Rate this Novel
Episode 16
” بس یہیں اتار دیں “
گاڑی ابھی اس کے گھر سے کافی فاصلے پہ تھی جب پریشے نے اسے یہیں گاڑی روکنے کو کہا،
” لیکن گھر سے کافی فاصلے پہ ہیں ہم “
عاھل خان نے اچھنبے سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ نظریں چرا گئی۔
” یہیں ٹھیک ہے “
عاھل خان نے خاموشی سے گاڑی وہیں روک دی تھی، پریشے بنا کچھ کہے گاڑی سے نیچے اتری تھی، عاھل بھی نیچے اترا تھا، ہلکی ہلکی بارش موسم کو خوشگوار بنا رہی تھی۔ لبوں پہ ہلکی مسکراہٹ آئی تھی اس کے، موسم کے حسین تیور اور ساتھ بھی ایک حسین ہستی کا۔
” اللہ حافظ “
اچانک وہ چونکا تھا، پریشے نے آہستگی سے کہتے قدم آگے بڑھا دیے تھے، جب عاھل بھی گاڑی لاک کرتا، اس کے قریب آ کے، اس کے ساتھ چلنے لگا تو وہ حیرت سے عاھل کو دیکھنے لگی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” اب اتنی رات کو، ایسے اکیلے تو نہیں جانے دے سکتا اتنی خوبصورت خاتون کو “
پریشے کے گال ہلکے سے گلابی ہوئے تھے عاھل خان کی اس بات پہ، اور وہ سر جھٹک کے، نظریں چرا گئی، آہستہ روی سے دونوں سڑک کنارے چل رہے تھے، عاھل ایک ایک نظر اس پہ ڈال بھی لیتا تھا، چلتے ہوئے اس کے ہاتھ کی پشت، پریشے کے ہاتھ کی پشت سے ٹکرائی تھی اور وہ بےاختیار فاصلہ رکھ کے چلنے لگی، عاھل کو یہ بات محسوس بھی ہوئی تھی لیکن سر جھٹک گیا۔
” اسلام آباد کی بارشیں مجھے بہت یاد آئی تھی وہاں جا کے”
” کیوں وہاں بارشیں نہیں ہوتی ؟”
پریشے کے سوال پہ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔
” وہاں کی بارشوں میں تم نہیں ہوتی میرے ساتھ “
پریشے نے رک کے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ بھی رک کے پریشے کو دیکھنے لگا۔
” مائنڈ تو نہیں کیا تم نے ؟”
عاھل نے جلدی سے پوچھا تھا جبکہ وہ لب بھینچ گئی اپنی کمزوری پہ، کہ وہ اس شخص کو کچھ کہہ کیوں نہیں رہی، کیوں خاموش ہے وہ ۔ سر جھٹک کے وہ آگے بڑھی تھی اور اب کے قدم تیز تیز اٹھ رہے تھے اس کے۔
” پریشے آرام سے چلتے ہیں پلیز “
عاھل نے پھر سے اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے، چلتے ہوئے کہا تھا جبکہ پریشے مزید تیز چلنے لگی۔
” مجھے گھر جلدی پہنچنا ہے اور آپ میرے پیچھے مت آئیے، آغا جان دیکھ لیں گے تو انہیں دکھ ہوگا “
عاھل کے قدم وہیں رک گئے تھے جبکہ پریشے چلتی گئی، دل بھر سا گیا تھا، اور آنکھیں دھندلانے لگی تھی اس ہلکی بارش میں، پلٹ کے دیکھنا چاہتی تھی وہ اس شخص کو، جو اب رک چکا تھا، نہ اس کے پیچھے آ رہا تھا اور نہ اس سے قدم ملانے کی تگ و دو کر رہا تھا، لیکن اب اسے نہیں مڑنا تھا، پلٹ کے نہیں دیکھنا تھا اسے، وہ جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی کیونکہ چہرے کا جھوٹ وہ کسی کو دکھانا نہیں چاہتی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
صبح اس کی انکھ کھلی تو اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا، کوئی بھاری ہاتھ اسے اپنے گھیرے میں لیے ہوا تھا، ذہن بیدار ہوا تو اسے اپنی گردن کی پشت پہ گہری سانسوں کا لمس محسوس ہوا اور لمحہ ضائع کیے بنے وہ تیزی سے اٹھ کے، بیڈ سے نیچے اتری تھی، پیٹ میں درد کا احساس ہوا تو کراہ کے رہ گئی، ازمائر جو چونک کے نیند سے اٹھا تھا، ابھی اس کا ذہن بھی بیدار نہیں ہوا تھا ٹھیک سے، تیزی سے بیڈ سے اتر کے، اس کے قریب آیا تھا اور ادے کندھوں سے تھاما تھا۔
” کیا ہوا ؟؟ تم ٹھیک تو ہو مائزہ “
مائزہ نے جھٹکے سے، اس کے ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹائے تھے۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”
وہ ناگواری سے بولی تو ازمائر نے کندھے اچکائے تھے۔
” میرا بیڈ روم ہے “
” یہ میرا بیڈ روم ہے، نکلو یہاں سے تم “
مائزہ نے دانت پیسے تھے، ازمائر نے چاروں اطراف آنکھیں دوڑائی تھی۔
” ہم دونوں کا بیڈ روم ہے “
مائزہ اچانک سے ادھر ادھر دیکھنے لگی، واقع یہ تو اس کا بیڈ روم نہیں تھا، وہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟
” میں یہاں کیا کر رہی ہوں “
وہ حیرانی سے خودکلامی کے انداز میں بولی تھی۔
” ویلکم ٹو ہمارا بیڈ روم مائی مسز “
ازمائر زیر لب مسکراتا اسے چھیڑنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مائزہ نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا۔
” بیڈروم نہیں، جہنم ۔۔۔ میں جا رہی ہوں یہاں سے “
غصے سے کہتی، وہ کمرے سے باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف مڑی تھی، تیزی سے مڑنے پہ اسے پھر سے درد کا احساس ہوا تھا تبھی کراہ کے رہ گئی تھی۔ ازمائر اس کے قریب آ کے اسے بازوؤں سے تھام چکا تھا۔
” ارام سے یار “
مائزہ نے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی،
” مائزہ کہا ناں آرام سے، اس کنڈیشن میں ایسے ری ایکٹ کرنا harmful ہے تم دونوں کے لئے “
ازمائر نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
” ہم دونوں؟؟”
مائزہ نے پہلے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر ان آنکھوں میں غصہ در آیا تھا ۔
” اوہ تو پتہ چل گیا آپ کو بھی، اپنی درندگی کا نتیجہ “
ازمائر کو برا لگا تھا تبھی لب بھینچ لیے تھے ۔
” مائزہ پلیز ایسے مت کہو، بہے چھوٹا سا ہے وہ ابھی “
مائزہ نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” جب اس دنیا میں آ کے بڑا ہو جائے تو بتا دینا اسے بھی کہ اس کی ماں کیسے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا تھا تم نے ۔۔۔ چھوڑو مجھے “
وہ اپنا آپ اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتی چلائی تھی۔
” مائزہ اسٹاپ اٹ، بار بار یہ لفظ استعمال کرنا بند کرو تم “
ازمائر اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا کہنے لگا جبکہ مائزہ سرد نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” کیوں؟؟ برا لگ رہا ہے ؟؟ بار بار سننا؟ تو سوچو کہ مجھے کتنا برا لگ رہا ہوگا، کس قدر گھن آتی ہوگی مجھے خود سے، اپنی اس حالت سے نفرت ہے مجھے، بےحد نفرت “
وہ پھر سے دروازے کی طرف بڑھی تھی جب ازمائر نے آگے بڑھ کے، اس کی کلائی تھامی تھی۔
” جا کہاں رہی ہو تم اب “
مائزہ نے مڑ کے اسے تھپڑ مارا تھا اور اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑا کے پیچھے ہوئی تھی۔
” نفرت ہے مجھے تم سے، اور تمہارے جہنم نما اس بیڈ روم سے۔ مجھے چھونے کی بھی کوشش مت کرنا اب کھبی ازمائر، میں نفرت کرتی ہوں تم سے، بےحد نفرت “
پھولی ہوئی سانسوں کے بیچ اپنی بات کہہ کے، دروازہ کھول کے وہ باہر نکل گئی تھی، جبکہ ازمائر وہیں کھڑا رہا۔ تھپڑ صرف اس کے گال پہ نہیں پڑا تھا بلکہ اس کی روح پہ پڑا تھا۔ تیز تیز سانس لیتی وہ لاؤنج سے ہو کے، باہر کی طرف جا رہی تھی جب سامنے عظمی آ کے اسے ٹٹولتی نظروں سے دیکھنے لگی ۔
” ارے مائزہ تم جاگ گئی “
مائزہ نے اس پہ ایک تیز نظر ڈالی تھی اور پھر سر جھٹک آگے بڑھی تھی، سانسیں پھولنے لگی تھی اس کی، قدم من من بھاری ہو رہے تھے، ہلکے ہلکے درد کا احساس بھی بڑھتا جا رہا تھا، وہیں لان میں وہ گھاس پہ بیٹھ گئی تھی کہ مزید اس سے چلا نہیں جا رہا تھا، لمبے لمبے سانس لینے کی کوشش کرتی، وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ ازمائر سے لاکھ محبت سہی، لیکن وہ اس کا دل ہی نہیں، اسے بھی مکمل توڑ چکا تھا، اس کی عزت نفس مجروح کر چکا تھا، اس کی روح کو چھلنی کر چکا تھا، وہ زندہ لاش ہی بن گئی تھی اس رات کے بعد سے، ازمائر کے اس حرکت کے بعد وہ ایسی ٹوٹی، کہ دل سے ازمائر کے لئے، ہر احساس مٹنے لگا تھا اور نفرت بڑھنے لگا اس کے وجود میں۔۔ لیکن ، اس نے لب بھینچ کے رونا شروع کر دیا تھا کہ آنسو متواتر اس کا چہرہ بھگونے لگے، لیکن ازمائر کی محبت سے وہ منہ نہیں موڑ پائی کھبی، چاہے جتنی بھی نفرت کیوں نہ ہو اس شخص سے۔
” مائزہ ۔۔ “
نرم بھاری آواز پہ اس نے سر اٹھا کے دیکھا تھا، بھیگی آنکھوں سے وہ ازمائر کو دیکھ رہی تھی۔
” ت ۔۔۔ تم سے نفرت کرتی ہوں میں ازمائر ۔”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی، ازمائر جو اس کے پیچھے ہی باہر آیا تھا۔ لب بھینچے مائزہ کی بکھرتی حالت کو دیکھنے لگا۔
” تم دوست تھے، محبت تھے میری، سب ختم کر دیا تم نے، اب کچھ نہیں ہے “
” مائزہ ۔۔۔ “
ازمائر نے اسے کندھے سے تھام کے اٹھانا چاہا ۔۔
” اٹھو پلیز ۔۔ “
مائزہ نے زور لگا کے دونوں ہاتھوں سے، اسے دھکا دے کے خود سے دور کیا تھا، وہ لڑکھڑا کے پیچھے ہوا تھا۔
” مت آؤ میرے قریب، نفرت کرتی ہوں تم سے “
وہ چیخی تھی۔
” دور رہو مائزہ سے تم “
تابعہ کی آواز پہ دونوں چونکے تھے۔
” کہا تھا تم سے کہ مائزہ سے دور رہو، اس کے قریب بھی نظر نہ آؤ مجھے، سمجھ نہیں آئی تھی تمہیں میری بات کی “
تابعہ مائزہ کو اٹھنے میں مدد دیتی، تندی سے ازمائر کو
کہا تھا۔
” بیوی ہے میری مائزہ، “
ازمائر نے لب بھینچے تابعہ کو دیکھا تھا ۔
” بہت جلد یہ تعلق بھی ختم ہو جائے گا”
تابعہ نے نفرت سے ازمائر کو دیکھتے کہا تھا۔
” ایسا کچھ نہیں ہونے والا، مائزہ پریگننٹ ہے، میرے بچے کی ماں بن رہی ہے، “
ازمائر کا انداز سپاٹ تھا، تابعہ نے اسے تمسخر بھرے انداز میں دیکھا تھا۔
” طلاق کے پیپرز پہ مائزہ کے سائن ہو جائے تو تمہارے منہ پہ مارنے ضرور آؤں گی وہ پیپرز “
ازمائر ٹھٹھک کے رکا تھا، بےیقین آنکھیں مائزہ کی طرف اٹھی، تو وہ جو ازمائر کو دیکھ رہی تھی، نظریں چرا کے اپنی ماں کو دیکھنے لگی، تابعہ اسے اپنے ساتھ لیے، اپنے پورشن کی طرف بڑھی تھی جبکہ ازمائر وہیں ساکت کھڑا رہا، وہ اپنے گناہوں کی تلافی کرنے نکلا تھا لیکن راستے میں ہی وہ شکست کھا کے گرا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” مارننگ مائی کوئین “
وہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے گیلے بال برش کر رہی تھی جب پیچھے سے میران نے اسے بانہوں بھرا تھا، دھیمی مسکان چہرے پہ سجائے، وہ سامنے مرر میں میران کا عکس دیکھنے لگی۔
” مارننگ ۔ “
آہستگی سے کہہ کے، برش رکھ چکی تھی جبکہ میران اس کے چہرے پہ، اپنی شدت بھری محبتیں بکھری پڑی دیکھ رہا تھا جبکہ سماہر پلکیں جھکا گئی کہ میران کی آنکھوں میں، محبت کا خمار سر چڑھ کے بول رہا تھا اس وقت۔
” کتنی حسین ہو تم سماہر، بےحد حسین “
اس کے کندھے پہ لب رکھ کے، وہ سرگوشی کر رہا تھا جبکہ سماہر پلکیں جھکائے مسکرا رہی تھی۔
” ہئی یو “
میران نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا تھا، اس کے گیلے بال، میران کے چہرے کو تر کر گئے تھے۔
” ایسے تو میں پاگل ہو جاؤں گا مزید، تمہاری یہ ادا تو پہلی بار دیکھ رہا ہوں میں “
سماہر نے پلکیں اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور پھر جھکا گئی تھی جبکہ میران نے اسے مزید اپنے قریب کیا تھا۔
” اب بھی ناراضگی ہے تو بتا دیں مائی ڈئیر بیگم “
سماہر نے چونک کے، حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ زیر لب مسکرا رہا تھا۔
” ان آنکھوں کی مستیاں تو بہت کچھ کہہ رہی ہے “
سماہر بوکھلا کے نظریں چرا گئی۔
” ن۔۔۔ ناشتہ کرتے ہیں، رات سے بھوک لگی ہے مجھے “
میران نے جھک کے، اس کے کان کی لو پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے “
سماہر کے ماتھے پہ لب رکھ کے، وہ پیچھے ہوا تھا ۔
” میں فریش ہو جاؤں، پھر ناشتہ کرتے ہیں “
سماہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
” میں ویٹ کر رہی ہوں “
میران نے پھر سے اس کا ہاتھ تھام کے، اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔
” تم کہو تو، میں جاتا ہی نہیں ہوں فریش ہونے، مجھے تمہیں انتظار کرانا اچھا نہیں لگتا “
سماہر لب دانتوں تلے دبا گئی۔
” میران ، تنگ تو نہیں کرو اب “
میران کھل کے ہنس تھا،
” ایک تو یہ قاتلانہ ادا تمہاری، کہ خود ہی دعوت عشق دیتی ہو اور پھر شکایت بھی کرتی ہو”
سماہر نے ناراضگی بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا تو وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہنسنے لگا۔
” اچھا میں اب کچھ نہیں کہتا، میں فریش ہو کے آتا ہوں ابھی “
وہ واشروم کی طرف بڑھا تھا، جب سماہر کی نظر میران کے موبائل پہ گئی، جہاں میسج آ رہے تھے آگے پیچھے، ایک نظر واشروم کے بند دروازے کو دیکھتی ، وہ موبائل اٹھانے کا سوچتی، سر جھٹک گئی تھی لیکن اب کال آ رہی تھی تو جھک کے وہ موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی، لیکن کال بند ہو چکی تھی، سر جھٹک کے وہ پھر سے موبائل ٹیبل پہ رکھ چکی تھی کہ جو بھی ہے میران خود دیکھ لے گا اور خود کمرے سے نکل گئی۔
لیکن اگلے ہی لمحے اس نے میران کو لب بھینچے سیڑھیاں اترتے دیکھا، جو اس کی طرف دیکھے بنا لمبے ڈگ بھرتا باہر کی طرف جا رہا تھا، چہرے پہ شدید غصہ تھا اور آنکھیں غم و غصے سے سرخ ہو رہی تھی، سماہر تیزی سے اس کے پیچھے آئی تھی۔
” میران ۔۔۔ “
” منان کاکا کے ساتھ گھر جاؤ تم “
مڑ کے اس نے بس اتنا ہی کہا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ کے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا، جھٹکے سے گاڑی گیٹ سے باہر نکلی تھی جبکہ سماہر نم ہوتی آنکھوں میں خوف لیے، اس آدھ کھلے گیٹ کو دیکھتی رہی، جہاں سے ابھی ابھی میران کی گاڑی باہر گئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
جس تیز رفتاری سے اس کی گاڑی روڈ پہ جا رہی تھی، جھٹکے سے شدت کے ساتھ وہ اس بلند منزلہ عمارت کے سامنے آ رکی تھی، اپنی نیم عریاں تصویریں اسے واٹس ایپ پہ بھیج کے، ماریہ اس کے شدید غصے کو ہوا دے چکی تھی، میران گاڑی کا دروازہ کھول کے، جبڑے بھینچے باہر نکلا تھا، دشاب جو اس کا ہی پیچھا کر رہے تھے، منان کاکا کے کال کے بعد، وہ بھی گھر سے عجلت میں باہر نکلے تھے، میران کے لئے بچھائے گئے، ماریہ کے جال سے وہ اچھی طرح واقف تھے اور میران ان کا بیٹا تھا، وہ کسی بھی صورت اپنے مفاد کے لئے، اپنے ہی بیٹے کو قربان نہیں کر سکتے تھے چاہے وہ میران ہو یا ازمائر، ان کی گاڑی بھی میران کی گاڑی کے پیچھے ہی رکی تھی، اس سے پہلے کہ میران عمارت کے اندر جاتا، دشاب تیزی سے گاڑی سے نکل کے، اس کے قریب آئے تھے اور اس کا بازو جکڑ کے اسے روکا تھا۔ میران نے سرخ ہوتی آنکھوں سے انہیں دیکھا تھا۔
” آپ کیا کر رہے ہیں یہاں؟”
سرد لہجے میں پوچھتا وہ اپنا بازو ان کی گرفت سے آزاد کرا چکا تھا۔
” چلو یہاں سے ابھی “
دشاب نے پھر سے اس کا بازو جکڑا تھا جبکہ میران ناگواری سے انہیں دیکھنے لگا۔
” آپ کی محبوبہ کو اوقات یاد دلائے بنا کہیں نہیں جا رہا میں “
” پاگل مت بنو، چلو یہاں سے “
دشاب لب بھینچے اپنے ضدی بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔
” میری بات مانو اور چلو یہاں سے میران، تمہیں جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے وہ ۔۔ چلو یہاں سے “
انہوں نے دانت پیستے، آہستگی سے کہنے کی کوشش کی تھی، میران سرد نظروں سے دشاب کو دیکھ رہا تھا۔
” سماہر کے لئے “
دشاب نے اپنا آخری تیر چلایا تھا اور میران پہ اثر بھی کر گیا، تبھی اپنا بازو ان کی گرفت سے چھڑاتا، چلاتا وہاں سے ہٹ کے اپنی گاڑی کی طرف آیا تھا، دشاب بھی گہرا سانس لیتے اس کے پاس آئے تھے۔
” کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟؟”
میران اب انہیں ناگواری سے دیکھ رہا تھا۔
” بتاتا ہوں، گاڑی میں بیٹھو “
دشاب نے اسے گاڑی کی طرف اشارہ کیا تھا لیکن وہ لب بھینچے دشاب کو دیکھ رہا تھا، اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کی،
” بیٹھ بھی جاؤ میرے باپ “
دشاب گاڑی کا دروازہ کھولتا اسے بیٹھنے کو کہنے لگا جبکہ خود بھی اسی کی گاڑی میں بیٹھ گئے اور ڈرائیور سے اپنی گاڑی لے جانے کو کہا۔ دشاب اپنے بیٹے کو ہی دیکھ رہے تھے جو غصے اور ضد میں واقع اس کا باپ تھا۔
” ماریہ کے چنگل میں تم خود چل کر جا رہے ہو، تم سے اس بیوقوفی کی توقع نہیں تھی مجھے”
میران نے لب بھینچے جتاتی نظروں سے انہیں دیکھا۔
” ہاتھ پکڑ کے، لے کے بھی آپ ہی گئے تھے اس کے چنگل میں مجھے “
ماضی کی بات یاد دلائی تھی اس نے، دشاب اسے دیکھ کے رہ گئے۔
” اور ابھی کیا کر رہے ہو تم ؟”
” آپ کا ہی لگا کالک مٹانے جا رہا تھا میں، اپنا ماتھے پہ لگا داغ دھو بھی تو نہیں پا رہا میں “
میران بپھرا تھا، دشاب خاموش ہی رہے۔
” کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟؟ کس نے آپ سے کہا یہاں آنے کو ؟؟ “
“باپ ہوں میں تمہارا میران”
دشاب اپنے بیٹے کو محبت سے دیکھنے لگے جبکہ میران ہنسنے لگا۔
” باپ؟؟ باپ ۔۔۔۔ مذاق اچھا ہے باپ کا “
” تم انکار کرو یا اعتراف نہ کرو اس بات کا، لیکن میران حقیقت تو نہیں مٹ سکتی نا، کہ تم میرے بیٹے ہو”
دشاب کا لہجہ نرم تھا جبکہ میران طنزیہ نگاہوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” مت کریں دشاب ملک، مت کریں ایسی باتیں، جو آپ پہ جچتی نہ ہو “
اپنی بات کہہ کے میران ونڈ سکرین سے باہر دیکھنے لگا جبکہ دشاب اسے دیکھ رہے تھے۔ کس قدر نفرت کرتا تھا وہ اپنے باپ سے، کہ آج تک اس نے باپ نہیں مانا تھا انہیں اور نہ کھبی اس رشتے سے بلایا تھا۔
” تم کھبی ماریہ کے پاس نہیں جاؤ گیں، چاہے وہ جو چال بھی چلانے کی کوشش کرے تمہیں وہاں بلانے کی “
دشاب کے دو ٹوک انداز پہ، میران مڑ کے انہیں دیکھنے لگا۔
” وہ تمہیں حاصل کرنے کے لئے، کسی بھی حد تک جا سکتی ہے میران، تمہیں بدنام کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گی، تمہارا کیرئیر تباہ کر دے گی تم پہ کوئی بھی تہمت لگانے سے وہ نہیں چوکے گی۔ اس لئے میران تم کھبی نہیں جاؤ گیں اس کے پاس۔ “
دشاب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
” اتنی فکر ہو رہی ہے آپ کو میری، کاش یہی فکر چند سال پہلے ہوئی ہوتی آپ کو، تو آج میں بھی ایک نارمل انسان ہی ہوتا”
میران کے لہجے میں تمسخر تھا جبکہ دشاب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ میران کو کیسے سمجھائے۔ میران رخ موڑ کے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا، اسے مزید کوئی بات نہیں کرنی تھی اور دشاب نے بھی سکون کا سانس لیا تھا کہ کم از کم میران نے ان کی سنی تو، اور ماریہ کے فلیٹ نہیں گیا، ورنہ وہ جانتے تھے اس عورت کی پست فطرت، کہ وہ کس طرح سے میران کو استعمال کرتی اپنے مقصد کے لئے، میران کوئی بچہ تو نہیں تھا، مضبوط اور توانا مرد تھا لیکن اس دن کے بعد سے، وہ ماریہ سے ڈر گئے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ میران ایسی کسی مشکل میں پھنسے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
