چونک کے، اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہوئی تھی، دل بےہنگم ہوا تھا، خود کو سرزنش کرتی، وہ لب بھینچ گئی، وہ ناراض ہے اس شخص سے، بھولنا نہیں چاہئے اسے یہ بات۔ میران اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ چکا تھا اور سماہر کی تمام حسیات اپنے پہلو میں بیٹھے میران کی طرف تھی۔
” کیسے ہو میران ؟”
دشاب کے سوال پہ، اس نے لب بھینچے انہیں دیکھا تھا اور جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔
” مجھے خوشی ہے بیٹا کہ تم اپنے گھر واپس آئے ہو ۔ “
وہ پھر سے کہہ رہے تھے جبکہ ازمائر کڑی نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا، آنکھوں میں شعلے بھڑکے تھے، اس کی خوشیوں کے دشمن جو تھے ۔
” آملیٹ آگے کرنا پلیز سماہر”
سماہر جس کی ساری حسیات میران کی طرف تھی، چونک کے اسے دیکھے بنا ، آملیٹ اس کی طرف بڑھائی تھی۔
” تھینک یو “
کہتا وہ لے چکا تھا۔
” سالٹ بھی پلیز، “
‘ اکھڑو، مغرور ‘
سالٹ اس کے سامنے رکھتے اس نے سوچا تھا، ازمائر شعلہ بار نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ جب میران، سماہر کے پلیٹ میں آملیٹ رکھ کے کہنے لگا ۔
” تم نے ٹھیک سے ناشتہ نہیں کیا ۔ “
وہ خاموش ہی رہی، عارفین نے بےحد محبت سے دونوں کو دیکھا تھا جبکہ ازمائر جھٹکے سے اپنا جگہ سے اٹھ کے جا چکا تھا، میران دل ہی دل میں مسکرانے لگا، وہ باور کر چکا تھا اسے اچھی طرح سے، کہ سماہر ہمیشہ سماہر میران ملک ہی رہے گی چاہے وہ جتنا بھی جتن کر لے۔ سماہر نے کن انکھیوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی، جس کا چہرہ پرسکون سا تھا، اسی لمحے میران نے بھی نظر بھر کے اسے دیکھا تھا اور سماہر چونک کے نظریں چرا گئی۔
‘ یہ کوئی نیا میران تو نہیں؟؟’
یہ خیال آتے ہی وہ پھر سے بےاختیار کو دیکھنے لگی جبکہ وہ سماہر کی طرف جھکا تھا۔
” تمہارا ہی میران ہوں “
ہلکی سرگوشی کرتا، وہ پھر سے سیدھا ہوا تھا جبکہ سماہر کی دھڑکنیں پل بھر کو تھمی تھی، گال دہک گئے تھے اور لرزتی پلکوں کے ساتھ، وہ اپنے ناشتے کی طرف جھکی تھی۔
” سن کیسے لیتا ہے یہ شخص “
وہ بس سوچ کے رہ گئی اور مزید کچھ سوچنے کا ارادہ ترک کر کے، وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی، کہ کہیں پھر سے اس کی سوچ پڑھ کے، مزید کوئی گوہرافشانی نہ کر بیٹھے۔
باہر نکل کے ازمائر نے زور سے دیوار پہ اپنی بھاری بوٹ ماری تھی کہ اس کا غصہ اور اشتعال بڑھ رہا تھا، اس کا سارا پلان اور سارا مقصد ادھورا رہ گیا تھا، میران ملک کب آیا اس گھر میں، یہ اسے بلکل معلوم نہ تھی اور اب اسے یہ صبح سماہر کے ساتھ التفات کرتے دیکھ کے، وہ شاکڈ ہوا تھا تو مطلب میران کے خلاف جو باتیں اس نے سماہر کو کی تھی، وہ ان سنی کر چکی ہے۔ غصے سے اپنی گاڑی کے قریب پہنچ کے اس نے گاڑی کا دروا،ہ کھولا تھا جب دشاب کا باڈی گارڈ اس کے قریب آیا تھا،
” آپ کے ساتھ ایک ڈرائیور جائے گا سر”
” وہاٹ ناں سینس”
وہ غصے سے بھڑکا تھا جبکہ گارڈ نے نظریں چرائی تھی ۔
” دشاب سر کے آرڈرز ہیں “
” گو ٹو ہیل “
اسے دھکا دے کے، ازمائر گاڑی میں بیٹھ کے، جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔
” سر، ازمائر اکیلے ہی چلے گئے”
اس نے کان میں لگے آلے سے دشاب ملک کو اطلاع دیا۔
” فالو ہم “
دشاب کی بات پہ وہ تیزی سے ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
